کراچی اب بے خوف ہے

کتابوں میں پڑھا ہے اور فلموں میں اس وقت کو دیکھا ہے جب انسان اپنی طاقت کی ’طاقت‘ سے زندہ رہتے تھے اور کمزور ان طاقت وروں کی نوکری بلکہ غلامی کیا کرتے تھے۔ کوئی قانون قاعدہ نہیں تھا ‘کوئی عدالت نہیں تھی اور مجرم کو پکڑنے والی پولیس نہیں تھی اور انسان صرف اپنی طاقت کی طاقت سے ہی زندہ اور باقی رہتا تھا ورنہ وہ مرتا رہتا تھا یعنی مر مر کے جیا کرتا تھا۔

یہ ایک طویل داستان ہے کہ حالات کے مارے ہوئے انسان کی قسمت بھی جاگ اٹھی اور کچھ انسان ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنی جنس کی یہ حالت دیکھ کر اسے بدلنے کی کوشش کی اور پھر رفتہ رفتہ انسانی زندگی نے یہ چلن اختیار کیا جو اب ہے یعنی پولیس سے لے کر عدالتوں تک اور زندگی کے ایک قانون تک جس کے مطابق انسانوں نے زندہ رہنا سیکھا۔ خود بھی زندہ رہنا اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کا موقع دینا۔
انسان نے بے شمار دکھ سہنے کے بعد یہ منظم زندگی اختیار کی لیکن تعجب ہے کہ انسان کبھی کبھار کسی معاشرتی ضرورت یا اندر کی وحشت سے مغلوب ہو کر کسی حد تک اسی پرانی زندگی کی عادات کی طرف لوٹ جاتا ہے جن سے نجات پانے کی اس نے شعوری کوشش کی تھی اور کامیاب بھی رہا تھا آج ہم یہی پرامن اور ایک باقاعدہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم معاشرتی نظم و ضبط کے لیے کوئی مشکل کھڑی کر دیتے ہیں۔
یہ باتیں مجھے کراچی کے بارے میں ہمارے سب سے طاقت ور شخص جنرل راحیل شریف کے ایک بیان سے یاد آئی ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور کراچی کے شہریوں کو بے خوف کر دیں گے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ ایک چھوٹا پاکستان ہے جس میں ملک کے ہر حصے کے شہری آباد ہیں‘ ہر برادری اور ہر شعبے کے پاکستانی یہاں زندگی کر رہے ہیں۔ کوئی ملازمت کرتا ہے تو کوئی کسی کاروبار میں مصروف ہے۔ اسلام آباد بن جانے کے بعد اس شہر کے کچھ امتیازی ادارے یہاں سے اسلام آباد منتقل ہو گئے ہیں مثلاً سفارت خانے اور سفارتی دفاتر جو کراچی میں تھے اسلام آباد چلے گئے کہ ملک کا مرکزی شہر اور دارالحکومت اسلام آباد بنا دیا گیا‘ اس طرح کراچی کی سیاسی حیثیت میں کمی آ گئی مگر اس کی دوسری کئی حیثیتیں برقرار رہیں۔

ملک کی بندرگاہ اسی شہر میں ہے اور کاروباری مرکز ہے۔ صنعتیں بھی زیادہ تر یہیں ہیں غرض ملک کے باقی حصوں میں کراچی سے مانگے تانگے کے کچھ ادارے اور مراکز موجود ہیں مثلاً فیصل آباد میں کپڑے کا کام سب سے زیادہ ہوتا ہے اسی طرح کسی دوسرے شہر میں زندگی کے کسی شعبے کی مرکزیت زیادہ ہو گی لیکن کچھ بھی ہو کراچی ہی سب سے اہم شہر ہے اور پورے ملک کا کاروبار کراچی کے راستے سے چلتا ہے۔

