آزادی کے ستر سال….ہم نے کیا کھویا کیا پایا : جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

نظریہ پاکستان کے تحت ہم نے 1947ء میں پاکستان بنایا یعنی مسجد بنا لی لیکن اس کی حفاظت نہ کر سکے اور یہ مسجد 1971ء میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ پھر بھی ہم نمازی نہ بن سکے لیکن ایک دانشمند لیڈر نے ہمیں 1973ء کا آئین دیا اور ہمارے مقصد حیات کا تعین کیا مگر ہم اپنے مقصد حیات کے تقدس کو بھی پامال ہونے سے نہ بچا سکے اور یہی وہ کشمکش ہے جو آج ہماری قومی سلامتی کا سنگین مسئلہ ہے۔ اس عرصے میں ہم نے کن کن محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں اور کہاں کہاں ہمیں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑاہے’ اس کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے تا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی موثر طور پر کی جا سکے۔

ان ستر سالوں میں مسلح افواج نے 35 سال حکمرانی کی ہے اور وطن عزیز کی سلامتی کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس سے بچہ بچہ واقف ہے۔ پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں فوج کا کردار مثالی ہے لیکن چند اعلیٰ عسکری قائدین نے اپنی نااہلی کے سبب ان قربانیوں کو ضائع کر دیا اور ملک کو بڑا نقصان پہنچایا ۔ مثلاً قیام پاکستان کو دس سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنرل ایوب خان نے امریکہ کو اپنا آقا بنا لیا اور جلد ہی اپنے اس فیصلے پر پچھتائے، کتاب لکھ ڈالی لیکن ”اس کمبل“ نے آج تک ہماری جان نہیں چھوڑی۔ ایوب خان مایوس ہوئے تو اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جنہوں نے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ ملک دولخت ہو گیا۔ 1971ء میں جنرل نیازی نے سقوط ڈھاکہ کے معاہدے پر دستخط کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنے آقاﺅں کی خوشنودی میں منتخب وزیراعظم کو پھانسی دینے میں کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے ملکی سلامتی کو داو پر لگا دیا، اور برادر پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے سے نہ صرف پاکستان پر دہشت گردی کا عذاب نازل ہوا بلکہ افغانستان کے ساتھ ایک نیا محاذ بھی کھل گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس جرم میں ہماری عدلیہ ، انتظامیہ ، کچھ سیاسی و دینی جماعتیں اور اشرافیہ برابر کے شریک رہے ہیں۔

جنرل مشرف کی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری فوج افغانستان کی جنگ آزادی سے لاتعلق ہو چکی ہے اور ہم یہ نہیں سوچتے کہ چار کروڑ پچاس لاکھ پختون ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب رہتے ہیں۔ ان میں سے ساٹھ فیصد پاکستان میں ہیں؛ چالیس فیصد افغانستان میں اور دس فیصد پاکستان کے دل یعنی کراچی میں آباد ہیں ، جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں میں دنیا کی بڑی بڑی قوتوں کو شکست سے دوچار کیا ۔ ان کی اس جدوجہد آزادی میں پاکستانی پختونوں نے ان کی بھرپور مدد کی اور یہ مدد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ وہ غاصب قوتوں سے اپنی آزادی چھین نہیں لیتے۔ ایک عرصہ سے پختون قوم کو تقسیم اور علیحدہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن گزشتہ ایک سو پچیس سال سے ڈیورنڈ لائن اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہواہے اور اب قائد اعظم کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے، قائد اعظم نے پختون قوم کو متحد رکھنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے فوج کو ہٹا لیا تھا اور اس کی نگرانی پختونوں کو سونپی تھی۔ قائداعظم کا وژن پختون قوم کی یکجہتی اور اس کے پھیلاو سے متعلق تھا جو ڈیورنڈ لائن سے آگے کوہ ہندوکش تک اور اس سے آگے آمو دریا تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے جھٹلانے کی کوشش میں ہم نے ان سرحدوں پر دوسرا محاذ کھول لیا ہے۔

ان تمام تر غلطیوں کے باوجود ہماری فوج نے 1980ء کی دہائی میں وہ صلاحیت حاصل کر لی کہ جس کے سبب اسے دنیا کی بہترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی دور میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو ہمارے تجدیدی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔ 1980 کی دہائی میں Armed Forces War College کی بدولت ہماری عسکری قیادت اعلیٰ عسکری تعلیم سے آراستہ ہو چکی تھی اور فوجی فارمیشنوں، اداروں اور اکثر عسکری شعبوں کی سربراہی وار کالج کے فارغ التحصیل افسروں کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے بری فوج کے تمام نظام کو ترقی یافتہ بنانے کا جامع منصوبہ بنایا تا کہ مستقبل میں پیش آنے والے کثیرالجہتی خطرات سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔ دوسری بڑی تبدیلی چین کے ساتھ ہماری دفاعی شراکت مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد حیثیت حاصل کر چکی تھی۔ اسی شراکت کی بدولت ہماری فوج 1971ء کی جنگ کے بعد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ہماری عسکری قیادت اب اعلیٰ عسکری تعلیم سے مزین ہے اور ساتھ ہی ہمیں چین کی غیر مشروط مدد بھی حاصل ہے جسے ہم رحمت ایزدی سمجھتے ہیں۔ یہی دو اہم عوامل ہیں جن کی بدولت پاکستانی فوج ایک جدید ترین فوج بننے کے اہداف حاصل کر سکی ہے اور نوے فیصد تک خود انحصاری اور چالیس دنوں تک جنگ لڑنے کی صلاحیت بھی حاصل ہے۔  الحمد للہ

