پرویز مشرف:ملبہ کس پر گرا؟

مجھے یقین ہے پرویزمشرف بیرون ملک جاتے ہی صحت یاب ہو جائیں گے، میں اس یقین کی وجہ نہیں بتا سکتا ، بس یوں سمجھئے کہ میری چھٹی حس میرے دماغ میں یہ گھنٹیاں بجا رہی ہے۔ پرویز مشرف کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے اور بہت کچھ کہا جاتا رہے گا۔ ان کے لئے ’’ملبہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے، جو بقول عدلیہ اور اپوزیشن، حکومت عدلیہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر عدلیہ نے اس ملبے سے جان چھڑالی۔

 اکثر جگہوں، خاص طور پر آج کل لاہور میں اورنج ٹرین کے راستوں پر گری ہوئی عمارتوں کے باہر ایسے بورڈ رکھے ہوئے ہیں، جن پر لکھا ہے، ’’ملبہ برائے فروخت‘‘۔۔۔ لیکن پرویز مشرف بقول شخصے وہ ملبہ ہیں، جسے کوئی مفت میں بھی لینے کو تیار نہیں ، بلکہ سب اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی جو سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے، پانچ سال اقتدار میں رہی، خود ہی پرویز مشرف کو بیرون ملک گارڈ آف آنر کے ساتھ بھیجا، ان کے خلاف کارروائی کا نام تک نہیں لیا، مگر اب سب سے زیادہ شور مچا رہی ہے کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت کیوں دی گئی ہے؟ 
آصف علی زرداری جب تک ملک کے صدررہے، پرویز مشرف کے بارے میں زبان نہ کھولی، تاہم جب عہدۂ صدارت سے ہٹ گئے اور پرویز مشرف ملک میں واپس آگئے تو لاڑکانہ کے جلسے میں بلے کو نہ چھوڑنے کا مشورہ دیتے رہے۔ پیپلزپارٹی نے تو پرویز مشرف کو کبھی اپنی جان سمجھا ہی نہیں تھا، مسلم لیگ (ن) نے غلطی سے اپنی جان ان کے ہاتھ میں دے دی تھی، جو اب سپریم کورٹ کے لطف و کرم سے چھوٹ گئی ہے تو پیپلزپارٹی کیوں واویلا کر رہی ہے؟

میں ملک کا صدر یا وزیر اعظم ہوتا تو بہت پہلے پرویز مشرف کی خدمت میں پھولوں کا گلدستہ لے کر پیش ہوتا اور دست بستہ عرض کرتا کہ حضور آپ ملک سے روانہ ہو جائیں، کیونکہ آپ کی وجہ سے ہمارے ملک کا عدالتی و حکومتی نظام بری طرح ایکسپوز ہو رہا ہے، ہمارے پراسیکیوشن نظام کی دھجیاں اُڑ رہی ہیں اور ہم پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بنے ہوئے ہیں، مگر برا ہو اس سیاست اور جھوٹی انا کا کہ جس نے ہمارے ارباب اختیار کو یہ احسن راستہ اختیار نہیں کرنے دیا۔

 وہ پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کا مجرم بنوانے کے لئے غیبی معجزے کے منتظر رہے، حالانکہ ایسے معجزے وادئ کوہ قاف میں تو رونما ہو سکتے ہیں، پاکستان میں نہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان جب اپوزیشن میں تھے تو نجانے کس ترنگ میں یہ کہہ گئے کہ ایک بار کسی جرنیل کو آئین شکنی پر نشان عبرت بنا دیں پھر کسی جرنیل کو جرأت نہیں ہو گی کہ وہ آئین توڑ کر حکومت پر قبضہ کرے۔ آج کی صورت حال پر وہ یقیناً چپ سادھ لیں گے۔ جس ملک کا قانون کچھوے کی چال چلتا ہو اور آئینی و قانونی موشگافیوں کے ستر ہزار راستے کھلے ہوں، وہاں ایسے کسی ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ 
