قائد اعظم ہاؤس میوزیم

کراچی کے ضلع جنوبی میں شاہراہِ فیصل پر ہوٹل مہران اور فاطمہ جناح روڈ کے درمیان ایک پرُشکوہ عمارت ایستادہ ہے، جسے قائد اعظم میوزیم ہاؤس کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس کا نام فلیگ سٹاف ہاؤس تھا ۔یہ قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ گھر قائداعظم نے 115,000کا خریدا تھا ۔اس کا سیل ایگریمنٹ 14اگست 1943ء کو سہراب کائوس جی کڑاک سے طے پایا تھا،جو کراچی کے مئیر بھی رہے ۔ 
یہ تو پتا نہیں چل سکا کہ یہ عمارت کب قائم ہوئی، تاہم دستیاب شدہ ریکارڈ کے مطابق 1922ء میں اس کے مالک رام چند ہنسوج لومانا تھے۔ بعد ازاں یہ گھر برٹش انڈین آرمی کے لیے کرائے پر حاصل کر لیا گیا۔ اس عمارت میں برٹش انڈین آرمی اور رائل پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف یا دیگر افسران کرائے پر رہتے رہے۔
 ستمبر 1947ء میں قائد اعظم محمد علی اپنی دہلی کی رہائش گاہ 10اورنگ زیب روڈ سے فلیگ سٹاف ہاؤس منتقل ہوگئے ،مگر زندگی نے قائد اعظم کو اس گھر میں زیادہ عرصہ رہنے کی مہلت نہ دی ۔اس بات کا مصدقہ ریکارڈ تو نہیں ملتا کہ قائد نے کبھی یہاں مستقل یا باضابطہ رہائش اختیار کی ہو، تاہم بعض دستیاب شدہ روایتی گھریلو اشیاء یہ ظاہر کرتی ہیںکہ قائد اعظم نے کئی بار اس گھر کا دورہ کیا اور آرام کیا۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح جو قائد کے ساتھ ہی گورنر جنرل ہاؤس میں مقیم تھیں، 13ستمبر 1948ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس میں منتقل ہوگئیں۔
 یہاں اُن کا قیام 1964ء تک رہا، جس کے بعد وہ اپنے ذاتی گھر موہاٹا پیلس  قصر فاطمہ  میں منتقل ہوگئی تھیں۔ 9جولائی 1967ء کو محترمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد ایک صدراتی حکم نامے کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ،جس کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی کہ وہ قائد سے متعلق اہم تاریخی اشیاء کو اکٹھا کرکے جدید سائنسی طریقے سے اسے محفوظ کر کے عوامی نمائش کے لیے رکھے جائیں۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن شیریں بائی ہاشم رضا ( سابق میئر کراچی) محمد لیاقت مرچنٹ ( قائد کے بھانجے) کے اشتراک سے قائد اعظم ٹرسٹ قائم ہوا،ان ٹرسٹی سے فروری 1985ء کو 5,10,7000روپے کے عوض یہ گھر حکومت پاکستان نے خرید لیا۔
 باضابطہ طور پر حکومت کو 1985ء میں منتقلی سے قبل ہی 14جون 1984ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس کو محکمہ ٔ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے کر تزئین و آرائش و مرمت کا کام شروع کر دیا تھا اور 2کروڑ روپے اس مد میں خرچ کئے گئے۔ از سرنو اس بلڈنگ کی تزئین کی گئی۔80فی صد میٹریل اصلی استعمال کیا گیا، باغات کو بسایا گیا۔ قائدا عظم و محترمہ فاطمہ جناح سے متعلق اشیاء کو محفوظ کیا گیا ۔مثلاً قائد اعظم کے کمرے کی سیٹنگ ان کے دہلی والے گھر کی طرح سے رکھی گئی ہے، وہی فرنیچر کا رپٹ، قائد کی قانونی کتابیں بمعہ ُان کے دستخط ، چھڑیاں، ماربل کا عمدہ سیٹ، ماربل ہی کا ٹیلی فون سیٹ جواب بھی درست حالت میں ہے ۔
قائد کے استعمال میں آنے والے جوتے،اُن کے بیڈ روم میں کافور کی لکڑی سے بنا خوبصورت بکس ،جو اس وقت بھی کافور کی مکمل مہک دے رہا ہے۔ سگار بکس ، ایزی چیئر ( آرام دہ کرسی) میسور بھارت کا بنا ہوا اگر بتی کیس ، جس کی نمایاں خوبی اس پر یا محمدﷺ اور درود شریف لکھا ہوا ہے۔ قائد کے زیر استعمال ان کی ایک آنکھ کا چشمہ اور فاطمہ جناح کے ڈریسنگ روم میں اُن کے پلنگ کی وہی سیٹنگ جو اُن کی زندگی میں تھی، اُن کے پاؤں کی کھڑاواں نما چپل، لکھنے کی میز ، الماری، شو پیس لکڑی سے بنی ہوئی خوبصورت الماری وغیرہ اور پرانا فرنیچر یہ سب اتنی عمدہ کو الٹی کی ہے کہ دیکھنے کے قابل ہے ۔
محترمہ شیریں جناح کے استعمال میں آنے والی اخروٹ کی لکڑی کا فرنیچر جس پر اُن کا نشان SJبنا ہوا ہے ۔ 1993ء میں فلیگ سٹاف ہاؤس کا نام تبدیل کرکے قائد اعظم ہاؤس میوزیم رکھا گیا اور 25نومبر 1993ء کو سندھ کے سابق گورنر مرحوم حکیم محمد سعید نے اس میوزیم کا افتتاح کیا۔ فلیگ سٹاف ہاؤس کا طرز تعمیر کا نونیل آرکیٹکچر سے ملتا جلتا ہے۔ اس کا ڈیزائن انجینئر موفکروف نے بنایا تھا، 10,241 مربع گز پر پھیلی ہوئی، اس عمارت میں وسیع باغ کے ساتھ تین کمرے گراؤنڈ فلور پر جبکہ تین کمرے پہلی منزل پرواقع ہیں ۔
دو بیرونی کمرے 16فٹ 10انچ کشادہ ہیں۔ پہلی منزل پر واقع کمرے بھی اتنے ہی کشادہ ہیں۔ ہر ایک کمرہ برآمدے میں کھلتا ہے ۔انہی کمروں سے منسلک گراؤنڈ فلور پر ایک انیکسی بھی واقع ہے، جسے اب آڈیٹوریم میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں تقریری مقابلے ، تعلیمی مقالے ، نمائش وغیرہ ( قائد اعظم سے متعلق) ہوتی ہے۔ اس عمارت میں 18سرونٹ کوارٹرز، 4گیراج 3گارڈ روم اور ایک کچن بھی موجود ہے ۔کچن کو اب ایڈمنسٹریٹو آفس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔کراچی کے معروف معمار یاسمین لاری کو اس منصوبے پر مقرر کیا گیا اور اُن کے ہی مشوروں سے قائد اعظم میوزیم کا پورا کام کیا گیا۔ 
میوزیم کے مرکزی گھر کو مکمل طور سے درست کر کے اس کی اصل حالت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کی بگڑی ہوئی اور خستہ حالت کو تزئین و آرائش کرکے دوبارہ نکھارا گیا۔ صرف گراؤنڈ فلور کی چھت کو کنکریٹ سیمنٹ تبدیل کرنے کے بعد اس پر لکڑی کے ٹکڑوں سے چھت بنانے سے اس کی اصلی حالت نظر آتی ہے ۔ قائد اعظم میوزیم میں واقع باغ کو بھی از سر نو ڈیزائن کیا گیا ہے اس میں پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ روشنی کا مؤثر انتظام (برائے سیکورٹی اور خصوصی تقاریب منعقد کرانے کے حوالے سے) کیا گیا ہے، اس کا ڈیزائن مونکروف نے بنایا ہے، مگر معروف آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ اس عمارت کو سومک نے تعمیر کیا ہے، سومک کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنی تیار کردہ عمارتوں پر کسی کونے میں اپنا نام نقش کر دیتا تھا اور اس عمارت کی ڈیوڑھی میں نقش و نگار میں اس کا نام دیکھا جاسکتا ہے، بشرطیکہ تھوڑی سے ہمت کی جائے ۔
فلیگ سٹاف ہاؤس ، سومک کی سی پہچان بن جانے والی پہلی عمارت تھی ،جس میں اس کی تخلیقی و ذہنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار ملتا ہے ،یہ بات تعجب انگیز ہو سکتی ہے کہ جب اس معمار سومک کو یہ عمارت بنانے کا کہا گیا تھا تو اسے بہت کم لوگ جانتے تھے ،مگر ان دونوں معروف معمار اسٹربچن اس قدر دوسرے کاموں میں مصروف تھا کہ اس کے پاس اس عمارت کی تعمیر کے لیے وقت نکالنا مشکل تھا چنانچہ یہ کام سومک کے سپرد ہوا۔
یہ عمارت غالباً 1890ء کے لگ بھگ تعمیر ہوئی اور کے ڈی اے کے ریکارڈ میں جو 1865ء درج ہے، غلط ہے ۔یہ واضح ہوتا ہے کہ ان نقشوں سے جو کہ 1874ء اور 1869-70ء میں شائع ہوئے ان نقشوں کو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ عمارت ان نقشوں کی اشاعت کے بعد مکمل ہوئی سومک کا فلیگ سٹاف پر کیا گیا  کام ڈبل سٹوری عمارت تک محدود ہے جبکہ انیکسی والا حصہ اس کے بعد تیار کیا گیا ممکنہ طور پر محدود بجٹ میں رہتے ہوئے مرکزی حصے کو با سلیقہ طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ قائد اعظم میوزیم میں داخلہ مفت ہے ۔صبح نو بجے سے شام چار بجے تک ماسوائے بدھ کے یہ میوزیم کھلا رہتا ہے۔ میوزیم کے باغ کے صحن میں فوارہ بھی اس کے حسن کو بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔یہ میوزیم واحد میوزیم ہے، جہاں آنے والے مہمانوں کو سٹاف خود بہ نفس نفیس میوزیم دکھاتا اور تاریخ سے آگاہ کرتا ہے
شیخ نوید اسلم
 