ہماری فوج کا ترویجی عمل ایک تذویراتی حقیقت ہے جو دشمنوں کے عزائم کے خلاف مضبوط چٹان کی مانند ہے، قومی سلامتی اور ترقی و کمال کی ضمانت بھی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اس اشتراک کی بدولت ہمارا تزویراتی محور (Strategic Pivot) قائم ہے۔ الحمدللہ ہم نے اب وہ صلاحیت حاصل کر لی ہے جس کی بدولت اپنی تزویراتی سوچ کو جنگی منصوبوں سے ہم آہنگ کیا ہے، یعنی پہلے حملہ کرنے ( Pre emption) اور جارحانہ دفاع کی صلاحیت ( Defense Offensive ) میں حقیقت کا رنگ بھرنے اور حریف قوت کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیسے اہداف حاصل کئے ہیں۔ یہ ایسی صلاحیت ہے جو بذات خود ”مزاحمت Deterrence “ بھی ہے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فتح یاب ہونے کی نوید بھی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جدوجہد کی اس گھڑی میں ہم تنہا نہیں ہیں، قوم ہمارے ساتھ ہے۔ یہ ہماری قوم ہی ہے جس نے انتہائی مشکل حالات کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا ہے بلکہ عزت و وقار سے زندگی گزارنا بھی جانتی ہے۔ دوسری اہم بات جو ہمارے لئے انتہائی حوصلہ افزا ہے وہ ہماری مغربی سرحدوں کے پار افغانستان میں حریت پسندوں کی جدوجہد آزادی کی کامیابی ہے جواب اپنے منطقی انجام کے قریب ہے۔ سپر پاورز کے توسیع پسندانہ عزائم کے دن گزر چکے ہیں اور عنقریب افغانیوں کے غلبے کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

ہماری فوج کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا احساس ہے اور اپنی قومی ذمہ داریوں کا بھی ادراک ہے لیکن ہماری سب سے بڑی کمزوری ہماری قوم کی پراگندہ سوچ ہے جو بے حد خطرناک ہے۔ اس خطرے سے ترکی کے صدر نے پاکستان کے دورے کے موقع پر قوم کو آگاہ کیا تھا کہ ”پاکستان کی سلامتی کو فتح اللہ گولن طرز کے خطرات کا سامنا ہے“ جس سے نمٹنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سیاسی و نظریاتی تفریق خطرناک ہوتی جا رہی ہے جو فوری تدارک کی متقاضی ہے۔ ہماری نظریاتی تفریق اور نظریات سے عاری موجودہ سیاسی نظام ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو ایک خطرناک صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظام حکومت منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصول ہیں۔ یہی ہمارا نظریہ حیات ہے جس کی تشریح 1973ء کے آئین میں ان الفاظ میں کی گئی ہے:

”پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہو گا جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصولوں پر قائم ہو گی۔“

لیکن بدقسمتی سے ہم نے قرآن و سنہ کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف جمہوریت کو ہی ترجیح دی ہے۔ نہ ماضی کی کسی حکومت کو’ نہ موجودہ حکومت کو اور نہ ہی متعدد مذہبی جماعتوں میں سے کسی کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ قوم کی نظریاتی شناخت کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ دیتا۔ ہم اپنے بچوں کو مسلم شناخت دینے میں ناکام ہوئے ہیں کیونکہ ہمارا نظام تعلیم قرآن و سنہ کے اصولوں سے یکسر عاری ہے۔ ہماری سیاسی و نظریاتی تفریق کاسبب ہمارا برسراقتدار طبقہ ہے’ جس نے ہمارے معاشرے کولبرل، سیکولر، روشن خیال اور قوم پرست گروپوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ مذہبی طبقات نظراندازا ہونے کے سبب نمایاں سیاسی مقام نہیں رکھتے اور نہ ہی حکمرانی سے متعلق معاملات یا پالیسی سازی کے عمل میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔ وہ تو بذات خود زیادتی کا شکار ہیں اور ہمارے عوام انہیں ووٹ نہیں دیتے۔ ہماری دینی جماعتیں اپنی ظاہری اور باطنی کاوشوں کے باوجود، جن کا پرچار میڈیا پر دن رات ہوتا ہے، پاکستانی قوم کے رخ کو درست سمت میں رکھنے میں ناکام ہیں۔

ہمارے قومی نظریہ حیات کے دونوں عناصر کے مابین توازن پیدا کرنے کا ایک ہی راستہ ہے یعنی جمہوریت ہمارا نظام حکمرانی ہو گا اور قرآن و سنہ اس نظام کو نظریاتی تحفظ فراہم کرے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار جنہوں نے”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی قسم کے مطابق آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے “وہ قومی نظریہ حیات کے تقدس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ لہٰذا موجودہ ابتر صورت حال کے تدارک کی ذمہ داری جہاں ارباب اختیار پر عائد ہوتی ہے وہاں سیاسی اور دینی جماعتوں کی بھی اولین ذمہ داری ہے کیونکہ لبرل اور سیکولر عناصر ملکی معاملات سے مذہب کو الگ کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کی دانست میں ”انسانی بقا کا محور اللہ تعالیٰ کی ذات کی بجائے ترقی پسندانہ نظام ہے جو شخصی خود مختاری کا قائل ہے۔ اولیت اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہیں بلکہ انسان کو حاصل ہے“۔ نعوذ باللہ۔ بنگلہ دیش اس امر کی واضح مثال ہے لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔ خدانخواستہ اگر ویسی صورت حال پیدا ہوئی تو پاکستان ایک طوفان میں گھر جائے گا۔ کچھ ایسے ہی حالات 1965-66 میں انڈونیشیا کو درپیش تھے جب سوشلزم اور کیمونزم کی تبلیغ کی جا رہی تھی جس کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک چلی اور خانہ جنگی ہوئی جو ڈیڑھ ملین عوام کی موت کا سبب بنی اور آخر کار صدر سہارتو نے اقتدار سنبھالا۔ خدانخواستہ اگر ہم اس گرتی ہوئی صورت حال کا تدارک کرنے میں ناکام رہے تو ہمیں تباہ کن خطرات کا سامنا ہو گا کیونکہ پاکستان انڈونیشیا کی طرح جزیرہ نہیں ہے۔ ہمارے پڑوس میں انقلابی ایران اور افغانستان جیسے جہادی ممالک ہیں جو خاموش نہیں بیٹھیں گے ایک طوفان اٹھ کھڑا ہو گا جسے سنبھالنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

