Mumtaz Mahal: Karachi Zoo’s Mythical Foxy Lady

دنیا بھر میں شہروں یا جنگل بیابانوں میں قائم چڑیا گھروں میں ہمہ نوع جانور،چرند پرند رکھے جاتے ہیں۔لوگ آتے ہیں، جنگلی حیات کی مخلتف اقسام دیکھتے ہیں اور ان سے محظوظ ہوتے ہیں۔

لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے چڑیا گھر میں یہ کیا ہے۔یہاں تو ایک عجیب وغریب مخلوق پائی جاتی ہے جو”آدھی لومڑی اور آدھی عورت” ہے۔نام اس کا ممتاز محل ہے اور کئی عشروں سے موجود ہے۔

مگرحیرت زدہ ہونے یا دنگ رہ جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کوئی انوکھی مخلوق نہیں ہے بلکہ یہ ایک تینتیس سال کا نوجوان ہے جس نے اپنے دھڑ پر لومڑی کی کھال پہن رکھی ہے اور چہرہ عورت نما بنا رکھا ہے۔

اس نوجوان کا نام مراد علی ہے اور وہ گذشتہ سولہ سال سے ”ممتازمحل” کا کردار نباہتا چلا آرہا ہے۔اس سے قبل اس کا والد یہ کردار ادا کررہا تھا لیکن جب وہ اس جہانی فانی سے رخصت ہوا تو چڑیا گھر والوں نے گھر کی وراثت گھر ہی میں رہنے دی اور مراد علی کو ”ممتاز محل” بنا دیا۔

مراد کا کہنا ہے کہ ”چڑیا گھر کی سیر کو آنے والے زائرین میرے پاس آکر خوش ہوتے ہیں اور مجھے بھی خوش کرکے چلے جاتے ہیں۔میرے اور ان کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے،اس کو مسکراہٹیں بکھیرنے پر ہی صرف ہونا چاہیے”۔

ممتاز محل محض آدھی عورت آدھی لومڑی نہیں ہے بلکہ وہ تو لوگوں کے دکھ بانٹنے ،ان کے مسائل کا حل اور خوابوں کی تعبیر بتانے تک کا بھی فریضہ انجام دے رہی ہے۔ وہ زائرین کو شادیوں کے مشورے دیتی ہے،طلبہ کو یہ بتاتی ہے کہ امتحانات میں کیسے کامیابی حاصل کرنا ہے اور ان کی ہاتھوں کی لکیریں کیا کہہ رہی ہیں۔ننھے منھے بچے اور بڑے ممتاز محل کے پاس آکر گپ شپ کرتے ہیں لیکن یہ سب کچھ مفت میں نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے لیے انھیں ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔

ممکن ہے بعض لوگوں کو مراد علی کی ممتاز محل کے روپ میں یہ مشقت بھرا کردار نبھانا بہت ظالمانہ لگے اور وہ شاید اس کو پسند بھی نہ کریں مگر چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ اس فن کارانہ عمل سے انھیں کافی آمدن حاصل ہوجاتی ہے اور مراد علی کی ماہانہ تن خواہ بھی نکل آتی ہے۔ایک ٹکٹ میں دونوں کے مزے ہوجاتے ہیں۔زائرین بھی خوش اور مراد علی المعروف ممتاز محل بھی راضی۔

