سفر بھٹ شاہ کا

 کراچی سے 208 کلومیڑ کی مسافت پر واقع بھٹ شاہ موجود ہے، جہاں لوگ روحانی فیض پانے کے لئے شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار پر دیوانہ وار آتے ہیں، لوگوں کا یہی اشتیاق دیکھ کر ایک دن ہم 50 افراد پر مشتمل گروپ نے بھی بھٹ شاہ جانے کا ارادہ کیا اور اپنا سفر شروع کردیا۔ ہمارے ایک قریبی دوست طلحہ غوری اس طرح کے مختلف معلوماتی ٹرپ کا اہتمام کرتے رہتے ہیں اور ان کے ٹرپ کی خاص بات یہ ہے کہ ٹرپ میں موجود تمام افراد ہی فوٹو گرافر ہوا کرتے ہیں، تو ہم بھی اپنے دوست کشف بھائی اور اپنے کیمرے کے بیگ کے ساتھ اس ٹرپ میں شامل ہوگئے۔

ہم نے اپنا سفر کراچی سے صبح 8 بجے شروع کیا، سپر ہائی وے پر ناشتہ کرنے بعد تقریباً 12 بجے دن ہالا شہر پہنچ گئے۔ اس شہر کی خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کی ثقافت کو دنیا بھر میں روشناس کرانے والے کمہاروں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود ہے، ہاتھ سے بنے مٹی کے برتن یہاں کے ماہر کاریگروں کی محنت کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ شہر میں موجود کئی کارخانوں کا ہم نے معائنہ کیا اور وہاں موجود ماہر کاریگروں کی مہارت کے جوہر براہِ راست دیکھے۔ اتنے سارے فوٹو گرافرز کو ایک ساتھ دیکھ کر وہاں موجود افراد نے خصوصی تعاون بھی کیا، مٹی کے برتنوں کو ہمارے سامنے بنا کر بھی دکھایا۔

اس تمام تر صورت حال کو دیکھ کر سوچ کا محور بلند ہوا کہ اس جدید دور جہاں ہر چیز بشمول انسان مشینوں پر منحصر کرتا ہے وہاں اب بھی ہاتھ کی مہارت کا کام بڑے زور شور سے جاری ہے لیکن یہ دیکھ کر بہت افسوس بھی ہوتا ہے کہ دلکش فن پارے، بنانے والے کاریگر نہایت کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ہمارے کام کو خریدنے والے بہت کم نظر آتے ہیں اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب کمہار کے اس کام کو کتابوں میں ہی پڑھا جائے گا۔ ایسا دن آئے اِس سے پہلے ہی محکمہ ثقافت کو ان افراد کے لئے خصوصی انتظام کرنا ہوگا تا کہ اس قدیم فن کو بچایا جاسکے.

کچھ وقت گذارنے کے بعد ہم شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کی طرف روانہ ہوگئے مزار کے پاس پہنچ کر احساس ہوا کہ مزار سے ہزاروں افراد کا روزگار بھی جڑا ہوا ہے۔ مزار جانے کے لئے گلی کے اندر پنہچے تو رنگین دکانیں جن پر مختلف قسم کی مٹھائیاں، چادریں، پھول پتیاں نہایت ہی سلیقے سے سجا رکھی گئی تھی اور دکانوں پر موجود ہر فرد کی یہ کوشش تھی کہ گلی میں اندر آنے والا ہر فرد ان کی دوکان سے ہی خریداری کرے۔ ہر ایک اپنی بنائی ہوئی اشیاء کی تعریف کے پُل باندھ رہا تھا۔ خیر ان سے بچتے بچاتے ہم مزار کے مرکزی دروازے تک پہنچ گئے۔ گلی کے شروع سے مزار کے احاطے تک سیکڑوں گدا گروں کو ہم نے دیکھا جو سائیں کا صدقہ لینے کے لئے گوشہ نشیں تھے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی سنہ 1690ء میں موجودہ ضلع حیدرآباد کے تعلق ہالا میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 63 برس کی عمر پائی اور 1752ء میں وفات پاگئے، آپ ایک صوفی بزرگ ہیں، آپ نے اپنی شاعری میں معرفت الہیٰ، اسلامی رواداری اور اخلاق پر زور دیا، شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں ماہی گیروں، لوہاروں، چرواہوں، کسانوں، سنیاسوں کا خصوصی ذکر کیا، آپ نے سندھی زبان، ادب، ثقافت، رومانوی داستانوں اور ثقافتی پہلوؤں کو اسلامی سانچہ میں بڑی خوبصورتی سے ڈھالا۔ آپ کی شاعری اور افسانے اتنے پُر اسرار تھے کہ لوگ جوق در جوق آپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہونے لگے اور یہ سلسلہ سالہا سال سے ابھی تک جاری ہے۔

مزار کے اندر مختلف مقبروں پر نہایت ہی خوبصورت نقش و نگار کنندہ ہیں، شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار کے احاطے میں آپ کا کلام پڑھا جاتا ہے جو کہ صبح سے لیکر رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ ایک مخصوص انداز کی دھیمی سی موسیقی اور مخصوص انداز کا راگ فرد کو اپنی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے۔ یہ راگ گانے والوں کا وقت متعین ہے، یہ تمام تر راگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی داستانوں میں سے ہوتا ہے جسے سُر کا نام دیا گیا ہے۔ آپ کے کام کو دو نام دئیے گئے ہیں، سر سارنگ اور سر سہنی اور ان کو گانے کا وقت مختص ہے۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام روحانی فیض ہے۔ انہوں نے وحدانیت، انسانی ذات کے لئے محبت کا پیغام، اور درگذر کرنے پر زور دیا ہے۔ آپ کی شاعری اور افسانے بڑی بڑی جامعات میں بطورِ مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔
نعمان لودھی

Advertisements

کراچی بنےگا استنبول

ترکی کا سب سے بڑا شہر استنبول آبادی کے اعتبار سے پانچ بڑے عالمی شہروں میں شمار ہوتا ہے اور ترکی کی معیشت میں اکیلے استنبول کا پیداواری حصہ 30 فیصد ہے ۔ قومی خزانے کو 60 فیصد ٹیکس استنبول سے حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی آبادی کے اعتبار سے پانچ بڑے عالمی شہروں میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان کی معیشت میں اکیلے کراچی کا پیداواری حصہ قریباً ایک چوتھائی ہے۔ قومی خزانے کو 50 فیصد ٹیکس آمدنی کراچی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
سنہ 1977 تک کراچی کم و بیش ویسا ہی تھا جیسا آج استنبول ہے اور سنہ 1977 میں استنبول ویسا ہی تھا جیسا آج کراچی ہے۔ روزانہ اوسطاً دس سیاسی قتل ہوتے تھے۔ دائیں اور بائیں بازو کی مسلح تنظیموں کے تصادم میں پانچ برس کے دوران پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لگ بھگ 25 ہزار زخمی ہوئے۔ سنہ 1980 میں مارشل لا لگا تب جا کے سیاسی تشدد پر قابو پایا جا سکا۔
موجودہ صدر رجب طیب اردوغان استنبولی ہیں ۔ نوے کے عشرے میں استنبول کے مئیر بنے اور اپنے شہر کو ترقی کا شو کیس بنا دیا اور پھر اس شو کیس کو قومی انتخابات میں ووٹروں کے پاس لے گئے اور وعدہ کیا کہ ترکی کو بھی ایسا ہی بنا دیں گے۔ ووٹروں نے ان پر اعتبار کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔

اس وقت بلدیہ استنبول کا سالانہ بجٹ 14 ارب ڈالر ہے۔ بجٹ کا 75 فیصد انفراسٹرکچر کی تعمیر و بہتری، پانی کی فراہمی، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے لیے مختص ہے۔ آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سیاح ہیں۔ اس سال اب تک ایک کروڑ سے زائد سیاح استنبول آئے ہیں۔