کتنے برس بیت گئے، عدالتوں کو اس کیس سے کھلواڑ کرتے، کتنے جج بدلے اور کتنی عدالتیں، مگر’’ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘۔۔۔ جب سب کو پتہ تھا کہ یہ صرف ایک تماشا ہے تو پھر اس تماشے کو اتنے عرصے تک جاری کیوں رکھا گیا؟ جس انتظامی و عدالتی نظام میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ وہ پرویز مشرف کو بطور ملزم عدالت ہی میں پیش کر سکے، اس نظام سے ہم یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ وہ ایک سابق جرنیل کو غداری کے مقدمے میں سزا دے گا۔
وقت نے جس طرح ہمارے عدالتی و حکومتی نظام کے کس بل نکالے ہیں، اسی طرح پرویز مشرف کو بھی بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ وہ ویسے تو کمانڈر تھے لیکن اب واضح طور پر ایک بزدل اور کم ہمت شخص کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے نیلسن منڈیلا کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے مصلحت کوشی کا راستہ اختیار کیا۔ وہ بڑے بڑے خواب لے کر وطن واپس لوٹے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ قوم انہیں ہاتھوں ہاتھ لے گی۔ پورا نظام ان کے گرد گھومے گا، عوام انہیں نجات دہندہ کے طور پر قبول کر لیں گے۔
 وہ اپنی وردی والی پوزیشن سے باہر نہیں نکل سکے، حالانکہ ان کے اردگرد کی فضا یکسر تبدیل ہو چکی تھی۔ عوامی حمایت سے محرومی کا دھچکا ابھی انہیں ہچکولے دے رہا تھا کہ ان پر مقدمات کی بھرمار ہو گئی۔ ان کا خیال تھا۔ ان مقدمات کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے، حکومت کو بے بس کر دیں گے ، لیکن ان کی حمایت میں تو ایک چڑی تک نہ نکلی، تب انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ فوج ان کی محافظ ہے، وہ ان کے خلاف کچھ نہیں ہونے دے گی۔
یہ ایک شکست خوردہ انسان کی آخری بڑھک تھی، جس سے انہوں نے فوج جیسے قومی ادارے کو بھی مشکل میں ڈال دیا۔ ایک ایسے موقع پر جب جنرل راحیل شریف فوج کو غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ بنا چکے تھے، پرویز مشرف نے اپنے بچاؤ کے لئے ان کے سامنے دستِ سوال دراز کر دیا سب سے بدترین ڈرامہ وہ تھا جب آرٹیکل 6 کی فرد جرم عائد ہونے سے بچنے کے لئے پرویز مشرف آرمڈ فورسز کے امراض دل ہسپتال میں داخل ہو گئے اور اس وقت تک باہر نہ آئے، جب تک ’’خطرہ‘‘ ٹل نہ گیا۔ میرے خیال میں پرویز مشرف اپنی شخصیت کے سارے تاثر کا جس طرح بیڑہ غرق کر چکے تھے، اس کے بعد انہیں ویسے ہی ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دینی چاہئے تھی، کیونکہ یہ راز تو فاش ہو ہی چکا تھا کہ وردی میں بہادر کمانڈو بننے والا وردی کے بغیر کس طرح بھیگی بلی بن جاتا ہے۔
جو تاریخ آج رقم ہوئی ہے، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اس نے کوئی سبق نہ دیا ہو۔ تاریخ تو بہت غضب ناک، شرمناک اور عبرتناک سبق دے کر آگے بڑھ گئی ہے، اگرچہ سپریم کورٹ کے آخری حکم میں صرف پرویز مشرف کو آئین شکنی کا مجرم قرار دے کر مقدمہ چلانے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن تاریخ تو کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔ آج کل سہولت کاروں کی اصطلاح بہت استعمال ہوتی ہے۔ کیا پرویز مشرف کے ساتھ سہولت کار موجود نہیں تھے۔ کیا عدلیہ، سیاست اور مقننہ میں موجود سہولت کاروں نے پرویز مشرف کو آئین شکنی میں پوری کی پوری حمایت فراہم نہیں کی؟