   Mumtaz Mahal: Karachi Zoo’s Mythical Foxy Lady

کراچی کا امن………

’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کے بعد ملک بھر سمیت خاص طور پر کراچی میں ایک خاص سراسیمگی دکھائی دے رہی ہے ۔ بے یقینی اور خوف کی ایک ایسی فضا ہے جس میں کراچی کے عوام کو خدشہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا سب سے سخت ری ایکشن کراچی میں’’ طالبان ‘‘کی جانب سے ہوگا اور کراچی تقریبا دوکروڑ آبادی اور بغیر پلاننگ آباد ہونے والا شہر ہے جہاں کی پولیس سیاست زدہ اور صوبائی حکومت نااہل ہے اس لیے ہمیشہ سے کراچی جرائم پیشہ افراد سے لے کر ملکی اور غیر ملکی مطلوب شخصیات کے لیے محفوظ کمین گاہ کے طور پر سمجھا جاتا رہا ہے۔
لسانیت ، قوم پرستی ، گروہی اور فرقہ وارانہ کشیدگیوں نے کراچی کو منقسم کرنا شروع کردیا اور غیر محسوس طور پر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے افراد نے اسی بستیوں میں خانہ آبادیاں کیں جو ان کے قبیلے ، ذات ، فرقے،نسل یا زبان سے تعلق رکھتی تھیں۔
گو کہ’’ آپریشن ضرب عضب ‘‘کے بعد شمالی وزیرستان سے خاندانوں کی نقل مکانی تیزی سے شروع ہوچکی ہے اور ابتدائی دنوں میں تین لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیںجب کہ کرفیو میں پابندی کی نرمی ہوتے ہی شمالی وزیرستان کے لاکھوں عوام تیزی سے، افغانستان یا پاکستان کے مختلف شہروں وعلاقوں کے ساتھ عارضی طور پر قائم آئی ڈی پیز کیمپوں میں منتقل ہوجائیں گے ، گو کہ اطلاعات کے مطابق ابھی مقامی افراد کے محفوظ انخلاہونے تک آبادیوں میں آپریشن شروع نہیں کیا گیا ہے۔
گو کہ بتایا یہی جا رہا ہے کہ ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ سے ایک ہفتہ قبل ہی اہم مطلوب شخصیات افغانستان منتقل ہوچکی تھیں اور ممکن ہے فرار ہونے والی شخصیات کو انتظار ہو کہ جب شمالی وزیرستان میں فوج مکمل طور پر داخل ہوجائے توگوریلا جنگ کا ایک سلسلہ شروع کر دیا جائے نیز پاکستان کے اہم شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے ان کے نیٹ ورک پہلے ہی اپنی جڑیں مختلف شہروں میں مضبوط کرچکے ہیں۔
تمام صوبائی حکومتوں نے پیش بندی کے طور پر حساس شہروں کے انتہائی حساس مقامات اور تنصیبات پر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا عمل شروع کردیا ہے جب کہ خاص طور پر کراچی میںجس کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا شروع سے یہی کہتا آرہا ہے کہ کراچی کے ایک چوتھائی حصے پر شدت پسند تنظیموں کا مضبوط نیٹ ورک اور قبضہ ہے،مزید حساس ہو گیا ہے۔ تمام حساس اور اہم مقامات و تنصیبات کو تین حصاروں میں تقسیم کیا جارہا ہے جو پولیس ، رینجرز اور فوج کا ہوگا ۔لیکن کراچی میں اصل دارومدار حساس اداروں سمیت مقامی پولیس ، رینجرز کی انٹیلی جنس رپورٹس اور مقامی مخبروں کے ساتھ مقامی آبادی کی جانب سے تعاون پر ہوگا۔
تاہم ابھی تک کراچی کے وہ علاقے جہاں بغیر کسی جانچ پڑتال کے آباد کاریاں حکومتی اداروں کے اہلکاروں کی رشوت ستانی کے سبب ممکن ہوئیں ، ان علاقوں کی بابت مربوط پلاننگ کا نظر نہ آنا ، اہم معاملہ ہے ۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر کراچی کے39علاقے انتہائی حساس قرار دیے جاتے ہیں ، جہاں عسکریت پسند عناصر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان علاقوں میں قانون کی عمل داری بھی بہت کم ہے ۔ رینجرز اور پولیس پر حملے اور بم دھماکے کیے گئے ۔
