Karachi University memories

جامعہ کراچی ایسی درسگاہ ہے،جہاں سے فارغ التحصیل طلبا نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کااظہارکرکے دنیا کو حیران کیا۔اس جامعہ میں متوسط طبقے کے طالب علم حصول علم کے لیے آئے اورخوابوں کی تعبیر لے کر دنیا میں چھاگئے۔میں اگر ان میں سے چند نام یادکروں، تومیرے حافظے پر جن شخصیات کاتصور ابھرتاہے ،ان میںابوالخیر کشفی،جمیل الدین عالی،اسلم فرخی، عطاالرحمن،فرمان فتح پوری،حسینہ معین،ابن انشا،جمیل جالبی،منظور احمد،محمد علی صدیقی،پروین شاکر،سحر انصاری اور زاہدہ حنا جیسی شخصیات شامل ہیں۔

یہ فہرست بہت طویل ہے، میں نے تو صرف شعرو ادب سے وابستہ چند نام درج کیے ہیں۔اسی طرح جامعہ کراچی کے شیخ الجامعہ کے منصب کی فہرست بھی کئی بڑے ناموں سے سجی ہوئی ہے،ان ناموں میں شعبہ تاریخ کے اشتیاق حسین قریشی،انگریزی کے شعبے سے محمود حسین اورشعبہ اردوکے جمیل جالبی سمیت1951سے لے کر 2013تک 16شخصیات نے اس منصب کی ذمے داری کو احسن طریقے سے نبھایا۔ ہزاروں کی تعداد میں اس جامعہ سے فارغ التحصیل طلبا کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ابھی تک جامعہ کراچی کی نسبت سے جتنے نام یہاں درج کیے گئے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ 64برس میں اس ادارے سے تعلیم حاصل کرکے جانے والوں نے علم کے چراغ روشن کیے۔تخیل کی سنہری دھوپ سے خیال کی فصلوں کو پکایا۔ باذوق تحریروں سے معنویت کی داستانیں رقم کیں۔افکار کے جگنو اور بیان کی تتلیاں ان کے اذہان سے اڑان بھر کر ساری دنیا میں محو پرواز رہیں۔

جامعہ کراچی سے منسوب یہ تصور اتنا خوبصورت ہے، جس کا یہاں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔یہ وہ ہی سمجھ سکتا ہے، جو کبھی اس جامعہ کا طالب علم رہا ہو۔جس نے اس کی راہداریوں میں بیٹھ کر اساتذہ کو آتے جاتے دیکھا ہو۔جس نے محمود حسن لائبریری کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر چائے پی ہو۔حبس زدہ دوپہروں میں جامعہ کے مرکزی دروازے تک آنے کے لیے کئی کلومیٹر پیدل مسافت طے کی ہو۔وہ ان ناموں اوراحساسات کی گہرائی کو زیادہ بہترطورپر سمجھ سکتاہے اورجو تصور کے اس درجے کو سمجھ سکتا ہے،وہ یہ بھی جانتا ہوگا کہ اسی جامعہ کے ساتھ کئی طرح کی تلخ حقیقتیں بھی پیوستہ ہیں،جن سے ہر طالب علم کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معاشرے جب زوال پذیر ہوتے ہیں، تو ان کو بنانے والے شعبوں پر بھی زوال آتا ہے۔یہی زوال جامعہ کراچی پر بھی آیا۔ طلبا کی اکثریت بھی ایسی آئی ،جنھیں صرف سند حاصل کرنے میں دلچسپی ہوتی ہے یا پھر وقت گزاری میں۔ جب معاشرے،ادارے اورافراد ایسے رویوں کے عادی ہو جائیں ،تو زوال کس دروازے سے آپ کے آنگن میں داخل ہوتا ہے،اس کا بھی احساس نہیں ہوتا۔

