قائد اعظم ہاؤس میوزیم

کراچی کے ضلع جنوبی میں شاہراہِ فیصل پر ہوٹل مہران اور فاطمہ جناح روڈ کے درمیان ایک پرُشکوہ عمارت ایستادہ ہے، جسے قائد اعظم میوزیم ہاؤس کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس کا نام فلیگ سٹاف ہاؤس تھا ۔یہ قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ گھر قائداعظم نے 115,000کا خریدا تھا ۔اس کا سیل ایگریمنٹ 14اگست 1943ء کو سہراب کائوس جی کڑاک سے طے پایا تھا،جو کراچی کے مئیر بھی رہے ۔ 
یہ تو پتا نہیں چل سکا کہ یہ عمارت کب قائم ہوئی، تاہم دستیاب شدہ ریکارڈ کے مطابق 1922ء میں اس کے مالک رام چند ہنسوج لومانا تھے۔ بعد ازاں یہ گھر برٹش انڈین آرمی کے لیے کرائے پر حاصل کر لیا گیا۔ اس عمارت میں برٹش انڈین آرمی اور رائل پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف یا دیگر افسران کرائے پر رہتے رہے۔
 ستمبر 1947ء میں قائد اعظم محمد علی اپنی دہلی کی رہائش گاہ 10اورنگ زیب روڈ سے فلیگ سٹاف ہاؤس منتقل ہوگئے ،مگر زندگی نے قائد اعظم کو اس گھر میں زیادہ عرصہ رہنے کی مہلت نہ دی ۔اس بات کا مصدقہ ریکارڈ تو نہیں ملتا کہ قائد نے کبھی یہاں مستقل یا باضابطہ رہائش اختیار کی ہو، تاہم بعض دستیاب شدہ روایتی گھریلو اشیاء یہ ظاہر کرتی ہیںکہ قائد اعظم نے کئی بار اس گھر کا دورہ کیا اور آرام کیا۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح جو قائد کے ساتھ ہی گورنر جنرل ہاؤس میں مقیم تھیں، 13ستمبر 1948ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس میں منتقل ہوگئیں۔
 یہاں اُن کا قیام 1964ء تک رہا، جس کے بعد وہ اپنے ذاتی گھر موہاٹا پیلس  قصر فاطمہ  میں منتقل ہوگئی تھیں۔ 9جولائی 1967ء کو محترمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد ایک صدراتی حکم نامے کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ،جس کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی کہ وہ قائد سے متعلق اہم تاریخی اشیاء کو اکٹھا کرکے جدید سائنسی طریقے سے اسے محفوظ کر کے عوامی نمائش کے لیے رکھے جائیں۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن شیریں بائی ہاشم رضا ( سابق میئر کراچی) محمد لیاقت مرچنٹ ( قائد کے بھانجے) کے اشتراک سے قائد اعظم ٹرسٹ قائم ہوا،ان ٹرسٹی سے فروری 1985ء کو 5,10,7000روپے کے عوض یہ گھر حکومت پاکستان نے خرید لیا۔
 باضابطہ طور پر حکومت کو 1985ء میں منتقلی سے قبل ہی 14جون 1984ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس کو محکمہ ٔ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے کر تزئین و آرائش و مرمت کا کام شروع کر دیا تھا اور 2کروڑ روپے اس مد میں خرچ کئے گئے۔ از سرنو اس بلڈنگ کی تزئین کی گئی۔80فی صد میٹریل اصلی استعمال کیا گیا، باغات کو بسایا گیا۔ قائدا عظم و محترمہ فاطمہ جناح سے متعلق اشیاء کو محفوظ کیا گیا ۔مثلاً قائد اعظم کے کمرے کی سیٹنگ ان کے دہلی والے گھر کی طرح سے رکھی گئی ہے، وہی فرنیچر کا رپٹ، قائد کی قانونی کتابیں بمعہ ُان کے دستخط ، چھڑیاں، ماربل کا عمدہ سیٹ، ماربل ہی کا ٹیلی فون سیٹ جواب بھی درست حالت میں ہے ۔
قائد کے استعمال میں آنے والے جوتے،اُن کے بیڈ روم میں کافور کی لکڑی سے بنا خوبصورت بکس ،جو اس وقت بھی کافور کی مکمل مہک دے رہا ہے۔ سگار بکس ، ایزی چیئر ( آرام دہ کرسی) میسور بھارت کا بنا ہوا اگر بتی کیس ، جس کی نمایاں خوبی اس پر یا محمدﷺ اور درود شریف لکھا ہوا ہے۔ قائد کے زیر استعمال ان کی ایک آنکھ کا چشمہ اور فاطمہ جناح کے ڈریسنگ روم میں اُن کے پلنگ کی وہی سیٹنگ جو اُن کی زندگی میں تھی، اُن کے پاؤں کی کھڑاواں نما چپل، لکھنے کی میز ، الماری، شو پیس لکڑی سے بنی ہوئی خوبصورت الماری وغیرہ اور پرانا فرنیچر یہ سب اتنی عمدہ کو الٹی کی ہے کہ دیکھنے کے قابل ہے ۔
