کراچی آپریشن ۔ ناکامی کا کوئی آپشن نہیں

قومی قیادت نے ایک بار پھر یہ عزم دہرایا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت ختم کیا جائے گا۔ کراچی میں دو بڑے واقعات کے بعد جنرل راحیل شریف اور وزیر داخلہ سمیت سندھ کے بڑے سر جوڑ کے بیٹھے اور اس بات پر اتفاق رائے ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ہر چار چھ مہینے کے بعد قومی قیادت کو یہ عزم ظاہر کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے، کیونکہ دہشت گردوں کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ انہیں کاٹنا آسان نہیں۔ سالہا سال کی لگی ہوئی دیمک ہمارے نظام کو بھی اندر سے کھوکھلا کر چکی ہے اور اس نے اپنی جڑیں بھی دور تک پھیلائی ہوئی ہیں۔ مَیں ان لوگوں کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، جو ایک یا دو بڑے واقعات کی بنیاد پر یہ بیان جاری کر دیتے ہیں کہ آپریشن ناکام ہو گیا ہے۔ ایسے واقعات ایک تاثر ضرور پھیلاتے ہیں، مگر حقیقتاً ان سے آپریشن کی ناکامی ظاہر نہیں ہوتی۔ کراچی میں امجد صابری کا قتل اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کا اغوا یقینا بڑے واقعات ہیں، مگر یکدم یہ بیان جاری کر دینا کہ ان کی وجہ سے کراچی آپریشن پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ان کامیابیوں اور قربانیوں کو جھٹلانے کی کوشش ہے،جو اب تک اس ضمن میں حاصل یا دی جا چکی ہیں۔
آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں کو دُنیا نے تسلیم کیا ہے۔ دہشت گردوں کا وہ نیٹ ورک جو پاکستان میں دہشت کی متوازی حکومت چلا رہا تھا، اب ختم ہو چکا ہے جو ٹوٹا پھوٹا نیٹ ورک موجود ہے، اسے خود کو زندہ رکھنے کے لئے بہت تگ و دو کرنی پڑ رہی ہے۔ انٹیلی جنس کے بہتر استعمال سے آئے روز دہشت گردوں کے پکڑے جانے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ افغانستان سے آنے والے راستوں کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ وہ فری آمد و رفت جو دہشت گردوں کو کمک پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، ختم کر دی گئی ہے۔ اس پر افغانستان کی طرف سے جو رد عمل دیکھنے میں آیا وہ بھی حیران کن ہے، حالانکہ امن کی خاطر اس کی حمایت کی جانی چاہئے تھی، گویا ایک بہتر سمت میں کام ہو رہا ہے۔ ایسے میں صرف کراچی کو ہائی پروفائل شخصیات کو ہدف بنانے کے واقعات معنی خیز ہیں انہیں بہت گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کراچی آپریشن کو کسی صورت بھی ناکام نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم یہ بھی صحیح ہے کہ ابھی کراچی میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا شہر جہاں لاقانونیت کو ایک طرزِ زندگی بنا لیا گیا تھا اور جہاں مختلف گروہوں نے شہر کے علاقے بانٹ کر وہاں اپنی ریاستیں قائم کر لی تھیں، اب ایک کھلے شہر کے طور پر موجود ہے۔ اکا دکا علاقوں کے سوا پورے کراچی پر قانون کی عملداری قائم ہوتی نظر آتی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم ابھی تک خود کو قانون شکنوں اور دہشت گردوں سے علیحدہ کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ سے بہت سے ابہام پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے گروہ بھی فائدہ اٹھا جاتے ہیں مثلاً امجد صابری کے قتل کا سانحہ ہوا تو سب سے پہلے ایم کیو ایم نے ہی کراچی آپریشن پر سوال اُٹھایا اور یہ منطق نکالی کہ آپریشن چونکہ صرف ایم کیو ایم کے خلاف ہو رہا ہے، اِس لئے دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں، جنہوں نے امجد صابری کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
آخر اِس طرح کی منطق ڈھونڈنے کی کیا ضرورت تھی؟ سیدھی طرح اس قتل کی مذمت کر کے کراچی آپریشن کو جاری رکھنے کی بات بھی تو کی جا سکتی تھی۔ فاروق ستار نے تو واردات کے اگلے چند منٹوں میں یہ الزام بھی لگا دیا کہ امجد صابری کو ایم کیو ایم چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور پی ایس پی والے انہیں اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے تھے۔ بعد ازاں اس بات کی امجد صابری کے اہل خانہ نے تردید کر دی۔ ایم کیو ایم جتنی مشکلات میں گھری ہوئی ہے اُسے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے، مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ اُس کی قیادت جلد بازی کا شکار ہے اور اِسی جلد بازی کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں، جس دن آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے رینجرز ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور واشگاف الفاظ میں یہ عزم دہرایا کہ کراچی آپریشن اہداف کے حصول تک جاری رہے گا، اُسی دن ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے رات کے ٹی وی ٹاک شوز میں غیر مشروط طور پر کراچی آپریشن کی حمایت کرنے کے دعوے کئے۔ ایک قومی مسئلے پر بات بے بات موقف کی تبدیلی کیسے ملکی مفاد میں ہو سکتی ہے؟
