Mafias in Karachi

 کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، دنیا کے دس بڑے شہروں میں سے ایک  پاکستان کی معاشی شہ رگ۔ بیرون دنیا سے سمندر کے ذریعے رابطے کا پاکستان کا واحد ذریعہ، ملکی ٹیکس کی آمدنی میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالنے والا شہر۔ یہ وہ تمام خصوصیات ہیں جو اس شہر کی ملک کی اقتصادی اور معاشی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں۔
بدقسمتی سے اس وقت بہت سے مافیا کے شکنجے میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے۔ جو لوگ کراچی کے حالات پر خاص نظر رکھتے ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ پچھلے 5 سے 6 سال کے دوران اس شہر کو جتنا نظرانداز کیا گیا اس کی شاید ہی کوئی مثال مل سکے۔ اور اگر یہ کہا جائے تو بجا ہوگا کہ اس شہر کے ساتھ سیاسی یتیموں جیسا سلوک کیا گیا۔
اس شہر کے منتخب نمایندے چاہے اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں اپنی بے بسی اور اختیارات نہ ہونے کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی عدم توجہی کے باعث یہ شہر اب مسائل کا گڑھ بنتا نظر آتا ہے۔ پچھلے 5 برسوں میں امن وامان کی انتہائی مخدوش صورتحال جسے وزیرستان اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے بھی بدتر گردانا گیا وہ ریکارڈ حصہ ہے لیکن اب خدا کا شکر ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکمرانوں دونوں کو کریڈٹ دینا چاہیے، لیکن یہ ناسور ابھی تک ختم نہیں ہوا اور وقتاً فوقتاً سر اٹھاتا رہتا ہے لیکن اس وقت ہم بات کرتے ہیں ان مختلف مافیاز اور گروپوں کی جنھوں نے پاکستان کی اس معاشی شہ رگ کو بری طریقے سے جکڑا ہوا ہے۔
سب سے پہلے لینڈ مافیا جس کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیوں سے سب ہی پریشان ہیں، اگر آپ کا پلاٹ کراچی کے مضافاتی اور دور دراز علاقے میں موجود ہے تو پھر آپ اپنے کو بہت ہی خوش قسمت کہلائیں گے اگر آپ کے پلاٹ پر قبضہ نہ ہوا ہو اور اس کے اردگرد چار دیواری نہ کھینچی گئی ہو اور اگر آپ اتفاق سے وہاں کا دورہ کرنے پہنچ جائیں تو اپنے ہی پلاٹ میں اجنبیوں کی طرح داخل ہونا پڑتا ہے اور جسارت کرنے پر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ یہ تو آپ کا پلاٹ ہی نہیں بلکہ جب آپ اپنے کاغذات دکھائیں تو آپ کے سامنے بھی اسی طرح کے کاغذات کا ایک اور سیٹ دکھایا جاتا ہے جس میں قبضہ کرنے والے کے کوائف اور اس کو مالک دکھایا جاتا ہے۔
عمومی طور پر اس کو دہری فائل (deed file) کہا جاتا ہے، اب اصل کاغذات کس کے ہیں اور اس زمین کا اصل مالک کون ہے اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے جس کے لیے آپ کو برسوں انتظار کرنا پڑے گا اور اپنی زمین کی واپسی کے لیے اور اپنے آپ کو مالک ثابت کرنے کے لیے لاکھوں روپے بھی خرچ کرنا پڑیں گے۔ بعض اوقات قبضہ کرنے والی پارٹی بھی بڑی بے باکی سے آپ کو پلاٹ کی مالیت کے حساب سے رقم یا جرمانے کی ادائیگی کا مطالبہ کرے گی جس کو دے کر آپ اپنے پلاٹ کا دوبارہ قبضہ حاصل کرسکتے ہیں۔
کافی لوگ اس طرح کا جرمانہ دے کر اپنی جان چھڑاتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ رقم عدالتوں میں خرچ ہونے والی رقم اور وہاں پیشیاں بھگتنے والے وقت سے کہیں کم ہوتی ہے۔ اور اب تو یہ وبا دور دراز نہیں بلکہ کراچی کے بیچ و بیچ رہنے والے علاقوں تک میں پھیل چکی ہے۔ حتیٰ کہ کراچی کے پوش اور امیر علاقوں میں اگر آپ کو کوئی خالی پلاٹ نظر آئے تو اس کے گرد چار دیواری اور اس کے باہر لگا ہوا خبردار کرنے والا نوٹس اور سیکیورٹی گارڈ بیٹھا بھی نظر آئے گا۔ یعنی اپنے پلاٹ کی حفاظت اپنے خرچ پر۔ حکومتی اداروں کی طرف سے دادرسی کا کوئی امکان موجود نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے خالی مکان کسی نہ کسی کو کرایے پر دینے میں زیادہ عافیت تصور کرتے ہیں۔ کیونکہ اتنا جنگل کا قانون ابھی نہیں آیا کہ رہنے والے کو اس کے سامان سمیت باہر نکال کر پھینک دیا جائے، ہاں البتہ یہ بات اور ہے کہ اگر آپ اس کرائے دار کو ایک یا دو سال سے زیادہ عرصے وہاں رہنے دیں تو وہ خود ہی اس پر قبضہ کرلے اور پھر اس کی حمایت میں اپنے قانونی کاغذات بھی ثبوت کے طور پر پیش کردے یا پھر اپنے آپ کو کسی کالعدم تنظیم یا سیاسی جماعت کا کارندہ ظاہر کرکے ڈرا دھمکا کر مالک مکان کو چلتا کردے، کیونکہ یہاں پر ویسے بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج موجود ہے۔
اس کے بعد ہے بلڈر مافیا۔ یہ مافیا رہائشی علاقوں میں سنگل یا ڈبل اسٹوری مکان خرید کر اس کو ملیا میٹ کرنے کے بعد اس جگہ پر 8 سے 10 منزلہ عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔ جن میں کبھی کبھار دو سے تین فلورز پارکنگ کے لیے وقف کیے جاتے ہیں ورنہ ان کے رہائشیوں کی گاڑیاں بھی رہائشی علاقوں کی گلیوں میں ہی پارک ہوں گی۔ چونکہ یہ فلیٹ لاکھوں روپے میں فروخت کیے جاتے ہیں اس وجہ سے یہ بلڈر مافیا اوپر تک سارے حکام تک رشوت پہنچانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ کیونکہ اس صورت میں بھی یہ گھاٹے کا سودا بالکل نہیں۔
اب وہاں رہنے والے رہائشی جس در کا دروازہ کھٹکھٹا لیں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کا علاقہ نہ چاہتے ہوئے بھی اور خلاف قانون بھی کمرشل ہوچکا۔
 اب وہاں بجلی، پانی اور سیوریج کے نظام پر کیا اثر ہوگا؟ اس کا پرسان حال تو کوئی بھی نہیں۔ ایک زمانے میں لوگ ایک پلازہ کی تاریخی عمارت کو کراچی کی بلند ترین اور ممتاز عمارت کے طور پر یاد کرتے تھے لیکن اب ذرا شہر کا دورہ کریں یہاں پر تو آپ کو بہت سارے (چھوٹے) پلازہ نظر آئیں گے۔ اب یہ ترقی کی علامت ہیں یا پھر اس شہر کے باسیوں اور یہاں موجود خستہ حال انفرااسٹرکچر پر بوجھ عظیم، اس کا فیصلہ قارئین خود ہی کرسکتے ہیں۔
اب آتے ہیں اسلحہ مافیا کی طرف۔ شہر میں ہر جگہ تھوڑی سی کوشش کرنے پر اسلحہ کے ڈھیر وافر مقدار میں نظر آتے ہیں۔ اب کسی کا ریسٹورنٹ میں جھگڑا ہوجائے یا کسی دکان پر تنازعہ ہوجائے فوراً سے اسلحہ باہر نکل آتا ہے اور معمولی سی تکرار پر لوگوں کا قتل اور زخمی ہونا ایک معمول کا امر بن گیا ہے۔ اور اگر آپ کو ڈر ہے کہ یہ غیر قانونی اسلحہ ہے تو تھوڑے سے پیسے دے کر کسی رکن اسمبلی کے کوٹے پر اسلحہ خرید کر اس کا لائسنس بنالیں، اب جب اسلحے کا لائسنس ہے تو کون پوچھے گا کہ اس کو قانونی طور پر استعمال کرنا ہے یا غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
لائسنس تو پھر اجازت نامہ ہے۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی اسلحے سے لیس گاڑیاں دیکھنا تو اب معمول کا مشاہدہ ہے۔ کسی کی جرأت ہے تو ان کو روک کر پوچھ لے کہ اسلحے کی اس طرح نمائش تو قطعاً غیر قانونی ہے۔ لائسنس کا پوچھنا تو دور کی بات ہے۔ کبھی کبھار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہم شروع ہوئی تو تھوڑی بہت پکڑ دھکڑ اور اس کے بعد وہی معمول۔ کون پوچھنے والا ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے یا پھر کوئی دور دراز قبائلی علاقہ۔ جہاں پر علاقے کے جاگیردار اور زمیندار اپنا رعب و دبدبہ دکھانے کے لیے کھلے عام اسلحے کی نمائش کرتے ہیں۔
عبد الوارث
Mafias in Karachi

