گرین لائن میٹرو بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

 وزیراعظم نواز شریف گرین لائن میٹرو بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے کراچی کے انو بھائی پارک میں گرین لائن میٹرو بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ گرین لائن میٹرو ٹرانزٹ منصوبہ کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جس کا روٹ 22 کلو میٹر طویل ہو گا، منصوبہ ایک سال میں مکمل ہو گا اور اس پر کل 16 ارب روپے لاگت آئے گی، منصوبے کے تمام تر اخراجاب وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
گرین لائن میٹرو بس منصوبے کا روٹ سرجانی ٹاؤن سے شروع ہو گا جو ناگن چورنگی، ناظم آباد چورنگی، لسبیلہ اور گرومندر سے ہوتا ہوا ایم اے جناح روڈ پر اختتام پزیر ہو گا۔ گرین لائن منصوبے کے ذریعے روزانہ 3 لاکھ شہری مستفید ہو سکیں گے۔

Advertisements

سماجی رہنماؤں کے نامعلوم قاتل

ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی جوں جوں بڑھ رہی ہے، اسی رفتار سے عوام کے مسائل بڑھ رہے ہیں اور حکمرانوں نے تو عوام کے مسائل کم کرانے کے بجائے مسائل بڑھانے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے اور جس ملک کے وزیراعظم اپنے ڈھائی سال کے عرصہ اقتدار میں 65 غیر ملکی دوروں میں چھ ماہ مصروف رہے ہوں ان سے کوئی کیسے توقع رکھ سکتا ہے کہ باقی دو سال میں انھیں اپنی سرکاری اور نجی مصروفیات میں عوام کے مسائل کا خیال آیا ہو۔

مغربی ممالک میں وہاں کی حکومتیں جس طرح اپنے عوام کے مسائل کو درپیش رکھ کر انھیں حل کراتی ہیں اس کا تو ہمارے یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارے حکمران خود عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کرتے جاتے ہیں اور بڑے فخر سے کہہ دیتے ہیں کہ عوام کو درپیش مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔
عوام کے مسائل حل کرانے کی ذمے داری حکومتوں کی ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں عوام کے مسائل حل کرانے اور سہولتیں فراہم کرنے کے زیادہ کام سماجی ادارے کر رہے ہیں کیونکہ ہماری حکومتیں خواہ سیاسی ہوں یا فوجی، وہ فلاحی بہرحال نہیں ہوتیں اور اب تو ہر حکومت نے اپنا یہ وتیرہ بنا لیا ہے کہ مہنگائی اور دیگر معاملات میں عوام کو اتنا الجھا دیا جائے کہ وہ اپنے معاشی مسائل حل کرنے ہی میں لگے رہیں۔
اس ملک کو ایسے حکمران بھی ملے جن کے منشور میں عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان فراہم کرنا شامل تھا مگر عوام کو ملا کچھ نہیں، کیونکہ عوام کو دھوکا دینے کے لیے خوش نما بیانات دے کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ عوام ان کی باتوں میں آ گئے، اب عوام کے مسائل اقتدار میں آ کر کیوں حل کریں، عوام کے مسائل عوام جانیں ہم اپنے اقتدار کو مضبوط بنائیں اور طول دینے کی کوشش کریں۔

دوسرے ملکوں میں عوام کی فلاح و بہبود کے جو کام وہاں کی حکومتیں کرتی ہیں وہ کام ہمارے یہاں سماجی اور فلاحی ادارے انجام دے رہے ہیں۔ عوام کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی منتخب حکومتوں کا فرض اولین ہونا چاہیے مگر یہاں ایسا نہیں ہے اور یہ کام بھی سماجی ادارے کر رہے ہیں۔