اس تاثر کو بھی اب دور ہونا چاہئے کہ رینجرز اور سندھ حکومت میں اشتراک عمل موجود نہیں، اگر یہ دوئی رہتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ حکومت کا ذیلی ادارہ، یعنی پولیس بھی رینجرز سے تعاون نہیں کرے گا، اس کا دہشت گردوں کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے یا پہنچ رہا ہے، اس پر کوئی دلیل دینے کی چنداں ضرورت نہیں۔ سندھ پولیس کی قربانیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ نصیر اللہ بابر دور کے پولیس افسروں اور جوانوں کو جس طرح چُن چُن کر کراچی میں قتل کیا گیا اس کی کہانی بھی کچھ زیادہ پرانی نہیں، اب بھی دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے بے شمار پولیس والے جاں بحق ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ان قربانیوں کی وجہ سے پولیس کی قدرو منزلت بڑھنی چاہئے تھی، پھر کم کیوں ہو گئی ہے۔
کیوں یہ کہا جا رہا ہے کہ سندھ پولیس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے پر قادر نہیں، یا یہ تاثر کیوں پایا جاتا ہے کہ رینجرز دہشت گرد پکڑ کر پولیس کے حوالے کرتی ہے اور پولیس انہیں کمزور مقدمات بنا کر چھوڑ دیتی ہے۔ یہ اشتراکِ عمل کا شدید فقدان ہے، جسے ختم ہونا چاہئے، صرف یہی نہیں کہ کسی بڑے واقعہ کے بعد جو بڑوں کی میٹنگ ہو، اُسی میں ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ اکٹھے بیٹھیں، بلکہ اُن کے درمیان اداروں کی سطح پر اس قدر موثر رابطہ ہونا چاہئے کہ دہشت گردوں کو فرار کی جگہ نہ ملے۔ حالیہ واقعات کے بعد سندھ میں جو ہلچل مچی ہے اور جس طرح ریاست کے بڑے بیٹھے ہیں، اُس سے جو فیصلے سامنے آئے ہیں وہ اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، یعنی پولیس میں20 ہزار نئی بھرتیاں، جدید آلات کی فراہمی اور دیگر سہولتیں، مگر ان سب کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ نصب العین بھی ضروری ہے۔ 
سندھ حکومت یا رینجرز کے درمیان یہ کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جنگ نہیں ہے، بلکہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ صوبے خصوصاً کراچی میں امن و امان قائم کرنا ہے، نیتوں پر شبہ کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہئے اور ایم کیو ایم کی طرح سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی بھی یہ حوصلہ پیدا کرے کہ مجرم کو مجرم کہہ سکے چاہے وہ اس کی صفوں میں ہی کیوں موجود نہ ہو۔ صرف ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر پیپلزپارٹی نے رینجرز کے خلاف جو عدم تعاون کی فضا بنا رکھی ہے، اُسے ختم ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی جنگ عدالتوں میں لڑی جا رہی ہے اگر وہ بے گناہ ہوں گے تو رہا ہو جائیں گے۔ صرف انہیں ریلیف دینے کے لئے اگر رینجرز کو دیوار کے ساتھ لگانے کی پالیسی روا رکھی گئی ہے اور کراچی آپریشن کو بے دلی کے ساتھ پر کاٹ کے چلانے کی غیر اعلانیہ حکمتِ عملی بروئے کار لائی گئی ہے تو یہ مُلک و قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ خود پیپلزپارٹی کو بھی حالیہ دو واقعات سے اندازہ ہو گیا ہو گا کہ جب بُری حکمرانی کی بات ہوتی ہے تو نزلہ کسی اور پر نہیں سندھ کی شاہ حکومت پر ہی گرتا ہے۔
کراچی کے بارے میں ہمیں سوائے رجائیت کے اور کوئی نظریہ نہیں اپنانا چاہئے، کیونکہ کراچی آپریشن میں کامیابی کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں۔ کراچی کا امن پاکستان کی شہ رگ کو بچانے کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس شاہ کے اغوا پر پوری ریاستی مشینری جس شد و مد سے کام کر رہی ہے، اس کے نتائج یقیناجلد سامنے آئیں گے اور یہ عقدہ بھی حل ہو جائے گا کہ ایک ایسے وقت میں جب کراچی کا امن ایک بڑی حقیقت بن کر سامنے آ رہا تھا، اسے تہہ بالا کرنے کی سازش کس نے کی۔ یہ واقعات کراچی آپریشن پر سوالیہ نشان نہیں چھوڑ گئے، بلکہ یہ پیغام دے گئے ہیں کہ اب اگر اِس ضمن میں مزید غفلت برتی گئی تو وہ قوتیں جو اس شہر کو بیروت بنانا چاہتی ہیں، پھر سے منظم ہو جائیں گی اور ہمیں ان کے خلاف نئے سرے سے ایک بڑی جنگ لڑنی پڑے گی۔ اِس لئے اس زخمی سانپ کو ابھی پوری طاقت سے کچلنے کی ضرورت ہے۔
نسیم شاہد

