پراپرٹی ڈویلپرز کی ہوس

یوں تو یہ کہانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مگر جب تفصیلات واضح طور پر دیکھی جائیں تو یہ کہانی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دیتی ہے۔ طاقتور بلڈرز اور ڈویلپرز اپنے پسندیدہ علاقوں میں نسلوں سے رہائش پذیر غریب لوگوں کو ان زمینوں سے زبردستی بے دخل کر دیتے ہیں۔ پھر خالی کروائی گئی ان زمینوں پر اعلیٰ درجے کی قلعہ بند ہاؤسنگ اسکیمیں تعمیر کی جاتی ہیں جن کو پانی اور سیوریج جیسی میونسپل سہولیات تک خصوصی رسائی دی جاتی ہے۔ کچھ جگہوں پر تو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
ان امتیازی کالونیوں کو عوام کے سامنے ‘ترقیاتی منصوبے’ کہہ کر متعارف کروایا جاتا ہے، اور ان ‘ترقیاتی منصوبوں’ کے اندر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے گھرانوں کو رہائش کے لیے تمام سہولیات سے آراستہ جگہیں فراہم کی جاتی ہیں۔
قوانین کو توڑا مروڑا جاتا ہے تاکہ ڈویلپرز کو سرکاری زمین کوڑیوں کے مول عنایت کی جا سکے، جبکہ ان منصوبوں کا اندرونی انفراسٹرکچر بھی سرکاری اداروں کے اخراجات سے تعمیر کروایا جاتا ہے۔ یہاں سے بے دخل کیے گئے ہر مقامی شخص کو احتجاج کرنے پر پولیس گرفتار کر لیتی ہے، اور دھمکاتی ہے کہ اگر منہ بند نہ رکھا گیا تو سنگین مقدمات میں پھنسا دیا جائے گا۔
یہ کہانی اتنی باقاعدگی سے دہرائی جاتی ہے کہ اب یہ ایک معمول ہی بن گیا ہے۔ اس اخبار کے ایک تحقیقی مضمون نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے بارے میں ایک ایسے ہی معاملے کی تفصیلات سے پردہ چاک کیا ہے، مگر اسی طرح کی ناانصافیوں کی کہانیاں ملک کے تمام بڑے پراپرٹی ڈویلپرز کے بارے میں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ اسلام آباد میں ڈی ایچ اے ویلی فراڈ، اور الائیسیئم ہولڈنگز کیس، جو ایک شہر سے زیادہ پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں سابق آرمی چیف کے بھائی کا نام بھی موجود ہے، کی تحقیقات مکمل نہیں کروائی گئیں اور نہ ہی ملزمان کے خلاف الزامات کا تعین کیا گیا۔
امراء اور طاقتور افراد کو ان اسکینڈلز سے بچ نکلنے کا ہنر بخوبی آتا ہے، اور قانون کے ہاتھ شاید ہی کبھی ان کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل ہوئے ہوں۔
کراچی کی بات کی جائے تو زمینوں کو برابر کرکے ان پر مہنگے ترین رہائشی منصوبوں کی تعمیر اس شہر میں ہو رہی ہے جہاں آدھی سے زیادہ آبادی اس کی 8 فیصد سے بھی کم زمین پر ان کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں بنیادی سہولیات جیسے کہ پانی، سیوریج اور کچرا اٹھانا وغیرہ کا کوئی تصور موجود نہیں۔
دوسری جانب ریاست کی توانائی ان ڈویلپرز کو زمین کے حصول میں مدد دینے میں صرف ہو رہی ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے کئی مواقع پر فخریہ انداز میں بتایا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری افسران کو رشوتیں دے چکے ہیں۔ ان کا یہ جملہ تو بہت ہی مشہور ہے کہ اگر وہ اپنی دی ہوئی سب سے بڑی رشوت کی رقم ظاہر کر دیں تو عوام کو ‘ہارٹ اٹیک’ ہوجائے۔
ان منصوبوں کو نکیل ڈالی جانی چاہیے۔ ریاست کی توجہ اپنے اصل مقصد کی جانب ہونی چاہیے، یعنی غریبوں کو چھت فراہم کرنا، نہ کہ ان کی چھت چھیننا۔
زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طاقتور افراد کا جو گٹھ جوڑ یہ پراپرٹی ڈویلپمنٹ منصوبے پیدا کرتے ہیں، وہ ہماری سیاست کا ایک زہریلا عنصر ہے۔ اس سے تباہ کن طاقتوں کو اپنے مفادات حاصل کرنے اور حکمرانوں اور عوام کی ترجیحات تبدیل کرنے کی کھلی چھوٹ ملتی ہے۔
ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں کو یہ بات سمجھائی جانی چاہیے کہ رشوت دینا بھی اتنا ہی غلط کام ہے جتنا کہ رشوت لینا۔
یہ اداریہ ڈان اخبار میں 20 اپریل 2016 کو شائع ہوا۔

