کراچی میں بارہ سو ہلاکتوں کا زمہ دار کون ؟

Advertisements

ملک کا سب سے بڑا شہر سرکاری ایمبولینس سروس سے محروم…

 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر قائد سرکاری ایمبولینس سروس سے محروم ہے کراچی میں سرکاری سردخانے اور مردہ خانے بھی قائم نہیں کیے گئے ہیں، سابق سٹی ناظم  نے اپنے دور میں 1122 ریسکیو ایمبولینس سروس متعارف کرائی تھی لیکن سروس کوغیر فعال کردیا گیااور گاڑیاں نامعلوم مقام پر پہنچا دی گئیں۔
کراچی کے عوام کے لیے 65سال گزرنے کے بعد بھی سرکاری سطح پرکوئی ایمبولینس سروس کی سہولت مہیا نہیں کی گئی، کراچی میں4دن سے شدیدگرمی میں ہیٹ اسٹروک اور ڈائریا سے ہونے والی اموات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، ہنگامی صورتحال میں حکومت مریضوں اور میتوں کو لانے اور لے جانے کیلیے کوئی بندوبست نہیں کرسکی۔
مریضوں اور متوفیان کے لواحقین ایمبولینس اور میت گاڑیوں کیلیے مارے مارے پھرتے رہے،فلاحی اداروں نے ہی مریضوں کوا سپتال پہنچایا جاں بحق ہونے والوں کے پیاروں نے ایمبولینس نہ ملنے کی صورت میں شہزور ٹرک اوردیگر گاڑیوں پر رکھ کر میتیں اپنے مقام پر پہنچائیں ، سندھ حکومت بے حسی کامظاہرہ ہی کرتی رہی،کراچی میں گزشتہ 4دن کے دوران ہیٹ اسٹروک اور ڈائریاکی وجہ سے ہزاروں افراد متاثرہ ہوئے اس دوران مریضوں کواسپتال لانے اور لے جانے کیلیے شہر میں موجود ایدھی، چھیپا، خدمت خلق فاؤنڈیشن سمیت دیگر فلاحی اداروں کی ایمبولینسوں نے اپنی خدمات فراہم کیں لیکن اس دوران تجارتی بنیادوں پر چلائی جانے والی ایمبولینسوں نے متاثرہ مریضوں کومن مانی رقم کے عوض اسپتال پہنچارہے ہیں۔
گزشتہ 4دن کے دوران ہزاروں افراد ہیٹ اسٹروک اورڈائریا سے متاثرہوکر اسپتالوں میں پہنچے ہیں اس دوران شہر میں ایمبولینس کی شدید قلت پیدا ہوگئی، 4دن سے ہونے والی اموات نے سرکاری سطح پر سرد خانے ، مردہ خانے نہ ہونے کی وجہ سے لواحقین روزے میں نڈھال اور پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتے رہے، کراچی میں ایدھی، چھیپا، خدمت خلق فاؤنڈیشن، الخدمت، امن فاؤنڈیشن سمیت دیگر فلاحی اداروں کی ایمبولینس سروسزاپنا قومی فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔
فلاحی اداروں کی ایمبولینسیں 24 گھنٹے مریضوں کو اسپتال پہنچانے اورلاشیں اٹھانے میں مصروف ہیں، دوسری جانب اسپتالوں میں موجود ایمبولینس مبینہ طور پر اسپتال کے افسران کے استعمال ہیں،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبادخاں نے ڈاؤ یونیورسٹی کوایمبولینس سروس شروع کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن اس اعلان پر کوئی عملدرآمدنہیں کیاجاسکا اس طرح کراچی میں عوام کیلیے آج تک سرکاری سطح پر ایمبولینس سروسز شروع ہی نہیں کی گئی جس کاخمیازہ عوام کو بگھتنا پڑرہا ہے۔

