کور کمانڈر کراچی کی کھری کھری باتیں

Advertisements

I am Karachi


کراچی شہر جہاں پر پورے پاکستان سے لوگ روزگار حاصل کرنے کے لیے آتے رہتے ہیں، یہ شہر غریب پرور ہے جہاں پر بھکاری سے لے کر امیر ترین آدمی مقیم ہے اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ میری اس شہر سے بہت ساری یادیں وابستہ ہیں جو گزشتہ دنوں ہونے والے ایک پروگرام I am Karachi میں شرکت کر کے نہ صرف تازہ ہو گئیں بلکہ وہاں پر بنائی گئی ایک ڈاکومنٹری فلم کراچی کے بارے میں دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ خوشی اس لیے کہ اس میں پرانے کراچی کے مناظر اور تصویریں دیکھنے کو ملیں مگر دکھ اس لیے کہ اس وقت کراچی کا حال اچھا نہیں۔
میں جب پہلی مرتبہ کراچی میں 1968ء میں آیا تو مجھے اس شہر کا موسم، لوگ، ان کا پیار، ادب و آداب، مہمان نوازی، صفائی، سہولتیں اور تفریحی مقامات جس میں سینما گھر بھی ہیں بہت اچھے لگے۔ لاڑکانہ سے بذریعہ ٹرین جامشورو ریلوے اسٹیشن پہنچا، بس کے ذریعے سپرہائی وے پر سفر کیا۔ راستے میں صرف ایک ہی مڈوے ہوٹل تھا جو اب کھنڈر اور ویران نظر آتا ہے۔ بس صدر ایمپریس مارکیٹ پہنچی تو چاروں طرف بڑی چہل پہل نظر آئی کہیں پر تجازوات کا نام و نشان نہ تھا۔
بسیں، گھوڑا گاڑی، گدھا گاڑی اور سائیکلیں چلتی نظر آئیں اور کہیں کہیں تو اونٹ گاڑی بھی نظر آتی تھی۔ میں کراچی آیا تو مہینہ جون کا تھا پھر جولائی آ گیا۔ ان مہینوں میں آسمان پر بادل گھومتے نظر آئے اور کالی گھٹاؤں سے پھوار پڑتی تھی جس کو ہوا چاروں طرف جب پھیلاتی تو نظارہ اور ماحول بڑا دلکش بن جاتا۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتا تو موسلا دھار بارشیں شروع ہو جاتی تھیں۔ لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اس حسین موسم کو انجوائے کرتے تھے۔ کتنی بھی بارش ہوتی بجلی نہیں جاتی تھی اور نہ ہی گندے پانی سے شہر کی سڑکیں خراب ہوتی تھیں۔ لگتا تھا بارش تو ہوئی ہی نہیں۔
صدر کا علاقہ پیدل گھومتے تھے، چاروں طرف دکانوں، ہوٹلوں کے ساتھ سینما ہاؤسز نظر آتے تھے دوپہر کو میٹنی شو کے لیے بڑی لمبی قطاریں بنی نظر آتیں۔ اس زمانے میں فلم دیکھنا اور خاص طور پر فیملی کے ساتھ ایک بڑی تفریح تھی۔ فلم کے انٹرول میں چیزیں بیچنے والے آواز لگاتے تھے تو اس کا ایک عجیب سا رومانس ہوتا تھا۔ فلم دیکھنے کے بعد پیدل چل کر بڑی دور کھانا کھانے جاتے تھے، ایرانی ہوٹلز میں جا کر چائے پی جاتی تھی۔
کراچی روشنیوں کا شہر تھا ہر روڈ، راستہ، گلی، کوچہ، گھر، دکان اور محلہ جگمگاتا رہتا تھا۔ رات کو دیر تک لوگ بلب کے نیچے تاش، شطرنج کھیلتے رہتے تھے اور ریڈیو سننے کا بڑا رواج تھا۔ اس وقت لوگ سی ویو پر جاتے تھے اور وہاں پر ایک امن اور محبت کا ماحول ہوتا تھا اور لوگ عورتوں کی بڑی عزت کرتے تھے۔ کراچی میں رہنے والے ہوں یا پھر ملک کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگ ہوں ایک دوسرے کا بڑا احترام کرتے تھے۔ اس وقت مکرانیوں کا بڑا زور ہوتا تھا جو خاص طور پر سینما گھروں میں یا پھر فیکٹریوں میں کام کرتے تھے۔ مکرانیوں کا ایک زبردست کلچر تھا اور وہ اسے شہر میں ہونے والے پروگراموں میں اپنے کلچر کو گا کر، ناچ کر بتاتے تھے۔