Advertisements

نواز شریف کہاں کھڑے ہیں؟

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بچوں کی آف شور کمپنیوں کا سکینڈل سامنے آنے
کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج پر مشتمل ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف الزامات لگانے والے وہاں ثبوت لے کر جائیں، انہوں نے ایک ایسے باونسر کو کامیابی سے کھیلنے کی کوشش کی ہے جسے سیاست کے میدان میں موجود کھلاڑیوں کی طرف سے پھینکا ہی نہیں گیا تھا۔ ہماری سیاست پوائنٹ سکورنگ کے گرد گھومتی ہے اور مخالفو ں کے پروپیگنڈے کے جواب میں حکمران خاندان نے اپنے حامیوں کو دلیل فراہم کر دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کر رہے ہیں حالانکہ اس معاشرے میں ایک ریٹائرڈ جج سے بمشکل ہی کسی غیر جانبدارانہ منصفی کی توقع کی جا سکتی ہے جہاں ہر ریٹائرڈ شخص حکومت سے عہدے اور مراعات کے ساتھ اکاموڈیٹ ہونے کا خواہاں نظر آتا ہو۔

نواز شریف اس سے بہتر پیش کش کرسکتے تھے مگر انہوں نے بھی گونگلووں سے اسی طرح مٹی جھاڑی جس طرح اپوزیشن ہاتھ آئے اس گونگلو کوجھاڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے ایک رہنما نے پنجاب اسمبلی میں ایک تحریک جمع کروائی ہے جس میں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں آئس لینڈ کے وزیراعظم کی مثال دی گئی ہے ۔ اپوزیشن رہنماوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا آپ چھوٹی سی ریاست آئس لینڈ کے عوام کی نصف یا چوتھائی تعداد بھی اپنے ساتھ لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس کا حقیقت پسندانہ جواب نفی میں ہے۔ حکمران ،عوامی دباو پر استعفے دیتے ہیں لیکن اگر عوامی دباو گنتی کے چند ہزار لوگوں پر مشتمل ہو جو لاہور سے اسلام آباد ایک تاریخی دھرنا دینے جا رہے ہوں تو پھر اسے مذاق ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری اپوزیشن بھی صرف اس فیصلے کو مانتی ہے جو اس کے حق میں آیا ہو۔

اگر آپ یہ تصور کرتے ہیں کہ کسی بھی کمزور یا طاقتور کمیشن کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور ان کے خاندان کو بے گناہ تصور کر لیا جائے گا تو آپ غلطی پر ہیں ،ایسا تصورکرتے ہوئے آپ ماضی قریب میں جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو بھول رہے ہیں جس نے عام انتخابات کو درست قرار دیا تھا مگر اس کے باوجود گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات دہرانے میں کسی جھجک کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ اپوزیشن کے پیش نظر بھی آف شور کمپنیوں کے سکینڈل کو صرف اور صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہے جسے وہ بہرصورت کرتی رہے گی۔

