کراچی اب بے خوف ہے

کتابوں میں پڑھا ہے اور فلموں میں اس وقت کو دیکھا ہے جب انسان اپنی طاقت کی ’طاقت‘ سے زندہ رہتے تھے اور کمزور ان طاقت وروں کی نوکری بلکہ غلامی کیا کرتے تھے۔ کوئی قانون قاعدہ نہیں تھا ‘کوئی عدالت نہیں تھی اور مجرم کو پکڑنے والی پولیس نہیں تھی اور انسان صرف اپنی طاقت کی طاقت سے ہی زندہ اور باقی رہتا تھا ورنہ وہ مرتا رہتا تھا یعنی مر مر کے جیا کرتا تھا۔

یہ ایک طویل داستان ہے کہ حالات کے مارے ہوئے انسان کی قسمت بھی جاگ اٹھی اور کچھ انسان ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنی جنس کی یہ حالت دیکھ کر اسے بدلنے کی کوشش کی اور پھر رفتہ رفتہ انسانی زندگی نے یہ چلن اختیار کیا جو اب ہے یعنی پولیس سے لے کر عدالتوں تک اور زندگی کے ایک قانون تک جس کے مطابق انسانوں نے زندہ رہنا سیکھا۔ خود بھی زندہ رہنا اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کا موقع دینا۔
انسان نے بے شمار دکھ سہنے کے بعد یہ منظم زندگی اختیار کی لیکن تعجب ہے کہ انسان کبھی کبھار کسی معاشرتی ضرورت یا اندر کی وحشت سے مغلوب ہو کر کسی حد تک اسی پرانی زندگی کی عادات کی طرف لوٹ جاتا ہے جن سے نجات پانے کی اس نے شعوری کوشش کی تھی اور کامیاب بھی رہا تھا آج ہم یہی پرامن اور ایک باقاعدہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم معاشرتی نظم و ضبط کے لیے کوئی مشکل کھڑی کر دیتے ہیں۔
یہ باتیں مجھے کراچی کے بارے میں ہمارے سب سے طاقت ور شخص جنرل راحیل شریف کے ایک بیان سے یاد آئی ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور کراچی کے شہریوں کو بے خوف کر دیں گے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ ایک چھوٹا پاکستان ہے جس میں ملک کے ہر حصے کے شہری آباد ہیں‘ ہر برادری اور ہر شعبے کے پاکستانی یہاں زندگی کر رہے ہیں۔ کوئی ملازمت کرتا ہے تو کوئی کسی کاروبار میں مصروف ہے۔ اسلام آباد بن جانے کے بعد اس شہر کے کچھ امتیازی ادارے یہاں سے اسلام آباد منتقل ہو گئے ہیں مثلاً سفارت خانے اور سفارتی دفاتر جو کراچی میں تھے اسلام آباد چلے گئے کہ ملک کا مرکزی شہر اور دارالحکومت اسلام آباد بنا دیا گیا‘ اس طرح کراچی کی سیاسی حیثیت میں کمی آ گئی مگر اس کی دوسری کئی حیثیتیں برقرار رہیں۔

ملک کی بندرگاہ اسی شہر میں ہے اور کاروباری مرکز ہے۔ صنعتیں بھی زیادہ تر یہیں ہیں غرض ملک کے باقی حصوں میں کراچی سے مانگے تانگے کے کچھ ادارے اور مراکز موجود ہیں مثلاً فیصل آباد میں کپڑے کا کام سب سے زیادہ ہوتا ہے اسی طرح کسی دوسرے شہر میں زندگی کے کسی شعبے کی مرکزیت زیادہ ہو گی لیکن کچھ بھی ہو کراچی ہی سب سے اہم شہر ہے اور پورے ملک کا کاروبار کراچی کے راستے سے چلتا ہے۔

آزادی کے بعد جب آبادی کی نقل و حرکت شروع ہوئی تو بھارت سے ایک بڑی تعداد کراچی منتقل ہو گئی خصوصاً یوپی وغیرہ جن کی زبان بولنے والے کراچی میں بہت تھے یا ان کی مسلسل آمد کی وجہ سے بہت ہو گئے تھے۔ کراچی صوبہ سندھ کا شہر اور صوبائی مرکز تھا لیکن اس نقل مکانی کی وجہ سے اس کی زبان بھی اردو ہی ہو گئی اور ظاہر ہے کہ اردو بولنے والے بھی زیادہ ہو گئے۔ کراچی سندھ کا بڑا شہر بن گیا لیکن بدامنی کراچی میں بہت کم رہی۔ کاروبار کی وجہ سے یہاں جب سرمایہ بڑھ گیا تو اس کی وجہ سے تاجروں اور کاروباری لوگوں کو لوٹنے والے بھی پیدا ہو گئے پھر بات بڑھتی گئی اور اتنی زیادہ کہ قتل و خونریزی میں بھی یہ شہر بڑھتا گیا اور بوری بند لاشیں ملنی شروع ہو گئیں۔
کراچی کی بدامنی اتنی بڑھ گئی کہ فوج کو اپنے امن کے دستوں کی مدد سے کام لینا پڑا اور اس شہر میں امن قائم کرنے کے لیے رینجرز کو اپنے معمول سے ہٹ کر کام کرنا پڑا۔ اس کے اندازے کے لیے کراچی کے مسائل پر ایک اجلاس کے بارے میں جنرل راحیل کا بیان کافی ہے وہ بتاتے ہیں کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے اور ان کا انفراسٹرکچر ختم کر دیا ہے۔ کراچی سے باہر بھی ان کے ٹھکانوں اور رابطوں کو توڑا گیا ہے۔ خفیہ آپریشن کے دوران بڑی بڑی کامیابیاں ہوئیں۔ جنرل نے اعلان کیا کہ وہ کراچی والوں کو بے خوف بنائیں گے اور اس ضمن میں امن و امان قائم کرنے والے تمام اداروں سے کام لیں گے۔
کراچی سے جو غیر سرکاری اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر پھر سے انسانوں کی رہائش کے قابل ہو گیا ہے اور بدامنی کی زبردست لہر اب ٹوٹ چکی ہے اور دہشت گردی اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ کراچی کے شہری اپنی روز مرہ کی مصروفیات میں لگے ہوتے ہیں اور شہریوں کے دلوں سے خوف ختم ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے۔ یہی وہ خوف و ہراس تھا جس نے اس شہر کی روایتی زندگی اس سے چھین لی تھی اور فوج کا یہی ایک بڑا کارنامہ ہے کہ خوف کی فضا ختم کی گئی ہے۔ اب کراچی بدل چکا ہے اور بے خوف ہے۔
عبدالقادر حسن