Advertisements

کراچی! قائد کا مولد، مسکن اور مدفن……

شہر کراچی کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح اس شہر میں پیدا ہوئے،اسی کو اپنا مسکن بنایا اور یہیں مدفون ہوئے۔ قائد سے والہانہ عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے ہندوستان سے لٹے پٹے آنے والے مہاجرین اپنی جھونپڑیاں ہٹاکر مزار قائد کے لیے جگہ فراہم کی۔ قائد اعظم کے علاوہ شہید ملت لیاقت علی خان، محترمہ فاطمہ جناح، سردار عبدالرب نشتر اور نورالامین جیسی شخصیات بھی مدفون ہیں اس میں ایک میوزیم بھی قائم ہے۔
تقسیم ہند کے بعد نوزائیدہ مملکت پاکستان کی تعمیر وترقی میں اہل کراچی کا کلیدی کردار رہا ہے یہ شہر حکومت کا دارالخلافہ بھی رہا مگر اس سے اعزاز چھین لیا گیا۔ صنعت وحرفت، تجارت و معیشت، سیاست و تعلیم اور فنون لطیفہ غرض ہر شعبہ زندگی میں اس شہر کے باسیوں کا کلیدی اور ہراول دستے کا کردار رہا ہے گزشتہ روز شاہ محمود قریشی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بجا کہا ہے کہ ’’جب کراچی جاگتا ہے تو پاکستان کی سیاست کروٹ لیتی ہے۔‘‘
حقیقت بھی یہی ہے کہ جب کراچی میں امن و سکون سیاست اور معیشت دونوں عروج پر تھے جب یہاں امن وامان کا مسئلہ گمبھیر ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت اور سیاست دانوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ آج محسوس یہ ہوتا ہے کہ کسی مذموم سازش اور منصوبہ بندی کے تحت اس شہر میں مذہبی، لسانی اور سیاسی تفریق کو پروان چڑھاکر امن وامان، صحت و صفائی، تعلیم و میرٹ کو تباہ کرکے شہریوں کو بے ہنگم ٹریفک تجاوزات، لینڈ مافیا، اسٹریٹ کرائمز، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے حوالے کردیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ قائد کے شہر کے علاوہ قائد کے مزار کو بھی نہیں بخشا گیا جو قومی تشخص کی علامت ہے۔یہاں پر کون کون سے اخلاقی و قانونی جرائم سرعام نہیں ہوتے ہیں۔
غالباً 28 اگست سے سیکیورٹی کی وجوہات ظاہر کرکے مزار قائد اور اس کے احاطے میں عوام الناس کا داخلہ بند ہے۔ مزار قائد شہر کے وسط میں ایک وسیع و عریض علاقے پر مشتمل ہے جہاں گھاس، درخت، فوارے اور پانی کے حوض مزار پر آنے والے شہریوں کے لیے تفریحی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں احاطے میں گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بہت بڑا حصہ مختص ہے۔
قومی تہواروں اور تعطیلات کے ایام میں شہریوں کی بڑی تعداد مزار قائد پر حاضری دیتی ہے۔ اس 11 ستمبر کو قائد کا 66 واں یوم وفات منایا گیا تمام صوبائی اور وفاقی دارالحکومتوں میں توپوں کی سلامی دی گئی، مزار پر حکمرانوں، سیاستدانوں، اعلیٰ حکام اور تنظیموں نے حاضری دی ذرائع ابلاغ نے خصوصی پروگرام نشر کیے اخبارات نے خصوصی ایڈیشن شائع کیے بانی پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا قیام پاکستان کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور قائدانہ کردار کے تذکرے کیے گئے۔
اس سال قائد اعظم کا یوم وفات اس لحاظ سے پاکستانی تاریخ کا بدقسمت دن تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث مزار قائد کے دروازے تمام شہریوں پر بند کردیے گئے تھے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے مزار کا رخ کیا تھا جو یہاں آکر مایوس ہوئے۔ شہریوں کا گلہ تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قائد کے یوم وفات پر ان کے لیے مزار کے دروازے بند کیے گئے ہیں اگر حکومت چاہتی تو انتظامات بہتر کرکے مزار کو عام شہریوں کے لیے کھول سکتی تھی۔ مزار قائد کے مینجمنٹ بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث مزار کو عام شہریوں کے لیے بند کیا گیا تھا جو کلیرینس ملنے پر کھول دیا جائے گا۔
کچھ عرصے سے قائد کے نظریات اور ذات کے مطابق غلط بیانیوں، بدگمانیوں اور مبالغہ آرائی کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ کبھی ان کی ذات، مذہب اور جائے پیدائش سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور کبھی نظریات کے حوالے سے بحث کی جاتی ہے کہ قائد اعظم ایسا پاکستان چاہتے تھے، قائد اعظم ویسا پاکستان چاہتے تھے روز روز نئے سیاسی نعرے لگائے جاتے ہیں پہلے کہا جاتا تھا کہ ہم اس ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے اب دعوے کیے جاتے ہیں کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے۔ جب قائد اعظم نے ایک نظریاتی مملکت کی بنیاد ڈال دی، اس کے خدوخال بیان کردیے پھر اس کو ایک متفقہ آئین بھی مل گیا جس میں یہ تمام امور طے شدہ ہیں تو نئے پاکستان کے نعروں کا مقصد سمجھ سے بالاتر ہے۔
قائد اعظم کے تشخص اور شخصیت کو مسخ کرنے کے لیے قائد اور ابوالکلام آزاد کی ذات اور نظریات کا موازنہ شروع کردیا جاتا ہے اور اس کے لیے ان دونوں شخصیات کے مخصوص موضوعات پر تقریروں اور تحریروں کے من پسند حصے ان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر من چاہے مطالب و معنی پہناکر استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ایک مخصوص سوچ پیدا کرکے اپنے مطلوبہ مذموم مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ ان کوششوں میں قائد اعظم اور ابوالکلام آزاد دونوں کے نظریات و افکار اور ان کی ذات کی نفی ہوتی ہے۔ پچھلے سال زیارت میں قائد اعظم ریزیڈنسی میں تخریب کارانہ آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس میں عمارت سے پاکستان کا قومی پرچم اتار کر ایک علیحدگی پسند تحریک کا پرچم لہرادیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد علاقے کے لوگ جمع ہوگئے تھے جنھوں نے اس المناک کارروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور قائد اعظم اور پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے تھے۔ لیکن حکومت کی بے حسی یہ تھی کہ اس نے اس قومی المیے کو صوبائی معاملہ قرار دے کر اپنا دامن چھڑالیا تھا سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں اور شخصیات کی جانب سے بھی سانحے پر عمومی طور پر لاتعلقی کا رویہ رہا۔
البتہ قائد اعظم کی نواسی اور ان کے شوہر کی گنتی کے چار افراد کے ساتھ مظاہرہ کرتے ہوئے ایک تصویر اخبارات میں ضرور چھپی جس میں یہ افراد ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے قائد کی رہائش گاہ اور عظیم قومی ورثے کو بموں اور راکٹوں سے تباہ کردینے کی اس دہشت گردانہ کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ملک کے خالق کے ساتھ اس قسم کا رویہ دنیا کے کسی اور ملک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔
سب سے پہلے اس کی ابتدا 25 دسمبر 2006 کو پرویز مشرف کی حکومت نے کی جب مزار قائد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اس دن مزار کے دروازے بند کرکے احاطہ مزار میں نغمہ سرائی کی محفل سجاکر سیاسی پروپیگنڈا کیا گیا، رہبر ترقی و کمال کے نام سے یہ تقریب رات گئے تک جاری رہی۔ مزار قائد پر 6 خواتین اور ایک سکھ گارڈ کو تعینات کرکے اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنے پر داد سمیٹی گئی مزار قائد کے احاطے میں جہاں پان سپاری تک لے جانا منع ہے وہاں حکومتی سطح پر اس قسم کا پروگرام کرکے مزار کے تقدس کو نقصان پہنچایا گیا اس کے بعد سے یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔
مزار پر ایک مجسٹریٹ بیٹھتا ہے دیگر ایجنسیوں کے افراد بھی موجود رہتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود احاطہ مزار اور اطراف کی شاہراہیں بدقماش لوگوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں۔ مزار کو فحاشی کے لیے کرایہ پر دینے کا انکشاف، ثبوت اور فلمیں ٹی وی کے ذریعے تمام دنیا نے دیکھیں مگر ارباب اختیار اور اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ چند سال قبل پنجاب سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مزار قائد پر آنے والی دوشیزہ کو چند لمحوں کے لیے مزار کی روشنیاں بند کرکے اغوا کرلیا گیا تھا اور مزار میں کئی دنوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رات کی تاریکی میں مزار کے احاطے سے باہر ملحقہ سڑک پر پھینک دیا گیا تھا۔
مزار کا انتظامی بورڈ، مجسٹریٹ، کیڈٹ اور قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے ہوتے ہوئے اس قسم کے قبیح واقعات ببانگ دہل کیونکر ہو رہے ہیں جن کو سن کر انسانیت کا سر بھی ندامت سے جھک جاتا ہے۔ مگر ارباب اختیار و اقتدار کو جھرجھری تک نہیں آتی۔ پرویز مشرف کی مسلم لیگ سے شروع ہونے والے اس سلسلے میں مسلم لیگ ن تک بے انتہا تیزی آگئی ہے کاش یہ مسلم لیگی اور قائد اعظم کے سیاسی و نظریاتی جانشینی کا دعویٰ کرنے والے قائد اور اس ملک کے تشخص کا دفاع کرسکیں۔
عدنان اشرف ایڈووکیٹ

