کاروبار کے لیے کراچی پاکستان کا بہترین شہر ہے، ورلڈ بینک

ورلڈ بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں کراچی کو پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں کاروبار کے لیے سب سے بہترین شہر قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز عالمی بینک کے ادارہ آئی ایف سی کی جانب سے جاری ریجنل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں 2005-2006  میں  کاروبارکرنا آسان ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے 8 ممالک کے بڑے شہروں کا جائزہ لیا گیا جن میں 12 بھارت، 6 پاکستان اور 4 بنگلا دیش کے شہر شامل تھے، ان شہروں میں پاکستان میں کراچی، بھارت میں احمد آباد اور بنگلا دیش میں ڈھاکا کو کاروبار کے لیے سب سے بہترین یعنی کاروبار دوست قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ کراچی میں کاروبار کی آسانی کے لیے کی گئی اصلاحات نے قانونی دستاویز کی تیاری میں وقت ، قیمت میں کمی نے اہم کردار ادا کیا ہے جب کہ اس دوران کراچی میں امن و امان میں بہتری اورانتظامی امور میں سہولتوں نے بھی کاروبار کو آسان بنا دیا ہے۔
دنیا بھر کے 175 ممالک کے کاروبار دوست شہروں کی جاری کردہ فہرست میں پاکستان کا 74 واں نمبر ہے جب کا بنگلہ دیش 88 اور بھارت 134 ویں نمبر پرہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک میں ٹیکس اور دیگر قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے کاروبار کے آغاز میں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم پاکستان نے اس شعبے میں کافی بہتر اصلاحات کیں جس سے کاوربار کرنا آسان ہوگیا اسی وجہ سے ہر شہر میں کاروبار کے بہترماحول کے لیے قوانین میں سہولت کی وجہ سے پاکستان  22 درجے جمپ لگا کر 74 سے 52 ویں پوزیشن پرآگیا ہے۔

کراچی کا مضافاتی علاقہ "گڈاپ"

کراچی کا مُضافاتی علاقہ گڈاپ جو کہ رقبہ کے لحاظ سے بھی کراچی کا سب سے
بڑا ٹاؤن شمار کیا جاتا ہے۔ آخری مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق گڈاپ ٹاؤن میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں۔ گڈاپ کا علاقہ تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے، قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گڈاپ کا علاقہ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے جہاں پر ریتی بجری، ماربل، سنگ مرمر، سیسہ و دیگر معدنیات موجود ہیں۔

ہم نے اپنا سفر صبح 8 بجے شروع کیا اور اپنے ہمراہ گڈاپ کی سماجی شخصیت محمد علی بلوچ صاحب کو اپنے ہمراہ لیا اور ڈکار ہوٹل پر صبح کی چائے پی کر آگے چل دئیے، اگر آپ کو پورے گڈاپ کو دورہ کرنا ہے تو آپ کو تقریباً 2 دن لگ سکتے ہیں۔ گلشنِ معمار سے گڈاپ کا آخری حصہ تقریباً 145 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے لیکن دشوار گذار اور پتھریلے راستے آپ کے سفر کو مزید طویل بنا دیتے ہیں۔ گڈاپ میں نمایاں مقامات نیشنل کیتھر پارک، مہر جبل، موئیدان، گنڈھ جھنگ، وار گھنڈ، کار سینٹر، تھڈوڈیم، لٹھ ڈیم، مورو و دیگر شامل ہے۔ گڈاپ کی خاص پیدوار پالک، لوکی، آلو، پیاز، ٹماٹر، بیگن، کدو، امرود، چیکو سمیت کئی اقسام کی سبزیاں اور پھل شامل ہیں، ہم نے دوپہر کے کھانے میں بھی وہیں کی کاشت کی ہوئی تازہ سبزیوں سے بنی بھجیا تناول کی اور خاص طور پر میری فرمائش پر رات کے کھانے میں بھی سبزی کا انتخاب کیا گیا۔