کراچی : مسائل کے گرداب میں

گزشتہ دنوں اپیکس  کمیٹی کے اجلاس میں کراچی سمیت سندھ میں ہونے والے بعض سنگین جرائم، انتظامی بے ضابطگیوں اور سیاسی جماعتوں کی جرائم کی سرپرستی کے بارے میں ڈی جی رینجرز نے کئی اہم انکشافات کیے۔ یہ انکشافات نہ صرف صد فی صد درست ہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہیں، جتنے انھوں نے بیان کیے ہیں۔ لیکن جن سنگین بے ضابطگیوں اور جرائم کی انھوں نے اب نشاندہی کی ہے، شہر کا بچہ بچہ کئی دہائیوں سے ان کے بارے میں آگہی رکھتا ہے۔ بلکہ مختلف سیاسی و سماجی فورمز پر بھی ان معاملات پر گفتگو ہوتی رہی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ ہر آنے والی حکومت بھی ان معاملات و مسائل کا رونا روتی رہی ہے۔ مگر کسی حکومت کو صائب و راست اقدامات کرنے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے یہ مسائل پیچیدہ ہوتے ہوئے بحرانی شکل اختیار کرتے چلے گئے۔
ڈی جی رینجرز نے جن سنگین انتظامی بے ضابطگیوں، جرائم میں سیاسی و انتظامی شخصیات کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے، ان کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اول، کیا متعلقہ سیکیورٹی ایجنسی ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنے کے لیے مناسب دستاویزی ثبوت رکھتی ہے، جو اس کے سربراہ نے اپیکس کمیٹی میں پیش کیے ہیں؟ یا پھر یہ بھی جناح پور کے نقشہ کی طرح محض ہوائی بیان بازی ہے؟ دوئم، آیا اپیکس کمیٹی 21 ماہ سے جاری آپریشن کو جاری رکھنے اور اس کے ذریعہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کو ہی کافی سمجھتی ہے، یا ان انکشافات کی روشنی میں کوئی نئی اور وسیع البنیاد حکمت عملی مرتب کرنے اور گورننس میں خاطر خواہ تبدیلیاں لانے کی تجاویز پر غور کررہی ہے؟ جو کھل کر سامنے آنے والے معاملات کے اس نا ختم ہونے والے سلسلے کی کمر توڑنے کا سبب بن سکیں اور شہر میں مستقل بنیادوں پر دیرپا اور پائیدار امن قائم ہو سکے۔ 
حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے آیندہ اقدامات اور حکمت عملیوں سے یہ طے ہو گا کہ شہر میں امن و امان کی حالیہ کوششیں کس حد تک صائب اور دیرپا ہیں۔
یہ سمجھنا ہو گا کہ اپنی تحقیق و تفتیش کے نتیجے میں رینجرز کراچی کے بارے میں جن معاملات و مسائل تک پہنچی ہے، ان کی جڑیں اس ملک کی تاریخ میں گہری پیوست ہیں۔ اس لیے اپیکس کمیٹی اگر کراچی کو درپیش مسائل کا سنجیدگی کے ساتھ دیرپا اور پائیدار حل تلاش کرنے کی خواہشمند ہے، تو اسے اس شہر میں کم و بیش پانچ دہائیوں سے جاری زیادتیوں اور ناانصافیوں کا جائزہ لینا ہو گا۔ ساتھ ہی حقیقت پسندانہ  اور جرأت مندانہ بنیادوں پر سیاسی و انتظامی تبدیلیوں کا لائحہ عمل بھی مرتب کرنا ہو گا۔ وگرنہ اب تک کی جانے والی تمام مشق لایعنی ہو کر رہ جائے گی۔ اس میں شک نہیں کہ شہر میں 21 ماہ سے جاری آپریشن کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں خاصی حد تک کمی آئی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے آپریشن بہرحال ایک وقتی عمل ہوتے ہیں، جن کے نتائج بھی وقتی ہوتے ہیں۔ جرائم پر قابو پانے کے لیے گو یہ آپریشن ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ساتھ ہی کلیدی نوعیت کے سیاسی اور انتظامی اقدامات بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔ اگر انتظامی اور سیاسی اقدامات یکساں رفتار کے ساتھ نہیں چلتے، تو مطلوبہ نتائج تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کراچی کے معاملے میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس لیے بھی ساتھ ساتھ تیار کیا جائے۔