کراچی: 400 ارب روپے مالیت کی زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ…….

کراچی میں میگروو کے جنگلات کے علاقے میں جنگلات کا صفایا کرکے حاصل کی گئی چھ سو ایکڑ کی زمین وزیراعلٰی سندھ کے سابق سیکریٹری کو غیرقانونی الاٹمنٹ دی گئی تھی، جس کے خلاف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے حکومتِ سندھ کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں ایک شکایت درج کرائی ہے۔
ڈی ایچ اے کریک ایونیو اور کورنگی روڈ کے درمیان واقع اس زمین کی مبینہ غیرقانونی فروخت کو ایک ’میگا اسکینڈل‘ قرار دیتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی شکایت میں اس زمین کی قیمت کا تخمینہ چار سو ارب روپے لگایا ہے۔
یہ علاقہ بحیرہ عرب کا ایک وسیع دہانہ ہے، اور میگروز کے جنگلات پر مشتمل ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی اس اہم زمین کے مختلف دعویداروں کی جانب سے الاٹمنٹ کے جعلی کاغذات بڑی تعداد میں پیش کیے گئے تھے، لیکن ان کی یہ دھوکہ دہی کی کوششیں چوکس سول سوسائٹی اور فعال عدلیہ کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نیب کو لکھے گئے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ اس علاقے پر مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا، اور سرکاری عہدے داروں کی ملی بھگت کی وجہ سے اس معاملے کی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں جان بوجھ کر پیروی نہیں کی گئی، اور تمام سرکاری افسران نے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرلیا۔
اپنے خط میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اعلٰی سطح کا یہ عہدے دار جو وزیرِ اعلٰی سندھ کا سابق سیکریٹری بھی ہے، کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ سندھ بورڈ آف ریونیو کی طرف سے اس کو، یا اس کے رشتہ داروں یا اس کے ساتھی کے نام بطور تلافی یا اندرونِ سندھ کی دیگر زمین کے بدلے الاٹ کیا گیا تھا، جو کہ ایک غیرقانونی بنیاد پر ایک مشکل کیس ہے۔
نیب سندھ کے ڈائریکٹر جنرل سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ وہ حکومت سندھ کے اس غیرقانونی اقدام کا نوٹس لیں اور ان الزامات کی جانچ پڑتال کروائیں، جو اگر درست پائی جائیں تو اس سودے کو لازماً روکاجائےاور غیرقانونی الاٹمنٹ منسوخ کردی جائے۔ساتھ ہی جو بھی اس معاملے میں ذمہ دار پایا جائےتو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
Karachi Land Mafia