کراچی کی ایک اور بڑی پہچان ٹرام بھی تھی جس پر ہم لوگ بولٹن مارکیٹ سے لے کر صدر تک آتے جاتے تھے اور بندر روڈ پر اس کا بنا ہوا ٹریک اچھا لگتا تھا اور کبھی کبھی تو وہ پٹری سے جب اتر جاتی تھی تو لوگ اسے دھکیل کر پٹری پر لے آتے تھے۔ اس کے علاوہ لوکل ٹرین جو کراچی میں رہنے والوں کے لیے ایک بڑی سہولت تھی جو اب اپنا نام و نشان تقریباً ختم کر چکی ہے۔ لوگ چڑیا گھر کا رخ کرتے تھے جہاں پر ہر قسم کے پرندے اور جانور ہوتے تھے جس کا اب برا حال ہے اور آئے دن جانور اور پرندے بھوک اور کم سہولت کی وجہ سے مر رہے ہیں اور خالی پنجرے رہ گئے ہیں اور صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی بدبو آتی ہے۔ منوڑہ جانا بھی ایک اہمیت رکھتا تھا جہاں پرکشتیاں ہوتی تھیں جن پر سوار ہو کر جانا پڑتا تھا اور وہاں پر حادثات کے واقعات شاذ و نادر ہوتے تھے۔
کراچی میں کئی فلم اسٹوڈیو بن گئے تھے جہاں پر اردو، سندھی اور پنجابی فلموں کی شوٹنگ ہوتی رہتی تھیں، ایک سو سے زائد سینما گھر تھے جہاں پر انگریزی، اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو فلموں کے الگ الگ فلمی تھیٹر تھے۔ اس زمانے میں لالوکھیت اور کلفٹن کا اپنا اپنا کلچر ضرور تھا، مگر کوئی دولت کا مقابلہ نہیں تھا اور ہر طبقہ اپنے طور پر خوش اور مطمئن تھا۔
مجھے یاد ہے کہ جب رات میں ہوا چلتی تھی تو راستے میں چلتے چلتے آنکھیں بند ہونے لگتی تھیں اور نیند آ جاتی تھی۔ بس میں سفر کرتے وقت عورت کا احترام اور بزرگوں کی عزت بہت ہوتی تھی نوجوان اور بچے خود کھڑے ہو جاتے اور معمر یا عمر رسیدہ لوگوں کو اپنی سیٹ دے دیتے تھے اور عورتوں کے پورشن میں کبھی نہیں جاتے تھے آج کل اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ اس وقت برداشت کا بڑا عمل تھا اور بس کے کنڈیکٹر اور مسافروں کے درمیان ایک اخلاق اور رواداری نظر آتی تھی۔
کراچی میں صرف سرکاری اسکول اور سرکاری اسپتال زیادہ ہوتے تھے جہاں پر ہر غریب آدمی تعلیم اورصحت کی سہولتیں حاصل کرتا تھا اور اب تو پرائیویٹ اسکولوں اور اسپتالوں کا اتنا جال بچھ گیا ہے کہ سرکاری ادارے اس میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ سرکاری اداروں میں رشوت کا کوئی اتنا غلبہ نہیں تھا اور اگر رشوت صرف چپڑاسی یا پھر کلرک قبول کرتا تھا اور اگر آپ نہ دیں تو کوئی ضد یا دھمکی نہیں دیتے تھے۔
اب تو کھلم کھلا کہتے ہیں کہ جسے کہنا ہے کہو پیسے کے بغیر کام نہیں ہو گا۔ سپر ہائی وے بننے کے بعد گلشن اور سہراب گوٹھ بننا شروع ہوئے۔ بھٹو صاحب کے آتے ہی ترقیاتی کاموں میں تیزی آئی اور خاص طور پر پنجاب، سرحد سے لوگ روزگار کے حوالے سے کراچی کی طرف آنے لگے جو سلسلہ اتنا تیز ہو گیا کہ کراچی میں خالی پڑی ہوئی زمینوں پر کچھ قبضہ اور کچھ قانونی طرح سے فلیٹ، بنگلے اور شاپنگ مرکز تیزی سے تیار ہونے لگے جس پر حکومت نے کوئی خاص attention نہیں دی جس کی وجہ سے سینی ٹیشن، بجلی، پانی کی فراہمی، روڈز اور رہائشی پلاٹس کا پرابلم پیدا ہو گیا۔