محترمہ شیریں جناح کے استعمال میں آنے والی اخروٹ کی لکڑی کا فرنیچر جس پر اُن کا نشان SJبنا ہوا ہے ۔ 1993ء میں فلیگ سٹاف ہاؤس کا نام تبدیل کرکے قائد اعظم ہاؤس میوزیم رکھا گیا اور 25نومبر 1993ء کو سندھ کے سابق گورنر مرحوم حکیم محمد سعید نے اس میوزیم کا افتتاح کیا۔ فلیگ سٹاف ہاؤس کا طرز تعمیر کا نونیل آرکیٹکچر سے ملتا جلتا ہے۔ اس کا ڈیزائن انجینئر موفکروف نے بنایا تھا، 10,241 مربع گز پر پھیلی ہوئی، اس عمارت میں وسیع باغ کے ساتھ تین کمرے گراؤنڈ فلور پر جبکہ تین کمرے پہلی منزل پرواقع ہیں ۔
دو بیرونی کمرے 16فٹ 10انچ کشادہ ہیں۔ پہلی منزل پر واقع کمرے بھی اتنے ہی کشادہ ہیں۔ ہر ایک کمرہ برآمدے میں کھلتا ہے ۔انہی کمروں سے منسلک گراؤنڈ فلور پر ایک انیکسی بھی واقع ہے، جسے اب آڈیٹوریم میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں تقریری مقابلے ، تعلیمی مقالے ، نمائش وغیرہ ( قائد اعظم سے متعلق) ہوتی ہے۔ اس عمارت میں 18سرونٹ کوارٹرز، 4گیراج 3گارڈ روم اور ایک کچن بھی موجود ہے ۔کچن کو اب ایڈمنسٹریٹو آفس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔کراچی کے معروف معمار یاسمین لاری کو اس منصوبے پر مقرر کیا گیا اور اُن کے ہی مشوروں سے قائد اعظم میوزیم کا پورا کام کیا گیا۔ 
میوزیم کے مرکزی گھر کو مکمل طور سے درست کر کے اس کی اصل حالت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کی بگڑی ہوئی اور خستہ حالت کو تزئین و آرائش کرکے دوبارہ نکھارا گیا۔ صرف گراؤنڈ فلور کی چھت کو کنکریٹ سیمنٹ تبدیل کرنے کے بعد اس پر لکڑی کے ٹکڑوں سے چھت بنانے سے اس کی اصلی حالت نظر آتی ہے ۔ قائد اعظم میوزیم میں واقع باغ کو بھی از سر نو ڈیزائن کیا گیا ہے اس میں پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ روشنی کا مؤثر انتظام (برائے سیکورٹی اور خصوصی تقاریب منعقد کرانے کے حوالے سے) کیا گیا ہے، اس کا ڈیزائن مونکروف نے بنایا ہے، مگر معروف آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ اس عمارت کو سومک نے تعمیر کیا ہے، سومک کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنی تیار کردہ عمارتوں پر کسی کونے میں اپنا نام نقش کر دیتا تھا اور اس عمارت کی ڈیوڑھی میں نقش و نگار میں اس کا نام دیکھا جاسکتا ہے، بشرطیکہ تھوڑی سے ہمت کی جائے ۔
فلیگ سٹاف ہاؤس ، سومک کی سی پہچان بن جانے والی پہلی عمارت تھی ،جس میں اس کی تخلیقی و ذہنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار ملتا ہے ،یہ بات تعجب انگیز ہو سکتی ہے کہ جب اس معمار سومک کو یہ عمارت بنانے کا کہا گیا تھا تو اسے بہت کم لوگ جانتے تھے ،مگر ان دونوں معروف معمار اسٹربچن اس قدر دوسرے کاموں میں مصروف تھا کہ اس کے پاس اس عمارت کی تعمیر کے لیے وقت نکالنا مشکل تھا چنانچہ یہ کام سومک کے سپرد ہوا۔
یہ عمارت غالباً 1890ء کے لگ بھگ تعمیر ہوئی اور کے ڈی اے کے ریکارڈ میں جو 1865ء درج ہے، غلط ہے ۔یہ واضح ہوتا ہے کہ ان نقشوں سے جو کہ 1874ء اور 1869-70ء میں شائع ہوئے ان نقشوں کو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ عمارت ان نقشوں کی اشاعت کے بعد مکمل ہوئی سومک کا فلیگ سٹاف پر کیا گیا  کام ڈبل سٹوری عمارت تک محدود ہے جبکہ انیکسی والا حصہ اس کے بعد تیار کیا گیا ممکنہ طور پر محدود بجٹ میں رہتے ہوئے مرکزی حصے کو با سلیقہ طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ قائد اعظم میوزیم میں داخلہ مفت ہے ۔صبح نو بجے سے شام چار بجے تک ماسوائے بدھ کے یہ میوزیم کھلا رہتا ہے۔ میوزیم کے باغ کے صحن میں فوارہ بھی اس کے حسن کو بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔یہ میوزیم واحد میوزیم ہے، جہاں آنے والے مہمانوں کو سٹاف خود بہ نفس نفیس میوزیم دکھاتا اور تاریخ سے آگاہ کرتا ہے
شیخ نوید اسلم
 

