اے روشنیوں کے شہر

Advertisements

The Camel market on the outskirts of Karachi, Pakistan.

Men use scissors to cut the hair of a camel to make intricate decorative patterns at the animal market on the outskirts of Karachi, Pakistan. Muslims across the world are preparing to celebrate the annual festival of Eid al-Adha or the Festival of Sacrifice, which marks the end of the annual hajj pilgrimage, by slaughtering goats, sheep, cows and camels in commemoration of the Prophet Abraham’s readiness to sacrifice his son to show obedience to Allah. 

کراچی پھر جرائم کی لپیٹ میں

کراچی میں نیشنل ایکشن پروگرام پر سختی سے عملدرآمد کی وجہ سے حالات میں کچھ بہتری آئی تھی اور شہری کسی حد تک سکھ کا سانس لے رہے تھے کہ شہر ایک بار پھر دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم کی زد میں آگیا ہے۔ اسٹریٹ کرائم اس دھڑلے سے کیے جا رہے ہیں کہ شہری رات ہی میں نہیں دن کے اجالے میں بھی انفرادی اوراجتماعی طور پر لوٹے جارہے ہیں۔
بینک ڈکیتیاں ہو رہی ہیں۔ ڈاکو دن کے اجالے میں بینکوں سے لاکھوں نہیں کروڑوں روپے لے جا رہے ہیں۔ غریب عوام بینکوں سے اپنی ضرورتوں کے لیے چھوٹی موٹی رقمیں نکالتے ہیں تو لٹیرے ان سے یہ رقمیں بھی کھلے عام چھین لیتے ہیں۔ اے ٹی ایم کے باہر ڈاکو رقم نکالنے والوں کے منتظر رہتے ہیں ،جیسے ہی وہ باہر نکلتے ہیں، ان سے رقم چھین لی جاتی ہے انتظامیہ بے بس ہے لٹیرے آزاد ہیں۔
ان اسٹریٹ کرائم کے ساتھ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ناقابل یقین اضافہ ہوگیا ہے، پچھلے 9 دن میں صحافیوں اور اہلکاروں سمیت 20 افراد کو قتل کردیا گیا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کا قتل جاری ہے۔
9 ستمبر کو کراچی میں ایک سینئر صحافی آفتاب عالم کو نارتھ کراچی میں ان کے گھر کے سامنے انتہائی بیدردی سے قتل کردیا گیا جس کے خلاف صحافی برادری سراپا احتجاج ہے، اسی روز پیلا اسکول کے قریب ایک بیکری پر فائرنگ کرکے بیکری کے مالک اور ملازم کو قتل کردیا گیا۔ 10 ستمبر کو منظور کالونی کراچی میں ایک حافظ قرآن اس کی اہلیہ اور دو بچوں کو نہ صرف بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا بلکہ اس کے گھر کو آگ بھی لگادی گئی۔ 9 سالہ بچے حماد کے گلے پر چھری پھیر دی گئی۔
پچھلے دن معروف سماجی شخصیت سبین محمود کے قتل کے عینی گواہ پولیس اہلکار کو سر عام قتل کردیا گیا۔ قتل و غارت کی اس نئی لہر نے ایک بار پھر اہل کراچی کو سخت خوف و دہشت میں مبتلا کردیا ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے شہر میں امن و امان کی فضا میں جو بہتری آئی تھی ایک بار پھر وہ خوف ودہشت میں بدل گئی ہے ۔ ایک بار پھر کراچی کے شہری اپنے آپ کو گھروں کے اندراورگھروں کے باہر غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔
کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹریفک کے سپاہیوں کو جگہ جگہ اس آزادی سے قتل کیا جا رہا ہے کہ ٹریفک کے سپاہی اپنی ڈیوٹیاں دینے سے گریزاں ہیں اور چھٹیوں پر جا رہے ہیں۔ یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ٹریفک پولیس کی حفاظت کے لیے تین سو پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگادی گئی ہے، ماضی میں جب شہر میں جرائم کی بھرمار تھی اور جرائم پیشہ لوگ دھڑلے سے جرائم کا ارتکاب کر رہے تھے تو پولیس اسٹیشنوں کی چھتوں پر پہریداروں کو متعین کیا جاتا تھا اور پولیس اسٹیشنوں کے گیٹ اندر سے بند کر لیے جاتے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی جیسے  میلوں پر پھیلے دوکروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں مجرموں کو جرائم کے ارتکاب سے روکنا آسان نہیں، لیکن دنیا کے بیشتر بڑی آبادیوں والے شہروں میں نہ صرف جرائم کی روک تھام میں کامیابی حاصل کی جا رہی ہے بلکہ شہری خوف و دہشت سے بے نیاز آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان شہروں اور ملکوں کی انتظامیہ اپنی ذمے داریوں کو ایمانداری اور فرض شناسی اور قومی جذبے کے ساتھ ادا کرتی ہے۔