چنگ چی رکشہ مسئلے کا حل نہیں

سپریم کورٹ نے چین کے تیار کردہ چنگ چی رکشہ پر عائد پابندی ختم کر دی، مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں چاروں صوبوں کو ہدایت کی کہ ان رکشاؤں کو سیفٹی قوانین کے مطابق سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔ جو رکشہ ان قوانین پر پورا نہ اترے اسے سڑکوں پر دوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے۔

کراچی پولیس نے گزشتہ سال چنگ چی رکشہ میں مسافروں کو بٹھانے پر پابندی عائد کر دی تھی جس کی بنا پر 2 لاکھ کے قریب رکشے سڑکوں سے ہٹائے گئے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی پولیس کی پابندی کے فیصلے کی توثیق کر دی تھی، اس طرح معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود چنگ چی رکشے سڑکوں پر نہیں آ سکے۔ کراچی پولیس حکام کہتے ہیں کہ ان رکشوں کی جانچ پڑتال کے بعد سرٹیفکیٹ جاری ہوں گے۔
کراچی جہاں بسیں سڑکوں پر موجود نہیں ہیں یہ رکشہ عام آدمی کے لیے ایک نعمت کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ چین نے چنگ چی رکشہ مال برداری کے لیے تیار کیے تھے، یہ رکشہ منی ٹرک کا کام دیتے ہیں۔ پاکستان میں جب یہ رکشہ درآمد ہوئے تو انھیں مال برداری کے کام کے لیے استعمال ہونا تھا مگر پھر ماہر کاریگروں نے ان رکشوں کو پبلک ٹرانسپورٹ میں تبدیل کر لیا۔

پاکستان میں گزشتہ عشروں کے دوران موٹر سائیکل کی صنعت نے خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ چین اور جاپان کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اب موٹر سائیکلیں ملک میں تیار ہوتی ہیں اور ان کی قیمت بھی کم ہے۔ اسی بناء پر مقامی کاریگروں نے ان موٹر سائیکلوں کو چنگ چی رکشہ بنانے میں مہارت سے استعمال کیا۔ یہ رکشہ شہروں اور دیہاتوں میں سڑکوں پر دوڑنے لگے۔