صدر ایوب خان اور بھٹو صاحب کے شروع والے ادوار میں کوئی ہتھیار کی دوڑ یا موجودگی نہیں تھی اور کچھ غنڈہ قسم کے لوگوں کے پاس چاقو اور کلپس ہوتے تھے اور لڑائیاں زیادہ نہیں ہوتی تھیں۔ جب جنرل ضیا الحق کا دور آیا تو افغانستان سے ہتھیار، ہیروئن اور افغان مہاجروں کا بڑا اندراج ہوا۔ آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے جرائم ہونے لگے، اور پھر اغوا، لوٹ مار، ڈکیتیوں نے اس شہر کو اپنے نرغے میں لے لیا۔ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی نے مسائل میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ۔
یہ عالم دیکھ کر پڑھے لکھے لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک کمپین شروع کی ہے جس کے تحت وہ لوگوں کو کراچی کو بچانے کے لیے کئی علمی، ادبی، کلچرل پروگرامز کرتے رہتے ہیں تا کہ یہاں رہنے والا ہر شخص کراچی کو مصیبتوں اور مسائل سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس شہر کی ایک اور بڑی ضرورت پبلک ٹوائلٹس ہیں جن کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑی پریشانی ہوتی ہے جس میں خواتین سرفہرست ہیں۔ آئی ایم کراچی والوں کے پروگرام قابل ستائش ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ کراچی میں رہنے والے اپنی شناخت کراچی سے منسلک کر دیں اور اس کے علاوہ جن جگہوں پر بڑے بڑے تعمیراتی پروجیکٹ بنائے جا رہے ہیں وہاں پر موجود قومی ورثہ اور پرانی بستیوں کو مسمار نہ کیا جائے جو کراچی کی پہچان ہیں اور جو لوگ صدیوں دے اس شہر کی یادوں کو آباد کیے ہوئے ہیں ان کا بھی خیال رکھا جائے۔
یہ شہر جو کئی کلاس کی سوسائٹیوں میں بٹا ہوا ہے اسے ایک بنانے کے لیے تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں کو غریبوں اور کم Privileged علاقوں میں زیادہ بڑھایا جائے جس کے لیے موجودہ حکومت کو پلاننگ کرنی ہو گی۔
  
نئی بستیوں میں اور پرانے علاقوں میں جا کر مسائل کو حل کرنا ہو گا جہاں ہر ایک گھر میں ایک کمرے میں گنجائش سے زیادہ لوگ رہتے ہیں جس کی وجہ سے سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور کئی ذہنی اور جسمانی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے سسٹم کو اچھا بنایا جائے اور گھروں کے کرائے کم کرنے چاہئیں کیونکہ آدمی کی پوری آمدنی ٹرانسپورٹ اور کرائے میں ہی خرچ ہو جاتی ہے۔ جس سے غربت اور کرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ امن و امان کی صورتحال کو صحیح کرنے کے لیے قانون کی بالادستی قائم کرنی ہو گی۔ اس زمانے میں تو ایک سائیکل والے کا بھی چالان ہوتا تھا یہ عالم تھا قانون کا۔
لیاقت راجپر

کراچی میں پانی کا سنگین بحران