آزادی کے بعد جب آبادی کی نقل و حرکت شروع ہوئی تو بھارت سے ایک بڑی تعداد کراچی منتقل ہو گئی خصوصاً یوپی وغیرہ جن کی زبان بولنے والے کراچی میں بہت تھے یا ان کی مسلسل آمد کی وجہ سے بہت ہو گئے تھے۔ کراچی صوبہ سندھ کا شہر اور صوبائی مرکز تھا لیکن اس نقل مکانی کی وجہ سے اس کی زبان بھی اردو ہی ہو گئی اور ظاہر ہے کہ اردو بولنے والے بھی زیادہ ہو گئے۔ کراچی سندھ کا بڑا شہر بن گیا لیکن بدامنی کراچی میں بہت کم رہی۔ کاروبار کی وجہ سے یہاں جب سرمایہ بڑھ گیا تو اس کی وجہ سے تاجروں اور کاروباری لوگوں کو لوٹنے والے بھی پیدا ہو گئے پھر بات بڑھتی گئی اور اتنی زیادہ کہ قتل و خونریزی میں بھی یہ شہر بڑھتا گیا اور بوری بند لاشیں ملنی شروع ہو گئیں۔
کراچی کی بدامنی اتنی بڑھ گئی کہ فوج کو اپنے امن کے دستوں کی مدد سے کام لینا پڑا اور اس شہر میں امن قائم کرنے کے لیے رینجرز کو اپنے معمول سے ہٹ کر کام کرنا پڑا۔ اس کے اندازے کے لیے کراچی کے مسائل پر ایک اجلاس کے بارے میں جنرل راحیل کا بیان کافی ہے وہ بتاتے ہیں کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے اور ان کا انفراسٹرکچر ختم کر دیا ہے۔ کراچی سے باہر بھی ان کے ٹھکانوں اور رابطوں کو توڑا گیا ہے۔ خفیہ آپریشن کے دوران بڑی بڑی کامیابیاں ہوئیں۔ جنرل نے اعلان کیا کہ وہ کراچی والوں کو بے خوف بنائیں گے اور اس ضمن میں امن و امان قائم کرنے والے تمام اداروں سے کام لیں گے۔
کراچی سے جو غیر سرکاری اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر پھر سے انسانوں کی رہائش کے قابل ہو گیا ہے اور بدامنی کی زبردست لہر اب ٹوٹ چکی ہے اور دہشت گردی اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ کراچی کے شہری اپنی روز مرہ کی مصروفیات میں لگے ہوتے ہیں اور شہریوں کے دلوں سے خوف ختم ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے۔ یہی وہ خوف و ہراس تھا جس نے اس شہر کی روایتی زندگی اس سے چھین لی تھی اور فوج کا یہی ایک بڑا کارنامہ ہے کہ خوف کی فضا ختم کی گئی ہے۔ اب کراچی بدل چکا ہے اور بے خوف ہے۔
عبدالقادر حسن

Advertisements

چنگ چی رکشہ مسئلے کا حل نہیں

سپریم کورٹ نے چین کے تیار کردہ چنگ چی رکشہ پر عائد پابندی ختم کر دی، مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں چاروں صوبوں کو ہدایت کی کہ ان رکشاؤں کو سیفٹی قوانین کے مطابق سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔ جو رکشہ ان قوانین پر پورا نہ اترے اسے سڑکوں پر دوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے۔

کراچی پولیس نے گزشتہ سال چنگ چی رکشہ میں مسافروں کو بٹھانے پر پابندی عائد کر دی تھی جس کی بنا پر 2 لاکھ کے قریب رکشے سڑکوں سے ہٹائے گئے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی پولیس کی پابندی کے فیصلے کی توثیق کر دی تھی، اس طرح معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود چنگ چی رکشے سڑکوں پر نہیں آ سکے۔ کراچی پولیس حکام کہتے ہیں کہ ان رکشوں کی جانچ پڑتال کے بعد سرٹیفکیٹ جاری ہوں گے۔
کراچی جہاں بسیں سڑکوں پر موجود نہیں ہیں یہ رکشہ عام آدمی کے لیے ایک نعمت کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ چین نے چنگ چی رکشہ مال برداری کے لیے تیار کیے تھے، یہ رکشہ منی ٹرک کا کام دیتے ہیں۔ پاکستان میں جب یہ رکشہ درآمد ہوئے تو انھیں مال برداری کے کام کے لیے استعمال ہونا تھا مگر پھر ماہر کاریگروں نے ان رکشوں کو پبلک ٹرانسپورٹ میں تبدیل کر لیا۔