Advertisements

غریب آدمی کا تو یہ لنڈا ہی دوست ہے

ناصر مانسہرہ سے کراچی آئے ہیں اور انھیں یہاں ملازمت کی تلاش ہے، لیکن اس سے قبل انھیں شہر کے رنگ ڈھنگ میں ڈھلنا ہے اور اس کے لیے ان کا بہترین انتخاب شہر کا علاقہ صدر تھا جہاں جینز اور شرٹس کی کئی ریڑھیاں لگی ہوئی ہیں۔

ناصر نے بھی اس مارکیٹ سے چار پتلونوں کا انتخاب کیا اور سودا چار سو روپے میں طے ہوا۔
ناصر کے مطابق یہاں جینز اچھی اور سستی مل جاتی ہیں جو ایک غریب بندے کے لیے بہترین آپشن ہے اور ’اگر آمدنی بہتر ہو تو ٹھیک ہے ورنہ لنڈا بیسٹ ہے۔ 
کراچی سمیت پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت عام ہے، کئی مقامات پر تو انھوں نے مستقل بازاروں کی بھی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں متوسط طبقے کے لوگوں کو بھی بڑی کمپنیوں کے ملبوسات کی تلاش ہوتی ہے۔
ویسے تو ہفتے کے ساتوں روز ان مارکیٹوں میں خریداروں کا ہجوم رہتا ہے لیکن اتوار کے دن ان میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر سردی ہو تو اکثر غریب لوگوں کی اولین ترجیح یہی ریڑھیاں ہوتی ہیں۔
جیکٹس کی ایک ریڑھی پر محمد حنیف دو بچوں کے ساتھ نظر آئے انھوں نے دو جیکٹوں کا سودا کیا تھا۔