جامعہ کراچی کی روشن اور تخلیقی روایت کے ایسے ہی چار افراد کو میں جانتا ہوں،جنہوں نے خاموشی سے خود کو علم بانٹنے میں مصروف رکھا ہوا ہے،اس پر لطف یہ ہے کہ وہ صرف طالب علموں کو سیراب ہی نہیں کر رہے ،بلکہ خود کو بھی تخلیقی کیفیات سے جوڑ رکھا ہے۔ایک طرف تخلیق کار پیدا کر رہے ہیں ،تو دوسری طرف خود تخلیق کے کینوس پر اپنے اظہار کے رنگ بکھیر رہے ہیں۔یہ چار نام پروفیسر مسعود امجدعلی،ڈاکٹر افتخار شفیع ،ڈاکٹر رؤف پاریکھ اورڈاکٹر طاہر مسعود ہیں۔ایسے لوگوں کے دم سے ابھی علم کا چراغ جامعہ کراچی میں روشن ہے۔ان چاروں شخصیات کو آپ کسی ادبی میلے میں نہیں دیکھیں گے،شاید یہ میلے ٹھیلے کے لوگ بھی نہیں ہیں اور میلے کی انتظامیہ کو دکھائی بھی نہیں دیتے،لیکن یہی وہ لوگ ہیں، جنھیں ہم تخلیق کی آبرو اور خیال کی زینت کہتے ہیں۔جن کے احساس سے تخلیقات میں معنویت دھڑکتی ہے۔

ان میں سے پہلی شخصیت ’’پروفیسر مسعود امجد علی‘‘کا تعلق انگریزی کے شعبے سے ہے۔ساٹھ کی دہائی سے پڑھانے والے اس استاد سے ہزاروں طلبا فیض یاب ہوچکے ہیں۔ یہ 1994سے 1997تک اسی شعبے کے چیئرمین بھی رہے۔ یہ انگریزی زبان میں شاعری کرتے ہیں ۔ان کی نظموں کا مجموعہ ’’Chrysanthemum Blossoms‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شایع ہوچکا ہے مگر اہل شہر اس بات سے بے خبر ہیں اور انگریزی اخبارات کو بھی عام ڈگر سے ہٹ کر ایک معیاری نظمیں تخلیق کرنے والے اس شاعر کو دریافت کرنے کی زحمت نہیں کرنا پڑی،ایک ایسا شاعر جو مدرس بھی ہے اورجس کے لہجے اور تکنیک سے طلبا انگریزی زبان کی بُنت سیکھتے ہیں۔پروفیسر مسعودامجد علی اپنے شعبے کے بارے میں کس انداز میں رائے دیتے ہیں،یہی ان کی تخلیقی اُپچ کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ان کے خیال میں ’’جامعہ کراچی کا شعبۂ انگریزی ایک آرٹسٹ کے اسٹوڈیو کی طرح ہے،جہاں آپ فن اوررنگوں کا ذائقہ چکھتے ہیں۔‘‘

دوسری شخصیت کا تعلق بھی انگریزی کے شعبے سے ہے،انھیں ’’ڈاکٹر افتخار شفیع ‘‘کہاجاتاہے۔یہ فقیر منش استاد ہے،جس نے اپنی تہذیبی حساسیت کو تھام کر اورایک دوسری زبان کے شعروادب کو طلبا کے ذہنوں میں اتارا۔کم عمری میں پی ایچ ڈی کرنے والے اس مدرس کی بنیاد مولانا رومی کی شاعری تھی،جس کی عملی صورت ان کی شخصیت میں بھی دکھائی دیتی ہے۔عام سے لباس میں ایسی خاص باتیں کرتے ہیں،لفظوں کے معنی اس طرح کھول کر بیان کرتے ہیں کہ سننے والا اپنے آس پاس کا ہوش کھو بیٹھے، بے شک اہل شعور ایسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔کئی برس سے انگریزی ادب پڑھانے والے اس استاد نے اپنا دامن جھاڑا تو اردو شاعری کاخوبصورت مجموعہ ’’انگارہ‘‘ قارئین کومیسر آیا۔جس کا ایک شعر بہت سی ان کہی باتوں کا بیان ہے۔ لکھتے ہیں ’’جب بجھی شمع سخن گرمیٔ محفل کے لیے، آ گئے ہم بھی ہتھیلی پہ لیے انگارہ‘‘پروفیسر افتخار شفیع کی کتاب ’’انگارہ‘‘ کے دو سو تیراسی صفحات ان کے جذبات، وجدان، شعور اور مشاہدے کی اتھاہ گہرائیوں کو بیان کرتے ہیں اور بیان بھی ایسے شاعرانہ انداز میں، جیسے نرم وملائم بادصبا چھوکر گزر جائے ،وہ دکھائی نہ دے مگر اس کے ہونے کا احساس موجود ہو۔

