کراچی: ایک مشکل شہر….

رات کے کھانے کی میز پر ہر ایک کے پاس سنانے کے لیے ایک کہانی تھی: ٹریفک سگنلز پر گن پوائنٹ پر ڈکیتی، اور چوروں کا گھروں میں گھس آنا، یہ وہ تجربات تھے جو وہ سب شیئر کر رہے تھے۔
یہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کے متمول علاقے کا ایک گھر تھا مگر یہ کہانیاں ایسے علاقوں میں زیادہ خوفناک ہوجاتی ہیں جہاں لوگ سیکیورٹی ‘خریدنے’ سے قاصر ہیں۔ شہر کے ہر تیسرے شخص کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ اس عذاب سے گزرا ہے اور وہ بھی ایک بار نہیں کئی بار۔
شہر میں خون سستا ہوگیا ہے اور ڈاکوﺅں کے سامنے کسی قسم کی مزاحمت کی قیمت لوگوں کو اپنی زندگیوں کی صورت میں چکانا پڑتی ہے: بحث مت کرو یا احمقانہ جرات سے گریز کرو، یہ وہ عام مشورہ ہے جو شہر میں آنے والے ہر فرد کو دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ صحیح بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ قانون کی عملداری ملک کے سب سے بڑے شہر میں مکمل طور پر منہدم ہونے کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور پولیس کی جانب رخ کرنا بھی آپ کے لیے بڑی مشکل کا باعث بن سکتا ہے۔
تو کوئی اس لاقانونیت کے ماحول میں کیسے خود کو بچا سکتا ہے؟ ڈکیتیوں اور لوٹ مار کی وارداتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہر کے تیزی سے تباہی کی جانب بڑھنے کو واضح کردیا ہے۔ اس زرخیر کاسموپولیٹن شہر میں لوگوں کے پاس بچنے کے اپنے طریقے ہیں کیونکہ یہ شہر اب بھی بے مثال مواقع فراہم کر رہا ہے۔
عوام کے لیے حکومت مکمل طور پر غیر متعلق یا قبضہ گروپ بن چکی ہے جسے نظرانداز کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس دولت ہے تو اپنی سیکیورٹی خود خریدیں اور دیگر خدمات کے لیے رقم ادا کریں۔ اگر آپ اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو پھر مافیاز اور مقامی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کے متلاشی بن جائیں، مگر یہ بھی آپ کی مکمل سیکیورٹی کی ضمانت نہیں۔
اب بھی یہ شہر ناقابلِ یقین رفتار سے پھیل رہا ہے اور 1998 سے اب تک کراچی کی آبادی کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے اور یہاں کے جغرافیے نے شہر کو متعدد معاشی، سماجی اور ثقافتی اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے جن کا ایک دوسرے سے بہت کم یا کوئی کنکشن نہیں۔ یقیناً اس تقسیم میں مزید نمایاں اظہار گزشتہ ایک دہائی کے دوران بڑی تعداد میں گھر بار چھوڑ کر یہاں آنے والے افراد کے اثر سے ہوا۔
یہ صرف شمال سے ہونے والی ہجرت نہیں تھی بلکہ بڑی تعداد میں لوگ اندرون سندھ سے بھی یہاں آئے، خاص طور پر آخری دو سیلابوں کے بعد۔ تاہم اس نے شہر کو پگھلتے برتن میں تبدیل نہیں کیا بلکہ اس نے ثقافتی اور معاشی تقسیم کو مزید وسیع کیا، چنانچہ ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر کلفٹن کے ساحل پر مختلف سماجی اور مالی حیثیت کے افراد کو اکھٹے دیکھا جاسکتا ہے۔
شہر میں نئے آنے والے بیشتر افراد ایسے علاقوں میں بس گئے ہیں جہاں ریاست کی جانب سے خدمات فراہم نہیں کی جا رہیں اور ان کا انحصار مختلف پاور گروپس پر ہوتا ہے، جس نے شہر کو مختلف سیاسی پیمانوں میں تبدیل کردیا ہے۔ خطے، پاور، کنٹرول یا حقوق کی اس جنگ کے نتیجے میں جرائم پیشہ مسلح گینگز کو بھی ابھرنے کا موقع ملا ہے جنہیں طاقت کے مختلف بلاکس کی سرپرستی حاصل ہے اور اس چیز نے شہر کو تشدد کے کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں دھکیل دیا ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب سے بھتے کی رقم صرف ان گینگز کو ہی ادا نہیں کی جاتی بلکہ متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نوازا جاتا ہے تاکہ اپنی بقاء کو ممکن بنایا جاسکے۔
ایک بار جب آپ کو اپنے علاقے کے سب سے طاقتور گروپ کے بارے میں معلوم ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں رہتا کیونکہ وہ آپ کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کروا سکتا ہے۔ ایک ممتاز صنعت کار نے مجھے بتایا کہ انہیں بس حکومتی ٹیکسز کا ایک حصہ انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ مگر صرف یہی کافی نہیں، بلکہ آپ کو وزراء اور حکومتی افسران کو بھی خوش رکھنا پڑتا ہے۔ ہر ایک کی اپنی قیمت ہے۔ یہ صرف کراچی میں نہیں ہوتا، لیکن یہاں پر حالات زیادہ خراب ہیں اور اس کی وجہ سندھ حکومت کے اندر کی بہت زیادہ نچوڑ لینے والی فطرت ہے۔
کراچی کی بدترین مشکلات میں مزید اضافہ گذشتہ پانچ برسوں سے ایک منتخب شہری حکومت کی عدم موجودگی سے ہوا ہے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے، پی پی پی حکومت ملک کے سب سے دولت مند شہر کا سیاسی کنٹرول کھونا نہیں چاہتی۔ دو کروڑ کے لگ بھگ آبادی والا یہ شہر متعدد یورپی ممالک سے بھی بڑا ہے اور اسے بیوروکریٹس چلا رہے ہیں جو اس شہر اور اس کے مسائل کو بمشکل ہی سمجھ پاتے ہیں۔
وفاق کے ریونیو کا بڑا حصہ اور صوبائی بجٹ کے لگ بھگ نوے فیصد حصے کو سپورٹ کرنے والے اس شہر کے لیے بہت کم فنڈز دستیاب ہیں۔ کراچی میں متعدد مناسب بلدیاتی خدمات بھی دستیاب نہیں، ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈز کے زیرتحت علاقوں سے باہر ملک کا یہ صنعتی مرکز کچرے کا ڈھیر لگتا ہے۔ مہاجرین کی بے مہار آمد نے شہر کے بڑے حصے کو ایک بڑی کچی بستی میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی شہری سہولیات تک میسر نہیں۔