کراچی کے معاملات و مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے، جب تک کہ بعض غلط تصورات سے چھٹکارا نہیں پایا جاتا۔ اول، یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ کراچی سندھ کا حصہ اور اس کا دارالحکومت ہے۔ یہ کسی طور منی پاکستان نہیں ہے۔ اس غلط تصور کو ذہنوں سے نکالنا ہو گا۔ اس میں شک نہیں کہ اس شہر میں روزگار کے بے انتہا ذرایع ہونے کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ دیگر ممالک جن میں بنگلہ دیش اور برما شامل ہیں، محنت کش روزگار کی تلاش میں آتے رہتے ہیں۔ جن کی وجہ سے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 1980ء کے عشرے میں جنرل ضیاء الحق نے افغان باشندوں کو اس شہر میں آباد کیا جو لاکھوں کی تعداد میں اس شہر میں موجود ہیں۔ 
شہر میں ہونے والے جرائم کا جائزہ لیا جائے تو جرائم پیشہ افراد کو بے شک سیاسی شخصیات اور انتظامی اداروں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے، لیکن جرائم میں ملوث افراد کی اکثریت کا تعلق باہر سے آئے غیر مستقل باشندوں سے ہوتا ہے۔
دوئم، یہ سوا دو کروڑ آبادی کا ایک گنجان آباد شہر ہے، جس کا انتظام و انصرام جدید میگا یا میٹروپولیٹن شہر کی طرح چلانے کے بجائے قبائلی اور جاگیردارانہ طرز کے فرسودہ انتظامی ڈھانچہ کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے مختلف نوعیت کے حساس اور سنگین جرائم پر قابو پانا مشکل ہی نہیں دشوار ہو چکا ہے۔ سوئم، ہر وفاقی اور صوبائی حکومت اس شہر کے وسائل کی لوٹ تو کرتی ہے، مگر وہ شہری سہولیات مہیا کرنے سے گریز کرتی رہی ہے، جو ایک اربن معاشرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
عرض ہے کہ کراچی کے مسائل محض ایک شہر کو درپیش سادہ سے انتظامی مسائل نہیں ہیں، بلکہ یہ گورننس کا معاملہ ہے، جس نے غلط حکمت عملیوں اور غلط طرز عمل کے باعث پیچیدہ شکل اختیار کر لی ہے۔ پہلے بھی لکھا ہے، پھر لکھ رہا ہوں اور اس وقت تک لکھتا رہوں گا، جب تک حکمران، منصوبہ ساز اور اسٹیبلشمنٹ اس شہر کے حقیقی مسائل کا ادارک کرتے ہوئے، صحیح اور صائب فیصلے نہیں کرتے۔ یہ بات اب سمجھنا ہو گی کہ اس شہر کے ساتھ ایوب خان نے جن ناانصافیوں اور امتیازی سلوک کی بنیاد رکھی تھی، ان کے بعد آنے والی ہر حکومت نے نہ صرف انھیں جاری رکھا، بلکہ مقدور بھر اضافہ بھی کیا۔ کسی حکومت نے شہر کے معاملات و مسائل کو سمجھنے اور انھیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی اور کیا ہو گی کہ شہر کا پہلا اور آخری اکنامک سروے 1951ء میں ہوا۔ اس کے بعد اس عمل کو دہرانے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ 68 برس میں صرف پرویز مشرف کے دور میں اس شہر کو اربن آب و تاب کے ساتھ آگے بڑھنے کا کسی حد تک موقع ملا تھا، جو ان کے جاتے ہی ختم ہو گیا۔
اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ شہر جو کبھی غریب پرور ہوا کرتا تھا، جہاں لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ عصبیتوں کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا، جہاں دن مصروف اور راتیں جاگتی تھیں، اچانک ایک آسیب زدہ شہر میں کیسے تبدیل ہو گیا؟ جہاں کبھی اربن مڈل کلاس کلچر ایک نئی جہت اختیار کر رہا تھا، قبائلیت کی بدترین شکل کیوں اختیار کر گیا؟ وہ شہر جس کے صنعتی یونٹوں کی چمنیوں سے 24 گھٹے دھواں نکلتا تھا اور صنعتی علاقوں میں شفٹ کی تبدیلی کے اوقات میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا، کیوں وحشت زدگی کا شکار ہو گیا؟ کیا کسی منتخب پارلیمان نے یا کسی فوجی حکومت نے اس پہلو پر غور کرنے کی زحمت گوارا کی کہ دیگر صوبوں سے جو افراد جوق در جوق کراچی کی طرف جا رہے ہیں، اس کا بوجھ شہر کے علاوہ پورے صوبہ سندھ کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کی دنیا میں یہ بعید از امکان نہیں کہ جتنے افراد دیگر صوبوں سے سندھ کے شہروں میں آباد ہوئے ہیں، ان صوبوں کے حصے کے وسائل وہ سندھ کو دیں۔
دنیا بھر میں ان شہروں جن کی آبادی ایک ملین (دس لاکھ) یا اس سے تجاوز کر جاتی ہے، ایک مکمل خود مختار انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ جب کہ کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں کو کسی چھوٹے شہر یا قصبہ کے انداز میں چلانے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی سمیت ان تمام شہروں میں جن کی آبادی ایک ملین یا اس سے زیادہ ہے، ایسی بااختیار میٹروپولیٹن حکومتیں قائم کی جائیں، جو سیاسی، انتظامی اور مالیاتی طور پر بااختیار ہوں۔ کم از کم ہر میٹروپولیٹن شہر میں مقامی پولیس بھرتی کی جائے، جو اس شہر کے مزاج کے علاوہ جدید تقاضوں کے مطابق امن و امان قائم کرنے کی صلاحیت اور استعداد رکھتی ہو۔ اس کے علاوہ میونسپل سروسز کمیشن تشکیل دیا جائے، جو سول سروسز کی طرز پر میونسپل معاملات کے ماہر اہلکار اور افسران تیار کر سکے۔ ساتھ ہی نیشنل فنانس کمیشن کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دیا جائے، جو ضلع اور اس سے نچلی سطح پر وسائل کو منصفانہ انداز میں باہمی اعتماد کے ساتھ تقسیم کر سکے۔
ہمیں اپیکس کمیٹی کی نیت پر رتی برابر بھی شک نہیں ہے، بلکہ توقع ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس شہر میں امن کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ جب ہتھیلی میں پھانس لگی ہو تو مرہم پٹی اس وقت تک بے کار ہوتی ہے، جب تک کہ پھانس نکل نہ جائے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کراچی مین امن و امان کا مسئلہ گورننس میں بہتری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ گورننس میں بہتری کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اقتدار و اختیار کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ کراچی شہر کے لیے ایک مکمل بااختیار میٹروپولیٹن حکومت قائم کی جائے، جو شہر کے معاملات کو اربن سیاسی شعور کے ساتھ چلائے۔ یہی وہ راستہ ہے، جو کراچی میں مستقل بنیادوں پر پائیدار امن و استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ وگرنہ کراچی یونہی مسائل کی گرداب میں پھنسا رہے گا اور ہر چند برس بعد کسی نئے آپریشن کی ضرورت محسوس کی جاتی رہے گی۔

