First blog post

This is your very first post. Click the Edit link to modify or delete it, or start a new post. If you like, use this post to tell readers why you started this blog and what you plan to do with it.

post

Advertisements

کراچی کے فلائی اوورز

سرکاری اداروں کے فنڈ سے تعمیر کئے گئے کراچی کے 90 فیصد فلائی اوور کے ایکسپنشن جوائنٹ اکھڑ گئے، چڑھائی اور اترائی کے مقامات پر سڑکیں بیٹھ گئیں، غیر معیاری ایکسپنشن جوائنٹ لگائے جانے سے پلوں کے اسٹرکچر کی زندگی کم ہو رہی ہے اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو تی ہے۔ اکثر کنٹریکٹرز انھیں کوریا اور چین سے درآمد شدہ کہہ کر کر لگاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصل آباد میں بننے والے جوا ئنٹ سے بھی کم تر کوالٹی کے ہوتے ہیں، سستے ترین منگوا کر لگائے جانے کی وجہ سے یہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہی کام چھوڑ جاتے ہیں اس وقت شہر کا شائد ہی ایسا کوئی فلائی اوور ہو جس پر کوئی انسپکشن جوائینٹ اکھڑا ہوا نہ ملے یا گاڑیاں گزرتے ہوئے جمپ نہ لگاتی ہوں جبکہ ملک کے اندر دیگر بڑے شہروں میں تعمیر کئے جا نے والے فلائی اوورز پر یہ صورتحال نظر نہیں آتی ہے۔

نئے تعمیر ہونے والے پلوں جن میں شاہراہ فیصل پر چاروں پل اپنی علیحدہ علیحدہ خصو صیا ت رکھتے ہیں۔ ان کے ڈیزائن انٹرنیشل ٹریفک رولز کے مطابق ڈیزائن نہ ہونے کی وجہ سے اپنی خوبصورتی بھی کھو بیٹھے ہیں، تعمیر میں معیار کا خیال نہ رکھنے میں کنٹریکٹرز اور انجینئرز دونوں ہی غفلت اور لاپرواہی کے ذمہ دار ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ورنہ پل تعمیر ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی ایکسپنشن جوائینٹ اکھڑ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے زیادہ تر پل کےایم سی ، سٹی گورنمنٹ اور سندھ حکومت نے تعمیر کئے ہیں لیکن آج تک ان اداروں کی جانب سے نوٹس نہیں لیا گیا اور طویل عرصے یہ نقص چلا آرہا ہے.

جبکہ ا ن پلوں کی تعمیر کی نگرانی پر معمور انجینئرر آج بھی مذکورہ اداروں میں موجود ہیں ان پلوں کے ریمپ (چڑھائی اترائی) بھی بیٹھ جاتے ہیں ان میں مٹی کی بھرائی کر کے قومی دولت کو لٹایا جاتا ہے جبکہ ان پلوں کے آر سی سی اسٹرکچر کو ایک خاص سلوپ تک لانا چاہئے ، جدید دور میں جدید ڈیزائن کی تعمیرات کرائی جانی چاہئے دنیا کہاں پہنچ چکی ہے ہمارے شہر کے انجینئرز اور سرکاری ادارے ان پلوں کے سلوپز میں بھرائی کی جانے والی مٹی کی کمپکشن معیار کے مطابق نہیں کروا سکتے جسکی وجہ سے ان اکثر نو تعمیر پلوں کے ریمپ بیٹھ گئے ہیں ۔

اس غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے اکثر پلوں پر چھوٹے بڑے حادثات رونماء ہوتے رہتے ہیں جس میں یونیورسٹی روڑ پر حسن اسکوائر کا پل، ابوالحسن اصفہانی روڑ اور یونیورسٹی روڑ پر برج، N-5 پر ملیر ہالٹ پر تعمیر کئے جانے والے پل پر مٹی سے بھرے گئے سلوپ اور اسکے گارڈر اتنے جُھول گئے ہیں کہ گاڑیاں ہر گارڈر پر جمپ کھاتی ہوئی گزرتی ہیں اس پر بھاری گاڑیوں کا گزرنا ان پلوں کی عمر کو مزید کم کر رہا ہے دوسری جانب محکموں اور کنٹریکٹرز کی صلاحتیوں سے آگاہ کرتا ہے ملیر پندرہ پر زیر تعمیر پل جسکا ایک حصہ ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے ۔ اس میں بھی اسی طرح کے نقص موجود ہیں اسکی تعمیر یہاں کے رہایشیوں کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں۔