غریب آدمی کا تو یہ لنڈا ہی دوست ہے

ناصر مانسہرہ سے کراچی آئے ہیں اور انھیں یہاں ملازمت کی تلاش ہے، لیکن اس سے قبل انھیں شہر کے رنگ ڈھنگ میں ڈھلنا ہے اور اس کے لیے ان کا بہترین انتخاب شہر کا علاقہ صدر تھا جہاں جینز اور شرٹس کی کئی ریڑھیاں لگی ہوئی ہیں۔

ناصر نے بھی اس مارکیٹ سے چار پتلونوں کا انتخاب کیا اور سودا چار سو روپے میں طے ہوا۔
ناصر کے مطابق یہاں جینز اچھی اور سستی مل جاتی ہیں جو ایک غریب بندے کے لیے بہترین آپشن ہے اور ’اگر آمدنی بہتر ہو تو ٹھیک ہے ورنہ لنڈا بیسٹ ہے۔ 
کراچی سمیت پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت عام ہے، کئی مقامات پر تو انھوں نے مستقل بازاروں کی بھی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں متوسط طبقے کے لوگوں کو بھی بڑی کمپنیوں کے ملبوسات کی تلاش ہوتی ہے۔
ویسے تو ہفتے کے ساتوں روز ان مارکیٹوں میں خریداروں کا ہجوم رہتا ہے لیکن اتوار کے دن ان میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر سردی ہو تو اکثر غریب لوگوں کی اولین ترجیح یہی ریڑھیاں ہوتی ہیں۔
جیکٹس کی ایک ریڑھی پر محمد حنیف دو بچوں کے ساتھ نظر آئے انھوں نے دو جیکٹوں کا سودا کیا تھا۔

محمد حنیف نے بتایا کہ اگر وہ یہ کسی شاپنگ مال سے لیتے تو انھیں دو سے تین ہزار کی ملتی، یہاں سو سو رپے کی دو جیکٹس مل گئیں اب اس کو دھو کر پہن لیں گے۔

اگر یہ لنڈا نہ ہو تو غریب سردی میں ہی مر جائے، غریب آدمی کا تو یہ لنڈا ہی دوست ہے۔ 
پاکستان میں استعمال شدہ کپڑوں کی کھپت بڑھنے کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ بھی بڑھ گیا ہے۔ گذشتہ سال تقریبا دو لاکھ 20 ہزار ٹن کپڑے برآمد کیے گئے جبکہ رواں سال یہ مقدار چار لاکھ 65 ہزار ٹن رہی۔