اب تو بلدیاتی مسائل حل کرانے کی ذمے داری سماجی رہنماؤں نے سنبھال لی ہے اور اپنے علاقوں کی نہایت بری حالت دیکھ کر عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرانے والے سماجی و فلاحی ادارے بھی وجود میں آ جائیں گے کیونکہ تمام صوبائی حکومتوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو نظرانداز کر رکھا ہے اور انھیں عوام کے بنیادی مسائل سے نہیں بلکہ عوام سے جھوٹے وعدے کر کے ان سے ووٹ لینے سے دلچسپی رہ گئی ہے۔
حکومت تصور تو کرے کہ اگر ملک میں ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا سروس، سیلانی ویلفیئر، انجمن حمایت اسلام، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ جیسے ملک گیر فلاحی ادارے اور سماجی رہنما اور بلاامتیاز خدمت کے بھی بڑے سماجی اور فلاحی خدمات انجام دینے والے ادارے نہ ہوتے تو عوام کا کیا حال ہوتا اور حکومت پر کس قدر مالی بوجھ ہوتا۔ جو یہ ادارے حکومتوں کی طرح اپنے سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور اللہ کی خوشنودی کے لیے انجام دے رہے ہیں بعض سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے فلاحی ادارے، اسپتال و ڈسپنسریاں، میت بس سروس اور ایمبولینس سروسز بنا رکھی ہیں اور جہاں جہاں سرکاری اسپتالوں میں ایمبولنسیں تک نہیں ہیں وہاں بھی نجی ادارے یہ سروس فراہم کر رہے ہیں۔
غیر سیاسی مقاصد کے لیے عوام کی حقیقی خدمت کے لیے سماجی اداروں کے علاوہ ملک میں ایسے مخیر حضرات بھی موجود ہیں جو شہرت اور نام کے لیے ادارے نہیں بناتے بلکہ ذاتی حیثیت میں یہ خدمات انجام دیتے ہیں اور انھیں بدلے میں کسی صلے اور ستائش کی تمنا بھی نہیں ہوتی۔ خاص کر مذہبی تہواروں پر یہ لوگ کروڑوں روپے کا راشن، کپڑے غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
غریبوں کو دوائیں، مفت آپریشن اور مختلف امراض خصوصاً آنکھوں کے علاج کی سہولتیں فراہم کرتے آ رہے ہیں۔ ملک کے عظیم رہنما عبدالستار ایدھی بھی اس ملک میں محفوظ نہیں تھے اور عارضی طور پر ملک چھوڑ گئے مگر پھر وطن واپس آ گئے۔ حکومت سماجی رہنماؤں کی اگر حفاظت کرتی تو بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
اس ملک میں سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر لوگ قتل ہوتے رہے ہیں مگر سماجی رہنماؤں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ایک سماجی رہنما سبین محمود اس لیے قتل کر دی گئیں کہ انھوں نے سیاست میں پڑے بغیر بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ یہاں اورنگی پروجیکٹ کی غیر سیاسی ڈائریکٹر ڈاکٹر پروین رحمن کو دن دہاڑے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
بلدیہ عظمیٰ کے ایک معذور ڈپٹی ڈائریکٹر اور معذوروں کا ایک ادارہ چلانے والے سید جعفر شاہ کو بھی نہیں بخشا گیا جو خود چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھے اور وہیل چیئر پر اپنے جیسے معذوروں کی خدمت کے سوا انھیں ان کے حقوق دلوانے کے لیے جدوجہد کرتے آ رہے تھے اور سرعام قتل کر دیے گئے۔
اولڈ گہلیمار میں ایشیا کے سب سے بڑے گٹر باغیچہ کو قبضہ مافیا سے بچانے کے لیے سرگرم سماجی رہنما نثار حسین بلوچ قتل کر دیے گئے۔ ناظم آباد گول مارکیٹ کے قریب دو سال قبل جمعہ کی نماز ادا کر کے جانے والے مشہور سماجی رہنما حامد علی خان اپنے ساتھی سمیت شہید کیے گئے تھے جنھیں لوگ حامد بھائی کے نام سے اب بھی یاد کرتے ہیں اور روتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے بعد ہم بے سہارا ہو چکے ہیں اور ہمارا کوئی پرسان حال نہیں رہا ہے۔
حامد بھائی کی خدمات صرف ناظم آباد والے ہی نہیں بلکہ ان کی مدد حاصل کرنے والا ہر شخص حامد بھائی جیسے مخیر حضرات کی تلاش میں ہے جنھوں نے کوئی سماجی ادارہ بنایا ہوا نہیں تھا، وہ اپنے ذاتی وسائل اور اپنے جاننے والوں کی مدد سے ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرتے تھے اور ان کے پاس آ کر کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔
رمضان المبارک میں جب پھل غریبوں کی پہنچ سے دور ہوجاتے ہیں حامد بھائی ہی تھے جو نہایت مناسب داموں پر غریبوں کو پھل فراہم کراتے۔ راشن اور کپڑوں کے علاوہ دواؤں کی فراہمی، ملازمتوں کے حصول میں بھرپور تعاون اپنا فرض سمجھتے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کوئی ان کے پاس آ کر مایوس نہ لوٹے۔ متحدہ کے حامی مگر ہر سیاسی جماعت میں عزت سے دیکھے جانے والے حامد بھائی کے تمام بھائی امریکا منتقل ہو چکے تھے اور انھیں بھی کہتے تھے کہ امریکا آ جائیں مگر اپنے وطن میں ہزاروں افراد کے کام آنے والے حامد بھائی نے امریکا جانے سے انکار کرتے وقت سوچا بھی نہ تھا کہ چند ماہ بعد ہی انھیں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد قتل کر دیا جائے گا۔ یہ حامد بھائی سے لوگوں کی محبت تھی کہ اہم مارکیٹ سوگ میں تین روز بند رہی اور ہزاروں سوگواروں نے ان کی نماز جنازہ میں بلاامتیاز شرکت کی تھی۔
حامد بھائی کو مارنے والوں کو اگر ان کی بلاامتیاز سماجی خدمات کا علم ہوتا تو وہ شاید باز رہتے اور عوام کے حقیقی مسیحاؤں کو قتل نہ کرتے۔ دو سال گزر گئے مگر حامد بھائی کے قاتل ملے نہ دیگر سماجی رہنماؤں کے۔ قاتلوں کو آسمان کھا گیا ہو یا زمین نگل گئی ہو مگر لوگ یہ ضرور کہتے ہیں کہ سیاسی لوگوں کے قاتل کبھی تو پکڑے جاتے ہیں مگر سماجی رہنماؤں کے قاتل کیوں نہیں پکڑے جاتے؟
محمد سعید آرائیں