تیسری شخصیت کا نام ڈاکٹر رؤف پاریکھ ہے۔یوں تو یہ کسی تعارف کے محتاج نہیں،لیکن میں رسم نبھانے کو اگر ان کے بارے میں کچھ بتاناچاہوں تومختصراً یہ ہے کہ ان کا تعلق شعبۂ اردو سے ہے،صرف جامعہ کے طلبا ہی ان کے علم سے فیض یاب نہیں ہوتے،بلکہ مجھ جیسے ناچیز بھی ان سے اکثر مواقعے پر رہنمائی لیتے ہیں۔یہ اردو ڈکشنری بورڈ،کراچی سے وابستہ رہے۔اردوکے شعبے میں پڑھانے کے علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے شعبہ لغت سے بھی وابستہ ہیں۔ایک موقر انگریزی روزنامے میں ہفتہ وار ادبی کالم بھی لکھتے ہیں۔انجمن ترقی اردو اور غالب لائبریری سے بھی وابستہ ہیں۔تصنیف وتالیف کاکام بڑی باقاعدگی سے کرتے ہیں اوراب تک ان کی تقریباً20کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔یہ بھی دل کے صاف،سچے اوراپنے کام سے محبت کرنیوالے وہ شخص ہیں، جن پر کسی بھی ہم عصر کو رشک آتاہے۔چوتھی شخصیت کا تعلق شعبۂ ابلاغ عامہ سے ہے۔ان کا نام ڈاکٹر طاہر مسعودہے اور یہ اس شعبے کے موجودہ چیئرمین ہیں۔یہ ان چند اساتذہ میں سے ہیں،جو تخلیق کار ہیں اور ’’صورت گرکچھ خوابوں کے‘‘ان کی مشہور زمانہ کتاب ہے۔اس کے علاوہ یہ افسانے ،ادبی مضامین اور اخباری کالم لکھتے ہیں۔ان کے افسانوں کی کتاب کا نام ’’گمشدہ ستارے‘‘تھا،جس میں کئی رنگ ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں۔ان کے ہم عصر تخلیق کاراورمعروف شاعر فراست رضوی ان کے بارے میں اس کتاب کے دیباچے میں کچھ اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں۔

’’ان کی کہانیوں کے کردار عام لوگ ہیں۔تقدیر کے جبر اور معاشرتی استحصال کے مارے ہوئے۔ان کے حالات زندگی بہت الجھے ہوئے ہیں۔یہ سب کسی نہ کسی دُکھ کا پہاڑ اٹھائے ہوئے زندگی کا بوجھ ڈھو رہے ہیں۔طاہر کی کہانیوں کے کردار خوش وخرم لوگ نہیں ہیںیہ سب زندگی کے ناکام افراد ہیں۔ ناآسودگی میں مبتلا کسی ادھورے پن کاشکار۔طاہر مسعود کی کہانیوں کے کردار ایسے کیوں ہیں؟ ’’وارڈ نمبر گیارہ کا معذور بوڑھا ’’منزل آخرفنا‘‘ کا عمر رسیدہ ریٹائرڈ کرنل، اکیلاپن جس کی روح میں اترگیا یاس زدہ گھرانے کی خاموش غم زدہ ماں۔’’خواب اورآنسو‘‘کاخواب گزیدہ ادیب۔ تنہائی کی ماری مسز رخشندہ کریم۔ادھوری بینائی کامالک صفدر علی اور حافظے کی قید سے آزاد ہو جانے والا کردار۔میں نے اس بارے میں سوچا تو مجھے ایسا لگا کہ طاہر مسعود انسان کے باطن میں اتر کر اس کی داخلیت کے نامعلوم گوشوں کو قاری پر منکشف کرنا چاہتے ہیں اورپھر کیا یہ سچ نہیں ہے کہ عہد جدید کاآدمی اتنا ہی دکھی اور ژولیدہ ہے جتنا طاہر نے اپنی کہانیوں میں دکھایا ہے‘‘

