چوہدری نثار کی نادرا شاہی

30 دسمبر سنہ 2014 کو پنجاب کے اس وقت کے وزیرِ داخلہ کرنل شجاع خانزادہ نے صوبائی اسمبلی کے فلور پر کہا کہ صوبے میں اسلحے کے 18 لاکھ لائسنسوں میں سے 50 فیصد کا ریکارڈ حکومت کے پاس نہیں ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گذشتہ آٹھ برس کے دوران وفاقی و صوبائی حکومتوں نے پانچ لاکھ سے زائد اسلحہ لائسنس جاری کیے۔ ان میں سے 90 فیصد ضروری چھان بین اور سیکورٹی چیک کے بغیر جاری ہوئے۔
 
سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے مارچ سنہ 2013 میں اعتراف کیا کہ انھوں نے ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی کی سفارش پر تقریباً 70 ہزار اسلحہ لائسنس جاری کیے۔ کالعدم لشکرِ جھنگوی کے ہلاک ہونے والے رہنما ملک اسحاق کے پاس وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری کردہ ممنوع بور کے 11 لائسنس موجود تھے۔ چوہدری نثار علی خان نے وزیرِ داخلہ بننے کے چند ماہ بعد بتایا کہ لگ بھگ ساڑھے چار ہزار مشکوک اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیےگئے ہیں۔ان میں سے بہت سے غیر ملکی باشندوں (زیادہ تر افغان) کو جاری کیے گئے۔
چوہدری صاحب نے مئی 2015 میں تمام اسلحہ لائسنس یافتگان کو انتباہ کیا کہ 31 دسمبر تک اپنے لائسنسوں کی تجدید کروالیں ورنہ انھیں منسوخ کر دیا جائے گا۔ 
 
چوہدری نثار علی خان نے اغوا، ٹارگٹ کلنگز، تاوان اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کروڑوں موبائل فون سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کا نظام بھی نافذ کیا۔ بے شمار مشکوک سمیں منسوخ ہوئیں لیکن آج بھی ہر حساس مذہبی و سیاسی موقع پر درجنوں شہروں میں دہشت گردی کے خدشات کے تحت موبائل فون سروس معطل کی جاتی ہے۔ اغوا، تاوان اور قتل کی دھمکیاں آج بھی سرحد پار یا قبائلی و غیر قبائلی علاقوں سے نامعلوم سموں کے ذریعے موصول ہوتی رہتی ہیں۔
چوہدری نثار علی خان نے وزیرِ داخلہ بنتے ہی سنہ 2002 سے 2013 کے درمیان جاری ہونے والے تقریباً ڈھائی ہزار ڈپلومیٹک بلیو پاسپورٹ بھی منسوخ کر دیے ۔ان میں سے اکثر پاسپورٹ غیر مستحق افراد نے تین سے چار لاکھ روپے میں خریدے تھے۔ جس 11 سالہ دور میں یہ پاسپورٹ تھوک کے حساب سے جاری ہوئے اس دوران وزارتِ داخلہ کا قلم دان آفتاب شیرپاؤ ، فیصل صالح حیات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حامد نواز خان اور رحمان ملک کے پاس رہا۔
چوہدری نثار علی خان نے اغوا، ٹارگٹ کلنگز، تاوان اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کروڑوں موبائل فون سمز کی بائیو میٹرک تصدیق کا نظام بھی نافذ کیا۔ بے شمار مشکوک سمیں منسوخ ہوئیں لیکن آج بھی ہر حساس مذہبی و سیاسی موقع پر درجنوں شہروں میں دہشت گردی کے خدشات کے تحت موبائل فون سروس معطل کی جاتی ہے۔ اغوا، تاوان اور قتل کی دھمکیاں آج بھی سرحد پار یا قبائلی و غیر قبائلی علاقوں سے نامعلوم سموں کے ذریعے موصول ہوتی رہتی ہیں۔
مگر آوے کا آوا بگڑنے کے باوجود ہمارے چوہدری نثار صاحب کو اس بات کا خاصا اطمینان تھا کہ نادرا کا جاری کردہ فول پروف کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ غلط ہاتھوں میں نہیں پہنچ سکتا، پہنچے گا تو فوراً پکڑا جائے گا جیسے کہ پچھلے تین برس میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔
لیکن برا ہو ولی محمد کا کہ جس نے ڈرون حملے میں مرتے مرتے اپنا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ گھما کے گاڑی سے باہر پھینک دیا۔ تب کہیں جا کے چوہدری صاحب کو سنجیدگی سے اندازہ ہوا کہ نادرا میں کرپشن کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔
چنانچہ اسی کرپٹ نادرا کے اہلکاروں کو چوہدری صاحب نے یہ نادر شاہی حکم دیا کہ اگلے چھ ماہ کے دوران ان کروڑوں شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کی جائے جنھیں پہلے بھی یہی نادرا مصدق قرار دے چکی ہے۔ ولی محمد اور ان جیسے سینکڑوں ’اثاثوں‘ کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دلانے والوں اور ان کی آمدورفت کو تحفظ دینے والوں سے باز پرس تو ممکن نہیں، نہ ہی سیاسی مصلحتیں یہ اجازت دیتی ہیں کہ سابق وزرائے داخلہ سے یہی پوچھ لیا جائے کہ ان کے دور میں لاکھوں اسلحہ لائسنس کیسے جاری ہوگئے اور بلیو پاسپورٹ کیوں نیلامی میں رکھ دیےگئے۔؟
اس کے مقابلے میں 12 کروڑ پاکستانیوں کے شناختی کارڈ دوبارہ چیک کرنا کہیں آسان ہے۔ یہ عمل اور آسان ہو سکتا ہے اگر ان 12 کروڑ کو پاکستان سے نکال دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ قطار بنا کر اپنا اپنا شناختی کارڈ دکھاتے جاؤ اور اندر آتے جاؤ۔
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