کراچی میں اس صدی کے آغاز کے ساتھ ہی پبلک ٹرانسپورٹ سکڑنا شروع ہو گئی تھی۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے پبلک ٹرانسپورٹ کا شعبہ براہ راست متاثر ہوا تھا۔ شہر میں یہ روایت تھی کہ ہنگاموں اور حادثات کے دوران بسوں کو نذر آتش کیا جاتا تھا جس کی بناء پر پرانے ٹرانسپورٹر بسوں پر سرمایہ کاری سے گریز کرنے لگے تھے، مگر اس صدی کے آغاز کے بعد بس مالکان سے بھتہ وصول کرنے، تاوان کے لیے اغوا کرنے اور مسافروں سے بھری بسوں کو یرغمال بنا کر مسافروں کو لوٹنے کی وارداتوں میں تشویش ناک اضافے کی بنا پر نئی بسوں پر سرمایہ کاری رک گئی تھی۔
بسوں میں لوٹ مار کے جدید طریقوں کے ذریعے مسافروں سے رقم اور موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں اضافے سے مسافروں کی تعداد کم ہو گئی تھی۔ ہزاروں نوجوان مسافروں نے نئی موٹر سائیکلوں کے ذریعے سفر کرنے کو ترجیح دینی شروع کر دی تھی۔ اس طرح سڑکوں سے بسیں غائب ہونے لگیں۔ بسوں کے کم ہونے کا حکام نے کوئی نوٹس نہیں لیا، بلکہ ان بسوں کی جگہ چنگ چی رکشے نظر آنے لگے۔
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ناظم نعمت اﷲ خان نے اپنے دور میں بڑی بسوں کے چلانے کے معاملے پر توجہ دی۔ بینکوں کے قرضوں کے ذریعے رنگ برنگی بسیں سڑکوں پر نظر آئیں جن میں سے کچھ بسیں مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ تھیں اور آٹومیٹک لاک والی بسیں بھی سڑکوں پر نظر آنے لگیں۔ سابق وزیر ٹرانسپورٹ دوست محمد فیضی نے میٹرو بسیں کراچی میں شروع کرائیں۔ یہ میٹرو بسیں مضافاتی علاقوں سے شہر کی طرف آتی تھیں۔
یہ بسیں متوسط طبقے کے لیے مناسب کرائے کے ساتھ نشست پر بیٹھ کر سفر کرنے کی مناسب سواری تھیں مگر بینکوں کی لیز سے حاصل کی جانے والی بسیں جلد سڑکوں سے غائب ہو گئیں۔ اسی دوران سرکلر ریلوے تقریباً ختم ہو گئی۔ کراچی کے شہریوں کا پبلک ٹرانسپورٹ کی جدید سہولتوں کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ پھر اگلے ناظم مصطفیٰ کمال نے اپنے آخری دور میں گرین بس سروس شروع کرائی۔ ان بسوں کی نشستیں آرام دہ تھیں مگر یہ شہر کے مختصر حصے میں چلائی گئیں۔
ان بسوں کا انتظام سٹی گورنمنٹ کے پاس تھا۔ مصطفیٰ کمال کے رخصت ہوتے ہی سٹی گورنمنٹ کے عملے کی اس میں دلچسپی کم ہو گئی اور گرین بسیں اپنے ڈپو تک ہی محدود ہو گئیں۔ لہٰذا کراچی کے شہریوں کا سارا دارومدار چنگ چی رکشوں تک محدود ہو گیا۔ یہ چنگ چی رکشہ بغیر کسی پرمٹ کے بڑی اور چھوٹی سڑکوں پر نظر آنے لگے۔ کراچی میں ان رکشوں کو سرائیکی بیلٹ سے آنے والے نوجوان چلاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی عمریں 20 سے 25 سال ہیں۔ ان کے پاس کسی قسم کے لائسنس موجود نہیں ہیں۔ پولیس افسران کہتے ہیں کہ چوری کی موٹر سائیکل ان رکشوں میں استعمال ہو رہی ہے۔
پھر مسافروں کی صحت کے اعتبار سے بھی یہ رکشہ مناسب نہیں۔ ان رکشوں کے الٹنے اور مسافروں کے زخمی ہونے کے معاملات میں تیزی سے عام آدمی کے لیے سفر مشکل میں پڑ گیا۔ پولیس نے ان رکشوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقدامات کیے مگر شہر کے لیے ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر عملدرآمد پر زور نہیں دیا۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حکومتوں کی ترجیحات سے دور ہو گیا۔ اسی دوران لاہور میں میٹرو بس سروس چلنے لگی۔ پھر راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس کی سروس سے غریبوں اور افسروں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ ہی لاہور میں اورنج ٹرین کا منصوبہ شروع ہو گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری کا توسیعی حصہ لاہور میں اورنج ٹرین کی صورت میں ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں سہراب گوٹھ سے ٹاور تک میٹرو طرز کی بسیں چلانے کا اعلان کیا تھا۔ سابق صدر آصف زرداری کی ہدایت پر سندھ گورنمنٹ نے شاہراہ فیصل پر بھی اسی طرح کی بسیں چلانے کا عزم کیا تھا اور اخبارات میں ان دونوں منصوبوں کے لیے خطیر رقم مختص کرنے کی خبریں بھی شایع ہوئی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پروجیکٹ صرف فائلوں تک محدود ہو گئے۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نہ ہونے کے بے تحاشا نقصانات ہیں۔
موٹر سائیکل سواروں کی حادثات میں ہلاکت کی شرح بہت زیادہ ہے۔ غریب طبقے کے لیے سی این جی بند ہونے کی صورت میں کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں ہوتا۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی بنا پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر بڑھنے کی وجہ سے آئے دن ٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کا ضیاع، فضائی آلودگی میں اضافہ اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
جب پولیس امن و امان کی وجہ سے موٹر سائیکلوں پر ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتی ہے تو پھر شہریوں کے لیے اپنے روزگار پر پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کراچی کے شہری یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ انھیں پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ چنگ چی رکشہ کسی صورت بھی پبلک ٹرانسپورٹ کی تعریف میں نہیں آتے لیکن کراچی کو زیر زمین ٹرین، جدید ٹرام اور بڑی بسوں کی اشد ضرورت ہے۔ کیا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کراچی کے عوام کی داد رسی کر سکے گا؟ یہ سوال چنگ چی رکشہ میں بیٹھنے والے ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لیاری میں وفا کے موتی