 ایسے پیچیدہ کیس میں اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ معاملہ بالکل سیدھا سادہ ہے اور صرف پرویز مشرف کو مجرم قرار دے کر نئی تاریخ رقم کی جا سکے گی تو یہ خام خیالی ہی نہیں، بلکہ قوم کے ساتھ دھوکہ دہی کی واردات بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 6 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کیس کا کوئی ایک سرا بھی ہاتھ نہیں آیا، البتہ بڑے ملزم کو بیرون ملک جانے کے لئے اجازت کا پروانہ مل گیا۔
حالات تو ایسے نہیں، تاہم میں پھر بھی رجائیت کا اظہار کرتے ہوئے یہی کہوں گا کہ ہم نے آگے کا سفر کیا ہے۔ اگر ہم اس سارے معاملے کے تاریک پہلو نہ دیکھیں اور روشن پہلوؤں پر نظر رکھیں تو ہمیں کئی مثبت زاویئے بھی نظر آئیں گے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ پرویز مشرف کا اس طرح ایک ہارے ہوئے مایوس شخص کے طور پر بیرون ملک جانا، اس امر کی گواہی ہے کہ پاکستان میں کسی حاضر یا ریٹائرڈ ڈکٹیٹر کے لئے ساز گار فضا موجود نہیں۔ پاکستان آکر پرویز مشرف کا یہ زعم بھی دور ہو گیا کہ شاید یہاں کے عوام ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں آ جائیں گے۔
 پرویز مشرف نے اپنے دورِ حکمرانی میں کام بھی کئے، معاشی خوشحالی بھی دی، امن و امان بھی بہتر تھا، مگر اس کے باوجود ان کی سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ وہ ایک آمر اور غیر منتخب حکمران تھے۔ ان کی مثال سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ پاکستانی عوام سونے کا نوالہ کھلانے والے آمر کو بھی دل سے حکمران تسلیم کرنے کو تیار نہیں، وہ جمہوریت کو چاہے وہ اچھی ہو یا بُری، اپنی راہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے پرویز مشرف کو اسی لئے مسترد کیا کہ وہ جمہوریت پر شب خون مار کر حکمران بنے تھے۔ ان کا سب سے بڑا احتساب تو خود عوام نے کیا ہے کہ انہیں اپنی حمایت کے لائق نہیں سمجھا۔
 رجائیت کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی اب اتنی جرأت رندانہ پیدا کر چکے ہیں کہ آمر کو آمر کہتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں رہا۔ یہ پہلی کامیابی ہے، ابھی اس آئیڈیل صورتِ حال کو چھونے کا لمحہ نہیں آیا کہ ہم ماضی کے کسی ڈکٹیٹر کو آئین شکنی پر سزا بھی دے سکیں۔ البتہ پرویز مشرف کے ساتھ اب تک جو ہو چکا ہے اور جس طرح کی ہزیمت اور بے چارگی کی علامت بن کر انہوں نے پاکستان میں وقت گزارا ہے، اسے دیکھتے ہوئے تھوڑا بہت اطمینان ضرور کیا جا سکتا ہے، وگرنہ پاکستان کی تاریخ تو یہ رہی ہے کہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے اور آمریت کی چھتری تلے ملک کودو لخت کروانے والے جرنیل اعزازات سے نوازے جاتے رہے ہیں۔
نسیم شاھد

کراچی کی لیڈر شپ

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر تاج حیدر نے مجھے