محمد حنیف نے بتایا کہ اگر وہ یہ کسی شاپنگ مال سے لیتے تو انھیں دو سے تین ہزار کی ملتی، یہاں سو سو رپے کی دو جیکٹس مل گئیں اب اس کو دھو کر پہن لیں گے۔

اگر یہ لنڈا نہ ہو تو غریب سردی میں ہی مر جائے، غریب آدمی کا تو یہ لنڈا ہی دوست ہے۔ 
پاکستان میں استعمال شدہ کپڑوں کی کھپت بڑھنے کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ بھی بڑھ گیا ہے۔ گذشتہ سال تقریبا دو لاکھ 20 ہزار ٹن کپڑے برآمد کیے گئے جبکہ رواں سال یہ مقدار چار لاکھ 65 ہزار ٹن رہی۔

یہ کپڑے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے برآمد کیے جاتے ہیں

پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہیں، ایسے ہی لوگوں میں سے بڑی تعداد کا انحصار ان استعمال شدہ کپڑوں پر ہے۔
یہ کپڑے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے برآمد کیے جاتے ہیں اور حکومت نے اس پھلتے پھولتے کاروبار پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے اور فی کلوگرام پر 40 روپے سے لے کر 70 روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کاروبار کو تو ٹیکس معاف ہونا چاہیے۔ پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئل فورم کے صدر میاں زاہد کے مطابق ان کپڑوں کا استعمال عام آدمی کے لیے ہے، کسی بڑے آدمی کے لیے نہیں جو ٹیکس بچانے کے لیے خرید یا بیچ رہا ہو۔
کراچی سمیت پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت عام ہے
 پاکستان استعمال شدہ کپڑے برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، تجارت اور استعمال کے حوالے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا انحصار اس پر ہے، لہٰذا اس کاروبار پر کم سے کم ٹیکس ہونا چاہیے۔ 
پاکستان میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی پہلی منزل کراچی ہے، جہاں سے انھیں اندرون ملک کے علاوہ دیگر ملکوں کی طرف بھی روانہ کیا جاتا ہے۔
کراچی کے علاقے شیر شاہ میں کئی گودام ان کپڑوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں ہر آنے والی گٹھڑی میں سے عمر اور جنس کے علاوہ معیار کے مطابق چھانٹی کی جاتی ہے۔
محمد ارشد نامی ہول سیل ڈیلر کے مطابق ان کپڑوں کی اے، بی اور سی کیٹگری بنائی جاتی ہے، ان میں سے اعلیٰ کوالٹی کے ملبوسات دبئی اور افریقی ممالک بھیجے جاتے ہیں جبکہ باقی مقامی مارکیٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔
پاکستان میں گیس اور بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ، جنگلات میں کمی کے بعد سخت سردی میں عام لوگوں کے پاس خود کو گرم رکھنے کے لیے گرم کپڑے ہی بہترین آپشن رہ گیا ہے۔
یہ کاروبار مہنگائی میں غریبوں کو تن ڈھکنے اور متوسط طبقے کو فیشن کے ساتھ ہم قدم ہونے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ گارمنٹس کی مقامی صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچانے کا بھی سبب ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Saddar book bazaar — a reader’s paradise that is losing readers