جس نے زیر تعمیر ہوتے ہوئے بھی شکایات پیدا کردی ہیں کراچی کے نئے اور پرانے پلوں کی اکثریت میں ٹیکنیکل خرابیاں ہیں جس کا شہری روز مشاہدہ کر تے ہیں ان میں آئی سی آئی برج، بلوچ کالونی پل، گلبائی پل، کالاپل، شاہرہ فیصل پر ڈرگ روڈ، اسٹار گیٹ، ملیر کینٹ (ملیر ہالٹ) پر ماڈل کالونی کے جنکشن پر، ابوالحسن اصفہانی روڑ سے یونیورسٹی روڑ پر سفاری پارک کے مقام پر، ملینیم مال ، ناظم آباد اور لیاقت آباد کے تینوں انڈرپاس کی حالت زار سب کے سامنے ہے جو ٹریفک کی روانی کو متاثر کر تے ہیں ان پلوں سے چھوٹی گاڑیو ں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اکثر حادثات سے شہری انفرادی طور سے نمٹ کر بغیر کارروائی چلے جاتے ہیں۔

طاہر عزیز

جہانگیر پارک ، بحالی کی کہانی

شہرکراچی میں چھوٹے بڑے پارکوں کی تعداد 1600 کے قریب ہے جب کہ بڑے پارکوں کی تعداد دو درجن ہے جن میں سے کچھ ماڈل پارک بھی بنائے گئے تھے، جن کی حالت اب اچھی نہیں رہی ۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی غفلت سے شہر میں درجنوں پارکوں پر قبضے کیے گئے ۔ لینڈ مافیا نے ان پارکوں کی جگہ پر رہائش گاہیں اور شادی ہال تک تعمیرکیے تھے، اس دوران صوبائی اور مقامی حکومتیں خاموش تماشائی بنیں رہیں ۔ عوامی شکایات پر عدالتی حکم کے تحت ان پارکوں کی بازیابی کا سلسلہ شروع کیا گیا اور ساتھ ہی ان کی بحالی کے لیے پارکوں کے اطراف سے تجاوزات ختم کرنے کا بھی آغاز کیا گیا۔

انھی پارکوں میں سے ایک جہانگیر پارک بھی ہے جوعرصہ دراز سے ویران تھا اب عدالتی حکم کے تحت اس کی بحالی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اب صرف اس کا افتتاح ہونا باقی ہے ۔ سندھ حکومت نے پونے پانچ ایکڑ رقبے پر مشتمل جہانگیر پارک کی تعمیر نو کا کام مارچ 2017ء میں شروع کیا اور اگست کے آخر میں اسے مکمل کیا گیا ، سندھ حکومت نے منصوبے کے افتتاح کی تاریخ 14 اگست 2017ء رکھی تھی تاہم منصوبے کا کچھ تعمیراتی کام جاری تھا جس کی وجہ سے مقررہ مدت میں افتتاح نہ ہو سکا، بعد ازاں منصوبہ تکمیل کو پہنچا تو وزیر اعلیٰ سندھ کے مصروف شیڈول کی وجہ سے افتتاح تاخیر کا شکار ہے اور عوام اس تاریخی جہانگیر پارک میں جانے سے محروم ہیں۔

واضح رہے کہ جہانگیر پارک کو 20 کروڑ روپے کی لاگت سے عالمی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے ، پارک میں 17 ڈائنا سار کے مجسمے نصب کیے گئے ہیں ، پرندوں کے لیے خصوصی برڈ ایوری بنائی گئی ہے جس میں مور اور دیگر پرندے رکھے گئے ہیں ۔ پارک میں ایم پی تھیٹر ، لائبریری ، جوگنگ ٹریک سمیت دیگر سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں ۔ پارک کے چاروں اطراف باونڈری وال اور اس کی تاریخی حیثیت کو بحال رکھنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ اس پارک میں ایک سو سالہ قدیمی درختوں سمیت کسی بھی درخت کی کٹائی نہیں کی گئی ہے پارک کو اس اندازسے بنایا گیا ہے کہ تمام درخت اپنی جگہ موجود ہیں ۔ علاوہ ازیں ایمپریس مارکیٹ اور قرب و جوار میں 100 سال قبل کے انفرا اسٹرکچر تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس پر 95 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے جس میں سے 20 کروڑ روپے تاریخی جہانگیر پارک کی ازسر نو تعمیر کا خرچ بھی شامل ہے۔