اس میگا سٹی میں کوئی ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں بلکہ یہاں پبلک بسوں کی تعداد میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران کمی آئی ہے اور لوگوں کو اپنے دفاتر تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ موٹرسائیکلوں اور چھ سیٹر رکشوں کے انقلاب نے دباﺅ میں کمی میں مدد دی ہے، دو پہیوں کی سواری کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سستی موٹرسائیکلوں کی آسان اقساط میں دستیابی ہے۔
یہ الزام سامنے آتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے انکار کی بنیادی وجہ وسیع اور مالی لحاظ سے پرکشش زمینیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت کے سابقہ اور موجود دور میں آنے والا انتشار حیرت انگیز ہے، کچی بستیوں کی تیزی سے توسیع ساحل سمندر کے سامنے بلند و بالا شاپنگ مراکز اور اپارٹمنٹس عمارات کے ساتھ ہوئی۔ یقیناً منظرنامے میں رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کی آمد نے تعمیراتی سرگرمیوں کو بڑی قوت دی ہے مگر یہ وہ بیل ہے جو سابق صدر آصف علی زرداری کے دروازے تک جاتی ہے۔
بلاول ہاﺅس کے قلعے کے لیے بڑی تعداد میں مکانات کو اطلاعات کے مطابق مارکیٹ قیمتوں پر خریدا گیا۔ انکار کو قیمت کی پیشکش کے جواب میں قبول نہیں کیا گیا۔ کلفٹن کنٹونمنٹ کی زمین کا بڑا حصہ اب بلند و بالا عمارات کا مرکز بن چکا ہے۔ قابلِ استعمال بنائی گئی زمینیں بااثر ٹائیکونز کے لیے خوش حالی کا زینہ بن گئی ہیں، دوسری جانب ایک نیا بحریہ سٹی بھی شہر کے مضافات میں سامنے آنے والا ہے۔
اس شہر کو تمام تر مسائل کے باوجود کیا چیز آگے بڑھا رہی ہے؟ اس کا جواب ممکنہ طور پر اس کی مزاحمت میں چھپا ہوا ہے۔ یہاں کا ثقافتی منظرنامہ ترقی پا رہا ہے۔ کچھ تخمینوں کے مطابق رواں برس کراچی ادبی میلے نے اپنی جانب کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار افراد کو متوجہ کیا اور یہ تعداد گذشتہ سال سے کئی زیادہ ہے، مگر مزاحمت نے یہاں تبدیلی کو بھی مشکل بنایا دیا ہے۔ ایک مروف شہری پلانر اور آرکیٹیکٹ عارف حسین کے الفاظ میں “اچھا ہی ہوتا اگر یہ شہر اتنی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کرتا۔”
لکھاری ایک مصنف اور صحافی ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر لکھتے ہیں۔
zhussain100@yahoo.com
یہ مضمون ڈان اخبار میں 18 فروری 2015 کو شائع ہوا۔

Advertisements

کراچی کا امن : تعبیر کا منتظر خواب….

کراچی کے بارے میں حکومتی سطح پر جب بھی کوئی سنجیدہ غوروفکر ہوتا ہے، ہر پاکستانی کو خوشی ہوتی ہے۔ کراچی کا دکھ اب اس قدر پراناہے کہ اس کے حوالے سے اچھی خبر مشکل ہی سے آتی ہے، تاہم ہر شخص یہ خواہش ضرور رکھتا ہے کہ کراچی میں امن قائم ہو اور یہ شہر پہلے کی طرح عروس البلاد بن جائے۔ مَیں اکثر ایسے لوگوں سے ملتا رہتا ہوں جو کراچی دیکھنے یا اپنے عزیز و اقارب سے ملنے جانا چاہتے ہیں، مگر ایک انجانے خوف کی وجہ سے وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کراچی چھوڑ کر ملک کے کسی دوسرے حصے میں آباد ہونا چاہتے ہیں، لیکن کراچی کے جن علاقوں میں وہ رہتے ہیں، وہاں یورش کی وجہ سے ان کی جائیداد نہیں بکتی یا پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہیں بیچنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔ 
کچھ لوگ تو اب بھی یہی کہتے ہیں کہ کراچی میں سب اچھا ہے، حالانکہ وہاں شہر کئی حصوں میں بٹ چکا ہے، ایک علاقے کے رہنے والے دوسرے میں نہیں جا سکتے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ کراچی میں مختلف سیاسی طاقتوں نے اپنے اپنے نوگو ایریاز بنا لئے ہیں، جہاں ان کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں ما رسکتی۔ ایسے میں جب ملک کے دو بڑے وہاں جا کر حالات سدھارنے کی بات کرتے ہیں تو ایک امید ضرور پیدا ہوتی ہے، مگر یقین نہیں آتا کہ کراچی کو امن و سلامتی کا گہوارہ بھی بنایا جا سکے گا۔
میرے نزدیک سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ ہم کراچی کی اس ا پیکس کمیٹی سے بہتری کی اُمید باندھے بیٹھے ہیں، جس کے سربراہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ہیں۔ عزم و حوصلے سے محروم شخص اتنے بڑے ٹاسک پر کیسے پورا اتر سکتا ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کو کراچی کے حالیہ اجلاس کے دوران کئی بار شاہ جی کو جھنجھوڑ کر جگانا پڑا۔وزیراعظم نوازشریف کے بائیں طرف آصف علی زرداری بیٹھے تھے، جن سے پہلا سوال تو یہی بنتا ہے کہ انہوں نے ایک پیرانہ سالی کے شکار شخص کو پچھلے سات برسوں سے سندھ کا وزیراعلیٰ کیوں بنا رکھا ہے۔ 
کراچی جیسے شہر کے لئے بہت بڑے اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا سید قائم علی شاہ کے اعصاب اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ویسے بھی اتنے بزرگ سیاستدان کے لئے یہ کہاں ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام رابطے ختم کر دے، وضع داری کو پس پشت ڈالے، غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے اور سخت فیصلے کرے۔ سو مجھے تو بہت کم امید نظر آتی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں جو ایک اہم اجلاس ہوا، وہ نتائج دے سکے۔بات اسی حالت میں چلتی رہے گی، تاوقتیکہ کسی دوسرے اجلاس کی ضرورت پیش نہ آ جائے۔