تعلیمی پسماندگی کے اسباب اورحل

پاکستان میں تقریباً 47 فیصد گریجویٹ روزگار کی اہلیت نہیں رکھتے۔ 35 فیصد گریجویٹ صرف کلرک کی نوکری کے قابل ہیں۔ 15 فیصد گریجویٹ ہی بہتر روزگار کے لائق ہیں۔ ورلڈ بینک کے تجزیے کے مطابق صرف دس سے پندرہ فیصد گریجویٹ ہی بہتر روزگار کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پانچویں کا طالب علم دوسری کلاس کا حساب نہیں لگاسکتا. ہائر ایجوکیشن میں آتے آتے یہ نوجوان بے کار ہوجاتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن میں انرولمنٹ پاکستان میں18 فیصد ہے۔ یعنی ایک تو دنیا کے دیگر بڑے ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے اور اس میں بھی 47 فیصد بے کار ہیں۔ اپنی زندگی کا پندرہ سال تعلیم میں خرچ کرنے کے بعد بھی 55 فیصد گریجویٹ صرف 2ہزار کماپاتے ہیں۔
ابھی حالیہ دنوں میں دنیا کی دوہزار اعلی یونیورسٹیز میں ایک بھی پاکستانی یونیورسٹی کا نام نہ ہونے پر صدر جمہوریہ افسوس ظاہر کرچکے ہیں۔ ایک طرف بے روزگاروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور دوسری طرف بے روزگاری بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے سماج کا توازن بگڑتا جارہا ہے۔ غریبی ومفلسی سماج کے لیے ناسور بنتے جارہے ہیں۔ کیونکہ اعلی تعلیم کی بنیاد پرائمری ایجوکیشن پر ہی ہوتی ہے۔ حالانکہ ہمارے یہاں صرف اپنا دستخط کرلینا ہی تعلیم میں شمار کیا جاتا ہے۔ صوبے اس پسماندگی سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہیں، آئیے اس کی وجوہات پر غور کرتے ہیں، اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
 اسباب 
(۱) فنڈ کی کمی: فنڈ کی کمی ہونا ایک بہت بڑی حقیقت ہے، اور جو فنڈ الاٹ کیا جاتا ہے، اس کا صحیح استعمال نہ ہوپانا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ فنڈ کی کمی ہونے کے بعد بہت سارے دیہی علاقوں کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ بجٹ کا تقریبا 3 فیصد حصہ ہائر ایجوکیشن کے لیے مخصوص ہے۔
(۲) اساتذہ کی کمی:ٹیچرز کا تقررایک سیاسی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ فنڈ کی کمی ہونے کے سبب لاکھوں ٹیچرز کی جگہ خالی ہیں۔ تقریبا پچاس اسٹوڈنٹس پر ایک ٹیچر لگتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم متاثر ہورہی ہے۔
(۳) ایجوکیشن پالیسیز میں کمزوریاں: موجودہ تعلیمی پالیسی حقیقت میں برطانوی پالیسی ہے ، یہ پالیسی امیروں اور بااثر لوگوں کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے، حالانکہ صوبے معاشی اعتبار سے بہت زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں، یہاں پسماندہ اور اقلیتی طبقات کی تعداد زیادہ ہے۔
(۴) ایک رپورٹ کے مطابق ایک سے پانچ کلاس تک کا ڈراپ آؤٹ تناسب 75 فیصد اور ایک سے آٹھ کلاس تک58 فیصد ہے، یہ ڈراپ آؤٹ غریبی اور مہنگی فیس کی وجہ سے ہے، کیونکہ اس عمر میں گھر کی غربت کے سبب پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، اس وجہ سے وہ تعلیم جاری نہیں رکھ پاتا۔
(۵) شہریوں کی عدم شمولیت: کیونکہ اکثریت غریبی اور جہالت کا سامنا کررہی ہے، اس کے سب وہ تعلیم کے میدان میں شامل نہیں ہوپاتے۔
(۶) خودغرض اور غیر مؤثر نگرانی: جو باڈی اس کی نگرانی کرتی ہے،وہ حقیقت میں خود غرض واقع ہوئی ہے، اس کے اندر سماج کی خدمت اور اپنے کام کے تئیں وہ خلوص، جذبہ اور لگن نہیں پائی جاتی جس کے نتیجے میں ایک بہترین تعلیمی ماحول پروان چڑھ سکے۔
(۷) سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کی مداخلت: ان لوگوں کی مداخلت کے سبب پورا تعلیمی نظام سیاست بازی کا شکار ہوجاتا ہے،یہ سیاست اساتذہ اور طلبہ کے اندر بھی سرایت کرجاتی ہے، جس کے نتیجے میں اسکول ایک سیاسی اکھاڑہ بن کر رہ جاتا ہے۔
(۸) دیہی لوگوں کے ان ڈفرنٹ رویے: گاندھی جی کے مطابق بھارت گاؤں میں بستا ہے82 فیصدآبادی گاؤں میں بستی ہے، اس لیے گاؤں کے لوگوں کو جب تک تعلیم سے نہیں جوڑا جائے گا تعلیمی نظام کی اصلاح نہیں ہوسکے گی۔
مسائل کا حل :
(۱)ٹیچرز کو پروفیشنل انداز میں تربیت دی جائے اور ان کے اندراحساس ذمہ داری پیدا کیا جائے۔
(۲) پرائمری ایجوکیشن سسٹم پر نظرثانی کی جائے، اس میں غریبوں کا لحاظ رکھا جائے اور کوالٹی سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
(۳) نصاب کو از سر نو ترتیب دیا جائے، جو سماج کے ہر طبقے کی رعایت کرتا ہو۔
(۴) ایک مانیٹرنگ باڈی تشکیل دی جائے،جو اس پورے تعلیمی نظام کا ہمہ وقت جائزہ لیتی رہے۔
(۵) بالخصوص دیہی علاقوں میں تعلیمی بیداری مہمات چلائی جائیں۔
(۶) تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے۔
(۷) پورے ایجوکیشن سسٹم کو ماہرین تعلیم کے حوالے کیا جائے ، نصاب، پالیسی، اور پورا سسٹم ماہرین تعلیم کے ذریعہ ترتیب دیا جائے، اس پورے سسٹم سے سیاسی اثرورسوخ ختم کیا جائے۔
(۸) یونیورسٹی اور کالج کیسٹوڈنٹس کو تعلیم کے سلسلہ میں حساس بنایا جائے۔ 
(۹) صوبوں کے لیے الگ سے تعلیمی پالیسی بنائی جائے۔ (۱۰) اقلیتوں کے لیے چلائی جانے والی اسکیموں کا صحیح نفاذ ہو، اور اس کا پروسیس آسان بنایا جائے۔
 فائزہ نذیر احمد