آج ہم اس مقام پر ہیں جہاں ہماری افواج اپنی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ہماری سیاسی و مذہبی قیادت اپنی نظریاتی سرحدوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ ہمارا نظریہ حیات کمزور ہو چکا ہے اور جب نظریہ حیات کمزور ہو جائے تو قوم باوقار زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ آج جو سیاسی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے وہ ہم سب کیلئے اور خصوصاً ہمارے قائدین کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک جانب عدلیہ اور ملکی سلامتی کے محافظ اداروں پر تنقید کے نشتر چلائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب انسانیت و اخلاقیات کے تمام تر تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی بھونڈے طریقوں سے ایک دوسرے کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ عام آدمی سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا یہی جمہوریت ہے اور یہی اس کے ثمرات ہیں ہمارے ایک دانشور کے بقول ”ہماری قوم آج ان مسائل کی بجائے اپنے آپ سے برسرپیکار ہے جو ایک تباہ کن شغف ہے۔ اس میں جیت ہی ہماری سب سے بڑی ہار ثابت ہو گی“۔ ان الفاظ میں ایک واضح پیغام بھی ہے کہ اگر ہماری سیاسی و دینی جماعتیں اپنے فکر و عمل سے اپنی استعداد اور کارکردگی کا معیار عسکری اداروں کے برابر نہیں لا سکتے تو جمہوری قوتوں کو کبھی بھی استحکام حاصل نہیں ہو گا، ایک خوف طاری رہے گا جس کے سبب حکومتیں اعصابی دباﺅ میں رہ کر غیر اخلاقی حرکتوں کی مرتکب ہوتی رہیں گی۔ ایسی حرکتیں جو پاکستانی قوم کی پہچان ہرگز نہیں ہیں۔

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

بحریہ ٹاؤن کراچی کی پہلی مسجد کا افتتاح

بحریہ ٹاؤن کراچی کی پہلی مسجد کا افتتاح کر دیا گیا، مسجد کا افتتاح چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین نے کیا۔ انہوں نے بحریہ ٹاؤن کو اصل پاکستان قرار دیتے ہوئے یوم آزادی سے شہر میں صفائی مہم کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے رہائشیوں کے لیے پہلی مسجد کا افتتاح کر دیا گیا ہے، ڈھائی ایکڑ کے رقبے پر مشتمل مسجد عاشق کی افتتاحی تقریب میں بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مسجد عاشق میں 2500 نمازیوں کے کی گنجائش ہے ،250 خواتین کے لیے بھی الگ جگہ مختص کی گئی ہے، جبکہ معذور افراد کی ضرورت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر ملک ریاض نے پاکستان کو صاف رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا اور یوم آزادی سے شہر میں صفائی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اعلان بھی کر ڈالا۔ چیئرمین ملک ریاض حسین نے بحریہ ٹاؤن کی پہلی مسجد پر مبارک باد دی اور بحریہ ٹاؤن کو پاکستان کا اصل چہرہ قرار دیا۔

کراچی کا 99 فیصد پانی مضر صحت : کے ایم سی رپورٹ

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی فوڈ لیبارٹری کا کہنا ہے کہ شہر کو فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی مضر صحت ہے۔ میئر کراچی کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کے ایم سی فوڈ لیباٹری نے بتایا کہ انہوں نے شہر بھر سے پانی کے 204 نمونے جمع کیے جنہیں لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا گیا اور حیران کن طور پر ان نمونوں میں سے 202 نمونے پینے کے لیے مضر قرار دیے گئے۔ کے ایم سی فوڈ لیبارٹری کی رپورٹ دیکھنے کے بعد وسیم اختر نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کو پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر کرنے اور انسانی زندگی کو درپیش ممکنہ خطرے کا سدِ باب کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

کے ایم سی ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ کراچی کی 24 یونین کمیٹیوں سے پانی کے نمونے جمع کیے گئے، جنہیں فوڈ لیبارٹری میں معیاری طریقہ کار کے تحت ٹیسٹ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ میئر کراچی کی ہدایت پر پاکستان پیور فوڈز آرڈیننس 1960 کے تحت پانی کے نمونے کا ٹیسٹ کیا گیا۔ فوڈ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق 85 نمونوں کو کلورین کی موجودگی جاننے کے لیے ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے صرف 2 ہی نمونے ایسے تھے جن میں کلورین شامل تھا۔ اس کے علاوہ 119 نمونوں میں بیکٹیریا کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیا گیا اور تمام ہی نمونوں میں ’ای کولی‘ نامی بیکٹیریا کی تشخیص ہوئی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ پانی میں پائے جانے والے اس ای کولی بیکٹیریا سے مہلک بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ جن علاقوں سے پانی کے نمونے لیے گئے ان میں سخی حسن، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، فیڈرل بی ایریا، عامل کالونی، بلدیہ ٹاؤن، گلشن غازی، اختر کالونی، محمود آباد، منظور کالونی، اعظم بستی، اورنگی ٹاؤن، گلشن اقبال، میٹروویل، عثمان آباد اور کورنگی کے علاقوں کے علاوہ بہادر آباد میں عالمگیر مسجد بھی شامل ہے۔

حسن منصور

کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جائے گا

پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت پلاننگ کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر کا دس سال کے عرصہ کے بجائے اب آئندہ تین برسوں میں ستمبر 2020 تک مکمل کی جائے گی۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق یہ گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان چین اقتصادی راہداری پر چھٹی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں کراچی سرکلر ریلوے کو اقتصادی راہداری کا حصہ بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ منصوبہ چین کے تعاون سے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں اے پی پی نے وزارت پلاننگ کے ایک اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ‘اس سے قبل اس منصوبے پر جاپانی ڈویلپمنٹ ایجنسی (جائیکا) نے سرمایہ کاری کی تھی اور اس کی تکمیل دس برسوں میں مکمل ہونا تھی لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کو سی پیک میں شامل کیا جائے اور تین برسوں کے اندر مکمل کیا جائے۔’
خبررساں ادارے کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کی مدت میں کمی سے اس پر آنے والی لاگت پر بھی کمی آئے گی جبکہ اس منصوبے پر تقریبا 270 ارب روپے لاگت آئے گی۔