 استنبول کی اپنی دو ہزار سالہ تاریخ بھی سیاحوں کو بے طرح کھینچتی ہے مگر استنبول میں سکیورٹی کے انتظامات بہت اچھے ہیں اور فائیو سٹار سے تھری اسٹار تک کے ساڑھے آٹھ سو معیاری ہوٹل موجود ہیں اور مزید تعمیر ہو رہے ہیں۔
مقامی حکومت آمدنی کا اہم ذریعہ بننے والے تاریخی و ثقافتی ورثے کی اچھے سے دیکھ بھال کرتی ہے۔ سلیمانیہ مسجد اور نیلی مسجد میں نماز کے بعد الوہی سکون میں داخل ہونے کے لیے کسی چوڑے سنگی ستون سے ٹیک لگا کے آنکھیں بند کرنا کافی ہے ۔ٹوپ کاپی اور اسلامک آرٹ میوزیم میں احتیاط سے رکھے شاندار ماضی سے آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔
استنبول آزادی کا دوسرا نام ہے۔ آبنائے مارمرا کی شفاف لہریں گنتے گنتے پرنسس آئی لینڈ پہنچ کے پچاس اقسام کی مچھلی کھائیں یا استقلال اسٹریٹ پر لذیز مقامی کھانوں کے صاف ستھرے ریستورانوں پر ٹوٹ پڑیں۔
مصوری کے شاہکار دیکھنے ہوں تو چار عظیم الشان آرٹ میوزیم حاضر ہیں۔گرمیوں میں جائیں تو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور جاز فیسٹیول میں گم ہوجائیں۔ کسی بھی مقامی اخبار میں کسی مقبول تھیٹر شو کا وقت پڑھ لیں یا کسی بھی ٹیکسی والے سے کسی بھی ایسی جگہ کا پتہ پوچھ لیں جہاں شام سکون سے گزر سکے۔

جی چاہے تو بیگلو ڈسٹرکٹ کے کسی نائٹ کلب میں چسکی لگاتے ہوئے بھانت بھانت کی تھرکن دیکھ لیں یا معیاری بیلی ڈانس سمجھنا ہو تو تکسیم سکوائر میں سلطانہ کلب تک پیدل پیدل چلے جائیں ورنہ اتاترک کلچرل سینٹر کے سٹیٹ اوپرا یا سمفنی آرکسٹرا کا ٹکٹ لے لیں ۔ جیب میں پیسے کم ہوں تو فٹ پاتھ پر نصب بنچ پر بیٹھ کے سٹریٹ سنگرز کو ہی داد دے دیں۔

مقامی حکومت آمدنی کا اہم ذریعہ بننے والے تاریخی و ثقافتی ورثے کی اچھے سے دیکھ بھال کرتی ہے
تھکن محسوس کریں تو گرم گرم ٹرکش باتھ کے لیے پانچ سو برس پرانے سلیمانیہ حمام میں جا گھسیں اور خوشبو دار جڑی بوٹیوں سے مالش کروا کے ہلکی سے جھپکی لینے کے بعد بازو میں واقع گرینڈ بازار کی ٹائم مشین میں داخل ہو کر ایک ہزار برس پیچھے پہنچ جائیں۔ نیند آنے لگے تو زیرِ زمین میٹرو ، ٹرام  بس یا میٹر والی ٹیکسی پکڑ کے گھر کا راستہ لیں۔
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کو ایک اجتماع سے اور پھر 28 نومبر کو عمران خان کے ساتھ ایک مشترکہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اہلیانِ کراچی سے وعدہ کیا ہے کہ ہمیں بلدیاتی انتخابات میں کامیاب کروائیں تو کراچی کو استنبول کی طرح پرامن اور خوبصورت بنا دیں گے۔
کوئی کہہ رہا تھا سراج الحق صاحب نے استنبول نہیں دیکھا۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اتنا بڑا رہنما بھلا استنبول میں گھومے بغیر ایسا وعدہ کیسے کر سکتا ہے؟
میں تین بار استنبول جا چکا ہوں اور چوتھی بار کراچی کو ہی استنبول دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس واسطے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بار جماعتِ اسلامی کو ووٹ دوں گا کیونکہ سراج الحق صاحب کی طرح میں بھی بہت عاشق ہوں زندہ دل استنبول کا۔
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کراچی کی کہانی، تاریخ کی زبانی

’’کراچی کی کہانی، تاریخ کی زبانی‘‘ پہلی فرصت میں بغور مطالعہ کیا۔ جو عہد قدیم تا1965 تک کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے کہ ان ادوار میں کراچی کی تاریخ، معاشرت، معیشت، تعلیم، فن و ثقافت، سیاست اور دیگر معاملات کیسے تھے۔ بلاشبہ اس کتاب کے مصنف کھتری عبدالغفور کانڈاکریا نے شبانہ روز عرق ریزی کی ہے اور اس میں شامل قدیمی تصاویر کتاب کو جلابخشتی ہیں۔ کتاب کا انداز بیان میں تسلسل ہے جو قاری کی دلچسپی میں اضافہ کرتا ہے۔ 622 صفحات پر مشتمل یہ کتاب نئی نسل کے لیے ریفرنس ہے ۔

کھتری عبدالغفورکانڈاکریا کراچی کے علاقے لی مارکیٹ (لیاری) میں 17 جولائی 1949 کو پیدا ہوئے، 1975 میں گریجویشن تک تعلیم حاصل کی۔ ینگ کھتری اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بانیوں میں سے ہیں جس کے تحت پندرہ روزہ اخبار ’’نوائے کھتری‘‘ کے ایڈیٹر رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ بجلی کے سامان کے کاروبار سے وابستہ رہے لیکن ساتھ ہی ساتھ علمی، ادبی اور سماجی خدمات میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔ مسلم کچھی کھتری جماعت کراچی کے مختلف عہدوں پر فائز رہے، کچھی کھتری ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمین اور فنانس سیکریٹری کے علاوہ مصالحتی کمیٹی میں بھی شامل رہے ہیں۔
مذکورہ کتاب کی اشاعت سے قبل کراچی کی تاریخ پر مبنی ان کے تحقیقی مضامین وقتاً فوقتاً ایک موقر اخبار میں شایع ہوتے رہے ہیں۔کتاب کے 21 ابواب ہیں ہر باب تاریخی اہمیت کا حامل ہے خاص طور پر کراچی کے قدیمی علاقوں کا ذکر معلومات کا خزانہ ہے۔یہاں ہم ان علاقوں کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔

لیاری: لیاری نے اپنے سینے میں چھپے قدیم آثار کی ایک جھلک دکھلا کر اپنی ندامت کا تعین تو پہلے ہی کردیا ہے۔ یہاں آثار قدیمہ کی تلاش کے دوران ایک ایسی تہذیب کے آثار ملے ہیں جو ساڑھے چار ہزار سال قبل مسیح میں لیاری سے اورنگی، منگھوپیر اور حب ندی تک پھیلی ہوئی تھی۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ انھوں نے دریائے لیاری یا لیاری ندی اس کی معاون ندیوں اور حب ندی کے برساتی پانی کو قریب واقع سمندر میں گرنے سے قبل بھرپور طور پر اسے زراعت کے لیے استعمال کیا۔