نواز شریف نے چالاکی کے ساتھ گیند اپوزیشن کے کورٹ میں پھینکنے کی کوشش کی جب انہوں نے یہ کہا کہ ان کے خاندان کے خلاف ثبوت الزام لگانے والے پیش کریں۔ کیا اپوزیشن اس سیدھے سادھے مقدمے کو کامیابی کے ساتھ لڑ پائے گی، مجھے تو اس کی امید نظر نہیں آتی ، ہماری اپوزیشن صرف باتیں کرتی ہے، ثبوت وغیرہ پیش کرنا اس کی ہمت اور صلاحیت سے باہر کا کام ہے۔ اپوزیشن نے بار بار الزامات عائد کئے کہ لاہور کی میٹرو پرتیس نہیں، ستر سے نوے ارب روپوں تک خرچ کئے گئے ہیں، پنجاب کی حکومت نے یہ معاملہ ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کو بھیج دیا، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے حقائق تک پہنچنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی او رعمران خان کے بیانات پر انہیں خطوط لکھے اور ثبوت مانگے، ان دونوں رہنماوں نے خطوط کا جواب دینے تک کی زحمت نہیں کی۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منی لانڈرنگ جیسے مشکل الزامات پر یہ رہنما ثبوت کہاں سے لائیں گے لہذا انہوں نے اپنے تئیں عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے اعلان کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے وہی روایتی رویہ اختیار کیا، جج کے نام کا اعلان بھی نہیں ہوا اور اس پر عدم اعتماد پہلے ہی کر دیا گیا۔ایک خیال یہ ہے کہ ایک زندہ اور فعال معاشرے میں یہ تحقیقاتی کام ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کو از خود شروع کر دینا چاہئے تھا مگر دوسری طرف یہ امر بھی حقیقت ہے کہ نیب جیسا بااختیار اور باوسائل ادارہ بیس برسوں سے جاتی امرا کو جانے والی چند کلومیٹر کی ایک سڑک بننے کی انکوائری کر رہا ہے اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ اس ادارے کی بڑی کامیابیوں میں اب تک میرے سامنے پلی بارگننگ جیسے غیر اخلاقی فیصلے ہی آتے ہیں، یہ ادارہ کسی حکمران کے خلاف کیا تحقیقات کرے گا۔
معاملہ صرف سیاست کا ہے اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، کیا یہ دلچسپ سوال نہیں کہ آف شور کمپنیوں کے سکینڈل میں صرف شریف خاندان نہیں بلکہ دو سو کے قریب کچھ اور افراد بھی ہیں۔ اگر میڈیا اور سیاستدان واقعی کرپشن کو ختم کرنا چاہتے اور کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں دیگر صنعتکاروں، ارکان اسمبلی اور عدلیہ کے سابق اور موجودہ لوگوں کے نام بھی لینے چاہئیں مگر وہ نام کوئی نہیں لے رہا کیونکہ ان سب کا ٹارگٹ کرپشن نہیں، سیاست ہے۔ یہاں نواز شریف کو ایک پلس پوائنٹ ملتا ہے کہ کرپشن کے الزامات تو تمام پارٹیوں پر لگتے تھے، پیپلزپارٹی نے تو مقدمات کا سامنا بھی کیا مگر از خود کسی نے اپنے آپ کو اس طرح کے کمزور ترین احتساب کے لئے بھی پیش نہیں کیا۔
کیا پیپلزپارٹی کی قیاد ت پر سرے محل سمیت دیگر الزامات نہیں لگے، کیا مسلم لیگ ق کے رہنماوں پربینک آف پنجاب سمیت بہت سارے اداروں میں کرپشن کرنے کے الزامات موجود نہیں ہیں، کیا تحریک انصاف کے قائدپر ان کے بنی گالہ کی عظیم الشان رہائش گاہ کی خریداری ہی نہیں بلکہ ان کی اپنی پارٹی کے بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے رہنماوں کی طرف سے پارٹی فنڈز ہڑپ کرجانے کے الزامات نہیں لگے، کیا جماعت اسلامی کی قیادت سے نہیں پوچھا جا رہا کہ برس ہا برس سے پیسے لے کر وہ جو قرطبہ سٹی بنانے جا رہے تھے وہ پیسے اور وہ قرطبہ سٹی کہاں ہے۔ میں پورا یقین رکھتا ہوں کہ ہماری پوری سیاسی قیادت کو ان تمام سوالوں کے جواب دینے چاہئیں مگر ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عوام اپنے رہنماوں سے واقعی ان سوالوں کے جواب چاہتے ہیں تو اس کا جواب نفی میں ہے۔
ہم دھڑے باز لوگ ہیں۔ نواز شریف کے حامی اسی طرح ان الزامات کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں جس طرح باقی جماعتوں کے رہنماا ور کارکن اپنی اپنی قیادت پر الزامات کونہایت آسانی سے مسترد کر دیتے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ بہت سارے دیگر الزامات کی طرح آف شور کمپنیاں قائم کرنے کا الزام بھی موجود رہے گا ۔ ابھی کچھ عرصے کے بعد یہ معاملہ اتنا گرم نہیں رہے گا اور جب انتخابی مہم شروع ہو گی تو ماڈل ٹاون میں ہونے والے قتلوں سمیت یہ الزام بھی انتخابی مہم کا حصہ بن جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت تک حکومتی جماعت دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری جیسے عوامی مسائل حل کرنے میں کس حد تک کامیابی حاصل کرتی ہے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سی پیک منصوبے ، اورنج لائن ٹرین اورموٹرویز کی تعمیر کے بڑے بڑے کریڈٹ لیتے ہوئے ان الزامات کے نقصان پر قابو پا لیا جائے گا۔ یوں بھی میاں نواز شریف کی طرف سے ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن کے قیام کی پیش کش ان کے ڈانواں ڈول ووٹر کو قائل کرنے کے لئے کافی ہو گی۔
میں سمجھتا ہوں کہ آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے الزامات نے حکمران خاندان کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اس نقصان کو اپوزیشن اپنے فائدے میں تبدیل کرلے مجھے فی الحال یہ بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ وہ گونگلو ہیں جن سے حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی طرف سے مٹی جھاڑتی رہیں گی مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا، کچھ لوگ یہ گونگلو لے کر ہائی کورٹ بھی جا پہنچے ہیں۔ کچھ عرصے بعد کچھ نئے گونگلو زمین پر گرے مل جائیں گے اور پھرسب انہیں جھاڑنا شروع کر دیں گے، یہ بالکل ویسے گونگلو ہیں جیسے اس سے پہلے اتفاق کے سریے اورقرضوں کی معافی کے گونگلو جھاڑے جاتے رہے ہیں۔ نواز شریف اس معاملے میں کمزور وکٹ پر ہونے کے باوجود اس باونسرکو کھیل گئے ہیں، اپوزیشن اس پر آوٹ آوٹ کا شور مچا رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کے کھلاڑیوں کی میدان میں اپنی کارکردگی کیا ہے؟
نجم ولی خان