پروفیسر مسعود کی انگریزی شاعری،ڈاکٹر افتخار شفیع کی اردو شاعری اورانگریزی ادب کا فہم،ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی علمی سخاوت اورڈاکٹر طاہر مسعود کی اداس بھری تخلیق سے بھرپور کہانیاں اورکردارسب کے درمیان ایک نکتہ یکساں ہے اوروہ ہے ’’خاموشی‘‘ان تخلیقی ستونوں کے دروازے سچی فکر کے لیے کھلے ہوئے ہیں،مگر سیراب کی اس منزل کو پانے کے لیے آپ کو ان کی طرف جانا ہوگا۔

خرم سہیل

Karachi University

Enhanced by Zemanta
Advertisements

Problems Of Karachi City

را قم کو تقریبا ً 26 سال کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں مختلف حیثیتوں سے کا م کرنے کا مو قع ملا ان 26 سا لوں کے علاوہ مزید 5 سے 6 سال تک بحیثیت سول انجینئر حید رآباد ،حب ڈیم اور خضدار میں بھی کا م کا تجربہ رہا ۔ کراچی کے سابق میئرفاروق ستار نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں میری ملازمت کی ابتدا ء میں ہی مجھے کراچی کے بلک واٹر سپلائی کا انچارج مقررکردیا تھا ۔ ایک نئے انجینئر کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا ، اس وقت کی بلدیاتی قیادت کی سپورٹ سے کراچی میں پا نی کی منصفانہ تقسیم کا نظام بہت بہترہوگیا تھا۔

اس تمام عرصے میں سپرنٹنڈنگ انجینئر پھر چیف انجینئر رہا۔ فاروق ستار کے دونوں ادوار یعنی بحیثیت میئرکراچی اور منسٹر لوکل گورنمنٹ ،راحیل ناصر شاہ ،آغا مسعود عباس ،نعمت اللہ خان اور پھر مصطفی کمال کے ساتھ کراچی میں قر یہ قریہ گھومتا رہا اور بلدیاتی امور سے آگاہی بڑھتی گئی۔ کراچی کی آبادکا ری گزشتہ 25 سالوں میں تیزی سے بڑھتی رہی شہر کے خدوخال بدلتے رہے اور کراچی کو دنیا کا ساتواں بڑا شہر بن گیا۔

کراچی اپنے منفرد محل و قوع متوازن موسم اور زبردست افرادی قوت کی وجہ سے صنعت و حرفت میں تر قی کی قو ت سے مالا مال ہے ۔ اس سلسلے میں ایک طرف صوبائی ووفاقی حکومت کی ذمے داریاں بہت اہم ہیں، ساتھ ساتھ میرے خیال میں کراچی کے صنعتکار ، بلڈرز اور ملٹی نیشنل اداروں کو اپنا بھر پورکردارادا کرنا ہوگا جنہیں کراچی اور اس کے عوام نے اپنی سخت محنت ومشقت سے کہا ںسے کہا ںپہنچا دیا ہے۔ شہرکی تر قی میں ان کا کو ئی رول نظر نہیں آتا یہ ادارے اپنی سوشل کارپوریٹ ریسپانسبلیٹی کے تحت شہری تقا ضوں سے قطع تعلق رہتے ہیں۔ ان کے بعض سربراہان تو پا نی کا ٹینکر بھی مفت ما نگتے ہیں جبکہ ان کے مکانا ت کروڑوں روپے مالیت کے ہوتے ہیں ان کے بنگلوں میں لاکھوں کی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہے ۔