یہ کپڑے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے برآمد کیے جاتے ہیں

پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہیں، ایسے ہی لوگوں میں سے بڑی تعداد کا انحصار ان استعمال شدہ کپڑوں پر ہے۔
یہ کپڑے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے برآمد کیے جاتے ہیں اور حکومت نے اس پھلتے پھولتے کاروبار پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے اور فی کلوگرام پر 40 روپے سے لے کر 70 روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اس کاروبار کو تو ٹیکس معاف ہونا چاہیے۔ پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئل فورم کے صدر میاں زاہد کے مطابق ان کپڑوں کا استعمال عام آدمی کے لیے ہے، کسی بڑے آدمی کے لیے نہیں جو ٹیکس بچانے کے لیے خرید یا بیچ رہا ہو۔
کراچی سمیت پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی فروخت عام ہے
 پاکستان استعمال شدہ کپڑے برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، تجارت اور استعمال کے حوالے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا انحصار اس پر ہے، لہٰذا اس کاروبار پر کم سے کم ٹیکس ہونا چاہیے۔ 
پاکستان میں ان استعمال شدہ کپڑوں کی پہلی منزل کراچی ہے، جہاں سے انھیں اندرون ملک کے علاوہ دیگر ملکوں کی طرف بھی روانہ کیا جاتا ہے۔
کراچی کے علاقے شیر شاہ میں کئی گودام ان کپڑوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں ہر آنے والی گٹھڑی میں سے عمر اور جنس کے علاوہ معیار کے مطابق چھانٹی کی جاتی ہے۔
محمد ارشد نامی ہول سیل ڈیلر کے مطابق ان کپڑوں کی اے، بی اور سی کیٹگری بنائی جاتی ہے، ان میں سے اعلیٰ کوالٹی کے ملبوسات دبئی اور افریقی ممالک بھیجے جاتے ہیں جبکہ باقی مقامی مارکیٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔
پاکستان میں گیس اور بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ، جنگلات میں کمی کے بعد سخت سردی میں عام لوگوں کے پاس خود کو گرم رکھنے کے لیے گرم کپڑے ہی بہترین آپشن رہ گیا ہے۔
یہ کاروبار مہنگائی میں غریبوں کو تن ڈھکنے اور متوسط طبقے کو فیشن کے ساتھ ہم قدم ہونے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ گارمنٹس کی مقامی صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچانے کا بھی سبب ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Saddar book bazaar — a reader’s paradise that is losing readers

For the past 15 years, every Sunday Fareedul Haq wakes up at 6am and goes to his godown in Saddar, where he arranges pickup trucks to transport heavy cardboard cartons to the Bank Road. There, he and his four employees set up small tables on the footpath outside a car dealership, fix poles on the roads and tie a tarp to the poles to cover the tables. They then take out some 2,000 books from the cartons and arrange them on the tables. The entire process takes around three hours.
Haq and his workers are not the only sellers here. Other booksellers too set up shops on the footpaths in Saddar every Sunday to sell new as well as used books. “The bazaar was started in the 60s by the Siddiqui brothers, who currently own 70% of old book shops in the twin cities,” says Haq, who sells English books and magazines at his stall. “The English reader is willing to pay,” he explains. “Moreover, the English books, from literature to philosophy, are easily available in the wholesale market.”
The people who visit the bazaar are diverse — students, professionals and reading enthusiasts are just some of those who buy books from the market. These days, however, the students visiting the stalls have decreased in number. “These days they usually come [just] to buy textbooks.” Used and low-priced editions of engineering and medical textbooks are in high demand at the book bazaar. An original hardcover of these books can cost around Rs1,000 at a bookstore, but the used books are between Rs400 and Rs500.
Muhammad Ali, a computer software student at Army Public College of Management and Sciences, is about to leave one of the stalls with two calculus books tucked under his arm. His visit to the market was “satisfactory”, he says. The market operates under the patronage of the Rawalpindi Cantonment Board (RCB), which charges Rs300 from each stall owner every Sunday. In addition, the booksellers also have to reach an agreement with traders to set up stalls in front of their shops.
Sohail Ahmed, another vendor who runs a bookshop in Westridge, complains that the RCB has increased the charges from Rs30 to Rs300 in the past two years. “Sometimes, we don’t make enough sales. It would be nice if the board reduces the fee to Rs150.” Haq says he has to earn around Rs5,000 every Sunday to break even. His expenditures involve paying his workers, transportation, equipment costs, and the RCB’s fee. Though he is able to make do on most days, the dwindling stream of readers is jeopardising the ventures of some stall owners.
Ahmed, too, believes that the number of people buying books has decreased over time, due to the internet and CDs. As one walks by, a few families with young children can be seen — an encouraging sign for a nation suffering from poor literacy rate. “I bring my children here so they can develop an interest in books. They easily relate with books that have the same cartoons they watch on the television,” says Major Kashif Safdar, who has brought his three sons, all of primary school age, to check out books at Haq’s stall.
Nearby, Kamran Javed, a schoolteacher, is browsing through books on politics and history. “I tell my students to visit this market. Sometimes, they come back and tell me about the books they buy.”While English books dominate this market, Urdu books are not completely non-existent.
Around the corner of Bank Road sits Amjad Kamal, surrounded by several hundred Urdu books — mostly novels and Islamic texts. Kamal, who works at a government department in Islamabad on weekdays, says his customers are usually middle-aged people, mostly women who buy novels by Bano Qudsia and Umaira Ahmed. He complains that the wholesalers have doubled book prices, which cuts into his profits. “Customer bargaining has increased and our profit margins have reduced.”
Back at Haq’s stall, workers can be heard bargaining with a customer. “You won’t find this for Rs400 even in Karachi.”Karachi is the hub of old books trade, says Haq. Most of the used books reach Pakistan and other third world countries after they are trashed by libraries in the West. Some of them find their way to Pakistan’s main port city from cheap printing presses in China and the Far East. Apart from that, old books sold by readers are another supply source for the Sunday bazaar.
As the day draws to a close, and before he and his team spend another two hours disassembling the stall, Haq has a suggestion for the officials. “The RCB and CDA in Islamabad should allot space for book markets. They will be doing a service to society.”

Alkhidmat orphans program

VISION: Transforming the abandoned orphan children into an asset of the society and humanity at large.

5,169 Currently Alkhidmat support 5,169 orphans through its Orphans Family Support program.  
Alkhidmat run six (06) AGHOSH Homes with three New AGHOSH in Mansehra, Peshawar, Rawalakot and Bagh.  
Aghosh Centers:
Alkhidmat has also been building orphanages for children. Currently, Alkhidmat Aghosh Attock hosts 215 while Alkhidmat Aghosh Rawalakot, Bagh Kashmir hosts 50 orphan children. The Aghosh centers have adjoined schools for these children. Moreover Alkhidmat Aghosh has a playground, computer lab, sports ground, and indoor games facilities. Alkhidmat also arranged educational tour and psychological rehabilitation lectures for these children. Alkhidmat provides a congenial environment for residence, food, education, and mental and psychological growth of these children.
550 Orphans were get benefited from Alkhidmat Aghosh Attock, Aghosh Rawalakot, Aghosh Peshawar, Aghosh Mansehra, Aghosh Rawalpindi and  Aghosh Bagh. Aghosh Murree is also under-construction; it will host 400 orphan children. Note that Alkhidmat also intends to build Aghosh centers in Badin, Gujranwala, Mansehra, and Karachi. 

Orphan Family Support:

The purpose of Orphan Support Program is to provide support to the children who lost either one or both of their parents, and hence a vital source of support. Currently the Orphan Care Program is successfully run in all provinces of Pakistan including Azad Jamu Kashmir, Gilgit Baltistan, and FATA. Rs. 324 million have been disbursed through 31 clusters, which are assisting 5,169 children. Each cluster is administrated by an in-charge who, along with local community looks after the needs of the children. Alkhidmat Foundation intends to add another 1,500 orphan children to the pool.