ایمپریس مارکیٹ اور قرب وجوار میں جس میں مینس فلڈ اسٹریٹ ، میرکرم علی روڈ ، پریڈی اسٹریٹ تا سرورشہید روڈ ، راجہ غضنفرعلی روڈ ، داؤد پوتہ روڈ ، سرور شہید روڈ اور اطراف کی تمام سڑکوں پر ازسر نو پانی ، سیوریج کی لائنوں کی تنصیب اور برساتی نالہ تعمیرکر دیا گیا ہے، اب ان سڑکوں کی جدید طریقے سے ازسر نو استرکاری کی گئی ہے ۔ جہانگیر پارک کراچی کے قدیم اور تاریخی پارکوں میں شمار ہوتا ہے یہ پارک 1950ء کی دہائی سے قائم ہے اور 50ء کی دہائی میں محرم الحرام کی مجلس اس پارک میں ہوتی تھی بعد ازاں اس مجلس کا اہتمام نشتر پارک میں کیا جانے لگا ۔ شہر کراچی کے مرکز صدر میں ہونے کی وجہ سے اس پارک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ، شہر بھر سے خریداری کے لیے صدر ایمپریس مارکیٹ آنے والے شہری اس پارک کا رخ کرتے تھے اور اس پارک میں وقت گزارتے تھے لیکن بلدیہ عظمیٰ کراچی نے بالخصوص سٹی حکومت نے اس پارک کی تزئین وآرائش کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ پارک اجڑ گیا، اس میں شہریوں کے لیے کوئی سہولت موجود نہ رہی ۔

وقت کے ساتھ ساتھ کراچی کا یہ قدیم اور تاریخی جہانگیر پارک کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ، مختلف علاقوں سے کچرا لا کر پارک میں ڈالا جاتا اور پھر اس کو آگ لگا دی جاتی ، پارک میں خانہ بدوشوں نے بھی ڈیرے ڈال دیے تھے اور پورے پارک میں جگہ جگہ خانہ بدوشوں کے بستر لگے نظر آتے تھے ۔ پارک مکمل طور پر اجڑ چکا تھا اور گھاس بھی غائب ہوگئی تھی اور پارک میں ریت اڑتی رہتی تھی ، جہانگیر پارک کو منفی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ جرائم پیشہ افراد اور منشیات کے عادی افراد اس پارک میں نظر آتے تھے۔ پارک کے اندر پختہ تجاوزات قائم کیے گئے تھے ۔ جہانگیر پارک کی بحالی کے لیے مختلف شہریوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں اور عدالتی حکم کے تحت اس تاریخی جہانگیر پارک میں قائم ناظم کے دفتر، رہائشی کوارٹرز سمیت دیگر تعمیرات کو مہندم کیا گیا اور تجاوزات ہٹا دیے گئے تھے ۔

غیر سرکاری تنظیم راہ راست ٹرسٹ کے آغا سیدعطا اللہ شاہ نے عدالتی درخواست میں موقف اختیارکیا کہ کے ایم سی نے 1976 میں پارک کی زمین پر کیبن اور دیگر تجاوزات کے لیے لائسنس جاری کر دیے تھے جب کہ پارک کے احاطے میں ناظم کے دفترکے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے لیے کوارٹرز بھی تعمیر کیے گئے ہیں ۔ مولانا اصغر درس کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ جہانگیر پارک تاریخی اہمیت کا حامل ہے مگر کئی برسوں سے حکومت کی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے سندھ ہائی کورٹ کے احکام پر عمل درآمد کرتے ہوئے جہانگیر پارک صدر میں بنائے گئے، پانچ رہائشی مکانات کو مکمل طور پر مسمار کر دیا، اس موقعے پر پریڈی تھانے کی پولیس بھی موجود تھی ۔