وزارت پلاننگ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کے لیے تقریبا 43 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پچھایا جائے گا۔ خیال رہے کہ یہ منصوبہ حکومت سندھ اور چین مکمل کریں گے جبکہ وزارت پلاننگ اس منصوبے کی نگرانی کرے گی۔ سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت اوسطا 8۔1 کلومیٹر کے فاصلے پر کل 24 سٹیشن بنائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے شہر کے اہم مقامات کو ملانے کے لیے اندرون شہر ریل سروس کا منصوبہ سب سے پہلے 1976 میں تجویز کیا گیا تھا۔

ان برسوں میں اس منصوبے کی متعدد بار فزیبیلٹی سٹڈی کی گئی اور متعدد فورمز پر اس کی منظوری بھی دی گئی لیکن اسے کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔
کینیڈا کی ایک کمپنی کے ساتھ سرکلر ریلوے کے لیے معاہدہ کیا تھا لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد جاپان کے ترقیاتی ادارے جائیکا نے دلچسپی کا اظہار کیا، دو سال سروے ہوئے لیکن ٹریک پر موجود تجاوزات راہ میں رکاٹ بنی رہیں اور بالاخر جائیکا خود ہی پیچھے ہو گئی۔ صوبائی حکومت رواں سال ستمبر سے تعمیراتی کام کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے۔

کیا شہر کراچی واقعی پُر امن ہو چکا ہے ؟

کراچی جو تقریباً 3 کروڑ آبادی پر محیط شہر ہے اور دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ آبادی کا حامل ہے، یہ فقط پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ دنیا کے کئی گنجان آباد شہروں میں سے ایک ہے۔ صوبہ سندھ کی کم و بیش نصف آبادی کراچی میں ہی آباد ہے۔ یہ شہر کئی سو سال کی تاریخ رکھتا ہے اور اِس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک تجارتی شہر ہے۔ اِس کی یہی خاصیت اِس کو کئی دیگر شہروں سے ممتاز بنا دیتی ہے۔ کراچی امراء کے درمیان تو عروس البلاد کے نام سے جانا جاتا ہے البتہ متوسط طبقے میں یہ ایک غریب پرور شہر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ تو ہو گیا کراچی کا انتہائی مختصر سا تعارف، اب چلتے ہیں اصل موضوع یعنی امن کی جانب۔ میں جب بھی اپنے دوستوں سے ملتا ہوں تو اُن سے حال احوال ضرور پوچھتا ہوں۔ میرے اکثر دوست اپنا کاروبار چلا رہے ہیں اور اُن کی شہر کے حالات پر کافی گہری نظر ہوتی ہے۔ میرا دوسرا حلقہ احباب سماجی کارکنان پر مبنی ہے اور وہ مسائل جو ایک بزنس مین کو نظر نہیں آتے وہ انہیں نظر آ جاتے ہیں۔
ایک بات جو ہم تواتر سے سنتے ہیں کہ ’کراچی پُرامن ہو چکا ہے‘ میرے نزدیک یہ بات کچھ ناقابل قبول ہے۔ آپ چاہیں تو مجھے خیرہ چشم کہہ سکتے ہیں لیکن میں اپنے دلائل ضرور پیش کروں گا، باقی آپ کی مرضی ہے۔ مثال پیش کئے دیتا ہوں میرے ایک بہت ہی عزیز دوست جناب ناصر زیدی جو میری ہی طرح ایک سماجی کارکن ہیں اور درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں کہتے ہیں کہ،
کراچی اب بہت پُرامن اور پُرسکون ہو چکا ہے۔

میں اِس معصومانہ خیال کو قابل قبول نہیں سمجھتا، کیونکہ یہ ایک سطحی مشاہدہ ہے اور مقتدر حلقے کی منشاء کے عین مطابق ہے۔ دراصل ہمارا شہر کئی چھوٹے چھوٹے اقلیتی علاقوں میں بٹا ہوا ہے، بنیادی حقوق کو ہمارے یہاں بطور آسائش اور اسٹیٹس سمبل کے طور پر برتا جاتا ہے۔ پینے کا صاف پانی تو اب نلکوں میں آتا ہی نہیں ہے، گدلا کہیں کہیں آ جاتا ہے، سڑکیں آپ کو سب سے اچھی فقط ڈیفنس میں ہی ملیں گی، شہر کے باقی اضلاع، قصبے اور رہائشی علاقے صبر کریں اور سب سے آخر میں بجلی، جس کے چور تو پکڑے نہیں جاتے ہیں البتہ پورے پورے علاقوں کو چوری کا طوق پہنا کر وہاں گھنٹوں بجلی معطل رکھی جاتی ہے۔