پاکستان میں گزشتہ عشروں کے دوران موٹر سائیکل کی صنعت نے خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ چین اور جاپان کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اب موٹر سائیکلیں ملک میں تیار ہوتی ہیں اور ان کی قیمت بھی کم ہے۔ اسی بناء پر مقامی کاریگروں نے ان موٹر سائیکلوں کو چنگ چی رکشہ بنانے میں مہارت سے استعمال کیا۔ یہ رکشہ شہروں اور دیہاتوں میں سڑکوں پر دوڑنے لگے۔

کراچی میں اس صدی کے آغاز کے ساتھ ہی پبلک ٹرانسپورٹ سکڑنا شروع ہو گئی تھی۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے پبلک ٹرانسپورٹ کا شعبہ براہ راست متاثر ہوا تھا۔ شہر میں یہ روایت تھی کہ ہنگاموں اور حادثات کے دوران بسوں کو نذر آتش کیا جاتا تھا جس کی بناء پر پرانے ٹرانسپورٹر بسوں پر سرمایہ کاری سے گریز کرنے لگے تھے، مگر اس صدی کے آغاز کے بعد بس مالکان سے بھتہ وصول کرنے، تاوان کے لیے اغوا کرنے اور مسافروں سے بھری بسوں کو یرغمال بنا کر مسافروں کو لوٹنے کی وارداتوں میں تشویش ناک اضافے کی بنا پر نئی بسوں پر سرمایہ کاری رک گئی تھی۔
بسوں میں لوٹ مار کے جدید طریقوں کے ذریعے مسافروں سے رقم اور موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں اضافے سے مسافروں کی تعداد کم ہو گئی تھی۔ ہزاروں نوجوان مسافروں نے نئی موٹر سائیکلوں کے ذریعے سفر کرنے کو ترجیح دینی شروع کر دی تھی۔ اس طرح سڑکوں سے بسیں غائب ہونے لگیں۔ بسوں کے کم ہونے کا حکام نے کوئی نوٹس نہیں لیا، بلکہ ان بسوں کی جگہ چنگ چی رکشے نظر آنے لگے۔
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ناظم نعمت اﷲ خان نے اپنے دور میں بڑی بسوں کے چلانے کے معاملے پر توجہ دی۔ بینکوں کے قرضوں کے ذریعے رنگ برنگی بسیں سڑکوں پر نظر آئیں جن میں سے کچھ بسیں مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ تھیں اور آٹومیٹک لاک والی بسیں بھی سڑکوں پر نظر آنے لگیں۔ سابق وزیر ٹرانسپورٹ دوست محمد فیضی نے میٹرو بسیں کراچی میں شروع کرائیں۔ یہ میٹرو بسیں مضافاتی علاقوں سے شہر کی طرف آتی تھیں۔
یہ بسیں متوسط طبقے کے لیے مناسب کرائے کے ساتھ نشست پر بیٹھ کر سفر کرنے کی مناسب سواری تھیں مگر بینکوں کی لیز سے حاصل کی جانے والی بسیں جلد سڑکوں سے غائب ہو گئیں۔ اسی دوران سرکلر ریلوے تقریباً ختم ہو گئی۔ کراچی کے شہریوں کا پبلک ٹرانسپورٹ کی جدید سہولتوں کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ پھر اگلے ناظم مصطفیٰ کمال نے اپنے آخری دور میں گرین بس سروس شروع کرائی۔ ان بسوں کی نشستیں آرام دہ تھیں مگر یہ شہر کے مختصر حصے میں چلائی گئیں۔
ان بسوں کا انتظام سٹی گورنمنٹ کے پاس تھا۔ مصطفیٰ کمال کے رخصت ہوتے ہی سٹی گورنمنٹ کے عملے کی اس میں دلچسپی کم ہو گئی اور گرین بسیں اپنے ڈپو تک ہی محدود ہو گئیں۔ لہٰذا کراچی کے شہریوں کا سارا دارومدار چنگ چی رکشوں تک محدود ہو گیا۔ یہ چنگ چی رکشہ بغیر کسی پرمٹ کے بڑی اور چھوٹی سڑکوں پر نظر آنے لگے۔ کراچی میں ان رکشوں کو سرائیکی بیلٹ سے آنے والے نوجوان چلاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی عمریں 20 سے 25 سال ہیں۔ ان کے پاس کسی قسم کے لائسنس موجود نہیں ہیں۔ پولیس افسران کہتے ہیں کہ چوری کی موٹر سائیکل ان رکشوں میں استعمال ہو رہی ہے۔