کراچی کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم محمد نوازشریف نے عمومی باتیں کیں، لیکن جنرل راحیل شریف نے حقیقی اقدامات کی نشاندہی کر دی۔ یہ بات تو آصف علی زرداری بھی کہتے ہیں کہ کراچی میں امن قائم ہونا چاہیے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ موجودہ اندازِ حکومت کے ہوتے ہوئے امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ 
وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی یہی کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیرہے، ہمارے پاس دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اس کے لئے جو کڑے اقدامات اٹھائے جانے ضروری ہیں، وہ کون اور کب اٹھائے گا؟ راوی بتاتے ہیں کہ اجلاس میں جب سندھ پولیس کا ذکر آیا تو اس میں سیاسی مداخلت اور میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کرنے کی بات بھی ہوئی۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے یہ کہہ کر معاملہ ہی ختم کر دیا کہ سندھ پولیس میں بھرتیاں میرٹ پر ہو رہی ہیں۔ جب سید قائم علی شاہ کے مرشداعلیٰ یہ بیان جاری کردیں تو پھر شاہ جی سے یہ توقع کیونکر رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے مطابق میرٹ پر تقرریوں اور بھرتیوں کو یقینی بنائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اپنے اختیار کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔
 مفادات کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ہے،جس نے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اگر قیادت فیصلہ کرلے کہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کراچی میں امن قائم نہ ہو سکے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی میں تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ایسا امن چاہتے ہیں، جو صرف ان کے مفاد میں ہو، جبکہ اس سے انتشار تو پیدا ہوسکتا ہے، امن قائم نہیں ہو سکتا۔
اصل نکتہ وہ ہے، جسے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے کراچی میں امن کے لئے ایک شفاف آپریشن کو ناگزیر قرار دیا ہے، جو فرقے، نسل، زبان، سیاسی وابستگی اور علاقائی تعصب سے بالاتر ہو کر کیا جائے، سیاسی مصلحتوں نے ہی ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔ کراچی میں بدامنی کا باعث بننے والے آسمانی فرشتے نہیں، زمینی دہشت گرد ہیں، جن کا کسی نہ کسی جماعت، گروہ یا مسلک سے تعلق ہے۔
 ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے جس مجرم کو پکڑتے ہیں، اسے کوئی نہ کوئی گروہ یا سیاسی جماعت اپنا کارندہ قرار دے کر معصوم ثابت کرنے پر تُل جاتی ہے۔ سیدھے ہاتھوں گھی نہ نکلے تو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، سیاسی کمزوریوں کا شکار حکومت گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور دہشت گرد و ٹارگٹ کلرز دندناتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال سے کراچی کو مزید تباہ تو کیا جا سکتا ہے، اس کا کھویا ہوا امن واپس نہیں لایا جا سکتا۔ ایسے میں جنرل راحیل شریف نے بڑی جرات مندی اور وضاحت سے کراچی کا حل بتا دیا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے ایک ہی صفحہ پر ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ سیاسی قیادت عزم کا اظہار کرتی ہے تو عسکری قیادت اس کے عمل کی راہ دکھاتی ہے۔
کراچی میں ایک شفاف اور غیر جانبدار آپریشن کی اشد ضرورت ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو اس کی حمایت کرنی چاہیے،اب وہ لیت و لعل نہیں چلے گی، جسے معاملات کو جوں کا توں رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ہم شمالی و جنوبی وزیرستان میں جتنے چاہیں آپریشن کرلیں، جب تک کراچی کو امن کا گہوارہ نہیں بناتے، قومی سلامتی کومستحکم نہیں کر سکتے۔ دنیا میں یہ کہاں ہوتا ہے کہ کسی ملک کا سب سے بڑا شہر عملاً حکومت کے کنٹرول سے نکل چکا ہو اور طاقتور گروہ اسے چلا رہے ہوں۔ 
سندھ حکومت کی اس حوالے سے ناکامی ایک مسلمہ امر ہے۔ اس سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا۔ شہر میں نظم و ضبط کا قیام پولیس کا کام ہے، لیکن حالت یہ ہے کہ اگر آج رینجرز کو کراچی سے نکال لیا جائے تو کراچی میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کراچی کے چند بااثر طبقے رینجرز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ آرمی کے نظم و ضبط میں بندھی رینجرز سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر امن و امان کے لئے کام کررہی ہے۔
 آرمی چیف نے بجا طور پر کراچی میں رینجرز کی کارکردگی کو سراہا ہے اور اسے مزید شدت کے ساتھ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرنے کی تلقین کی ہے۔