دوسری جا نب منفعت بخش کاروبار کر نے والے اداروں صنعتکاروں اور تاجر حضرات کو بلکہ تمام شعبوں میں جنہیں اس شہر نے کروڑ پتی اور ارب پتی بنا دیا، وہ مختلف سماجی کا موں میں حصہ لیتے ہیں غریبوں کی ہر مدد کر تے ہیں ،مختلف رفاہی کا موں میں حکومت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں لیکن کراچی جس نے ہزاروں لا کھو ں لوگوں اور بے شمار اداروں کو تر قی دے کر کہاں سے کہاں پہنچا دیا اس کی اجتما عی تر قی پر ان کی توجہ نہیں ہے ۔

کراچی ملک کی قدرتی بندرگا ہ ہے جہاں سے پو رے پا کستان کو تیل اور تمام اشیا ء فراہم ہوتی ہیں یہاں ہو نے والی صنعتی اور تجاتی سرگرمیاں لا کھوں خاندانوں کو روزگار فراہم کرتی ہیںاور سندھ حکومت کو 98 فیصد جبکہ وفاقی حکومت کو 70 سے 72 فیصد ریونیو کراچی سے حا صل ہو تا ہے۔

کراچی کی بڑھتی ہو ئی آبادی اور اس سے پیدا ہو نے والے بے شمار مسائل ، کراچی جو منی پاکستان کہلا تا ہے یقینا اس کی تعمیروتوسیع میں ملک بھرکی لسانی اکا ئیوں کا ایک بھر پور رول رہا ہے اور یقینا کراچی کی تمام ترصنعتی وتجارتی سرگرمیوں میں ان سب کا بہت اہم کردار ہے جو یقینا نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان تمام آبا دیوں کے لیے بھی بنیادی حقوق فراہم کرنا بھی ریاستی ذمے داری ہے مگر بے ہنگم پھیلا ؤ اور بلدیاتی سہولتوں کی عدم موجودگی اور سرکا ری زمینوں پر قبضہ مافیا کی سرگرمیوں کی وجہ سے بنیادی سہولتوں کی فراہمی نہیں ہوپاتی اور دوسری طرف انفرا اسٹرکچر فراہم کر نے کے لیے بلدیا تی اداروںکے پا س وہ وسائل بھی نہیں ہیں ۔

میری تجویز ہے کہ سب سے پہلے کراچی میں مردم شماری کے ساتھ ساتھ کراچی کی حقیقی حدود کا تعین کیا جائے جس کو آرگنا ئز کرنا کراچی انتظا میہ کی ذمے داری ہے ۔

وفاقی حکومت کو ایک طرف توکراچی شہر کے لیے حدود کا تعین کر نا ہوگا اور یہاں پر بسنے والے پاکستان بھر سے آئے ہو ئے لوگوں کو سہولتیں فراہم کر نے کے لیے یو ٹیلیٹی اداروں کو خصوصی فنڈز دینے ہوں گے ۔

میری نظر میں جودیگر اہم ترین مسائل ہیں ،ان کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں ۔

کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کو فراہمی و نکاسی آب کے نظام میں عدم توازن سے نجا ت دلانا ہو گی ،شہر میں تعمیر ہو نے والی کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پا بندی لگائی جائے، با زاروں میں یا عمارتوں میں پارکنگ کا نظام ،دفاتر اوررہا ئشی منصوبوں میں بھی پا رکنگ کی عدم موجوگی سے پیدا شدہ مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینا لازمی ہے ۔ علاوہ ازیں سڑکوں پر تجاوزات کی موجودگی اور ان کو متبادل روزگار کی فراہمی اور اس کے نظام کی تشکیل نوضروری ہے۔

15ہزار ٹن روزانہ سالڈ ویسٹ کو ٹھکا نے نہ لگا نے کے سبب شہر بھر میںکو ڑاکٹ کا ڈھیر سے نجا ت ، 280 کے لگ بھگ چھوٹے،بڑ ے سات نالے اور لیاری وملیر ندی پرآبادیو ں کا تسلسل اور اس میں سیوریج کے کنکشن اور سالڈ ویسٹ کی بھرائی اور اس سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے اقدامات۔