یہی بنیادی ضروریات کی غیر منصفانہ تقسیم لوگوں کو بے چین اور بے سکون کیے دیتی ہے، اور پھر وہ ریاست سے کئے گئے اپنے عمرانی معاہدے سے صرف نظر کرتے ہوئے، جلاؤ گھیراؤ اور اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اب بات کرلیتے ہیں امن کی کہ یہ ہوتا کیا ہے اور یہ کن عوامل پر مشتمل ہوتا ہے؟ امن کی کچھ بین الاقوامی تشریحات و تعریفات ہیں اور یہ تشریحات و تعریفات تمام دنیا میں من و عن رائج ہیں۔ یہ تشریحات اقوام متحدہ نے ہی رائج کی ہیں اور جیسا کے نام سے ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ کا مطلب ہی یہی ہے کہ اِن تشریحات کو اقوام عالم نے مل کر رائج کیا ہے۔ جو پہلی تشریح میں یہاں پیش کرنا چاہوں گا وہ انسانی حقوق سے متعلق ہے، ایک علاقہ، معاشرہ یا خطہ اُسی وقت پُرامن کہلائے گا جب وہاں انسانی حقوق میسر ہوں اور آدھے ادھورے نہیں! مکمل! اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ، اب یہ انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں؟ سنہ 1945ء میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا عالمی مسودہ پیش کیا گیا تھا، اِس مسودے میں 30 انسانی حقوق درج تھے۔ دنیا بھر کے تمام ممالک آج اُسی مسودے کی روشنی میں اپنے ممالک کے آئین نافذ کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے عالمی مسودے میں جن حقوق کا ذکر کیا گیا وہ لازم و ملزوم اور ایک دوسرے سے جدا کر کے نافذ العمل نہیں لائے جا سکتے ہیں، ایسا کرنا انسانی حقوق اور اِس مسودے دونوں کی بے حرمتی کے زمرے میں آئے گا۔ میں اِس مسودے کی فقط پہلی اور دوسری شق یہاں درج کیے دیتا ہوں اور جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑے دیتا ہوں.

تمام انسان برابر ہیں
انسان کے درمیان رنگ، نسل، زبان، مذہب، فرقے، معاشی حالات کی بناء پر کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی۔ اب میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں، کیا واقعی ہمارے شہر بلکہ ہمارے ملک میں کہیں بھی اِن حقوق کی پاسداری ہو رہی ہے؟
اب چلتے ہیں انسان کی دوسری تعریف کی جانب۔ یہ تعریف تعلقات عامہ کے پائے کے محقق جوہان گلٹنگ Johan Gultang نے سنہ 1996ء میں پیش کی تھی۔ آپ نے امن کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا، منفی و مثبت۔ منفی امن جنگ و جدل، ظلم و جبر اور تشدد کے عنقا ہونے کا نام ہے اور مثبت امن معاشی و معاشرتی ترقی و انسانی بہبود کا نام ہے۔ ایک بات اور مثبت امن، منفی امن کے رائج ہونے کے بعد ہی نافذ ہوتا ہے۔

کیا واقعی کراچی میں امن کلی طور پر رائج ہوگیا ہے؟ دل کو بہلانے کے لئے تو ہم ایسا ضرور کہہ دیں گے۔ نیز یہ کہ ہر وہ شخص جس پر کراچی کا امن بحال کرنے کی ذمہ داری عائد ہے وہ بھی ایسا ہی کہے گا، لیکن کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا ہے۔ ہاں ہمیں عارضی طور پر اُن مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے جو ہمیں سنہ 2012ء تک درپیش تھے۔ اگر ہم Johan Gultang کی دی گئی تعریف کے بہت قریب ہیں تو ہمیں اقوام متحدہ کی جانب سے مروجہ نظام کی جانب رجوع کرنا ہو گا۔ ایسا کہنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امن و امان کو پورے ملک میں ایک حق کی نہیں بلکہ ایک آسائش کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ملک کا فقط 20 فیصد طبقہ محفوظ علاقوں اور ذاتی محافظوں کے سائے میں زندہ ہے تو یہ کوئی کارنامہ نہ ہوا۔ نیز یہ کہ موجودہ حالات کو ہی بہترین قرار دینا خود کشی کے مترادف ہو گا۔

کراچی کا امن آبادی کے شدید دباؤ، اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم، انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور شہر میں جدید اسلحے کی وافر موجودگی سے برباد ہوا تھا اور ہو رہا ہے۔ کیا واقعی اِن مسائل کا حل کراچی میں نافذ العمل ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔ یہاں بس گزارہ ہی ہو رہا ہے اور گزارہ تو جیل میں بند قیدی اور سڑک پر بیٹھے بھکاری کا بھی ہو ہی جاتا ہے۔ ہمیں اپنے اصل مسائل کو سمجھنا ہو گا، صرف یہی نہیں بلکہ اِن کا حل دریافت اور اِن پر باقاعدہ عمل درآمد بھی کرنا ہو گا۔ بلی دیکھ کر اگر کبوتر آنکھیں بند کر لے تو ایسا کرنے سے بلی غائب نہیں ہو جاتی ہے، بلکہ وہ قریب آکر کبوتر کو کھا جاتی ہے۔ ہمیں بھی مسائل کو دیکھ کر آنکھیں بند نہیں کرنا ہوں گی بلکہ ان کا تدارک کرنا ہو گا۔

بلال منصور

 

لیاقت آباد، تباہی کے دھانے پر

کراچی میں ابھی معمول سے کم بارش ہوئی اور لیاقت آباد میں تین منزلہ عمارت گر گئی۔ رات گئے گرنے والی عمارت کے ملبے میں دب کر 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ امدادی کارروائیاں دیر سے شروع ہوئیں کیونکہ لیاقت آباد کی تنگ سڑکوں میں بڑی گاڑیاں اور ایمبولینس و غیرہ آسانی سے نہیں جا سکتیں۔ بے ہنگم ہجوم کی بناء پر بھی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ کراچی کے ضلع وسطی کی انتظامیہ نے مساجد سے اعلانات کرائے کہ غیر متعلقہ افراد حادثے کی جگہ سے ہٹ جائیں مگر بہت کم لوگوں نے ان اعلانات پر توجہ دی۔ لیاقت آباد میں ہر سال دو سال بعد کوئی کمزور عمارت گر جاتی ہے اور کئی افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔

حکومت تحقیقات کا اعلان تو کرتی ہے مگر سب کچھ فائلوں میں گم ہو جاتا ہے۔
پاکستان بننے سے پہلے یہ علاقہ’ لالوکھیت‘ کہلاتا تھا جہاں دور دور تک کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ ٹھٹھہ ملیر سے لی مارکیٹ جانے والی سڑک نیٹی جیٹی سے گزرتی تھی جہاں بلوچوں کا گوٹھ تھا۔ گرومندر سے لیاقت آباد 10 نمبر تک سڑک تعمیر ہوئی۔ لیاقت آباد کی آبادی 1998ء میں ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق 649,091 تھی جو اب بڑھ کر 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہو گی۔ لیاقت آباد 11 یونین کونسلوں پرمشتمل ہے۔ پاکستان بننے کے بعد لالو کھیت کو لیاقت آباد کا نام دیا گیا اور جدید شہری منصوبہ بندی کے مطابق یہ علاقہ آباد ہوا۔