یومِ تکبیر کے اٹھارہ برس بعد : وسعت اللہ خان

آج کے دن اٹھارہ  برس پہلے پاکستان نے بھارت کے پانچ جوہری دھماکوں کے مقابلے میں پانچ اور دو روز بعد ایک اور اضافی دھماکا کر کے اعلان کیا کہ ہم کسی سے کم نہیں۔ یہاں سے وہاں تک یہ سوچ کر پورا ملک ناچ اٹھا کہ اب ہمارا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔ دلی ہو کہ اسلام آباد دفاعی پنڈتوں نے خوشخبری دی کہ اب روائیتی اسلحے کی دوڑ تھم جائے گی کیونکہ جوہری انشورنس جنگ نہیں ہونے دے گی۔ جو پیسہ بچے گا وہ تعمیر و ترقی کے کام آئے گا۔ آج اٹھارہ برس بعد حالات یہ ہیں کہ روائیتی ہتھیاروں پر سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے دس ممالک کی سال دو ہزار پندرہ کی فہرست میں بھارت دوسرے اور پاکستان دسویں نمبر پر ہے۔ بھارت نے گزشتہ برس ہتھیاروں کی خریداری پر تین ہزار اٹھتر ملین ڈالر اور پاکستان نے سات سو پینتیس ملین ڈالر خرچ کیے۔ ان میں ان ہتھیاروں کی لاگت شامل نہیں جو دونوں ممالک  مقامی طور پر تیار کر رہے ہیں۔
جہاں تک جوہری ہتھیاروں سے حاصل ہونے والے تحفظ کا معاملہ ہے تو بھارت کے پاس اس وقت اندازاً  ایک سو دس اور پاکستان کے پاس ایک سو بیس چھوٹے بڑے جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ دونوں ممالک میں احساسِ عدمِ تحفظ بھی ایک سو دس اور ایک سو بیس گنا بڑھ جائے۔ مگر ایسا کہاں ہوتا ہے؟ اگر ہوتا تو امریکا اور روس کے پاس دو ہزار چھیاسی میں موجود ساٹھ ہزار جوہری ہتھیار دنیا کو باغِ امن بنا چکے ہوتے۔ مگر سایہ پکڑ میں نہ آ سکا اور آج دونوں ممالک اپنے ذخیرے کو کم کرتے کرتے نو سے دس ہزار جوہری ہتھیاروں تک لے آئے ہیں۔
البتہ بھارت اور پاکستان کو یقین ہے کہ جو کام روس اور امریکا جیسی عظیم طاقتیں نہ کر سکیں وہ یہ دونوں کر لیں گے۔ یعنی دنیا کو دکھا دیں گے کہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ جیتی بھی جا سکتی ہے۔ چنانچہ دونوں ممالک وہی پہیہ پھر سے ایجاد کرنے میں لگے پڑے  ہیں جسے چلانے کی کوشش میں بڑی طاقتوں کے انگور کھٹے ہو گئے۔ بھارت کا خیال ہے کہ اگر جوہری ہتھیاروں کو صرف زمین پر ساکت ذخیرہ کرنے کے بجائے سمندر میں حرکت پذیر آبدوزوں پر نصب کر دیا جائے تو  فائدہ یہ ہو گا کہ اگر دشمن کے اچانک حملے میں زمین پر موجود تمام ایٹمی ہتھیار تباہ بھی ہو جاتے ہیں تو آبدوزوں پر نصب ہتھیاروں کے جوابی حملے سے دشمن کی شرطیہ قبر بنائی جا سکتی ہے۔ اس نظریے کو ’’سیکنڈ اسٹرائیک کی صلاحیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ لہذا ڈیڑھ ماہ قبل اریہانت نامی ایٹمی آبدوز سے کے فور میزائیل چھوڑنے کا تجربہ کیا گیا اور یہ اعلان ہوا کہ بھارت اب سیکنڈ سٹرائک صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ جب کہ ایٹمی ہتھیار لے جانے والے برہموس میزائلوں کی چار بیٹریاں گزشتہ برس ہی بھارتی بحریہ کے حوالے ہو چکی ہیں۔
پاکستان نے دو ہزار بارہ میں نیول سٹرٹیجک کمانڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ اس کمانڈ کا مقصد سیکنڈ سٹرائک صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ دو ہزار پندرہ میں سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعیم خالد لودھی نے دعوی کیا کہ پاکستان سیکنڈ سٹرائک صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ تاہم اکثر دفاعی ماہرین اس دعوی کو قبل از وقت قرار دیتے ہیں۔ اکتوبر دو ہزار پندرہ میں نواز شریف کے دورہِ امریکا سے پہلے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بریکنگ نیوز دی کہ پاکستان نے محاذِ جنگ پر دشمن کے خلاف محدود علاقے میں استعمال کے لیے مختصر حجم کے ’’ٹکٹیکل جوہری ہتھیار‘‘ بھی تیار کر لیے ہیں۔ جو بھارت کے کولڈ اسٹارٹ نظریے کا ترکی بہ ترکی جواب ثابت ہوں گے۔
کولڈ اسٹارٹ تھیوری کے تحت بھارتی فوج اچانک کئی محاز کھول کے تیزی سے پیشقدمی کرتے ہوئے دشمن کی سپلائی لائن درمیان سے کاٹ کر اسے مفلوج کر دے گی۔ چنانچہ فیلڈ کمانڈرز محدود تباہی پھیلانے والے ’’ٹکٹیکل جوہری ہتھیار‘‘ استعمال کر کے دشمن کی برق رفتار پیشقدمی کو بریک لگا سکیں گے۔ مفروضہ یہ ہے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے دشمن کے اوسان خطا ہو جائیں گے اور وہ مزید کسی بڑی جوہری مہم جوئی سے باز رہے گا۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر جنگ جنرلوں کے مفروضوں سے شروع ہوتی ہے اور ایسے ناقابلِ یقین نتائج پر ختم ہوتی ہے جو نہ فاتح کے گمان میں ہوتے ہیں نہ مفتوح کے۔
چنانچہ اب دشمن کو نیچا دکھانے کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ بھارت نے جوہری دھماکوں کی اٹھارویں سالگرہ (پندرہ مئی) کو حملہ آور میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اشوین میزائل کا کامیاب تجربہ کیا جس نے خلیج بنگال میں ایک بحری جہاز سے چھوڑے جانے والے پرتھوی میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں جا لیا۔ گویا امریکا، روس اور اسرائیل کے بعد بھارت میزائیل ڈھال کی صلاحیت حاصل کرنے والا چوتھا ملک قرار پایا۔ یہ شیلڈ دو  طرح کے میزائلوں پر مشتمل ہے۔ پرتھوی ایئر ڈیفنس میزائیل جو دشمن میزائیل کو خلا میں پچاس تا اسی کلو میٹر کی اونچائی پر شکار کرے گا اور اشوین جس کی مار فضا میں تیس کلو میٹر تک ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب پاکستان یا تو بھارتی میزائلوں سے بچنے کے لیے اپنی ڈھال تیار کرے یا پھر بھارتی ڈھال کو ناکام بنانے کے لیے ایک کے بجائے دس میزائیل بنائے تا کہ اگر بھارتی ڈھال دس میں سے آٹھ میزائیل روک بھی لے تو دو پھر بھی ہدف تک پہنچ جائیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ اب اربوں ڈالر کی دوڑ کا ایک نیا دروازہ کھل گیا۔ دوڑ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایٹمی جنگ بھی ہو۔ لیکن امریکا اور روس کو حادثاتی طور پر ایٹمی جنگ سے بچنے کے لیے یہ قدرتی جغرافیائی سہولت میسر ہے کہ اگر ایک کی جانب سے غلطی سے بھی میزائیل فائر ہو جائے تو دوسرے کے پاس جوابی کاروائی سے پہلے نو تا بارہ منٹ کا وقت ہے جس میں یہ تصدیق ہو سکے کہ میزائیل جان بوجھ کر داغا گیا ہے یا کوئی اتفاقی و حادثاتی واردات ہے۔
مگر بھارت اور پاکستان کے پاس میزائیل چل جانے کے بعد نئیت اور حالات کی تصدیق کے لیے اٹھارہ سے تیس سیکنڈ کا وقت ہے۔ اگلا مرحلہ خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ ہے یعنی تھرڈ سٹرائک صلاحیت کے اصول کا ہے۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے حملے سے کیا بچانا چاہ رہے ہیں؟ بھوک، ننگ، پسماندگی؟ جہاں تک تحفظ کا معاملہ ہے تو گزشتہ سات ہزار برس میں کوئی فوج بھی ایسی نہیں گزری جس نے یہ کہا ہو کہ اس کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ کافی ہیں۔ ایسا ہو جائے تو ملٹری انڈسریل کمپلیکس کا کیا ہو گا؟ جو کپڑے روس اور امریکا نے کئی برس پہلے اتار دیے وہی اترن پہن کر بھارت اور پاکستان ایٹمی کلب کے نئے جنٹلمین بن رہے ہیں۔ مگر اس سے ہو گا کیا؟
کیا یہ مسئلہ ہے کہ ناک نیچی نہ ہو جائے ؟ کسی دن کسی سبب ناک ہی نہ رہی تو پھر کیا اونچا کریں گے؟ تو کیوں نہ ایسا ہتھیار بنانے کا سوچا جائے جو خوف اور غلط فہمی کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دے؟
وسعت اللہ خان