بجلی کا کنڈا صرف 150 روپے میں

شدید گرمی میں جب جلتا، بھنتا گھر میں داخل ہوا تو ٹھنڈے ٹھار اے سی کی یخ
بستہ ہواؤں نے استقبال کیا، کچھ دیر کو ذہن سے سب محو ہوگیا، لیکن اچانک ایک زوردار آواز آئی، بل جمع ہوگیا؟ اس آواز کا گونجنا تھا کہ پر فسوں ماحول کا طلسم ٹوٹا اور فوری طور پر ہوش کی دنیا میں واپس آیا، لمبی قطار اور بھاری بھرکم رقم جو بل کی مد میں بھری اچانک ہی نظروں میں گھوم گئی اور جلدی سے ریموٹ تلاش کرکے اے سی بند کردیا۔

غضب ہوگیا اس اے سی کا استعمال، ایسا جرم جس کی سزا گھر کے بجٹ میں کٹوتی کرکے پوری کی جاتی ہے، اب تو بجلی کے نرخوں کا حال یہ ہے کہ سارے آلات کو ڈبوں میں بند کرکے دور سے دیکھا کیا جائے اور حسرت سے محض اس کا دیدار کرکے ہی اپنی ننھی منی خواہشات کو دل میں ہی دفن کرلیں، کیونکہ اتنا دم خم تو ہم میں ہرگز نہیں کہ ہزاروں روپے کا بل بھی بھریں اور اِس عیاشی کے بعد بے ہنگم مہنگائی میں اپنے روز و شب کے خرچوں کو متوازن کرنے میں بھی وقت ضائع کرتے رہیں۔
شام کو بذریعہ انٹرینٹ دوستوں سے گپ شپ کرنے اور دنیا کے حالات جاننے کیلئے بجلی کے نرخوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کمپیوٹر آن کیا تو حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ ایک ایسی تصویر ہمارے سامنے تھی جس نے ہمارے ہوش اڑا دئیے۔ ارے ارے غلط نہ سمجھیئے، کسی فلمی اداکارہ کی تصویر کی بات قطعی نہیں ہورہی جس کے سبب ہمارے ہوش کھو بیٹھے، بلکہ یہ تو ایک خوشخبری کا پیغام ہے، جی ہاں خوشخبری وہ بھی لاڑکانہ کے عوام کیلئے۔ خوشخبری بھی ایسی جس نے ہم جیسوں کو کمتری کا شکار کردیا ہے۔ 