فیض صاحب نے کہا تھا۔
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
نہ معلوم کیوں مجھے یہ غم آج ستا رہا ہے کہ فیض صاحب نے یہ شعر خاص لیاری والوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے کہا ہے اور اس شعر میں لیاری کی محرومیوں کی داستان چھپی ہوئی ہے۔
لیاری کے محنت کشوں اور طالب علموں سے فیض کی جذباتی وابستگی اور تعلیم دوستی ہارون کالج(کھڈہ) کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالنے سے ہوئی تھی ، جب لیاری کے نوجوانوں نے 70 کی دھائی میں کالج کے سالانہ جشن طلبا کی تقریبات کے دوران ڈراما ’’سستا جیون مہنگی موت‘‘سٹیج کیا تو وہ نہ صرف ریہرسل دیکھنے آئے بلکہ انھوں نے ڈاکٹر ایم آر حسان کے ہمراہ ڈرامہ بھی دیکھا۔آج کسی کے پاس ناموں کی وہ کہکشاں نہیں ہے جنہوں نے فیض صاحب کے زیر سایہ آگے جاکر زندگی کے مختلف شعبوں میں نام پیدا کیا۔
اس حوالے سے آج صورتحال بدلی ہوئی ہے، میڈیا لاکھ دل مردہ کو سمجھائے کہ گینگ وارکمانڈروں کی ستائی اور مقدر کی ماری لیاری نے فیض صاحب کے بعد اب دوسرا جنم لیا ہے ، اس کے وجود سے چمٹی غربت اور لاچارگی کی ساری تاریک راہوں میں امیدوں کے نئے چراغ جل اٹھے ہیں، دہشت گردی کی طرح گینگ وار کو دفن کردیا گیا ہے، کچھ کچھ سچ بھی ہے مگر گھروں پرکیا گزری جن کے بچے گینگ وار کارندے نہ ہوتے ہوئے بھی موت کے گھاٹ اتارے گئے، ساری باتیں چھوڑیئے وہ دوکم عمر طالب علم جو صدر پینوراما سینٹر کے سامنے سے موٹر سائیکل پر گزر رہے تھے کہ قانون کے محافظوں کے اشارے پر نہں رکے جس پر انھیں گولیاں ماری گئیں، ایک طالب علم معذور جب کہ دوسرے کا جسم چھلنی ہوگیا۔
دونوں خوبصورت نوجوان ہیں، ان کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہ تھا، میں ان کے دینی گھرانے کا عینی شاہد ہوں ،ان طالب علموں میں سے ایک کی ماں اس سانحہ کا سن کر سکتے میں آگئیں اور کچھ دن بعد ان کا انتقال ہوگیا، ان دنوں دونوں طالب علموں پر موت کی تلوار لٹک رہی ہے اور یہیں مجھے فیض صاحب کی آہٹ محسوس ہوئی جب وہ کہتے ہیں ’’ بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے‘‘ کئی نوجوان مخبروں کے کہے پر ناحق مارے گئے، سیکڑوں کرمنل اور نان کرمنل گینگ وار کارندوں نے خود گھروں میں گھس کر یا بیچ سڑک پر زندہ مار دیے یا جلا دیے، یہ اس لیاری کا ذکر ہے جہاں کسی کی بلی مرجاتی تو لوگ اس کی تدفین کرتے تھے کائے بے زبان کو ماردیا۔ ہائے ہائے۔
گینگ وار کی مسلط کردہ بربادی ایک طلسماتی کہانی، دیو مالائی داستان تھی یا سیاسی صنم کدے کے بڑے بتوں کی سیاسی لڑائی کا شاخسانہ تھا کہ ایک پر امن بستی بے دردی سے اجاڑ دی گئی۔ کوئی شک نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ رینجرز کی کارروائی سے امن قائم ہوا ہے، لیکن کیوں پولیس کارروائی ناکام ہوئی، اسلم چوہدری کا کئی روز کا چیل چوک آپریشن سنجیدہ آپریشن تھا یا کیموفلاج ۔اس دن کے بعد سے رینجرز اور پولیس کی تفریق اور تقسیم کی میڈیا میں واضح طور پر تشہیر ہوئی، کیا قیامت خیز سوال ہے کہ لیاری کے چار تھانے(بغدادی ، کلری  چاکیواڑہ اورکلاکوٹ) کیا کرتے رہے؟
زبردست نفری ، رینجرز اور انٹیلی جنس کا ابتدائی فعال نیٹ ورک، مگر دس سال تک لیاری میدان جنگ بنا رہا، کیوں اور کیسے؟ پی پی کا سیاسی قلعہ مسمار ہوا۔ بابو اقبال ڈکیت کی موت کے بعد سے لے کر سردار رحمٰن اور سردار عزیرکی سلطنت کے قیام تک اہل لیاری پر جو بیتی وہ بھی ایک کمیشن برائے انصاف و مفاہمت کی متقاضی تھی جس کی کمی رینجرز نے پوری کی، وہ رینجرز جسے ابتدا میں بوجوہ بے اختیار رکھا گیا۔ اسی عرصے میں ذوالفقار مرزا نازل ہوئے اور لیاری کا جنازہ نکال کر چلے گئے۔
بہر حال یہ رینجرز کا لیاری پر احسان ہے، رینجرز نے نوجوانوں کو زندگی کے متحرک اور پرامن دھارے میں شامل کرنے کے لیے اسپورٹس کے شعبوں کا دورازہ کھولا ہے، باکسنگ ،فٹ بال جس میں اسٹریٹ فٹ بال بھی شامل ہے، اس کی ترقی کے امکانات ہیں، رینجرز حکام تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی میں مدد دیتے ہیں، اب یہ کام حقیقت میں پی پی کے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی شاہجہاں بلوچ، جاوید ناگوری ، سمیعہ ناز ، عبدالمجید بلوچ سمیت اسلم سموں، خلیل ہوت اور دیگر جیالوں کا ہے وہ لیاری کی ترقی میں ساری سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملائیں، اور تعمیر کا ماسٹر پلان سامنے لائیں۔
وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ بلاول بھٹو آصفہ اور بختاور کو ساتھ لائیں، اس ووٹ بینک کو مائی کولاچی کا روحانی اثاثہ سمجھیں، لیاری ایک وسیع المشرب اور کثیر اللسانی ٹاؤن ہے جس میں محبتوں کا زم زم حقیقی معنوں میں بہتا رہا ہے، جنہوں نے اسے زہر آب کیا وہ مکافات عمل سے نہیں بچنے چاہئیں۔ لیاری کے مذکورہ افراد سے وفا کی سب کو امید ہے، باکسنگ میں استاد اصغر بلوچ ، عابد حسین بروہی، فٹ بال میں ناصر جمال ، کپتان اقبال بلوچ ، حسین بخش، انجینیئر امام بخش، علی نواز ، مولا بخش گوٹائی اور سرور جیسے سابق انٹرنیشنل فٹ بالرزکی رہنمائی درکار ہے۔
جاوید ناگوری آگے بڑھیں ، تمام سیاسی جماعتوں کی مدد حاصل کریں اس لیے کہ لیاری نے ہر زبان و ثقافت اور عقیدہ کے انسانوں کا چمن سجایا ہے یہاں کے لوگ پیار و محبت سے دلوں کو جیتتے ہیں، یہ الگ داستان ہے کہ گینگ وار کارندوں نے ہمیں محفل سے بے آبرو کر کے نکالا، لیکن لیاری کی محبت اتنی گہری    ہے کہ ’’دل بار بار کوئے ملامت کو جائے ہے۔‘‘اس روز دبئی سے ایک صحافی آئے تو کسی نے اطلاع دی کہ اماں زلیخا اور بابا رمضان کے ہاتھوں سے بھنے ہوئے سیخ کباب اور پکوڑوں نے ایک بار پھرگلیوں کی رونق بڑھائی ہے ، اماں حنیفہ کی دال اور ساگو دانے کی ملائی کے شوقین جوق در جوق فدا حسین شیخا روڈ پر آتے ہیں جہاں لطیف بلوچ کا اسکول ’گل نور‘ علم کا مینارہ نور بن کر تاریک راہوں میں روشنی پھیلا رہا ہے۔
کچھ سال پہلے اس اسکول کے سامنے گینگ وار کارندوں کا مجمع لگا رہتا تھا ، گلیوں کو بیرئیر لگا کر بند کردیا گیا تھا، کلری ، بغدادی تھانے سے چند قدم پر ٹارچر سیل قائم تھا، میں اس ٹارچر سیل کے سامنے رات گیارہ بجے ذلیل کیا گیا، لیاری کی دکانوں اور بس اڈوں سے بھتے لیے جاتے تھے، فشری کی بے زبان ماہی گیروں کی صاف ستھری کوآپریٹیو سوسائٹی بھی گینگ وار کی وارداتوں سے نہیں بچ سکی، مچھلی کے کئی تاجر لٹ گئے ، کئی بھتہ نہ دینے کے جرم میں بے رحمی سے مار دیے گئے، یہ صائب اقدام تھا جس کے تحت دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورک اور ملی بھگت کو توڑنے کے لیے مربوط کارروائی جاری ہے۔ اسی وجہ سے حاجی ولی اور ان کے ساتھیوں نے آخر کار سوسائٹی کو تباہی سے بچا لیا۔
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہونگے کہ علاقے کے محنت کش اور طالب علم آجکل بے خوف ہوکر گھر سے نکلتے ہیں، گینگ وار لارڈز بیرون ملک جاچکے ہیں، کچھ مارے گئے، بعض مناسب وقت کے لیے سیف ہیون میں اپنی تقدیرکے منتظر ہیں۔ کسی کو پتھروں پر چل کر کسی کے گھر نہیں جانا پڑتا، زندگی نئی کروٹ لے رہی ہے۔
رینجرز کے آپریشن سے حالات بدل گئے ہیں، زندگی نے نیا پیراہن زیب تن کیا ہے، مستقبل کے حسین خوب جو جرائم پیشہ گروہوں کے قدموں تلے روندے گئے وہ اب شاداب غنچوں کی طرح کھل اٹھے ہیں۔ ایک ریشمی بیانیہ ہے جسے امیدوں کے فلائی اورر پر سوتے ہوئے لیاری کے لوگ اپنے خوابوں میں دہراتے ہیں، لیکن وحشت کے مارے ہم جیسے نا سمجھ و کم علم لوگ جنہیں لیاری پر گزری ہارر فلم کے مناظر نے رنگ میں چاروں شانے چت گرے ہوئے باکسر کی صورت دیدہ عبرت نگاہ بنا دیا ہے ان پر تاحال حقائق کے ادراک اور نئی لیاری میں اٹھنے والی تخلیقی تڑپ کے پیغام کا ابلاغ نہیں ہورہا ۔
لیاری کے عوام کو نیلسن منڈیلا سے بہت پیار تھا، وہ ان کے آئیڈیل تھے، نون میم دانش جو لیاری کی کوکھ سے صنم آشنا ہوکر پیدا نہیں ہوئے بلکہ وہ حقیقت افروز شاعری اور تفکرانہ خیالات کے ذریعے اہل لیاری کو ایک حسیں مستقبل کے لیے تیار کرتے رہے مگر پھر وہ اور صبا دشتیاری دو الگ راہوں کے مسافر نکلے۔ایک دل شکستہ ہوکر امریکا سدھار گئے اور دوسرے نے سچ کا پیالہ پی کر بلوچستان میں موت کو گلے لگا لیا۔
نادر شاہ عادل