پانی کی کمی نے زراعت کے پیشے کو متاثر کیا تو یہاں جینے والوں نے زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے دوسرے ہنر سیکھ لیے۔ اب یہاں لہلہاتے کھیتوں کی جگہ چھوٹی موٹی صنعتیں نظر آنے لگیں۔ یہاں چمڑا رنگنے کے کارخانے، چمڑے اورکپڑے کے رنگ تیار کرنے کے کارخانے اور بیجوں سے تیل نکالنے کی چکیاں قائم ہونے لگیں۔ گڈاپ سے شروع ہونے والی اس ندی کے اطراف میں بڑی تعداد میں ننھے لیس دار اور لذیذ میوے کے درخت تھے، جنھیں سندھی زبان میں لیار اور بلوچی زبان میں لیوار کہا جاتا ہے۔

اس مقام کو لیار یا لیوار والا علاقہ کہا جاتا تھا جو بعد میں لیاری کہا جانے لگا۔ محنت کشوں اور ہنرمندوں کی اس بستی ’’لیاری‘‘ نے کراچی کو مایہ ناز کھلاڑی، نام ور سیاستداں، ممتاز مذہبی علما، تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کرنے والے رہنما، اعلیٰ پایے کے ادیب، خوش گلو گائیک اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے کئی جوہر دیے۔

لسبیلہ چوک، ناظم آباد: لارنس روڈ پر پاکستان کوارٹرز کے چوک سے آگے لسبیلہ چوک ہے۔ یہاں بائیں ہاتھ پر ندی کے اس پار کھیت اور باغات کا علاقہ تھا۔ مگر ان دنوں یہ علاقہ خالی میدانوں پر مشتمل ہے، یا کہیں کچے اور کہیں سیمنٹ کی دیواروں اور ٹین کی چھتوں کے پکے گھر نظر آرہے ہیں۔ 1965 کے دوران اس گزرگاہ پر آگے کی طرف حکومت سندھ نے وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین کے نام سے ایک بستی ’’ناظم آباد‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے (سابقہ نام ’’لالو کھیت‘‘ جو ایک بلوچ لال محمد کے نام سے منسوب تھا) پرانے شہر میں اپنی مرضی کا ایک منزلہ مکان یا بنگلہ بنانے کے لیے زمین دستیاب نہیں ہے اور اگر سولجر بازار، جمشید روڈ وغیرہ کے پوش علاقوں میں موجود ہے تو وہاں زمین کی قیمت زیادہ ہے۔
لہٰذا پرانے شہر کے متوسط طبقے کے وہ لوگ جنھوں نے کچھ رقم پس انداز کی ہوئی ہے، وہ یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ لسبیلہ سے ناظم آباد پہنچنے کے لیے ندی پر بنے کچے پل کی جگہ 1950 میں نیا پختہ پل تعمیر کیا گیا۔ اس نئی بستی کا رخ کرنے والے لوگوں کا مطمع نظر یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے خاندان کے افراد کو مستقبل میں پیش آنے والی رہائش کی مشکلات کا حل بھی یہاں نکل آئے گا، اور شہر کے ہنگاموں اور ٹریفک کے شور و دھوئیں سے مبرا ایک پرفضا مقام بھی میسر آجائے گا۔ اس وقت ناظم آباد میں تعمیری کام جاری ہے، حسب استطاعت سادہ مکان اور بنگلے زیر تعمیر ہیں۔
٭پٹیل پاڑہ، گرومندر، جمشید روڈ، سولجربازار: گارڈن سے لسبیلہ چوک پہنچ کر اگر داہنے ہاتھ پر رخ کیا جائے تو یہ سڑک پٹیل پاڑہ سے ہوتی ہوئی ’’گرومندر‘‘ کے علاقے کی طرف جا رہی ہے۔ گروپنج مکھی ہنومان مندر کی یہاں موجودگی کی وجہ سے یہ علاقہ گرومندر کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ گرومندر اور جمشید روڈ کا علاقہ کلفٹن کے بعد دوسرا پوش رہائشی ایریا کہلاتا ہے۔ یہاں کاروباری سرگرمیاں نہیں ہیں۔ مین روڈ اور گلیوں میں رہائش بنگلوں کی صورت میں ہیں۔ جمشید روڈ پر قیام پاکستان سے قبل کے خوب صورت طرز تعمیرکے حامل بنگلے موجود ہیں۔ ’’جمشید نسروانجی مہتا‘‘ جن کے نام سے جمشید روڈ موجود ہے۔ وہ 1922 سے 1933 تک کراچی میونسپلٹی کے منتخب صدر اور کراچی کے پہلے میئر رہے ہیں۔
انھی کے دور میں بندر روڈ پر کراچی میونسپل کارپوریشن کی موجودہ عمارت کی تعمیر شروع ہوئی۔ اس عمارت میں منتقل ہونے سے قبل بلدیہ کے تمام امور میکلوڈ روڈ پر کرائے کی عمارت میں سرانجام دیے جاتے تھے۔ گرومندر چوک سے ایک چوڑی اور طویل سڑک سولجر بازار کی طرف جا رہی ہے یہ علاقہ صدر کے ساتھ ہی آباد ہوا۔ انگریزوں نے کراچی آمد کے بعد بندر روڈ کے پچھلے حصے (موجودہ ہولی فیملی اسپتال) کے آس پاس فوجی ڈپو اور فوجیوں کے لیے بیرکس تعمیر کیے۔

 کچھ عرصہ گزرنے پر یہاں فوجیوں کے لیے سنگل اسٹوری کوارٹر تعمیر ہوئے تو ان فوجیوں کی روزمرہ ضروریات زندگی کی اشیا کی خرید کے لیے قریب ہی ایک بازار تعمیر کیا گیا۔ بعدازاں سولجروں (فوجیوں) کا یہ بازار اور علاقہ ’’سولجر بازار‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔یہاں 1885 سے 1935 تک پتھروں سے بنی عمارتیں اور 1940 کے بعد سیمنٹ سے بنی دو منزلہ عمارتیں اور بنگلے بھی تعمیر ہوئے۔ اس طرح یہ علاقہ ملے جلے طرز تعمیر کا حامل رہا۔ جمشید روڈ کی طرح سولجر بازار کے بنگلوں اور اس کے آس پاس کھلے اور خوب صورت ایریا میں رہائش قابل فخر سمجھی جاتی ہے۔

تین ہٹی، لالو کھیت: لارنس روڈ پر لسبیلہ چوک سے آگے تین ہٹی کا چوک آجاتا ہے، ’’ہٹی‘‘ مقامی زبان میں چھوٹی کیبن نما دکان کو کہا جاتا ہے۔ ان دنوں جب ندی پار باغات تھے اور ان باغات کے کاشت کار اور کارکنوں پر مشتمل بلوچوں کا ایک گوٹھ ندی کے اس طرف (جہانگیر روڈ) آباد ہوا تو ان خاندانوں کی ضروریات زندگی کی چھوٹی موٹی چیزوں کی فروخت کے لیے یہاں تین چھوٹی کیبن نما دکانیں وجود میں آگئیں۔ گوٹھ سے تھوڑے فاصلے پر سنسان علاقے میں یہ تین کیبن، بلکہ تین ہٹیاں مرکز نگاہ بن گئیں، یوں یہ علاقہ تین ہٹی کے نام سے معروف ہوگیا، جو آج تک مروج ہے۔
اس وقت تین ہٹی سے ندی کی دوسری طرف جانے کے لیے شاید کوئی کچا کاشتکاروں نے اپنی مدد آپکے تحت پتھروں اور لکڑی کے تختوں کی مدد سے بنالیا ہوگا۔ ندی کے اس پار بڑے رقبے پر باغات کے پھیلے ہوئے سلسلے میں آم اور املی کے درخت بکثرت تھے۔ باغوں کے اس سلسلے میں تین ہٹی پر ندی کے دوسری طرف کے باغات لال محمد عرف لالو کی ملکیت ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ ’’لالو کھیت‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ (جسے آج لیاقت آباد کہا جاتا ہے)۔‘‘
الغرض کراچی کی کہانی، تاریخ کی زبانی۔ نئی نسل کے لیے ایک حوالہ جاتی کتاب ہے اور ساتھ ہی بزرگ شہریوں کو ماضی کی یادوں میں لے جاتی ہے۔ جہاں ہر سو سکھ و چین تھا، بھائی چارگی کی وجہ سے لوگوں کو غربت کا احساس نہیں ہوتا تھا جب کہ آج لوگ خوشحال ہونے کے باوجود روحانی طور پر بے سکون دکھائی دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مادیت پرستی، بھائی چارگی پر غالب ہے۔ ہماری دعا ہے کراچی کا حسن پھر سے لوٹ آئے جہاں راتیں جاگتی تھیں، جان و مال کا تحفظ ہوتا تھا، ہمارا تمہارا کس کا کراچی کے زہریلے نعرے نہیں تھے، کراچی، سب کا کراچی تھا۔ اے کاش! پھر وہی دور لوٹ آئے!
شبیر احمد ارمان