جہانگیر پارک میں رہائش پذیر کے ایم سی ملازمین کو یہاں سے منتقل کرنے سے قبل کورنگی نمبر 4 میں ان کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ تجاوزات مسمارکرنے کے بعد کافی وقت تک ملبہ پارک میں پڑا رہا، جسے اٹھوانے کے لیے شہریوں کو سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا تھا، اس طرح عدالت نے ملبہ ہٹانے پر بھی احکامات جاری کیے ۔ عدالت کے حکم پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 19جنوری 2015 کو جہانگیر پارک کے اندر سے تجاوزات کا خاتمہ کیا تھا لیکن اس کے بعد پارک میں تجاوزات دوبارہ قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ، جنھیں پھر ہٹا دیا گیا تھا۔

اس دوران کراچی کے شہریوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا تھا کہ شہر کے پارکوں کی حالت زار پر توجہ دی جائے ، پارکوں میں سہولتیں فراہم کی جائیں، پارکوں کو جرائم پیشہ افراد اور منشیات کے عادی افراد سے خالی کرایا جائے اور پارکوں میں کچرا ڈالنے پر پابندی عائد کی جائے ، پارکوں کو 24 گھنٹے کھلا نہ رکھا جائے مخصوص اوقات میں ہی پارک کو کھولا جائے اور خانہ بدوشوں کو پارکوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے ۔ بعد ازاں سندھ حکومت نے جہانگیر پارک سے تجاوزات کا خاتمہ کیا اور چاردیواری قائم کر کے نا پسندیدہ لوگوں کی آمد ورفت کو روک دیا ۔ آخر میں تجویز دی جاتی ہے کہ جہانگیر پارک کو فیملی پارک کا درجہ دیا جائے تاکہ صدر بازار میں خریداری کرنے والی فیملی کو کچھ وقت آرام کرنے کے لیے محفوظ جگہ میسر آسکے ۔

شبیر احمد ارمان

دہشت گردی روکنے کے لئے موٹرسائیکلوں میں بھی ‘ٹریکر’ لازمی ؟

کراچی میں موٹر سائیکل کا استعمال عام ہی نہیں، عوامی ہے۔ شاید، یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد کارروائیوں میں بھی سب سے زیادہ استعمال موٹر سائیکلز کا ہوتا ہے۔ موٹر سائیکلیں رجسٹر کرنے والے صوبائی ادارے کے ریکارڈ کے مطابق پورے صوبے میں 50 لاکھ اور صرف کراچی میں 30 لاکھ موٹر سائیکلیں سڑکوں پر رواں دواں رہتی ہیں۔ جگہ کوئی بھی ہو، گلیاں کتنی ہی تنگ کیوں نہ ہوں، سڑکوں پر کتنا ہی ٹریفک جام ہو، شاہراہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں، راستے بند ہوں یا رکاوٹیں کھڑی ہوں، موٹر سائیکل ہر طرح سے، ہر مقام سے نکلنے کا ’جادو‘ جانتی ہے اور اسی لئےیہ ’عوامی سطح‘ کی ’پسندیدہ سواری‘ ہے۔

لیکن، ان سہولتوں کے درپردہ یہ تلخ حقیقت بھی پوشیدہ ہے کہ شہر بھر میں جتنے بھی اسٹریٹ کرائمز ہوتے ہیں، یا اب تک یہاں جتنے دہشت گردانہ واقعات ہوئے ان میں بڑے پیمانے پر موٹر سائیکلوں کا استعمال کیا گیا۔ گاڑیاں چھیننا، بینک لوٹنا، رہزنی، ڈکیتی، خواتین پر حملے، تیزاب گردی اور ان جیسے سینکڑوں جرائم حتیٰ کہ بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں بھی موٹر سائیکل کا استعمال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وزارت داخلہ کے حکام جو نام ظاہر کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ان کا کہنا ہے کہ شہر میں ہونے والے 95 فیصد اسٹریٹ کرائمز میں موٹر سائیکل کا استعمال ’لازمی سا‘ نظر آتا ہے۔ لہذا، دہشت گردی اور اسٹریٹ جرائم کا قلع قمع کرنے کے لئے صوبائی حکومت کاروں کی طرح ہر موٹر سائیکل پر ٹریکر نصب کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ لیکن، چونکہ یہ بہت بڑا اور اہم کام ہے، لہذا اسے شروع کرنے کے لئے بہت بڑے پیمانے پر مہم چلانے اور اس منصوبے کا تکنیکی و عملی جائزہ لینے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ صوبائی وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے حال ہی میں اس منصوبے پر تبادلہ خیال کی غرض سے موٹرسائیکل تیار کرنے والی کمپنیوں، سٹیزن پولیس لئیژان کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وزارت داخلہ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ کی وزارتوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی اور انہیں ہر موٹرسائیکل میں ٹریکر نصب کرنے کے حکومتی ارادے سے آگاہ کیا تھا۔ تاہم، بقول حکام، ‘’یہ ملاقاتیں زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔‘’