کراچی میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد کئی سالوں سے آباد ہے ، کراچی کے تمام بڑے ترقیاتی پراجکیٹ میں استعمال ہونے والی تمام بھاری مشینریوں کی ملکیت ان وزیر اور محسود قبائل کے پاس ہے۔ ڈمپر ، لوڈر،کرینیں سمیت سڑکوں کی تعمیر کے لیے کرش ، ریتی ، سمیت تمام تر بھاری ساز و سامان ان دونوں قبائل کے سرمایہ داروں نے فراہم کیے اور کراچی کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔
کروڑوں روپوں کی سرمایہ کاری کے ساتھ مہمند ، دیر سے تعلق رکھنے والے عوام نے افرادی قوت مہیا کی اور جہاں بھاری مشینری استعمال نہیں ہو پاتی وہاں یہ افرادی قوت سخت سے سخت ، اور تنگ سے تنگ جگہ پر دشوار گذار علاقوں میں اپنے خون پسینے سے شہر کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے، آفریدی قبائل، سوات، مالا کنڈ ڈویژن اور تورغرضلع سے تعلق رکھنے والوں نے سرمایہ کاری کرکے کراچی کے لیے پاکستان کی بہترین ، سہل اور فوری ٹرانسپورٹ مہیا کی اور بڑی بسوں سے لے کر رکشہ ، ٹیکسی ، سوزوکی تک کراچی کے عوام کی خدمت کے لیے صرف کردی۔
پشاور ، بنوں، کوہاٹ کے افراد نے کراچی کی بڑی مارکیٹوں کو کامیاب بنانے کے لیے کپڑے ، قالین کے کاروبار سے کروڑوں روپوں کی سرمایہ کاری کی اور کہا جاتا تھا کہ کسی بھی مارکیٹ کی کامیابی کا دارومدار پٹھانوں کی دکانوں پر ہے ، کہ وہ جس مارکیٹ میں دکان لیں گے وہ سو فیصد کامیاب ہوگی ۔ طارق روڈ ، جامع کلاتھ ، بولٹن مارکیٹ ،صدر، ناظم آباد، پاپوش نگر ، علی گڑھ جیسے مارکیٹیں اس کی بڑی مثالیں ہیں۔
اسی طرح کراچی کی جان ومال کی حفاظت کے لیے پٹھانوں کو خاص طور پر گھروں ، فلیٹس اور مارکیٹوں کی چوکیداری کے لیے رکھا جاتا تھا جو اس پورے علاقے کی چوکیداری ایک سیٹی اور ایک ڈنڈے کی مدد سے کرتا تھا ، کراچی کی رات کی رونقوں میں کوئٹہ ، پشین اور پشاور سے تعلق رکھنے والوں نے سرمایہ داری کرکے کراچی کے کونے کونے میں چائے کے ہوٹل کھولے جہاں صبح تک کراچی کے منچلے نوجوان ، بڑے بوڑھے بیٹھ کر دن بھر کی تھکان اتارتے تھے اب کراچی میں ان کے لیے کچھ نہیں باقی بچا، 80فیصد تمام کاروبار ختم ہوگیا یا زبردستی ختم کرا دیا گیا۔
اہم بات یہی ہے کہ جیسے جیسے لسانی سیاست غالب آتی گئی سب کچھ سمٹتا چلا گیا ، نقصانات میں جانی و مالی کی تفصیلات میں جانے کے لیے صفحات نہیں بلکہ سمندر جتنی روشنائی اور آسمان جتنے طویل صفحات درکار ہونگے ، لیکن ایک انسان کی جان کی قیمت کیا ہوگی ، کہ اسے قیمت دیکر لوٹا دیا جائے ، اس کا کوئی مول نہیں دے سکتا ، اب وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقامی محسود اور وزیر قبائل کے عوام نے اپنے علاقوں میں رشتے داروں کے لیے اپنے مکانات خالی کرانا شروع کردیے ہیں، کرائے داروں کو نوٹس اور اپنے گھروں میں پارٹیشن بنا دیے ہیں، اب بھی کوئی وزیرستان کا مہاجر ، بوسیدہ کیمپوں میں نہیں رہے گا ۔
سندھ حکومت ان مجبور اور حالات کے ستائے ہوئے عوام کو اپنے صوبے میں آنے سے روکنے کی بھرپورکوشش کر ے گی ، بلاشبہ ایک تہائی کراچی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملداری نہیں ، اس میں بھی تو وقت لگا ہوگا کسی گروپ نے اجارہ داری کی ہوگی ،مفادات حاصل کیے ہونگے ،رشوتیں کھائیں ہونگی۔کراچی میں مکمل قانون کی رٹ کے لیے پہلے اداروں سے کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے تو بہتر ہوگا۔جب تک کراچی میں کرپٹ مافیا ، موجود ہے جو چند سکوں کی خاطر اپنی قوم کو فروخت کرنے میں تامل نہیں برتتی اس وقت تک 
کراچی کا امن دراصل پاکستان کی بقا کا اصل محاذ ہے۔
قادر خان
 