سپریم کورٹ کے نوٹس لیے جانے کے باوجود تمام انڈسٹریل ویسٹ کا زہریلا پا نی کی بنا کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر کی نذرکرنا جس سے سمندری آلودگی میں بے پناہ اضا فہ اور ماہی گیری کی صنعت پر اثرات ۔Disaster Management کی عد م مو جودگی اور اس کی ضرورت ۔سرکاری اسکولوں کی حالت زار سرکا ری و پرائیوٹ اسکولوں کا تعلیمی معیار، سرکا ری اسپتالوں جناح ، سول اور عباسی شہید کے حجم کے مطابق عام آدمی کے لیے مزید اسپتالوں کی ضرورت خا ص طور پر کراچی کے مضافات میں 14فائر بریگیڈکی زبوں حالی اورکا رکردگی کو بہتر بنا نے کی ضرورت جبکہ دوسری طرف کراچی کے تنگ با زاروں تنگ انڈسٹریل ایریاز تنگ گلیاں اور کراچی میںتعمیر ہو نے والی کثیر المنزلہ عمارتوں کے لیے نئی اسنا رکل کی ضرورت ،عاملوں جنسی ادویات فروخت کر نے والوں جعلی دندان ساز اور غیر تعلیم یا فتہ افراد کی شعبہ طب میں کا م سے روکنا جعلی ادویات جعلی منرل واٹر کی فیکٹریا جعلی کاسمیٹک جعلی مشروبات،خواتین کے لیے با وقار روزگار کی فراہمی ،دعو توں میں خوراک کا ضیاع اوراوقات تقریبات کی پابندی اس مسائل ہیں جن کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

Problems Of Karachi City

کراچی ادب میلہ

ادب یعنی لٹریچر کا کسی انسان کی شخصیت کی تعمیر میں کیا کردار ہے اس پر شاید دو رائیں ممکن نہیں کہ جب سے انسان نے لکھنا اور پڑھنا سیکھا ہے ادب اس کی روح اور دل و دماغ کے لیے کم وبیش وہی کام کرتا ہے جو آکسیجن اس کے جسمانی وجود کو قائم اور برقرار رکھنے کے لیے کرتی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان سوچنے اور بولنے پر تو اس دور میں داخل ہونے سے پہلے بھی دسترس رکھتا تھا سو دیکھا جائے تو ہمارے آج کے ادب میں گزرے ہوئے کل کی Folk Wisdom اور شعورِ زندگی بھی نمایاں طور پر شامل ہے۔ کراچی ادب میلے جیسے ادبی میلوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کی وساطت سے ہم تینوں زمانوں کو ایک ساتھ دیکھ بھی سکتے ہیں اور ان سے مکالمہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس ادبی میلے میں کیا کچھ ہوا اس کا ذکر تفصیل کا متقاضی ہے۔

سو عین ممکن ہے کہ یہ روداد دو بلکہ تین کالموں تک بھی پھیل جائے لیکن اس ذکر سے پہلے چند باتیں ان سرکاری اور نیم سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کی اسی نوع کی کانفرنسوں کے بارے میں کرنا بہت ضروری ہے کہ اگر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی اس تقریب کو بھی تیسری دنیا کے خلاف سامراج کی ایک نئی سازش قرار نہ دے دیا جائے (کہ فی زمانہ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کا یہ ایک مقبول بہانہ بن چکا ہے) اور اس کا جائزہ اس پہلو سے لیا جائے کہ اگر ایک پرائیویٹ ادارہ محض اپنی انتظامی صلاحیتوں کی مدد سے ایسی منظم‘ باضابطہ اور عمدہ تقریب منعقد کر سکتا ہے تو ہمارے متعلقہ ادارے ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر اس وقت مجھے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام منعقد ہونے والی کچھ ’’بین الاقوامی کانفرنسیں‘‘ یاد آ رہی ہیں جن میں اکادمی کے عملے کی ناتجربہ کاری اور بیورو کریسی کی افسرشاہی نے مل کر ایک ایسی بدنظمی کی صورت پیدا کر دی تھی جو مہذب تو کیا کسی نیم مہذب قوم کے لیے بھی ندامت اور شرمندگی کا منہ بولتا پیغام تھی۔