کیماڑی بندرگاہ …. Keamari Port Karachi

بندرگاہ روڈ کیماڑی ملک کی تجارتی سرگرمیوں میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس شاہراہ پر روزانہ سیکڑوں کارگو گاڑیوں کی بندرگاہ میں آمد اور روانگی ہوتی ہے تاہم حکومتی عدم توجہی سے اس سڑک پر کئی مقامات پر گڑھے پڑ گئے ہیں جس سے اس شاہراہ پر ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
 کراچی بندرگاہ جو ملک کی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس بندرگاہ کی حدود میں روزانہ ہزاروں کارگو گاڑیوں کی آمد اور روانگی ہوتی ہے جو درآمدی سامان مختلف ممالک سے اس بندرگاہ پر آتا ہے ، وہ کارگو گاڑیوں کے ذریعے اندرون ملک پہنچایا جاتا ہے جبکہ مختلف مصنوعات جو بیرون ملک برآمدہوتی ہیں، وہ انھیں کارگو گاڑیوں کے ذریعے اس بندرگاہ پر لائی جاتی ہیں۔سامان کی ترسیل کے لئے بندرگاہ روڈ کی توسیع اورمرمت کئی برس پہلے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کی گئی تھی جبکہ بندرگاہ سے سامان کی تیز رفتار ترسیل کے لئے جناح برج ( نیٹی جیٹی پل ) کی توسیع بھی کی گئی ، بندرگاہ روڈ کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ کیماڑی ایک نمبر سے شروع ہوتا ہے اور گھاس بندر پر یہ روڈ نیٹی جیٹی پل کے آغاز کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو جاتاہے ، نیٹی جیٹی پل سے تین راستے نکلتے ہیں ،ایک راستہ ماڑی پور روڈ ، دوسرا راستہ ٹاور ایم اے جناح روڈ اور تیسرا راستہ مائی کلاچی اور سلطان آباد کی طرف جاتا ہے۔
دن کے اوقات میں کارگو گاڑیوں کا زیادہ لوڈ ماڑی پور روڈ کی طرف ہوتا ہے کیونکہ یہ روڈ یہاں سے ٹرک اڈے کے علاوہ سائٹ ایریا سے ہوتا ہوا شاہراہ پاکستان اور پھر سپر ہائی وے سے منسلک ہو جاتا ہے، بندرگاہ سے رات کے اوقات میں کارگو گاڑیوں کی اندرون شہر میں آمد شروع ہوتی ہے اور رات کے اوقات میں ہی اندرون ملک سے کارگو گاڑیاں سامان لے کر بندرگاہ پہنچتی ہیں ، دن کے علاوہ رات کو بھی بندرگاہ روڈ پر ہیوی ٹریفک کی آمدو رفت رہتی ہے۔
کئی برسوں سے بندرگاہ روڈ کی مرمت پر حکومت نے توجہ نہیں دی ہے ، جس کی وجہ سے یہ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے اور کئی مقامات پرگڑھے پڑ گئے ہیں جبکہ غلط پارکنگ کی وجہ سے اس شاہراہ پر ٹریفک جام رہنا بھی روز کا معمول ہے، شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ شاہراہ کی ارسر نو بحالی اور مرمت کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔
اسٹریٹ لائٹس بندرہنے سے جرائم کی وارداتیں بڑھ گئیں
بندرگاہ روڈ پر رات کے اوقات میں اکثر اسٹریٹ لائٹس بندرہتی ہیں ، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹس لائٹس کی بندش کے باعث اس شاہراہ پر اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ہوتی ہیں اور شہری اپنے قیمتی سامان اور نقدی سے محروم ہو جاتے ہیں ،روڈ پر حضرت غائب شاہؒ کا مزار بھی واقع ہے جہاں ہر سال انتہائی عقیدت و احترام سے ان کا عرس منایا جاتا ہے، اسی شاہراہ پر کراچی میں برف کا قدیم کارخانہ اور بانسوں کی فروخت کے مراکزبھی واقع ہیں جہاں سے اندرون ملک بانسوں کی سپلائی ہوتی ہے۔
اسی شاہراہ سے لوگ گزر کر کیماڑی ایک نمبر پہنچتے ہیں جہاں سے وہ کشتیوں کے ذریعے منوڑا ، شمس پیر اور بابا بھٹ جزائر کا رخ کرتے ہیں اور یہاں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے بھی آتے ہیں ،اس شاہراہ کو سیکیورٹی کی بنا پر انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے ،تاہم سروے کے دوران یہ دیکھنے میں آیا کہ اس شاہراہ پر نیٹی جیٹی پل سے ایک نمبر تک سیکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں،شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس شاہراہ پرسیکیورٹی انتظامات کو بڑھایا جائے اور جو اسٹریٹ لائٹس خراب ہیں انکی فوری مرمت کی جائے ۔
بندرگاہ روڈ پر جیکسن الیکٹرونکس مارکیٹ مشہور ہوگئی
بندرگاہ روڈ پر جیکسن الیکٹرونکس مارکیٹ بھی واقع ہے، صدر کے بعد اس مارکیٹ کا شمار کراچی کی بڑی الیکٹرونکس مارکیٹ میں ہوتا ہے، یہاں پر 150 سے زائد دکانیں واقع ہیں جہاں بیرون ملک سے درآمد کئے گئے فریج ، ٹی وی ، ڈی وی ڈی ، کیمرے ، ایئرکنڈیشن ، سائیکلیں ، لیپ ٹاپ ، گاڑیوں میں لگائے جانے والے ٹیپ ریکارڈر اور الیکٹرونکس سامان فروخت کیا جاتا ہے ،مارکیٹ سے سیکڑوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ دن کے علاوہ رات گئے تک یہ مارکیٹ کھلی رہتی ہے اور بڑی تعداد میں شہری مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں اور یہاں سے خریداری کرتے ہیں ،اس کے علاوہ بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے غیر ملکی جہازوں پر جو عملہ آتا ہے ، وہ جب بندرگاہ کی حدود سے باہر آتا ہے تو وہ بھی اس مارکیٹ کا رخ کرتا ہے اور یہاں کے ماحول سے نہ صرف لطف اندوز ہوتا ہے بلکہ مختلف سامان بھی خریدتا ہے۔ جیکسن الیکٹرونکس مارکیٹ میں رکشا اور ٹیکسی اسٹینڈ کے علاوہ چھوٹی کارگو گاڑیوں کا اسٹینڈ بھی ہے ،مارکیٹ میں جو خریدار مختلف سامان خریدنے کے لیے آتے ہیں وہ سامان کی خریداری کے بعد انھیں رکشا، ٹیکسی یا چھوٹی کارگو گاڑی کے ذریعے اپنی مطلوبہ منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں ۔
بندرگاہ روڈ سیکڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بن گیا
بندرگاہ روڈ کئی افرادکے روزگار کا ذریعہ بھی ہے، اس شاہراہ پر کئی مقامات پرکھانے اور چائے کے کھوکے اور ریسٹورینٹس ، ٹائر پنکچر کی دکانیں موجود ہیں جبکہ اسی شاہراہ پر جیکسن بازار میں قدیم ترین پشاوری ، رستم ریسٹورینٹ واقع ہیں، ان ریسٹورینٹس کی چنے کی کڑک دال، پشاوری پراٹھہ اور دیگر کھانے مشہور ہیں،بازار میں بڑے جنرل اسٹورز بھی واقع ہیں جہاں پر مختلف درآمدی مصنوعات اور سامان ملتا ہے، بندرگاہ روڈ پر ٹرکوں کے ڈرائیور اورکام کرنے والے بازار کا رخ کرتے ہیں، یہ بازار 24 گھنٹے کھلا رہتا ہے۔
بندرگاہ روڈ کا مرکزی مقام کیماڑی ایک نمبر کہلاتا ہے
بندرگاہ روڈ کا مرکزی مقام کیماڑی ایک نمبر کو کہا جاتا ہے جہاں ملک کا سب سے بڑا آئل ڈپو قائم ہے یہ حدود سیکیورٹی انتظامات کے تحت عام گاڑیوں کے لئے ممنوع ہے، کیماڑی ایک نمبر پر پبلک ٹرانسپورٹ کا اسٹاپ واقع ہے، ایک نمبر پر مچھلی کے مشہور اسٹال موجود ہیں رات گئے شہر سے لوگ کیماڑی ایک نمبر کا رخ کرتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مچھلی فرائی اور تکہ مچھلی شوق سے کھاتے ہیں۔