انور سیال کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت، عدالت سے بھی اس منصوبے کو قانونی شکل دینے میں مدد لینے کے لئے رابطے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ موٹر سائیکل تیار کرنے والے اداروں نے صوبائی حکومت کی خواہش پر ’لبیک‘ کہا ہے۔ تاہم، کچھ جانب سے اس پر اعتراض بھی آیا ہے۔ ایک افسر کا کہنا ہے کہ شہر کی لاکھوں موٹر سائیکلوں میں ٹریکر لگانے کے لئے باقاعدہ ایک مہم چلانی پڑے گی اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ پھر خریدار کی جیب سے ٹریکر کے لئے ایک اچھی خاصی رقم نکالنا بھی کم دشوار نہیں۔ ایسے میں اعتراض آنا اور منصوبے کو کامیاب بنانا ازخود ایک چیلنج ہو گا۔

کچھ لوگوں کے نزدیک ٹیکنیکل لحاظ سے بھی ٹریکر نصب کرنا ایک مشکل امر ہے۔ تیس لاکھ موٹر سائیکلیں کم نہیں ہوتیں اور راتوں رات اتنی بڑی تعداد میں موٹر سائیکلوں پر ٹریکر لگانا مشکل نہیں’’بہت مشکل‘’، بلکہ قریب قریب ناممکن ہے۔ پاکستان موٹر سائیکل ایسمبلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد صابر شیخ کا کہنا ہے کہ”کراچی میں چلنے والی25 لاکھ موٹر سائیکلیں کراچی میں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ باقی دوسرے اضلاع کی ہیں۔ ان میں سے نوے فیصد ’سیونٹی سی سی‘ ہیں جن کی وائرنگ اور بیٹری دونوں کمزور ہوتی ہیں جو ٹریکر ڈیوائس کو سپورٹ نہیں کرے گی۔ حکومت کسی بھی قانون سازی سے پہلے اس نکتے کو بھی اپنے ذہن میں رکھے اور پھر قانون سازی کرے۔

روزنامہ ’ڈان‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک ڈیوائس کی کم از کم قیمت پانچ ہزار روپے ہے۔ اس کے علاوہ جس موٹر سائیکل میں ٹریکر نصب ہو اس کے مالک کے پاس اسمارٹ موبائل فون بھی ہونا ضروری ہے جبکہ اسے ٹریکر کی بنیادی معلومات ہونا بھی لازمی ہے۔ ہمارے یہاں سال میں متعدد دن موبائل فون سروس بند رہتی ہے ایسے میں ٹریکر بھی بند ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال میں کیا ہوگا ؟ پھر زیادہ تر خریدار چین میں تیار ہونے والی نسبتاً سستی موٹر سائیکلیں خریدتے ہیں۔ اسمارٹ فونز کا استعمال نہایت کم اور ٹریکر کی معلومات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں خریداروں اور اسمبلرز کو بھی پہلے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ اکبر روڈ پر واقع موٹر سائیکلوں کی سب سے بڑی مارکیٹ کے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ ”حکومت لوگوں کو آج تک لازماً ہیلمٹ پہننے پر آمادہ نہیں کر سکی، ٹریکر مہم پر کہاں سے عمل ہو سکے گا”۔