پھر مسافروں کی صحت کے اعتبار سے بھی یہ رکشہ مناسب نہیں۔ ان رکشوں کے الٹنے اور مسافروں کے زخمی ہونے کے معاملات میں تیزی سے عام آدمی کے لیے سفر مشکل میں پڑ گیا۔ پولیس نے ان رکشوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقدامات کیے مگر شہر کے لیے ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر عملدرآمد پر زور نہیں دیا۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حکومتوں کی ترجیحات سے دور ہو گیا۔ اسی دوران لاہور میں میٹرو بس سروس چلنے لگی۔ پھر راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس کی سروس سے غریبوں اور افسروں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ ہی لاہور میں اورنج ٹرین کا منصوبہ شروع ہو گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری کا توسیعی حصہ لاہور میں اورنج ٹرین کی صورت میں ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں سہراب گوٹھ سے ٹاور تک میٹرو طرز کی بسیں چلانے کا اعلان کیا تھا۔ سابق صدر آصف زرداری کی ہدایت پر سندھ گورنمنٹ نے شاہراہ فیصل پر بھی اسی طرح کی بسیں چلانے کا عزم کیا تھا اور اخبارات میں ان دونوں منصوبوں کے لیے خطیر رقم مختص کرنے کی خبریں بھی شایع ہوئی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پروجیکٹ صرف فائلوں تک محدود ہو گئے۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نہ ہونے کے بے تحاشا نقصانات ہیں۔
موٹر سائیکل سواروں کی حادثات میں ہلاکت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ غریب طبقے کے لیے سی این جی بند ہونے کی صورت میں کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں ہوتا۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی بنا پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر بڑھنے کی وجہ سے آئے دن ٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کا ضیاع، فضائی آلودگی میں اضافہ اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
جب پولیس امن و امان کی وجہ سے موٹر سائیکلوں پر ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتی ہے تو پھر شہریوں کے لیے اپنے روزگار پر پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کراچی کے شہری یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ انھیں پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ چنگ چی رکشہ کسی صورت بھی پبلک ٹرانسپورٹ کی تعریف میں نہیں آتے لیکن کراچی کو زیر زمین ٹرین، جدید ٹرام اور بڑی بسوں کی اشد ضرورت ہے۔ کیا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کراچی کے عوام کی داد رسی کر سکے گا؟ یہ سوال چنگ چی رکشہ میں بیٹھنے والے ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لیاری میں وفا کے موتی