پاکستان کے ماضی چور

پاکستان کا حال ہی نہیں ماضی بھی مسلسل چرایا جا رہا ہے۔ تازہ ترین شاخسانہ
گندھارا تہذیب کے ایک سو نو برس پرانے نوادراتی مرکز پشاور میوزیم میں بدانتظامی اور کرپشن کے بارے میں گذشتہ ماہ مرتب ہونے والی رپورٹ کی شکل میں ہے۔ اسے نیشنل میوزیم کراچی کے سابق ڈائریکٹر مکین خان اور خیبر پختون خوا کے انسدادِ بدعنوانی کے دو افسروں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی نے مرتب کیا۔رپورٹ کے مطابق میوزیم میں موجود قدیم اور تاریخی سکوں کی آخری دستاویز بندی 2004ء میں ہوئی۔ قدیم نمائشی سکوں میں سے لگ بھگ 80 سکے جعلی پائے گئے۔ (رپورٹ میں ان ٹریز کے نمبر بھی دئیے گئے ہیں جن میں جعلی سکّے بغرضِ نمائش رکھے گئے) جعلی سکوں سے بدلے گئے اصل سکے برٹش راج میں میوزیم کے ذخیرے میں شامل کیے گئے۔ ایک سکہ جس کا اصل غائب ہے، آج کی بین الاقوامی نوادراتی مارکیٹ میں اس کی قدر پچاس ہزار ڈالر کے لگ بھگ بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کسٹم حکام جو سمگل شدہ نوادرات پکڑتے ہیں ان میں سے بہت سے کسٹمز سے مقامی محکمہ پولیس تک اور پولیس سے میوزیم کو حوالے کرنے کے دوران غائب ہو جاتے ہیں۔ پشاور میوزیم کے پاس ان ضبط شدہ نوادرات کی وصولی کا ریکارڈ بھی نامکمل پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت پشاور میوزیم میں مختلف نوعیت کے پندرہ منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، لیکن ان میں دکھائے گئے دس فیصد ملازمین بوگس ہیں جو گھر بیٹھے تنخوا لیتے ہیں یا پھر میوزیم کے ملازمین کے رشتے دار ہیں۔ منصوبوں کے کئی ٹھیکے دار بھی کاغذی ہیں۔ کچھ ملازم دیگر سرکاری محکموں میں ملازم ہیں مگر میوزیم پروجیکٹس سے بھی محنتانہ سمیٹ رہے ہیں۔ رپورٹ کی بابت خیبر پختون خوا کے مشیرِ اطلاعات مشتاق غنی نے روایتی ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بے قاعدگیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر سخت کارروائی کی جائے گی۔

بیرونی دنیا لاہور میوزیم کو گندھارا تہذیب کی علامت ’فاسٹنگ بدھا‘ کے سبب جانتی ہے۔ فاقہ کش بدھا اٹھارہ سو چورانوے سے اس میوزیم میں تپسوی ہے۔ یہ بدھا اپنے پیروکاروں کو اس قدر عزیز ہے کہ جب میں اپریل انیس سو نو میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے دھرم شالہ میں ملا تو انھوں نے کہا کہ پاکستان تو خیر میں اپنی زندگی میں کبھی نہ جا سکا اور نہ آئندہ امکان ہے مگر میں نے لاہور میوزیم کے فاسٹنگ بدھا کو کئی برس پہلے ٹوکیو میں ضرور دیکھا جہاں اسے ایک نمائش میں بطورِ خاص لایا گیا تھا‘۔اس فاسٹنگ بدھا کے ساتھ یہ ہوا کہ چار برس (اپریل دو ہزار بارہ) قبل پہلی بار معلوم ہوا کہ اس کے دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں غائب ہیں اور بائیں بازو میں صفائی کے دوران کریک پڑ چکا ہے جسے میوزیم کی کنزرویشن لیب کے عملے نے چھپانے کے لیے جلد بازی میں ایپوکسی (صمد بانڈ ٹائپ گوند) سے جوڑ دیا۔ یوں بازو پر کریک کا نشان مزید نمایاں ہوگیا۔

موقر انگریزی روزنامہ ڈان کی(جون دو ہزار چودہ) کی ایک رپورٹ کے مطابق دو ہزار نو کے بعد سے لاہور میوزیم کو کوئی کوالیفیائیڈ کنزرویشنسٹ نصیب نہ ہو سکا۔ لیب کا قائم مقام چارج ایک سادہ ایم اے آرکیالوجی کو دے دیا گیا۔ لیب ٹیکنیشن گذشتہ ڈائریکٹر کی ڈرائیوری پر مامور رہا اور ایک چوکیدار اس کی جگہ لیب کنزرویشنسٹ بنا رہا۔ ان حالات میں فاسٹنگ بدھا کا مزید خراب نہ ہونا بھی ایک معجزہ ہے۔ گندھارا نوادارت کا بہت بڑا کلیکشن انیس سو اٹھائیس سے قائم ٹیکسلا میوزیم میں ہے۔ آج تک جتنے غیر ملکی مہمانوں کو اسلام آباد کی قربت کے سبب ٹیکسلا میوزیم لے جایا گیا، یہ عزت پاکستان کے کسی اور میوزیم کے حصے میں نہ آ سکی۔ انیس سو اٹھانوے میں میری ملاقات ٹیکسلا میوزیم کے باہر موجود سووینئرز کی دکانوں میں سے کسی ایک پر ایک سنگتراش بابے سے ہوئی۔ دو ڈھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد بابا کھلا۔
اس نے انکشاف کیا کہ وہ کلاسیک بدھا تراشتا ہے اور پھر انھیں مختلف کیمیاوی جتن کر کے ڈھائی ہزار سال پرانا بھی کرتا ہے۔ اگر کاربن ڈیٹنگ نہ کی جائے تو بڑے سے بڑا جاپانی پھنے خان بھی اصل اور نقل نہیں پہچان سکتا۔ مَیں نے بابے سے پوچھا کہ اس میوزیم میں اصلی مال کتنا رہ گیا ہے؟ بابے نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے علامتی انداز میں بتایا ’یہاں بڑی لمبی کارروائیاں ہوتی ہیں صاحب، گائے کے تھنوں میں بہت کم دودھ بچا ہے، مگر جب خدا عیب ڈھانپنے والا ہے تو میں بھی کسی کا نام کیوں لوں‘۔ اس کے بعد بابے نے موضوع ہی بدل دیا۔
وسعت اللہ خان