Seaview the most beautiful place in Karachi

 

Seaview is a beach in Clifton, Karachi, Pakistan.

The Seaview beach is a section of Clifton beach located in Clifton. It is a popular recreational place for Karachiites. The beach is accessible day and night as there are floodlights illuminating the entire beach. Seaview also has a number of eateries starting from Salt and Pepper Restaurant on one end to McDonalds on the other with many small restaurants in the middle. Clifton Beach, or Sea View is easily accessible and has various attractions for its visitors.

کراچی کا مستقبل

ہمارے ملک میں پیدا ہونے والے سنگین مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا خواب خرگوش میں مبتلا حکمران طبقہ اس قسم کے سنگین مسائل کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے قبل از وقت منصوبہ بندی نہیں کرتا۔ آج کراچی پانی کے قحط کی وجہ سے کربلا کا جو منظر پیش کر رہا ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ پانی کے ممکنہ قحط کو روکنے کے لیے قبل از وقت منصوبہ بندی نہیں کی گئی حتیٰ کہ مشرف دور میں پانی کی فراہمی کے لیے جو منصوبے شروع کیے گئے تھے ہماری نااہل اور غیر ذمے دار حکومتوں نے اس پر بھی عملدرآمد کی ضرورت محسوس نہ کی۔
شرم کی بات یہ ہے کہ کراچی میں پانی کے اس شدید بحران کے باوجود پانی کی فراہمی کے منصوبے K-3 اور K-4 کے لیے نہ وفاقی حکومت اپنے حصے کی رقم ادا کر رہی ہے نہ صوبائی حکومت اس حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کر رہی ہے۔ کراچی محکمہ واٹر بورڈ کا کہنا ہے کہ K-4 منصوبے پر عملدرآمد کے لیے 2016-2015ء کے بجٹ میں 15 ارب روپے رکھے جانے چاہئیں۔ واٹربورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں وفاقی حکومت نے 20 کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن صرف 8 کروڑ روپے دیے گئے۔ سندھ حکومت نے اس منصوبے کے لیے 84 کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن ایک پائی بھی ادا نہیں کی گئی، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
دراصل آج ہم کراچی میں بے ہنگم اور خطرناک طریقے پر بڑھتی ہوئی آبادی کا جائزہ لینے جا رہے ہیں چونکہ ہماری خواب غفلت میں پڑی ہوئی حکومت اس مسئلے کی سنگینی اور آنے والے دنوں میں کراچی میں پیدا ہونے والی ممکنہ خطرناک صورتحال سے مکمل طور پر بے خبر ہے اور اس حوالے سے کوئی جامع منصوبہ بندی کرتی نظر نہیں آ رہی ہے، اس لیے ان مہاشوں کی توجہ اس جانب مبذول کرانا ضروری ہے۔ کراچی جو کسی زمانے میں 5 لاکھ آبادی کا شہر ہوا کرتا تھا اب اس شہر کی آبادی دو کروڑ 30 لاکھ بتائی جا رہی ہے اور جس رفتار سے اس شہر کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اگر یہی رفتار جاری رہی تو مستقبل قریب میں آبادی 3 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
کیا ہماری محب وطن محب عوام حکومت آبادی میں اس بڑھوتری کے خطرناک مضمرات سے واقف ہے؟ یہ سوال اس لیے ضروری ہے کہ آج دو کروڑ تیس لاکھ آبادی کا یہ شہر جن گمبھیر اور سنگین مسائل کا شکار ہے اگر اس کی آبادی تین کروڑ ہو جائے اور اس کی روک تھام کی کوئی منصوبہ بندی نہ کی جائے تو اس شہر کا جو حال ہو گا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔آبادی میں اضافے کی دو بڑی وجوہات ہوتی ہیں، ایک شرح پیدائش میں اضافہ، دوسرے اربنائزیشن، جس میں ملک کے پسماندہ علاقوں سے عوام روزگار کے لیے بڑے اور ترقی یافتہ شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ آبادی کے اضافے میں روک تھام کے بھی دو روایتی طریقے ہیں ایک یہ کہ شرح پیدائش میں کمی کی جائے جس کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
چین جیسے خوشحال اور تیزی سے ترقی کرنے والے ملک میں اس حوالے سے سخت قانونی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ چین میں اس حوالے سے آبادی میں ہونے والا بے لگام اضافہ رک گیا ہے اور منصوبہ سازوں کو مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اہم اور ضروری اقدامات کے آگے ایسی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں کہ قومی مفاد کے اہم کام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ آبادی میں اضافہ عموماً غریب طبقات میں ہوتا ہے چونکہ غریب طبقات کی آمدنی انتہائی کم ہوتی ہے لہٰذا بچوں کی تعداد میں اضافے کا مطلب غربت میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ خودکشیوں کا سلسلہ ان ہی طبقات میں جاری رہتا ہے جو غربت اور بھوک کا نتیجہ ہوتا ہے۔