پاکستان کا شمار ایسے ملکوں میں ہوتا ہے جو دہشت گردی اور نہ ہی انتہا پسندی کے حوالے سے صف اول میں کھڑے ہوئے ہیں اور یہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی نہ اتفاقیہ ہے نہ ملک کے کسی ایک علاقے تک محدود ہے، سارا ملک اس کی زد میں ہے اور یہ کارروائیاں اس قدر منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے کی جا رہی ہیں کہ ان کی ناکامیوں کا بہت کم امکان رہتا ہے۔
ہمارے وزیر داخلہ نے دینی مدارس کے منتظمین کے ایک نمایندہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ایک بہت ہی اہم بات کی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ طاقت سے کرنے کے ساتھ ساتھ جوابی نظریاتی جنگ سے بھی کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دہشت گرد طاقتیں اپنی اس جنگ کو نظریاتی جنگ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد ساری دنیا میں اسلام کا نفاذ بتایا جاتا ہے اور اس مقدس جنگ ہی کے نام پر سیدھے سادے نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرب عضب آپریشن نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے لیکن اس کا دائرہ کار شمالی وزیرستان تک محدود ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنالیا تھا۔ ضرب عضب کی وجہ سے شمالی وزیرستان بڑی حد تک دہشت گردانہ سرگرمیوں سے محفوظ ہوگیا ہے لیکن شمالی وزیرستان سیکڑوں میلوں پر پھیلا ہوا ایک ایسا پہاڑی علاقہ ہے جہاں چھاپہ مار جنگ کی طرز پر لڑنے والوں کے لیے بڑی سہولتیں مہیا ہیں ۔
اس وسیع و عریض پہاڑی علاقے میں کافی فاصلوں پر سیکیورٹی فورسز کی چوکیاں قائم ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہا پسند طاقتیں ان چوکیوں پر رات کے اندھیرے میں حملہ کرتی ہیں جس کی وجہ سیکیورٹی فورسز کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن آفرین ہے ان بہادروں پر کہ وہ جانوں کی قربانیاں دے کر بھی ان غیر محفوظ جگہوں پر اپنی قومی ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں۔
ہم نے اس حقیقت کی بار بار نشان دہی کی ہے کہ دہشت گرد بہت منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے اپنے اہداف پر حملے کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیاب رہتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہماری کارروائیاں افراتفری غیر منظم اور غیر منصوبہ بند ہوتی ہیں جس کی وجہ سے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے دہشت گردوں نے اسی منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ضرب عضب کے آغاز سے بہت پہلے دہشت گردوں کو ملک کے چپے چپے تک پھیلادیا تھا ۔
کراچی میں خاص طور پر بڑی تعداد میں انتہا پسندوں کا اجتماع کیا گیا کیونکہ یہ شہر مالی اعتبار سے سونے کی چڑیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ منظم دہشت گردوں کے ساتھ دوسرے صوبوں سے جرائم پیشہ گروہوں کی بڑی تعداد کراچی آگئی ہے اور بڑے بڑے جرائم کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ کرائم کا دھڑلے سے ارتکاب کر رہی ہے جس کا تدارک ایک ایماندار فرض شناسی اور محب وطن انتظامیہ ہی کرسکتی ہے۔ ہماری سول اور فوجی قیادت بار بار اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ ’’آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔‘‘ یہ ایک ہمت افزا بات ہے لیکن اگر اسی جنگ میں یکسوئی نہیں رہی اور توجہ بٹی رہی تو مشکلات کا سامنا ہوگا۔
ظہیر اختر بیدری