These Karachiites have a message for Sindh chief minister

Vehicles move past a graffiti, depicting the provincial chief executive with the message “Fix It!”, near an uncovered drain hole along a road in Karachi, Pakistan. According to local media, a group of activists launched an idea to promote a campaign-project to draw the attention of authorities towards civic issues by art, by spray painting stenciled images of lawmakers with messages.

جرائم مافیا کا خاتمہ کیسے ہو

گزشتہ سال پولیس اور رینجرز سے مقابلوں میں 700 ملزمان ہلاک ہوئے۔ ملزمان کی فائرنگ سے 95 پولیس، رینجرز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار شہید ہوئے۔ کراچی میں گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم ہوئی۔ گزشتہ سال 986افراد ہلاک ہوئے۔
پولیس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2014 میں ایک ہزار 925 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پنجاب میں بھی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونیوالے افراد کی تعداد خاصی رہی۔ کراچی میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد انسانی حقوق کے کارکنوں اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے آواز اٹھانے والی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان کا نظام 1973کے آئین کا پابند ہے۔
   آئین کے انسانی حقوق کے باب میں پاکستان کے ہر شہری کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ پولیس، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اور عدالتیں آئین کی پاسداری کی امین ہیں۔ پولیس کے قوانین کے تحت ہر ملزم کو گرفتارکرنے کے لیے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا لازمی ہے۔
ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت الزامات درج کیے جاتے ہیں اور پھر پولیس کا فرض ہے کہ گرفتار ملزم کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے اور ملزم کو اپنے دفاع کے لیے وکیل پیش کرنے کا بھی حق ہے۔ آئین کے تحت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں قتل اور اقدام قتل کے تحت دیگر خطرناک الزامات کے مقدمات چلائے جاتے ہیں۔ ملک میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں قائم ہیں جو دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اسی جیسے دیگر خطرناک الزامات کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ فوجی عدالتیں بھی ملک میں قائم ہیں۔
ملک میں رائج قوانین کے تحت متعلقہ صوبے کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے کسی ملزم کی پھانسی کی سزا کی توثیق کے بعد متعلقہ صوبے کے گورنر اور صدرِ پاکستان کی جانب سے ملزم کی رحم کی درخواست مسترد کرنے کے بعد پھانسی کی سزا پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔ کراچی گزشتہ کئی عشروں سے بدامنی کا شکار ہے۔ یہ بدامنی سیاسی جماعتوں کے تصادم سے شروع ہوئی، مختلف قومیتوں کے درمیان لسانی فسادات ہوئے۔
اس کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ نائن الیون کی دہشت گرد ی کے بعد جب تورا بورا میں امریکی اور اتحادی افواج نے کارپیٹ بمباری کی اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو طالبان کی بڑی تعداد  بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں منتقل ہوگئی اور پھر طالبان کراچی کے مضافاتی علاقے میں آئے۔ اسی دوران نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے اور ناردرن بائی پاس کے اطراف کی وسیع العریض زمینوں پر قبضے کی لڑائی میں کراچی میں متحرک سیاسی جماعتوں نے کردار ادا کرنا شروع کیا۔ اسی طرح یہ لڑائی شہر میں داخل ہوئی اور مختلف علاقوں تک پھیل گئی۔
طالبان اور ان کے اتحادی انتہاپسند گروہوں نے خودکش حملے شروع کیے۔ لیاری میںمتحرک گینگ وار میں ملوث گروہوں نے لیاری اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ شروع کیا۔ شہر میں مختلف گروہ وجود میں آئے جنھوں نے بھتے کے لیے مختلف پروفیشنل گروپوں کے اراکین کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے شہر میں ڈاکٹر، اساتذہ، وکلاء، صحافی، خواتین، سماجی کارکن، پولیس، رینجرز اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار قتل ہوئے۔
طالبان سے منسلک گروہوں نے قومی تنصیبات پر حملے کیے۔ گزشتہ سال کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شروع ہوا۔ بہت سے ملزمان اس آپریشن میں مارے گئے۔ مارے جانے والوں میں طالبان بھی تھے، لیاری میں گینگ وار میں ملوث ملزمان بھی ان میں شامل تھے اور شہر میں اغواء برائے تاوان، کاریں چھیننے کی وارداتوں میں ملوث افراد اور دیگر جرائم پیشہ افراد بھی ان ہلاکتوں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے۔اس صورتحال سے یوں تو کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکن متاثر ہوئے مگر ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، کا احتجاج زیادہ نمایاں ہوا۔
لیاری کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بعض خطرناک ملزموں کی ہلاکت کی خبروں کے بعد وہاں لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا مگر مجموعی طور پر شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ایک حد تک کم ہوا۔ یوں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کی مدد سے امن کا راستہ تلاش کرلیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ بااثر ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
عام شہری کسی ملزم کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ قانونی پیچیدگیوں اور ذہین وکلاء کی ترکیبوں کی بناء پر جرائم پیشہ افراد بری ہوجاتے ہیں۔ ملزمان اور ان کی پشت پناہی کرنے والے ایسے طاقت ور ہوتے ہیں کہ پولیس افسروں،گواہوں اور ججوں تک کو قتل کردیا جاتا ہے۔ یوں ایسے مجرموں کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنا ہی معاشرے کی اصلاح ہے۔ 30 برسوں سے پبلک پراسیکیوٹر کے فرائض انجام دینے والے وکیل شاہد علی کا کہنا ہے کہ قانون سے ماورا کسی بھی شہری کا قتل غیر قانونی ہے۔ شاہد علی اس معاملے پر مزید کہتے ہیں کہ حقیقی مجرموں کو سزا دینے کے لیے ایک جامع نظام کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گواہوں کے تحفظ کا قانون نافذ ہونا چاہیے۔ اس قانون کے تحت ایک عدالتی پولیس فورس قائم ہونی چاہیے جو صرف گواہوں کو تحفظ فراہم کرے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں کو انسانی حقوق کے تحفظ کی تربیت کے نصاب میں خصوصی مضامین شامل ہونے چاہئیں۔ شاہد علی اس معاملے میں وکلاء کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وکلاء میں پروفیشنل ازم کی کمی ہے ۔ بعض وکلاء محض اپنے مؤکل کو ریلیف پہنچانے کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کرتے ہیں جس سے ملزمان سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکلاء میں حقیقی پروفیشنل ازم سے حقیقی ملزمان کو سزا مل سکتی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں جہاں ماورا عدالت قتل پر احتجاج کرتی ہیں وہیں انھیں انسانوں کو قتل کرنے والے ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
گزشتہ برس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہوا تھا۔ گواہوں کاتحفظ کرنے کے لیے قانون کے نفاذ اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی تعداد میں اضافے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر   عدالتیں قائم نہیں ہوئیں۔ ان عدالتوں میں جج اپنے کمرے میں سماعت نہیں کرتے۔ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی مکمل کرتے ہیں۔ اسی طرح ملزمان انھیں پہچان نہیں سکتے۔ کراچی میں کئی پولیس افسران اور گواہ قتل کردیے گئے ۔ اسی طرح سبین محمود قتل کیس کے واحد گواہ بھی نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
کراچی میں دہشت گردوں کو گرفتار کرنے والے ایک پولیس افسر کو حیدرآباد میں قتل کردیا گیا۔ دہشت گردی کے خاتمے میں ملوث پولیس اہلکاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔ مگر غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے مظلوموں کے قتل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ حکومتِ سندھ کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔
کراچی میں گزشتہ سال پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک مہذب ریاست کے لیے بڑا دھبہ ہے۔ حکومت کو اس معاملے کا جامع حل تلاش کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیںورنہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی اس صورتحال میں ہلاکت جیسے واقعات خوفناک شکل اختیار کرجائیں گے۔ قانونی طریقہ کار سے ملزموں کو سزا سے ہی معاشرے کو حقیقی امن مل سکتا ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