میرا کراچی کہاں ہے؟…….

گزشتہ روز اخبارات میں خبر پڑھی کہ حکومت کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لیے مسافر بسوں کی سروس شروع کردی گئی ہے جو ابتدا میں لانڈھی سے ٹاور تک سفر کی سہولت مہیا کریں گی۔ اس خبر سے ایک بار پھر احساس ہوا کہ نہ صرف حکومتی ذمے داریوں کا بلکہ اس شہر کا بھی وہ کلچر بدل چکا ہے جو ان کا خاصہ ہوا کرتا تھا یعنی اب ریاستی سطح پر حکومت اپنی فلاحی ذمے داریوں سے (جوکہ کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمے داری میں شمار ہوتی ہیں) پہلو تہی برت چکی ہے مثلاً پینے کا پانی، ٹرانسپورٹ کی سہولیات، صحت اور تحفظ کی ذمے داریاں۔
اب شہری ’’کمیٹی کے نلکے‘‘ سے پانی کا حصول بھول چکے ہیں اور پیسہ خرچ کرکے منرل واٹر پیتے ہیں، سرکاری کی جگہ نجی اسپتالوں سے علاج کرانے اور نجی تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دینے کو ترجیح دیتے ہیں، تحفظ کے لیے نجی کمپنیوں کے سیکیورٹی گارڈ رکھتے ہیں، سفر کے لیے تو کوئی ’’چوائس‘‘ ہی نہیں سوائے پرائیویٹ یا نجی سواری کے۔ یہ وہ ایشوز ہیں کہ جن پر ہمارے عوامی نمایندے خاموش ہوچکے ہیں کہ انھیں اتنا ’’کچھ‘‘ مل جاتا ہے کہ وہ اپنی ہر ضرورت نجی طور پر ’’شاندار‘‘ طریقے سے پوری کرلیتے ہیں۔
دوسری تبدیلی جو اس ملک میں تیزی سے آ رہی ہے وہ شہروں کا نئی شکل اختیار کرنا اور دیہی علاقوں میں بھی قدرے شہروں کی طرح تبدیلی واقع ہونا ہے اور ان تمام میں سرفہرست کراچی شہر ہے۔آج کراچی کے شہری اچھی تفریح کے لیے کراچی شہر سے باہر کا رخ کرتے ہیں۔
 مختلف قسم کے فارم ہاؤسز یا دیہی علاقوں کے قدرتی مناظر ان کے لیے پرکشش ہیں، کیونکہ اب اس شہر میں سوائے بلند عمارتوں کے جنگل اور گاڑیوں کے 
دھوئیں، گردوغبار کے کچھ نہیں۔
مجھے یاد ہے کہ اسی شہر میں ہم اسکول کے دوست کبھی کبھار بس میں سوار ہوکر ٹاور کے آخری اسٹاپ تک جاتے اور پھر اسی بس میں واپس آجاتے اور اس دوران بس میں چلنے والے پرانے انڈین نغموں کا مزہ بھی لیتے، اسکول کارڈ پر 25 پیسے کا ٹکٹ لے کر اس تفریح کا مزہ لیتے تھے کیونکہ اس وقت شہر کی آبادی نہایت کم تھی اور مسافر نشست بہ نشست سفر کرتے تھے، کھڑے ہوکر سفر کرنا تصور میں نہ تھا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں اکثر دیسی مرغی کا انڈا لینے اپنے گھر کے قریبی گوٹھ پہنچ جاتا تھا جہاں انتہائی پرسکون اور قدرتی ماحول دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور کسی بھی گھر کی بلوچ خاتون کو کہتا ’’آنٹی! دو عدد مرغی کے انڈے دے دیں۔ 
اس گوٹھ میں مرغی اور بطخیں بھی کھلی گھومتی رہتیں اور ان کے دروازے بھی ہمیشہ کھلے رہتے۔ کسی چوری چکاری کا ڈر نہ خوف، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اکثر میں اپنے ہم عمر محلے کے لڑکوں کے ساتھ ان گوٹھوں میں رات کو ٹی وی دیکھنے پہنچ جاتا تھا۔ ایک بڑے کچے مٹی کے صحن میں چٹائی پر بیٹھ کر ہم ٹی وی بھی دیکھتے اور رات کے اندھیرے میں کہ جہاں راستے میں اسٹریٹ لائٹ بھی نہیں تھیں واپس گھر لوٹتے۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ حسن اسکوائر سے لے کر غریب آباد تک جہاں اب کباڑی فرنیچر بازار لگتا ہے، دیوہیکل پل اور آسمان سے باتیں کرتے فلیٹس قائم ہوچکے ہیں وہاں کبھی باغ ہوا کرتا تھا، ہر طرف کھٹارے، جنگل جلیبی، بیر اور نہ جانے کیسے کیسے درخت اور پھول پودے ہوتے تھے، دن کے سناٹے میں ’’کوکو‘‘ کی آوازیں آتی تھیں جو روایتی طریقے سے کھیتوں کو سراب کرنے کے لیے لگائی گئی ایک چرخی سے پیدا ہوتی تھی۔ اس کھیت اور باغ کے قریب ایک ندی بھی بہتی تھی جو اس قدر کم چوڑی اور صاف شفاف ہوتی تھی کہ اکثر ہم اس کو پیدل پار کرکے باغ میں داخل ہوجاتے تھے اور اس میں موجود چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔
لیکن آج یہ ندی جو عرف عام میں لیاری ندی کے نام سے مشہور ہے، انتہائی بڑی اور گندی ہوچکی ہے جہاں صاف شفاف پانی اور خوبصورت مچھلیوں کے بجائے بدبودار گندا کالا سیاہ پانی بہتا ہے اور اس کی وجہ وہ فیکٹریاں اور قریبی آبادیاں ہیں کہ جن کے سیوریج کا پانی اور کیمیائی گندہ پانی فضلہ یہاں سے بہتا ہوا گزرتا ہے۔ یوں آج آپ اس پل کے پاس بھی کھڑے ہوکر سانس نہیں لے سکتے(جو حسن اسکوائر اور غریب آباد کے درمیان واقع ہے) جہاں کبھی ندی میں بچے شفاف پانی سے لطف اندوز ہوتے تھے اور باغ میں گھومتے تھے اور باغ کے دوسری جانب آباد سندھی بلوچوں کے گوٹھ قدرت کا خوبصورت، رنگین دل نشیں، پرامن محبت بھری فضا کا نظارہ پیش کرتے تھے۔
مذکورہ بالا بیان کوئی ادبی یا افسانوی بات نہیں، راقم کی آنکھوں دیکھا حال ہے۔ آج دل میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کراچی شہر کے یہ خوبصورت مناظر کس نے تباہ کردیے؟ یہ شہر کے اندر ہی آباد ’’قدرتی فارم ہاؤسز‘‘ یعنی گوٹھ، باغ اور کھیت کس نے ختم کردیے، کسی نے ان گوٹھوں کو خرید کر اس شہر کی خوبصورت شکل کو بدصورتی میں بدل دیا یا کہ اس گوٹھ کے باسی خود ہی اپنے قیمتی و قدرتی اثاثے فروخت کرکے کہیں اور چلے گئے یا وہ بھی شہر کی مصنوعی اور غیر قدرتی جدت کے ہاتھوں یرغمال ہوگئے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی بھی بیمار پڑتے ڈاکٹر کے پاس جاتے تو ڈاکٹر اپنے پاس سے ہی دوا دیتا، بازار کے لیے نسخہ نہ لکھتا اور کبھی اتفاق سے لکھ دیتا تو ہمیں بہت دور دوسرے علاقے میں جاکر میڈیکل اسٹور ڈھونڈنا پڑتا تھا مگر آج ہر گلی کے کونے پر میڈیکل اسٹور دستیاب ہے، اگر دستیاب نہیں تو صاف ستھری فضا، ٹرانسپورٹ کا صاف ستھرا معقول نظام، نظم و ضبط والے سرکاری اسکول، صاف ستھری سڑکیں، صاف ستھری روشن ہوادار رہائشی یونٹس اور دستیاب نہیں تو قدرتی مناظر، اب ہم قدرتی مناظر دیکھنے کے لیے بھی اس شہر سے باہر جاتے ہیں، گاڑی کرائے پر لیتے ہیں، فارم ہاؤسز کے ٹکٹ خریدتے ہیں۔
آئیے! غور کریں، اس شہر کی نام نہاد جدت سے ہمارے مسائل بڑھے ہیں یا کہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ آئیے غور کریں کہ خوبصورت گوٹھوں، باغات، کھیتوں پر مشتمل کراچی ہمارے لیے جنت تھا یا موجودہ؟ آئیے تلاش کریں ’’میرا کراچی کہاں ہے؟ 
ڈاکٹر نوید اقبال انصاری
Where is my Karachi?