فیض صاحب نے کہا تھا۔
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
نہ معلوم کیوں مجھے یہ غم آج ستا رہا ہے کہ فیض صاحب نے یہ شعر خاص لیاری والوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے کہا ہے اور اس شعر میں لیاری کی محرومیوں کی داستان چھپی ہوئی ہے۔
لیاری کے محنت کشوں اور طالب علموں سے فیض کی جذباتی وابستگی اور تعلیم دوستی ہارون کالج(کھڈہ) کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالنے سے ہوئی تھی ، جب لیاری کے نوجوانوں نے 70 کی دھائی میں کالج کے سالانہ جشن طلبا کی تقریبات کے دوران ڈراما ’’سستا جیون مہنگی موت‘‘سٹیج کیا تو وہ نہ صرف ریہرسل دیکھنے آئے بلکہ انھوں نے ڈاکٹر ایم آر حسان کے ہمراہ ڈرامہ بھی دیکھا۔آج کسی کے پاس ناموں کی وہ کہکشاں نہیں ہے جنہوں نے فیض صاحب کے زیر سایہ آگے جاکر زندگی کے مختلف شعبوں میں نام پیدا کیا۔
اس حوالے سے آج صورتحال بدلی ہوئی ہے، میڈیا لاکھ دل مردہ کو سمجھائے کہ گینگ وارکمانڈروں کی ستائی اور مقدر کی ماری لیاری نے فیض صاحب کے بعد اب دوسرا جنم لیا ہے ، اس کے وجود سے چمٹی غربت اور لاچارگی کی ساری تاریک راہوں میں امیدوں کے نئے چراغ جل اٹھے ہیں، دہشت گردی کی طرح گینگ وار کو دفن کردیا گیا ہے، کچھ کچھ سچ بھی ہے مگر گھروں پرکیا گزری جن کے بچے گینگ وار کارندے نہ ہوتے ہوئے بھی موت کے گھاٹ اتارے گئے، ساری باتیں چھوڑیئے وہ دوکم عمر طالب علم جو صدر پینوراما سینٹر کے سامنے سے موٹر سائیکل پر گزر رہے تھے کہ قانون کے محافظوں کے اشارے پر نہں رکے جس پر انھیں گولیاں ماری گئیں، ایک طالب علم معذور جب کہ دوسرے کا جسم چھلنی ہوگیا۔
دونوں خوبصورت نوجوان ہیں، ان کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہ تھا، میں ان کے دینی گھرانے کا عینی شاہد ہوں ،ان طالب علموں میں سے ایک کی ماں اس سانحہ کا سن کر سکتے میں آگئیں اور کچھ دن بعد ان کا انتقال ہوگیا، ان دنوں دونوں طالب علموں پر موت کی تلوار لٹک رہی ہے اور یہیں مجھے فیض صاحب کی آہٹ محسوس ہوئی جب وہ کہتے ہیں ’’ بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے‘‘ کئی نوجوان مخبروں کے کہے پر ناحق مارے گئے، سیکڑوں کرمنل اور نان کرمنل گینگ وار کارندوں نے خود گھروں میں گھس کر یا بیچ سڑک پر زندہ مار دیے یا جلا دیے، یہ اس لیاری کا ذکر ہے جہاں کسی کی بلی مرجاتی تو لوگ اس کی تدفین کرتے تھے کائے بے زبان کو ماردیا۔ ہائے ہائے۔
گینگ وار کی مسلط کردہ بربادی ایک طلسماتی کہانی، دیو مالائی داستان تھی یا سیاسی صنم کدے کے بڑے بتوں کی سیاسی لڑائی کا شاخسانہ تھا کہ ایک پر امن بستی بے دردی سے اجاڑ دی گئی۔ کوئی شک نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ رینجرز کی کارروائی سے امن قائم ہوا ہے، لیکن کیوں پولیس کارروائی ناکام ہوئی، اسلم چوہدری کا کئی روز کا چیل چوک آپریشن سنجیدہ آپریشن تھا یا کیموفلاج ۔اس دن کے بعد سے رینجرز اور پولیس کی تفریق اور تقسیم کی میڈیا میں واضح طور پر تشہیر ہوئی، کیا قیامت خیز سوال ہے کہ لیاری کے چار تھانے(بغدادی ، کلری  چاکیواڑہ اورکلاکوٹ) کیا کرتے رہے؟