History of Sindh

 Sindh (Sind)  is one of the provinces of Pakistan. It was first settled about 2 million years ago by the Riwat people, and the region’s fertility around the Indus River led to the development of the Indus Valley Civilization, and the advanced cities of Harappa and Mohenjo-Daro between 3300-1300 BCE. Sindh has been exploited by invaders from old time among Arghuns, Turks and the exploits of the Beg-lar family, who were Turks of Turmuz who migrated to Samarkand and then to Sindh.

 Palaeolithic and Mesolithic era 

Ongar is one of the most important Paleolithic site discovered in southern Sindh, few kilometers south of Hyderabad, on the right side of the Indus River. According to the aspect and surface patina of the tools, the flint assemblages can be attributed to the Early, Middle and Late (Upper) Paleolithic periods.
At Rehri, along the coast east of Karachi, Karachi University team has discovered a few Mesolithic and Late Palaeolithic sites. Most of these sites have vanished during the last twenty years. Nevertheless, their discovery shed new light on the prehistory of the coastal area of Lower Sindh. Scatters of flint were found in different spots, some of which were associated with Terebralia palustris mangrove shells.
The Late Palaeolithic and Mesolithic sites found by Karachi University team on the Mulri Hills, in front of Karachi University Campus, constitute one of the most important archaeological discoveries made in Sindh during the last fifty years. The last hunter-gatherers, who left abundant traces of their passage, repeatedly inhabited the Hills. Some twenty different spots of flint tools were discovered during the surface surveys.
 Copper to the Bronze Age 
The mound of Amri is located along the right bank of the Indus River, south of Dadu. The excavations carried out by the French Archaeological Mission at the beginning of the sixties revealed a long sequence of subsequent habitation phases datable from the Copper to the Bronze Age. The typical Amri layers have been radiocarbon-dated to the second half of the fourth millennium BCE and are attributed by some authors to the beginning of the Early Harappan Civilization. At least 160 settlements attributed to the Amri Culture, among them the Tharro Hills, near the village of Gujo, is one of the most famous of lower Sindh. .. The site of Kot Diji, near Rohri, consists of a small mound composed of a sequence of overimposed structures and anthropogenic layers. They have been subdivided into two main complexes, the first of which belongs to the Early Harappan, Kot Diji Culture, and the second to the Mature Harappan Civilization.
The site of Lakhueen-jo-daro, near Sukkur, belongs to the Mature Harappan Civilization as indicated by the characteristics of the structural remains, material culture finds and one radiocarbon date, covers a wide area, from which a few mounds emerge. The site indicates that the origins of Sukkur are to be referred to a much older period than previously suspected.
The metropolis of Mohenjo-daro, near Larkana, is largest Indus city so far discovered in Sindh. The large-scale excavations carried out in the 1920s brought to light most of the architectural remains that are still currently visible. They are mainly of backed bricks with very well preserved buildings aligned along streets and lanes. Mohen-jo-daro is the largest Bronze Age city of the world.

 Ancient era 

In ancient times, the territory of the modern Sindh province was sometimes known as Sovira (or Souveera, Sauvīra) and also as Sindhudesha, Sindhu being the original name for Indus river and the suffix ‘desh’ roughly corresponding to country or territory.
The first known village settlements date as far back as 7000 BCE. Permanent settlements at Mehrgarh to the west expanded into Sindh. One of the original inhabitants of ancient Sindh were the Austro-Asiatic speaking peoples who spoke the Munda languages. This culture blossomed over several millennia and gave rise to the Indus Valley Civilization around 3000 BCE. The Indus Valley Civilization spanned much of what is today Pakistan, but went into decline a few centuries prior to the invasion of the Indo-Aryans which is still a hotly debated subject, a branch of the Indo-Iranians, who are considered to have founded the Vedic Civilization, that existed between the Kabul River, the Sarasvati River and the upper Ganges river after 1500 BCE. The Vedic civilization – with much in-fighting and fighting with the locals as well as interaction with them – ultimately helped shape subsequent cultures in South Asia.
Another group of academia, claims that the original inhabitants of Sindh, who gave rise to the Indus Valley Civilization around 3000 BCE, were native Aryans, as Vedic literature speaks of no reference to an Aryan race outside of the South Asia. This topic is considered still unresolved.
The Indus Valley Civilization rivaled the contemporary civilizations of Ancient Egypt and Mesopotamia in both size and scope numbering nearly half a million inhabitants at its height with well-planned grid cities and sewer systems.  It is known that the Indus Valley Civilization traded with ancient Mesopotamia and ancient Egypt via established shipping lanes. In ancient Egypt, the word for cotton was Sindh denoting that the bulk of that civilization’s cotton was predominantly imported from the Indus Valley Civilization. Speculation remains as to how and why the civilization declined and may have been a combination of natural disasters such as deterioration in climate, flooding as well as breakdown of international trade and internecine conflicts.
 References in ancient literature 
The Vedas (Rigveda) praises the Sindhu, the cradle of civilization. “Sindhu in might surpasses all the streams that flow…. His roar is lifted up to heaven above the earth; he puts forth endless vigour with a flash of light …. Even as cows with milk rush to their calves, so other rivers roar into the Sindhu. As a warrior-king leads other warriors, so does Sindhu lead other rivers…. Rich in good steeds is Sindhu, rich in gold, nobly fashioned, rich in ample wealth.” In this hymn Sindhu, unlike other rivers, is considered masculine. Other references are, when the Vedic seer invokes heaven and earth, he also invokes the Sindhu. The Veda refers to the Ganges only twice; but it makes as many as thirty references to the Sindhu. This is the Great Sindhu that gave Sindh its name.
In Ramayana, Sindh was part of Dasharatha’s empire. When Kekayi goes into a sulk, Dasharatha tells her: “The sun does not set on my empire. Sindh, Sauvira, Saurashtra, Anga, Vanga, Magadha, Kashi, Koshal — they are all mine. They produce an infinite variety of valuable articles. You can ask whatever you like.” Of course Kekayi wants nothing short of the throne for her son, Bharata. The rest is epic history. When Sita was kidnapped by Ravana, Rama sent the vanaras (Van-nar = cave-men) to look for her, among other places, in Sindh with its “remarkable swimming horses.” Later, when all ended well, Rama gave Sindhu-Sauvira (the Sindh and Multan areas) to Bharata, who duly extended his rule farther north to Gandhara, the home town of Gandhari of Mahabharata fame, which is the modern-day Afghan city Kandahar. His sons founded the cities of Peshawar (Pushkalavati) and Taxila (Takshasila).