For the past 15 years, every Sunday Fareedul Haq wakes up at 6am and goes to his godown in Saddar, where he arranges pickup trucks to transport heavy cardboard cartons to the Bank Road. There, he and his four employees set up small tables on the footpath outside a car dealership, fix poles on the roads and tie a tarp to the poles to cover the tables. They then take out some 2,000 books from the cartons and arrange them on the tables. The entire process takes around three hours.
Haq and his workers are not the only sellers here. Other booksellers too set up shops on the footpaths in Saddar every Sunday to sell new as well as used books. “The bazaar was started in the 60s by the Siddiqui brothers, who currently own 70% of old book shops in the twin cities,” says Haq, who sells English books and magazines at his stall. “The English reader is willing to pay,” he explains. “Moreover, the English books, from literature to philosophy, are easily available in the wholesale market.”
The people who visit the bazaar are diverse — students, professionals and reading enthusiasts are just some of those who buy books from the market. These days, however, the students visiting the stalls have decreased in number. “These days they usually come [just] to buy textbooks.” Used and low-priced editions of engineering and medical textbooks are in high demand at the book bazaar. An original hardcover of these books can cost around Rs1,000 at a bookstore, but the used books are between Rs400 and Rs500.
Muhammad Ali, a computer software student at Army Public College of Management and Sciences, is about to leave one of the stalls with two calculus books tucked under his arm. His visit to the market was “satisfactory”, he says. The market operates under the patronage of the Rawalpindi Cantonment Board (RCB), which charges Rs300 from each stall owner every Sunday. In addition, the booksellers also have to reach an agreement with traders to set up stalls in front of their shops.
Sohail Ahmed, another vendor who runs a bookshop in Westridge, complains that the RCB has increased the charges from Rs30 to Rs300 in the past two years. “Sometimes, we don’t make enough sales. It would be nice if the board reduces the fee to Rs150.” Haq says he has to earn around Rs5,000 every Sunday to break even. His expenditures involve paying his workers, transportation, equipment costs, and the RCB’s fee. Though he is able to make do on most days, the dwindling stream of readers is jeopardising the ventures of some stall owners.
Ahmed, too, believes that the number of people buying books has decreased over time, due to the internet and CDs. As one walks by, a few families with young children can be seen — an encouraging sign for a nation suffering from poor literacy rate. “I bring my children here so they can develop an interest in books. They easily relate with books that have the same cartoons they watch on the television,” says Major Kashif Safdar, who has brought his three sons, all of primary school age, to check out books at Haq’s stall.
Nearby, Kamran Javed, a schoolteacher, is browsing through books on politics and history. “I tell my students to visit this market. Sometimes, they come back and tell me about the books they buy.”While English books dominate this market, Urdu books are not completely non-existent.
Around the corner of Bank Road sits Amjad Kamal, surrounded by several hundred Urdu books — mostly novels and Islamic texts. Kamal, who works at a government department in Islamabad on weekdays, says his customers are usually middle-aged people, mostly women who buy novels by Bano Qudsia and Umaira Ahmed. He complains that the wholesalers have doubled book prices, which cuts into his profits. “Customer bargaining has increased and our profit margins have reduced.”
Back at Haq’s stall, workers can be heard bargaining with a customer. “You won’t find this for Rs400 even in Karachi.”Karachi is the hub of old books trade, says Haq. Most of the used books reach Pakistan and other third world countries after they are trashed by libraries in the West. Some of them find their way to Pakistan’s main port city from cheap printing presses in China and the Far East. Apart from that, old books sold by readers are another supply source for the Sunday bazaar.
As the day draws to a close, and before he and his team spend another two hours disassembling the stall, Haq has a suggestion for the officials. “The RCB and CDA in Islamabad should allot space for book markets. They will be doing a service to society.”

Alkhidmat orphans program

VISION: Transforming the abandoned orphan children into an asset of the society and humanity at large.