کراچی کے سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار

کراچی میں گھوسٹ اسکول، گھوسٹ اساتذہ اور گھوسٹ طلبہ اب بھی موجود ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں غیر سرکاری تنظیم  انسانی حقوق کمیشن  نے کراچی کے سرکاری اسکولوں میں سروے کیا۔ اس سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری پرائمری اسکولوں میں داخلے کی شرح کم ہو کر 9 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔

سینئر صحافی اور اپنی زندگی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کرنے والے آئی اے رحمن نے اس رپورٹ کے اجراء کے وقت یہ سوال کیا کہ کراچی کے باقی 91 فیصد بچے غیر سرکاری اسکولوں یا مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اس بارے میں اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ ایچ آر سی پی کے متحرک کارکن خضر حبیب کی قیادت میں رضاکاروں نے کئی ماہ تک کراچی کے اسکولوں میں جا کر اعداد و شمار جمع کیے۔ ان اعداد و شمار میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ ایک ٹیم نے 2 ہزار سے زائد اسکولوں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کیے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی آبادی کے اعتبار سے اسکولوں کی تعداد کم ہے۔
    
دستیاب اعدا د و شمار کے موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبا کے سرکاری اسکولوں میں داخلے کی شرح کم ہورہی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق اسکولوں کی نگرانی کے لیے قائم ہونے والی اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں یا تو بہت سے اسکولوں میں قائم نہیں ہوتیں یا پھر فعال نہیں ہیں۔ پرائمری اسکولوں میں مخلوط تعلیم ہے اور ان اسکولوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

والدین کا کہنا ہے کہ عموماً لڑکوں کو غیر سرکاری اسکولوں میں داخل کرایا جاتا ہے اور لڑکیوں کو سرکاری اسکول بھیج دیا جاتا ہے۔ سروے کرنے والے رضاکاروں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ اسکولوں کے جنرل رجسٹر   میں طلبا کی تعداد زیادہ ظاہر کی جاتی ہے جب کہ کلاس روم میں طلبا کی تعداد کم ہوتی ہے۔ تحقیق پر یہ معلوم ہوا کہ جنرل رجسٹر میں ان طلبا کے ناموں کا اخراج نہیں ہوتا جو اسکول چھوڑ جاتے ہیں تاکہ اسکول کی کارکردگی پر کوئی سوال نہ ابھر سکے۔

ان اسکولوں میں غیر تدریسی عملے کی کمی ہے اور ایک اسکول کی عمارت میں کئی کئی اسکول قائم ہیں۔ اسکولوں کا بجٹ کم ہے اور ہیڈ ماسٹر عموماً ضروری کارروائی کے اندراج کے بغیر داخلے اور ٹرانسفر سرٹیفکیٹ   وغیرہ جاری کردیتے ہیں۔ کراچی کے 70 فیصد اسکولوں میں کنڈے کی بجلی استعمال ہوتی ہے اور 20 فیصد اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ رپورٹ میں یہ اہم اطلاع درج ہے کہ 15  فیصد اسکولوں کی عمارتیں مخدوش ہیں مگر پرائمری اسکولوں کی عمارتیں بہتر حالت میں ہیں۔ سروے کرنے والے ماہرین نے جب وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ پرائمری اسکولوں کو یو ایس ایڈ اور سے باقاعدہ گرانٹ ملتی ہے۔
اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ 60 فیصد طلبا اپنے کلاس روم خود صاف کرتے ہیں کیونکہ صفائی کے لیے خاکروب موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح کراچی کے 95 فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود ہیں، مگر ان میں سے 90 فیصد استعمال نہیں ہوتے۔ اسی طرح 90 فیصد اسکولوں میں لڑکیاں اس سہولت سے محروم ہیں۔ اسی طرح 90 فیصد اسکولوں میں پانی دستیاب نہیں ہے۔ طالب علم قریبی مساجد کے بیت الخلا سے استفادہ کرتے ہیں۔ لڑکیاں اس سہولت سے محروم ہیں۔
    اسکولوں میں طبی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں اور 55 فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی نہیں ہے۔ کراچی ویسٹ کے 70 فیصد اسکولوں کے طلبا پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ 95 فیصد اسکولوں میں سائنس کی لیبارٹری نہیں ہے۔ کراچی کے سرکاری اسکولوں میں سے 95 فیصد اسکولوں میں لائبریریاں نہیں ہیں، جن 5 فیصد اسکولوں میں لائبریریاں ہیں وہاں ایک الماری میں کتابیں رکھ دی گئی ہیں اور طالب علموں کو ان کتابوں تک رسائی نہیں ہے۔ اسی طرح 60 فیصد اسکولوں میں کھیل کے میدان موجود نہیں ہیں۔
اسکولوں میں کھیل اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کراچی کے اضلاع کورنگی اور ملیر میں ایک کمرے پر مشتمل اسکول بھی ہیں۔ ضلع ملیر میں ایک ایسے اسکول میں 7 اساتذہ ملازم ہیں اور 28 طلبا کے نام جنرل رجسٹر میں درج ہیں۔ اسی طرح ضلع کورنگی میں ایک کمرے کے اسکول میں 12 اساتذہ اور 88 طالب علم ہیں۔ ضلع ملیر میں 5 کمروں کے اسکول میں ایک استاد ہے اور 130 طلبا کا نام رجسٹر میں درج ہے۔ اسی طرح کیماڑی کے علاقے بابا بھٹ میں 14 کمروں پر مشتمل اسکول میں 500 طالب علموں کے نام درج ہیں جب کہ 14 اساتذہ وہاں تعینات ہیں۔ اس طرح 248 پرائمری اسکول ایک کمرے پر مشتمل ہیں، جہاں 5 کلاسوں کے طلبا ایک کمرے میں علم کی آگ بجھاتے ہیں۔
کراچی کے بہت سے اسکولوں میں اساتذہ اپنی ملازمتوں پر نہیں آتے مگر ان کے دستخط حاضری رجسٹر پر موجود ہوتے ہیں۔ عموماً یہ غیر حاضر اساتذہ 5 ہزار تک کی ماہانہ رشوت مجاز حکام کی نذر کرتے ہیں۔ اساتذہ نے سروے کرنے والے رضاکاروں کو اپنی صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ انتخابات اور مردم شماری میں ان سے جبری کام لیا جاتا ہے۔ اسی طرح 76 فیصد اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ طلبا پر جسمانی تشدد نہیں کرتے۔ 9 فیصد اساتذہ طلبا پر تشدد کے حق میں ہیں۔ طلبا نے سروے کرنے والے ماہرین کو بتایا کہ اساتذہ کی اکثریت کلاسوں میں نہیں جاتی۔ 30 فیصد والدین یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ معاشی مجبوریوں کی بنا پر وہ بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں۔
یہ رپورٹ حکومت سندھ کے محکمہ تعلیم کی حالتِ زار کی کھلی عکاسی کرتی ہے۔ 1973 کے آئین کے تحت اسکول کی تعلیم صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار ہے مگر محکمہ تعلیم کی ناقص کارکردگی کی بنا پر اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کی شرح کم ہورہی ہے۔ تعلیمی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے محکمہ تعلیم کی بنیادی ترجیح تعلیم نہیں رہی۔ محکمہ تعلیم کو سیاسی بھرتیوں اور لوٹ مار کے لیے چھوڑ دیا گیا ۔
اربوں روپے کے فنڈز ہر سال محکمہ تعلیم کے حوالے ہوتے ہیں مگر ان میں سے بیشتر فنڈ مکمل طور پر استعمال ہی نہیں ہوتے اور پھر ان میں خرد برد ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت 2008 میں برسرِ اقتدار آئی تو یہ امید تھی کہ اب تعلیم کا محکمہ سب سے فعال بن جائے گا مگر سابق وزیر تعلیم کے دور میں صورتحال خراب ہوتی چلی گئی۔ اس دور میں چپڑاسی سے لے کر ڈائریکٹر تک کی آسامی فروخت ہوئی۔ عالمی بینک کے معیار کو پامال کرتے ہوئے کئی ہزار افراد کو بغیر کسی امتحان پاس کیے استاد کے رتبے پر فائز کیا گیا۔
بقول ایک سینئر استاد ان میں سے بیشتر استاد بننے کے اہل نہیں تھے، مگر یہ لوگ کئی لاکھ روپے رشوت دے کر استاد بنے تھے۔ جب اس صورتحال کا گرانٹ دینے والے عالمی اداروں کے افسروں کو علم ہوا تو سابق صدر آصف زرداری نے اپنے بہنوئی فضل پیچوہو کو سیکریٹری تعلیم مقرر کردیا۔ یہ افراد ملازمتوں سے محروم ہوئے اور ان افراد کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
یہ لوگ مظاہرے کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس واٹر کینن سے ان پر پانی پھینکتی ہے اور کبھی کبھی آنسو گیس کے گولے برساتی ہے۔ ٹی وی چینلز براہِ راست یہ کارروائی نشر کرتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ مظلوم بن جاتے ہیں۔ جب سابق وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے افسروں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی توسابق صدر آصف زرداری نے اس کو انتقام قرار دیا، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے سندھ پر وفاق کا حملہ کہا۔ ماہرِ تعلیم پروفیسر سعید عثمانی کہتے ہیںکہ جب تک محکمہ تعلیم کو محض پیسے کمانے کی وزارت سمجھا جائے گا صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔ خضر حبیب اور ان کے ساتھیوں نے ایک انتہائی مفید رپورٹ تیار کی ہے۔
اگر پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ تعلیم شہری کا حق ہے تو اس حق کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس رپورٹ کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ اراکین سندھ اسمبلی رپورٹ کا عرق ریزی سے جائزہ لیں اور سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا جائے۔ تعلیم ہر شہری کا حق ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25A اس حق کی توثیق کرتا ہے۔ حکومت سندھ اس آرٹیکل پر عملدرآمد کی پابند ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