کراچی میں پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہوتا جارہا ہے اور اس میں اضافے کے سبب عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ ایک جانب دیکھا جائے توکراچی کو پینے کے صاف فراہمی کے لیے جہاں کے الیکٹرک اورواٹر بورڈ کا تنازعہ ہے، عدم ادائیگوں کو جواز بنا کر پمپنگ اسٹیشن پر لوڈ شیڈنگ کر کے کراچی کا پانی روک لیا جاتا ہے تو دوسری جانب واٹرمافیا کی جانب سے مہنگے داموں پانی کی فروخت کے لیے قانونی پائپ لائنوں میں غیر قانونی کنکشن لگا کر رہی سہی کسر پوری کردی جاتی ہے ۔
سندھ رینجرز کی جانب سے گزشتہ ہفتوں شاندار مہم ان ہائیڈرنٹ کے خلاف شروع کی گئی اور متعدد غیر قانونی ہائیڈرنٹ کاخاتمہ کیا گیا لیکن ظاہر ہے کہ بُرائی کا خاتمہ اگر ہمیشہ کے لیے ہوجائے تو پھر مسائل ہی پیدا کیوں ہوں۔ پانی کی کمیابی کے اس سلسلے میں اہل علاقہ کی ایک بہت بڑی تعداد نے راقم سے رابطہ کیا اور روزنامہ ایکسپریس کے توسط سے اپنے مسائل کے ذکر میں ’شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے ساتھ ساتھ پی پی پی اور واٹر بورڈ عملے کی جانب سے کی جانے والی بے انصافیوں پر عوام کی آواز ارباب ِ اختیار تک پہنچانے کی درخواست کی۔
واضح رہے کہ یونین کونسل 9 سائٹ ٹائون کے علاقے تقریباََ پچاس سال سے آباد ہیں اور یہاں پہلی بار کسی بڑے ترقیاتی منصوبے شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کا افتتاح کیا گیا۔ سندھ کے صوبائی حلقہ پی ایس 96اور قومی اسمبلی 242پر متحدہ قومی موومنٹ ہمیشہ کامیاب ہوتی رہی ہے۔ ماضی میں تعصبات اور لسانیت کے سبب ان علاقوں میں نظر انداز کیا گیا تو بعد ازاں کٹی پہاڑی میں طالبائزیشن کے بے بنیاد پروپیگنڈے کے تحت بلدیاتی اداروں کی توجہ ان علاقوں سے ہٹا دی گئی ۔
علاقے کی 90فیصد آبادی پختون ہے جب کہ دس فیصد آبادی میں دیگر زبان بولنے والی قومیتیں آباد ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ۔’ شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کو ADP 2012-2013میں منظور کیا گیا۔جب کہ علاقے کی ضرورت کے تحت اس منصوبے کے لیے ڈپٹی سیکریٹری نے لیٹر نمبر DS9iii) CMS/Dev/13 (5) 09/1523 واٹر بورڈ کے ایم ڈی کو لکھا تھا۔ مورخہ 10اپریل 2013 ء کو سیکشن گورنمنٹ سیکریٹری آف سندھ گورنمنٹ نے لیٹر نمبرLG (So-VID/2-3 KW& SB/2012 کے تحت منظوری دی اور وزیر اعلیٰ سندھ اس منصوبے کی منظوری 13فروری 2013ء کو دے چکے تھے۔
اکتوبر2013 ء کو چیف انجنئرنگ نے منظور شدہ سمری کی لاگت 99.083ملین روپے کو لیٹر نمبر LD/Dg/ m&E /ADii SOVii 23/ KW & SB 2012/1729کے لیٹر پر صوبائی حکومت کی ٹیکنکل کمیٹی میںچیئرمین اکنامک اور پلاننگ ڈولپمنٹ گورنمنٹ سندھ ADP/2013سریل نمبر1088کی حتمی منظوری دے دی گئی۔ 26نومبر2014ء کو سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں 99.083 ملین روپے کی لاگت سے ایک واٹر اسکیم بنام’ شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کا افتتاح کردیا ، اس تقریب میں ایڈمنسٹریٹر کراچی ، ایم ڈی واٹر بورڈ ، ڈسٹرکٹ ویسٹ کے ایڈمنسٹریٹر ، میونسپل کمشنر اور پی پی پی کے مقامی عہدیداران بھی موجود تھے۔
 شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر موصوف کا دعوی تھا کہ ماضی میں کراچی کے دور دراز علاقوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے محروم رکھا جاتا رہا ہے لیکن پی پی پی نے اب کراچی ہو یا تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقے کے عوام کو پینے کے صاف پانی سمیت دیگربنیادی سہولیات باہم پہنچانے بیڑا اٹھایا ہوا ہے بقول وزیر بلدیات ’ شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کٹی پہاڑی سے ملحقہ آبادیوں کے لیے مختص کیا گیا تھا اور اس کے لیے بلا شک و شبہ پی پی پی کے مقامی رہنما مجیب الرحمن تعریف کے قابل ہیں کہ تن تنہا انھوں نے نیچے سے لے کر اوپر وزیر اعلیٰ سندھ تک اس منصوبے کو نہ صرف منظور کرایا بلکہ اس کے لیے فنڈز بھی مختص کرائے ۔
شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے بلدیاتی خدمات و عوامی شہرت کی مقبولیت سے خائف ہو کر انھیں ایک واقعے میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیاگیا۔ْ شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ اسکیم میانوالی کالونی،اسلامیہ کالونی،کرسچن محلہ ،لاسی محلہ ، مگسی محلہ،کٹی پہاڑی سمیت دیگر علاقوں کے تین لاکھ سے زائد مکینوں کو پینے کا صاف پانی کی فراہمی کے منصوبہ ہے۔جس کا لاگتی تخمینہ99.083 ملین روپے ہے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ شرجیل میمن تو اس منصوبے کا افتتاح کرکے چلے گئے لیکن کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم کرنیوالے کرداروں کی چاندنی ہوگئی ہے۔
علاقے کے باسیوں نے ’شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کے افتتاح پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا تھا اور اپنے دیرینہ مسئلے کو حل کروانے پر وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیر بلدیات اور ’شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کے کرتا دھرتا مقتول مقامی رہنما مجیب الرحمن کے کردار کو سراہاتھا ، لیکن اب اس منصوبے کی صورتحال کچھ ایسی ہوگئی ہے،کھوکھرکالونی، جہاں یہ پمپنگ اسٹیشن بنایا گیا وہاں کی 48انچ قطر لائن سے ایک 18انچ قطر لائن سے مزید غیر قانونی کنکشن دینے کے لیے واٹر پمپ سے لے کر جمشید پٹرول پمپ تک پچھا دی گئی ہے جب کہ دوکلومیٹر کی اس پٹی میں کوئی رہائشی آبادی نہیں ہے۔
ماربل انڈسٹری کے ہزاروں کارخانے جو پہلے ہی منگھوپیر روڈ سیگذرنے والی 66انچ قطر اور 48انچ قطر کی لائن سے قانونی سے زیادہ غیر قانونی واٹرکنکشن حاصل کرچکے ہیں جب کہ اسی پٹی پر پچاس سے زائد غیر قانونی ہائینڈرنٹ تھے جنھیں رینجرز نے ختم کیا ۔لیکن اب اس رہائشی منصوبے کا فائدہ اٹھا کرکروڑوں روپوں کے کنکشن فروخت کرنے کی غیر قانونی طریقے سے منصوبہ سازی سے پورے ’شہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن ‘ کی افادیت کو نہ صرف ختم کردیا جائے گا بلکہ 99.083ملین جو مفاد عامہ کے لیے تھے وہ بھی کرپشن کے نظر ہوجائیں گے،دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ 99.083ملین کے اس پراجیکٹ میں جن علاقوں کو شامل کیا گیا تھا۔