الجھیے مت، تفصیل بتائے دیتے ہیں۔ دراصل یہ تصویر ہے ایک ضعیف بابے کی جو بظاہر منشی کی مانند کاغذ قلم تھامے بیٹھے ہیں جبکہ اہم بات تصویر میں موجود میز پر دھرا ایک بینر ہے جس پر ’’خوشخبری‘‘ کے الفاظ کے ساتھ بجلی کا کنڈا محض 150 روپے میں دینے کی نوید سنائی گئی ہے اور ماہانہ بل صرف اور صرف 500 روپے ۔۔۔۔۔۔ واقعی یہ خوشخبری نہیں تو کیا ہے کہ جس بجلی کی مار سہتے سہتے ہم ادھ موئے ہورہے ہیں وہ دوسروں کو اتنی ارزاں نرخ پر دستیاب ہیں۔

ذرا اس آفر کی تفصیلات بھی ملاحظہ کیجئے۔ اس 500 روپے ماہوار کنڈا کنکشن کیلئے درکار ہے ایک قومی شناختی کارڈ کی کاپی، اس پر بھی بس نہیں بلکہ بینر کے نیچے پتہ آپریشن سب ڈویژن سیپکو، ایپمائر روڈ لاڑکانہ کا درج ہے۔ اب انصاف سے بتائیے کہ یہ آفر دل کا خون جلانے والی حرکت ہے کہ نہیں؟ یہاں ہم ایک بھاری رقم ہر ماہ اس بجلی کے بل کی مد میں بھرتے ہیں، جس نے ہمارا بھرتہ بنادیا ہے، بجلی بھی ایسی جو ہر وقت ہمارے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیلتی رہتی ہے اور لاڑکانہ والوں کو دیکھیے جہاں صرف اور صرف 500 روپے میں تمام کام بن جائے، مجھے تو شک ہے کہ یہ تصویر کسی کی ماہرانہ شرارت ہے۔ تاہم میرے کچھ ساتھی یہ بات ماننے سے انکاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر یہ کنڈا آفر کی تصویر حقیقی ہے، آپ ہی بتائیے کیسے حقیقت کا پتہ لگایا جائے؟
بھئی ہماری تو حکومت سے محض اتنی سی گزارش ہے کہ ذرا ہم غریبوں پر بھی نظرِ کرم کیجئے، بجلی ایک ضرورت ہے اسے اس قدر نایاب نہ بنائیے کہ اس کا استعمال عیاشی محسوس ہونے لگے، دن بدن بڑھتے بجلی کے نرخوں نے عوام کا بھرکس بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ہمارا مطالبہ تو بس یہ ہے کہ حکومت سندھ اور عزت مآب وزیر اعلیٰ سندھ صاحب زرا اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس تصویر کی حقیقت تو واضح کیجئے، اگر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصویر جو بظاہر حقیقی محسوس ہوتی ہے درست نہیں تو اس کے پیچھے کون سے شرارتی کاکے ہیں؟ اور اگر یہ حقیقیت ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کریں کہ اِس کام کو عوام جرم سمجھے یا پھر عوامی خدمت؟ ہم منتظر ہیں کہ آپ اس کی کھوج لگا کر ہمیں مطمعئن ضرور کریں گے کہ پس پردہ ماجرا کیا ہے۔
خوشنود زہرا

ڈاکٹرعافیہ۔۔۔۔اسیری کے تیرہ سال مکمل

سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ ذرایع سے امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی
موت کی خبروں سے بے چینی و سنسنی پھیل گئی ہے، عافیہ رہائی موومنٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ خبریں اذیت ناک ہیں۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ ان کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرے تا کہ صحیح صورتحال کا علم ہو سکے۔ ہمارے پاس تصدیق یا تردید کے کوئی ذرایع نہیں ہیں، حکومت اس مسئلے پر رابطے کر رہی ہے نہ رابطہ کرنے پر جواب دے رہی ہے ۔