The Sindh Institute of Urology and Transplantation (‘SIUT’)

The Sindh Institute of Urology and Transplantation (‘SIUT’)  is a dialysis & kidney transplant centre located in Pakistan. SIUT was founded by Dr. Adibul Hasan Rizvi and it is Pakistan’s largest kidney disease center, as well as Pakistan’s largest public sector health organisation. 
It began as a department of urology at the government-run Civil Hospital in 1970 and became autonomous in 1991. 10-12 transplants are performed weekly,  and in 2003 doctors at SIUT performed Pakistan’s first liver transplant.  In 2004, a child care unit was opened. All services provided by SIUT, including dialysis and transplantation, are provided free of cost.

رینجرز کو خصوصی اختیارات کے بغیر کراچی میں امن ناممکن

سندھ میں اپوزیشن جماعتوں اور گورنر عشرت العباد کے بعد کور کمانڈر کراچی لیفٹیٹننٹ جنرل نوید مختار نے بھی رینجرز اختیارات میں مشروط توسیع کی مخالفت کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن رینجرز کو دیےگئے خصوصی اختیارات سے ہی ممکن ہو سکے گا۔
کور کمانڈر لیفٹیٹننٹ جنرل نوید مختار نے جمعے کی صبح رینجرز ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران سے خطاب کیا۔
جنرل نوید مختار اس سے قبل بھی غیر روایتی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ رینجرز کے ترجمان نے ان کے دورے کے بعد چھ سطروں پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔
کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کا کہنا ہے کہ کراچی میں رینجرز کا دہشت گردی کے خلاف کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور شہر میں امن رینجرز کو دیےگئے خِصوصی اختیارات کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔
جنرل نوید مختار کے مطابق غیر یقینی حالات جرائم پیشہ عناصر کو تقویت دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ رینجرز کراچی کے عوام کو دہشت گردی کے خلاف تحفظ پہنچانے میں اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی تھی۔ جس کے بعد گورنر سندھ کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ کراچی آپریشن روکنے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
رینجرز نے پاکستان پیپلز پارٹی کےرہنما ڈاکٹر عاصم کو تین ماہ تک اپنی حراست میں رکھا
دوسری جانب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے رینجرز اختیارات میں توسیع کی مشروط قرارداد اور رائے کا اظہار کرنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج کیا، جس پر سپیکر نے اجلاس منگل تک ملتوی کر دیا ہے۔
رینجرز کے اختیارات میں مشروط توسیع کے معاملات نے ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ ایوان سے باہر بلدیاتی انتخابات میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف شدید تنقید کرتی رہی ہیں لیکن اب حکومت مخالف پیش قدمی میں ساتھ ساتھ نظر آ رہی ہیں۔
ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما خواجہ اظہار الحسن نے اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایم کیو ایم اختیارات میں توسیع کی مخالف نہیں ہے۔ دراصل وہ چاہتے ہیں کہ یہ اختیارات کراچی سے باہر پورے صوبے پر محیط ہوں۔
’جس طرح خیرپور میں انتخابات کے دوران تصادم ہوا، شکار پور میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا یا سانگھڑ میں دو روز قبل جو سیاسی کشیدگی کا واقعہ پیش آیا، ہم چاہتے ہیں کہ رینجرز کو اختیارات دیے جائیں اور آئینی و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔‘
تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ثمر علی خان کا کہنا تھا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کر رہے، اور جب عوام کے مفادات کے خلاف کوئی معاملہ آتا ہے تبھی وہ مخالفت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کورم پورا نہ ہونے کے باوجود سپیکر نے قرارداد منظور کر لی اور اس حد تک کے ووٹوں کی گنتی تک نہیں کی گئی تھی جو قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رکن شفیع جاموٹ نے ان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ جس طریقے سے اسمبلی چلائی جا رہی ہے وہ من مانی ہے جو جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق سپیکر غیر جانبدار نہیں رہے وہ اب اس عہدے کے اہل نہیں رہے۔
 