شیر کا احتساب کون کرے ؟

بری فوج کے سپاہ سالار جنرل راحیل شریف نے گذشتہ روز کوہاٹ کے سگنلز رجمنٹ سنٹر کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے سگنل دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے اور مسلح افواج اس ضمن میں بلا امتیاز احتساب کی حامی ہیں ۔
حالانکہ اس بیان میں ایسا کچھ غیر معمولی نہیں جس پر تمام ٹی وی چینلز اور سیاستدانوں کے کان ریڈار کی طرح گھومنے لگیں مگر یہ پاکستان ہے۔
  
یہاں آرمی چیف کم کم بات کرتا ہے اور جب کرتا ہے تو بیسیوں تفسیریں کھل جاتی ہیں۔ ایک ایک لفظ کے معنی لغت الٹ پلٹ کے دیکھے جاتے ہیں۔ ہر اینکر ناظرین کو ڈرانا شروع کردیتا ہے اور ہر سیاستداں اپنے کردہ ناکردہ کی صفائیاں دینے لگتا ہے۔ بظاہر ایک معمول کے بیان کے پیچھے دراصل ایک غیر معمولی تاریخ ہے۔ پاکستان میں کسی بھی حکومت نے کبھی بھی کوئی ایسا خودمختار غیر جانبدار ادارہ تشکیل نہیں دیا جس کے بلا امتیاز احتسابی اختیارات و معیار کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر سراہا جا سکے۔
اس ملک میں ایوب خان سے پرویز مشرف تک جو بھی فوجی حکمران آیا اس نے بس دو کام کیے۔ احتساب کیا اور مسلم لیگ قائم کی۔ فیلڈ ماشل ایوب خان نے بد اعمال سیاستدانوں کو ایبڈو کے پتھر تلے داب دیا اور ’مثبت سوچ‘ رکھنے والے سیاستدانوں کو کنونشن مسلم لیگ کی نرسری میں داخل کر لیا۔ یحیٰی خان غریب کو احتسابی انجمن سازی کا پورا موقع ہی نہ مل پایا پھر بھی انہوں نے احتساب کے نام پر 313 افسر نکال دیے۔ (رپورٹ انھیں بھی ایجنسیوں نے یہی دی تھی کہ مغربی پاکستان میں قیوم مسلم لیگ اور جماعتِ اسلامی جیت رہی ہے)۔
ضیاالحق نے احتساب کے عمل کو اپنی حکمرانی کے اخلاقی جواز کی سیڑھی کے طور پر استعمال کیا اور جس جس نے سیڑھی کا پہلا پائیدان چوما اسے معصومیت کی سند دے کر براستہ نامزد مجلسِ شوری غیر جماعتی انتخابات کی بوگی میں بٹھا کر نئی مسلم لیگی لانڈری میں اتار دیا۔ اس لانڈری سے جو مسلم لیگی دھل دھلا کر نکلے وہ اگلے دس پندرہ سال میں پھر میلے ہوگئے چنانچہ اگلے جنرل پرویز مشرف نے نیب کے نام سے ایک اور جدید احتسابی واشنگ مشین تیار کی۔
’پلی بارگین‘ کا ڈیٹرجنٹ استعمال کیا اور مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اور قومی وطن پارٹی وغیرہ کو دھو دھلا کے ’ کرپٹ گٹھڑی‘ سے الگ کر دیا۔
مشکل یہ ہے کہ بلا امتیاز احتساب وہ مرغوب نعرہ ہے جس سے قاضی بھی متفق ہے اور چور بھی لیکن کیا ایسا احتساب ممکن بھی ہے؟
یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے کیونکہ ضیا الحق نے محتسبِ اعلیٰ کا جو ادارہ بلا امتیاز احتساب کے نام پر قائم کیا اس کے دائرہِ اختیار سے عدلیہ ، فوج اور انٹیلی جینس ایجنسیوں کے خلاف شکایات کو پہلے دن ہی نکال دیا گیا۔ محتسبِ اعلی کے پاس ایسا کوئی تادیبی اختیار بھی نہیں جو عدم تعمیل کی صورت میں استعمال ہو سکے چنانچہ محتسبِ اعلی کا ادارہ آج بھی برائے نام عملے اور چند دفاتر کی شکل میں بزرگوں کی میراث کے طور پر سانس لے رہا ہے۔ 
قومی احتساب بیورو محتسبِ اعلی کے پوپلے ادارے کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے مگر اس کا بس بھی سیاستداں اور تاجر و صنعت کار و ریٹائرڈ افسروں پر ہی چلتا ہے این ایل سی کیس میں نیب نے جن ریٹائرڈ فوجی افسروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی انہیں گذشتہ چیف آف آرمی سٹاف کے دور میں کورٹ مارشل کے وعدے پر فوج میں دوبارہ بحال کر لیا گیا۔ کورٹ مارشل ہوا مگر سزا یہ ملی کہ یہ غلط بات ہے آئندہ ایسے مت کیجیو۔ فوج کہتی ہے کہ اسے کسی سویلین احتسابی ادارے کی حاجت نہیں اور اس کا اپنا اندرونی نظامِ احتساب آرمی ایکٹ کی شکل میں حاضر سروس جوانوں، افسروں اور غیر محبِ وطن سویلینز کی جزا و سزا کے لیے کافی ہے۔
رہی بات انٹیلی جینس ایجنسیوں کے احتساب کی تو پہلے یہ تو طے ہو کہ ان کا مینڈیٹ ، دائرہ کار اور کمان کس سے بالا اور کس کے تحت ہے ؟ ۔ ہر سال شق وار بحث کے بعد قومی بجٹ کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے مگر دفاعی بجٹ کی مد میں محض دو سطور بجٹ تقریر میں شامل ہوتی ہیں یعنی ’اس سال کا دفاعی بجٹ تخمینہ اتنے ارب روپے ہے اللہ اللہ خیر صلی۔‘ کونسی بحث ، کون سی کٹوتی ؟ آج تک کوئی دفاعی سودا پارلیمنٹ تو کجا دفاعی امور سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں بھی زیرِ بحث نہیں آیا۔ عدلیہ کہتی ہے کہ اس کا اپنا نظامِ احتساب سپریم جوڈیشل کونسل کی شکل میں موجود ہے لہذا وہ باقیوں کا احتساب تو کر سکتی ہے مگر ججوں کا احتساب جج ہی کریں گے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک آئینی ادارہ اور ہر سرکاری محکمے کے آڈٹ کا مجاز ہے۔کبھی کسی نے سنا کہ عدلیہ اور فوج کے سال فلاں فلاں کی آڈٹ رپورٹ کچھ یوں ہے۔ چنانچہ جب فوج کا کوئی سربراہ یہ کہتا ہے کہ وہ بلا امتیاز احتساب کی حمایت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ ہر سیاستداں کا بلا امتیاز احتساب۔ ورنہ تو یہ بیان بھی دیا جا سکتا تھا کہ ’دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی ختم کیے بغیر ملکی امن و استحکام ممکن نہیں لہذا مسلح افواج اپنے سمیت ہر ادارے کے بلا امتیاز احتساب کی حمایت کرتی ہیں۔‘
ہو سکتا ہے جنرل راحیل شریف کے بیان کا بین السطور مطلب یہی ہو مگر بین السطور مطلب پوچھے کون؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