Labour Life in Karachi

کراچی کی معیشت میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،اس طبقے میں وزن اٹھانے اور سامان کی ترسیل کرنے والے مزدور شامل ہیں۔
  بولٹن مارکیٹ پر کام کرنے والے مزدور فاضل خان نے بتایا کہ کراچی میں ہر برادری اور قوم سے تعلق رکھنے والے افراد مزدوری کا کام کر رہے ہیں۔
ان مزدوروں میں اکثریت پختون، بلوچ ، ہزارہ وال ، سرائیکی کمیونٹی کی ہے تاہم وزن اٹھانے کا زیادہ تر کام پختون اور بلوچ کمیونٹی کرتی ہے، اس کے علاوہ دیگر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کم تعداد میں وزن اٹھانے کا کام کرتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ وزن اٹھانے اور اسے منتقل کرنے کا کام انتہائی محنت طلب ہے لیکن اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے یہ کام کرنے پر مجبور ہیں، ایک اور مزدور احمد خان نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے علاقے میں روزگار کے ذرائع کم ہیں، اسی لیے ہم لوگ اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر کراچی آتے ہیں اور جن افراد کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا وہ وزن اٹھانے اور اس سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ کراچی ملک کا واحد شہر ہے جہاں روزگار آسانی سے مل
 جاتا ہے اور ہم دو وقت کی روٹی عزت کے ساتھ کما لیتے ہیں تاہم جب شہر کے حالات خراب ہوں یا احتجاج ، ہڑتال اور سرکاری تعطیلات کے باعث مارکیٹیں ، بازار اور دیگر کاروباری سرگرمیاں معطل ہوں تو ہماری چھٹی ہوتی ہے اور اس روز ہمیں اجرت نہیں ملتی، ہم روز کھانے اور روز کمانے والے لوگ ہیں، انھوں نے بتایا کہ ہم لوگ صبح فجر کی اذان سے قبل اٹھ جاتے ہیں، نماز پڑھ کر 7 بجے کے بعد اپنی متعلقہ جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں پھر جیسے جیسے کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہوتا ہے تو ہمیں کام ملنا شروع ہو جاتا ہے اور رات 8 بجے تک ہم لوگ وزن اٹھانے اور اس کی منتقلی کا کام کرتے ہیں اور پھر واپس اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔
مقامی بس اڈے پر مزدوری کا کام کرنے والے شخص شاہنواز بلوچ نے بتایا کہ وزن اٹھانے کا کام اس لیے کرتے ہیں کہ ہم نے تعلیم حاصل نہیں کی، اگر پڑھ لیا ہوتا تو آج یہ کام نہیں کرتے لیکن خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں روزگار دیا ہے، بس ہماری دعا ہے کہ شہر کے حالات اچھے رہیں تاکہ ہماری دال روٹی بھی چلتی رہے ، انھوں نے بتایا کہ مہنگائی، بے روزگاری اورغربت کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی اب نوکری نہیں مل رہی ہے، اسی لیے پڑھا لکھا طبقہ بھی مزدوری کا کام کرنے پر مجبور ہے۔