اسٹیل مل کی نجکاری کیوں؟

پاکستان اسٹیل کو تباہی کے آخری دہانے پر پہنچانے میں کئی سال کا عرصہ لگا، اگر اس موضوع کا تجزیہ کیا جائے تو اس کا باضابطہ آغاز جنرل مشرف کے دور سے ہوا۔ جب سن دوہزار  کو پاکستان اسٹیل کوکمرشل بنیادوں پر چلانے کی پالیسی کا اجراء کیا گیا جب کہ اس حقیقت سے ہر باشعور شخص واقف ہے کہ اسٹیل انڈسٹری دراصل صنعتی انقلاب کا بنیادی جُزہوتی ہے،  پاکستان اسٹیل کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کا حتمی مقصد اس کی پرائیوٹایزیشن کرنا تھا۔
2006 میں مشرف کے دور میں اس کی نجکاری کرنے کی کوشش بھی کی گئی جس کو اس وقت کی سپریم کورٹ نے غیر شفاف قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بڑ ے پیمانے پر ایسے اقدامات اُٹھائے گئے جن کی وجہ سے اسٹیل مل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ان میں ایک اقدام سن 2001  میں ایس آر اوایس کا اجراء تھا، جسے ڈی ٹی آر ٹی بھی کہا جاتا ہے یعنی Taxes Remission For Export ۔ اس اسکیم کے تحت اپنے من پسند افراد کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچانے کے لیے ایس آر او ایس کا اجراء کیا گیا ۔
ان ایس آر او ایس کی آڑ میں ہر قسم کا مال منگوایا گیا جس کو پاکستان اسٹیل ہی بناتا تھا۔اس مال پرکوئی ٹیکس عائد نہیں تھا۔ مشرف دور میں شروع ہونے والے ان ایس آر او ایس کا سلسلہ 2008-9 تک جاری رہا۔ جس کی وجہ سے پاکستان اسٹیل کو اربوں روپوں کا نقصان ہوا۔
مشرف دور میں درآمد شدہ وزیراعظم شوکت عزیز جو سامراجی قوتوں کے اعلیٰ کار تھے، انھوں نے پاکستان  جیسے نیم زرعی اورنیم صنعتی ملک کو ڈبلیو ٹی اوکی طرف دھکیل دیا۔ ڈبلیو ٹی او میں جانے سے پاکستان کی رہی صحیح صنعتی ترقی کا پیہہ بھی جام ہوگیا۔ اس کے علاوہ 2008-2009  میں بڑے پیمانے پرگڈانی کراچی میں شپ بریکنگ کی گئی۔ جوجہاز توڑنے کے لیے امپورٹ کیے گئے اُن پر نا امپورٹ ڈیوٹی اور Sales Tax بھی 0% تھا ۔ ان Ships کو توڑنے سے حاصل ہونے والی پلیٹس کو سریا بنانے کے لیے استعمال میں لایا گیا۔
یہ پلیٹ مارکیٹ میں 31000 روپے ٹن میں فروخت ہورہی تھیں جب کہ اسٹیل ملز کے بلٹس کی قیمت جوکہ سریا بنانے کے لیے کام آتا ہے 51000 روپے تھی۔ اسٹیل ملزکو مجبوراً اپنی بلٹس کا کارخانہ بند کرنا پڑا ۔ جو آج تک بند ہے۔ 2008 میں پوری دنیا میں اسٹیل انڈسٹریزکو بحران کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ چائنا کا انٹرنیشنل مارکیٹ سے لوہے اور خام مال کی خریداری کا عمل بند کرنا تھا۔ دنیا کے اکثر ممالک میں اپنی اسٹیل انڈسٹریزکو بچانے کے لیے Regularity Duty سمیت کئی اقدامات کیے گئے مگر پاکستان میں ایسا کوئی عمل نہیں کیا گیا۔
جس کی وجہ سے پاکستان اسٹیل مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ  گئی ۔ ہاٹ رول کوائلز جن کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے، اسٹیل ڈیلرز یہ کوائل چین ، یوکرین، روس، جاپان، امریکا وغیرہ سے سستے داموں پر برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل نے اس حوالے سے نیشنل ٹیرف کمیشن میں مقدمہ بھی قائم کیا کہ ان کوائل کی امپورٹ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ اسٹیل مل مارکیٹ کا مقابلہ کر سکے۔ باوجود اس کے NTC نے پاکستان اسٹیل کا موقف تسلیم کرلیا لیکن کئی سال سے یہ مقدمہ زیر التواء رکھنے کے بعد WTO کے معاہدے کا سہارا لے کر خارج کردیا۔
پاکستان اسٹیل جس نے دوبارہ اپنی مقررہ پیداواری صلاحیت کی طرف بڑھنا شروع کردیا تھا اور 60% پیداواردینا شروع کر دی تھی، لیکن حکومت کی طرف سے سیلز پالیسی مقرر نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مصنوعات مارکیٹ کا مقابلہ نہ کرسکی اور مال اسٹاک ہونا شروع ہوگیا۔ جس میں سے اسٹیل مل اپنی Liability دینے سے قاصرہوگیا۔ نیچرل گیس کمپنی جوکہ حکومتی ادارہ ہے اس کی 16ارب روپے کی Liability ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مل کو دی جانے والی گیس کا پریشرکم کردیاگیا۔اب یہ 16 ارب روپے سود کی وجہ سے 52 ارب سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