روشنیوں کا شہر یا اندھیروں کا مسکن

موسموں کی تبدیلی قدرت کا کرشمہ ہے۔ ہر موسم اپنے اندر بڑی جامعیت رکھتا
ہے۔ مگر گرمی شدت سے باہر ہوجائے تو آگ ہے اور آگ کو ٹھنڈا کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ جون سخت گرمی کے لیے مشہور ہے۔ اﷲ خیر کرے۔ گزرا ہوا سال اسی مہینے قیامت دیکھی۔ افسوس ہمارے ملکی وسائل ہونے کے باوجود چند ڈکیت اشرافیہ کی حرکت کی وجہ سے لگ بھگ دو ہزار غریب انسان لقمہ اجل بن گئے، جس کا مجموعی طور پر ذمے دار کراچی الیکٹرک بھی تھا۔ کے الیکٹرک کی ظلم انگیز داستانیں جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ صرف لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ کا ہی واویلا کیو ں کرتے ہیں۔

اس ادارے میں موجود کالی بھیڑوں نے اووربلنگ کی انتہا کردی ہے، صارفین کی کثیر تعداد ایسی بھی ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے ادارے کے کارندوں کو مبینہ رشوت دے کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔ بجلی کے میٹر کی تنصیب ہو یا ایک سے زائد میٹر کی تنصیب کا معاملہ، خطیر رقوم کی ادائیگی کے بغیر ناممکن ہے۔ منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی قیمتی دستاویزات میں عمل دخل، بے پناہ وقت کا ضیاع، سروے کے بہانے گھروں میں گھس کر ناجائز زائد بلوں کی ترسیل ان کا سماجی کلچر بن چکا ہے۔

پانی، گیس، بجلی، صحت عامہ، سڑکوں محلوں کی صفائی و ستھرائی، کسی بھی جمہوری اور غیر جمہوری ریاست کے عوام کو غیر منافع بخش اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہر صورت فلاحی ترجیحی ہنگامی بنیادوں پر براہ راست جلد فراہمی فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے، خواہ ملک کے داخلی و خارجی حالات جیسے بھی ہوں۔ بصورت دیگر عدم فراہمی حکومتوں کے لیے کوئی حق نہیں کہ وہ عوام کے ساتھ کسی بھی قسم کا ناجائز سمجھوتہ کریں۔

ان اداروں کے ذریعے کسی بھی قسم کا منافع کمانا، لوٹ مار کرنا اسلامی اور اخلاقی زاویہ نگاہ سے کسی صورت جائز نہیں، بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کے ضمن میں گناہ عظیم ہے۔ ملک میں بڑے یا چھوٹے پیمانے پر ریاستی دہشت گردی ہو، کرپشن کا معاملہ ہو، اسمبلیوں، اعلیٰ عدالتوں میں اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان سیاسی محاذآرائی ہو، نیب کے معاملات ہوں، ورلڈبینک کے غیر مشروط قرضہ جات ہوں، پانامہ کے حوالے سے آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمائے کو ملٹی پلائی (Multiply) کرنا ہو، ان تمام معاملات سے نہ تو عام آدمی کو کوئی دلچسپی یا غرض ہے اور نہ ہی کسی قسم کا حاصل ہونے والا فائدہ۔ عام آدمی کو صرف ریاست سے ضرورت ہے، وہ ہے۔ بنیادی حقوق کی مد میں بجلی، پانی، گیس، صحت عامہ اور دیگر عوامی ضروریات کی بروقت غیر منافع بخش بلاتردد فراہمی۔

افسوس! حکومتی نمایندوں نے انھی اداروں کو اپنے منظوم کاروبار کی بھینٹ چڑھادیا اور انھی اداروں سے لوٹا ہوا سرمایہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں جھونک دیا۔ یہ ملک ہی نہیں ہوگا تو بتاؤ تمہیں کون عزت کی نظر سے دیکھے گا۔ کون تمہیں اپنی سرزمین پر قدم رکھنے دے گا۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ تم ڈاکو اور لٹیرے ہو۔ یاد رکھو! جو بوؤ گے وہی کاٹو گے، یہی فطرت کائنات ہے۔ گزشتہ دنوں کے الیکٹرک کی جانب سے ایک عوامی سروس پیغام ایس ایم ایس (SMS) چلایا ہے جو نہایت ہی مضحکہ خیز ہے۔ لکھتے ہیں ’’گرمی میں احتیاط کریں، بزرگوں اور بچوں کا خیال رکھیں اور پانی زیادہ استعمال کریں‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا احتیاط کریں؟ کس طرح سے کریں؟ بزرگوں اور بچوں کا خیال کیسے رکھیں؟ تم ہی بتادو۔ جب شدید گرمی ہوگی تو اپنے ہی ہوش و حواس انسان کھو بیٹھتا ہے، ذہن ماؤف ہوجاتا ہے۔ ایسے میں اسے ٹھنڈک کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہر میں درخت تو ہیں نہیں، پارک اجڑ چکے ہیں جو تھوڑے بہت تھے۔