Advertisements

شطانیت اور رحمانیت دونوں عروج پر

کچھ عرصے سے کراچی کی شناخت بدامنی اور بد انتظامی بن چکی ہے لیکن ماضی میں اسی کراچی کو روشنیوں کا شہر، عروس البلاد اور غریب پرور شہر کے نام سے پکارا جاتا ہے، لیکن یہ شہر ایک حیرت کدہ بھی نظر آتا ہے۔ شہر پر منگل کی شب جب بادل برس رہے تھے تو ساڑہ آٹھ بجے کے قریب میں بائیک پر دفتر سے گھر کے لیے روانہ ہوا، شاہراہ فیصل پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے گلیوں سے جانے کو ترجیج دی لیکن طارق روڈ کے قریب پانی کے بہاؤ کے سامنے بائیک نے مزید چلنے سے انکار کر دیا۔
ایک فٹ سے زائد پانی میں جب میں بائیک کو دھکیلتا ہوا چند قدم ہی آگے بڑھا تو سامنے چار نوجوان نظر آئے، جو بغیر کچھ بولے آگے بڑھے اور بائیک کو اٹھاکر فٹ پاتھ پر کھڑا کردیا اور ون وے پر لاکر خود ہی اس کا پلگ صاف کرنے لگے ، انھوں نے مجھے تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں وہ ابھی بائیک ٹھیک کر دیں گے۔
جس شہر میں گن پوائنٹ پر لٹنے کے واقعات عام ہوں اور ٹارگٹڈ آپریشن بھی اس میں کمی نہیں لا سکا ہو اس صورتحال میں اگر آپ چار نوجوانوں کے درمیان میں ہوں تو ڈر و خوف طاری ہونا قدرتی امر ہے۔ میں بھی تھوڑا گھبرایا ضرور لیکن چند منٹوں بعد میر اعتماد بحال ہوگیا۔
ان نوجوانوں نے اپنے طور پر پوری کوشش کی لیکن بائیک ٹس سے مس نہیں ہوئی، میں ان نوجوانوں کے شکریہ کے ساتھ پھر بائیک کو دھکیلتا آگے بڑھا، آگے چوک پر کئی لوگ خراب بائیکوں کے ساتھ موجود تھے لیکن ہر بائیک کے قریب ایک نوجوان بھی نظر آتا جو اس کی مرمت میں مصروف تھا۔ یہ کراچی کی ایک بلکل مختلف پہچان تھی جس کا مجھے پہلے تجربہ نہ تھا۔ اس بھیڑ سے جیسے آگے پہنچا تو ایک بائیک پر نوجوان آکر رکا اور مشورہ دیا کہ دھکے سے گاڑی اسٹارٹ ہو جائیگی جس کے بعد اس نے ایک پاؤں میری بائیک پر رکھا اور سپیڈ سے اپنی بائیک چلائی مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی جس کے بعد میں نے اس کو جانے کے لیے کہا۔
 