 British era 

The British East India Company started its invasion of Sindh at the time when it was ruled by Balochi tribesmen of Dera Ghazi Khan. Most of them were Talpur (a branch of Laghari tribe), Laghari, Nizamani, Murree, Gopang and other Balochi tribesmen. Karachi was the first area in the province to be occupied by the British East India Company in 1839. Four years later, most of the province (except for the State of Khairpur) was added to the Company’s domain after victories at Miani and Dubba. Many people helped the British in the conquest of Sindh, including a Hindu government minister of Sindh, Mirs of Khairpur, Chandio Tribesmen, and Khosa Tribesmen. After General Charles Napier captured the province, a cartoon in Punch offered the Latin tag “Peccavi”, meaning “I have sinned.”. 
Charles Napier had brought first army consisting of mostly Bengali soldiers. The Balochi ruling forces of Sindh used to attack the British led armies in the darkness of night. The Bengali soldiers could not compete in those war techniques, and they used to run away. Then, Charles Napier hired Khosa Baloch tribesman (from Dera Ghazi Khan) in his army, to fight with the ruling Balochis of Sindh, who were also originally from Dera Ghazi Khan, Punjab. Chandio Baloch Sardar brought a cavalry of 10,000 to support Charles Napier in the Miani war, but did not participate in the actual war, and his armies stood on reserve to attack in case Charles Napier lost the war. For his role, Chandio sardar got Chandka (present day Larakana, Qambar-Shahdadkot districts) as Jagir. Talpurs of Khairpur also got Khairpur state as gift from Charles Napier for non-participation in the war. The first Aga Khan had helped the British in the conquest of Sindh and was granted a pension as a result.

 Education

The foundation for modern, liberal, universal education was laid by the British colonial administration. Sindhi intelligentsia also participated in this modernisation of educational system. Hassan Ali Affandi, maternal grandfather of the ex-President of Pakistan (Mr. Asif Ali Zardari), can be regarded as Sir Syed Ahmed Khan of Sindh. He made great efforts to encourage the Sindhi people to get modern education. He built an educational institution known as Sindh Madrasatul Islam. Muhammad Ali Jinnah went to Sindh-Madarsat-ul-Islam in Karachi, Sindh for education and, after his law education, worked in Karachi for a Sindhi (Hindu) law firm.
Education in Sindh is divided into five levels: primary (grades one through five); middle (grades six through eight); high (grades nine and ten, leading to the Secondary School Certificate); intermediate (grades eleven and twelve, leading to a Higher Secondary School Certificate); and university programs leading to graduate and advanced degrees. Primary, middle and high schools are established in all parts of Sindh providing, Sindhi, Urdu and English-medium schools.
The colleges and universities are established in major towns and cities of Sindh. They provide courses leading to BA, BSc and Bachelor of Commerce / BCom/BBA degrees. medical colleges and engineering colleges are also established in major cities of Sindh. There are many postgraduate and research institutes in Sindh providing state-of-the-art education to Sindhi students.
 Economy 
Sindh has become the most industrialized and urbanized province of Pakistan because of migrated people, Muhajirs. The head offices of Pakistani companies, and regional offices of international companies, are located in Sindh. The Muhajirs have been in forefront of economic development of the province. The new dams and canals have irrgated many areas that were barren and Sindh produces many agricultural products for the country and for export. The construction of multi-billion projects like Karachi Nuclear Power Plant, Port Qasim and Pakistan Steel Mills provided tens of thousands of jobs to the residents of Sindh.

 Politics 

Khan Bahadur Muhammad Ayub Khuhro was the first Chief Minister of Sindh, after independence of Pakistan. Pakistan’s political scene continued to be dominated by Sindhi politicians like Zulfikar Ali Bhutto, Mumtaz Bhutto, Benazir Bhutto, Muhammad Khan Junejo, Ghulam Mustafa Jatoi, Asif Ali Zardari, Muhammad Mian Soomro, who served the nation as President, Prime Minister, Senate chairman etc. Karachi was chosen as the first capital of Pakistan and it remains now as the capital of Sindh province. In the province of Sindh, the Sindhis have always dominated the government and its various departments.Important role of Baloch tribe in sindhi history.