گیس پریشر کم ہونے سے پاکستان اسٹیل کے تمام پیدواری یونٹس بند کردیے گئے۔  گیس پریشر کو کم ہوئے آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حکومت کی مجرمانہ خاموشی اس حقیقت کی واضع دلیل ہے کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل انڈسٹری کو بند کرکے اس کی نجکاری کرنا چاہتی ہے۔ اس ساری صورت حال کا خمیازہ پاکستان اسٹیل کے 18 ہزار ملازمین بھگت رہے ہیں۔ حکومت نجکاری کمیشن کے توسط سے چار ماہ گزرنے کے بعد ایک یا دو ماہ کی تنخواہ ملازمین کو ادا کر رہی ہے۔
وہ بھی ملازمین کے بار بار احتجاج کے بعد یہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ موجودہ اسٹیل مل انتظامیہ کی کار کردگی اور بے حسی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتاہے کہ 9  ارب کے اسٹاک شدہ مال کو فروخت کیا گیا اور فروخت شدہ مال میں بھاری کمیشن کھایا گیا۔اس کے علاوہ 26ارب روپے کی کرپشن کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے ہوئے بھی کئی سال گزر گئے ہیں۔ اب اس کیس کی فائل سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے۔ ابھی تک اسٹیل ملز سے لوٹی ہوئی رقم   ریکور نہیں کی گئی جس کی ذمے دار بھی موجودہ گورنمنٹ ہے ۔
پاکستان اسٹیل کی (By Product) جس میں بیٹری کے چلنے سے حاصل ہونے والی امونیا گیس کھادکے کارخانے میں استعمال ہوتی ہے۔ Pitch جو تارکول کے لیے استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ آکسیجن پلانٹ کو اگر تجارتی بنیادوں پر چلایا جائے تو صرف آکسیجن پلانٹ ہی ملازمین کی تنخواہیں نکال سکتا ہے۔ ٹربو تھرمل پاور پلانٹ جس کی دو ٹربائن بیک وقت چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جن سے 110میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے ایک ٹربائن اسٹینڈ بائی رہتی ہے ۔پاکستان اسٹیل اگر فل Capacity میں اپنی پروڈکشن دے رہی ہو تو 40 سے 50 میگا واٹ بجلی خرچ ہوتی ہے۔ بقایا بجلی (KESC) کو فروخت کی جاسکتی ہے۔
اس سے پہلے پاکستان اسٹیل KESC کو بجلی فروخت کرتا رہا ہے۔ پاکستان اسٹیل کے پاس اپنے اسکول کیڈٹ کالج، گیسٹ ہاؤسز، فروٹ فارمز ہیں۔ ان کو صحیح معنوں میں پروفیشنل منیجمنٹ دی جائے تو یہ اپنے پاؤں پرکھڑے ہو سکتے ہیں لیکن موجودہ گورنمنٹ کی نظریں اسٹیل مل کے ایسڈز پر ہیں۔
وہ ان کو اپنے من پسند افراد کو ٹکڑیوں میں بیچ دینا چاہتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کئی سیاسی جماعتیں جو پی ٹی سی ایل اورکے ای ایس سی کی نجکاری کے حق میں تھیں، جوآج مخالفت کر رہی ہیں ، جیسا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو اسٹیل مل قائم کرنے جا رہے تھے تو ایک مذہبی سیاسی جماعت قومی ملکیت میں اسٹیل مل کے قیام کی بھرپور مخالفت کررہی تھی اور آج نجکا ری کی مخالفت کر رہی ہے۔ یہی حشر وہ PIA کے ساتھ بھی کرنا چاہتی ہے۔
ان حریص سرمایہ داروں کی نظریں صرف اور صرف PIA کے اثاثے جن کی مالیت کھربوں روپے بنتی ہے یہ ان کوکوڑیوں کے بھاؤ میں خریدنا چاہتے ہیں ۔ان کی نظر میں Employee کی اہمیت نہیں IMF نے جب ویلیو ایڈیڈ ٹیکس لگانے کے لیے سابقہ گورنمنٹ پر زور دیا تو حفیظ شیخ نے جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا تمام پارٹیوں کے سرمایہ دار جاگیر طبقے کے لوگ ایک پیج پر آگئے کیونکہ یہ ٹیکس ان کی جائیدادوں پر لگنا تھا، آج تک یہ ٹیکس(Pending) میں ہے۔ عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔
آج گورنمنٹ (IMF) کے دباؤ پر اسٹیل مل PIA سمیٹ 68 اداروں کو نجکاری کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہے اور لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگار کر دینا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں مختلف اداروں کی IMF کے دباؤ پر نجکاری کی گئی، ان میں سے بیشتر ادارے جن کی نجکاری کی گئی اور ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا وہ ادارے آج تک بند ہیں۔ ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں نہیں چلایا جاسکا۔
زبیر رحمٰن 
 

بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ بھتہ نہ دینے پر لگائی، 250 افراد لقمہ اجل بن گئے

 کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری میں آگ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت شر انگیزی اور دہشت گرد کارروائی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن رحمان بھولا اور حماد صدیقی کی طرف سے فیکٹری مکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری کی آمدن میں حصے دینے سے انکار پر آگ لگائی گئی۔
اس تحقیقاتی ٹیم میں ڈی آئی جی منیر شیخ، ڈی آئی جی سلطان خواجہ، ایس ایس پی ساجد سادھوزئی شامل تھے۔
اس رپورٹ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد مقدمے کا اندراج اور اس کے بعد تحقیقات نہ صرف بددیانتی پر مبنی تھیں بلکہ اس پر اندرونی اور غیر ضروری دباؤ تھا۔
دہشت گرد کارروائی کو ایف آئی اے میں سادگی سے قتل کا معاملہ دکھایا گیا اور بعد میں اسے حادثے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اور یہ اس جرم کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ فیکٹری مالکان اور اس کی انتظامیہ کے خلاف تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس انداز میں اس واقعے کی تحقیقات کی گئی ہیں اسے سے پولیس پر اثر و سوخ سے اس کی طرفداری اور جانبداری کے حد کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کے ریاست اس واقعے کے بارے میں درج کی گئی ایف آئی آر واپس لے اور تعزیرات پاکستان کے دفعہ 1861 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دوبارہ مقدمہ درج کرائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیم نے محمد زبیر کے واقعے میں کردار کا معلوم کرنے کی کوشش کی کیونکہ تمام دستیاب شواہد اس جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیم نے محمد زبیر کے سعودی عرب میں مقیم والد محمد نذیر کو تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے واپس وطن آنے کے لیے ٹکٹ دینے کی متعدد بار پیشکش کی لیکن ہر بار اس کو مسترد کر دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مزید تحقیقات کا انحصار اس سے کی جانے والے تحقیقات پر ہو گا۔
بیرون ملک فرار ہونے والے ملزمان کو دوبارہ واپس لایا اور گرفتار کیا جائے۔
مفرور ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالا جائے۔
تمام عینی شاہدین کو ’شاہدین تحفظ‘ کے ایکٹ کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے۔
اس کے علاوہ فیکٹری کے واقعے کے بعد مالکان سے بھتے کی مد میں وصول کی جانے والے املاک کو قانونی طریقہ کار کے تحت واپس منتقل کیا جائے۔
اس کے علاوہ دیگر سفارشات میں آئندہ ایسے واقعے سے بچنے کے لیے نئے قانون بنانے اور نئی حفاظتی طریقہ کار کے مرتب دینے اور اس پر فیکٹری ملکان اور ملازمین کو تربیت دینے کا کہا گیا ہے تاکہ مستقل میں دہشت گردی کے اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔
اس کے علاوہ کراچی میں امدادی اداروں کی تعمیر نو اور پولیس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