Several police officers killed in Karachi operation

اسلامی جمہوریہ پاکستان جو گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جہاں پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کررہی ہیں‘ وہاں پولیس نے بھی اس جنگ میں اپنی جانیں دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھی مسلح افواج کے ساتھ اس جنگ میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔پورے ملک میں اگر دہشت گردی کے خلاف پولیس کی قربانیوں کو دیکھا جائے تو کراچی پولیس کے افسروں وجوانوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی۔ رواں برس دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کراچی پولیس کے افسروں واہلکاروں کی ایک بڑی تعداد جان کی بازی ہار گئی ۔ 2014ء کے ابتدائی 8ماہ کے دوران دہشت گرد ی کی کارروائیوں میںمجموعی طور پر 116پولیس افسرااور اہلکار شہید ہوگئے ۔

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں99پولیس اہل کار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ بم دھماکوں میں 2افسروں سمیت 17اہلکار ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ کراچی پولیس کی تاریخ میں اس قدر قلیل عرصہ میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہیں ہوئی ہیں۔ رواں برس 2014ء کے 8ماہ کے دوران کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان سمیت جرائم کی دیگر وارداتیں عروج پر رہیں جن میں ایک ہزار سے زائد افراد صرف ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کا نشانہ بن گئے ۔ رواں برس 116 پولیس افسرو اہل کار ٹارگٹ کلنگ و بم دھماکوں میں جاں بحق ہو ئے۔اعداد و شمار کے مطابق 99پولیس افسر اور اہل کار ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو ئے جبکہ 17افسر و اہل کار بم دھماکوں میں جاں بحق ہو ئے۔ 2014ء کے آغاز میں جنوری میںسب سے زیادہ 26افسر اوراہل کار شہید ہوئے۔ماہ جنوری میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم،2اہل کار فرحان اور کامران پی آئی بی کے علاقے لیاری ایکسپریس پر ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق ہو ئے جب کہ ٹارگٹ کلنگ کے دوران آرام باغ میں نعمان ،پیر آباد میں علیم اور یونس ،سچل میں محسن،اتحاد ٹاؤن میں محمد خان، عبدالرحیم ،شاہ لطیف میں عبدالخالق ،اورنگی ٹاؤن میں انسپکٹر اقبال ملک،یوسف پلازہ میں ٹریفک پولیس کے دو افسر سب انسپکٹر اللہ دتہ ،اے ایس آئی ولی محمد ،تیموریہ میں جاوید اور آصف،زمان ٹاؤن میں اے ایس آئی کامران ،شاہ فیصل میں نذیر خاصخیلی ،سرجانی میں اے ایس آئی صابر ،لانڈھی میں اے ایس آئی نعیم ،جاوید ،آصف ،خلیل ،عاصم اور فداحسین ،پاکستان بازار میں اے ایس آئی منظور حسین جاں بحق ہو ئے ۔

 فروری میں 19افسر اوراہل کار جاں بحق ہوئے جن میں سے شاہ لطیف میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کی بس پر بم حملے میں 13اہل کار شہید ہوگئے جب کہ ٹارگٹ کلنگ میں اقبال مارکیٹ میں سپیشل برانچ کا افسر سب انسپکٹر نیاز کھوسہ ،ابراہیم حیدری میں سب انسپکٹر افراز احمد خان ،ہیڈ کانسٹیبل حاجی محمد شفیع ،دیدار علی ،اختر اور نیو کراچی میں سب انسپکٹر آفتاب کو نشانہ بنایا گیا۔مارچ میں 5افسر اور اہل کار ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو ئے جن میں اے ایس آئی انوار الحق ،ہیڈ کانسٹیبل انور جعفری ،ہیڈ کانسٹیبل محبوب عالم ،ڈی ایس پی آغا جمیل اور اہل کار نعیم شامل ہیں ۔اپریل میں دہشت گردوں نے 8افسروں اور اہل کاروں کو شہید کیا جن میں پی آئی بی کے علاقے میں بم دھماکے کے نتیجے میں موچکو تھانے کے انچارج شفیق تنولی بھی شامل تھے۔ٹارگٹ کلنگ میں سب انسپکٹر اسحاق،صادق،سب انسپکٹر غلام مصطفی، کاشف،سب انسپکٹر ملک جاوید ،نسیم ،ہیڈ کانسٹیبل ظاہر شاہ جاں بحق ہوئے۔