کراچی سرکلر ریلوے کی سنہری یادیں

تقریباً دو کروڑ آبادی والا پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی اب تک پبلک ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولیات سے محروم ہے۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی اپنی آبادی اور پاکستان کے مختلف شہروں سے روزگار کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد میں روز بروز اضافے کے باوجود اس شہر میں رہنے والے شہریوں کو وہ سفری سہولیات میسر نہیں ہیں جو ہونی چاہیئں۔
یوں تو ہر آنے والی حکومت نے اس شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی اعلانات کیے جن میں گرین بس اور میٹرو بس وغیرہ شامل ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی اعلان کردہ منصوبے پر عمل نہیں ہوا، یا پھر اگر کسی پر ہوا بھی تو اسے کچھ ہی عرصے بعد ختم کردیا گیا۔
ماضی میں اس شہر میں بہت سی سرکاری بسیں (کے ٹی سی) کے تحت چلتی تھیں جن میں طلباء کو بھی رعایتی کرائے پر سفری سہولت حاصل تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہ بسیں بند کر دی گئیں۔ ان بسوں کے ٹرمینلز، جنہیں ڈپو کہا جاتا ہے، شہر کے کئی مقامات پر اب بھی موجود ہیں۔
اسی طرح ماضی میں اس شہرِ کراچی میں ریلوے کا ایک مربوط نظام سرکلر ریلوے کی صورت میں موجود تھا جس سے اس شہر کو صاف ستھری بہترین سفری سہولت میسر تھی۔ سرکلر ریلوے کا منصوبہ 1969 میں پاکستان ریلوے کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت ڈرگ روڈ سے سٹی اسٹیشن تک خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں، جو نہایت کامیاب رہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس سہولت سے سالانہ 60 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچتا تھا۔ عوام میں بے پناہ پذیرائی اور ریلوے نظام کو کافی فائدہ ہونے کی بنا پر 1970 سے 1980 کے درمیان کراچی سرکلر ریلوے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر 104 ٹرینیں چلائی جانے لگیں، جن میں سے 24 ٹرینیں لوکل لوپ ٹریک اور 80 مین ٹریک پر چلائی گئیں۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہو کر لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی سٹی اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی جب کہ پاکستان ریلوے کی مرکزی ریلوے لائن پر بھی کراچی سٹی اسٹیشن سے لانڈھی اور کراچی سٹی اسٹیشن سے ملیر چھاؤنی تک ٹرینیں چلا کرتی تھیں جن سے ہزاروں لوگ روز مستفید ہوتے تھے۔
جن لوگوں نے کراچی سرکلر ریلوے سے سفر کیا ہے وہ اس پر لطف سفر سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس سرکلر ریلوے میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سفر کرتے تھے۔ یہاں تک بھی دیکھا جاتا تھا کہ لوگ اپنی کاریں ریلوے اسٹیشن پر پارک کر کے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے اس سرکلر ریلوے کے سفر کو ترجیح دیتے تھے۔ طالب علم، ملازمت پیشہ افراد، تاجر اور کارباری حضرات نہ صرف روزانہ ٹکٹ لے کر سفر کرتے تھے بلکہ ماہانہ پاس بھی بنوائے جاتے تھے اور ٹکٹ بوگی میں ہی فراہم کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔
صبح کے اوقات میں ان بوگیوں میں وہ منظر دکھائی دیتے تھے کہ جیسے کہ کوئی پوری سوسائٹی ریلوے لائین پر دوڑ رہی ہو۔ خواتین کی بوگیوں میں اسکول و کالج کی بچیاں مطالعہ کرتے ہوئے سفر کرتی تھیں تو ایک بوگی میں لوگ قرآن کی تلاوت کرتے نظر آتے تھے۔ کسی بوگی میں درسِ قرآن ہو رہا ہوتا تھا تو کسی میں سیاسی حالات پر بحث مباحثہ ہو رہا ہوتا تھا۔ کسی بوگی میں اخبارات کا مطالعہ ہو رہا ہوتا تھا تو کسی میں اخبارات کے ہاکر اخبارات کو ترتیب دے رہے ہوتے تھے اسی طرح شام میں جب لوگ اپنے گھروں کو لوٹتے تھے تو ان ٹرینوں کا منظر کچھ اور ہوتا تھا۔ کسی بوگی میں لوڈو، کسی میں کیرم اور کسی میں تاش کھیلا جا رہا ہوتا تھا۔ آج کل کے سوشل میڈیا سے وہ سوشل ٹرینوں کے رابطے کہیں زیادہ مضبوط تعلقات کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔
لیکن بدقسمتی سے 1992 کی دہائی میں کئی ٹرینیں ریلوے کو خسارہ ہونے کی بنیاد بتا کر بند کر دی گئیں۔ اس وقت یہ خبریں بھی اخبارات کی زینت بنیں کہ نجی ٹرانسپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس نظام کو بتدریج زوال کی طرف لے جایا گیا۔ بالآخر 1999 میں عوامی بھلائی کے اس منصوبے کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔
بعد میں ہر آنے والی حکومت نے اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کئی بار فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی مگر اس کی منظوری ہونے کے باوجود اس منصوبے کو شروع نہ کیا جا سکا۔
 