کراچی کے امن کے حوالے سے کہا کہ کراچی ایک سونے کی چڑیا ہے، اور کراچی سے ہر ایک کو اپنا حصہ چاہیے۔ جب تک کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھا جاتا رہے گا کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کی بات سولہ آنے درست ہے کیونکہ کراچی سے سب نے کچھ کچھ لیا، لیکن کراچی کو کسی نے کچھ دیا نہیں۔ پی پی پی کے ایک اور رہنما نے کہا کہ کراچی کی لیڈر شپ اسی کو ملے گی جس سے عوام پیار کرتے ہیں۔
کراچی ہمیشہ سیاسی حوالے سے گیم چینجر رہا ہے، پاکستان میں  اقتدار کی تبدیلی کے کھیل میں کراچی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماضی میں اٹھنے والی تحریکوں کی وجہ سے سے مرگلہ کی پہاڑیوں میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والے یہی سمجھتے ہی کہ خطرہ ابھی بہت دور ہے اس کو ہینڈل کر لیں گے لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ایسا بہت کم ہوا ہے اور ایک تیز اندھی نے سب کچھ آناًفاناً اڑا کر رکھ دیا تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے منحرف رہنماؤں کی الگ جماعت بنانے کے سلسلے نے کراچی کی سیاست کا مکمل رخ تبدیل کر دیا ہے۔
مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی و دیگر کے الزامات پر ہم بات نہیں کریں گے کیونکہ گزشتہ 20 سالوں سے ہم یہی تو سب کچھ سنتے آ رہے ہیں، لیکن اس پر بات ضرور کریں گے کہ مصطفیٰ کمال نے اپنی سابقہ جماعت پر جو الزامات لگائے اس پر حکومت کیا کر رہی ہے؟ غداری کے تمغے دینا تو خیر ہماری روایت بن چکی ہے، پاکستان کا کون سا ایسا سیاسی لیڈر ہے جیسے غدار نہیں کہا گیا۔ اہمیت اس بات کی بھی نہیں ہے کراچی کے عوام سے کتنا پیسہ وصول کیا گیا۔ کراچی کے عوام سے ٹیکس کی صورت میں 70 فیصد تو ویسے ہی وفاق لے رہا ہے لیکن کراچی کو حصہ کتنا دیا جاتا  ہے یہ سوچنے کی بات ہے۔
تاج حیدر بتاتے ہیں کہ جب وفاق نے ایک بریفنگ ہمیں دی جس کے مطابق  وفاق کی جانب سے جی ایس ٹی  کلیکشن کے اعداد و شمار دیے گئے۔ جس میں 183 ارب روپوں میں سے 133 ارب روپے سندھ نے دیے۔ گیس لائن ڈالنے کے لیے،71% سندھ سے جا رہا ہے جس کی سندھ کو ضرورت نہیں ہے۔ سندھ اپنی ضرورت سے زیادہ گیس پیدا کر رہا ہے اس سے زیادہ بھی پیدا کر سکتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ ہم ملکی و غیر ملکی فرق برابر کرنے کے لیے آپ کو گیس کم پیسوں میں دے رہے ہیں جب کہ  ہم کہتے ہیں کہ 133 ارب روپوں سے 25/30  ارب روپے ہی یہاں لگا دیں ساری گیس ہم دے سکتے ہیں۔
جب کراچی کو کوئی اون نہیں کرے گا تو صورتحال تو یہی ہو گی۔ آج مصطفیٰ کمال اور ان  کے ہمنوا، متحدہ قومی موومنٹ پر جتنے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بہت پرانے ہو چکے ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان باتوں و الزامات کا حکومت کو شروع سے علم تھا۔ میرے سامنے پاکستان کے ایک موقر اخبار کا 16 مارچ 1996ء کی خبر کا تراشا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’الطاف حسین کے خلاف دستاویزی ثبوت لے کر پاکستانی ٹیم لندن پہنچ گئی: نصیر اللہ بابر۔ رحمان ملک کاروائی مکمل ہونے تک لندن میں قیام کریں گے اور دستاویزات کی رسید لیں  گے۔ 