اس طرح کئی لوگ راستے میں رکتے اور مدد کی پیشکش کرتے رہے بالاخر دو نوجوانوں کی محنت رنگ لائی اور میری بائیک اسٹارٹ ہوگئی میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ یقیناً باقی لوگ بھی ان مددگاروں کی محنت سے گھر پہنچے ہوں گے اور میری طرح انھیں بھی پریشان حال اہل خانہ کے مسلسل فون آ رہے ہوں گے۔
کراچی کے بارے میں نامور سماجی رضاکار عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم کا شہر ہے، یہاں ہر چیز تقسیم ہو چکی ہے، میں نے بھی اس شہر میں دس سال کی صحافت کے دوران لسانی اور فرقہ ورانہ تقسیم دیکھی ہے، کہیں فرقہ تو کہیں زبان و نسل خطرہ بن جاتی ہے، اس صورتحال میں صحافت بھی صرف مخصوص علاقوں تک محدود ہے۔
اس شہر میں پریشانی و خوف کی وجہ سے اگر کسی کو نیند نہ آئے تو دوسری بات ہے لیکن یہاں کم از کم کوئی بھوک کی وجہ سے نہیں جاگتا، ہر علاقے میں ایسے دستر خوان اور ہوٹل موجود ہیں جہاں غریبوں اور فقیروں کو دو وقت کا کھانا دستیاب ہوتا ہے، یہاں کوئی کسی سے فرقہ یا زبان کا سوال نہیں کرتا ہے۔
شہر کی ہول سیل مارکیٹوں میں سیٹھ ایک روپیہ رعایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن ماہ رمضان میں یہ ہی سیٹھ ہزاروں لوگوں میں مفت راشن تقسیم کرتے ہیں۔
 
یہاں کچھ لوگ کسی تنازعے یا اختلاف پر قتل کرکے لاش سڑک پر پھینک دیتے ہیں اور اسی شہر کا عبدالستار ایدھی کسی تفریق سے بالاتر ہوکر ان لاشوں کو غسل و کفن کے بعد دفن کر دیتا ہے۔ یہاں گرفتار ہونے والے بعض شدت پسندوں کی جیب سے نکلنے والی ہٹ لسٹ میں ڈاکٹر ادیب رضوی کا نام بھی شامل ہوتا ہے لیکن یہ ہی ادیب رضوی شیعہ اور سنی دونوں کے گردوں کا علاج ایک ہی جذبے کے ساتھ کرتے ہیں۔ ایک ساتھی کے چچا کے بقول کراچی میں شیطانیت اور رحمانیت دونوں ہی اپنے عروج پر ہے۔ یہاں سیاہ اور سفید دونوں کے مزاج کا امتزاج موجود ہے۔
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Karachi received rain coupled with strong winds

Different areas of Karachi received rain coupled with strong winds, bringing relief for citizens following a brief hot spell, Samaa reported. The first monsoon rain turned the weather pleasant as many areas including Nazimabad, Liaqatabad, North Nazimabad, Baldia, SITE Area, Maripur, Gulshan-e-Iqbal and Gulistan-e-Jauhar received showers. According to Karachi Water & Sewerage Board (KWSB), K-Electric’s transmission line of 132 KV has tripped as a result of strong winds and heavy rainfall. KE has issued an advisory, urging citizens to stay from electric poles and not to use wet hands for door bells.

کراچی آپریشن پر سوالیہ نشانات

بعض اوقات مصروفیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ آدمی خود کو بھول جاتا ہے، صرف
مصروفیت کو یاد رکھتا ہے، یہ ہماری دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے آرام، سکون اور مسرتیں حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے لیکن اتنی محنت اور اتنی مصروفیت کے باوجود خوشی تھوڑی دیر کے لیے ملتی ہے، ہمیشہ یہی ہوتا ہے، مسرتوں کا حصہ بہت کم ہوتا ہے، ابھی ہم خوشیوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں کہ اچانک صدمہ ہم پر حملہ آور ہوتا ہے، ہمارے حلق میں قہقہے گھٹ جاتے ہیں اور چیخ نکل پڑتی ہے۔ تقدیر کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں، انسان اپنی چالیں تو بدل بھی سکتا ہے مگر ستاروں کی چال کبھی نہیں بدلتی۔