س وقت ایک امید کی کرن نظر آئی تھی جب جاپان انٹرنیشنل کوپریشن ایجنسی نے کراچی سرکلر ریلوے کے لیے آسان شرائط پر قرضہ دینے کی پیشکش کی اور اس پیشکش کی منظوری کی صورت میں اس ایجنسی کے اشتراک سے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جاپان کی ایجنسی نے اس منصوبے کے لیے دو ارب چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی لیکن ایک بار پھر یہ منصوبہ فائلوں کی نذر کر دیا گیا۔
اس کی بھی بنیادی وجہ جو سامنے آئی تھی وہ یہ کہ جاپان نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیے اپنی زیرِ نگرانی سخت مانیٹرنگ سے مشروط کیا تھا اور دوسری شرط یہ رکھی گئی تھی کہ اس پچاس کلومیٹر طویل سرکلر ٹریک کے روٹ میں آنے والی ریلوے اراضی پر جو لوگ قابض ہیں، انہیں حکومت قبضہ ختم کرنے کے عوض معاوضہ دے یا متبادل اراضی دے۔
اس بات پر کبھی بھی متاثرین اور حکومت کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا اور ساتھ ہی ٹرانسپورٹ مافیا جسے اس سرکلر ریلوے سروس شروع ہونے سے شہر میں اپنی گرفت کمزور اور اجارہ داری ختم ہوتی نظر آ رہی تھی، وہ بھی اس منصوبے کی راہ میں مشکلات پیدا کرنے میں متحرک ہوگئی۔
جب انڈیا کی وزارت ریلوے لالو پرشاد یادو کے پاس تھی تو انہوں نے انڈیا کے ریلوے نظام میں ایک نئی جان ڈال کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن افسوس کہ ہمارا ریلوے نظام اس عشرے میں بھی تنزلی کا شکار تھا۔ بجائے اس کے کہ ریلوے نظام پر توجہ دی جاتی اور اسے بہتر کیا جاتا، مزید دو اہم ٹرینیں اچانک بند کردی گئیں۔
یہ ٹرینیں مہران ایکسپریس اور شاہ لطیف بھٹائی ایکسپریس تھیں جو کراچی سٹی اسٹیشن سے میرپور خاص تک دن کے مختلف اوقات میں چلا کرتی تھیں۔ ان ٹرینوں سے حیدرآباد، ٹنڈوجام، ٹنڈوالہیار اور میرپور خاص کے لوگوں کو بہت سہولیات میسر تھیں جن میں سب سے زیادہ فائدہ ان ملازمت پیشہ لوگوں کو تھا جو روزانہ حیدرآباد سے کراچی یا کراچی سے حیدرآباد جایا کرتے تھے۔
ایک ٹرین صبح میرپور خاص سے چلتی تھی کراچی کے لیے اور دوسری اسی وقت کراچی سے چلتی تھی میرپورخاص کے لیے۔ ان ٹرینوں کی بندش سے بھی دراصل فائدہ ان ٹرانسپورٹرز کو پہنچا جن کی کوچز کراچی سے میر پور خاص چلا کرتی ہیں۔
جب میں نے محکمہ ریلوے کے ایک ریٹائرڈ افسر سے پوچھا کہ سرکلر ریلوے کا نظام عمدہ ہونے کے باوجود اسے بند کرنے کی کیا وجہ تھی، تو ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک ناکام نہیں ہوتا، جب تک اسے اس کے اندر سے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ کراچی سرکلر ریلوے سے لوگوں نے اس وقت منہ موڑنا شروع کردیا تھا جب ان ٹرینوں کا تاخیر سے آنا جانا روز کا معمول بن گیا تھا۔
ظاہر ہے کہ ان ٹرینوں میں طالب علم، ملازمت پیشہ افراد اور تاجران کی کثیر تعداد سفر کرتی تھی، لیکن جب وہ وقت پر اپنے اداروں میں نہیں پہنچ پاتے تھے تو ان کے لیے یہ سفری سہولت بے فائدہ تھی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ ٹرینیں کیوں تاخیر کا شکار ہونے لگیں، تو انہوں نے بتایا کہ انہیں دانستہ تاخیر سے لایا جاتا تھا جن میں ریلوے کے افسران اور ملازمین ملے ہوئے تھے، جنہیں اس کے عوض معاوضہ دیا جاتا تھا۔ گویا یوں کہنا بجا ہوگا کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔
جون 2013 میں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے 26 لاکھ امریکی ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی جس میں کئی نئے اسٹیشن اور ان اسٹیشنوں کے مطابق کئی نئے بس روٹس چلانے کا اعلان بھی کیا گیا، لیکن ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر نہ جانے کن وجوہات کی بناء پر یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار ہوگیا اور اب کچھ معلوم نہیں کہ یہ سرکلر ریلوے منصوبہ کبھی بھی پایہء تکمیل تک پہنچ سکے گا یا اس شہر کے لوگ ایک آہ بھر کر اس ماضی کی سنہری یاد کو ہمیشہ ماضی کا ایک خوبصورت باب جان کر ہی یاد کریں گے۔
محمد ارشد قریشی

کینجھر جھیل – Keenjhar Lake or Kalri Lake Thatta

رچرڈ ایف برٹن نومبر 1845ء میں کراچی سے حیدرآباد جانے کے لیے نکلا تھا۔ ساتھ میں کچھ اونٹ بھی تھے، جن پر اس کا سامان لدا ہوا تھا اور اس سفر سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھا۔ وہ مکلی اور ٹھٹہ سے ہوتا ہوا،جاڑوں کے ابتدائی دنوں میں یہاں ’’کینجھر‘‘پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ مچھیروں کی ایک بستی ہے، یہاں میٹھے پانی کی جھیل ہے، جس کے کناروں پر سرکنڈے، پھوس، دوب اور دوسری جنگلی گھاس اُگی ہوئی ہے۔

 یہاں سے سامنے ایک چھوٹی سی پہاڑی پر سرخ پتھر کا مزار نظر آتا ہے۔ یہ جام تماچی کی گھر والی نوری کا مزار ہے۔ ابن ِبطوطہ 1333ء میں یہاں آیا تھا یا نہیں، اس کے متعلق یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ کینجھر کی قدامت کے متعلق سمہ  دور حکومت (1519ء-1351ء) میں اس جھیل کا تذکرہ اور نوری جام تماچی کی   داستان کا تفصیلی ذکر سننے کو ضرور ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سمہ خاندان کے ایک مشہور حاکم جام تماچی کے عہد میں کینجھر جھیل کے اردگرد بہت سے مچھیرے رہا کرتے۔ 

وہ مچھلی پکڑتے اور بیچتے، بس زندگی کے شب و روز ایسے ہی گزرتے جاتے۔ 

   کہا جاتا ہے کہ نوری کو اس کی موت کے بعد کینجھر جھیل کے وسط میں دفن کیا گیا۔ ایک قبر بھی یہاں پر موجود ہے، مگر کچھ مؤرخین کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ 

شاہ عبداللطیف بھٹائی بھی یہاں شاید جاڑوں کے موسم میں آئے ہوں گے۔ اپنی شاعری میں کینجھر کی خوبصورتی بڑے خوبصورت انداز میں بیان کی ہے۔ ایک شعر کا لب لباب یہ ہے : ’’کینجھر میں پانی اور اوپر پانی میں جھولتی ہوئی گھاس ہے۔ کناروں پر درختوں کی قطاریں ہیں، ایسے میں جب جاڑوں کا موسم آتا ہے اور شمال کی ٹھنڈی ہوائیں لگتی ہیں ،تو کینجھر جھولنے جیسی ہوجاتی ہے‘‘۔ مگر میں جب مئی میں جھیل کے مغربی کنارے پر پہنچا ،تو مغربی جنوبی ہوائیں اپنے زوروں پر تھیں اور تیز دھوپ تھی، جس کی وجہ سے آنکھیں چندھیا سی جاتیں، اور دور دیکھنے کے لیے سر پر ہتھیلی جمانی پڑتی۔ میں پتھریلے راستے پر چلتا جاتا کہ جھیل کے کنارے کھڑے پیپل کے پیڑ کے پاس پہنچ سکوں۔

 مٹیالے رنگ کے پتھر پاؤں کے نیچے آتے اور ایسی آواز آتی، جیسے ہم مصری کی ڈلی کو منہ میں رکھ کر توڑتے ہیں۔ میں جب پیپل کے پیڑ تک پہنچا تو پسینے سے تربتر تھا۔ ہوائیں شمال کی نہیں تھیں اس لیے جھیل بھی جھولنے جیسی نہیں تھی پر کنول کے پھول تھے، جو کنارے پر کھلتے تھے اور ساتھ میں پھوس بھی تھی ،جو کنول کے پھولوں کے ساتھ اُگی تھی۔صدیوں سے یہ جھیل یہیں پر ہے البتہ 60 کی دہائی میں اس کے شمال میں دوسری چھوٹی جھیل ’’سونہیری‘‘ کو اس سے ملا دیا گیا اور کینجھر کو وسعت دی گئی، تاکہ کراچی کو اسی جھیل سے پینے کا میٹھا پانی فراہم کیا جا سکے۔ 1976ء میں اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھائی گئی اور اب کوٹری بیراج جامشورو سے کلری بگھار فیڈرکے ذریعے جھیل کو پانی کی فراہمی ہوتی ہے اور جھیل سے کراچی کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