کراچی سے چھینے ہوئے موبائل، کراچی میں ہی فروخت

قیمتی اور مہنگے اسمارٹ فونز رکھنا تو آج کل کے نوجوانوں کا شوق ہے، لیکن ہر کوئی یہ شوق پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ کچھ شوقین اپنا یہ مہنگا شوق پورا کرنے کیلئے غیر قانونی طریقہ استعمال کرتے ہیں، اور چوری شدہ موبائل بھی خریدنے سے دریغ نہیں کرتے۔

کراچی کے سب سے بڑے ٹاؤن ’’اورنگی ٹاؤن‘‘ میں ہر اتوار کو چور اور ڈکیت ’’چوری شدہ موبائل فونز‘‘ سے ایک وسیع و عریض مارکیٹ سجاتے ہیں۔ جہاں معصوم شہریوں سے چھینے گئے موبائل شہریوں کو ہی سستے دام فروخت کیے جاتے ہیں۔ صبح 9 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک اس مارکیٹ میں چوری شدہ موبائل فونز کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس دوران مارکیٹ میں خریداروں کا ایک بڑا ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے۔

 مزے کی بات تو یہ کہ نہ بیچنے والوں کو ریاست کی سزا کا خوف اور نہ ہی خریدنے والوں کو۔ یہاں مہنگے سے مہنگا چوری شدہ موبائل انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہوتا ہے۔ اورنگی ٹاؤن 13 نمبر کے قریب لگے اس بازار میں ہر رنگ و نسل کے موبائل فونز با آسانی مل جاتے ہیں۔ جن کی قیمت 3 سو روپے سے لے کر 4 ہزار روپے تک کے درمیان ہوتی ہے۔

فروخت کنندگان کے پاس نہ تو موبائل کے ڈبے موجود ہوتے ہیں، اور نہ ہی وہ خریداروں کو کوئی رسید یا شناختی کارڈ کی نقل دیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر یہاں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی خواتین بھی چوری چکاری کے موبائل فونز فروخت کرتی نظر آتی ہیں۔ اس بازار کی مصروفیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہفتے میں چھ دن ویران رہنے والا علاقہ اتوار آتے ہی میلے کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔
 مختلف کھانے پینے کی اشیاء درجنوں ریڑیوں پر فروخت ہوتی نظر آتی ہیں۔ بازار کے اندر ہی ایک بدبو دار اور غلیظ کچرا کُنڈی بھی ہے جہاں چند نشے میں دُھت موالی کھلےعام منشیات کا استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بازار میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کاروبار کے طور پر یہاں سے کم قیمت میں موبائل خرید کر یہیں تھوڑا مہنگا فروخت کردیتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس چور بازار سے چند منٹوں کی دوری پر ہی مومن آباد پولیس اسٹیشن موجود ہے لیکن اس کے باوجود فروخت کنندگان بلا کسی خوف و خطر بازار میں چوری شدہ موبائل فونز بیچتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اس غیر قانونی دھندے کیخلاف موثر کارروائی کی جائے تو شہر میں بھتہ خوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ملزمان تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن پولیس کے رویے سے لگتا ہے کہ شاید پولیس خود ان کی سرپرستی کر رہی ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس گندے دھندے کو روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن نہ لینا ایک سوالیہ نشان ہے۔
دہشتگردانہ کارروائیوں میں عام طور پر چوری شدہ موبائل فونز کا ہی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ملزمان تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب کسی ملک کے اقتصادی شہہ رگ میں ایسے بازار پروان چڑھنے لگیں تو ملک کی معیشت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ شہر سے دہشتگری ختم کرنے کیلئے چوری شدہ موبائل فونز کی فروخت پر قابو ضروری ہے، اگر اس گورکھ دھندے پر قابو نہ پایا گیا تو شاید دہشتگردی پر قابو پانا ایک خواب ہی رہے گا۔
محمد فراز