13 سال سے ناحق قید ڈاکٹر عافیہ کو ہر حکومت اور ہر حکمران انصاف و رہائی دلوانے کے دعوؤں کے باوجود نظر انداز کرتی رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ ہر ہفتے عافیہ کی خیریت سے آگاہ کرے اور اہل خانہ سے اس کی ملاقات کروائے، عدالت نے وزیراعظم کو دورہ امریکا میں اس مسئلے کو اٹھانے کی ہدایت کی کیونکہ یہ واقعہ پاکستانی حدود میں پیش آیا تھا لہٰذا عافیہ
کو پاکستان لانے کی کوششیں کی جائیں۔

حکومت عدلیہ کے فیصلے پر عمل تو کیا کرتی حکومت کی اس روش کو اس کی بے حسی یا پھر بے بسی کا نام دیا جائے یا پھر انصاف اور عدالتی حکام سے روگردانی کہا جائے اور اس کے خاندان کو اس سے ملاقات کا حق حاصل ہے کہ اس کی گھر والوں سے ہر ہفتے ملاقات کرائی جائے گی، ٹیلی فون پر بات چیت کرائی جائے گی، لیکن ان تمام پر عمل کرانا تو حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندانی ذرایع کے مطابق ان کی باقاعدہ ملاقات کو 2 سال ہو چکے ہیں۔ دو تین سال قبل بھی خبر آئی تھی کہ جیل میں قید عافیہ کو تشدد کرتے ہوئے لہو لہان کر دیا گیا تھا اور کئی دنوں تک اسے طبی امداد بھی فراہم نہیں کی گئی۔ اس کی اطلاع عافیہ کے وکیل نے اس کے اہل خانہ کو دی تھی۔ اس قسم کی خبریں اور واقعات ہر با ضمیر انصاف پسند اور محب وطن شہری کو ذہنی اضطراب و تشویش میں مبتلا کر دیتے ہیں اس کے اہل خانہ پر جو قیامت گزرتی ہو گی اس کا اندازہ بھی اہل ضمیر و انصاف پسند ہی کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اسیری کو 13 سال ہو چکے ہیں۔ اس موقعے پر دنیا بھر میں اس کے حق میں مظاہرے کیے گئے، اسے ’’صدی کی خاتون‘‘ کے لقب سے نوازا گیا، لاہور ہائیکورٹ بار کے وکلا نے زبردست مظاہرہ کیا۔ امریکی حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی اور غم و غصے کا اظہار کیا بار کے صدر نے کہا کہ امریکا ایک نہتی اور بے گناہ خاتون کو 86 سال قید میں ڈال کر اپنی طاقت کا خود مذاق اڑا رہا ہے۔
عافیہ پر مقدمہ مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے لیکن دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے بھی اس پر صرف اسلام دشمنی پر خاموش ہیں۔ مقررین نے کہاکہ ہم حکومت امریکا کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کے مقدمے سے بڑی رقم ہم سے لے کر عافیہ کو رہا کر دے۔ عافیہ کے بارے میں قوم کے جذبات محض تقریر گوئی یا لفاظی نہیں ہیں بلکہ حقیقت شناس، اصول و انصاف پسندوں کے حقیقی جذبات کے ترجمان ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے مقتولین کے لواحقین ریمنڈ ڈیوس کو کسی صورت معاف کرنے کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ اسے سزا دلوانے کے لیے انھوں نے احتجاجاً اقدام خودکشی بھی کیا تھا لیکن عافیہ کے بارے میں ان کے جذبات یہ تھے کہ انھوں نے پیشکش کر دی تھی کہ اگر امریکا ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان کے حوالے کر دے تو وہ ریمنڈ ڈیوس کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ افواہ بھی گردش کر رہی ہے کہ جیل میں ڈاکٹر عافیہ پر عیسائیت قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو کہ عقلی اعتبار سے ناقابل فہم ہے، اس قسم کی حرکت سے امریکا سے زیادہ عیسائیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے عافیہ کے حوالے سے دو طبقہ فکر سامنے آتے ہیں۔ ایک کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کی دل آزاری اور ان کے اعصاب شل کرنے کے لیے انتقاماً کیا جا رہا ہے جب کہ دوسرے طبقہ فکر کا خیال ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے مسئلے کو مذہبی یا اسلامی نقطہ نظر کے بجائے خالصتاً انسانی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے لیکن دوسرے نقطہ نظر کے حامل طبقے کی ناکامی ہوتی ہے تو پھر اس تاثر کو کوئی نہیں روک سکے گا کہ عافیہ کے ساتھ یہ سب کچھ صرف مسلمان ہونے اور مسلمانوں کی دل آزاری اور اذیت کے لیے کیا جا رہا ہے۔
سہ ریاستی ظلم اور نا انصافی کی شکار ڈاکٹر عافیہ کے مسئلے پر جہاں عالمی انصاف کے اداروں و تنظیموں کی لا تعلقی و خاموشی اور انصاف کی علمبردار شخصیتوں کی بے حسی و لب مہری قابل تشویش ہے وہیں وہ شخصیات اور تنظیمیں قابل فخر ہیں جو عافیہ کے انسانی حقوق کی پامالی پر سراپا احتجاج اور اس کی رہائی کے لیے سرگرم عمل ہیں جن میں زیادہ تر امریکی اور برطانوی شہری شامل ہیں جو دنیا بھر میں عافیہ کی بے گناہی سے متعلق مقدمہ لڑ رہے ہیں۔
اس کی بے گناہی کی گواہیاں اور ثبوت پیش کر رہے ہیں خود پاکستان کی حکومت اور شہریوں کو عافیہ کی رہائی کی جد و جہد کے لیے تیار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ عافیہ کی اسیری قیدی نمبر 650 کا انکشاف کرنے والی برطانوی صحافی ایوان مریم ریڈلے نے پاکستان آکر پریس کانفرنس کی اور کئی بار پاکستان آ کر حکومت اور عوام کا ضمیر جھنجھوڑتی رہی ہے کہ خدارا عافیہ کی رہائی کے لیے کوششیں کریں کیوں کہ وہ خود بھوت نامی قیدی نمبر 650 کی دل خراش چیخیں اور جیل مظالم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہے۔ انسانی حقوق کے سرگرم علمبردار معروف امریکی وکیل، شارح اور اسکالر درجنوں ممالک کا دورہ کر کے انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء اور صحافیوں سے ملاقاتیں کر کے اور پاکستان کا دورہ کر کے عافیہ کے مسئلے کو اجاگر کر رہے ہیں۔
رچرڈ ہالبروک اور سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک باقاعدہ جدوجہد کر رہے ہیں کہ عافیہ کو انصاف مل سکے، اس کے لیے وہ دورے کر رہے ہیں وکلا اور صحافیوں سے خطابات کر رہے ہیں۔ امریکی اٹارنی ٹینا فورسٹر عافیہ کو بے گناہ قرار دیتی ہے، ٹینا فورسٹر نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ عافیہ کے وکلا نے اس کے حق میں ثبوت استعمال نہیں کیے حکومت نے وکلا کی خدمات اس لیے حاصل کی تھی کہ عافیہ کو سزا دلوائی جائے اس کا شکوہ تو خود عافیہ کی والدہ نے بھی کیا تھا اور وکلا کی خدمات لینے سے انکار کر دیا تھا جن کو فیس کی مد میں حکومت نے خطیر رقم ادا کی تھی۔ امریکی سینیٹر مائیک گریول کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان اور تنظیمیں عافیہ کے مسئلے پر مل کر کوششیں کرتیں تو وہ بارآور ثابت ہو جاتیں۔
غیروں کے مظالم اور اپنوں کی سازشوں، بے حسی و بے اعتنائیوں کی شکار عافیہ صدیقی کی رہائی کی صرف ایک صورت نظر آتی ہے کہ عوام اپنی منظم جدوجہد سے حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ وہ عافیہ کے معاملے پر دہرا رویہ ترک کر کے اپنا قانونی و آئینی کردار ادا کرنے پر مجبور ہو جائے۔
عدنان اشرف ایڈووکیٹ