لیاقت آباد میں 90 گزکے پلاٹ تیار کیے گئے۔ کہیں کہیں زمین کی صورتحال کی بناء پر یہ پلاٹ 100 گز پر مشتمل ہوئے۔ لیاقت آباد میں جدید سڑکیں تعمیر ہوئیں، بڑی سڑک تو ایس ایم توفیق روڈ ہے مگر لیاقت آباد میں گھروں کو ملانے والی سڑکیں بھی 30 فٹ چوڑی تھیں۔ لیاقت آباد جب آباد ہوا تو ہر 20 مکانات کوچھوڑ کر زنانہ اور مردانہ بیت الخلاء بنائے گئے اور ہر گلی میں پانی کا نلکا نصب کیا گیا۔ اس نلکے میں دن میں پہلے ایک پھر دو دفعہ پانی فراہم کیا جاتا تھا ۔ جب ایوب خان کے دور میں بی ڈی نظام نافذ ہوئے اور ہر حلقے سے کونسلر منتخب ہوئے تو پھر گھروں میں بیت الخلاء بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پہلے بیت الخلاء پرانی نوعیت کے تھے، سیوریج کی لائنیں ڈال دی گئیں۔ پیپلزپارٹی کے پہلے دور میں گھروں میں پانی کے کنکشن دیے گئے، پھر ہر محلے میں قائم بیت الخلاء کی عمارتوں کا سلسلہ ختم ہوا تو بااثر افراد اور پولیس کی سرپرستی میں غنڈہ گردی کرنے والے افراد نے بیت الخلاء کی عمارتوں پر قبضے کر لیے۔ ان عمارتوں کو رہائشی مکانات وغیرہ میں تبدیل کر دیا گیا۔

جان عالم بتاتے ہیں کہ لیاقت آباد ایک منظم علاقہ تھا اور یہاں مکان کی تعمیرکے لیے کے ڈی اے سے نقشے کی منظوری لینا ضروری تھا۔ نقشے سے ہٹ کر مکان تعمیرکرنے کا تصور نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرکوئی شخص اپنے مکان کی گیلری میں بغیر اجازت توسیع کرتا تھا تو متعلقہ انسپکٹر نوٹس بھجوا دیا کرتا تھا، بیشتر گھر ایک منزلہ تھے۔ کچھ صاحب ثروت افراد نے کے ڈی اے کی اجازت سے دو منزلہ گھر تعمیر کیے۔ لیاقت آباد میں سرکاری اسکول وسیع وعریض رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔ ان اسکولوں سے کھیل کے میدان منسلک تھے۔ ان میدانوں میں کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال کے مقابلے ہوتے تھے۔ ہاکی کے کئی نامور کھلاڑی ان میدانوں میں کھیل کر اولمپک مقابلوں تک پہنچے۔

90ء کی دہائی شروع ہوئی۔ ایم کیو ایم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ بنی۔ لیاقت آباد میں بلڈر مافیا متحرک ہو گئی۔ 90 گز کے پلاٹوں پر چار چار منزلہ عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ بعض افراد نے اپنے پلاٹ کے دو حصے کر دیے۔ اسی طرح 45 گز کے پلاٹوں پر کئی کئی منزلہ عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ لوگوں نے اپنے مکانوں کی بالکونیوں میں اتنی توسیع کر دی کہ سڑک چھوٹی ہو گئی۔ بلڈنگ کنٹرول کا عملہ اس صورتحال پر نامعلوم وجوہات کی بناء پر خاموش رہا۔ بیشتر افراد نے نقشہ منظور کرائے بغیر عمارتیں تعمیر کر لیں۔ اب جس پلاٹ میں ایک میاں بیوی اور 6 بچے رہتے تھے وہاں اس پلاٹ پر تعمیر ہونے والے ہر پورشن میں اتنے ہی لوگ آباد ہو گئے، پانی کا استعمال کئی گنا بڑھ گیا۔ اس کے علاوہ سیوریج کی لائنوں پر اتنا دباؤ بڑھا کہ وہ چوک ہو گئیں۔ بجلی کی مانگ کنڈے ڈال کر پوری کی گئی۔ اسکولوں سے ملحقہ میدانوں میں پارٹی آفس بن گئے۔

یونین کونسل کے دفاتر قائم کر دیے گئے۔ رینجرز نے جب لیاقت آباد میں آپریشن کیا تو یہ الزام لگایا گیا کہ بعض سرکاری عمارتوں میں ٹارچر سیل قائم تھے جہاں مخالفین پر تشدد ہوتا تھا۔ سیوریج لائن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی۔ لیاقت آباد کے مختلف علاقوں میں سیوریج کا پانی ، سڑکوں کا گندے پانی کے تالاب میں تبدیل ہونا معمول بن گیا۔ لوگوں نے پانی کی تلاش میں اپنے گھروں کے سامنے بورنگ کرائی۔ اس طرح پانی تو حاصل ہوا مگر پانی کھینچنے سے مکانات کی بنیادیں کمزور پڑنے لگیں۔ بورنگ کا پانی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اس بناء پر جگر، گردے، دل اورکینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اب حالات اتنے خراب ہو گئے کہ میت گاڑی اور ایمبولینس والوں نے اپنی گاڑیوں کو سڑکوں پر بھیجنے سے انکار کیا کیونکہ بڑی گاڑیوں کا موڑنا اور ریورس کرنا ناممکن ہو گیا۔ اب لیاقت آباد ایسے بند علاقے میں تبدیل ہو گیا جہاں آنے جانے کے راستے نہیں ہیں۔ ہر گلی اور سڑک گندے پانی کے جوہڑ میں تبدیل ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں عمارتوں کے مخدوش ہونے کی شرح بڑھ گئی۔