مردم شماری اورکراچی

قومی مردم شماری و خانہ شماری کی اہمیت وافادیت سے انکار ممکن نہیں کہ مستقبل کے بارے میں دوررس نتائج برآمد کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ مثلاً نئی مردم شماری کے نتائج موصول ہونے کے بعد تمام قومی اعداد وشمار اوراقتصادی اعشاریے بھی تبدیل ہوجائیں گے، ملک کی درست آبادی کا تعین ہوگا، اسی حساب سے معاشی و اقتصادی اہداف کا تخمینہ لگایا جاسکے گا۔ قومی، صوبائی اور بلدیاتی حلقہ بندیاں کی جاسکیں گی اور آبادی کے لحاظ سے انتخابی نشستوں کا تعین کیا جاسکے گا۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈزکی تقسیم کا تنازعہ بھی حل ہوجائے گا۔

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ملک بھر میں چھٹی قومی مردم شماری اور خانہ شماری رواں سال مارچ 2016 میں ہوگی، جب کہ مردم شماری کے عبوری نتائج جون 2016 میں پیش کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 18 مارچ 2015 کو وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں مسلح افواج کے تعاون سے مارچ 2016 میں مردم شماری کرانے کی منظوری دی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مردم شماری کے عمل کو شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیارکرلی گئی ہے جس کے تحت ملک بھر میں مردم شماری کا آغاز کیا جائے گا۔ مردم شماری اورخانہ شماری پنجاب، سندھ، کے پی کے، بلوچستان، فاٹا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بیک وقت کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے انتظامی حدیں بڑھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، ملک کو ایک لاکھ 62 ہزار بلاکس میں تقسیم کردیا گیا ہے، مردم شماری میں 2 لاکھ سے زائد ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ شماریات ڈویژن کے مطابق ملک میں مردم شماری کرانے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں، مردم شماری کے لیے 4 کروڑ 20 لاکھ فارم تیار ہیں جو 2008 کی مردم شماری کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

مردم شماری میں پناہ گزینوں اور ڈپلومیٹ کو شامل نہیں کیا جائے گا، مردم شماری کے لیے جو بلاکس بنائے جاچکے ہیں ان میں ہر ایک بلاک میں 200 سے 250 گھر ہوں گے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومتوں سے مدد حاصل کی جائے گی، مقامی اساتذہ، پٹواریوں اور دیگر ملازمین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ یہ مردم شماری فوج کی نگرانی میں ہوگی، ملک میں کل 151 اضلاع ہیں۔ مردم شماری کے کام کے لیے 205397 افراد کی ضرورت ہوگی۔