مزدوروں کی بڑی تعداد6سے8ماہ کراچی میں محنت مزدوری کرکے واپس اپنے آبائی علاقوںمیں چلی جاتی ہے،ایک سے 2 ماہ آرام کرکے یہ مزدور طبقہ واپس کراچی آجاتا ہے، زیادہ ترمزدور مشترکہ رہائش اختیار کرتے ہیں ،ان مزدوروں میںزیادہ ترکا تعلق ایک ہی خاندان یا علاقے سے ہوتا ہے ، وزن اٹھانے کے سبب مزدوروںکی بڑی تعداد کمر کی تکلیف میں مبتلا ہو جاتی ہے اور ان کو پائوں اور گھٹنوں کے درد کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔
وزن اٹھانے والے مزدوروں کی اکثریت ضلع جنوبی میں کام کرتی ہے کیونکہ یہ ضلع کراچی کا معاشی حب ہے ،اس ضلع میں کراچی کی بڑی اجناس مارکیٹ کے علاوہ دیگر روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا اور دیگر سامان کی ہول سیل مارکیٹیں ہیں ،مزدوروں کی بڑی تعداد وزن اٹھانے کا کام انہیں مارکیٹوں اور بازاروں میں کرتے ہیں ۔ سامان اٹھانے اور منتقل کرنے کی مختلف اجرت وصول کی جاتی ہے۔
اجناس کی ایک بوری کا وزن اٹھانے کے 30 روپے لیے جاتے ہیں جبکہ دیگر پیکنگ سامان اور اشیا کا وزن اٹھانے اور انہیں ہاتھ گاڑی پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے 80 روپے سے 200 روپے تک لیے جاتے ہیں، الیکٹرونکس آئٹم کو بڑی لوڈنگ گاڑیوں سے اتارنے، چڑھانے یا ان کی منتقلی کے 50 روپے سے 150 روپے تک لیے جاتے ہیں ، اس حوالے سے مختلف مزدوروں کا کہنا ہے کہ سارا دن وزن اٹھانے اور ان کی منتقلی کا کام کرنے کے بعد 400 روپے سے 800 روپے تک کی آمدنی ہو جاتی ہے ۔
کراچی کی اہم مارکیٹوں ، بازاروں ، منڈیوں ، بس اسٹینڈ اور ٹرک اڈے پر سامان کی ترسیل کے لیے ہاتھ گاڑی ، ٹھیلے اور گدھا گاڑی استعمال کی جاتی ہے،ہاتھ گاڑی لکڑی کی بنی ہوئی ہوتی ہے ،اس گاڑی کی تیاری میں کیکر اور بعض میں شیشم کی لکڑی بھی استعمال ہوتی ہے ، یہ خصوصی گاڑیاں لیاری ، رنچھورلائن ، لیاقت آباد اور دیگر علاقوں میں خصوصی کارپینٹرز تیار کرتے ہیں جن کی تعداد 30 سے 40 کے درمیان ہے۔
یہ ہاتھ گاڑی کم از کم 3 ہزار سے لے کر 6 ہزار روپے تک تیار ہوتی ہے،ایک ہاتھ گاڑی پر زیادہ سے زیادہ وزن 700 سے 800 کلو تک مزدور طبقہ اپنی طاقت سے کھینچ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے، اجناس منڈی میں سامان کی ترسیل کیلیے گدھا گاڑی بھی استعمال کی جاتی ہے جبکہ ٹرک اڈے پر وزن کی ترسیل کیلیے اونٹ گاڑی بھی استعمال کی جاتی ہیں،زیادہ تر مارکیٹوں میں سامان کی ترسیل کے لیے ٹھیلے بھی استعمال کیے جاتے ہیں 
،ایک ٹھیلا 4 ہزار سے 6 ہزار کے درمیان تیار ہوتا ہے۔
Labour Life in Karachi

