لیاری کی نئی نسل کا شکوہ ……

ان دنوں لیاری کی سول سوسائٹی، لیاری کی تصویر کا دوسرا رخ یعنی ’’مثبت چہرہ‘‘ کے احیا کی کوششوں میں مصروف ہے تا کہ لیاری کو دوبارہ ماضی کے اس پس منظر میں دیکھا جا سکے جہاں سب طبقے ہمیشہ خوف، بالادستی اور نفرت کے خول سے آزاد ہو کر بھائی چارے اور افہام و تفہیم و خلوص کے ساتھ رہ سکیں۔ ماضی قریب میں لیاری کو ایک اچھی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے جب سارا کراچی قتل و غارت گری اور ہنگاموں و ہڑتالوں کی نذر ہوتا تھا ایک ہی لیاری کا علاقہ تھا جہاں لوگ چین کی بانسری بجاتے تھے۔ پھر نہ جانے کیا ہوگیا۔

سب کچھ ملیا میٹ ہو گیا، لوگوں کے ذہنوں میں خوف و دہشت برپا کر دی گئی، ایک لیاری ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا، لیاری کے بدخواہ مفادات سمیٹتے رہے اور لیاری کے بے گناہ لوگ خون کے آنسو پیتے رہے، اس جنگ و جدل کو میڈیا نے ’’گینگ وار‘‘ کا لقب دیا جو لیاری کے ماتھے پر چسپاں کر دیا گیا اور لیاری کے شریف النفس لوگوں کے لیے وطن کی سرزمین تنگ کر دی گئی اور ایسا وقت بھی آیا کہ لیاری کے عام لوگ لیاری کے اندر لی مارکیٹ تک محدود ہوگئے جب اس پر بس نہ ہوا تو انھیں ان کے اپنے گھروں میں غیر محفوظ کیا گیا۔

اور اہل لیاری کو نام نہاد آپریشن کے آڑ میں صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی، جائے پناہ کی تلاش میں آدھا لیاری خالی ہو گیا، آپریشن کے یہ آٹھ دن بیروت کا ایک نمونہ تھا فرق صرف یہ تھا کہ وہاں معصوم بچوں پر رحم کیا گیا تھا جب کہ یہاں بچوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ ظلم و بربریت کی اسی داستان پر لیاری کے چند نوجوانوں نے (ہشت روچ) یعنی ’’آٹھ دن‘‘ کے نام سے ایک ڈاکومنٹری ویڈیو بنائی تو اس پر ایوارڈز کی بارش ہو گئی کیونکہ یہ افسانوی نہیں زمینی حقائق پر مبنی تھی جو حسن اتفاق سے ہمارے آزاد بے باک میڈیا کی آنکھوں سے اوجھل رہی جو بعد میں خود لیاری کے نوجوان منظر عام پر لائے اور داد و تحسین کے حق دار ٹھہرے۔

لیاری کے باسیوں کو شکایت ہے کہ لیاری کو ہر دور میں نظرانداز کیا گیا ہے جب کہ لیاری کے نوجوان اپنے علاقے کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو ختم کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں جنھیں زائل کرنے کے لیے مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان ہی پروگراموں میں سے ایک تقریب میں راقم کو بھی بطور مقرر مدعو کیا گیا۔

یہاں میں اپنی تقریر کا حوالہ نہیں دوں گا کہ میں نے کیا کہا اور حاضرین نے کیا سنا۔ اس تقریب میں لیاری کے نوجوانوں نے جو کچھ کہا ان کے چیدہ چیدہ نکات کو نذر قارئین کر رہا ہوں تا کہ ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اس وقت لیاری کے نوجوان کیا سوچ رہے ہیں۔ ’’میڈیا اور لیاری‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب میں لیاری کے نوجوانوں نے کہا کہ ’’اس وقت میڈیا لیاری کے حوالے سے ’’مثبت‘‘ رول کے بجائے ’’منفی کردار‘‘ ادا کر رہا ہے۔ میڈیا سچ کم اور مبالغہ زیادہ دکھاتا ہے، ہم میڈیا سے مایوس نہیں، میڈیا لیاری کا مثبت رخ نہیں دکھاتا لیکن منفی رخ کو بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہے۔‘‘