بالکل ایسا ہی حال ان دنوں اہل کراچی کا ہے، جہاں جرائم پیشہ افراد نے ایک بار پھر سرگرم ہوکر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رٹ کو چیلنج کردیا ہے۔ انسانوں کے اس سمندر میں بدامنی کی لہریں مکمل طور پر تھمتی بھی نہیں کہ ان میں پھر سے تلاطم پیدا ہوجاتا ہے، یہاں کے باسی مسرت کے لمحوں سے پوری طرح لطف اندوز بھی نہیں ہوپاتے کہ خوف کے بادل پھر سے چھاجاتے ہیں۔
ملک کے سب سے بڑے شہر سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کا دن دہاڑے اغوا اور معروف قوال امجد صابری کو ٹارگٹ کرکے جاں بحق کیے جانا ایک لمحہ فکریہ اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا واضح ثبوت ہے۔ جب کہ بھتہ خور بھی دوبارہ سرگرم ہوگئے ہیں اور حسب سابق شہر کے مختلف علاقوں میں بھتے کی پرچیاں تقسیم کیے جانے کی خبریں آرہی ہیں۔ اس ساری صورتحال نے کراچی میں گزشتہ تین برس سے جاری آپریشن پر سوالیہ نشانات لگادیے ہیں؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تمام تر حکمت عملی اور ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود شہر قائد میں مکمل طور پر امن کے قیام کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ رینجرز کی جانب سے جرائم پیشہ، ٹارگٹ کلرز، مافیا کے خلاف شروع کردہ آپریشن کے انتہائی مثبت اثرات تو مرتب ہوئے ہیں اور شہر قائد کی روشنیاں بھی بحال ہوچکی ہیں مگر توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہر چند روز گزرنے کے بعد جرائم پیشہ سرگرم ہوجاتے ہیں اور شہر میں لاشیں گرنے کے واقعات رونما ہونے لگتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ شرپسندوں کو استعمال کرنے والے ابھی تک قانون نافذ کرنے والوں کی گرفت میں نہیں آسکے ہیں، جیسے ہی وہ سوئچ آن کرکے احکامات جاری کرتے ہیں ویسے ہی شرپسند حرکت میں آکر انسانی جسم کشی (ٹارگٹ کلنگ) کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں۔ اصل میں کراچی میں امن قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، کنکریٹ کے اس جنگل میں مافیا گینگز کے کارندوں، دہشتگردوں، ٹارگٹ کلرز کو وارداتوں کے لیے ایک طویل عرصے سے کھلا لائسنس ملا ہوا تھا، آج بھی کچی آبادیوں کے سلسلے پھیلتے جارہے ہیں، ہر سال لاکھوں افراد شہر میں جائے سکونت کی تلاش میں ان آبادیوں میں بسیرے ڈالتے ہیں، انتظامی حوالے سے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس جیتی جاگتی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کراچی میں رینجرز کے آپریشن سے پہلے اور بعد کی صورتحال میں امن و امان کے حوالے سے نمایاں بہتری آئی ہے، آج کراچی کی تاجر برادری اور عام شہری کافی حد تک مطمئن ہیں، جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے رینجرز، پولیس و دیگر سیکیورٹی اداروں نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی حقیقت بھی سب کے سامنے ہے۔
جس شہر میں لوگ دن کو بھی گھر سے باہر نکلنے سے گھبراتے تھے اب اس کی راتیں بھی بڑی حد تک پرسکون ہوگئی ہیں، سماجی و معاشی سرگرمیوں کا پہیہ رواں ہوگیا ہے، نوگو ایریاز بھی تقریباً ختم ہوگئے ہیں، شہر قائد کے مکین امن و امان کی صورتحال میں اس بہتری کا سارا کریڈٹ رینجرز فورس کو دیتے ہیں جو قانون نافذ کرنیوالے دوسرے اداروں سے مل کر شہر میں لاقانونیت کے خلاف دلیرانہ جنگ لڑ رہی ہے لیکن عام شہری اور کاروباری طبقے یہ بھی سوچتے ہیں کہ رینجرز کے چلے جانے کے بعد کہیں بدامنی کا پرانا دور واپس تو نہیں آجائے گا؟ دیکھا جائے تو کسی بھی مسلح اور منظم فورس کے لیے کسی آپریشن کی کامیابی میں تین سال بڑا عرصہ ہوتا ہے۔
اس لیے یہ سوال کہ رینجرز آپریشن کے اثرات تادیر کیسے قائم رکھے جائیں، اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، مجرم بھی اسی انتظار میں ہے کہ رینجرز کب واپس جائیں اور کب انھیں دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملے کیونکہ کراچی میں رینجرز آپریشن ہمیشہ جاری رکھنا مسئلے کا مستقل نہیں ہے۔ دہشتگردی پر تنہا کوئی ادارہ قابو نہیں پاسکتا، اس کے لیے ناگزیر ہے کہ دیگر اداروں کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے، روشنیوں کے شہر میں مستقل بنیادوں پر امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہمارے اداروں سمیت تمام جماعتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف عوام کو متحرک کرنے کے لیے کردار ادا کریں، اس عمل میں عوامی سطح پر سیکیورٹی سروسز فراہم کرنے والے بلدیاتی اداروں کو بھی شریک کیا جائے تو جرائم پیشہ افراد پر قابو پانے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔
جرائم پر قابو پانا کوئی آسان کام نہیں جب کہ دہشتگردی کا خاتمہ ایک طویل المدتی عمل ہے، اس میں سول اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت معاون ثابت ہوگی، کراچی میں مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ کراچی آپریشن کا ٹائم فریم دے کر آپریشن کے اچھے اثرات کو دوام دینے کے لیے ایک ایسا سیٹ اپ قائم کیا جائے جو بنیادی طور پر سویلین ہو لیکن اس میں رینجرز اور سیکیورٹی ایجنسیوں کا بھی کسی طرح کا کردار ہو، اس کے بغیر شہر کے مستقل امن و امان کی کوئی ضمانت شاید موثر نہیں ہوگی۔ کراچی کا امن ملک کا امن ہے، اس کی خوشحالی ملک کی ترقی و خوشحالی ہے۔
ذہن نشین رہے کہ راستے میں دیوار ہو تو فکر کرنے اور اپنا خون جلانے سے دیوار نہیں گرتی، سر مارنے سے سر ٹوٹتا ہے، دیوار نہیں ٹوٹتی، لاحول پڑھنے سے ماحول نہیں بدل جاتا۔ جب یقینی طور پر کوئی خطرہ پیش آنے والا ہو تو خوف کھانے، پریشان ہونے یا فکرمند ہونے سے خطرہ ٹل نہیں سکتا، اس کا ہر حال میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دانشمندی یہی ہوتی ہے کہ حوصلے اور خود اعتمادی سے آنے والے وقت کا انتظار کیا جائے۔ کسی بھی کہانی کا آخری سین بہت ہی سنسنی خیز ہوتا ہے، کسی راستے کی آخری منزل کا آخری مرحلہ بڑا دشوار گزار ہوتا ہے، کراچی میں امن کے دشمنوں کے خلاف آپریشن بھی ایسے ہی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے مگر کہتے ہیں نا کہ جذبہ اگر صادق ہو، ارادے اگر چٹان کی طرح مضبوط ہوں تو انسان کی خواہش ایک دن ضرور پوری ہوتی ہے۔
محمد عارف شاہ 