5,169 Currently Alkhidmat support 5,169 orphans through its Orphans Family Support program.  
Alkhidmat run six (06) AGHOSH Homes with three New AGHOSH in Mansehra, Peshawar, Rawalakot and Bagh.  
Aghosh Centers:
Alkhidmat has also been building orphanages for children. Currently, Alkhidmat Aghosh Attock hosts 215 while Alkhidmat Aghosh Rawalakot, Bagh Kashmir hosts 50 orphan children. The Aghosh centers have adjoined schools for these children. Moreover Alkhidmat Aghosh has a playground, computer lab, sports ground, and indoor games facilities. Alkhidmat also arranged educational tour and psychological rehabilitation lectures for these children. Alkhidmat provides a congenial environment for residence, food, education, and mental and psychological growth of these children.
550 Orphans were get benefited from Alkhidmat Aghosh Attock, Aghosh Rawalakot, Aghosh Peshawar, Aghosh Mansehra, Aghosh Rawalpindi and  Aghosh Bagh. Aghosh Murree is also under-construction; it will host 400 orphan children. Note that Alkhidmat also intends to build Aghosh centers in Badin, Gujranwala, Mansehra, and Karachi. 

Orphan Family Support:

The purpose of Orphan Support Program is to provide support to the children who lost either one or both of their parents, and hence a vital source of support. Currently the Orphan Care Program is successfully run in all provinces of Pakistan including Azad Jamu Kashmir, Gilgit Baltistan, and FATA. Rs. 324 million have been disbursed through 31 clusters, which are assisting 5,169 children. Each cluster is administrated by an in-charge who, along with local community looks after the needs of the children. Alkhidmat Foundation intends to add another 1,500 orphan children to the pool.

کراچی کے سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار

کراچی میں گھوسٹ اسکول، گھوسٹ اساتذہ اور گھوسٹ طلبہ اب بھی موجود ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں غیر سرکاری تنظیم  انسانی حقوق کمیشن  نے کراچی کے سرکاری اسکولوں میں سروے کیا۔ اس سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری پرائمری اسکولوں میں داخلے کی شرح کم ہو کر 9 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔

سینئر صحافی اور اپنی زندگی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کرنے والے آئی اے رحمن نے اس رپورٹ کے اجراء کے وقت یہ سوال کیا کہ کراچی کے باقی 91 فیصد بچے غیر سرکاری اسکولوں یا مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اس بارے میں اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ ایچ آر سی پی کے متحرک کارکن خضر حبیب کی قیادت میں رضاکاروں نے کئی ماہ تک کراچی کے اسکولوں میں جا کر اعداد و شمار جمع کیے۔ ان اعداد و شمار میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ ایک ٹیم نے 2 ہزار سے زائد اسکولوں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کیے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی آبادی کے اعتبار سے اسکولوں کی تعداد کم ہے۔
    
دستیاب اعدا د و شمار کے موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبا کے سرکاری اسکولوں میں داخلے کی شرح کم ہورہی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق اسکولوں کی نگرانی کے لیے قائم ہونے والی اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں یا تو بہت سے اسکولوں میں قائم نہیں ہوتیں یا پھر فعال نہیں ہیں۔ پرائمری اسکولوں میں مخلوط تعلیم ہے اور ان اسکولوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

والدین کا کہنا ہے کہ عموماً لڑکوں کو غیر سرکاری اسکولوں میں داخل کرایا جاتا ہے اور لڑکیوں کو سرکاری اسکول بھیج دیا جاتا ہے۔ سروے کرنے والے رضاکاروں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ اسکولوں کے جنرل رجسٹر   میں طلبا کی تعداد زیادہ ظاہر کی جاتی ہے جب کہ کلاس روم میں طلبا کی تعداد کم ہوتی ہے۔ تحقیق پر یہ معلوم ہوا کہ جنرل رجسٹر میں ان طلبا کے ناموں کا اخراج نہیں ہوتا جو اسکول چھوڑ جاتے ہیں تاکہ اسکول کی کارکردگی پر کوئی سوال نہ ابھر سکے۔