اس ضمن میں تقریباً دو برس قبل ہونے والی ایک کانفرنس خاص طور پر یاد آ رہی ہے کہ جس میں چار سو سے زائد لکھنے والوں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن افتتاح سے چند گھنٹے قبل ہی انھیں بتایا گیا کہ اب یہ رسم افتتاح نیشنل لائبریری کے ہال کے بجائے (جہاں اس کانفرنس کا انعقاد طے کیا گیا تھا) وزیراعظم ہاؤس میں ہو گی کہ ’’موصوف‘‘ اپنی موجودگی سے اس کانفرنس کو عزت بخشنا چاہتے ہیں۔ اب ہوا یوں کہ جس ہال میں یہ اجلاس ہونا تھا اس کی وسعت داماں زیادہ سے زیادہ 250 سیٹوں تک محدود تھی یعنی ’’معزز مندوبین‘‘ میں سے 150 خواتین و حضرات کے لیے وہاں بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں تھی۔ اس پر مزید کمال سیکیورٹی کے عملے نے یہ دکھایا کہ تمام مندوبین کو کھلے آسمان تلے تقریباً ایک گھنٹے تک دھوپ اور قطاروں میں کھڑے کر دیا جن میں وہ بزرگ اور نامور لکھنے والے بھی شامل تھے جن کے لیے یہ عمل ذہنی اور جسمانی دونوں حوالوں سے ناقابل برداشت تھا۔ بعد میں اکادمی کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ساری کارروائی ان کے احتجاج کے باوجود اس لیے کی گئی کہ بیورو کریسی کی ہدایات کے تحت متعلقہ تقریب کے انتظامات سیکیورٹی والوں کے حوالے کر دیے گئے تھے جو خود ان کی یعنی چیئرمین اکادمی اور میزبان کی بات سننے کے بھی روادار نہ تھے البتہ مہمانوں کی فہرستیں بنانے‘ ان کو ٹکٹیں فراہم کرنے اور ان کی رہائش اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات میں جو مسائل پیدا ہوئے اس کی بڑی وجہ ان کے پاس موجود افراد کی کمی اور کچھ دیگر ناقابل بیان وجوہات کے باعث تھیں۔ اس پر مجھے سید ضمیر جعفری مرحوم کا ایک شعر بہت یاد آیا کہ

یہ بڑھاپا تو مجھ کو خدا نے دیا

ہے بڑھاپا مگر میرا خودساختہ

کم و بیش اسی قسم کی بدنظمی اور کچھ لوگوں کی ذاتی پسند ناپسند کا ناخوشگوار اظہار ہمیں ادب سے متعلق بیشتر دیگر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی کارکردگی میں دکھائی دیتا ہے۔ میں نے کچھ جاننے والے بیورو کریٹس سے اس موضوع پر بات کی تو ان کا جواب اور بھی زیادہ تکلیف دہ تھا اور وہ یہ کہ اگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران پوری محنت اور ذمے داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور اپنا مؤقف صحیح طرح سے پیش کرنے کی اہلیت اور نیت رکھتے ہوں تو کسی اور کی دخل اندازی کی گنجائش ہی نہیں نکل سکتی۔ یہاں پھر مومن خان مومن کا ایک شعر یاد آرہا ہے کہ کرداروں سے قطع نظر باقی ساری بات یہی ہے کہ