جب سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی ہے اور فیکٹری میں 260کے قریب مزدوروں کو زندہ جلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پورے ملک کی نظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں کہ حکومت مظلوموں کو کیسے انصاف فراہم کرتی ہے؟ وزیراعظم محمد نوازشریف نے بجا طور پر اسے سب سے سنگین معاملہ قرار دیا ہے اور ہر قیمت پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کی باتوں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ شاید اس کیس کو ملٹری کورٹ میں بھیج دیا جائے۔ ایسا ہونا اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ اس سے بڑی دہشت گردی اور کوئی ہو نہیں سکتی۔
 اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے یہ اہم اعلان بھی کیا کہ دہشت گردی کے دیگر مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں گے۔ اس سے ان لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، جو یہ کہتے تھے کہ صرف مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لا کر امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ خصوصاً کراچی میں دہشت گردی کے مقدمات اگر فوجی عدالتوں میں بھیجے جانے لگے اور سرعت کے ساتھ سزائیں دی گئیں تو یقیناًاس کے شہر کے امن پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جیسا کہ مَیں نے آغاز میں کہا ہے، کراچی کے حوالے سے اٹھائے گئے ہر حکومتی اقدام کی قوم حمایت کرتی ہے، اس لئے حکومت کو اب کراچی کا امن واپس لانے کے لئے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دینا چاہیے
نسیم شاہد

کراچی کے مقتل میں…

قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا مگر اصل میں کراچی شہر ملک کی اقتصادی شہہ رگ بنتا چلا گیا، ایوب خاں یہاں سے دارالحکومت اٹھا کر تو اسلام آباد لے گیا مگر کراچی ہمارا معاشی، مالیاتی اور اقتصادی دارالحکومت بنا رہا۔یہیں ہمارا سٹیٹ بنک ہے، بین الاقوامی بندر گاہ ہے، عالمی فضائی راستوں پر واقع ایئر پورٹ بھی ہے، اور بحری دفاع کا نازک مقام بھی۔یہ بھی اقتصادی مفاد کی حفاظت کے لئے ہے کیونکہ کراچی کی بحری ناکہ بندی پاکستان کو خدا نخواستہ چند روز میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
یہی کراچی ہماری تہذیب و ثقافت کا نشان بھی تھا، علم و فن کا مرکز بھی۔یہ روشنیوں، رنگوں اور جاگتی راتوں کا شہر تھا۔
شاعروںنے دلی کے نوحے لکھے مگر کراچی کا نوحہ پڑھنے کی توفیق کسی کو نہیں، یہ بھی کسی نے نہیں کہا کہ دلی جوایک شہر تھا ، عالم میں انتخاب ،ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے۔
جنرل ضیاالحق کے دور میں جیسے کراچی کو نظر لگ گئی، اس کی روشنیاں گل ہوتی چلی گئیں۔رنگ و نور کا عالم گہنا گیا۔یہ شہر مرگھٹ بنتا چلا گیا، اب جو کوئی اس شہر میں بستا ہے، یہ اس کی جرات رندانہ کے مترادف ہے۔موت سے نباہ کرنامشکل ہے مگر پھر بھی لوگ وہاں آباد ہیں ، انہیں بربادہونے کا ڈر کیوںنہیں۔
گزشتہ روز وزیر اعظم اس شہر میں تھے۔آئین کی رو سے امن و امان کا مسئلہ صوبائی درد سر ہے مگر کوئی اختیار ایسا ہوگا جسے وزیر اعظم نے استعمال کیا ہوگا۔ شاید یہی اختیار کافی ہے کہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں۔انہوں نے آرمی چیف کو بھی طلب کر لیا۔اور ایک ایسااجلاس ہوا جس میں آصف علی زرداری بھی شریک ہوئے۔
 لگتا تو یہی ہے کہ یہ سب ماورائے آئین ہے مگر وہ جو کہا گیا کہ غیر معمولی حالات ،غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہیں، یہ ایک غیر معمولی اجلاس تھا۔کسی روز ایسا ہی ایک غیر معمولی اجلاس پنجاب اور پھر خیبر پی کے اور پھر بلوچستان میں بلایا جائے، پنجاب کے اجلاس میںمحمد سرور کو شریک کیا جائے، پشاور کے اجلاس میں عمران خان کو بٹھایا جائے ا ور بلوچستان میں جو بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں ، ان سے مشاورت کی جائے، میںنے جب یہ کہا تھا کہ ایپکس کمیٹیوںمیں عوام کو نمائندگی دی جائے تو اس کا مطلب یہی تھا۔ہر اسٹیک ہولڈر کو پتہ ہونا چاہئے کہ کیا ہونے جارہا ہے، اب تو کوئی شخص کہہ دیتا ہے کہ اسکولوں ،کالجوں کی دیواریں اونچی کر لو، ان پر خاردار تاریں لگا دو، گیٹ پر مورچہ تعمیر کرو، اور ایساہو جاتا ہے مگر کل کو کسی حاکم نے یہ کہہ دیا کہ سب گھروں ، دکانوں ، دفتروںاور فیکٹریوں کی دیوارو ں کو اونچا کر دو، ان پر خاردارتاریں لگا دو اور دروازوں پر مورچے تعمیر کرو تو اتنی ڈھیر ساری اینٹیں کہاں سے آئیں گی، اتنا سیمنٹ کہاں سے ملے گا اورلوہے کی تاریں نصب کرنے کے لئے چنیوٹ کی کانوں کی کھدائی کا انتظار کرنا پڑے گا۔
 ایسافیصلہ کرنے والی ایپکس کمیٹی میں اگر عام آدمی بیٹھاہوگا تو اس کا مشورہ یہ ہو گا کہ بھلے مانسو ،پوری ملک کی سرحد پر زمین سے فلک تک کوئی دیوار کیوں کھڑی نہیں کر لیتے۔ چین کے صدر نے اپنے ملک کے ایک شہر کو بچانے کے لئے اپنی پوری سرحد پر ایسی ہی دیوار کھڑی کرنے کا حکم دیا ہے۔
 بھارت نے پہلے ہی اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے آ ہنی دیوار نصب کر رکھی ہے اور اب جہاں کہیں کوئی دروازہ ہے جیسے واہگہ بارڈر اور میرے گاﺅں کے قریب حسینی والہ بارڈر ، تو وہاں بم پروف شیشے کے دروازے لگانے کا فیصلہ ہوا ہے، بھارت یہ کر گزرے گا، ہم نے اپنی سرحدیں کھلی کیوں چھوڑی ہیں، صرف اسلئے کہ ہر ملک ، ملک ماست۔ ہمارا بارڈر مادر پدر آزاد ہے، پوری دنیا میں جغرافیائی ریاستوں کی سرحد کو تقدس کا درجہ حاصل ہے، یورپ میں اگر سرحدیں مٹ گئی ہیں تو وہاں اس موت کا بسیرا نہیں جو جان نکالنے سے پہلے ہمارے بچوں کی کھوپڑیوں کو نشانہ بناتی ہے۔