بشکریہ وائس آف امریکہ اردو

کراچی: چھری مار حملہ آور کی تلاش پولیس کیلئے چیلنج بن گئی

کراچی میں چھری مار حملہ آور کی تلاش پولیس کے لیے چیلنج بن گئی، تھانہ پولیس، سی ٹی ڈی، ایس آئی یو، سادہ لباس اہل کار، اے سی ایل سی، سب کو چھری مار کی تلاش لیکن نتیجہ صفر ہے۔ چھری مار کی گرفتاری میں ناکامی نے گلستان جوہر کی خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا، بازاروں میں خواتین خریداروں کی تعداد میں کمی ہو گئی۔ دکان دار ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے، اکا دکا آنے والی خواتین بھی خوف کے مارے دکان داروں کو سواری تک چھوڑ کر آنے کا کہتی ہیں۔ دو علاقے ہزاروں اہلکاروں پر مشتمل پولیس کی بھاری نفری، ملزم ایک، دعوے بڑے بڑے، مگر پندرہ دن سے گزرنے کے باوجود نتیجہ ڈھاک کے تین پات یعنی صفر۔

قصہ گلستان جوہر اور گلشن اقبال کے علاقے میں خواتین کو خنجر کے وار سے زخمی کرنے والے ملزم کا ہے جس کی گرفتاری پولیس کیلئے لوہے کا چنا بن گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی عوامی تنقید اور وزیراعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام کے دباؤ کے بعد آئی سندھ اے ڈی خواجہ ملزم کو پکڑنے کیلئے پوری قوت سے میدان میں آگئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آئی جی نے اینٹی کار لفٹنگ سیل ، بھتہ اور بینک ڈکیتیوں پر کام کرنے والے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ، اغوا کاروں کو دھرنے والے اینٹی وائلینٹ کرائم سیل اور دہشت گردوں پر کام کرنے والے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ سمیت تمام تھانوں کو ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک دے دیا ہے۔

گلستان جوہر اور گلشن اقبال کی مختلف گلیوں میں سادہ لباس خواتین اور مرد اہلکاروں کو بھی تعینات کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق خواتین کو زخمی کرنے کے اب تک 13 کیسسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، ملزم نے آخری واردات 5 اکتوبر کو کی تھی اور اب تک قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔

اب کراچی وہ نہیں رہا

شہر لوگوں سے ہوتا ہے اور شہر لوگوں میں یوں رچ بس جاتا ہے کہ شہر چھوٹ بھی جائے تو یادوں میں زندہ رہتا ہے۔ میں برطانیہ میں رہتا ہوں اور کبھی پاکستان میں مقیم دوستوں سے بات ہوتی ہے تو ایک جملہ اکثر دہرایا جاتا ہے، ’اب کراچی وہ نہیں رہا‘۔ ویسے یہ جملہ ایک عمر کے بعد کراچی کیا ہر چیز پر فٹ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ کراچی کے بارے میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ یقیناً صورتحال سنگین ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک تقریب ’ری وائیونگ کراچی ڈنر‘ میں سابق کرکٹر شاہد آفریدی کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ شاہد آفریدی کراچی کے رہنے والے ہیں یہ بات سب جانتے ہیں۔ اِس تقریب میں شاہد کراچی کے بارے میں کراچی ہی سے تعلق رکھنے والی نمائندہ جماعتوں کے بڑے لیڈران کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔

شاہد آفریدی کی آواز میں ایک مایوسی تھی ایک کرب تھا، لگ رہا تھا کہ حالیہ بارشوں میں آنے والی بڑی عید انھوں نے کراچی میں گزاری ہے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہہ دیں کہ کیا ’نظر نہیں آرہا باہر کچرے کا انبار لگا ہے، اٹھو بھائیو! یہ اچھے اچھے سوٹ پہن کر فائیو سٹار ہوٹلوں میں ڈنر کرنے کا وقت نہیں ہے، کام کرنے کا وقت ہے، اِس شہر کو بچانے کا وقت ہے۔‘ صاف نظر آرہا تھا کہ وہ اپنے الفاظ ناپ تول کر استعمال کر رہے ہیں،اپنا غصہ چھپا رہے ہیں۔ شاہد خان آفریدی کو 20 سال انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے اور ریٹائر ہونے کے فوراً بعد آخر کار اپنے جذبات پر قابو رکھنا آگیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ وقت ملنے پر شاہد آفریدی نے عوام کے مسائل کی نشاندہی کی اور ا ن کی باتوں سے یقیناً ہر کراچی میں رہنے والا متفق ہو گا۔