زبردست نفری ، رینجرز اور انٹیلی جنس کا ابتدائی فعال نیٹ ورک، مگر دس سال تک لیاری میدان جنگ بنا رہا، کیوں اور کیسے؟ پی پی کا سیاسی قلعہ مسمار ہوا۔ بابو اقبال ڈکیت کی موت کے بعد سے لے کر سردار رحمٰن اور سردار عزیرکی سلطنت کے قیام تک اہل لیاری پر جو بیتی وہ بھی ایک کمیشن برائے انصاف و مفاہمت کی متقاضی تھی جس کی کمی رینجرز نے پوری کی، وہ رینجرز جسے ابتدا میں بوجوہ بے اختیار رکھا گیا۔ اسی عرصے میں ذوالفقار مرزا نازل ہوئے اور لیاری کا جنازہ نکال کر چلے گئے۔
بہر حال یہ رینجرز کا لیاری پر احسان ہے، رینجرز نے نوجوانوں کو زندگی کے متحرک اور پرامن دھارے میں شامل کرنے کے لیے اسپورٹس کے شعبوں کا دورازہ کھولا ہے، باکسنگ ،فٹ بال جس میں اسٹریٹ فٹ بال بھی شامل ہے، اس کی ترقی کے امکانات ہیں، رینجرز حکام تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی میں مدد دیتے ہیں، اب یہ کام حقیقت میں پی پی کے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی شاہجہاں بلوچ، جاوید ناگوری ، سمیعہ ناز ، عبدالمجید بلوچ سمیت اسلم سموں، خلیل ہوت اور دیگر جیالوں کا ہے وہ لیاری کی ترقی میں ساری سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملائیں، اور تعمیر کا ماسٹر پلان سامنے لائیں۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ بلاول بھٹو آصفہ اور بختاور کو ساتھ لائیں، اس ووٹ بینک کو مائی کولاچی کا روحانی اثاثہ سمجھیں، لیاری ایک وسیع المشرب اور کثیر اللسانی ٹاؤن ہے جس میں محبتوں کا زم زم حقیقی معنوں میں بہتا رہا ہے، جنہوں نے اسے زہر آب کیا وہ مکافات عمل سے نہیں بچنے چاہئیں۔ لیاری کے مذکورہ افراد سے وفا کی سب کو امید ہے، باکسنگ میں استاد اصغر بلوچ ، عابد حسین بروہی، فٹ بال میں ناصر جمال ، کپتان اقبال بلوچ ، حسین بخش، انجینیئر امام بخش، علی نواز ، مولا بخش گوٹائی اور سرور جیسے سابق انٹرنیشنل فٹ بالرزکی رہنمائی درکار ہے۔
جاوید ناگوری آگے بڑھیں ، تمام سیاسی جماعتوں کی مدد حاصل کریں اس لیے کہ لیاری نے ہر زبان و ثقافت اور عقیدہ کے انسانوں کا چمن سجایا ہے یہاں کے لوگ پیار و محبت سے دلوں کو جیتتے ہیں، یہ الگ داستان ہے کہ گینگ وار کارندوں نے ہمیں محفل سے بے آبرو کر کے نکالا، لیکن لیاری کی محبت اتنی گہری    ہے کہ ’’دل بار بار کوئے ملامت کو جائے ہے۔‘‘اس روز دبئی سے ایک صحافی آئے تو کسی نے اطلاع دی کہ اماں زلیخا اور بابا رمضان کے ہاتھوں سے بھنے ہوئے سیخ کباب اور پکوڑوں نے ایک بار پھرگلیوں کی رونق بڑھائی ہے ، اماں حنیفہ کی دال اور ساگو دانے کی ملائی کے شوقین جوق در جوق فدا حسین شیخا روڈ پر آتے ہیں جہاں لطیف بلوچ کا اسکول ’گل نور‘ علم کا مینارہ نور بن کر تاریک راہوں میں روشنی پھیلا رہا ہے۔