ان اسکولوں میں غیر تدریسی عملے کی کمی ہے اور ایک اسکول کی عمارت میں کئی کئی اسکول قائم ہیں۔ اسکولوں کا بجٹ کم ہے اور ہیڈ ماسٹر عموماً ضروری کارروائی کے اندراج کے بغیر داخلے اور ٹرانسفر سرٹیفکیٹ   وغیرہ جاری کردیتے ہیں۔ کراچی کے 70 فیصد اسکولوں میں کنڈے کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور 20 فیصد اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ رپورٹ میں یہ اہم اطلاع درج ہے کہ 15  فیصد اسکولوں کی عمارتیں مخدوش ہیں مگر پرائمری اسکولوں کی عمارتیں بہتر حالت میں ہیں۔ سروے کرنے والے ماہرین نے جب وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ پرائمری اسکولوں کو یو ایس ایڈ اور سے باقاعدہ گرانٹ ملتی ہے۔
اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ 60 فیصد طلبا اپنے کلاس روم خود صاف کرتے ہیں کیونکہ صفائی کے لیے خاکروب موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح کراچی کے 95 فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود ہیں، مگر ان میں سے 90 فیصد استعمال نہیں ہوتے۔ اسی طرح 90 فیصد اسکولوں میں لڑکیاں اس سہولت سے محروم ہیں۔ اسی طرح 90 فیصد اسکولوں میں پانی دستیاب نہیں ہے۔ طالب علم قریبی مساجد کے بیت الخلا سے استفادہ کرتے ہیں۔ لڑکیاں اس سہولت سے محروم ہیں۔
    اسکولوں میں طبی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں اور 55 فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی نہیں ہے۔ کراچی ویسٹ کے 70 فیصد اسکولوں کے طلبا پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ 95 فیصد اسکولوں میں سائنس کی لیبارٹری نہیں ہے۔ کراچی کے سرکاری اسکولوں میں سے 95 فیصد اسکولوں میں لائبریریاں نہیں ہیں، جن 5 فیصد اسکولوں میں لائبریریاں ہیں وہاں ایک الماری میں کتابیں رکھ دی گئی ہیں اور طالب علموں کو ان کتابوں تک رسائی نہیں ہے۔ اسی طرح 60 فیصد اسکولوں میں کھیل کے میدان موجود نہیں ہیں۔
اسکولوں میں کھیل اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کراچی کے اضلاع کورنگی اور ملیر میں ایک کمرے پر مشتمل اسکول بھی ہیں۔ ضلع ملیر میں ایک ایسے اسکول میں 7 اساتذہ ملازم ہیں اور 28 طلبا کے نام جنرل رجسٹر میں درج ہیں۔ اسی طرح ضلع کورنگی میں ایک کمرے کے اسکول میں 12 اساتذہ اور 88 طالب علم ہیں۔ ضلع ملیر میں 5 کمروں کے اسکول میں ایک استاد ہے اور 130 طلبا کا نام رجسٹر میں درج ہے۔ اسی طرح کیماڑی کے علاقے بابا بھٹ میں 14 کمروں پر مشتمل اسکول میں 500 طالب علموں کے نام درج ہیں جب کہ 14 اساتذہ وہاں تعینات ہیں۔ اس طرح 248 پرائمری اسکول ایک کمرے پر مشتمل ہیں، جہاں 5 کلاسوں کے طلبا ایک کمرے میں علم کی آگ بجھاتے ہیں۔
کراچی کے بہت سے اسکولوں میں اساتذہ اپنی ملازمتوں پر نہیں آتے مگر ان کے دستخط حاضری رجسٹر پر موجود ہوتے ہیں۔ عموماً یہ غیر حاضر اساتذہ 5 ہزار تک کی ماہانہ رشوت مجاز حکام کی نذر کرتے ہیں۔ اساتذہ نے سروے کرنے والے رضاکاروں کو اپنی صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ انتخابات اور مردم شماری میں ان سے جبری کام لیا جاتا ہے۔ اسی طرح 76 فیصد اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ طلبا پر جسمانی تشدد نہیں کرتے۔ 9 فیصد اساتذہ طلبا پر تشدد کے حق میں ہیں۔ طلبا نے سروے کرنے والے ماہرین کو بتایا کہ اساتذہ کی اکثریت کلاسوں میں نہیں جاتی۔ 30 فیصد والدین یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ معاشی مجبوریوں کی بنا پر وہ بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں۔