ایف آئی اے کے ڈائریکڑ جنرل رحمان ملک پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ماہرین  قانون کی ٹیم دستاویزی ثبوت لے کر لندن گئی تھی تا کہ ایم کیو ایم کے قائد کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے رحمان ملک کو خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ وہ کارروائی مکمل ہونے تک لندن میں رکے رہیں۔ کیونکہ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان نہیں تھا۔
اس کے باوجود  برطانیہ کے ہوم سیکریٹری مائیکل ہاروڈ نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہونے کے باوجود ایسا طریق کار موجود ہے جس میں الطاف حسین کو پاکستان حوالے کیا جا سکتا ہے، وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سینیٹر اقبال حیدر نے کافی مواد الطاف حسین کے خلاف دیا ہے۔ آج 2016ء میں بھی الطاف حسین ہر طرح کے الزامات کے باوجود لندن میں مقیم ہیں، عمران خان، جارج گیلوے، حبیب جان بلوچ، بریف کیس بھر کر برطانیہ جانے والے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا  سب اس دعوے کے ساتھ گئے کہ الطاف حسین کو گرفتار کر کے پاکستان لائیں گے لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
عوام کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ رحمان ملک صاحب آپ ناکام کیوں لوٹے، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تو بریف کیس لے کر گئے تھے وہ بھی عوام کو نہیں بتا سکے کہ ان بریف کیسوں کو کس سمندر میں پھینک آئے۔ متحدہ تین حصوں میں تقسیم ہوئی، بعد میں عامر خان نے معافی مانگ لی اور دوبارہ متحدہ کا حصہ بن گئے۔
متحدہ میں دھڑے بازیوں اور اختلافات کی خبریں میڈیا میں آتی رہیں، لیکن بحث اس پر بھی نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں اتنے افراد دشمنوں نے خود کش دہماکوں میں شہید نہیں کیے جتنے کراچی میں لسانی فسادات میں بے گناہ انسانوں کو مارا گیا۔ چاہے ان کا نظریہ کچھ بھی ہو، لیکن بلوچ، پختون تو ان ٹارگٹ کلرز کی وجہ سے  ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ مارے گئے۔ مصطفیٰ کمال کی تمام باتوں سے اتفاق کر بھی لیا جائے تو حماد صدیقی کو معصوم کارکن کیسے کہہ سکتے ہیں۔
اجمل پہاڑی، صولت مرزا کے وکیل صفائی کیونکر بن سکتے ہیں، نہیں یہ سب درست نہیں ہے، مصطفی کمال کی تمام تر باتوں کا حکومت اور عوام کو بخوبی علم تھا، یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن مصطفیٰ کمال ان سفاک قاتلوں کو معصوم کہہ کر ان کے لیے عام معافی کا اعلان کرنے کا وکیل صفائی کا کردار ادا نہیں کر سکتے، اس طرح تو خودکش دہماکے کرنے والے بھی یہی جواز دیتے ہیں کہ امریکا کے ڈرون حملے اور ان کی سر زمین پر قابض ملک کی حمایت اور تمام سپورٹ دینے والوں نے ہمارے ساتھ ظلم کیا،  اس لیے تو پھر سب کو عام معافی دینے کا حق بنتا ہے۔