نہیں دوست! یہ ’’وہ کراچی‘‘ نہیں ہے………

کہاں شکرِ نعمت سے سرشار بستی،در و بام پر جس کے برکت برستی 
قناعت سے آسودہ چہر وں کی جنت 
دلوں میں کوئی بغض تھا،نَے لبوں پر کسی کے کوئی حرفِ نفرت 
جہاں زیست کی ساری خوشیاں تھیں سستی 
وہ کیسی بلندی تھی، یہ کیسی پستی 
قبا زندگی کی ہے اب سب کو کَستی،یہاں ہر نظر ایک دوجے کو ڈستی 
نہیں دوست! یہ ’’وہ کراچی‘‘ نہیں ہے!
یہاں مہر و اُلفت کے دریا رواں تھے،جو گُل پیرہن تھے، وہ سب گُل فشاں تھے 
پَرے شاعروں کے یہاں نغمہ خواں تھے 
جو اہلِ زباں تھے وہ شیریں بیاں تھے، وہ شیریں سخن تھے، وہ شیریں دہاں تھے 
اور اب گولیوں کی تڑاتڑ ہے،لاشوں کے بورے… لہوکے چٹورے وحوش و بہائم … گلی میں جرائم 
یہ خاموش و خائف فضا، یہ اُداسی،گھروں کے مقابر،
یہ سنسان و ساکت سی گلیاں ہیں یا اپنے ایک ایک باسی کے خوں کی ہیں پیاسی؟
یہاں اب کوئی شاعرِ دل گرفتہ، گئے دور کا مرثیہ پڑھ رہا ہے 
عصائے خمیدہ کا لے کر سہارا،کوئی بوڑھا والد،
جواں قبر پر فاتحہ پڑھ رہاہے 
نہیں دوست! یہ ’’وہ کراچی‘‘ نہیں ہے 

Bahria Town

Bahria Town officially Bahria Town (Pvt) Ltd. is the largest real-estate developers and Investors in Pakistan and the largest private housing society in Asia.[1] Bahria Town has establishments in Islamabad (Phase 2 to 7 and enclave), Rawalpindi(Phase 1 and 8), Lahore, Murree and Karachi.[2] Bahria Town is a mega gated community, worth $6 billion only in twin citiesIslamabad and Rawalpindi where it is the original community with nine phases, which has a capacity of a planned residential city for 1 million people. The Town’s offers amenities (24-hour armed security, schools, hospitals, a fire department, retail shopping, restaurants and entertainment centers).
Given the Pakistan‘s security issues, Bahria Town remain the safest place to live with a lower crime rate than other developments. Rival Pakistani developer, Defence Housing Authority, have built similar gated communities in the suburbs of major Pakistani cities such as Karachi. Bahria Town operate’s Pakistan’s largest private sector fleet of heavy earth moving equipment and the service workshops. Bahria is also building the First Formula 1 racing track with full proof safety provided to Bahria Town residents. It employs over 20,000 workforce with. Recently Bahria Town announced its collaboration withStarwood Hotels for the opening the Sheraton Golf & Country Club, which would be the first of its kind in Pakistan. Malik Riaz Hussain, Founder and Chairman, is the force behind Bahria Town, started in the 1980s as a small-time contractor. As competitors targeted the rich, he built for the emerging middle class, becoming one of the wealthiest Pakistanis alive.[3] In May 2012, Bahria Town won five awards at the Asia Pacific International Property Awards.[4][5]
Bahria has been featured by international magazines and news agencies, referred to as the prosperous face of Pakistan. According to Emirates 24/7 Bahria Town is ‘where Pakistan’s new middle class takes refuge from the Taliban attacks and endless power cuts that plague the rest of the country.’[6] GlobalPost claimed that in 2013, Bahria houses some 100,000 people in total.[7] Newsweek calls it as Pakistan’s Gateway to Paradise.[8] On October 6, 2011, Los Angeles Times refereed Bahria as ‘functioning state within a non-functioning one’.[9] Regardless of that Bahria has been subject to controversies, it is referred to as a symbol of inequality, blamed for illegal encroachment of forests and unholy alliance with military.[9]