کراچی مافیاؤں کے قبضے میں

راقم نے کراچی شہر کے مسائل سے متعلق متعدد بار کالم لکھ کر حکمرانوں اور
خود شہریوں کی توجہ دلائی ہے کہ وہ ان مسائل کے حل میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کراچی شہر میں بغیر منصوبہ بندی اور غیرقانونی طور پر عمارتوں کی تعمیر سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی توجہ دلائی ہے۔ گزشتہ ہفتے اخبارات میں ایک ایسی خبر آئی کہ جس سے راقم کے لکھے گئے کالم کی تائید بھی ہوتی ہے اور اس شہر کی خطرناک صورتحال کا بہت حد تک اندازہ بھی ہوتا ہے۔

خبر کے مطابق ایک حساس ادارے کی رپورٹ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کراچی میں چار ہزار غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ غیر قانونی عمارات ضلع وسطی اور شرقی (ایسٹ) میں تعمیر کی گئی ہیں۔
اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی رپورٹ میں غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو ہزار سے زائد ایسی رہائشی عمارتوں کی غیر قانونی تیسری اور چوتھی منزلیں تعمیر کی گئی ہیں جن عمارتوں کی بنیادیں دو یا تین منزلوں کے لیے ڈالی گئیں تھیں، خاص طور پر ضلع وسطی میں ایسی عمارتوں کی ایک پوری سیریز تعمیر ہوچکی ہے جو کہ انسانی زندگیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے، کسی بھی زلزلہ یا قدرتی آفت کی صورت میں انتہائی نقصان دہ ثابت ہوں گی اور بڑے پیمانے پر انسانی زندگیوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ ایسی عمارتوں کو روکا جانا انتہائی ضروری ہے۔ خبر کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے ان علاقوں میں ایسی خطرناک عمارتیں تعمیر کرنے والے ڈیڑھ سو سے زائد چھوٹے بلڈرز کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت ہے اور انھیں اور ان کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کراچی میں پانی اور ریتی بجری کے بعد تیسری مافیا شادی ہال کی ہے، جس نے ہزاروں شادی ہالز گزشتہ چند سال میں تعمیر کرکے اسے ایک باقاعدہ انتہائی منافع بخش کاروبار بنادیا ہے اور ایک ہزار سے زائد شادی ہالز رفاہی پلاٹوں، گرین بیلٹس، ایس ٹی پر قبضہ کرکے کھیلوں اور پارکوں کے اندر بزور قوت قائم کیے گئے ہیں۔ حساس ادارے کی جانب سے مذکورہ رپورٹ مستقبل کے اہم خطرات سے آگاہ کر رہی ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جب تک اس ملک میں کوئی بڑا حادثہ نہ ہو کسی مسئلہ، رپورٹ کی جانب کبھی توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ بھی اس ملک کی بہت بڑی بدقسمتی اور خرابی ہے کہ یہاں رشورت اور لاقانونیت کا کلچر اس قدر عام ہوچکا ہے کہ چھوٹی چھوٹی قوتیں بھی بڑی بڑی مافیا بن گئی ہیں اور ان کی قوت اس قدر خطرناک ہوگئی ہے کہ اب وہ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے لگی ہیں اور ریاست ان کے آگے کمزور ہوگئی ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ کراچی شہر میں ایک بڑے آپریشن کے باوجود نہ صرف صوبے کے چیف جسٹس کے بیٹے کو دن دہاڑے اغوا کرلیا جاتا ہے بلکہ ایک معروف قوال کو مصروف علاقے میں قتل کرکے قاتل موٹر سائیکل پر باآسانی فرار بھی ہوجاتے ہیں۔

یہ وقت ہے سوچنے کا، پانی سر سے گزرا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حساس ادارے صرف اس لیے ہیں کہ ان سے مختلف معاملات پر رپورٹ بنوالی جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے؟ کیا یہ بات قابل غور نہیں کہ اس شہر میں دو ہزار بلند و بالا عمارتیں ایسی ہیں کہ جن کی بنیادیں قابل بھروسہ نہیں اور خدانخواستہ کسی بھی زلزلہ وغیرہ کی صورت میں کسی وقت بھی زمین بوس ہوسکتی ہیں اور خود اپنے بوجھ سے بھی کسی حادثے کا شکار ہوسکتی ہیں۔
ہمارے صوبائی ادارے، حکام اور سیاسی نمایندے کیوں خاموش ہیں؟ اور میڈیا اس اہم موضوع کو اہمیت کیوں نہیں دے رہا؟ کیا بریکنگ نیوز کسی عمارت کے حادثے کے بعد ہی آنا ضروری ہے، پہلے نہیں؟ کیا بلڈرز اتنی بڑی مافیا بن چکے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی؟ غیر قانونی شادی ہالز کے بارے میں بھی حساس ادارے کی رپورٹ بہت کچھ کہہ رہی ہے، عمارتوں کی ناجائز اور خلاف قانون تعمیر ہو یا شادی ہالز وغیرہ کی شکل میں اس شہر کی زمینوں پر قبضے ہوں، ان سب کی وجہ سے ایک جانب تو شہر میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری جانب شہر کی خوبصورتی اور حالت بھی بدتر ہوگئی ہے۔
شہر میں اب بڑے بڑے خالی میدان تو کیا چھوٹے خالی پلاٹ بھی اور فٹ پاتھ بھی دیکھنے کو نظر ترستی ہے، کم جگہ میں زیادہ آبادی کو زبردستی بھر دیا گیا ہے، کچی مٹی شہر سے باہر ہی نظر آتی ہے، چنانچہ بارش ہو تو پانی زمین کے بجائے بہہ کر کہیں اور چلا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب گنجان علاقوں میں دو سو فٹ پر بورنگ کرانے کے بعد بھی شہریوں کو پانی مشکل ہی سے دستیاب ہوتا ہے۔ چھوٹی بڑی مافیائیں اس شہر کو نگل رہی ہیں مگر ہمارے حکمران، حکام، منتخب نمایندے سب خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں، یہ صرف اس وقت جاگتے ہیں کہ جب کوئی بڑا حادثہ ہو اور میڈیا پر شور مچنے لگے اور چینلز پر بریکنگ نیوز آئے، لیکن بریکنگ نیوز ابھی شاید نہ آئے کیونکہ عام حالات میں ایسی خبریں شاید مطلوبہ ریٹنگ حاصل نہ کرسکیں۔
ہمارے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس کے بچوں کی شادی کے لیے اب کسی شادی ہال کا ملنا بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ شادی ہالز کی ایک بڑی تعداد ایئرکنڈیشنڈ / بینکوئٹ بنادی گئی ہے اور ان کے کرائے پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ کردیے گئے ہیں۔ گویا شہریوں کی مفت کی زمین پر قبضہ کرنے والوں نے شہریوں سے ریٹ بھی ناقابل برداشت وصول کرنا شروع کردیے ہیں۔ ظاہر ہے یوں جب کسی گروہ کو کھلی چھٹی ملے گئی تو وہ پھر بڑی مافیا کی شکل تو اختیار کریں گے۔ مگر سوال اپنی جگہ پھر موجود ہے کہ کیا حساس اداروں کی رپورٹ کے بعد بھی ان مافیاؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کیا جائے گی؟
راقم نے اپنے کئی کالموں میں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ کراچی کی آبادی بے ہنگم طور پر تو بڑھ ہی رہی ہے مگر رہائشی یونٹس بناکر فروخت کرنے والے زیادہ منافع کمانے کے لیے رہائشی یونٹس میں روشنی اور ہوا کا گزر بھی کم سے کم کردیتے ہیں، یوں قانوناً بھی نقشہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور ان میں رہنے والے افراد مختلف بیماریوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ رپورٹ میں جن علاقوں میں بلندوبالا عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں بھی یہ بات دیکھی جاسکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس شہر سے ہر قسم کی مافیاؤں کا خاتمہ کیا جائے، خاص کر بلڈرز، پراپرٹی ایجنٹس، ٹینکرز اور ٹرانسپورٹ جیسی مافیا کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ اگر اس سلسلے میں کوتاہی برتی گئی تو شہر کا انتظام اور امن مزید تباہ ہونے کا اندیشہ ہے، نیز کوئی بھی منصوبہ جو شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہو، خواہ وہ اورنج بس کا منصوبہ ہی کیوں نہ ہو، کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ آیئے ہم سب غور کریں کہ یہ مسائل ہم سب کے ہیں، کسی اور کے نہیں۔
ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

کراچی کا اصل درد جو ہے کوئی نہیں بتاتا

کراچی میں مشہوں افراد کا قتل کوئی نئی بات نہیں مگر اس شہر کے دانشور بہت عرصے سے ایک بات کہہ رہے ہیں کہ کراچی کے بارے میں چند بنیادی حقائق ہیں جنھیں جاننا ہماری ذمہ داری ہے مگر اس پر بات نہیں ہوتی۔ محمد حنیف نے کہا کہ امجد صابری ایک جانی پہچانی شخصیت تھے اور اس طرح کی ہلاکتوں کے نتیجے میں شہر میں خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کی شخصیات کو ہلاک کرنا بہت آسان ہوتا ہے کیونکہ امجد صابری بغیر کسی سکیورٹی کے آتے جاتے تھے۔
تو دہشتگردوں نے بغیر بھاری سرمایہ خرچ کیے ایک بڑی خبر بنائی جس سے دہشت پھیلی مگر ابھی یہ ساری باتیں قبل از وقت ہیں اور تحقیقات ہو رہی ہیں۔
صحافی ضیاالرحمان نے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات سے ہی پتہ چلےگا کہ یہ کس نے کیا کیونکہ پروین رحمان جب قتل ہوئیں تو پولیس نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے چند دنوں بعد قاتلوں کو مار دیا ہے مگر بعد میں اصل قاتل پکڑے گئے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو مارنا مسئلے کا حل نہیں انھیں عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے جس سے عوام کو پتہ چلے کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ پولیس کے بارے میں ضیاالرحمان نے کہا کہ گذشتہ بیس سالوں میں پولیس کو سیاسی بنیادوں پر بھراگیا ہے جس کا کوئی علاج نہیں کیاگیا۔
محمد حنیف نے کراچی میں آپریش کی تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دہرائی جانے والی تاریخ ہے بدامنی بڑھتی ہے اور آپریشن ہوتا ہے لوگ ادھر اُدھر ہو جاتے ہیں اور تاجر خوش ہو جاتے ہیں کہ بھتے کی پرچیاں آنی بند ہو گئیں اور کاروبار کچھ چل نکلا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کا درد جو ہے جسے میڈیا کور نہیں کرتا کہ کم از کم اس شہر کے بارے میں چند بنیادی حقائق ہیں جنہیں جاننا ہماری ذمہ داری ہے۔ کہ یہ اس شہر میں زمین کس کی ملکیت ہے اور وہ کس کے پاس جا رہی ہے، اس شہر کا پانی کہاں سے آتا ہے اور کس کو ملتا ہے اور کتنے میں بکتا ہے۔ اس شہر کی آبادی کتنی ہے؟ اس شہر کے لوگ کہاں سے آئے ہیں 
اور کون ہیں؟
بشکریہ بی بی سی اردو