شماریات ڈویژن کے مطابق ان کا ڈیٹا صرف الیکشن کمیشن استعمال کرسکتا ہے۔ کسی بھی ایجنسی کو کسی بھی شخص کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے۔ اس وقت ملک میں شرح پیدائش 1.94 فیصد چل رہی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز آبادی میں اضافے کے رجحان کے حوالے سے ہر سال سروے کراتا ہے، اس کے سروے کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افرادکا ڈیٹا بھی اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 19 روز میں مردم شماری، ہاؤس سٹنگ اور بے گھر افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا جائے گا، جھوٹی معلومات دینے پر 6 ماہ کی سزا ہوسکتی ہے۔
مردم شماری پر مجموعی طور پر ساڑھے 14 ارب روپے خرچ ہوں گے، جب کہ 2 لاکھ 5 ہزار فوجی جوان ڈیوٹی دیں گے۔ اس سے قبل مکمل مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی اور اس کے لیے ڈھائی لاکھ فوجی جوان تعینات کیے گئے تھے۔ اس وقت بلاکس کی تعداد ایک لاکھ 4 ہزار تھی۔
واضح رہے کہ ملک میں آخری مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ ملک میں ہر دس سال بعد قومی مردم شماری بالترتیب 1951، 1961، 1972، 1981، 1991 میں پانچویں مردم شماری ہونی تھی، ابتدائی مرحلے میں خانہ شماری کا کام مکمل کرلیا گیا تھا لیکن اندرون سندھ آبادی میں 770 فیصد تک اضافے کی ناقابل یقین رپورٹوں کے پیش نظر یہ عمل روک دیا گیا تھا۔ اس وقت کی خانہ شماری کے نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی 81 ملین سے بڑھ کر 133 ملین ہوگئی تھی۔ یاد رہے کہ 1991 کی مردم شماری تین مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد یکم مارچ سے 13 مارچ 1998 کو ہوئی۔
واضح رہے کہ 2010 میں سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل نے ملک میں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دی تھی جس کے تحت ملک میں خانہ شماری اکتوبر 2010جب کہ چھٹی مردم شماری مارچ 2011 میں ہونا تھی مگر بوجوہ نہیں ہوسکی تھی۔ اس سے قبل بھی 2008 میں چھٹی مردم شماری ہونی تھی تاہم بعض وجوہات کے باعث اسے ایک سال کے لیے موخر کردیا تھا جب کہ 2009 میں فاٹا، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے کہنے پر ایک مرتبہ پھر مردم شماری و خانہ شماری موخر کردی گئی تھی۔
بعدازاں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 2014 میں قومی مردم شماری کرانے کے احکامات جاری کردیے تھے، تاکہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق کروائے جاسکیں۔ وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن کے خط کے جواب میں ادارہ شماریات کو حکم دیا کہ چاروں صوبوں میں مردم شماری کے لیے تیاریاں کی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے خط میں وزیر اعظم سے درخواست کی تھی کہ ملک میں مردم شماری یقینی بنائی جائے۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ملک میں مردم شماری کرانے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف کو خط لکھا تھا۔
مردم شماری کے نہ ہونے کے باعث کراچی سمیت اندرون سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کی تشکیل کے موقعے پر کئی اضلاع میں آبادی کم اور ووٹرز کی تعداد زیادہ آرہی تھی۔ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جن کا وجود 1998 کی مردم شماری میں نہیں ہے تاہم نئی آبادکاری 2011 کی خانہ شماری کی بنیاد پر یہاں بلدیاتی حلقے تشکیل دیے گئے ہیں۔
اسی طرح سندھ اور بالخصوص کراچی جو بڑھتی ہوئی آبادی کی زد میں ہے حقیقی فنڈز سے محروم نہیں ہوگا اور عوام اپنے جائز حق سے محروم نہیں رہیں گے۔ کراچی کی آبادی 1998 کی مردم شماری کے مطابق 98,20700 ہے جس میں سے 8811070 کی آبادی شہری حکومت کا حصہ ہے جب کہ 1009630 کی آبادی کنٹونمنٹ بورڈ کے حصے میں شامل ہے۔ جب کہ 2011 کی خانہ شماری کے بلاکس کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں میں کراچی میں ووٹرز کی تعداد 71 لاکھ سے زائد ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت شہر کراچی میں رجسٹرڈ ووٹرز 7082319 ہے ان میں 40 لاکھ سے زائد مرد جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد 301735 ہے۔ واضح رہے کہ 5 دسمبر 2015 کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔
قانون کے مطابق فنڈز کا اجرا آبادی و غربت اور دیگر عوامل کے مطابق کیا جاتا ہے، کراچی میں 1998 کی مردم شماری کے موقعے پر کئی مقامات پر آبادی کا یا تو وجود ہی نہیں تھا یا آبادی 100 افراد سے بھی کم تھی تاہم 16 سال کے دوران ہزاروں افراد کی نقل مکانی بالخصوص کراچی کے مضافات میں کئی بستیاں وجود میں آگئی ہیں۔
  مردم شماری کے لحاظ سے ضلع غربی میں دیہہ مٹھان کی آبادی صرف 99 افراد پر مشتمل تھی تاہم اب یہ گلشن بہار کی توسیع ہے اور ہزاروں افراد رہائش پذیر ہیں، ضلع شرقی میں باغ کورنگی میدانی علاقہ تھا اور آبادی کا کوئی وجود نہیں تھا، 5 سال قبل یہاں ہزاروں افراد کی آبادی ہوچکی ہے۔ 15 سال قبل گلستان جوہر کی میونسپل حدود الٰہ دین پارک سے پہلوان گوٹھ کی آبادی صرف 43 ہزار تھی اب یہاں کثیر تعداد میں فلیٹوں کی تعمیر ہونے سے آبادی لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔ علاوہ ازیں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرکے پاکستانی شہریت حاصل کرچکی ہے۔ اس ضمن میں حکومت اقدامات کر رہی ہے۔
ہرچند کہ پاکستان میں مردم شماری اپنی مقرر کردہ دس سالہ مدت کے عرصے میں کبھی نہیں ہوئی بلکہ ایک سے دوسری مردم شماری کے دورانیے میں کئی کئی سال کا غیر ضروری وقفہ آتا رہا۔ اب جب کہ اگر مارچ 2016 میں مردم شماری ہونی ہے تو یہ 17 سال کے بعد ہوگی۔ حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ ہر دس سال بعد مردم شماری کا عمل بلاتاخیر منعقد ہوتا رہے تاکہ ملکی و قومی مسائل باآسانی حل ہوسکیں۔
شبیر احمد ارمان