کراچی دفتر کے اس کلرک کی طرح ہے جو سب کے کام کرتا ہے اس کا کام کوئی نہیں کرتا۔ کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ کلرک کے انتہائی ضروری کاموں کی فائل ایک میز سے دوسری میز پر منتقل ہوتی رہتی ہے۔ سب ایک دوسرے پر ذمہ داری تھوپنے کے لیے تیار رہتے ہیں کام کوئی نہیں کرتا۔ ہزاروں نئے لوگ ہر مہینے اِس شہر میں آتے ہیں اور اِس میں گم ہو جاتے ہیں۔ بڑا انسان دوست شہر ہے۔ آپ ملک کے کسی شہر سے بھی کراچی پہنچیں آپ کو اپنے مزاج اور زبان کے لوگ مل جائیں گے۔ انگریزی میں میلٹنگ پوٹ اسی کو کہتے ہیں۔ مگر اب اِس پوٹ کو دھونے کی ضرورت ہے، مانجھنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کا بجٹ کراچی پر لگانے کی ضرورت ہے۔

ابھی حال ہی میں میرے ایک دوست نے کراچی کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے بتایا کہ کراچی اب خوب ترقی کر رہا ہے۔ نئے نئے شاپنگ مال بن رہے ہیں، بین الاقوامی برانڈز کراچی میں موجود ہیں، نئے اور جدید ریسٹورانٹ اور برگر پوائنٹس کھل رہے ہیں۔ چند ایک برگروں کو انھوں نے ایسے بیان کیا کہ میرے منہ میں پانی بھر آیا اور ان کے خود کے پسینے چھوٹ گئے۔ 4 جی کی انٹرنیٹ رفتار کے بارے میں بتایا اور یہ بتایا کہ وہ کیسے فلمیں آسانی سے 250 روپے میں ریلیز ہونے سے دو دن پہلے دیکھ لیتے ہیں۔

دوستوں کے ساتھ رات گئے تک نئے انداز کے جدید ڈھابوں پر بیٹھ کر گپیں ہانک سکتے ہیں اور گرم گرم پراٹھوں کے مزے اڑا سکتے ہیں، میں نے سوچا بھائی کی توجہ تعلیمی نظام، سیوریج کے نظام، پانی اور بجلی کے مسائل، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر بھی دلوائی جائے مگر پھر سوچا چھوڑو انہیں ان مسائل کے بارے میں مجھ سے بہتر پتہ ہو گا۔ وہ شاید فی الحال غافل رہنا چاہتے ہیں یا پھر یہ مسائل ان کے شہر کا یوں حصہ بن گئے ہیں کہ اب یہ مسائل، مسائل نہیں رہے زندگی بن گئے ہیں۔

حیدر جناح
لندن

کراچی ميں گٹکے اور مين پوری کی وجہ سے بڑھتے ہوئے طبی مسائل

پاکستان کے سب سے بڑے اور کاروباری مرکز قرار ديے جانے والے شہر کراچی میں گٹکا با آسانی دستیاب ہے اور وہ بھی انتہائی سستے داموں پر۔ کم آمدنی والے علاقوں میں گٹکے کے مہلک اثرات کے حوالے سے اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ ایک تحقیق کے بعد بتایا گیا ہے کہ پاکستان اُن ملکوں میں شامل ہے، جہاں منہ کے کینسر کی شرح سب سے بُلند ہے۔ گٹکا دراصل چھالیہ، تمباکو، خوشبو اور چونے کا ايک ايسا مرکب ہے، جو جان لیوا بھی ہے اور جسے منہ کے کینسر کا ابتدائی سبب قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے کئی بار پابندیوں کے باوجود شہر میں يہ آج بھی با آسانی دستياب ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے آئی جی پولیس، کراچی میونسپل کارپوریشن اور اینٹی ان کروچمینٹ اداروں کو گُٹکے کی فروخت کے خلاف فوری ایکشن اور سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ جسٹس منیب اخترکی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے مین پوری، پان اور گٹکے کی تیاری اور فروخت پر پابندی سے متعلق دائر درخواست پر کے ایم سی اور سندھ پولیس کے سربراہان سے جواب طلب کیا ہے اور يہ حکم بھی ديا ہے کہ جلد از جلد اس پر رپورٹ پیش کی جائے۔ درخواست گزار مُزمل ممتاز نے موقف اختیارکیا تھا کہ مضر صحت گٹکا اور مین پوری کی فروخت اور تیاری کی روک تھام کے لیے صوبائی پولیس اور محکمہ صحت ناکام رہے ہيں، جس وجہ سے شہریوں میں منہ، زبان اور حلق میں کینسر جیسی مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ دو قسم کے تمباکو کی مصنوعات صحت کے لیے انتہائی مضر ہيں۔