خودکشی ہمارے مذہب میں حرام ہے لیکن خودکشیوں کے اسباب کو ختم یا کم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی اور خیرات اور زکوٰۃ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔شہری آبادی میں اضافے کا دوسرا بڑا سبب پسماندہ علاقوں سے غریب طبقات کی نقل مکانی ہے۔ ترقی یافتہ ہی نہیں ترقی پذیر ملکوں میں بھی اگر حکمران طبقات ملک اور عوام دوست اور تعصب اور امتیازات سے پاک ہوں تو وہ پسماندہ علاقوں میں باعزت روزگار کے مواقعے پیدا کر کے اور صنعتوں کا جال بچھا کر پسماندہ علاقوں سے نقل مکانی کو روکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں چونکہ حکمران طبقات ان مسائل کی طرف توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں کرتے لہٰذا دیہی علاقوں سے شہروں خصوصاً کراچی کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اور کراچی کچی آبادیوں کا شہر بن گیا ہے، چونکہ کراچی آنے والوں کے لیے رہائش اور روزگار کا سرکاری طور پر انتظام نہیں لہٰذا کچی آبادیاں اور جرائم اس شہر کا مقدر بن گئے ہیں۔
ان خرابیوں کو انتظامی ڈنڈے سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن انتظامیہ چونکہ کرپشن کے پاؤں پر کھڑی ہوئی ہے لہٰذا ان خرابیوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکمران طبقات ان خطرناک ترین مسائل سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ اور سب ٹھیک ہے کی آرام دہ کرسی پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کراچی سر سے پیر تک سنگین جرائم میں لتھڑا ہوا ہے جن میں ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی، بھتہ خوری، بڑی بڑی ڈکیتیاں، اغوا اور اسٹریٹ کرائم شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان سنگین جرائم میں ملوث 90 فیصد ملزمان کا تعلق بیرون کراچی اور بیرون سندھ سے ہے۔ یہ بات بھی بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ افغان مہاجرین کے نام پر دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی بڑی تعداد کراچی میں سرگرم ہے اور ان کی کچی بستیاں جرائم کے اڈوں میں بدل گئی ہیں۔
کراچی کے علاوہ لاہور، پشاور اور کوئٹہ بڑے شہر بھی ہیں اور صوبائی دارالحکومت بھی۔یہاں بھی آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کے چھوٹے شہروں‘ قصبوں اور دیہات خصوصاً فاٹا اور دیگر قبائلی علاقوں کو ترقی دے کر وہاں روزگار کے مواقعے کیوں پیدا نہیں کیے جا رہے؟ اگر ان علاقوں میں روزگار کے بھرپور مواقعے پیدا کیے جائیں تو کراچی میں آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ کم ہو جائے گا۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ سوال کرنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومتیں ان حوالوں سے کوئی منصوبہ بندی کر رہی ہیں؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے۔ کراچی کو منی پاکستان کہا جاتا ہے، بلاشبہ کراچی منی پاکستان ہے لیکن جب یہ منی پاکستان مزید روزگار فراہم کرنے سے معذور ہو جائے گا اور کراچی کی بے روزگار نسلیں یہ سمجھنے لگیں گی کہ ان کے حق پر دوسرے صوبوں کے عوام نے قبضہ کرلیا ہے تو صورتحال کس قدر سنگین ہو جائے گی۔
ایلیٹ اور حکمران طبقات تو محفوظ رہیں گے کہ ریاستی مشینری ان کی حفاظت کرے گی لیکن غریب طبقات ایک دوسرے سے متصادم ہو گئے تو نقصان کس کا ہو گا؟ غریب آپس میں لڑتے اور تقسیم ہوتے ہیں تو اس میں ایلیٹ کا فائدہ ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ غریب طبقات کو احساس ہوتا ہے کہ انھیں لڑایا جا رہا ہے تو پھر ان کا رخ استحصالی طبقات کی طرف ہو جاتا ہے، پھر وہ نہ سندھی رہتے ہیں نہ پنجابی، نہ پختون، نہ بلوچ، وہ صرف غریب ہوتے ہیں اور اپنے طبقاتی دشمنوں کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں۔
ظہیر اختر