اب رہ گئے پنکھے اور ائیرکنڈیشن جس کو چلانے کے لیے بجلی کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور بجلی کا نعم البدل ہی نہیں ہے۔ وہ آپ کو نہیں ملتی، اگر ملتی بھی ہے تو جیب افورڈ (Afford) نہیں کرتی۔ وہ بھی قلیل وولٹیج کے ساتھ اور پانچ یا چھ گھنٹوں کے وقفے کے بعد۔ یہی صورتحال بیمار و ناتواں، عمر رسیدہ بزرگوں اور معصوم بچوں کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتے ہیں پانی زیادہ استعمال کر یں! پانی بھی تو بجلی ہی کا محتاج ہے۔ جب بجلی ہی ناپید ہوگی تو پانی کہاں سے آئے گا۔ شہر میں ٹیوب ویل، ہینڈ پمپ یا پانی کے کنویں تو ہیں نہیں کہ کنویں میں بالٹی کے ذریعے پانی نکالا جاسکے۔
کراچی الیکٹرک ایک خفیہ ہوائی گھوڑا ہے، جس کے اعلیٰ افسران کا کسی بھی عام آدمی کو نہ ہی پتا ہے نہ ہی اس کی ان تک رسائی۔ کمپنی کے مالکان کون ہیں؟ کمپنی کا مالک فرد واحد ہے یا کنسورشیم (Consortium) کی شکل میں اس کی ملکیت ہے۔ کسی کو کچھ نہیں پتا۔ ہاں البتہ شکایات کے جعلی ازالہ کے لیے شہر میں مکمل طور پر ائیر کنڈیشنڈ شکایتی ڈمی مراکز IBC کے نام سے قائم کیے گئے ہیں جن کا اندرونی حال احوال کچھ اس طرح ہے۔ جب آپ اندر داخل ہو تے ہیں تو نیلی وردی میں ملبوس کم اجرت سیکیورٹی گارڈ آپ کی اچھی طریقے سے جامہ تلاشی لے گا۔
ضرورت پڑنے پر آپ کا شناختی کارڈ طلب کرے گا اور رجسٹر میں آپ کے کوائف کا اندراج کرے گا۔ سیکیورٹی کا مرحلہ طے کرنے کے بعد قریب میں رکھی ہوئی ٹوکن ایشو مشین آپ کو نمبر کا اجرا کرے گی اور آپ وہاں پر لگی ہوئی خوبصورت اور آرام دہ کرسیوں پر براجمان ہوجائیں گے اور بیٹھے بیٹھے مرکز پر ہونے والے حال کا نظارہ بھی کرتے رہیں گے۔ خوبصورت اور دیدہ زیب اسٹائل میں بنے ہوئے کاؤنٹرز اور ان کے پیچھے بیٹھا ہوا کمپنی کا لاچار اور بے بس عملہ گلے میں شناختی کارڈ لٹکائے، کاؤنٹر پر نصب کمپیوٹر پر نگاہیں جمائے۔
اور دیکھئے ان کے پاس لمحہ بھر کے لیے اپنے سامنے کھڑے ہوئے ناراض صارف کی زیارت تک کا وقت نہیں۔
صارف چیختا چلاتا ہے، بعض سرپھرے صارف گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ باوجود کوشش صارف بے بس واپس لوٹ جاتا ہے۔ فیڈرل گورنمنٹ کے زیر اثر ادارتی انصاف کی عدالت وفاقی محتسب عوام کو بلامعاوضے اداروں کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کے لیے تن من سے کوشاں ہیں۔ محتسب کے دفتر کے اعلامیہ کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ شکایات کراچی الیکٹرک کی زائد بلنگ سے متعلق زیر سماعت ہیں، جن میں بیشتر کے فیصلے بھی صادر ہوچکے ہیں۔
گزشتہ دنوں بجلی کی پیداوار کے حوالے سے اہم اور دلچسپ خبر آئی ہے کہ جرمنی میں روایتی اور قابل تجدید ذرایع کے علاوہ ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کے حجم میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔
اس زیادتی کی تحلیل حکومت کے لیے ایک مسئلہ بن گئی ہے۔ زیادتی کی بنیادی وجہ اس سال ہوا اور شمسی تناسب موازناتی طور پر زیادہ رہا جو مقدار میں اضافے کا سبب بنا۔ ادھر کوئلہ اور ایٹمی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کی اضافی بجلی پیدا ہونے کے باوجود بند نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انھیں بند کرنے کے بعد دوبارہ Start کرنا محال ہے۔ زائد بجلی کی پیداوار کی کھپت کے لیے حکومت صارفین سے بل کی مد میں وصولی کے بجائے انھیں مزید رقم ادا کرنے پر مجبور ہے۔
قمر عباس نقوی

لیاری سے لیاقت آباد تک

میرے شہر میں گندگی عام ہوتی جا رہی ہے

میری زندگی مرضِ عام کی شکل ہوتی جارہی ہے
آپ کی نظروں سے ایسی خبریں کبھی نہ کبھی تو ضرور گزری ہونگی جس میں کوئی خاندان یا خاندان کے کچھ افراد کسی منفرد یعنی لا علاج اور پُراسرار بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ پُراسرار بیماری نہ صرف سننے میں بلکہ دیکھنے میں بھی عجیب ہوتیں ہیں۔ یہاں تک کہ آج کی جدید میڈیکل سائنس یا کم از کم پاکستانی طبی ماہرین اپنی تمام تر تعلیم، مہارت اور مشینوں کے باوجود بیماریوں کی تشخیص کرنے اور اس کے علاج میں ناکام رہتے ہیں۔ علاج تو دور کی بات وہ ایسی بیماری کو کسی خاص نام سے تلاش کرنے یا اسے مخصوص نام دینے سے بھی معذور نظر آتے ہیں۔ جہاں تک بلدیاتی اداروں اور ان کے تحت چلنے والے ذیلی اداروں کی ذمہ داریوں کی بات ہے تو اس پر بات کرنا اور نہ کرنا برابر ہی ہے
بلدیہ عظمیٰ تو اب بھی آزاد ہے ذمہ داریوں سے لیکن عوام کی سانسوں کی ہر ڈور گندگی کی اسیر ہوتی جارہی ہے کراچی کے وہ علاقے جہاں اب تک اس طرح کی خبریں آچکی ہیں اور لوگ مہلک، گمنام اور پُراسرار بیماری میں مبتلا ہیں، اُن میں ابراہیم حیدری، لیاری اور لیاقت آباد کے علاقے سرفہرست ہیں تاہم ایسی پُراسرار بیماریاں مذکورہ علاقوں تک مخصوص نہیں ہیں بلکہ گاہے بگاہے پورے ملک کے ایسے پسماندہ اور خستہ حال گاؤں یا شہر سامنے آچکے ہیں جہاں بچے اور خاندان بھر کے افراد اپنی منفرد بیماریوں کے ہاتھوں سسکنے پر مجبور ہیں۔

یہ بیماریاں کیسے پیدا ہوتی ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ یہ سوال پڑھنے والوں کےاذہان میں اٹھتا ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ دراصل گندگی میں سانس لینا، کھانا پینا اور حفظان صحت کے برخلاف طرز زندگی ایسی پُراسرار جلدی اور اندرون جسم بیماریوں کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ویسے تو پُراسرار بیماریوں کے حوالے سے فی الوقت کراچی کے چند علاقے قابل ذکر ہیں لیکن اگر حالات یونہی چلتے رہے تو خدشہ یہ ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کھبی نہ سنائی دینے والی جلدی اور جسمانی بیماریاں پورے شہر قائد کو اپنا مسکن بنالیں گی کیونکہ پورا شہر ہی گندگی، بدترین ٹریفک کے مسائل، عوام کی بے حسی اور غلط طرز زندگی پر ماتم کناں ہے۔