ممتاز نے عدالت سے اپیل کی کہ متعلقہ اداروے کو ایسے کاروبار روکنے کے ليے ذمہ دار قرار ديا جائے، جو عوام کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ درخوست گزار نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا کہ عدالت نے اس سے قبل بھی گٹکے کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کيے تھے لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ غیر قانونی طور پر کھلے عام ان مصنوعات کی فروخت فٹ پاتوں پر شہر بھر میں جاری ہے۔ ممتاز نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ گٹکے اور مین پوری کی فروخت مقامی پولیس کے سر پرستی ميں جاری ہے۔

درخواست گزار ممتاز نے عدالت سے درخواست کی کہ شہر ميں گليوں، سڑکوں اور فٹ پاتوں پر بنائی گئی دکانوں کا خاتمہ کيا جائے۔ اسی دوران آئی جی سندھ کی جانب سے عدالت کو گٹکے اور مین پوری کے فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی ارسال کی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کی ان کے پاس تقریباً دو سو ايسے کیسز رجسٹرڈ ہیں جو اس کاروبار سے منسلک افراد کے خلاف درج ہیں۔ جج نے اس رپورٹ پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کيا اور کہا کہ پولیس اس ضمن ميں کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

موسمی تغیرات، کراچی خطرناک ترین علاقہ قرار

پاکستان کے 145 چھوٹے بڑے شہر موسمی تغیرات کے سبب خطرات سے دو چار ہیں، شہروں کو سیلاب، زلزلہ، تودے گرنے، سونامی، طوفان کے خطرات کا سامنا ہے عالمی بینک نے پاکستان میں موسمیاتی تغیرات کے سبب ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی اور ان سے ہونیوالے ممکنہ نقصانات پر مشتمل کلائمیٹ چینج پروفائل آف پاکستان جاری کر دی۔ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کلائمیٹ چینج پروفائل آف پاکستان میں کراچی شہر کو خطرناک ترین شہروں میں پہلا، آزاد کشمیر کو دوسرا اور ہزارہ بیلٹ کو تیسرا خطرناک ترین علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ کراچی کے مقابلہ میں اسلام آباد میں موسمی تغیرات کے سبب خطرات اور نقصانات کا اندازہ کراچی کے مقابلے میں نصف ہے۔

ورلڈبینک کی طرف سے انٹرنیشنل کلائمیٹ ٹیکنالوجی ایکسپرٹ قمر الزمان چوہدری جنہوں نے دنیا کے متعدد ممالک کی کلائمیٹ پروفائل تیار کی ہے نے پہلی بار پاکستان کو درپیش خطرات پر مشتمل یہ پروفائل تیار کی، جس کے مطابق کراچی خطرناک ترین شہر قرار دیا گیا ہے کراچی شہر کو درپیش خطرات کی درجہ بندی 30 بتائی گئی ہے۔ کراچی کو سیلاب ، تودے گرنے سے تباہی، زلزلہ، سونامی کا خطرہ ہے، آزاد کشمیر کے علاقہ ہٹیاں اور مظفر آباد کو درپیش خطرات کی درجہ بندی23 طے کی گئی ہے ان دو شہروں کے خطرات میں سیلاب، تودے گرنے سے تباہی، زلزلہ، کچھ علاقہ میں خشک سالی اور طوفان کے خطرات شامل ہیں۔