ہم کبھی پشاور کا علاج کرتے ہیں ، اب کراچی کا رخ کر لیا ہے، پہلے ہم فاٹا میں الجھے رہے، مگر ہمارا دشمن ہماری رینج سے باہر ہے، وہ سرحد پار ہے، جب چاہتا ہے اپنی جنگ ہماری سرحدوں کے اندر دھکیل دیتا ہے اور جب چاہے سرحد پار پناہ گاہوں میں جا چھپتا ہے۔اسی کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ محمد سعید نے رمضان کی ایک افطاری میں تجویز پیش کی تھی کہ ہمیں یہ جنگ واپس دشمن کی سرزمین میں دھکیل دینی چاہیئے۔ مگر ان کی بات کسی نے سنی نہیں اور ہم اپنے ہی ملک کو میدان جنگ بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ کیا ہو گا اگر کراچی میں بھی مارا ماری شروع ہو جائے۔وہی جو فاٹا میں ہوا، دشمن ہماری آستین سے کھسک کر اپنے بیرونی مورچوں میں دبک جائے گا۔
کراچی میں مجرم کون ہے، اس کا کوئی نام نہیں، جو مارتا ہے ، جو لوٹتا ہے۔اس کا کوئی دوسرا نام کیا ہو سکتا ہے،مارنے والے کو ہر ملک میں قاتل اور لوٹنے والے کو ہر قانون کے تحت لٹیرا، ڈاکو، چور کہا جاتا ہے، اس کا کوئی نام ہو، کوئی رنگ ہو ، کوئی نسل ہو، کوئی بھی پہچان ہو، وہ قاتل اور لٹیرا ہی کہلائے گا۔فرعون نے بچوں کو مارا تھا ، ہم بھی اپنے بچوں کو مارنے والوں کو فرعون کہیں گے، نمرود نے ایک ا نسان کو آگ میں پھینکا تھا، ہم بھی زندہ جلانے والوں کو نمرود کا نام دیںگے۔ہلاکو ، چنگیز اور ہٹلر نے ہلاکت کا کھیل کھیلا تھا، آج جو بھی انسانوں کو ہلاک کر رہاہے، ہم اسے ہلاکو ، چنگیز اورہٹلر کا نام ہی دیتے ہیں۔
ہماری سلامتی کی جنگ پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔اور جنگ لڑنے کی ذمے داری ہم نے فوج پر ڈال دی ہے، عدلیہ کا بوجھ بھی فوجی عدالتوں پر انڈیل دیا ہے۔تو ہمارے باقی ادارے کس مرض کی دوا ہیں۔ان پر کھربوں کا بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے، وہ کس کام کا۔لاہور میں کسی ایس ایس پی کی رہائش گا ہ دیکھیں،کسی تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر کا گھر دیکھیں، گورنر ہاﺅس کی طرح عالی شان مگر کارکر دگی بھی تو عالی شان ہونی چاہیئے۔ورنہ گورنر سرور کی طرح سبھی استعفے دیں اور گھر کی روکھی سوکھی پر گزارا کریں۔
کل کو اگر فوج کم پڑجائے اور اس کی معانت کے لئے البدر اور الشمس کھڑی کرنی پڑے تو یہ فیصلہ پہلے ہو جائے کہ جب البدر اور الشمس کی قیادت کو مستقبل میں کوئی پھانسی دے گا تو کیا اس کے لئے کوئی آواز اٹھانے والا بھی ہو گا۔
اسد اللہ غالب

کراچی شہر اور شہریوں کے مسائل…..

کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر گونا گوں مسائل میں گھرا ہوا نظر آتا ہے جس میں اکثر مسائل خود پیدا کردہ ہیں جن کی بنیادی وجہ کرپشن، نااہلی اور ناانصافی ہے یہاں کے بیشتر مسائل گڈگورننس قائم کر دینے سے خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ آیندہ 15 سالوں میں کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر بن جائے گا۔ اگر یہی روش برقرار رکھی گئی تو اس کا کیا حال یا انجام ہو گا یہ تصور ہی بڑا خوفناک ہے۔
 
اس شہر کے لیے کوئی شہری پلان بنایا گیا ہے نہ ہی کوئی خاص منصوبہ بندی کی گئی۔ ارباب اقتدار اس طرف توجہ سے غافل رہے ہیں۔ شہر میں انصاف، اصول اور قانون نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی۔ ہر قانون شکن، طاقتور اور استحصال پسند آزاد ہے بلکہ اسے ہر قسم کے مواقعے، سہولیات اور تعاون میسر ہے۔ قانون اور امن پسند شہریوں پر عرصہ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ شہری شدید قسم کے خوف نفسیاتی دباؤ اور عوارض کا شکار ہیں۔ بہت سے مہلک امراض کی وجہ بھی شہر کا سیاسی، سماجی اور صنعتی ماحول ہے۔ تعلیم اور بھرتیوں کا معیار ختم ہو چکا ہے۔
ان میں کرپشن اور اقربا پروری کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ عام لوگوں کو ہر محکمے کی ہر آسامی پر بھرتی کے نرخ اور چینل معلوم ہیں وہ مجبور ہیں کہ رشوتیں دے کر یا سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے ملازمتیں حاصل کریں۔ ظلم در ظلم یہ ہے کہ رشوتیں لے کر بھرتی کیے جانے والے افراد کو کئی کئی ماہ تنخواہیں نہیں ملتی ہیں پھر وہ بھوک ہڑتالیں مظاہرے اور ہنگامے کرتے ہیں۔ لیکن ان سے رشوتیں لے کر بھرتی کرنے والے افسران انکوائری میں کرپشن کے مرتکب ثابت ہو جانے اور کروڑوں روپے لے کر غیرقانونی بھرتیاں کرنے کے اعتراف کے باوجود کسی احتسابی عمل سے محفوظ رہتے ہیں ماسوائے کبھی کبھار معطل یا ٹرانسفر کیے جانے کے۔
پانی، بجلی، ٹریفک جام، بھتہ گیری اور رہزنی کی وارداتیں بڑے اور مشترکہ مسائل ہیں جن سے ہر شہری کو ہر وقت سابقہ رہتا ہے چاہے وہ ملازمت میں ہو، کاروبار میں ہو یا گھر میں جس کی وجہ سے سرمایہ، صنعت، ذہن اور مہارتیں اس شہر سے منتقل ہو رہے ہیں۔ شہریوں کو پینے کے پانی جیسی بنیادی نعمت میسر نہیں ہے۔ شہر میں ٹینکر مافیا، لینڈ مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا، ایجوکیشن مافیا، بھتہ مافیا ایک باقاعدہ صنعت کی صورت حال اختیار کر چکی ہیں۔