یہ رپورٹ حکومت سندھ کے محکمہ تعلیم کی حالتِ زار کی کھلی عکاسی کرتی ہے۔ 1973 کے آئین کے تحت اسکول کی تعلیم صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار ہے مگر محکمہ تعلیم کی ناقص کارکردگی کی بنا پر اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کی شرح کم ہورہی ہے۔ تعلیمی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے محکمہ تعلیم کی بنیادی ترجیح تعلیم نہیں رہی۔ محکمہ تعلیم کو سیاسی بھرتیوں اور لوٹ مار کے لیے چھوڑ دیا گیا ۔
اربوں روپے کے فنڈز ہر سال محکمہ تعلیم کے حوالے ہوتے ہیں مگر ان میں سے بیشتر فنڈ مکمل طور پر استعمال ہی نہیں ہوتے اور پھر ان میں خرد برد ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت 2008 میں برسرِ اقتدار آئی تو یہ امید تھی کہ اب تعلیم کا محکمہ سب سے فعال بن جائے گا مگر سابق وزیر تعلیم کے دور میں صورتحال خراب ہوتی چلی گئی۔ اس دور میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک کی آسامی فروخت ہوئی۔ عالمی بینک کے معیار کو پامال کرتے ہوئے کئی ہزار افراد کو بغیر کسی امتحان پاس کیے استاد کے رتبے پر فائز کیا گیا۔
بقول ایک سینئر استاد ان میں سے بیشتر استاد بننے کے اہل نہیں تھے، مگر یہ لوگ کئی لاکھ روپے رشوت دے کر استاد بنے تھے۔ جب اس صورتحال کا گرانٹ دینے والے عالمی اداروں کے افسروں کو علم ہوا تو سابق صدر آصف زرداری نے اپنے بہنوئی فضل پیچوہو کو سیکریٹری تعلیم مقرر کردیا۔ یہ افراد ملازمتوں سے محروم ہوئے اور ان افراد کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
یہ لوگ مظاہرے کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس واٹر کینن سے ان پر پانی پھینکتی ہے اور کبھی کبھی آنسو گیس کے گولے برساتی ہے۔ ٹی وی چینلز براہِ راست یہ کارروائی نشر کرتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ مظلوم بن جاتے ہیں۔ جب سابق وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے افسروں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی توسابق صدر آصف زرداری نے اس کو انتقام قرار دیا، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے سندھ پر وفاق کا حملہ کہا۔ ماہرِ تعلیم پروفیسر سعید عثمانی کہتے ہیںکہ جب تک محکمہ تعلیم کو محض پیسے کمانے کی وزارت سمجھا جائے گا صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔ خضر حبیب اور ان کے ساتھیوں نے ایک انتہائی مفید رپورٹ تیار کی ہے۔
اگر پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ تعلیم شہری کا حق ہے تو اس حق کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس رپورٹ کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ اراکین سندھ اسمبلی رپورٹ کا عرق ریزی سے جائزہ لیں اور سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا جائے۔ تعلیم ہر شہری کا حق ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25A اس حق کی توثیق کرتا ہے۔ حکومت سندھ اس آرٹیکل پر عملدرآمد کی پابند ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

The Sindh Institute of Urology and Transplantation (‘SIUT’)

The Sindh Institute of Urology and Transplantation (‘SIUT’)  is a dialysis & kidney transplant centre located in Pakistan. SIUT was founded by Dr. Adibul Hasan Rizvi and it is Pakistan’s largest kidney disease center, as well as Pakistan’s largest public sector health organisation. 
It began as a department of urology at the government-run Civil Hospital in 1970 and became autonomous in 1991. 10-12 transplants are performed weekly,  and in 2003 doctors at SIUT performed Pakistan’s first liver transplant.  In 2004, a child care unit was opened. All services provided by SIUT, including dialysis and transplantation, are provided free of cost.