کراچی میں ضلع وسطی کے علاقے نیو کراچی، صبا سینما چورنگی، صنعتی ایریا، گودھرا کالونی، نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی، ڈسکو موڑ، خواجہ اجمیر نگری، انڈہ موڑ، ناگن چورنگی، فور کے چورنگی، بابا موڑ، دو منٹ چورنگی، کریلا اسٹاپ، نارتھ ناظم آباد شپ اونر کالج، شارع نور جہاں، نصرت بھٹو کالونی، عبداﷲ کالج، لنڈی کوتل چورنگی، ضیا الدین چورنگی، موسیٰ کالونی، کریم آباد، لیاقت آباد سندھی ہوٹل، دو نمبر طالب کالونی، سپر مارکیٹ، چونا ڈپو، ناظم آباد، رضویہ سوسائٹی، گلبہار، گلبرگ، فیڈرل بی ایریا شامل ہیں تو ضلع جنوبی میں اولڈ سٹی ایریا کے علاقے گارڈن، کھارادر، رامسوامی، رنچھوڑلائن، چونا بھٹی، لائٹ ہاؤس، ڈینسو ہال، جوبلی، مارواڑی لائن، لیاری، لی مارکیٹ، جونا مارکیٹ، برنس روڈ اور پاکستان چوک شامل ہیں۔

اِسی طرح ضلعی شرقی کے علاقے گلشن اقبال ڈسکو بیکری، عزیز بھٹی، ڈالمیا، پی آئی بی کالونی، پرانی سبزی منڈی، ڈرگ روڈ، مبینہ ٹاؤن اسکاؤٹ کالونی، گلزار ہجری کے علاوہ ضلع غربی کے علاقے اورنگی ٹاؤن، مومن آباد، فقیر کالونی، پیرآباد، پاک کالونی، سعید آباد، گلشن غازی، بلدیہ ٹاؤن، مواچھ گوٹھ، جنگل اسکول، مشرف کالونی، قائم خانی کالونی، رانگڑ محلہ اور عابد آباد شامل ہیں۔

ڈسٹرکٹ کورنگی کے علاقے زمان ٹاؤن، کورنگی کراسنگ، لانڈھی، شرافی گوٹھ، چکرا گوٹھ، عوامی کالونی، لانڈھی خرم آباد، زمان آباد جبکہ ڈسٹرکٹ ملیر کے علاقے میمن گوٹھ، بن قاسم ٹاؤن، شاہ لطیف ٹاؤن، ملیر سٹی بکرا پیڑی، سہراب گوٹھ نئی سبزی منڈی، صفورا گوٹھ، موسمیات چوک اوکھائی میمن اور ایئرپورٹ بھٹائی آباد سمیت دیگر علاقوں کی سڑکیں، گلیاں اور محلے نہ صرف صفائی سے محروم ہیں بلکہ جگہ جگہ کوڑے اور غلاظت کے ڈھیر سے علاقہ مکین شدید تعفن میں اپنی زندگیاں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
کراچی پر طائرانہ نظر ڈالنے کے بعد یہاں دو ناموں کی مثال دینا چاہوں گا جہاں گندگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ان میں سب سے پہلے ہے لیاری ہے جہاں کی گلی محلوں میں گھوم پھر کر اسکا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اُس کے بعد اگر آپ لیاقت آباد جیسے علاقے میں چلت پھرت کریں۔ بالخصوص لیاقت آباد دو نمبر، جھنڈا چوک سے لے کر طالب کالونی تک، جہاں کی حالت زار کسی جنگ کے بعد کے منظر کی عکاسی کرتی ہے۔ لیاری اور لیاقت آباد دونوں ہی علاقے شہری انتظامیہ کی زبردست عدم توجہ کا شکار ہیں۔ پسماندگی کا شکار بنگالی پاڑے کے بارے میں سنتے آئے تھے کہ ایک ایک گھر سے درجنوں بچے یا افراد ملتے ہیں مگر اب یہ تاثر لیاقت آباد پر بھی صادق آتا ہے۔

یہاں کی آبادی اب اس قدر زیادہ ہوچکی ہے کہ گمان ہوتا ہے جیسے بچے اُبل رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ آبادی جتنی زیادہ ہوگی کچرا اور گند بھی اُتنا ہی زیادہ ہوگا۔ لیاقت آباد میں گھروں سے نکلنے والے کچرے کے ڈھیر سے کچرا کنڈی نہ صرف بھری نظر آتی ہے بلکہ یومیہ بنیادوں پر اسے تلف نہ کرنے کے انتظامات نہ ہونے کے باعث یہ کچرا ملحقہ گھروں اور دکانوں تک جاپہنچا ہے۔ قریب کی دکانیں روز کھلتی ہیں اور یہاں کے بے حس دکاندار کھانے پینے کی اشیاء سرعام بغیر کسی صفائی ستھرائی کے عوام کو فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر گوشت کی دکانیں جہاں صبح سویرے ذبح ہونے والے جانوروں کے جسموں پر قریب کی گندگی سے آنے والی ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں مکھیاں چمٹی رہتی ہیں اور بعد میں پورے دن کے دوران یہی گوشت لوگوں کو فروخت کیا جارہا ہوتا ہے۔ لیاقت آباد کی قدیم ترین گروسری (سبزی و پھل) گلی سے گزریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس بے حسی کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعے عوام کو بدترین اور غلیظ ترین اشیاء فروخت کی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی سپر مارکیٹ میں گوشت کی دکانیں ہیں جن سے نکلنے والا تعفن دماغ کو گلانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ یہاں رہنے والے گھروں کے مکین بتاتے ہیں کہ انہیں اُڑنے والے ایسے کیڑوں کا سامنا ہے جو آج سے پہلے کھبی نہیں دیکھے گئے۔

دراصل یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پسماندہ علاقوں میں عجیب و غریب اور پُراسرار بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جس طرح اس غلیظ ترین گندگی سے عجیب و غریب حشرات دیکھنے میں آتے ہیں بالکل اِسی طرح ان سے ایسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جنکی طب میں کوئی تشریح موجود نہیں ہوتی۔ کل تک یہ بیماریاں اور امراض گاؤں دیہاتوں تک محدود تھے لیکن اب اس کا نشانہ شہر بن چکے ہیں اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں جو اپنے گھروں کا کچرا گلی محلوں میں لاپروائی سے پھینک دیتے ہیں۔ اُبلتے گٹروں اور کچرا کنڈی کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے اپنی آواز بلند نہیں کرتے بلکہ اندھے، بہرے اور گونگے بن کر آزمائے ہوؤں کو آزمانے کی قسم کھاتے رہتے ہیں۔ ہم بحیثیت ایک شہری سیاسی شعور کے معاملے میں انتہائی گندے اور غلیظ ہوچکے ہیں۔ اتنے گندے کے ہماری حسیات باہر کی گندگی کا احساس کرنے سے قاصر ہے۔ ہم ہر بار عوامی نمائندگی کے لئے ان لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں جنہیں شہری نظامت سے نہ تو کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی انہیں صفائی ستھرائی کا احساس۔ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گندگی کے معاملے میں لیاری لیاقت آباد بنتا ہے یا لیاقت آباد لیاری 
نعمان احمد انصاری