سندھ اسمبلی نے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں مشروط توسیع کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی ہے
اپوزیشن جماعتوں نے سپیکر آغا سراج درانی کے خلاف ایوان میں مذمتی قرار داد بھی جمع کرا دی ہے۔ خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تحریک عدم اعتماد لانے کا بھی راستہ موجود ہے۔
’ہم سپیکر اور وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پہلے انھیں مذمتی قرارداد کے ذریعے بات سمجھا دیں اگر سمجھ میں آیا تو ٹھیک ہے ورنہ دوسرے آپشن کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ 
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچ

کراچی ادبی کانفرنس : 2015ء…

 کراچی آرٹس کونسل کی آٹھویں سالانہ ادبی کانفرنس میں ہونا تھا جس کا وعدہ میں بہت پہلے سے برادرم احمد شاہ سے کر چکا تھا لیکن جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ 6 دسمبر کو اچانک میرے والد صاحب کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور یوں آیندہ دو تین دن صبح و شام کا پتہ ہی نہیں چل سکا‘ خدا خدا کر کے 9 دسمبر کو ان کی طبیعت اس قابل ہوئی کہ جسے خطرے سے باہر قرار دیا جا سکتا تھا ۔
 اگرچہ کمزوری اب بھی بلا کی تھی، ان کی اجازت اور بھائی احمد شا کے تقاضوں کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا کہ میں بھاگ کر اور کچھ نہیں تو حاضری ہی لگوا آؤں۔ آرٹ کونسل کی متعلقہ افسر عزیزہ روزینہ نے بہت تگ و دو کے بعد کسی نہ کسی طرح نئی بکنگ بھی کروا دی۔ ایئرپورٹ پر برادرم عباس تابش اور کویت والے خالد سجا دمل گئے جو آخری سیشن یعنی مشاعرے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ سو دھیان ہٹانے میں آسانی ہوگئی۔
پانچ بجے انور مسعود کے ساتھ ایک خصوصی سیشن تھا جس کی میزبانی مجھے کرنا تھی سو طے پایا کہ ہوٹل میں سامان رکھ کر اور انور مسعود کو ساتھ لے کر فوری طور پر کانفرنس ہال کا رخ کیا جائے۔ معلوم ہوا کہ مندوبین اور حاضرین، ہر اعتبار سے یہ کانفرنس زیادہ کامیاب اور پر ہجوم ہے جس کا بہت سا کریڈٹ یقینا ان تمام اداروں کو بھی جاتا ہے
 جنہوں نے کراچی شہر کا امن و امان بحال کرنے اور اس کی رونقیں لوٹانے میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن کراچی آرٹس کونسل کی ساری انتظامیہ اور منتخب نمایندے بالخصوص مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے نہ صرف بہت سے چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے اس کانفرنس کا انعقاد کیا بلکہ یہ کام ایسے معیاری اور منظم انداز میں کیا کہ بقول شخصے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔
یوں تو اطلاعات کے مطابق اس وقت تک کے تمام سیشن بہت کامیاب رہے تھے لیکن ان سب کا عمومی انداز سنجیدہ فکری اور علمی نوعیت کا تھا‘ اب آپ اسے انور مسعود کی غیر معمولی مقبولیت کہیے یا عمدہ اور معیاری تفریح کا کال یا پھر دونوں کہ اس سیشن میں حاضری کے اب تک کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے اور کرسیوں کے ساتھ ساتھ سیڑھیاں بھی بھر گئیں جس کا خوشگوار اثر بعد کے تمام سیشنز پر بھی پڑا‘ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کانفرنس کا احوال بہت اچھے انداز میں کور کیا جا چکا ہے او ر یقینا علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین نے سے فالو بھی کیا ہوگا 
اس لیے میں اس کی تفصیل میں جائے بغیر صرف ان قرار دادوں پر بات کروں گا جو افتتاحی اجلاس میں کونسل کے موجود ہ سیکریٹری اور سابق صدر احمد شاہ نے پڑھ کر سنائیں اور جن کو حاضرین نے پرجوش تالیوں کے ساتھ منظور بھی کیا البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ اس بار بھی حسب سابق اختتامی اجلاس میں مختلف حوالوں سے چنیدہ چند نمایندوں کو اسٹیج پر جگہ دی گئی تھی جنہوں نے مختصر الفاظ میں منتظمین کو اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ کچھ تجاویز بھی پیش کیں۔
اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے جن کے بارے میں احباب سے پتہ چلا کہ وہ آیندہ انتخابات میں کراچی آرٹس کونسل کے جنرل سیکریٹری کا انتخاب لڑ رہی ہیں اور یہ کہ احمد شاہ نے تقریباً دس برس تک صدر اور سیکریٹری کے کلیدی عہدوں پر شاندار کام کرنے کے بعد اب آیندہ الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے اور اب وہ ایک تجربہ کار بزرگ کی طرح نئی انتظامیہ کو رہنمائی اور مشاورت مہیا کریں گے اس شیشن کی صدارت آرٹس کونسل کے نائب صدر اور سینئر ادیب سحر انصاری صاحب نے کی جب کہ اختتامی کلمات تشکر برادرم اعجاز فاروقی نے ادا کیے
 جو بلاشبہ اب کئی حوالوں سے کراچی کی ثقافتی زندگی کے باقاعدہ نمایندہ اور ترجمان بن چکے ہیں۔ گفتگو کرنے والوں میں بھارت سے پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی‘ ڈاکٹر عبدالکلام قاسمی‘ عبید صدیقی اور انیس اشفاق برطانیہ سے ان کانفرنسوں کی مستقل رونق رضا علی عابدی اور میزبان ملک کی کی طرف سے میری یادداشت کے مطابق صاحب صدر کے علاوہ ڈاکٹر پیر زاد ہ قاسم‘ انور مسعود‘ افتخار عارف‘ فرہاد زیدی‘ کشور ناہید اور یہ خاکسار شامل تھے ان قراردادوں اور سفارشات کی جس خوبی نے مجھے بہت متاثر کیا وہ ان کی سنجیدگی‘ اہمیت‘ گہرائی اور بالخصوص وہ وسیع النظری تھی جس میں اردو کو صرف ان لوگوں تک محدود نہیں رکھا گیا تھا جن کی یہ مادری زبان ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کی لسانی‘ تعلیمی‘ سیاسی‘ عملی اور بین الاقوامی مسائل اور ان کے متعلقہ پہلوؤں پر بھی بھرپور توجہ دی گئی جو میرے نزدیک اس طرح کی کانفرنسوں کا اصل اور ماحصل ہونا چاہیے۔
مثال کے طور پر تعلیم کے حوالے سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ابتدائی تعلیم صرف مادری یا قومی زبان میں دی جائے اور ملک کے تمام صوبوں اور اسکولوں میں ایک ہی نصاب تعلیم پڑھایا جائے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ درسی کتابوں میں شامل اسباق میں تو حسب ضرورت فرق روا رکھا جا سکتا ہے مگر یہ تمام اسباق ایک ہی طے شدہ نصاب تعلیم کے مطابق ہونے چاہئیں تا کہ ہماری آیندہ نسلیں انگریزی میں جدید علوم پڑھنے سے قبل زبان و ادب تاریخ و تہذیب اور بنیادی علوم کے حوالے سے یکساں نوعیت کی معلومات سے بہر ہ مند ہوں اور زندگی کے بارے میں ان کے بنیادی تصورات واضح بھی ہوں اور مشترک بھی۔
اسی طرح لائبریریوں کے فروغ‘ میڈیا چینلز میں استعمال ہونے والی زبان کی صحت‘ کاغذ اور کتابوں کی مہنگائی‘ اردو رسم الخط سے نئی نسل کی دوری کے اسباب اور ان کے سدباب اور بک پوسٹ پر ڈاک کے انتہائی بھاری اخراجات کے ضمن میں بھی بہت عمدہ اور دور رس سفارشات سامنے آئیں۔ انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے پاکستان اور ترقی یافتہ دنیا کے باہمی تعلقات اور سیاسی حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل کشیدگی‘ دونوں ملکوں کی ویزا پالیسیز اور باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔ احمد شاہ نے اس بات کی طرف خاص طور پر اشارہ کیا کہ جتنے بھی بھارتی مندوب اس کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں سب کو دلی کے پاکستانی سفارت خانے نے ہر ممکن مدد فراہم کی ہے اور اسی رویے کی ہم پاکستان میں قائم بھارتی سفارت خانے سے بھی توقع رکھتے ہیں۔
مشاعرہ اس کانفرنس کی آخری تقریب تھا جس میں 30سے زیادہ شاعروں نے اپنا کلام سنایا نظامت سردار خان اور عزیزہ عنبرین حسیب نے کی جب کہ بھارت سے آئے ہوئے مہمان شاعروں میں عبید صدیقی انیس اشفاق ‘ فرحت احساس اشوک  صاحب اور رنجیت چوہان شامل تھے صبح 3 بجے تک یہ محفل جاری رہی اور بیشتر سامعین نے اسے آخر تک سنا۔
امجد اسلام امجد

عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ

سندھ کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ یہاں اسلام کے ابتدائی دور سے بلخ و بخارا، قندھار و بدخشاں سے لاکھوں فرزندان اسلام اور ہزاروں صوفیائے کرام وارد ہوتے رہے، انھوں نے نہ صرف اس خوب صورت خطہ ارض کو اپنا مسکن بنایا بلکہ توحید اور تبلیغ کی مشعلیں روشن کر کے لاکھوں افراد کو حلقہ بگوش اسلام کیا، یہ سلسلہ سندھ میں محمد بن قاسم کی سندھ آمد 712ء سے شروع ہوا اور کئی صدیوں تک مسلسل جاری رہا، ہندوستان میں اسلام کی داغ بیل سب سے پہلے سندھ کی سرزمین پر پڑی اور پھر رفتہ رفتہ دین اسلام ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلتا چلا گیا اور سندھ کو باب الاسلام کا شرف حاصل ہوا، اسی وادیٔ مہران نے ایک عظیم صوفی شاعر کو بھی جنم دیا جس کو دنیا شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے نام سے جانتی ہے۔
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ سندھ کے قصبے ہالا حویلی میں 1102ھ بمطابق 1689ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شاہ حبیب تھا جب کہ آپ کے دادا سندھ میں شاہ کریم بلڑی والے کے نام سے مشہور تھے۔ شاہ لطیفؒ کے بارے میں اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ آپ نے باقاعدہ کسی مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن آپ کی شاعری اور کلام دیکھ کر اس بات کا کہیں سے بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ ان پڑھ تھے آپ کو عربی، فارسی، ہندی اور سندھی زبان پر خاص عبور حاصل تھا۔
شاہ لطیفؒ کی شاعری کا مجموعہ ’’شاہ جو رسالو‘‘ کے نام سے معروف ہے سندھ کے معروف شعرا شیخ ایاز اور آغا سلیم نے شاہ جو رسالو کے منظوم تراجم کیے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ادب کی گہری تخیلاتی دنیا میں سندھی زبان نے اگر کوئی کلاسیکیت پیدا کی ہے تو وہ ان کی تصوف پر مبنی نظمیں ہیں جن کا مجموعہ ’’شاہ جو رسالو‘‘ ہے۔
ایک مرتبہ جرمن اسکالر اور ماہر لسانیات ڈاکٹر این میری شمل نے کہا تھا کہ انگریزی کلاسیکی شاعری کی بہت بڑی شخصیات کو میں نے پڑھا ہے وہ لوگ کسی طرح لطیفؒ سے بڑے کلاسیکل شاعر نہیں ہیں اور ڈاکٹر شمل نے کہا تھا کہ سندھی سیکھنے کی میری سب سے بڑی وجہ لطیف کو سمجھنا تھا مگر شاہ لطیفؒ کے ساتھ ستم یہ ہوا کہ ان کی زبان صرف وہ سمجھتے ہیں جنھیں سندھی پر پورا عبور ہو، عام سندھی بول چال میں لطیفؒ کی زبان مفقود ہے۔ آپ نے جو کچھ حاصل کیا وہ اپنے ذاتی شوق، ذاتی لگن اور ذاتی کاوش سے حاصل کیا اور قرآن حکیم، مثنوی مولانا روم اور شاہ کریم کے ابیات کو ہمیشہ اپنے زیر مطالعہ رکھا۔
آغاز جوانی ہی میں جب آپ کی عمر تقریباً 20 سال بھی تو شاہ سائیں کو کوٹری کے مغل نواب مرزا مغل بیگ کی بیٹی سیدہ بیگم سے عشق ہو گیا اور آپ اس عشق میں گرفتار ہو کر معرفت الٰہی تک جا پہنچے اور اپنی محبوبہ کو پانے کی جستجو میں مگن رہنے لگے، اپنے عشق کو پانے کی تڑپ نے انھیں جوگی بنا دیا، انھوں نے گہرے پیلے رنگ کا لباس پہننا شروع کر دیا، ایک چھڑی اٹھا لی، صندل کی لکڑی سے بنا ایک پیالہ کھانے اور شفاف پتھر سے بنا دوسرا پیالہ پینے کے لیے ساتھ لیا اور جنگل کی جانب نکل گئے۔
یہ واقعی ان کی کرامت ہے کہ 43 برس کی بقیہ زندگی میں یہی دونوں پیالے اور چھڑی ان کے ساتھ رہے، نہ ٹوٹے اور نہ گم ہوئے، یہ چیزیں آج بھی ان کے مزار پر موجود ہیں۔ اس زمانے میں ان کی ملاقات مخدوم محمد حسین شاہ سے ہوئی۔ انھوں نے اپنی روحانی قوت سے شاہ سائیں کے دل و دماغ کو ریاضت کی بھٹی میں تپا کے سونا بنا دیا۔ دل کا درد، عشق کی تڑپ، چاہت کا سیل بے کراں، فراق کی مجبوریاں، سفر کی صعوبتیں، یہ سارے تجربے اور تمام دکھ درد ان کی شاعری میں ڈھل گئے تھے اور انھوں نے اس درد اور تڑپ کو سسی، مومل اور ماروی کی داستان میں سمو کر اہل دل کے سامنے پیش کر دیا۔
شاہ لطیفؒ نے کوٹری سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر ریت کے ایک ٹیلے کو اپنا مسکن بنایا چونکہ ریت کے ٹیلے کو سندھی میں بھٹ کہتے ہیں اس لیے آپ سائیں عبداللطیف بھٹائیؒ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ سائیں لطیف وڈیروں، جاگیرداروں اور نوابوں سے دور بھوکے اور مظلوم عوام کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کا سارا دکھ درد شاہ کے کلام میں نظر آتا ہے، شاہ لطیف نے بیشمار سُر اور تال ایجاد کیے وہ امیر خسروؒ کے بعد سُروں کے سب سے بڑے موجد ہیں اور ان کو بجا طور پر سندھی زبان و ادب کا امیر خسروؒ کہا جا سکتا ہے۔