یہ عذرِ امتحانِ جذبِ دل کیا نکل آیا

میں الزام اس کو دیتا ہوں قصور اپنا نکل آیا

کے ایل ایف یعنی کراچی لٹریچر فیسٹیول کا آغاز پانچ برس قبل ہوا اور اب گزشتہ دو برس سے اس کا انعقاد ساحل سمندر پر واقع ایک لگژری ہوٹل میں ہو رہا ہے جس کا فن تعمیر کولونیل دور کی یادگار ہے جو خاصے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے لیکن اس فیسٹیول میں جس تناسب سے عوام کی شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے یوں لگتا ہے کہ جیسے آیندہ ایک دو برس میں یہ جگہ بھی کم پڑ جائے گی۔ یہ اور بات ہے کہ فی الوقت اور بالخصوص امن وامان کی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے زیادہ بہتر اور محفوظ کوئی اور جگہ شاید ممکن بھی نہیں کہ اس میلے میں اہم ملکی مندوبین کے ساتھ ساتھ غیرملکی مندوبین اور سفارت کار بھی شرکت کرتے ہیں۔ گزشتہ چار میلوں کی طرح اس بار بھی ہر کام بڑے منظم اور باقاعدہ انداز میں کیا گیا تھا۔ جن موضوعات پر بات کی جانی تھی ان کا انتخاب بڑی ذمے داری اور سوچ بچار کے ساتھ کیا گیا تھا اور اس ضمن میں جملہ تفصیلات طے کرنے کے بعد متعلقہ افراد سے بذریعہ ای میل کوئی تین ماہ قبل سے دوطرفہ رابطے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا جس کا خوشگوار نتیجہ یہ نکلا کہ ہر سیشن اپنی مقرر کردہ جگہ پر نہ صرف عین وقت پر شروع اور ختم ہوا بلکہ عام رواج سے قطع نظر ان میں وہ تمام لوگ شریک ہوئے جن کے نام پروگرام میں دیے گئے تھے۔

امینہ سید جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ اردو کی عظیم ادیبہ قرۃ العین حیدر کی نزدیکی رشتہ دار بھی ہیں‘ ہمہ وقت مصروف لیکن Relaxed نظر آئیں کہ اگر سسٹم صحیح ہو تو متعلقہ ذمے داروں کی Tension آپ سے آپ کم ہو جاتی ہے۔ افتتاحی تقریب میں شرکت کے پیش نظر مجھ سمیت بیشتر غیرملکی اور بیرون کراچی سے مدعو شدہ مندوبین ایک شام پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ کاروباری شہر ہونے کے حوالے سے کراچی کے elite اور بالائی متوسط طبقے کو عام طور پر دیر سے جاگنے والوں کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر یہ بڑی خوشگوار حیرت کی بات ہے کہ اس میلے میں شمولیت کے لیے صبح نو بجے سے ہی لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور افتتاح کے وقت یعنی دس بجے کے قریب پنڈال تقریباً پورا بھر جاتا ہے کہ پہلا اجلاس کسی ہال کے بجائے ایک وسیع لان میں بنائے گئے عارضی پنڈال میں منعقد کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہو سکیں۔ اس پنڈال کو بعد میں بھی ایسے مختلف سیشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن میں زیادہ لوگوں کی شرکت متوقع ہو۔ اسی طرح کا ایک عارضی پنڈال بچوں کے پروگراموں کے لیے بھی ایک اور گوشے میں تعمیر کیا جاتا ہے کہ اس طرف بھی بہت رش پڑتا ہے۔ معمول کے سیشن جن ہالوں میں منعقد ہوتے ہیں ان کے نام کچھ اس طرح سے ہیں Jasmine‘ Aquarius‘ Room 007‘ Princess‘ Children’s strand اور Tulip۔ آخری دو مقامات بچوں کے پروگراموں کے لیے مخصوص ہیں جب کہ Main garden سمیت بقیہ ہالوں میں بیک وقت تقریباً دو ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے جب کہ کھڑے ہو کر سننے اور گھومنے پھرنے والوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو تقریباً پانچ ہزار لوگ ایک وقت میں اس میلے کا حصہ بن سکتے ہیں جو ادب کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے یقینا ایک معرکے سے کم نہیں۔

امجد اسلام امجد   

Sakhi Hassan Graveyard

Sakhi Hassan   is one of the neighbourhoods of North Nazimabad Town in Karachi, Sindh, Pakistan.[1]Sakhi Hasan is named as the shrine (mazar) of a pious man Sakhi Hasan is there. There is another mazar of a pious man and famous poet Behzad Lakhnavi. This area is densely populated. The last stop of 2K bus is here. Other famous sites are Dak Khana (Post Office) Karachi Medical and Dental Hospital KMDC, marriage lawns, and several girls’ and boys’ colleges and schools.

Sakhi Hassan Graveyard

The Sakhi Hasan graveyard includes the graves of such renowned personalities as painter Sadequain and Urdu poets Jon Elia and Rais Amrohvi.