ہاں ہاں لیاری بدل رہا ہے

اتوار 6 ستمبر کی سہ پہر 4 بجے سے رات 9 بجے تک کا وقت لیاری میں نکلنے والی عافیہ موومنٹ کی ریلی میں گزرا ، وہ لیاری آج کراچی کا بالکل عام سا علاقہ معلوم ہوا کہ جہاں کبھی وحشت کے بھوت ناچتے تھے اور جو کبھی طویل عرصہ سے جنگ و جدل کا مرکز بنا ہوا تھا ، یہاں کئی جگہوں پہ گولیوں سے چھلنی درودیوار آج بھی ان تاریک دنوں اور خون آشام لمحوں کی یاد دلاتے یں کہ جب لیاری کے رہائشیوں کے شب و روز پہ دہشت کا راج تھا ، بلاشبہ یہ سب کراچی آپریشن کے سبب ممکن ہوا اور اسکی حقیقت جاننے کیلئے کوئی ذرا لیاری اور باقی کراچی کا چکر لگا آئے اور اپنی آنکھوں سے خود جائزہ لے لے کہ رینجرز نے ممکنہ حد تک انصاف سے کام لیا ہے اور کسی علاقے کے مجرم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی ہے۔
دھماکوں و فائرنگ سے گونجتا لیاری کبھی ایسا پرامن بھی ہوجائے گا ، کچھ عرصہ پہلے اسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اوریہ تو قطعی ناممکن تھا کہ یہاں سے کوئی بھی جماعت یا گروپ اپنی ریلی نکال سکے، میں نے یہاں کے حالات کی اس قدر بڑی کا یاپلٹ پہ علاقے کے متعدد مکینوں سے بات کی اور ان سبھی کو جنرل راحیل شریف کے لیئے بے حد ممنون اور دعا گو پایا۔
جرم بے گناہی پہ 86 سال کی قید کی سزا پانے والی اور 12 برس سے امریکی جیل میں محبوس قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششوں کے سلسلے میں نکالی جانے والی اس ریلی کا نمایاں پہلواہالیان لیاری کی طرف سے اس کا نہایت پرجوش خیر مقدم تھا کیونکہ یہ ریلی لیاری میں جس جس جگہ سے بھی گزری وہاں پہ سڑک کے دونوں طرف علاقے کے باشندوں نے بہت والہانہ خیر مقدم کیا ،، علاقے کے بہت سارے لوگ مسلسل اس ریلی کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے رہے، اس ریلی میں علاوہ کئی گاڑیوں کے، چنگ چی والے مظلوم بھی اپنے رکشے لے کر شامل جلوس تھے۔
 میں ریلی کے آگے آگے چلنے والے مرکزی ٹرک کے عرشے پہ عافیہ موومنٹ کی سربراہ اور عافیہ کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ہی کھڑا تھا اور ہر طرف لوگوں کو انکے لئے عقیدت و احترام کے اندازمیں ہاتھ ہلاتے اور عافیہ موومنٹ کے سبز پرچم لہراتے دیکھ رہا تھا ، عجب جذباتی سے مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے جگہ جگہ علاقے کی خواتین بھی سر رہ گزر جمع تھیں اور شرکائے ریلی کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے لگائے جانے والے نعروں کا بھرپور جواب دے رہی تھیں اور ریلی کے مرکزی ٹرک سے ان پہ بار بار گلپاشی کی جارہی تھی۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کئی جگہوں پہ ٹرک رکوا کر عوام سے خطاب بھی کیا اور عوام نے بھی انکے خطاب پہ اتنی زوردار تالیاں بجائیں کہ انکا بلند آہنگ انکی شاندار پزیرائی کا بڑا ثبوت بن گیا۔ 
لیاری کے عوام کی جانب سے پزیرائی کے جو مناظر میں نے دیکھے انکی وجہ باآسانی سمجھی جاسکتی تھی ، انہیں بہت مدت بعد دہشت گردی کے حبس اور گھٹن سے پاک فضا میں سانس لینے کا موقع ملا تھا اور رفتہ رفتہ وہ اپنے حالات کی دیرینہ خرابی کے ذمہ داروں کے اصل چہروں کو بھی پہچانتے جارہے ہیں اور اب اپنے اس کردار کو نبھانے کے لئے خود کو آزاد محسوس کررہے ہیں کہ جسے مختلف نعروں کے جال میں پھانس کر محدود کردیا گیا تھا ، انہیں جب پاسبان کے تعاون سے نکالی گئی عافیہ موومنٹ کی اس ریلی میں شرکت کا موقع ملا تو آن کی آن میں انکے اندر چھپے ولولوں کے سبھی رنگ نمایاں ہوگئے اور انکی محبت کے یہ رنگ میرے اندر بھی خوش امیدی کی نئی قوس و قزح بن کر اتر سے گئے ہیں اور مجھے یوں لگ رہا ہے کہ جیسے اب وطن کے محافظوں نے لیاری کو بچالیا ہے ، میرے کراچی کو بچالیا ہے، بلکہ میری ساری سوہنی دھرتی کو بچالیا ہے۔  
…سیدعارف مصطفیٰ…..