کچھ سال پہلے اس اسکول کے سامنے گینگ وار کارندوں کا مجمع لگا رہتا تھا ، گلیوں کو بیرئیر لگا کر بند کردیا گیا تھا، کلری ، بغدادی تھانے سے چند قدم پر ٹارچر سیل قائم تھا، میں اس ٹارچر سیل کے سامنے رات گیارہ بجے ذلیل کیا گیا، لیاری کی دکانوں اور بس اڈوں سے بھتے لیے جاتے تھے، فشری کی بے زبان ماہی گیروں کی صاف ستھری کوآپریٹیو سوسائٹی بھی گینگ وار کی وارداتوں سے نہیں بچ سکی، مچھلی کے کئی تاجر لٹ گئے ، کئی بھتہ نہ دینے کے جرم میں بے رحمی سے مار دیے گئے، یہ صائب اقدام تھا جس کے تحت دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورک اور ملی بھگت کو توڑنے کے لیے مربوط کارروائی جاری ہے۔ اسی وجہ سے حاجی ولی اور ان کے ساتھیوں نے آخر کار سوسائٹی کو تباہی سے بچا لیا۔
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہونگے کہ علاقے کے محنت کش اور طالب علم آجکل بے خوف ہوکر گھر سے نکلتے ہیں، گینگ وار لارڈز بیرون ملک جاچکے ہیں، کچھ مارے گئے، بعض مناسب وقت کے لیے سیف ہیون میں اپنی تقدیرکے منتظر ہیں۔ کسی کو پتھروں پر چل کر کسی کے گھر نہیں جانا پڑتا، زندگی نئی کروٹ لے رہی ہے۔
رینجرز کے آپریشن سے حالات بدل گئے ہیں، زندگی نے نیا پیراہن زیب تن کیا ہے، مستقبل کے حسین خوب جو جرائم پیشہ گروہوں کے قدموں تلے روندے گئے وہ اب شاداب غنچوں کی طرح کھل اٹھے ہیں۔ ایک ریشمی بیانیہ ہے جسے امیدوں کے فلائی اورر پر سوتے ہوئے لیاری کے لوگ اپنے خوابوں میں دہراتے ہیں، لیکن وحشت کے مارے ہم جیسے نا سمجھ و کم علم لوگ جنہیں لیاری پر گزری ہارر فلم کے مناظر نے رنگ میں چاروں شانے چت گرے ہوئے باکسر کی صورت دیدہ عبرت نگاہ بنا دیا ہے ان پر تاحال حقائق کے ادراک اور نئی لیاری میں اٹھنے والی تخلیقی تڑپ کے پیغام کا ابلاغ نہیں ہورہا ۔
لیاری کے عوام کو نیلسن منڈیلا سے بہت پیار تھا، وہ ان کے آئیڈیل تھے، نون میم دانش جو لیاری کی کوکھ سے صنم آشنا ہوکر پیدا نہیں ہوئے بلکہ وہ حقیقت افروز شاعری اور تفکرانہ خیالات کے ذریعے اہل لیاری کو ایک حسیں مستقبل کے لیے تیار کرتے رہے مگر پھر وہ اور صبا دشتیاری دو الگ راہوں کے مسافر نکلے۔ایک دل شکستہ ہوکر امریکا سدھار گئے اور دوسرے نے سچ کا پیالہ پی کر بلوچستان میں موت کو گلے لگا لیا۔
نادر شاہ عادل

These Karachiites have a message for Sindh chief minister

Vehicles move past a graffiti, depicting the provincial chief executive with the message “Fix It!”, near an uncovered drain hole along a road in Karachi, Pakistan. According to local media, a group of activists launched an idea to promote a campaign-project to draw the attention of authorities towards civic issues by art, by spray painting stenciled images of lawmakers with messages.