جس میں خاص کر اسلامیہ کالونی نمبر ایک اور دو ۔خیبر محلے کے علاقے تھے انھیں اس پراجیکٹ سے محروم کردیا گیا اور اس علاقے کے لیے مختص منظور شدہ 8انچ قطرکی لائن جو رئیس میانوالی سینٹر سے 12انچ قطر کی صورت میں اسلامیہ میانوالی روڈ پر آنی تھی اور وہاں سے قلندرہوٹل کٹی پہاڑی تک جانے تھی، واٹر بورڈ کے کرپٹ عملے کے ساتھ مل کر دوسرے علاقے میں منتقل کردیا، جو منظور اس متذکرہ پراجیکٹ میں شامل ہی نہیں ہے اور کروڑوں روپوں کو خرد برد کرنے کی سازش ہے ۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ رہائشی آبادی کے لیے مختص حکومت کے اس اہم منصوبے میں کرپشن کا بازارگرم ہے اور ایک غیر قانونی واٹر لائن خیبر محلہ بلاک ڈی کو دے بھی گئی ہے اور ذرائع کے مطابق فی گھر پانچ ہزار روپے رشوت کے وصول کیے جارہے ہیں۔
اہل علاقہ جہاںشہید مجیب الرحمن واٹرپمپنگ اسٹیشن کے قیام سے خوشی سے نہال تھے وہاں اب انتہائی پریشان اور مشتعل نظر آتے ہیں کیونکہ پی پی پی کی کوئی مقامی قیادت ان کے مسئلے کو حل اور ملنے کو تیار نہیں ، انھوں نے کبھی ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا بلکہ وزیراعلیٰ ہائوس میں جگہ بنانے کے لیے کرپشن،اقربا پروری کا سہارا لیا۔ ایک اور انتہائی افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ اسی علاقے کی اہم سڑک پراچہ اسپتال روڈ محمد پورکو بلاوجہ کھود ڈالا گیا جو تقریباََ بیس سال بعد بڑی مشکلوں سے پی پی پی کے مقتول رہنما مجیب الرحمن کی ہی کوششوں سے ہی بنی تھی ۔
میں نے بذات خود تمام منظور شدہ فائل کو دیکھا اور ایک ایک علاقے میں جا کر عوام سے حقایق جانے اور مجھے بڑا دکھ پہنچا کہ یہ مقامی رہنما کس قسم کی سیاست کر رہے ہیں، پانی کا بحران تو کراچی کا مقدر بن چکا ہے لیکن پیسوں کی لالچ میں آباد علاقوں کو کربلا بنانے کی سازش کرنیوالوں کی جگہ پارٹیوں میں کیوں ہے۔
میں وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر بلدیات سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ حقایق کی روشنی میں اپنے پی پی پی ڈسٹرکٹ اور پی ایس کی کارکردگی کو عوام کی نظر سے دیکھیں اور کم از کم اپنے شہید عہدیدار کی روح کا ہی خیال کرلیں جس نے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے اپنی جان گنوا دی۔ امید ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر بلدیات شرجیل میمن نوٹس لے کر علاقے میں ہونے والی خرد برد اور بدعنوانی کو ختم کرائیں گے ۔اگر عوام کے اس اہم مسئلے پر توجہ نہیں دی گئی تو اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ پانی کا بحران عوامی مسئلہ ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
قادر خان