میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرعہ ء فال مرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جان ِ بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول میری شاخِ ہنر پر نکلا

شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا

میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

*احمد فراز*

ظلم پھر ظلم ہے،بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے


ظلم پھر ظلم ہے،بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے،ٹپکے گا تو جم جائے گا

خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے

تیغِ بے داد پہ یا لاشہء بسمل پہ جمے

خون پھر خون ہے ،ٹپکے گا تو جم جائے گا

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں

خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کا نقاب

لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ

ظلم کی قسمتِ نقارہ و رسوا سے کہو

جبر کی حکمتِ پرکار کی ایماء سے کہو

مہملِ مجلسِ اقوام کی لیلیٰ سے کہو

خون دیوانہ ہے،دامن پہ لپک سکتا ہے

شعلہ تند ہے،خرماں پہ لپک سکتا ہے

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے

کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کے

خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے

سر جو اٹھتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے

ظلم کی بات ہی کیا،ظلم کی اوقات ہی کیا

ظلم بس ظلم ہے،آغاز سے انجام تلک

خون پھر خون ہے،سو شکل بدل سکتا ہے

ایسی شکلیں کہ مٹاو تو مٹائے نہ بنے

ایسے شعلے کہ بجھاو تو بجھائے نہ بنے

ایسے نعرے کہ دباو تو دبائے نہ بنے