مئی میں ٹارگٹ کلنگ میں 11افسر اوراہل کار ٹارگٹ کلرز کی گولیوں کا نشانہ بنے جن میں سب انسپکٹر صدر الدین، عبدالحمید،فردوس،اسپیشل برانچ کا اہل کار مقیم عارف،ارشد،اختر لودھی ،شاہد ،زکریا اور خادم شامل ہیں۔ جون میں ٹارگٹ کلرز نے 20افسروں اور اہل کاروں کی جان لی جن میں رمضان ،سب انسپکٹر سلیم ،تاج ملوک ،ہیڈ کانسٹیبل یوسف ،قاسم ،سپیشل برانچ کا اہلکار حسنات ،ٹریفک پولیس کے 2اہل کار فیض محمد اور ہیڈ کانسٹیبل اسلم ،اے ایس آئی آصف،اے ایس آئی طاہر ،ہیڈ کانسٹیبل سعید احمد، اشفاق،پاک فوج کے ریٹائرڈ اہل کار یاسر، عادل، محمد منور،غلام علی ،سومار،ہیڈ کانسٹیبل افضل، سلیم ،ٹریفک پولیس کے 2اہل کار اے ایس آئی عبدالکریم وراشد یوسف شامل ہیں۔ جولائی میں 16افسر اور اہل کار فائرنگ کے واقعات میں جان کی بازی ہار گئے جن میں ذیشان، اے ایس آئی تاج محمد ،موتن خان ،سب انسپکٹر عبدالرشید سرکی ،اللہ ڈنو،ہیڈ کانسٹیبل رحمان الدین ،اے ایس آئی محمد علی ،سب انسپکٹر رفیق بلوچ ،نیاز،اے ایس آئی محمد ابراہیم ،اے ایس آئی عبدالجبار ،اے ایس آئی علی اور لیڈ ی کانسٹیبل کرن اور کورنگی صنعتی ایریا میں پولیس اہل کار عبدالرزاق شامل ہیں جبکہ گزشتہ ماہ 7 اگست کو پیرآباد میں پولیس اہل کار سجاد عباسی اور9اگست کے روز سائٹ اے کے علاقے میں پولیس اہل کار حمید خٹک،12اگست کے روز ایس ایچ او پریڈی انسپکٹر غضنفر کاظمی ،اے ایس آئی جمیل اوراے ایس آئی سی آئی ڈی راجہ ارشد،17اگست کے روز اتحادٹاؤن میں پاک کالونی تھانے کا اہل کار عبدالوکیل،18اگست کے روز گلشن اقبال میں ایف صنعتی ایریا کا اے ایس آئی علی نواز، 19اگست کے روز اتحاد ٹاؤن میں پولیس اہل کار طاہر ،قائد آباد میں ہیڈ کانسٹیبل اظہر عباس اور اہل کار محمداعظم ،27اگست کے روز فائرنگ سے زمان ٹائون میں سب انسپکٹر صاحب دینو،نیوکراچی میں فائرنگ سے دو اہل کار خرم کمال اور جنید جاں بحق ہوئے ۔28اگست کے روز کلری میں پولیس اہل کار رحیم نیازی جاں بحق ہوا۔29اگست کے روز سہراب گوٹھ میں پولیس اہل کار لطف اللہ ہلاک ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق جاں بحق ہونے والے پولیس افسروں اور اہل کاروں میں ایک ایس پی ،ایک ڈی ایس پی ،2 انسپکٹر،13سب انسپکٹر ،18اسسٹنٹ سب انسپکٹر ،11ہیڈ کانسٹیبل اور72سپاہی شامل ہیں ۔یہ واضح رہے کہ دہشت گردوں نے ان ایام کے دوران پاک فوج ، بحریہ، فضائیہ ،لیویز،فرنٹئیر کانسٹیبلری سمیت 8رینجرز اہل کاروں کو بھی فائرنگ کر کے شہید کیا ۔ 

Several police officers killed in Karachi operation 

کراچی، کل اور آج…….

ایک زمانہ تھا کہ جب کراچی روشنیوں کا شہر اور عروس البلاد کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ دیگر شہروں کے لوگ کراچی دیکھنے کی تمنا رکھتے تھے، یہاں کی عمارتوں، روشنیوں کے نظام، تعلیمی معیار اور شہریوں کے سوک سینس کی تعریف کی جاتی تھی۔ یہاں کے بازاروں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر غیر ملکی بڑی تعداد میں بلاخوف و خطر آزادانہ گھومتے پھرتے نظر آتے تھے۔
راقم صبح اسکول جاتے ہوئے دیکھا کرتا تھا کہ بس اسٹاپ پر مسافروں کی قطار لگی ہوتی تھی۔ بس آکر اسٹاپ پر رکتی تو لوگ بڑے منظم انداز سے بس میں سوار ہوتے تھے۔ رش کے اوقات میں دو قطاریں بھی لگا کرتی تھیں، ایک بیٹھ کر سفر کرنے والوں کی اور دوسری کھڑے ہوکر سفر کرنے والوں کی جو جلدی جانے کے متمنی ہوتے تھے۔
بس آنے پر پہلے بیٹھنے والوں کی قطار چلتی تھی اگر بس کی نشستیں بھر جاتیں تو بیٹھنے والوں کی قطار رک جاتی تھی اور اگر اس قطار کے کچھ لوگ بس کے اندر پہنچ چکے ہوتے تھے تو ایمانداری سے واپس نیچے آکر اپنی قطار میں کھڑے ہوجاتے تھے پھر کھڑے ہوکر سفر کرنے والوں کی قطار شروع ہوتی تھی آج کبھی وہ منظر یاد آتا ہے تو تھوڑی دیر کے لیے اپنی دماغی صحت پر شک گزرنے لگتا ہے کہ کیا واقعی کراچی کے شہریوں میں کبھی ایسا مثالی نظم و ضبط بھی تھا۔
آج کا کراچی بدامنی، قتل و غارت گری، مذہبی، لسانی اور سیاسی تقسیم کا شکار اور مختلف قسم کی مافیاؤں کے نرغے میں پھنسا ہوا ہے۔ اہل کراچی کو پہلے جو سہولتیں حاصل تھیں ان سے بھی ایک ایک کرکے محروم کردیا گیا ہے یا کیا جارہا ہے، تمام حکومتی اور شہری ادارے مفلوج اور ناکارہ ہوکر رہ گئے ہیں، شہریوں کے مسائل اور فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔
ایک وقت تھا کہ تمام جدید سہولتیں نہ سہی لیکن پھر بھی عام شہری کو بنیادی قسم کی سہولیات حاصل تھیں، ان کی شکایات بھی سنی اور ان پر کارروائی عمل میں لائی جاتی تھی، ادارے بہت مستعد و فعال نہ سہی لیکن ان کی کارکردگی تسلی بخش ضرور تھی، اگر نچلی سطح پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی تو حکام بالا کو درخواست دینے پر کارروائی ضرور عمل میں آجاتی تھی۔ ایک ڈاکیا سے لے کر کسی انجینئر تک کے خلاف شکایت کردی جاتی یا اخبار میں کوئی مراسلہ، خبر، مضمون یا اداریہ چھپ جاتا تو دوڑیں لگ جاتیں اور کھلبلی مچ جایا کرتی تھی، نوکری پر بات آجاتی تھی۔
تین عشرے قبل تک پبلک اور پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کی فراوانی تھی، شہر میں سرکلر ریلوے کا نظام تھا، اس سے قبل ٹرامیں بھی چلا کرتی تھیں، تمام ٹرانسپورٹ میں تمام اوقات میں طلبا کو رعایتی سفر کی سہولیات حاصل ہوتی تھیں، ان کے علاوہ اسٹیل ملز، پی آئی اے، پورٹ قاسم، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کی گاڑیاں بھی بڑی تعداد میں ہوا کرتی تھیں جو اب ختم یا بہت کم ہوچکی ہیں۔
آج کے کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا، ٹینکر مافیا، لینڈ و کچی آبادی مافیا، ڈرگ مافیا، پارکنگ مافیا، بھیک اور تجاوزات مافیا منظم و متحرک نظر آتی ہیں۔ شہری، شہری اور حکومتی ادارے ان کے سامنے بے بس و بے دست و پا نظر آتے ہیں۔ ڈاکوؤں، بھتہ گیروں، اغوا کاروں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں کا راج ہے، قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔ حق حلال کے کاروبار اور کسب حلال کمانے کے موقع بند ہوتے جا رہے ہیں۔ شہری گاڑی، املاک یا دیگر قیمتی اشیا خرید وفروخت کرتے وقت خوف و پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔ نائی اور مٹھائی کی دکانوں سے لے کر اسکولوں، بیوٹی پارلرز اور عبادت گاہوں تک پرائیویٹ سیکیورٹی کے پہرے ہیں۔
محکمہ پولیس کی ناقص کارکردگی جس کی کئی وجوہات ہیں، پولیس اہلکار شدید دباؤ کا شکار ہیں، سیکڑوں کی تعداد میں قتل کیے جا چکے ہیں۔ عام طور پر ان تمام واقعات میں کسی نہ کسی طرح سیاستدانوں، ارباب اقتدار و اختیار کی آشیرباد، پشت پناہی یا مجرمانہ غفلت کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے۔ جب ایک شہری ادارہ پانی کی کمی کا رونا رو کر شہریوں کو پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم کردیتا ہے تو ٹینکر مافیا کے پاس اتنی وافر مقدار میں پانی کہاں سے اور کس طرح آجاتا ہے، وہ سڑکوں پر دندناتے پھرتے اور گلی گلی منہ مانگے داموں پانی فروخت کرتے ہیں۔
شہر سے پبلک ٹرانسپورٹ کہاں اور کس کی غفلت سے غائب ہوگئی، شہر کو چنگ چی زدہ کرنے میں کس کا ہاتھ ہے، ڈبل سواری پر بار بار اور بلاجواز پابندی عائد کرکے ٹرانسپورٹ مافیا کو نوازنے، شہریوں کو اذیت میں مبتلا کرنے میں کس کا ہاتھ ہے۔ لینڈ مافیا کے قبضے، گھپلے اور راتوں رات کچی آبادیاں متعلقہ محکموں اور ارباب اختیار کی نظروں سے کیوں اوجھل رہتی ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ قائم غیر قانونی کار پارکنگ سے وہ کیسے لاعلم رہتے ہیں جہاں دن میں کئی کئی مرتبہ وہ خود اور ان کے اہل خانہ گاڑیاں پارک کرتے ہیں۔
منظم پیشہ ور سیاسی اور غیر سیاسی گروہ اور سماج دشمن عناصر کی کارستانیوں کے تدارک کے لیے حکومت یا سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی ٹھوس جامع حکمت عملی ایجنڈا کیوں نہیں ہے۔ محض فوجی آپریشن، رینجرز کو پولیس کے اختیارات دے کر، دفعہ 144 یا ڈبل سواری پر پابندی جیسے اقدامات شہریوں کو کوئی سہولت دینے کے بجائے ان کے لیے مصائب و پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں کے شہری انوسٹمنٹ کمپنیوں کے ہاتھوں بھی لٹے ہیں اور رئیل اسٹیٹ اسکیموں اور پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے فریب اور دھوکے سے کھلے عام شہریوں کی دولت لوٹتے رہے ہیں۔
سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن محض عوامی انتباہ کے اشتہارات دے کر سکون سے بیٹھ جاتے ہیں کہ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرتے وقت احتیاط سے کام لیں، کچھ کمپنیاں اور ادارے دھوکے بازی کا ارتکاب کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو رقم سے محروم کر دیتے ہیں جو سرکاری اداروں کی منظوری و اجازت تشہیر کرتی ہیں، یہ بیرون ممالک میں بھی جائیداد کی فروخت کے جھوٹے اشتہارات دیتے ہیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شہریوں کو اشتہارات کے ذریعے یہ اطلاع دے کر اپنے فرائض سے سبکدوش ہوجاتی ہے کہ شہری کسی پروجیکٹ میں بکنگ کروانے سے پہلے اتھارٹی سے تصدیق کرلیں کہ وہ منظورشدہ ہے کہ نہیں ہے اور بلڈرز سے معاہدہ اتھارٹی کے نمونہ (Format) کے مطابق ہو ورنہ کسی تنازعے یا فراڈ کی صورت میں اتھارٹی ذمے دار نہیں ہوگی۔ کے ڈی اے، ایچ ڈی اے، اینٹی انکروچمنٹ سیل، کنٹونمنٹ بورڈ کے ہوتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں ناجائز آبادیاں اور غیر قانونی تعمیرات تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
گزشتہ دنوں ایڈمنسٹریٹر کراچی نے خود تسلیم کیا ہے کہ شہر کے وسائل پر ٹینکر، لینڈ اور کچی آبادی مافیا کا قبضہ ہے، تجاوزات کے خاتمے کے دوران 2 افسر شہید کیے جاچکے ہیں، شہر کی آبادی میں دگنی شرح سے اضافہ ہورہا ہے، جس میں 3 فیصد اضافہ اندرون ملک سے آنے والوں کا ہے، آبادی کے تیز رفتار اضافے سے شہر کا انفرااسٹرکچر بری طرح متاثر ہو رہا ہے جب کہ بلدیہ کے وسائل میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا۔
انھوں نے کہا کہ K-4 منصوبے کے بغیر کراچی کے شہریوں کو پانی نہیں مل سکتا۔ اس کی تکمیل کے لیے 5 سال درکار ہوں گے اور شہری آبادی میں 6 فیصد سالانہ شرح اضافے کی وجہ سے 5 سال بعد پھر اتنے ہی پانی کی قلت ہوگی جتنی آج ہے لہٰذا کراچی کو خصوصی فنڈ ملنے چاہئیں تجاوزات اور کچی آبادیوں کو ہٹانے کے لیے بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے۔
کراچی شہر کے نصف کے قریب مسائل خالصتاً انتظامی نوعیت کے نظر آتے ہیں جنھیں اہل و دیانتدار قیادت، گڈ گورننس اور قانون کے موثر نفاذ سے حل کیا جاسکتا ہے جن کے لیے کوئی اضافی بجٹ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ باقی مسائل ہنگامی نوعیت کے اقدامات اور اضافی بجٹ کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔
عدنان اشرف ایڈووکیٹ
Karachi city of Lights