مصطفیٰ کمال صاحب آپ نے متحدہ کی اندرونی کہانی بہت اچھے لفظوں میں بیان  کی لیکن جب ہر کوئی ماں کے پیٹ سے مجرم پیدا نہیں ہوتا، حالات و واقعات اور لالچ ہی ان کو مجرم بننے پر مجبور کرتے ہیں، آپ کو ان کے معاملات عدالتوں پر  چھوڑ دینے چاہیئں، ان کے خلاف تیز تر عدالتوں میں جلد مقدمات چلانے کی سفارش کرنی چاہیے، ہر گواہ کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ آپ اور آپ کی ٹیم کو کھڑا ہونا چاہیے تا کہ جب وہ گواہی دینے آئے تو اسے کوئی واپسی میں قتل نہ کر دے، آپ کو چاہیے کہ ایسے لوگوں سے ہاتھ اٹھا لیں اور نئے نوجوانوں کو اجمل پہاڑی بننے سے روکیں۔ بھارتی را کے ایجنٹ یا بلیک واٹر کے ایجنٹ بننے سے روکیں، تمام قومیتوں کی بات کریں۔ مظلوم اردو بولنے والا نہیں بلکہ کراچی میں بسنے والی دیگر قومتیں بھی ہیں۔
وہ اقلیت میں ہیں ان کی حفاظت کے لیے انھیں اپنے پاس بلائیں۔ ان کو احساس تحفظ دیں۔ لیکن مجرموں  کو معصوم قرار دیں گے تو کراچی کی عوام آپ کو کراچی کی لیڈر شپ دینے کے لیے بالکل تیار نہیں ہونگے۔ کراچی کی لیڈر شپ حاصل کرنی ہے تو لسانیت کے خول سے جتنی جلدی باہر نکل سکتے ہیں باہر نکل آئیں ورنہ جتنے بھی لوگ آپ کے پاس آ رہے ہیں آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے جائیں گے۔ آپ ہر سال تجدید عہد وفا کرتے رہے ہیں اس بار عوام سے عہد کریں کہ اپنے خاندان اپنے بچوں کو واپس پاکستان لائیں گے۔ یہاں عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا ہو گا، لیاری بھی جانا ہو گا۔
کٹی پہاڑی بھی جانا ہو گا۔ ان سے معافی بھی مانگنی ہو گی کہ  یہ پر امن ثقافتی علاقے پوری دنیا میں بد نام ہوئے۔ کراچی سونے کی چڑیا ہے، اس سے حق لینا ہے تو حق دینا بھی ہو گا۔ متحدہ کے منحرف اراکین با الفاظ دیگر باغیوں کو اکٹھے کرنا اہم نہیں ہے۔ بلکہ اہم یہ ہے کہ کراچی میں امن کے لیے آپ کو ٹارگٹ کلرز سے ہاتھ اٹھانا ہو گا،  کراچی کے عوام تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں الطاف حسین کی جگہ مصطفی کمال آ گئے اور اسٹرکچر وہی رہا تو کوئی بھی موومنٹ بنا لیں، اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور اور اغوا برائے تاوان والوں کو بلوچستان کے عوام سے ملا کر این آر او لینے کے لیے کراچی کی مکمل حمایت آپ کے ساتھ نہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ برین واش سب کے ہوئے ہیں۔
ان کو سزا ہو یا رہائی یہ اگر آپ کے ساتھ ہونگے تو کراچی کی باشعور عوام آپ کے ساتھ نہیں ہوگی۔ فیصلہ کر لیں کراچی کی لیڈر شپ چاہیے یا ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور مجرموں کی لیڈرشپ۔
قادر خان

سیدھی انگلیوں گھی کب نکلا؟

چار برس پہلے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایسے 35 لاکھ دولت مند پاکستانیوں کا ڈیٹا مرتب کیا جو بڑے بڑے بنگلوں اور اپارٹمنٹوں میں رہتے ہیں، ایک سے زائد بینک اکاؤنٹ اور گاڑی کے مالک ہیں، اور سال میں ایک سے زائد بار بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں مگر ٹیکس خور ہیں۔
وفاقی ٹیکس اداروں کا اندازہ ہے کہ پاکستان کی قومی پیداوار میں تجارت کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے۔ مگر 40 لاکھ چھوٹے بڑے تاجروں میں سے لگ بھگ ایک لاکھ 40 ہزار تاجر ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں۔ گویا قومی پیداوار میں پانچویں حصے کا مالک طبقہ محض 0.05 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔
اس ملک کی 20 کروڑ آبادی کے 1169 منتخب نمائندے ٹیکس قوانین بنانے والی وفاقی پارلیمنٹ اور چار صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ گذشتہ ٹیکس سال میں 95 ارکانِ اسمبلی اتنے غریب نکلے کہ انھوں نے ٹیکس ریٹرن میں زیرو آمدنی دکھائی، اور خطِ غربت تلے زندگی گزارنے والے 129 ارکانِ اسمبلی نے خود کو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے قابل تک نہیں سمجھا۔
سال 14-2013 کے ٹیکس ریکارڈ کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت میں بدلنے کے لیے کوشاں مولانا فضل الرحمان نے 15688 روپے، نیا پاکستان بنانے میں دن رات مصروف عمران خان نے دو لاکھ 18 ہزار، پاکستان کو اقتصادی ٹائیگر بنانے والے نواز شریف نے 26 لاکھ، عوام کے استحصال پر تڑپ اٹھنے والی فریال تالپور نے 48 لاکھ روپے اور حکومت کے عیب جو قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے ایک لاکھ 54 روپے ٹیکس دیا۔ جبکہ تمام ٹیکس پالیسیوں کے داروغہ اسحاق ڈار نے 28 لاکھ 67 ہزار روپے جمع کرایا۔
المختصر قومی خزانے کو تمام وفاقی و صوبائی پارلیمینٹیرینز کی جانب سے 55 کروڑ 32 لاکھ روپے کا ٹیکس نذرانہ ملا۔ اس میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے رکنِ پنجاب اسمبلی چوہدری ارشد جاوید کے 24 کروڑ 80 ہزار اور چوہدری اعتزاز احسن کے سوا کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
تصویر کچھ یوں ہے کہ 20 کروڑ پاکستانیوں میں سے اس وقت تقریباً دس لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں ہیں، ان میں دو تہائی تنخواہ دار ہیں جن کا ٹیکس پیشگی ہی کٹ جاتا ہے۔
 
 نواز شریف نے 26 لاکھ ٹیکس ادا کیے
مگر حکومت نے ہمت نہیں ہاری۔ اسحاق ڈار کا ہدف ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے پہلے پہلے ٹیکس گزاروں کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ کے کم از کم 20 لاکھ ہو جائے۔
اس مقصد کے لیے حکومت نے پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کی سب سے مہربان والنٹیری ٹیکس کمپلائنس سکیم (یو ٹی سی ایس) کے نام سے یکم فروری کو نافذ کی جس سے فائدہ اٹھانے کی حتمی تاریخ 15 مارچ ہے۔ یہ سکیم تمام سرکردہ تاجر تنظیموں سے چار ماہ کے صلاح مشورے کے بعد تیار کی گئی۔
تاجروں کو ٹیکس ریٹرن میں پانچ کروڑ تک آمدنی دکھانے پر ہر سو روپے پر صرف دو پیسہ ٹیکس اور 25 کروڑ یا اوپر آمدنی دکھانے پر سو روپے پر 15 پیسے جمع کرانے ہوں گے۔ اس کے بدلے تاجروں سے آمدنی کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا اور سنہ 2018 تک ان کی آمدنی کا کوئی آڈٹ نہیں ہو گا۔ سکیم کا مقصد تاجروں میں ٹیکس کلچر کا فروغ بتایا گیا ہے تاکہ سنہ 2018کے بعد اس کے فوائد دیکھتے ہوئے خود بخود نارمل شرح پر ٹیکس دینے کے عادی ہوتے چلے جائیں۔
لیکن ہوا کیا؟ جس سکیم کا ہدف کم ازکم دس لاکھ تاجروں کو انھی کی شرائط پر ٹیکس نیٹ میں لانا تھا۔ آج کی تاریخ تک ان میں سے تین ہزار سے بھی کم نے ٹیکس ریٹرن فائل کیے ہیں اور باقی مطالبہ کررہے ہیں کہ سکیم میں کم ازکم 30 جون تک توسیع دی جائے۔