 کینجھر کو اس وقت دو اعزاز حاصل ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ملک کی تازہ میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے ،جس کی لمبائی اندازاً 24 کلومیٹر اور چوڑائی 6 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ یہ اندازاً 13,470 ہیکٹرز میں پھیلی ہوئی ہے اور اس کی پانی کی گنجائش 0.53 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کو رامسرسائٹ ہونے کا اعزاز ملا ہوا ہے، جو اُن جھیلوں کو دیا جاتا ہے، جو ماحولیاتی حوالے سے بڑی شاندار اور مالدار ہوتی ہیں۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ   کی ایک رپورٹ کے مطابق یہاں سردیوں کے موسم میں انڈس فلائی وے زون کے راستے باہر سے آنے والے پرندوں کی تعداد 1 لاکھ تک ریکارڈ کی گئی ہے اور 1977ء سے اس جھیل کو وائلڈ لائف سینکچوئری قرار دیا گیا ہے۔
 جھیل کے کنارے برگد کے گھنے پیڑ ہیں ،جن کی گھنی چھاؤں آپ کو ٹھنڈک اور سکون کی لوری دیتی ہے۔ درختوں سے لمبے لمبے گچھے لٹک رہے ہیں۔برگد کے پیڑ کی چھاؤں گھنی تھی۔بہرحال میں کینجھر جھیل کے اس حصے کی طرف چل پڑا، جہاں گرمیوں میں لوگوں کے میلے لگتے ہیں،لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے مجھے مچھیروں کی ان چھوٹی بستیوں سے گزرنا پڑا ،جہاں چھوٹے چھوٹے کچے گھروں کے آگے ان کے چھوٹے چھوٹے کچے آنگن بکھرے پڑے تھے۔ کچھ لوگ جھیل سے پھوس کاٹ رہے تھے۔ اس کام میں ان کے بچے بھی ان کی مدد کرتے اور ساتھ میں جھیل کے پانی میں ڈبکی بھی لگالیتے۔ صبح ہوتی، شام ہوتی، اور جھیل کے کناروں پر زندگی یوں ہی تمام ہوتی۔ 
میں کچھ گھروں میں بھی گیا۔ یہ درد کی ایک الگ داستان ہے ،جو پھر کبھی سہی۔۔۔! میں کینجھر کے اس کنارے پر آیا، جہاں گرمیوں میں لوگوں کا میلہ لگتا ہے اور وہاں میلہ ہی لگا ہوا تھا۔ لہریں کنارے کو چھو کر لوٹ جاتیں۔ بچے پانی میں نہاتے۔ بڑے بھی نہاتے۔ ہزاروں لوگوں سے بھرا ہوا کینجھر کا کنارہ۔ تب مجھے کسی نے بتایا کہ پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ یہاں کسی میٹنگ کے سلسلے میں آئے ہوئے ہیں۔ 

شاہ صاحب سے ملنے کا یہ موقع غنیمت تھا۔میں نے کینجھر کی بگڑتی ہوئی ماحولیاتی صورتحال کے حوالے سے سوال کیا۔ جواب میں شاہ صاحب نے کہاکہ مچھلی کے بیج کے اہم مسئلے کے علاوہ دوسرا اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس جھیل کو ماحولیاتی گندگی کے ذریعہ برباد کیا جا رہا ہے۔ کوٹری اور نوری آباد کی انڈسٹریوں کا اخراج اس جھیل میں ہوتا ہے۔ کے بی فیڈر میں جو پانی آتا ہے، اس میں شہروں کی گندگی کا اخراج ہوتا ہے۔ اب ایسی حالتوں میں ہم امید کریں کہ یہ جھیل ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہو، تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہی ہے اور اس ماحولیاتی بربادی کا سب سے بڑا اثر مقامی ماہی گیروں پر پڑا ہے۔ صدیوں پرانی اس جھیل کے کناروں پر نہ جانے کتنے لوگ آئے اور گئے، ہنسی اور خوشی کے کتنے کنول ان کناروں پر کھلے۔ 

الوداع کے کتنے موسم آنسوؤں کی چادر اوڑھے روتی ہوئی کوئلوں کی طرح کب کے اُڑ چکے۔ پہلی نظر کی کتنی فاختائیں کب کی پھر ہو چکیں، مگر کینجھر وہیں پر ہے، اس نے اپنی دین میں کوئی کمی نہیں کی۔اس کی خوبصورتی اور دین ہزاروں برس چَلے، اس کے لیے ہم سب کو سوچنا پڑے گاکیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ان کناروں پر آئیں اور اس جھیل کی خوبصورتی کو اپنے دل میں آخری دم تک سنبھال رکھیں۔

ابوبکر شیخ

کراچی: ایک ماڈل شہر

حال ہی میں جماعت اسلامی کے امیر اور سینیٹر سراج الحق کا بیان اخبارات کی زینت بنا کہ ہم کراچی شہر کو عالم اسلام کے لیے ایک ماڈل شہر بنائیں گے، قیام پاکستان کے وقت لاکھوں لوگوں نے لبرل نہیں اسلامی پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں، انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی جمیعت کے طلبا نے ملکی بقا و سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

بلاشبہ اس ملک کی اکثریت دین اسلام کو ماننے والی ہے اور بلاتفریق تمام ہی اکثریت کا قرآن پاک پر ایمان ہے اور یہ قرآن ان کی زندگیوں کے تمام فیصلے کرنے میں رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے، اسی طرح سود کا معاملہ ہے جس پر مسلمانوں کے تمام مسالک کا بھی متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں سود کی لین دین کرنا اللہ تعالیٰ سے کھلی جنگ ہے۔
ایسے ہی اور بھی کافی سارے معاملات ہیں کہ جن پر قرآن و سنت سے ہمیں بڑی واضح ہدایت و رہنمائی ملتی ہے اور ان میں مسلکی اختلاف رائے بھی نہیں ہے مگر چونکہ ہماری اکثریت قرآن ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھ رہی اور دوسری جانب جمہوری نظام کے تحفے کے باعث ’’عوام کے معاشی مسائل اور خواہشات‘‘ کو ہماری مذہبی جماعتیں بھی ترجیح دینے لگی ہیں لہٰذا اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، نہ ہی فی الحال دور تک اس کا اشارہ ملتا دکھائی دیتا ہے۔

چنانچہ ایسے میں امیر جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی شہر کو عالم اسلام کے لیے ایک ماڈل شہر بنانے کا عزم دل کو تو خوش کرتا ہے مگر بہت مشکل تر ہے، راقم کی ناقص رائے میں اس سلسلے میں راستے دو طرف منقسم ہیں اور ان دونوں راستوں پر جدوجہد کی ضرورت ہے، ایک راستہ اوپر کی طرف جاتا ہے یعنی حکمرانوں اور پارلیمنٹ کی طرف اور دوسرا راستہ عوام کی طرف جاتا ہے۔ دونوں راستے انتہائی مشکل ہیں مثلاً عوام کی طرف جو راستہ جاتا ہے اس میں عوام کو قرآن کی تعلیمات سے آگاہی فراہم کرنا ہو گی، کیونکہ عوام کی بھاری اکثریت قرآن کو عموماً بیٹی کو رخصت کرتے وقت استعمال کرتی ہے یا قسم اٹھانے کے لیے یا پھر ایصال ثواب کے لیے صرف عربی زبان میں پڑھتی ہے۔