یہ بھی شکوہ کیا گیا کہ میڈیا لیاری کی سماجی اور اسپورٹس سرگرمیوں کی کوریج نہیں کرتا، میڈیا کو صرف خون ریزی نہیں دکھانی چاہیے بلکہ لیاری میں جو اچھے کام ہو رہے ہیں انھیں بھی ہائی لائٹ کرنا چاہیے، میڈیا تواتر کے ساتھ یہ تاثر دیتا رہا ہے کہ لیاری منفی لوگوں کی جگہ ہے جب کہ 99 فیصد لوگ امن کے پجاری ہیں۔ لیاری ’’میڈیا وار‘‘ کی زد میں ہے، اگر لیاری کے کسی علاقے میں ناخوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہیڈلائن اس طرح سے چلائی جاتی ہے کہ جیسے پورا لیاری بدامنی کا شکار ہے جب کہ اس کے برعکس شہر کراچی میں کہیں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس علاقے کا نام دیا جاتا ہے یہ نہیں کہا جاتا کہ لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا میں یہ واقعہ ہوا ہے۔

یہ صحافتی تعصب نہیں ہونا چاہیے، شہر کراچی کے دیگر علاقوں کی نسبت لیاری میں جرائم کم ہوتے ہیں، لیاری میں اسٹریٹ کرائم نہیں ہیں اور لیاری کی تاریخ میں کوئی بینک ڈکیتی نہیں ہوئی ہے اس کے باوجود لیاری سے بینک منتقل کیے گئے ہیں، لیاری والوں کو بینک لون نہیں دیا جاتا، ان کے لیے روزگار کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں، شہر میں لیاری والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ہر لیاری والے کو گینگ وار تصور کر کے اس سے دامن چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے، شہر میں لیاری والوں کو ایسے دیکھا جاتا ہے کہ جیسے کوئی آسمانی مخلوق زمین پر اتر آئی ہے، لیاری کو شہر سے کاٹ دیا گیا ہے اور انھیں ریڈ انڈین کا غیر اعلانیہ درجہ دیا گیا ہے۔

لیاری میں کوئی قتل ہوتا ہے تو اسے گینگ وار کا نام دیا جاتا ہے، جب کہ کراچی میں آئے روز قتل ہوتے ہیں انھیں کراچی گینگ وار نہیں کہا جاتا بلکہ میڈیا ان کی پردہ پوشی کرتے ہوئے انھیں نامعلوم کہہ کر پکارا اور لکھا جاتا ہے یہ سراسر زیادتی ہے، لیاری کے اسکولوں سے بچے ٹاپ کرتے ہیں لیکن میڈیا میں انھیں نہیں دکھایا جاتا، ایسا کیوں؟ اب لیاری میں امن ہے اور کراچی میں حالات خراب ہیں لیکن ان واقعات کو ایشو نہیں بنایا جاتا صرف خبروں میں بیان کیا جاتا ہے جب کہ لیاری پر ٹی وی پر مذاکرے کیے جاتے ہیں، لیاری کو پاکستان کے خطرناک ترین علاقے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ لیاری کا نام سن کر چونک جاتے ہیں اور لیاری آنے سے کتراتے ہیں، یہ لیاری کے ساتھ ناروا سلوک ہے؟

لوگ محسوس کرتے ہیں کہ لیاری کی مظلومیت پر آنسو بہانے والوں کی کمی ہے۔ ان کا استدلال یہ بھی ہے کہ لیاری کو اس لیے دبایا جا رہا ہے تا کہ یہاں سے کوئی سیاسی تحریک نہ چلے، علاقے میں سیاسی شعور کا گلہ گھونٹا جائے، ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں، لیاری کو مسئلہ بلوچستان سے بلا جواز نتھی کر دیا گیا ہے، یہ اختراعی سوچ ہے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، لیاری کے لوگ محب وطن اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دیتے آ رہے ہیں، خدارا! لیاری والوں کو بھی پاکستانی سمجھیں‘‘۔

یہ لیاری کے نوجوانوں کی آواز ہے جو بیان کر دی گئی ہے۔ اس آواز کو سنی ان سنی نہیں بلکہ غور سے سننے کی ضرورت ہے اور ان کی جائز استدعا فکر دعوت دیتے ہیں۔ خدارا! لیاری کے نوجوانوں کو تنہا نہ چھوڑیں اور نہ ہی انھیں سیاسی ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے۔ لیاری کے نوجوان خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو درست سمت میں بروئے کار لا کر ملک و قوم کی تعمیر نو کی جا سکتی ہے اور لیاری کے تشخص کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

شبیر احمد ارمان

Enhanced by Zemanta