2008ء سے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ شدید انتظامی اور مالیاتی بحران کا شکار ہے۔ بلدیاتی عملہ فنڈ کی کمی کی بناء پر سیوریج لائنوں کی تبدیلی اور پانی کی لائنوں کے نظام کو ٹھیک کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ دو سال قبل بلدیاتی انتخابات میں لیاقت آباد سے ایم کیو ایم کے نمایندے کامیاب ہوئے۔ یہ بلدیاتی عملہ اختیارات اور فنڈز کے استعمال سے محروم ہے، یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی نظام کے قیام کے باوجود بلدیاتی عملہ لیاقت آباد سمیت شہر کے حالات میں بہتری لانے میں ناکام رہا ہے۔ اب کراچی کے میئر اور سندھ حکومت کے مابین ٹکراؤکی صورتحال ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد گلیوں میں ان کے لیے کوئی آپریشن کرنا ممکن نہیں۔ لیاقت آباد کے عوام نے جمہوریت کی بحالی، طلبہ اور مزدوروں کے حقوق کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ایوب خان کی آمرانہ حکومت نے لیاقت آباد کے عوام کی جمہوریت پسندی کو کچلنے کے لیے طاقت کا بیہمانہ استعمال کیا۔

اسی طرح بھٹو حکومت نے بھی پولیس کی مدد سے لیاقت آباد کے عوام کی جرات پسندی کے جذبے کو کچلنے کی کوشش کی مگر لیاقت آباد کے عوام آمریت کے خلاف سینہ سپر رہے۔ اب لیاقت آباد پھر تباہی کا شکار ہے۔ لیاقت آباد کی سیاسی قیادت ایم کیو ایم کے پاس ہے۔ اس علاقے کے نوجوانوں نے ایم کیو ایم کے لیے جانیں قربان کی ہیں، لہٰذا ایم کیو ایم کی قیادت کا فرض ہے کہ لیاقت آباد سے تجاوزات ختم کرے، غیر قانونی عمارتوں کو مسمارکرنے، سیورج اور صاف پانی کی نئی لائنوں کی تنصیب کے لیے جدوجہد کرے تا کہ لیاقت آباد کی اصول شکل بحال ہو سکے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار، ملازمین کو تنخواہیں نہ مل سکیں

ملک کی سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی مالی بحران کا شکار ہوگئی ہے اور جامعہ کراچی کے وائس چانسلر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تعاون کی اپیل کر دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی یونیورسٹی کا مالی بحران سنگین ہوگیا ہے اور ملک کی اہم ترین مادر علمی 70 کروڑ روپے خسارے کا شکار ہے، صورت حال یہ ہے کہ جامعہ کے ملازمین کو گزشتہ ماہ کی تنخواہیں نہیں مل سکیں جب کہ یونیورسٹی کے ایڈمن بلاک کی لفٹ ٹھیک کرانے کے لیے 700 روپے بھی نہیں۔

جامعہ کراچی کے وی سی ڈاکٹر محمد اجمل نے مالی بحران پر کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جامعہ کے پاس فنڈز نہیں، مختلف شعبہ جات کی عمارتوں کی چھتیں خستہ ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے کبھی بھی کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آ سکتا ہے لیکن ہمارے پاس چھتوں کی مرمت کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں ، ملازمین کو تنخواہوں کے چیک جاری کیے گئے ہیں لیکن ان کے چیک باؤنس ہو گئے، جامعہ میں تحقیق کا کام رک گیا ہے، لیبس میں آلات تک خراب ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر اجمل نے جامعہ کراچی کے مالی بحران کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کے کئی اسباب ہیں جن میں غیرقانونی بھرتیاں، بجلی کا بے جا استعمال اور فضول خرچیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور سندھ حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ میں روزانہ تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کو تعلیم کی بنیادی اور بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہماری مالی معاونت کی جائے اور جامعہ کے مسائل کو حل کیا جائے۔

کراچی کا ’قیمتی‘ کچرا

چاروں طرف کچرے کے پہاڑ سلگ رہے ہیں، ایک کونے میں ہیما کچھی اپنی بیٹی کے ساتھ موجود ہے۔ جس کی نظریں کچرے کو سکین کرتی ہیں اور ساتھ ہی وہ ایک چھڑی پھیرتی ہیں۔ یہ مقناطیسی راڈ ہے، جس کے ذریعے وہ کچرے میں موجود دھات کھینچ نکالتی ہیں۔ گذشتہ 20 سالوں سے یہ کچرا ہی ہیما کا روزگار ہے وہ اور ان کے دو بیٹے یہی کام کرتے ہیں۔ ہیما کے مطابق وہ کچرے میں سے سلور، تانبہ، پیتل، شیشہ اور ہڈیاں نکالتی ہیں، دو دن جمع کر کے اسے فروخت کرتی ہیں، اس سے ان کے دو روز کے راشن کا خرچہ نکل آتا ہے۔ جو تقریباً پانچ سے چھ سو روپے بنتا ہے۔

کراچی سے حب بلوچستان جانے والی سڑک پر واقع نور محمد گاؤں کے قریب کچرے کا میدان واقع ہے، یہاں روزانہ 200 ٹرک چار ہزار ٹن کے قریب کچرا لاتے ہیں، جس سے ڈھائی سو کے قریب لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 12 ہزار لوگ کچرے سے روزی کماتے ہیں۔ کراچی میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں شہری ادارے کچرا پھینکتے ہیں۔ کچرے کو پہلے آگ لگائی جاتی ہے، جس کے بعد اس سے کام کی اشیا حاصل کی جاتی ہیں۔ صبح سورج نکلتے ہی یہ مزدور یہاں آجاتے ہیں اور تپش بڑھنے سے قبل واپس روانہ ہو جاتے ہیں۔