یوں اکثریت کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ قرآن ہم سے کیا تقاضا کر رہا ہے۔ یوں کراچی شہر کو اسلامی ماڈل بنانا ہو تو پھر پہلے شہریوں کو قرآن کے مطالعے کی طرف راغب کرنا ہو گا، دوسرے اسلامی تنظیموں سے وابستہ افراد کو اپنا ہر عمل اور اخلاق اس قدر مثالی بنانا ہو گا کہ لوگ خود ان کو ماڈل سمجھیں۔ (مثلاً جامعہ کراچی میں اس تنظیم سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے اساتذہ جب کلاسوں میں لیکچر دینے جائیں تو لازمی گاؤن پہنیں، اسی طرح طلبا خاص کر طالبات بھی گاؤن پہن کر جامعہ آئیں، یوں نہ صرف تعلیمی نظم و ضبط قائم ہو گا بلکہ اسلامی نقطہ نظر سے طالبات میں بے پردگی کا بھی خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔)
دوسری جانب پارلیمنٹ میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے غیر اسلامی قانون سازی کو روکنے کی کوشش کی جائے، یہاں بڑے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ صوبہ سندھ اور پنجاب اسمبلیوں سے شادی کی عمر سے متعلق قطعی غیر اسلامی قانون کی منظوری بھی ہوئے ایک عرصہ ہو چکا مگر افسوس نہ تو کسی مذہبی جماعت کے رکن اسمبلی سے اس پر احتجاج ہوا، نہ ہی انفرادی طور پر کسی کی جانب سے اعتراض ہوا۔ یوں اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی کرنے پر سزا کا قانون اسمبلیوں سے پاس ہو کر نافذ بھی ہو گیا، حالانکہ یہ نوجوانوں کے بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی تھی مگر کسی این جی او نے بھی اس پر آواز بلند نہ کی۔ ایسے میں ایک شہر کس طرح اسلامی طور پر ماڈل بن سکتا ہے؟ کہ جب اس نے اپنے احتجاج کا حق بھی استعمال نا کیا جائے؟
اسی طرح سود کے مسئلے پر سپریم کورٹ کے ایک جج کے بیان کو دیکھ لیجیے کہ جس کو سود نہیں لینا ہے وہ نہ لے اور جو سود لے رہا ہے اس سے خدا خود پوچھ لے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا تو غیر اسلامی ممالک میں بھی ہوتا ہے کہ جہاں مسلمان اپنا سود بینک میں ہی چھوڑ دیتے ہیں، پھر ہمیں آگ اور خون کا دریا عبور کر کے ایک الگ وطن حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اسی طرح یہ بھی قابل غور بات ہے کہ کسی قتل کرنے والے کو بھی اس منطق پر چھوڑ دیا جائے کہ قتل کرنے والے کو خدا خود پوچھے گا!۔
سود کے خاتمے کے سلسلے میں کسی جج کی طرف سے اس قسم کے بیان پر جماعت اسلامی سمیت تمام تنظیموں کی جانب سے سخت احتجاج کی جو توقع تھی وہ پوری نہ ہو سکی، ایسے حالات میں کراچی شہر کو مثالی اسلامی شہر بنانے کے عزم سے کہیں زیادہ ضرورت سود کے خلاف ایک بڑی تحریک چلانے کی ہے کیونکہ یہ مسئلہ ایک طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے تقریباً دو سال بینکنگ نظام کا جائزہ لینے کے بعد 1966 میں سودی نظام کو خلاف اسلام قرار دیا تھا، 1969 میں اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک بار پھر اپنی رپورٹوں کا اعادہ کیا۔ پھر 1973 کے آئین کے تحت حکومت کو جلد از جلد سودی نظام کے خاتمے کی ذمے داری دی گئی۔
صدر ضیاء الحق کے زمانے میں بھی کوششیں جاری رہیں، اس دور میں وفاقی شرعی عدالت کا قیام عمل میں آیا اور سپریم کورٹ میں شریعت اپیل بنچ بھی بنا لیکن وفاقی شرعی عدالت کو پابند کر دیا گیا کہ وہ دس سال تک مالی معاملات میں شریعت کے حوالے سے کوئی کیس نہیں چلائے گی۔ 1991 میں وفاقی شرعی عدالت نے ایک فیصلے کے ذریعے جون 1992 سے بینک کے سودی کاروبار کو حرام قرار دے دیا۔
اس فیصلے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے حکم امتناعی حاصل کر لیا، 1999 میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے فل بنچ نے سود کے خلاف فیصلہ دے دیا مگر مشرف دور حکومت میں ایک پرائیویٹ بینک کے ذریعے نظرثانی کی درخواست دائر کر دی گئی، پھر گڑ بڑ کی گئی اور نتیجے میں ایک بنچ بنایا گیا جس نے سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ وفاقی شرعی عدالت میں یہ کیس پندرہ سال سے پڑا ہے اور نہ جانے کب تک پڑا رہے؟
یہاں یہ مختصر سی روداد بیان کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ سود کے خاتمے سے متعلق اتنی مضبوط طاقتوں کے مفادات وابستہ ہیں کہ وہ ہر موقع پر کوئی نہ کوئی ہاتھ دکھا جاتی ہیں، لہٰذا ان سے نمٹنے کے لیے بھی تمام دینی قوتوں کو متحد ہو کر زور لگانا ہو گا، محض خواہشوں سے کچھ نہ ہوگا۔
کراچی شہر کو مثالی اسلامی شہر بنانے کو خواہش ضرور اچھی ہے مگر اس مثالی شہر کے صوبے میں اگر اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح کرنے کی سزا مقرر ہو اور اس مثالی شہر کی ریاست میں سودی نظام جاری ہو تو یہ شہر کسی روشن خیال نظریات رکھنے والوں کے لیے تو مثالی ہوسکتا ہے مگر عالم اسلام کے لیے ایک ماڈل شہر نہیں بن سکتا۔ آئیے غور کریں کہ کم از کم مذکورہ بالا دو معاملات میں ہمارا قرآن کیا کہتا ہے؟
ڈاکٹر نوید اقبال انصاری 

سندھ ٹریفک پولیس کی مہمات

سندھ ٹریفک پولیس جوکہ کراچی کے ٹریفک کے نظم و نسق کی ذمے دار ہے، بڑی سنسنی خیز بلکہ مضحکہ خیز قسم کے ہنگامی اقدامات اٹھانے اور بے سوچے سمجھے احکامات جاری کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ہے۔

کبھی بلا سوچے سمجھے فوری طور پر تمام موٹرسائیکل سواروں بشمول خواتین اور بچوں کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دے دیا جاتا ہے، یہ غور کیے بغیرکہ کیا ایسا عملی طور پر ممکن ہے کیا خواتین، بزرگ، بچے اس حکم نامے پر عمل کرسکیں گے؟ کیا اتنی بڑی تعداد میں ہیلمٹ مارکیٹ سے دستیاب ہوجائینگے؟
پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے اور کرائے پرخطیر رقم اور وقت کے ضیاع سے مجبورموٹرسائیکلوں پر اپنے کئی کئی بچوں، بیوی اور سامان کے ساتھ سفرکرنیوالے افراد سے اس پابندی پر عمل کرانا ناممکن ہے اور اگر ایک موٹرسائیکل پر سوارکئی مرد و خواتین کو ہیلمٹ پہنا بھی دیے جائیں اور موٹرسائیکلوں میں مرر، انڈیکیٹر اور دیگر فٹنس بھی نہ ہو دیگر گاڑیاں بھی ان کا استعمال نہ کرتی ہوں تو کیا اس سے حادثات کم ہونگے یا زیادہ ہونگے؟ اسکول وینز کے لیے مخصوص رنگ اور اسکول کا نام لکھنے کی پابندی عائد کرتے ہوئے کیا اس بات پر غور کیا گیا یہ کاروبار عام طور پر بیروزگار اورغریب قسم کے لوگ کرتے ہیں۔
جن کے پاس گاڑیاں بھی پرانی بلکہ ناکارہ قسم کی ہوتی ہیں جو نسبتاً کم نرخوں پر یہ گاڑیاں اسکولوں میں چلاتے ہیں جن کی وجہ سے غریب والدین بھی اپنے بچوں کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے متحمل ہوجاتے ہیں، رکشاؤں، چنگ چیوں کے عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ کیا ایسے غریب ڈرائیوروں یا گاڑی مالکان گاڑیوں پر مخصوص کلرکرانے یا ان گاڑیوں کو ری پینٹ کرانے کے متحمل ہوسکتے ہیں ؟ دوسرا یہ کہ ایسی ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں گاڑیوں پر قوم کا کتنا سرمایہ اور وقت صرف ہوگا؟