گڈاپ میں سفر کرتے ہوئے آپ حیرت میں مبتلا ہوجائیں گیں، راستے میں پُر اسرار پہاڑ، چھوٹی بڑی چوٹیاں، صحرا۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ گڈاپ کے علاقے میں وائلڈ لائف کا محکمہ بھی موجود ہے، کیونکہ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں نایاب جانور بھی پائے جاتے ہیں جس میں پاکستان کا قومی جانور مار خور، ہرن اور مور قابل ذکر ہیں۔ گڈاپ میں موجود مہر جبل جو کہ سطح زمین سے تقریبا 1800 فٹ کی بلندی پر واقع ہے میں رات کے پہر میں آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے اتنے قریب نظر آرہے تھے کہ جیسے ہاتھ بڑھا کر چھو لیا جائے۔

گڈاپ میں سب سے بڑا مسئلہ مواصلاتی نظام، ٹرانسپورٹ اور پانی کا ہے گڈاپ میں ندی کے قریب تو کنویں کے ذریعے پانی ملنے کا امکان ہوتا ہے اور اسی پانی سے مقامی افراد نے کھیتی باڑی سے اپنا روزگار کا سلسلہ قائم کیا ہوا ہے، لیکن ندی سے دور دراز گاؤں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بیشتر فلاحی ادارے گڈاپ کے مضافات میں اپنا کام انجام دے رہے ہیں لیکن یہ مسائل کو حل کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے گڈاپ کی عوام کے لئے کم از کم زندگی کے سب سے اہم جزو پانی کے مسئلہ کو فوری حل کرنے کے لئے فلاحی اداروں سے مل کر بہتر حل نکالیں تاکہ گڈاپ کی عوام کچھ سکھ کا سانس لیں۔
علاج و معالجے کی ناکافی سہولیات بھی گڈاپ ٹاؤن کا ایک المیہ ہے۔ فلاحی ادارے اپنے محدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ہفتہ میں 1 دن میڈیکل کیمپ کا اہتمام کرتے ہیں جن سے چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج تو کر دیا جاتا ہے، لیکن کسی بڑے مرض کی تشخیص کے لئے مریض کو شہر کے کسی بڑے اسپتال میں داخل کرائے بغیر مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ اُس علاقے میں غربت اور افلاس کا یہ عالم ہے کہ لوگ مریض کا علاج کرانے سے قاصر ہیں اور علاج کروائیں تو کروائیں کیسے کہ یا تو دو وقت کی روٹی کا انتظام کرلیا جائے یا پھر علاج کروالیا جائے، دونوں چیزیں ایک ساتھ وہاں ممکن ہی نہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی کمی بھی گڈاپ کے باسیوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹرز زائد کرائے وصول کرتے ہیں اور لوگ دینے پر مجبور ہیں۔
حکومتی عدم توجہی کا شکار، قدرتی حسن سے مالامال اس علاقے پر اگر توجہ دی جائے تو سیاحوں کے لئے یہ نہایت ہی بہترین جگہ سکتی ہے۔ اِس طرح نہ صرف آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ سیاحت میں اضافے سے مقامی لوگوں کے معاشی حالات بھی بہت حد تک بہتر ہوسکتے ہیں۔ اِس وقت مقامی افراد کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مال مویشی ہے لیکن کئی سالوں سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے گڈاپ قحط سالی کا شکار ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مسائل میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جو انسانی المیے کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ گڈاپ ایڈوینچر ٹور کرنے والوں کے لئے نہایت ہی خوبصورت جگہ ہے، تو جائیے اور گڈاپ ٹاؤن کے دلفریب مناظر سے لطف اٹھائیے۔
نعمان لودھی

چوکنڈی کا تاریخی قبرستان

کراچی میں موجود بھینس کالونی رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کے عقب
میں ایک شہر خموشاں آباد ہے، جسے ’’چوکنڈی قبرستان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چوکنڈی قبرستان کی قبریں جوکھیو قبائل سے منسوب کی جاتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ دیگر بلوچ قبائل کی قبریں بھی ہیں۔ چوکنڈی قبرستان میں تاریخی قبروں کی تعمیر 15 ویں صدی عیسوی سے ہورہی ہیں۔