باقاعدگی سے ٹیکس جمع کرانے والے اس رضا کارانہ ٹیکس سکیم کے امتیازی پہلوؤں سے ناخوش ہیں لیکن کالی بھیڑیں پھر بھی سفید ہونے پر آمادہ نہیں۔ اب ایک ہی راستہ ہے کہ جس طرح حکومت نے پی آئی اے کے ملازموں سے نمٹنے میں پھرتیاں دکھائی ہیں۔ ایسی ہی پھرتیاں ہر حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں ناکام بنانے والے تاجر طبقے سے ٹیکس نکلوانے میں بھی دکھائے تو مانیں۔
اچھا تو پھر ان 35 لاکھ خوشحال ٹیکس فری پاکستانیوں کا کیا کرنا ہے جن کی فہرستیں نادرا سنہ 2012 سے سنبھالے بیٹھی ہے؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’کراچی کا کچرا‘

’’کچھ سنا آپ نے ضمیر جاگ گیا ہے؟‘‘
’’مبارک ہو لیکن اس کو جگایا کس نے ہے ۔ ضمیر توگہری نیند سو رہا تھا۔‘‘
’’جگانے والے نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ضمیر کو بتایا گیا تھا کہ اگر وہ نہیں جاگے گا تو اسے گہری نیند سلا دیا جائے گا۔‘‘
’’ضمیر نے جاگنے کے بعد کیا ’کمال‘ کیا ہے؟‘‘
’’بھائی کی شان بیان کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ہر خاص و عام پہلے ہی واقف ہے۔‘‘
’’پھر نئی بات کیا ہے؟‘‘
’’نئی بات یہ ہے کہ برسوں سے’قائم‘ افراد اور’ڈاکٹر‘ بھی اس ’کمال‘ کا شکار ہو رہے ہیں۔ بہت جلد محکمہ سیاسی موسمیات نے مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے اور وہ بھی گرج چمک کے ساتھ۔‘‘
’’اسی لیے کراچی والوں نے شہر کی صفائی کا اعلان کر دیا ہے ۔ انہیں ڈر ہے کہ بارش کا پانی کہیں شہر میں جمع نہ ہوجائے ۔ اس لیے جتنی جلد ممکن ہوسکے اس پانی کو جمع نہ ہونے دیا جائے اور گٹروں کی صفائی شروع کردی گئی ہے۔‘‘
’’ابھی تو کراچی میں گٹروں کی غلاظت جمع ہے یہ نکلے گی تو بارش کے صاف پانی کو نکلنے کا راستہ ملے گا۔‘‘
’’یہ عہد بھی کیا گیا ہے کہ اس غلاظت کو شہر سے نکال کر ہی دم لیں گے اور اسے انجام تک پہنچائیں گے۔‘‘
’’ کراچی میں گٹرکا پانی کیا کم تھا جو یہ بارش کا پانی بھی جمع ہونے کے لیے جگہ تلاش کررہا ہے۔‘‘
’’لیکن یہ بات تو طے ہے کہ شہر میں صفائی کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی اور کراچی والے کسی رحمت کی بارش کے منتظر تھے۔‘‘
’’لیکن میرے بھائی بارش تو آپ کے لیے وبال جان بن جائے گی۔ آپ کے پاس نکاسی کا نظام جو نہیں ہے۔‘‘
’’نظام تو ہے لیکن وہ اکثر سویا رہتا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو وہ گھر سے نکلتا ہے۔‘‘
’’یہ تم اسی نظام کی بات کررہے ہونا ں جس کے گھر کے باہر کسی نے کچرا ڈالا تو وہ جاگ گیا تھا ۔‘‘
’’نظام کو چھوڑو اب شہر میں جھاڑو پھرنا شروع ہوگیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کچرے کو اصل مقام پر ٹھکانے لگایا جاتا ہے یا خود کچرا پھینکنے والوں کو اصل مقام پتا چلتا ہے۔ ‘‘
’’کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو کراچی سے کئی بار کچرے کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن یہ کچرا شہر سے نکلتا ہی نہیں ہے۔‘‘
’’اسی لیے اس کچرے کی وجہ سے شہر میں مچھروں کا راج ہے۔مجھے ڈر ہے کہ بارش کے بعد ان مچھروں کی مزید افزائش ہوگی۔‘‘
’’دیکھتے ہیں اس بار بارش رحمت بنتی ہے کہ زحمت…!!‘‘
میرشاہد حسین