پولیس اور انتظامیہ کی توجہ اور دلچسپی جرائم اور مسائل کے حل میں تو کم نظر آتی ہے البتہ ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دینے، موبائل فون سروسز بند کر دینے، جلسے، جلوسوں، ریلیوں اور دھرنوں کو کنٹرول کی بجائے پٹرول پمپس، مارکیٹیں بند کرا کے شاہراؤں کو بلاک کر کے شہریوں کو ٹریفک جام کے عذاب میں مبتلا کر دینے جیسے اقدامات پر زیادہ نظر آتی ہیں۔
 شہریوں کی شکایت عام ہے کہ انتظامیہ ٹرانسپورٹرز کی ملی بھگت سے موٹر سائیکلوں کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کرتی ہے جس سے ان کو لاکھوں روپے روزانہ کی اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ ڈبل سواری پر پابندی کا گاہے بہ گاہے اطلاق 24 اور 48 گھنٹوں کے لیے اس طور پر کیا جاتا ہے کہ عام آدمی اس سے آگاہ ہونے سے قبل ہی لاعلمی میں اس جرم میں دھر لیا جاتا ہے پھر پولیس کو رشوتیں دے کر یا عدالتوں سے ضمانت کروا کے جان خلاصی کراتا ہے۔
شہر میں پانی چور ٹینکر مافیا کو انتظامیہ اور واٹر بورڈ کی آشیرباد حاصل یا یہ ادارے اتنے بے بس ہیں کہ شہریوں کو اس مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو ان اداروں کو ٹینکر اور بل ادا کرنے کے باوجود منہ مانگے داموں پر منت سماجت کے ذریعے ٹینکر مافیا سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ہر علاقے میں گھروں میں پانی کے حصول کے لیے بورنگ کرائی گئی ہے جابجا پانی کے لیے بورنگ کا کام ہوتا نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے پانی کی زیر زمین سطح کافی نیچے چلی گئی ہے۔ بتدریج پانی کی کم ہوتی سطح کی وجہ سے پرانی بورنگ ناکارہ ہو رہی ہیں اور پانی کے حصول کے لیے ازسرنو 150 فٹ نیچے تک بورنگ کرائی جا رہی ہیں۔
جس پر ایک لاکھ روپے سے زیادہ کا خرچہ آ رہا ہے۔ ہمارے ایک دوست نے جو کاروبار میں نقصان اٹھا کر صفر پر آ چکے تھے دوستوں کی رائے کے برخلاف بورنگ کی دو مشینیں لے کر قسمت آزمائی کے لیے اس نئے کاروبار میں کود پڑے۔ چھ ماہ بعد ملاقات ہوئی تو اپنی نئی کار کی طرف اشارہ کر کے گویا ہوئے کہ یہ اسی کاروبار کی مرہون منت ہے جس کی آپ لوگ مخالفت کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ ذاتی تعلقات والوں سے ہی اتنے کام کی ایڈوانس بکنگ ہے کہ کام سے معذرت کرتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے حال ہی میں عدالتی حکم پر کراچی شہر میں قائم 105 غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار کیے گئے ہیں مزید 52 کو مسمار کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے اور آیندہ ان کی تعمیر کو روکنے سے متعلق طریقہ کار بنا کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
حکومت نے اس سلسلے میں متعلقہ چیف انجینئر کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ اگر دوبارہ ہائیڈرنٹس پمپس تعمیر ہوئے تو انھیں معطل کر دیا جائے گا۔ ان غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے انہدام سے بہت سی آبادیوں کو جہاں ہفتوں ہفتوں پانی نہیں آتا تھا وافر مقدار میں پانی ملنا شروع ہو گیا ہے۔ اس سے قبل ہائیکورٹ کے حکم پر جہانگیر پارک اور دیگر بازاروں کے اطراف میں تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا تھا لیکن فوٹو سیشن اور عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کے بعد یہ تجاوزات دوبارہ قائم کر دیے گئے تھے۔ کورٹ ناظر کی رپورٹ پر عدالت نے دوبارہ قائم ہونے والے 
تجاوزات کو 48 گھنٹوں میں ختم کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے لاپتہ افراد کے حوالے سے سندھ حکومت کے طرز عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ حکومت تو بالکل فارغ بیٹھی ہے ان کو کوئی پرواہ نہیں ہے ان کے لا افسران سے جو بات بھی پوچھی جاتی ہے وہ نہیں بتا سکتے۔ عدالت عظمیٰ یہ بھی کہہ چکی ہے کہ اگر حکومت کام نہیں کر سکتی تو کسی اور کے حوالے کر دیں۔
پانی کا مسئلہ ہو یا، تجاوزات کا یا پھر ٹریفک جام، ڈبل سواری پر پابندی، بھتہ گیری جیسے عوامی مسائل، عدالتیں شہریوں کے حقوق کی پامالی پر گاہے بہ گاہے از خود بھی ایکشن لیتی رہتی ہیں اگر ایسا نہ ہو تو صورتحال معلوم نہیں کہاں پہنچے لیکن چند روزہ بہتری کے بعد صورتحال وہی ہو جاتی ہے حالانکہ شہری سہولیات کی فراہمی ان کا تحفظ ان کی منصوبہ بندی حکومتی اداروں کی ذمے داری ہے جس سے وہ بے بہرا نظر آتے ہیں۔ 2006ء سے زیر التوا K-4 منصوبے کے بارے میں اب خبر آئی ہے کہ اس منصوبے کے لیے کنسلٹنٹ کا تقرر کر لیا گیا ہے 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کا یہ منصوبہ اگر مزید التوا کا شکار نہ ہوا تو 3 سال میں مکمل ہو گا جب تک یہ منصوبہ مکمل ہو گا پانی کی قلت اس سے زیادہ بڑھ چکی ہو گی۔
کراچی شہر کے مسائل کے حل اور شہری منصوبہ بندی کے لیے حکومت سندھ کے پاس اہلیت نظر آتی ہے نہ مطلوبہ وسائل۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو اس صورتحال پر فوری اور خصوصی توجہ دے کر ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے یہ شہر اور اس کے شہری محفوظ ہو کر یکسوئی سے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
عدنان اشرف ایڈووکیٹ

کراچی یا1980ء کا بیروت….