چوکنڈی کے معنی چار کونوں کے ہیں اور یہ نام بھی شاید اسی لئے استعمال کئے گئے ہیں، قبروں کی تعمیر میں پیلے رنگ کا پتھر استعمال کیا گیا ہے جو ٹھٹھہ کے قریب جنگ شاہی میں پایا جاتا ہے، زیادہ خوبصورت انداز میں تعمیر کردہ مقبرے کثیر منزلہ  انداز میں تعمیر ہوئے ہیں، مستطیل نما قبریں تقریباً اڑھائی فٹ چوڑی، 5 فٹ تک لمبی اور 4 سے 14 فٹ تک اونچی ہیں، اس میں قبر کے چاروں طرف استعمال کئے گئے پتھر پر انتہائی خوبصورت نقش نگاری کی گئی ہے۔
اِس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مَردوں اور خواتین کی قبروں کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔ مردوں کی قبروں پر خوبصورت کلاہ نما ڈیزائن بنائے گئے ہیں اور اس کے علاوہ تلوار بازی، گھڑسواری اور خنجر وغیرہ کے نقش بنائے گئے ہیں، جبکہ خواتین کی قبروں پر خوبصورت زیورات کنندہ کئے گئے ہیں۔ ان نقش سے مرد و زن کی قبروں کی باآسانی شناخت کی جاسکتی ہے۔ ان کو دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ جب سائنسی آلات بھی موجود نہیں تھے، اس وقت میں کئی تہوں پر مشتمل یہ نقش کیسے بنائے گئے ہونگے، اور یہ ڈیزائن اس مہارت سے بنائے گئے ہیں کہ قبروں کے دیگر لیئرز کو کوئی بھی نقصان نہیں ہوا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جس نفاست سے ان قبروں پر نوادرات کنندہ کئے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک قبر پر کئی ماہر کاریگروں کے کئی دن صرف ہوئے ہوںگے۔

اس قسم کی قبریں چوکنڈی کے علاوہ ملیر، میرپور ساکرو، مکلی، ٹھٹہ، سیہون شریف وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اِن تمام تر حقائق کے برعکس انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتِ وقت کی طرف سے اِس خوبصورت ورثے کی حفاظت کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا ہے بلکہ، جو چیز مزید افسوس کا باعث بنی وہ یہ کہ پچھلی حکومتوں میں اس قبرستان کی اراضی اور اس سے ملحقہ اراضی کو کچھ لوگوں کو کارخانوں و دیگر مقاصد کے لئے دیا جاتا رہا ہے، جہاں کچھ کارخانوں کی تعمیرات بھی ہوچکی ہیں۔
قبرستان کی دیوار کے ساتھ ہی کارخانوں، گاڑیوں کے گیراج، مکینک کی دوکانوں کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے، اس کے علاوہ قبرستان سے متصل جگہ پر ٹینکر مافیا بھی جمع ہے۔ مین روڈ سے گذرتے ہوئے شاید ہی کسی فرد کو یہ احساس ہو کہ ایک قدیم اور نایاب ورثہ یہاں موجود ہے۔ مین روڈ پر ایک چھوٹی سی تختی اس قبرستان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے جبکہ اس چھوٹی سی تختی پر بھی تشہیری پوسٹر کی بہرمار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تختی قبرستان کی نشاندہی کے بجائے جلسے جلوسوں اور کاروبار کی پبلسٹی کے لئے آویزں کیا گیا ہے۔
قبرستان میں ہماری ایک ضعیف العمر شخص سے ملاقات ہوئی، یہ بزرگ وہ واحد فرد ہیں جو حکومت کی طرف سے یہاں تعنیات ہیں۔ اب اتنے بڑے رقبہ پر محیط قدیم ورثہ کے لئے صرف ایک فرد کو معمور کرنا بڑایقینی طور پر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اِس قدر اہم ورثے کی حفاظت کے لیے حکومت کس قدر سنجیدہ ہے۔ اِس اہم ورثے کی مسلسل خراب ہوتی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ حکام کو اس قدیم ورثے کو محفوظ رکھنے کے لئے فوری خاطر خواہ اقدام کرنے ہونگے، تاکہ اس نایاب جگہ سے ہماری آنے والی نسلیں بھی معلومات حاصل کرسکیں۔
نعمان لودھی