اسکول وینز میں سی این جی سلنڈر کے استعمال پر عجلتی پابندی لگاتے ہوئے بھی یہ نہیں سوچا گیا کہ سی این جی سلنڈر تو شہر کے تمام رکشا، ٹیکسی، مزدا، بسوں اور کاروں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں جن کی جانچ پڑتال کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اس سلسلے میں تمام گاڑیوں کی جانچ پڑتال کا موثر و فعال نظام ہونا چاہیے۔ ڈبل سواری پر پابندی کے اقدام سے بھی شہریوں کو پریشان کیا جاتا ہے اس دوران موٹرسائیکلوں کے ذریعے وارداتیں بھی جاری رہتی ہیں اور نتیجہ صرف شہریوں کو صعوبتیں پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا ہے۔

پچھلے ہفتے ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے ایک تازہ حکم نامہ سامنے آیا کہ پیر سے شہر میں کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیورز کو جن کے پاس لائسنس نہیں ہونگے، گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا اس کے ساتھ ہی شہریوں کو پندرہ دن کے اندر لائسنس بنوانے کی مہلت دی گئی تھی مہلت ختم ہونے کے بعد انھیں بھی جیل کی سیر کرانے کی تنبیہہ کی گئی تھی۔ اعلان سامنے آتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس اور افراتفری پھیل گئی لاکھوں شہریوں نے شہر میں قائم 3 لائسنس دفاتر کا رخ کرنا شروع کیا تو دفتری عملہ پریشان ہوگیا۔ دفاتر بند کرکے محصور ہوگئے پولیس و رینجرزکو طلب کرلیا گیا۔
بپھرے ہوئے لوگوں پر لاٹھی چارج ، لاتیں اور گھونسے چلے۔ ایجنٹوں نے لوٹ کھسوٹ شروع کردی۔ فارم کی قیمت 50 روپے اور اس کو پُر کرنے کے 300 روپے تک وصول کیے گئے۔ ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پرکئی ڈرائیوروں کو حوالات میں بند کردیا گیا۔ ڈرائیونگ لائسنس اجرا کے دفاتر کے اوقات صبح 8 تا رات 7 بجے تک کرکے ہفتہ اتوار کی چھٹیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا اس سب کے باوجود یہ تینوں دفاتر یومیہ 1200 سے زائد ڈرائیونگ لائسنس جاری نہ کرسکے۔
ڈی آئی جی لائسنس برانچ نے کہا ہے کہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی مدت میں 3ماہ کے اضافے کے لیے سمری بھیج دی گئی ہے جو جلد ہی منظور ہوجائے گی۔ ان کے مطابق شہری کئی کئی برسوں سے گاڑیاں چلا رہے تھے لیکن لائسنس نہیں بنواتے تھے محکمے کی یومیہ 1200 لائسنس جاری کرنے کی گنجائش سے حکومت سندھ نے ڈی آئی جی ٹریفک کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کے باعث لائسنس کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے۔
اس حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے آئی جی پولیس کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ حکومت قانون کا نفاذ چاہتی ہے لیکن قانون کے مطابق جس سے شہریوں میں کسی قسم کا کوئی خوف و ہراس نہ پھیلے آیندہ ناقص حکمت عملی اور بغیر سوچے سمجھے کوئی مہم شروع نہ کی جائے۔ مہم کے دوسرے دن ہی اس مہم کو ایک ماہ کے لیے موخر کردیا گیا۔
ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے وفد نے ڈی آئی جی سے ملاقات میں انھیں اعلان سے پیدا شدہ مسائل سے آگاہ کیا جس سے وہ واقف نہیں تھے وفد سے ملاقات کے بعد مہم ایک ماہ کے لیے موخر کی گئی۔ شہریوں نے ٹریفک پولیس کے اس اقدام کو رشوت کی رقم بڑھانے کی مہم قرار دیا ہے۔ قانونی طور پر ٹریفک پولیس کے یہ اقدامات لاقانونیت کو قانونی کرنے کی احمقانہ مثال ہے۔
ٹریفک پولیس ڈرائیوروں کو کس قانون کے تحت جیل بھیجے گی؟ اس کی ذمے داری تو یہ بنتی ہے کہ اگر کوئی ڈرائیور قانون شکنی کرتا ہے تو اس کو عدالت کے سامنے پیش کرکے ثابت کرے کہ ڈرائیور لاپرواہی سے گاڑی چلا رہا تھا جس سے دیگر گاڑیوں، پیدل چلنے والوں یا سڑک پار کرنے والوں کی جانوں کو خطرات لاحق تھے۔ یہ اختیار عدالت کا ہے کہ اسے جیل بھیجے یا چھوڑ دے۔ Motor Vehicle Ordinance 1965 کے مطابق تو کوئی بھی شخص بغیر لائسنس اور ہائی وے کوڈ کے کسی عوامی مقام پر گاڑی نہیں چلا سکتا ہے حتیٰ کہ  لائسنس پر بھی گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے پھر شہریوں کو ایک ماہ یا تین ماہ چھوٹ دینے کا مقصد قانون شکنی کی اجازت دینا نہیں؟ گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے وفد نے ایسے کون سے انکشافات کیے جو ڈی آئی جی کے علم میں نہیں تھے۔
اور وہ یہ بھول گئے کہ قانون کے تحت کوئی مالک یا گاڑی رکھنے والا شخص کسی ایسے شخص کو گاڑی نہیں دے گا جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہو۔ ورنہ گاڑی دینے والا بھی شریک ملزم قرار پائے گا۔ کسی حادثے میں موت واقع ہوجانے پر لائسنس یافتہ ڈرائیور کا جرم قابل ضمانت سمجھا جاتا ہے لیکن لائسنس نہ ہونے کی صورت میں یہ ناقابل ضمانت جرم ہوجاتا ہے اور حادثے کے مرتکب ڈرائیور کو 30630 تولہ چاندی کی قیمت کے برابر دیت بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔
موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید سالانہ بنیاد پر ہوگی جس کے لیے وہ طبی سرٹیفکیٹ پیش کرے گا کہ اسے ایسی کوئی بیماری نہیں ہے جس کی وجہ سے حادثے کا خطرہ ہو۔ عدالتوں نے تو ایسے ڈرائیور کو بھی جرم کا مرتکب قرار دیا ہے۔
جن کے پاس حادثے سے پہلے بھی لائسنس تھا اور اس کے بعد اس کی تجدید کرالی گئی لیکن حادثے کے وقت ان کا لائسنس موثر  نہیں تھا۔ اور اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پارلیمنٹ معاشرتی رویوں اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرتی ہے عدالت کا یہ کام نہیں کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو چیلنج کرے۔ اس تناظر میں ٹریفک پولیس کی حالیہ مہم اور اعلانات کی کیا قانونی حیثیت رہ جاتی ہے ماسوائے اس کے کہ شہریوں کے لیے مزید مسائل پیدا کیے جائیں۔
عدنان اشرف ایڈووکیٹ