یادش بخیر!سابق چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے21ستمبر2013ء کو کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران کہا تھاکہ’ کتنی تشویشناک بات ہے کہ شہر کی دکانوں سے لانچر اور اینٹی ایئر کرافٹ گن مل رہی ہیں ، سب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں،حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں۔ اسرائیل، نیٹو ، امریکا اور بھارت کا اسلحہ آرہا ہے ، غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی کے لئے کرفیو بھی لگایا جاسکتاہے‘۔
 جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے تھے کہ ’یہاں اسلحہ کرائے پر مل رہا ہے، ہمارے زمانے میں تو سائیکل کرائے پر ملتی تھی‘۔ یاد رہے کہ 2011ء میں بھی سابق چیف جسٹس نے انتباہ کیاتھا کہ ’کراچی ’مِنی پاکستان‘ ہے اور اس شہر کو اگر آج کنٹرول نہیں کریں گے تو کبھی کنٹرول نہیں ہو گا‘‘۔ اسی تناظر میں فروری 2013 ء کوسپریم کورٹ نے حکومت سندھ سے کہا تھا کہ وہ اس عنوان کا اشتہار دے کہ’’شہری اپنی ذمہ داری پر گھروں سے نکلیں، 22 ہزار ملزم آزاد گھوم رہے ہیں، بد امنی کے باعث کراچی میں شفاف انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے، سیاسی مصلحتوں کے باعث حکومت قانون سازی نہیں کر رہی ، اس نے طے کر لیا کہ قاتلوں اور لٹیروں کو نہیں پکڑنا، عوام کا اداروں پر اعتماد ختم ہو گیا‘‘۔
 یہ کس قدر شرمناک اور افسوسناک بات ہے کہ عدالت عظمیٰ شہریوں کو یہ ہدایت کرنے پر مجبور ہوئی کہ وہ اپنے بچوں کو امام ضامن باندھ کر باہر بھیجا کریں۔ 2011ء میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے دوران کراچی کے18سو شہریوں کو لقمۂ اجل بنناپڑا تھا۔ پچھلی حکومت کے پانچ برس میں جتنے شہری’’ ٹرائیکا‘‘کی شہر پر قبضہ کرنے اور دھاک بٹھانے کی جنگ میں فنا کے گھاٹ اتارے گئے اتنے شہری ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کی ’آزادی کی جنگ‘ میں بھی ہلاک نہیں ہوئے۔
زرداری حکومت کے پانچ سالوں میں صرف کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے دوران جاں بحق ہونے والے عام شہریوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق کسی بھی طور پانچ ہزار سے کم نہیں۔ ان شہریوں میں سے کسی کا ایک قاتل بھی آج تک گرفتار نہیں ہو سکا۔ سندھ میں دہشت گردوں کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ اگر جرأت و ہمت سے کام لیتے ہوئے اُن کے خلاف کسی تھانے میں کوئی نامزد پرچہ کرا بھی دیا جائے تو چند ہی ماہ میں پولیس کے تفتیشی افسران، گواہوں اور مدعیوں کے لرزہ خیز قتل کی خبریں بتدریج سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ میں مارے جانے والے عام شہریوں کے ورثاء کی اکثریت ایف آئی آر درج کرانے اور گواہی دینے سے ڈرتی ہے۔جب یہ صورت ہو تو حکومت از خود حق حکمرانی کھو دیتی ہے۔ 
سپریم کورٹ کی آبزرویشن کہ’ کراچی میں آپریشن کلین اَپ کے سوا چارہ نہیں‘ محض ایک آبزرویشن نہیں بلکہ 18 کروڑ پاکستانیوں کے محسوسات، جذبات اور خیالات کی عکاسی ہے۔ کسی وجود میں اگر چھوٹا موٹا کوئی زخم ہو تو مرہم اور پھا ہا اس کا سامانِ اندمال ہو سکتے ہیں لیکن جب یہ زخم ناسور بن جائے تو پھر اس کے لیے یقیناًکیمیوتھراپی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کراچی کے تیزی سے بگڑتے حالات پر ہر محب وطن شہری مضطرب ہے۔ وہ اصلاح احوال چاہتا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کراچی کے شہری1980ء کے بیروت کے شہریوں سے بھی بدتر صورت حال سے دو چار ہیں۔
یہاں اس امر کا ذکر ناگزیر ہے کہ غیر قانونی اسلحے اور ریونیو چوری ہونے سے متعلق سپریم کورٹ کے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ رمضان بھٹی نے اپنی رپورٹ میں تحریری طور پر عدالت کو بتایا تھاکہ ’میری ٹائم اور کسٹم کا دعویٰ ہے کہ اس بات کے امکانات ہیں کہ ہمسایہ ملک سے اسلحہ گہرے سمندر سے لایا جاتا ہے اور وہاں سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ساحلی علاقے تک لایا جاسکتا ہے ،کسٹم کلکٹریٹ کے پاس تیز رفتار بوٹس بھی نہیں ہیں کہ وہ ایک ہزار کلومیٹر ساحلی علاقے کی نگرانی کرسکیں‘۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’ساحلی پٹی پر 39 مقامات ہیں جہاں پر لا نچیں آسانی سے لوڈ کی جاسکتی ہیں اور سامان اتارا جاسکتا ہے تاہم ان میں سے صرف 7 مقامات پر کسٹم کا عملہ تعینات ہے جبکہ 32 مقامات پر میری ٹائم اور کوسٹ گارڈ کا چیکنگ کا کوئی نظام نہیں ہے‘۔
ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ جہاں وزیرستان اورقبائلی علاقوں کے شدت پسند اور علیحدگی پسند ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں، وہاں بلوچستان اورکراچی کے عسکریت پسند بھی ناقابل معافی ہیں۔ کراچی کے حالات سے بھی چشم پوشی نہ کی جائے، پاکستان کے اس اقتصادی دارالحکومت میں دہشت گردی کا جو عفریت مافیاز کی شکل میں پھنکار رہا ہے، اس کا قلع قمع کرنا بھی مقتضیات وقت میں سے ہے۔ کون نہیں جانتا کہ عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر کراچی شہر کا تشخص پاکستان کے اقتصادی دارالحکومت کاہے۔ سیکولر لسانی اور قوم پرست فاشسٹ مافیا ز نے تخریب کاری، دہشت گردی اور قتل و غارت کی بہیمانہ وارداتوں کے ذریعے اس پُر وقار تشخص کو اس حد تک مسخ کر دیا ہے کہ عالمی سرمایہ کار تو کجا امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث مقامی سرمایہ کار بھی سرمائے سمیت یہاں سے پرواز کر رہا ہے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ شہر قائدمختلف مافیاز کے نرغے میں ہے۔ شہر قائد کو مافیاز کے محاصرے سے نجات دلانے کے لیے کراچی کی مؤثر اور با رسوخ جماعتوں کو ٹھوس، مثبت اور عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔کراچی میں ہر روز 125 کروڑ سے 150 کروڑ تک کی رقم بھتہ خور مافیا کو شہری اور کاروباری حضرات ’’دان‘‘ کرنے پر مجبور ہیں۔ شہری اس حد تک خوفزدہ ہیں کہ وہ بھتہ خوروں کے نام بھی ہونٹوں پر لانے سے گھبراتے ہیں۔
 سچ تو یہ ہے کہ بھتہ خور مافیا کی دہشت گردی کے سامنے طالبان کی دہشت گردی بھی ماند پڑ گئی ہے۔ اس پر بعض حلقوں کا یہ تجزیہ لائق توجہ ہے کہ ٹارگٹ کلر اور بھتہ خور مافیا کی دہشت گردی کو اس لیے برداشت کیا جا رہا ہے کہ اس کے مرتکبین علانیہ سیکولر ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ تو کیا سیکولر دہشت گردی ایک قابل قبول عمل ہے۔ حکومت کی جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ میں جن چار جماعتوں اور فشاری گروہوں کی نشاندہی کی گئی تھی، اُن میں سے کسی ایک کے خلاف اب تک حکومتی سطح پر کوئی مؤثر اور نتیجہ خیز کارروائی نہیں کی جا سکی۔ جن ارباب حکومت کی ذمہ داری یہ کارروائی کرنا ہے ، وہ اپنے اقتدار اور حکومت کا طرۂ امتیاز مفاہمت کی پالیسی اور مفاہمت کی سیاست کو قرار دیتے ہیں۔ مفاہمت کی سیاست کا مطلب اگر شہریوں کو مختلف انسانیت دشمن مافیاز کا چارا بناکر اُن کی زندگیوں کو عذاب مسلسل سے دو چار کرنا ہے تو عوامی رائے یہ ہے کہ ایسی مفاہمت کی سیاست سے توبہ ہی بھلی۔
گزشتہ کئی برسوں سے یہ معمول ہے کہ کراچی میں ہر سال تقریباً60دن ہنگاموں، مظاہروں، جلسوں، جلوسوں، ہڑتالوں ، دہشت گردانہ و تخریب کارانہ کارروائیوں کی وجہ سے تجارتی مراکز اور صنعتی ادارے بند رہتے ہیں۔ اگر یہ مراکز اور ادارے ایک دن بند رہیں تو تقریباًصنعت کاروں ، دکانداروں اور تاجروں کو 10ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ 30لاکھ کے قریب مزدور اور دیہاڑی دار محنت کش بیکاراور بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ ایک دن کی ہڑتال سے FBRکو دو ارب روپے کے محصولات سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ 
یوں گویا ہر سال کاروباری طبقہ کو 6 سو ارب روپے اور FBR کو ایک کھرب 20ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔متحدہ کے قائد کراچی کے شہریوں کے بوجوہ پاپولر لیڈر ہیں اور صوبائی اور قومی اسمبلی کی اکثر نشستوں پر عام انتخابات میں ان کی جماعت کے نامزد امیدوار ہی ٹھپہ شاہی کی بدولت کامیاب ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم ہر دور میں وفاق اور صوبے میں حکمران جماعت کے اتحادی کی حیثیت سے جملہ مراعات و سہولیات کے حصول کے ساتھ ساتھ مختلف وزارتوں کے قلمدان بھی ہتھیالیتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ تقریباً12برس سے سندھ کی گورنری بھی متحدہ ہی کے پاس ہے۔ 
گویا وفاق اور سندھ میں متحدہ ہی حکومت میں رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں زرداری دور میں متحدہ کے قائد یہ مطالبہ کس سے کر رہے تھے کہ ’سندھ حکومت دہشت گردی کے واقعات کو کنٹرول کرے‘۔حقیقت یہ ہے کہ اگر متحدہ چاہے اور اس کے وابستگان فعالیت اور تندہی سے کوشش کریں تو کراچی شہر میں 1984ء سے قبل کے دور کی رونقوں کا احیاء کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات زبان زد عام ہے کہ ’’تین الف‘‘ ایسے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو کراچی میں امن کے قیام کی راہیں بآسانی ہموارکی جا سکتی ہیں۔ یہ تین الف استعارہ ہیں، آصف علی زرداری، الطاف حسین اور اسفند یار ایسی مقتدر، معتبر اور بارسوخ شخصیات سے۔ کون نہیں جانتا کہ کراچی میں متحدہ ، پیپلزپارٹی اور اے این پی کا اثر و رسوخ ہے اور یہ تینوں جماعتیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ایک دوسرے کی اتحادی بھی ر ہیں لیکن ستم ظریفانہ المیہ یہ ہے کہ اکثر بڑے خونریز واقعات کے بعد ایک عرصہ تک یہ تینوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتی رہیں۔ اس کے باوجود سچ یہ ہے کہ اگر یہ ٹرائیکاعزم صمیم کر لے کہ کراچی کے امن کو بحال رکھناہے تو شہر قائد میں تجارتی، شہری، کاروباری، تفریحی، علمی، ادبی اور ثقافتی گہما گہمیوں اور سرگرمیوں کی گل شدہ شمعوں کو اجالنا ہو گا۔
حافظ شفیق الرحمن