زرعی زمین کی طرح یہاں کچرے کے ڈھیر لوگوں میں تقسیم ہیں جہاں سے وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جو بغیر دستانوں اور ماسک کے ایسے آلودہ ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں سانس لینا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔ نور محمد گاؤں کی چالیس فیصد آبادی اس کچرے پر پل رہی ہے۔ اس گاؤں میں کچرے سے حاصل ہونے والی اشیا کی خریداری کے پانچ مراکز موجود ہیں۔ جہاں دھات، ہڈیوں اور شیشے کی خریداری کی جاتی ہے جو بعد میں کراچی اور پنجاب کے مختلف کارخانوں کی طرف روانہ کر دیے جاتے ہیں، جہاں یہ خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

دکاندار محمد عیدن نے بتایا کہ ’لوہا 20 روپے، ڈبے دس روپے، سلور 80 رپے، تانبہ 70 روپے فی کلو لیتے ہیں، جبکہ روزانہ سو کلو لوہا، پچاس کلو ڈبے، تین چار کلو تانبہ پیتل اور دس بارہ کلو سلور آجاتا ہے۔‘ دو کروڑ نفوس کی آبادی کے شہر کراچی میں 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے، اس کچرے کو اٹھانے اور اسے ’ری سائیکل‘ کرنے کا کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔ شہر میں کچرا دانوں سے پلاسٹک، کاغذ اور گتا پہلے ہی چن لیا جاتا ہے، شہر میں درجنوں ایسی دکانیں اور گودام موجود ہیں جو یہ کاروبار کرتے ہیں۔ شہر سے کچرے کو اٹھانے کی ذمہ داری اب ایک چینی کمپنی کے حوالے کی گئی ہے، جس نے ابتدائی طور پر ضلع جنوبی اور شرقی سے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچرا اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کی ری سائیکلنگ کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی کا کہنا ہے کہ فیلڈ پر کنویئر بیلٹ لگائے جائیں گے جس کے ذریعے کاغذ، گتا، پلاسٹک اور دھات حاصل کی جائے گی، اس کے علاوہ ویسٹ سے انرجی پیدا کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے پیشکش طلب کی ہیں۔ ’چینی کمپنیاں گھروں اور علاقوں سے کچرا اکھٹا کر کے گاربیج سٹیشن تک لانے کی ذمہ دار ہوں گی یہ کچرا سالڈ ویسٹ بورڈ کی ملکیت ہو گا، کیونکہ انرجی پلانٹ لگانے والا یہ ضرور معلوم کرے گا کہ کچرا کس کی ملکیت ہے۔

کراچی کے میئر وسیم اختر کچرا اٹھانے کا کام چینی کمپنی کو دینے سے ناخوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ کچرا اٹھانا میونسپل سروسز میں شامل ہے اور ان کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت نے بورڈ بنا کر یہ ذمہ اس کے حوالے کر دیا ہے۔
’کچرے میں مافیا ملوث ہے جو اس کو ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچنے نہیں دیتی، مختلف جگہوں پر کچرا پھینک دیا جاتا ہے، جہاں سے افغانی اور دیگر بچے کام کی اشیا حاصل کرتے ہیں، جو فیکٹریوں کو بھیجی جاتی ہیں، افسوس ہے کہ حکومت اس کو خود کیوں ہینڈل نہیں کرتی اس سے پاور جنریشن کیوں نہیں کی جاتی بجائے فائدہ لینے کے ہم اس پر خرچہ کر رہے ہیں۔‘

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے قیام سے قبل صرف 40 فیصد کچرا اٹھایا جاتا تھا، باقی کچرا زمین کے حصول کے لیے ندی، نالوں اور ساحل کے کنارے پھینک دیا جاتا تھا۔ اس وقت بھی پانچ کینٹونمنٹ، پورٹ، سول ایوی ایشن سمیت دیگر شہری علاقوں کا کچرا ڈمپنگ سٹیشن نہیں آرہا وہ کہیں اور جا رہا ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

چینی بحریہ کے 3 جہاز کراچی پہنچ گئے

چینی بحریہ کا 3 بحری جہازوں چانگ چن، جنگ ژہو اور چاؤ ہو پر مشتمل ٹاسک گروپ خیرسگالی وتربیتی دورے پر ہفتے کو کراچی پہنچ گیا۔ بندر گاہ آمد پرایک  پروقاراستقبالیہ تقریب کے دوران پاک بحریہ کے سینئر حکام اور چینی سفارتخانے کے عملے نے جہازوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا بعد ازاں نیول چیف ایڈمرل محمد ذکااﷲ نے چینی جہاز کا دورہ بھی کیا اور مشن کمانڈر ریئر ایڈمرل شین ہاؤ سے ملاقات بھی کی، ریئر ایڈمرل شین ہاؤ، ڈپٹی کمانڈر ایسٹ سی فلیٹ، اس بحری بیڑے کی قیادت کر رہے ہیں۔

چینی جہاز کے آمد کے موقع پرچینی بحریہ کے ایک چاک و چوبند دستے نے انھیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا، دورے کہ دوران نیول چیف نے جہاز کے عملے کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور ان کی آپریشنل صلاحیتوں کو بھی سراہا، نیول چیف نے کہا کہ پاک چائنا دوستی بہت اہمیت کی حامل ہے دونوں ممالک کے مسلسل باہمی تعاون کی وجہ سے دونوں کو تقویت ملی ہے، انھوں نے کہا چینی بحریہ کے دورے سے دونوں ممالک کی بحریہ کے درمیان تعاون کو فروغ حاصل ہو گا اور اکٹھے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا، کراچی میں اپنے قیام کے دوران جہازوں کے افسران اور جوان اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں اور پیشہ ورانہ معاملات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

مزید برآں سینئر پاکستان نیوی اور سویلین حکام سے ملاقاتیں، آپریشنل و تربیتی سرگرمیاں اورمتعدد پیشہ ورانہ اور سماجی امور پر بات چیت بھی اس دورے کا حصہ ہیں، دورے کے اختتام پر پاکستان نیو ی اور چینی بحری جہازوں کے درمیان کھلے سمندر میں بحری مشق بھی کی جائے گی جس کا مقصد دونوں بحری افوج کے درمیان مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