شاہ لطیفؒ کی شاعری عشق حقیقی کا مظہر اور معرفت الٰہی کا بہترین نمونہ ہے آپ نے اپنی شاعری میں وحدانیت و محبت کا عظیم درس دیا ہے۔
شاہ لطیفؒ کا ’’سرسری راگ‘‘ سندھ کی سیاست پر مبنی اس وقت کے اور آج کے سیاسی حالات کا حقیقی عکس نظر آتا ہے، شاہ لطیفؒ اپنے عہد میں انگریزوں کی آمد اور ان کے خطرناک عزائم کی نشاندہی اپنی شاعری میں بیان کرتے رہے، شاہ لطیفؒ نے اپنی شاعری میں سندھ کی دھرتی کو کشتی سے تشبیہہ دی ہے، سندھ کے حکمرانوں کو اپنے استعارے کی زبان میں اس بات کی تلقین کی ہے کہ اگر سمندر کی موجوں سے اس کشتی کو محفوظ رکھنا اور بچانا ہے تو ان باتوں کا خیال ضرور رکھنا کہ یہ کشتی پرانی ہو چکی ہے، سمندر کی تیز و تند موجوں کا اب یہ کشتی مقابلہ نہیں کر سکتی، کشتی کی پچھلی طرف سے چور داخل ہو رہے ہیں لہٰذا غفلت کی نیند سے جاگنا اور کشتی کو بچانا ضروری ہے۔
شاہ لطیفؒ کی شاعری کا پیغام اس بات کی بھرپور ترجمانی کر رہا ہے کہ شاہ صاحب کی دوربین نگاہوں نے سندھ کے مستقبل کا مشاہدہ کر لیا تھا اور سندھ کے آنے والے حالات سے پیشگی طور پر آگاہ کر رہے تھے سندھ جو امن و آشتی کی دھرتی ہے، اس دھرتی پر گزشتہ کئی برس پہلے انسان، انسان کا دشمن اور خون کا پیاسا ہو گیا تھا، روئے زمین پر جب انسان پر حیوانیت غالب آ جائے اور انسانیت محو خواب ہو تو ایسے موقعے پر شاہ لطیفؒ کے نزدیک اس کی اصلاح کی اشد ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ ضمیر کا جاگنا نہایت ضروری ہے اور عقل و شعور کے خنجر سے ہی انسانی ذہن و فکر میں جو حیوانیت کے خونخوار جراثیم پرورش پاتے ہیں ان کو کاٹا اور ختم کیا جا سکتا ہے۔
شاہ لطیفؒ کا یہی آفاقی پیغام دراصل مظلوم، ستم خوردہ، غریب و بے کس انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہے، شاہ صاحب کی شاعری کا کمال ہے کہ وہ فن کی اتنی اعلیٰ و ارفع رفعتوں پر فائز ہیں کہ صدیاں بیت جانے کے باوجود آپ کی شاعری کے ذوق و شوق میں کسی درجہ کوئی فرق نہیں آیا۔شاہ لطیفؒ کی شاعری کے بول الفاظ کے بجائے ایک اسپرٹ ایک روح اور غضب کے جادو کا مقام رکھتے ہیں، 
شاہ صاحب نے 18 ویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کی سیاست، سلطنت مغلیہ کے زوال اور سندھ کی چھوٹی چھوٹی بنتی اور بگڑتی ہوئی حکومت کے اثرات سے دوچار ہونے والے عوام کو سہارا دے کر ایک نئی زندگی کی نوید سنائی، شاہ صاحب نے اس بات کا شعور اور درس عام کیا کہ سکون قلب دولت کی ریل پیل اور عیش و آرام کی فراوانی میں نہیں ہے بلکہ سکون خاطر تو ذکر الٰہی سے ملتا ہے۔ شاہ صاحبؒ کے دور میں خاندان مغلیہ کا سورج غروب ہونے کو تھا اور سندھ میں کلہوڑو خاندان کے حکمرانوں کا آنا یقینی ہو چلا تھا، آپؒ نے خود اپنی دوررس نگاہوں سے سلطنت دہلی کے اقتدار کے ہچکولے کھاتے اور ڈوبتے عبرتناک منظر نامے کو دیکھ لیا تھا۔
شاہ صاحب کے نواب مرزا مغل بیگ کی بیٹی سے عشق اور اظہار کے بعد نواب سے تعلقات خاصے کشیدہ ہو گئے تھے اور نواب نے اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ خود شاہ صاحب کے لیے کوٹری میں رکنا مشکل ہو گیا تھا اور وہ ہالا چلے آئے تھے تاہم خدا کا کرنا یہ ہوا کہ نواب کی حویلی پر حملہ ہوا، سارے مرد مارے گئے صرف ایک لڑکا اور چند خواتین باقی بچیں۔ نواب خاندان نے اسے شاہ حبیب کا مدعا سمجھا، خواتین شاہ کے پاس آئیں، معافی مانگی اور ہمارے اس عظیم صوفی شاعر کی مطلوب و محبوب لڑکی نکاح میں دے دی۔
آپ کی شاعری میں اسلامی تعلیمات پر مبنی امن و محبت اور انسان دوستی کا لازوال آفاقی پیغام پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری ’’قومی ورثہ‘‘ کا درجہ رکھتی ہے، آپ کے عارفانہ اور صوفیانہ طرز کلام میں انسانوں خصوصاً سندھ کی عوام کے لیے امن و سلامتی، بہادری، جرأت اور انسان دوستی کا وہ واضح پیغام ہے جس نے شاہ صاحب کو نہ صرف سندھ بلکہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید کر دیا ہے آپ 1165ھ بمطابق 1755 عیسویں 63 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، ہر سال 14 صفر کو بھٹ شاہ میں آپؒ کا سالانہ عرس بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی