کراچی کی بہادر آباد چورنگی خوبصورت چورنگیوں میں شامل

 کراچی کے مصروف علاقے بہادرآباد میں 4 سڑکوں کے سنگم پر واقع بہادر آباد چورنگی کو اس سال دنیا کی چھٹی انوکھی اور خوبصورت چورنگیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

برطانیہ میں راؤنڈ اباؤٹ (چورنگی) اپریسی ایشن سوسائٹی کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست میں چھٹا نمبر کراچی میں واقع بہادر آباد چورنگی کو دیا گیا ہے جس کے مرکز میں ایک خوبصورت مسجد نما ماڈل تیار کیا گیا جسے برطانوی سوسائٹی نےایک اہم اختراع قرار دیتے ہوئے اپنی جیوری کے سامنے پیش کیا اور اسے اس سال کے لیے پوری دنیا کی اہم چورنگیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

کراچی آپریشن کی مانیٹرنگ کی ضرورت کیوں ہے؟

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کی نگرانی کے لیے کمیٹی کے قیام کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کی صرف تجویز تھی، اس کے قیام کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
متحدہ قومی موومنٹ آپریشن کی نگرانی کے مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس نے پچھلے دنوں اسی بنیاد پر استعفے بھی دیے تھے۔ انسانی حقوق کمیشن بھی آپریشن کی نگرانی کی حمایت کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی کی صرف تجویز تھی لیکن اس کے قیام کا فیصلہ نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اس سے ان پر اعتماد کم ہو جاتا۔
’میں نے کہا تھا کہ مجھے کپتانی دے رہے ہیں، میں لوگوں کا منتخب نمائندہ ہوں، اگر مانیٹرنگ کمیٹی بنائی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس کمیٹی کا سربراہ میں ہوں اس پر اعتماد کم ہو گیا۔ اب ہمارے اوپر کوئی اور مانیٹرنگ کرے تو یہ مناسب نہیں ہے۔‘
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ آپریشن کے فیصلے کے وقت کسی جماعت نے مانٹیرنگ کمیٹی کے قیام پر اصرار نہیں کیا تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سب مطمئن تھے۔
وزیر اعلیٰ کے موقف کے برعکس 14 نومبر 2014 کو کراچی آپریشن کے ساتھ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا تھا۔
’اس کمیٹی میں سول سوسائٹی کے لوگ اور معززین شامل ہوں گے جن کا کسی جماعت سے تعلق نہ ہو۔ یہ لوگ آپریشن کی نگرانی کریں گے، وفاقی، صوبائی حکومتوں، انٹیلیجنس اداروں اور میڈیا کو اپنی تجاویز پیش کیا کریں گے۔‘
چوہدری نثار نے اس مانیٹرنگ کمیٹی کا مینڈیٹ بھی واضح کیا تھا کہ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گئی کہ کوئی بھی بے گناہ شخص نہ پکڑا جائے۔
’آپریشن کے دوران جو لوگ پکڑیں جائیں گے یہ کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ شخص ذاتی جرائم کی وجہ سے پکڑا گیا یا کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے گرفتار ہوا ہے۔‘
متحدہ قومی موومنٹ گذشتہ دو سالوں سے مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ کراچی میں کارکنوں کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور گمشدگی پر بطور احتجاج تنظیم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان انھیں اسمبلیوں میں واپس لانے کے لیے حکومت اور ایم کیو ایم میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور انھوں نے بھی مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کی حمایت کی تھی۔
ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق کا کہنا ہے کہ جب آپریشن کا آغاز ہوا تھا تو وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزیراعلیٰ، گورنر اور وفاقی وزیر چوہدری نثار کی موجودگی میں اتفاق کیا تھا کہ مانیٹرنگ باڈی ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جو اتفاق رائے پیدا ہوا تھا اس کو آگے بڑھایا جائے۔
’ہم نے اس بار استعفے احساس محرومی کی کیفیت تک پہنچے کے بعد دیے ہیں۔ مانیٹرنگ کمیٹی کے علاوہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور جو کارکن لاپتہ ہیں انھیں بازیاب کرایا جائے۔‘
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کراچی میں پچھلے ڈھائی برس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی کی اشد ضرورت ہے اور یہ حکومت کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
رینجرز اور پولیس کے خلاف ماورائے عدالت قتل کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کی بھی یہ شکایات آ رہی ہیں کہ ان کے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے اور ان کے اہل خانہ کو بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ اس صورت حال میں آپریشن کی مانیٹرنگ کی ضرورت ہے تا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
زہرہ یوسف
’رینجرز اور پولیس کے خلاف ماورائے عدالت قتل کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی بھی یہ شکایات آ رہی ہیں کہ ان کے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے اور ان کے اہل خانہ کو بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ اس صورت حال میں آپریشن کی مانیٹرنگ کی ضرورت ہے تا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔‘
سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’مانیٹرنگ کمیٹی کو سمجھا ہی نہیں گیا۔ جب آپریشن شروع ہو رہا تھا تو اس وقت وزیراعظم کو پبلک سیفٹی بورڈ کے نام سے معلومات فراہم کی گئی تھیں اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سات رکنی بورڈ کی تجویز تھی۔
’اس بورڈ کا بنیادی کام یہ تھا کہ آپریشن کے حوالے سے اگر کوئی شکایت آئے تو اس کا جائزہ لے، لیکن تاثر یہ دیا جا رہا ہے جیسے مانیٹرنگ کمیٹی آپریشن کی نگرانی کرے گی۔ اس بورڈ کی تقریباً منظوری ہوگئی تھی لیکن کچھ صوبائی وزرا نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ کیا پولیس اور رینجرز ہر چھاپہ اجازت لے کر مارے گی؟‘
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی تنظیم یا افراد کو شکایت ہے تو کون سا فورم ہے جہاں وہ شکایت کر سکے، تو اس وقت اگر کسی کو اٹھاکر لے جایا گیا ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے، پھر تاریخیں پڑتی رہیں اس عرصے میں وکیل کو فیس بھی دینی ہے۔ کیا اس سے بہتر یہ نہیں ہے کہ سندھ حکومت یا ایپکس کمیٹی خود کوئی کمیٹی بنادے جہاں ان شکایات کا ازالہ ہو سکے؟
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جمعرات کو صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں بھی کیو ایم کے اس مطالبے پر غور نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں شریک ایک اہلکار نے بتایا کہ نہ وزیر اعظم اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے اس بات کا تذکرہ کیا۔
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کراچی آپریشن نے یوم آزادی پر امن کو یقینی بنایا

 پاکستان رینجرز سندھ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی آپریشن نے کراچی میں یوم آزادی کے موقع پر امن و سکون کو یقینی بنایا۔
 ایک بیان میں سندھ رینجرز کا کہنا تھا کہ شہر میں رینجرز کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات اور پر امن ماحول کی وجہ سے عوام بڑی تعداد میں باہر آئی اور یوم آزادی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔
اپنے بیان میں رینجرز نے چیئرمین آل تاجر اتحاد کا بھی ذکر کیا جنہوں نے کہا کہ اس سال اگست میں انہوں نے پانچ ارب کا منافع کمایا، جس نے پچھلے 40 سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔
پیرا ملٹری فورسز نے پاکستان کے 69 ویں یوم آزادی پر کراچی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے۔
اگست کے آغاز میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ بھر میں رینجرز کے اختیارات میں اضافہ کردیا تھا۔
اس سے قبل سندھ حکومت نے جولائی میں رینجرز کے کراچی میں آپریشن اور تعنیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کردی تھی۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ستمبر 2013 کو وفاقی حکومت کی زیرِ نگرانی اور سندھ حکومت کی منظوری سے کراچی میں رینجرز کے ٹارگیٹڈ آپریشن کے آغاز سے رینجرز نے تقریباً 5795 آپریشن کیے ہیں، جن میں 10353 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان ملزمان میں اسٹریٹ کرمنلز سے لے کر دہشتگرد تک شامل ہیں۔
کراچی میں رینجرز کی تعیناتی دستورِ پاکستان کی شق 147، اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 1 کی ذیلی شق 3 اور 4 کے مطابق ہے، جس کے تحت رینجرز کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت شہر میں دہشتگردی کی کارروائیوں یا جرائم کی روک تھام کریں۔
  اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنے میں پولیس کی مدد کرنے کے لیے رینجرز کو بلایا تھا، لیکن رینجرز کو مزید اختیارات 2009 میں ایک بار پھر پی پی کی وفاقی و صوبائی حکومت نے دیے، جس کے تحت رینجرز بغیر وارنٹس کے گھروں کی تلاشی اور ملزمان کو گرفتار کر سکتے ہیں۔
امتیاز علی

کراچی، متحدہ اور امن

متحدہ کے استعفوں نے ایک دم سیاسی منظر میں تبدیلی برپا کردی ہے جس کی بازگشت کچھ اس طرح سے آئی کہ کسی بھی جمہوری و آئین کے خلاف سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ اسپیکر صاحب نے اتنی تیزی کیوں دکھائی کہ پھر ایک دم سے مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کو اسپیکر کے اس اقدام کو بریک لگانے پڑے۔ متحدہ کو بہرحال یہ موقع ملا کہ وہ اپنے حلیفوں میں یہ باور کراسکے کہ عمران خان کے استعفوں کے لیے ایک رویہ ہے تو متحدہ کے لیے دوسرا رویہ۔
کل ملا کے 83 نشستیں جو متحدہ کے پاس قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اتنی بڑی استعفوں کی روایت اس سے پہلے کبھی نہیں ہے۔ میڈیا میں یہ خبر اس سال کی سب سے بڑی خبر بن گئی، جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ خیر خبر بنانا، میڈیا میں رہنا متحدہ کو آتا ہے۔ اور مسلم لیگ کو بحران پیدا کرنا اور بحران کو ہاتھ سے نکالنا آتا ہے۔ بھلا کیا ضرورت تھی اسپیکر کو اتنی تیزی دکھانے کی؟ متحدہ کی پالیسی بڑی واضح ہے، ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے؟ وہ چاہتے ہیں کہ بحران شدید ہو۔ ہر طرف ہو کا عالم ہو۔ عالم بدحواسی ہو، نہیں تو کراچی ان کے ہاتھ سے گیا، وہ جواری کی طرح تاش کے اہم پتے آخر میں استعمال کر بیٹھے۔ کیا یہ انھوں نے کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا ہے یا صرف یہ کہ ان کی پارٹی کا فیصلہ ہے؟
متحدہ پاکستان کی باقی ساری پارٹیوں میں نرالی پارٹی ہے۔ قیادت ہمیشہ کے لیے لندن منتقل ہوگئی، آنے کی نہ آرزو ہے نہ امید۔ ہمارے یہاں کی اکثریت میں یہ رائے ہے کہ پارٹی برطانیہ کے چہیتوں میں سے ہے اور برطانیہ کے ذریعے امریکا کے قریب ہے۔ کچھ برس قبل سب یہاں یہ فیشن میں تھی اور ایسی تصویر وکی لیکس بھی عکس کرتی ہے اور دوسرے نمبر پر یہاں یہ سعودی عرب کی رسم چلی ہوئی تھی۔ متحدہ مسلم لیگ (ق) کی طرح یہاں کے اسٹیبلشمنٹ کے بھی بہت قریب رہی ہے۔ اور جب بھی یار لوگوں کو شب خوں کے بعد اس شب خوں کو عوامی حمایت کی ضرورت پڑی تو اس مشکل میں پہلا کاندھا متحدہ نے دیا اور پھر خوب اقتدار کے مزے لوٹے۔ جنرل مشرف کا زمانہ تو ان کے لیے سنہری ترین رہا۔ مگر متحدہ کا طریقہ سیاست وہی رہا جس نے بالآخر سارے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، یہاں تک اس سے پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنے آپ کو نہ بچا سکی۔
اس گلشن کے کاروبار میں بھتہ خوری و قبضہ گیری جوش میں رہی۔ علاقے بانٹ دیے گئے کہ یہ تیرا علاقہ ہے اور یہ میرا علاقہ ہے۔ اور پاکستان پیپلز پارٹی سے بظاہر اختلاف تھے تو اندر میں اتحاد۔ متحدہ نے اپنے حلیفوں کو مضبوط رکھنے کے لیے سندھ توڑنے کی بات کی اور زرداری صاحب اس پر ردعمل نہ دے کر جیسے بے نظیر کی روایت کو الوداع کہا۔ بے نظیر سندھی Narrative کا دامن کبھی نہ چھوڑتی، وہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ہو یا وہ سندھ کی تقسیم کے حوالے سے۔ اسے پتہ تھا کہ سندھی ووٹ اس کی بنیادی شناخت ہے، باقی سب اس بنیاد پر کھڑی عمارت ہے۔ مگر زرداری صاحب کے شوق کچھ اور تھے۔ کہتے ہیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ کراچی کی بدحالی، لاقانونیت ، بے لگام گھوڑے کی طرح بڑھتی گئی۔
پیپلز پارٹی کی جیالوں سے بھری بانہیں اب داستانیں ہوئیں، وڈیرے نہ اِس کے نہ اُس کے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی طرح وہ کل بھی اس اصول پر چلتے تھے اور آج بھی اس بات پر قائم ہیں، اگر زرداری نہ سہی اور سہی۔
لیکن متحدہ کے حلقے اس طرح نہ تھے۔ وہ صرف متحدہ کے تھے۔ اگر متحدہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تو وہ بھی اور اگر متحدہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تو وہ بھی۔ 
اس کے درمیان اگر کچھ پذیرائی ان حلقوں میں ملی بھی تو وہ عمران خان کو ملی۔ مگر خان صاحب کی پارٹی کبھی بھی متحد و آرگنائز جماعت نہیں بن سکتی، وہ تو تماشا ہے۔ کرکٹ کے میدان پر ہو یا کنٹینر پر۔ بہرحال نشستوں سے استعفی سے خلا پیدا تو ہوا ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ کراچی کے حلقوں میں احساس محرومی بھی پیدا کرے گا۔ اور مجبور کرے گا مہاجروں کو کہ وہ اور مہاجر ہو کر اپنے آپ کو دیکھیں، اور اس عمل سے متحدہ اپنے آپ کو اس بحران سے نکالنا چاہتی ہے۔
متحدہ چاہتی ہے کہ سیاسی بحران شدید ہو اور جاکے شب خون تک بات پہنچے اور اسی طرح وہ شب خون کو سیاسی حمایت کے وقت کام لائیں اور اس احسان کے بدلے کچھ لو اور کچھ دو پر سمجھوتہ کریں۔
خود پیپلز پارٹی ایسے شب خون آنے کے لیے منتظر ہے تاکہ اس ذلت سے نکلے اور شہید ہوکر واپس لوگوں کے پاس جائے۔
عین ممکن ہے کہ خود بلاول بھٹو اسٹیبلشمنٹ کے قریب آجائے۔ جس کی پیش گوئی سابق پیر پگارا نے کی تھی کہ بلاول ان کی مسلم لیگ میں آجائے گا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ زرداری کی بصیرت ایک دن اس کو عوام سے کاٹ کر وڈیروں کی پارٹی بنا دے گی اور پھر یہ وڈیرے تب ہی زرداری کے ساتھ رہیں گے جب تک وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہیں گے۔
ایک زاویہ  تحریک کا یہ بھی ہے کہ یہ پہلی جدوجہد تھی جس کی قیادت وڈیروں نے کی تھی۔ کیونکہ جتوئی صاحب نے وڈیروں کو کہا کہ دو ہفتے تحریک چلاؤ اقتدار ہمیں مل جائے گا اور اس طرح وڈیروں نے جیل بھرے تھے۔ دو ہفتے پورے ہوئے وڈیروں نے معافی نامہ لکھ کر جیل سے نکلنا بہتر سمجھا اور پھر تحریک سرخوں کے ہتھے چڑھ گئی تھی یا ضیا الحق نے اسے ایسا رنگ دے کر امریکا کو اس سے بدظن کیا۔
آج کے پاکستان میں امریکا و مغرب کا اثر و رسوخ بڑے زمانے کے بعد کمزور ہوا ہے، خود سعودی عرب کا بھی۔ چائنا کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے اور روس کا بھی۔ کل عبدالغنی صدر افغانستان بھی ابل پڑے اس کے باوجود بھی کہ پاکستان نے طالبان کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
ہوسکتا ہے کہ متحدہ کے پیدا کردہ بحران کا کوئی ایسا انٹرنیشنل کنکشن بھی ہو اور قوی امکان یہ بھی ہے کہ نہیں ہو مگر وہ شاید ایسا چاہتے ہوں۔ اب تو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، متحدہ وغیرہ تنگ آگئے ہیں کہ اس سسک سسک کے مرنے سے بہتر ہے ایک بار مر ہی جاؤ یا دوسرے الفاظ میں نرم شب خون سے بہتر ہے کہ سخت شب خون آئے اور پھر نئے سرے سے باب رقم ہو۔
متحدہ کے پیدا کیے بحران سے کوئی بحران گہرا نہیں ہوگا۔ یہ تھم جائے گا۔ اور اگر ہوا بھی تو سخت شب خون کی شکل پیدا نہیں کرے گا، ہوسکتا ہے دوبارہ انتخابات ہوں اور بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوجائیں۔ کراچی مجموعی طور پر اس بحران سے لاتعلق ہے کیونکہ بڑے عرصے بعد اس شہر میں امن آیا ہے ان کے لیے ایسے بحران فیض کی ان سطروں کی طرح ہیں:
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
امن ہو تو بڑے سے بڑے سیاسی بحران کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ہڑتال ہو تو بات بنے
جاوید قاضی

چنگ چی رکشے پر پابندی

سندھ ہائی کورٹ نے چنگ چی رکشے پر پابندی کے خلاف حکم امتناعی واپس لے لیا، تو کراچی کے غریب شہریوں کو میسر سواری پر قدغن لگنے سے زندگی کے مصارف بڑھ گئے۔چین کی کمپنیوں نے مال برداری کے لیے ایک چھوٹی گاڑی تیار کی تھی جس کو موٹر سائیکل سے لگادیا جاتا ہے۔
دیہاتوں اور شہروں میں کم سامان کی نقل وعمل کے لیے یہ ایک ٹیکنالوجی کی سستی ایجاد ہے۔ یہ سواری پاکستان میں درآمد ہوئی اگر چہ اس سواری کو گدھا گاڑی اونٹ گاڑی اور بڑی سوزوکی ٹرک کے متبادل کے طور پر استعمال ہونا تھا مگر پاکستان میں آٹو موبائل کے انجینئروں نے اس مال بردار سواری کوپبلک ٹرانسپورٹ میں تبدیل کر دیا۔ کراچی میں ایک سیاسی لسانی جماعت نے چنگ چی رکشے کو بطور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
جنوبی پنجاب سے آنے والے محنت کشوں کو چنگ چی رکشے چلانے کے لیے راغب کیا گیا۔ اندرون سندھ سے آنے والے نوجوان بھی چنگ چی چلاتے نظر آنے لگے۔ یوں چنگ چی رکشے کے روٹ بن گئے۔ پولیس اور کراچی پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی والے خاموش رہے ۔ بڑی بسوں اور منی بسوں کی جگہ چنگ چی رکشوں کی بہار آگئی۔ شہر میں چوری ہونے والی موٹر سائیکلیں ان رکشوں میں استعمال ہونے لگیں۔
سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اورپولیس اہلکاروں کے بھتے میں اضافہ ہونے لگا۔ چنگ چی رکشے میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ زیادہ مسافروں کے بیٹھنے سے اس کا بیلنس برقرار نہیں رہتا اور یہ سڑک پر چلتی گاڑیوں کے درمیان الٹ جاتا ہے۔مسافروں کو بہت مختصر جگہ پر بیٹھنا پڑتاہے۔ یوں حادثات میں بھی اضافہ ہوا۔ چنگ چی رکشہ چلانے والے کم عمر لڑکے اور نوجوان ہیں جن کے پاس ٹریفک قوانین کی پابندی کا تصور نہیں ہے یوں سگنل توڑنے ،ون وے کی خلاف ورزیاں معمول بن گئیں ۔اس بناء پر سڑک پر ہونے والے حادثات میں اضافہ ہوا۔
کراچی میںبہت عرصے سے پبلک ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرنے والوں نے بڑی بسوں پر سرمایہ کاری بند کر دی تھی۔ یوںبسوں اور منی بسوں کی تعداد کم ہو گئی پھر ٹیکسیاں بھی تقریباً لاپتہ ہو گئیں۔ اس دوران بینکوں نے CNGرکشے کے لیے قرضے جاری کیے یوں بھاری تعداد میں یہ رکشے سڑکوں پر نظر آنے لگے۔
یہ رکشے کھلے اور زیادہ آرام دہ ہیں مگر چنگ چی رکشوں کی بناء پر ان کا کاروبار متاثر ہوا۔ CNGرکشے والوں نے اپنے رکشوں کو 6سیٹر کر لیا اور اپنے الگ روٹ بنا لیے۔ یہ صورتحال بینکوں سے ملنے والے قرضوں کی شرائط اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے قوانین کی واضح خلاف ورزی تھی مگرگزشتہ سال جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو کراچی پولیس کے سر براہ نے اچانک انکشاف کیا کہ چنگ چی رکشہ مافیا مختلف جرائم کی ذمے دار ہے اور چوری کی موٹر سائیکلیں ان رکشوں میں استعمال ہوتی ہیں ۔
پولیس نے ان رکشوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی ، معاملہ عدالت عالیہ تک پہنچا ۔معزز عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا اور ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے اس دوران چنگ چی رکشوں کے لائنسس اور ان کے روٹ کے تعین کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔
کراچی کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے مگر کراچی پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کے حوالے سے دنیا کا بدترین شہربن گیا ہے۔ کراچی میں 40کی دہائی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال بہت بہتر تھی بلکہ بین الاقوامی معیار کی تھی۔
آپ اندازہ لگائیں کہ کلکتہ اور کراچی میں ایک ساتھ ٹرام چلنے لگی۔ 1947میں جب ہندوستان سے آبادی کا ایک بڑا ریلہ کراچی میں آکر آباد ہوا اور کئی نئی بستیاں آباد ہو گئیں تو پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی محسوس ہوئی ، کراچی شہر میں بسوں کی تعدادبڑھ گئی۔ اسی عرصے میں کراچی میں ڈبل ٹریکر بسیں چلنے لگیں۔ایوب خان صدر بنے تو ان کے دور میں سرکلر ریلوے کا نظام قائم کیا گیا۔ سرکلر ریلوے پیپری سے شروع ہو کر کیماڑی وزیر مشن اور پھر سائٹ ناظم آباد لیاقت آباد کے قریب سے گزرتے ہوئے گلشن اقبال گلستان جوہر کے وسط سے ڈرگ روڈ اسٹیشن پر مرکزی ریلوے لائن سے منسلک ہو جاتی تھی۔
اس زمانے میں کراچی کے شہریوں کے لیے بڑی بسوں ٹرام اور ریل گاڑی کا نظام میسر تھا ۔ بھٹو دور میں ٹرانسپورٹ مافیا نے ٹرام سروس کو بند کرایا ، جنرل ضیاء الحق کے دور میں سرکلر ریلوے زوال پذیرہونا شروع ہوئی اس طرح کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن جو بڑی بسوں کے ذریعے یونی ورسٹیوں کے طلباء کے علاوہ مضافاتی علاقوں کو بڑی بسوں کے ذریعے اس سہولت فراہم کرتی تھی بد انتظامی کرپشن کی بناء پر بند ہو گئی۔ کراچی میں 1986سے ہونے والے ہنگاموں میں بسوں کو نذر آتش کرنے کی روایت نے صورتحال کو خاصا خراب کیا۔
برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کی گہرائی کو محسوس نہیںکیا اورکسی حکومت نے بنیادی نوعیت کی منصوبہ بندی پر توجہ نہیں دی ۔جب دوست محمد فیضی وزیر ٹرانسپورٹ بنے تو انھوں نے میٹروبسیں شروع کرائیں، یہ بسیں پہلے ائیرکنڈیشن تھیں۔ گلستان جوہرسے صدر ملیر سے صدرتک چلتی تھی۔ ان میں مسافروں کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ متوسط طبقے کے لیے ایک اچھی سہولت تھی۔
منی بسوں کے علاوہ بڑی کوچز بھی چلائی گئیں جن کا کرایہ منی بس کے ٹکٹ سے زیادہ تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ ان کوچز میں مسافر کھڑے ہو کر اور لٹک کر سفر نہیں کر سکتے۔مگر اس شرط پر کبھی عمل نہیں ہوا۔جب نعمت اللہ ناظم اعلیٰ بنے تو اس وقت وزیر اعظم شوکت عزیز نے بینکوں کی لیز سے گاڑیوں کی اسکیم شروع کرائی ۔ اس اسکیم کے تحت بڑی بسیں سڑکون پر نظر آنے لگیں۔ ان میں بھی آٹو میٹک دروازے اور ائیرکنڈیشن بسیں بھی شامل تھیں مگر پھر یہ بسیں کچھ عرصے بعد سڑکوں سے غائب ہو گئیں ۔
اخبارات میں خبر بھی شایع ہوئی کہ ان بسوں کے مالکان نے بینکوں سے قرضے ادا نہیں کیے یوں کچھ ضبط ہو گئیں۔ کچھ کے بارے میں بتایا گیا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کی بناء پر مالکان ان بسوں کو پنجاب کے مختلف شہروں کے درمیان سکون سے چلانے کے لیے لے گئے ۔ مصطفی کمال ناظم اعلیٰ بنے تو ان کا سارا زور اوور ہیڈ برج اور انڈر پاس کی تعمیر پر تھا۔ انھوں نے اپنے آخری دور میں گرین بسیں چلائیں جو نارتھ کراچی سے صدر تک جاتی تھیں، یہ سروس زوال پذیر ہوئی ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے گرین بس دوبارہ چلائی مگر یہ محدود روٹ پر نظر آتی ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے دو سال قبل سہراب گوٹھ سے گرومندر تک جدید بسیں چلانے کا اعلان کیا تھا ۔ حکومت سندھ نے شاہراہ فیصل پر اسی طرح کی بسیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر دو سال بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب میڈیا کی خبروں کے لیے تھا۔ ایوب خان کے دور میں ماس ٹرانزٹ کا منصوبہ فائلوں میں شروع ہوا ۔
بھٹو دور میں بھی ان فائلوں پر کچھ کام ہوا مگر عملی طور پر کچھ نہ ہو سکا۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں فہیم الزماں بلدیہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹربنے تو اس منصوبے پر کام شروع کیا۔ بے نظیر بھٹو نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا مگر فہیم الزماں کے رخصت ہوتے ہی معاملہ داخل دفتر ہوا۔ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد چنگ چی رکشے جو سڑکوں سے غائب ہو رہے ہیں مگر عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔
بسیں اور منی بسیں دستیاب نہیں غریب لوگ رکشوں میں بیٹھ نہیں سکتے۔ کراچی کے مسئلے کا حل جدید ٹرانسپورٹ سسٹم ہے۔ ایسا سسٹم جو لاہور اور اسلام آباد میں کام کر رہاہے۔بعض ماہرین کہتے ہیں کہ اگرکرا چی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو پھر 80کے عشرے کی طرح کراچی میں ایک دفعہ پھر اس مسئلے پر فسادات ہوں گے۔ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے مگر کراچی کے شہریوں کا باعزت پبلک ٹرانسپورٹ کا خواب کب پورا ہو گا۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان