مژگاں تو کھول شہر کو بل بورڈ لے گئے : وسعت اللہ خان

پوری اشتہاری انڈسٹری کا محور ایک ہی جملہ ہے ’’ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے‘‘۔اس وقت عالمی اشتہاری صنعت کا حجم چھ کھرب ڈالر سالانہ ہے۔ اور چار عالمی اشتہاری گروپ (انٹر پبلک ، اومنی کوم ، پبلیسز ، ڈبلیو پی پی ) اس صنعت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ تاریخ تو بہت پرانی ہے البتہ جس اشتہاری صنعت کو آج ہم جانتے ہیں اس کی ابتدا انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہوئی جب پئیرس سوپ کمپنی کے لیے کام کرنے والے ایک صاحب تھامس بیرٹ نے پہلی کمرشل اشتہاری مہم بنائی جس میں تصویر اور سلوگن کا استعمال ہوا۔ یہ سلوگن تھا ’’ صبح بخیر ! کیا آپ نے پئیرس صابن استعمال کیا ؟ ‘‘۔
پیرس کا روزنامہ ’’ لا پریس ’’ پہلا اخبار تھا جس نے اٹھارہ سو چھتیس میں مصنوعاتی اشتہارات اپنے صفحات پر قیمتاً چھاپنے شروع کیے۔ اٹھارہ سو بیالیس میں امریکی ریاست فلاڈیلفیا کے ایک جگاڑو سرمایہ کار وولنر پامر نے وہ کام کیا جو آج ہر اشتہاری کمپنی کرتی ہے۔ یعنی اخباری سپیس تھوک کے حساب سے خرید کر اشتہارات کے خواہش مند کاروباریوں کو نسبتاً مہنگے دام فروخت کرنے کا کام۔ البتہ ان اشتہارات کی تیاری کا کام خواہش مند کمپنیوں کو خود ہی کرنا پڑتا تھا۔ آئیر اینڈ سنز پہلی امریکی کمپنی تھی جس نے باقاعدہ اشتہاری مہم اول تا آخر بنانا شروع کی جو آج کل ایک معمول کی بات ہے۔
مگر اصل اشتہاری انقلاب تب برپا ہوا جب علمِ نفسیات کے باپ سگمنڈ فرائڈ کا ایک بھتیجا ایڈورڈ برنیز اس نتیجے پر پہنچا کہ شے بذاتِ خود نہیں بکتی جب تک کہ انسانی جبلت کو نہ چھیڑا جائے اور اسے مناسب صوتی ، بصری و لفظی انداز میں لاشعوری طور پر یہ باور نہ کرایا جائے کہ فلاں شے کی خریداری نہ صرف ایک ضرورت پوری کرے گی بلکہ اس شے کا حصول تسکین و خوشی بھی بخش سکتا ہے۔ اس نفسیاتی انقلاب سے فائدہ اٹھانے والوں میں سگریٹ ساز کمپنیاں پیش پیش رہیں اور انھوں نے اتنے دلکش انداز میں لوگوں کو تمباکو نوشی کا عادی بنایا کہ آج تک کروڑوں لوگ اسیر ہیں۔
پھر یہ خیال پیدا ہوا کہ اشتہارات کو اتنا پرکشش کیسے بنایا جائے کہ صارف بے ساختہ اس شے کی جانب ہاتھ بڑھا دے جس کی اسے فوری ضرورت نہ بھی ہو۔ایک خاتون ہیلن لینڈسڈاؤن نے امریکی اشتہاری ایجنسی جے والٹر تھامسن کے لیے صابن کا ایک اشتہار بنایا۔ اس میں ایک وجیہہ مرد نے ایک حسین عورت کا ہاتھ بڑی نرمی سے تھاما ہوا ہے اور سلوگن ہے ’’ وہ جلد جسے آپ چھونا چاہیں ’’۔ آئیڈیا ہٹ ہوگیا۔ خواتین جو آبادی کا نصف ہوتی ہیں کنزیومرازم کی دنیا میں جوق در جوق شامل ہونے لگیں اور کاروباریوں کے بزنس کو چار سے پانچ چاند لگتے چلے گئے۔
بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ریڈیو نشریات کا دروازہ کھلا اور چوتھے عشرے میں ٹیلی ویڑن گھروں میں داخل ہوگیا۔ اور پھر اشتہاری رسالے ، کافی ٹیبل میگزین ، بل بورڈز اور پھر انٹر نیٹ ، سوشل میڈیا اور پھر سلیبرٹیز برانڈ ایمبیسڈر بننے لگے۔ غرض اشتہار کو جہاں جگہ ملی وہاں فٹ ہوتا چلا گیا۔ نہیں بھی ملی تو زبردستی گھس گیا۔ مگر سب سے کامیاب اشتہاری میڈیم آج بھی ٹیلی ویژن ہی ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ڈبہ ایجاد ہی اشتہار بازی کے لیے ہوا مگر ناظر کو اس ڈبے سے جوڑے رکھنے کے لیے اشتہارات کے بیچ میں چند پروگرام اور خبریں بھی باامرِ مجبوری ٹانک دیے جاتے ہیں تاکہ کاروباری گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ ٹی وی اس قدر پرکشش اشتہاری میڈیم ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی ایڈورٹائزنگ ہو رہی ہے اس کا لگ بھگ اڑتیس فیصد ٹی وی اسکرین لے جاتی ہے۔ بیس فیصد اشتہار بازی اخبارات و رسائیل کے ذریعے ہوتی ہے اور آؤٹ ڈور اشتہارات یعنی بل بورڈز وغیرہ کا تناسب محض ساڑھے چھ فیصد کے لگ بھگ ہے۔
مگر لگتا یوں ہے کہ سب سے زیادہ اشتہاری آلودگی کا سبب آسمانی سائز کے بھانت بھانت کے لاکھوں بل بورڈز ہیں جنہوں نے ہمارے شہروں اور قصبوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ کراچی کی سب سے طویل شاہراہِ فیصل اور اس سے جڑنے والی سڑکوں اور ان پر ایستادہ عمارتوں پر شائد ہی کوئی انچ اشتہارات سے بچ سکا ہو۔ لیکن اب دنیا رفتہ رفتہ اس اشتہاری آلودگی سے اکتا رہی ہے اور غصب شدہ جگہ واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ثقافتی حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ِخصوصی ایلچی فریدہ شہید کہتی ہیں کہ اشتہارات کی مسلسل بمباری ہمارے حواسوں اور ثقافت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ آوٹ ڈور اشتہارات اور بل بورڈز عوام کی سوشل سپیس پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ بل بورڈز شہر کے اصل حقائق ، اچھائیوں اور برائیوں کو یکساں شدت سے ڈھانپ رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ کوئی شہر اصل میں کتنا خوشنما یا بدنما ہے۔ 
شہری بلدیات اور کمرشل و نجی ادارے یہ دلیل دیتے ہیں کہ آؤٹ ڈور اشتہارات کی آمدنی سے شہری انتظام کا خرچہ نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن اب دنیا کے بہت سے بڑے بڑے شہروں کا پیمانہِ صبر لبریز ہونا شروع ہوگیا ہے۔ مثلاً سن دو ہزار میں برازیل کی اشتہاری صنعت کو چھوٹ ملی تو ملک کے سب سے بڑے شہر ساؤپالو میں بل بورڈز کا ایسا طوفان آیا کہ شہر کا دم گھٹنے لگا۔ چنانچہ مئیر گلبرٹو کساب نے اس اشتہاری رجحان کو بصری آلودگی قرار دیتے ہوئے دو ہزار سات میں کلین سٹی قانون منظور کرایا اور ایک سال کے اندر پندرہ ہزار بڑے بل بورڈز اور بڑے اسٹورز کے فرنٹ پر لگے تقریباً تین لاکھ سائن بورڈز ہٹوا دیے۔ اس مہم کے نتیجے میں ساؤپالو پھر سے نارمل شہر لگنے لگا۔ دو ہزار بارہ میں بلدیہ ساؤ پالو نے آؤٹ ڈور اشتہار بازی پر سے پابندی جزوی طور پر اٹھا لی اور شہر میں جگہ جگہ ایک ہزار بڑی گھڑیاں نصب کیں جن کے نیچے سپانسرز کو اشتہارات لگانے کی اجازت دی گئی۔
امریکی ریاست ورمونٹ ، مین ، ہوائی اور الاسکا بل بورڈ فری ریاستیں ہیں۔نیویارک سب ویز میں ٹرپل لائف سائز اشتہارات کی جگہ آرٹ کے شہہ پارے چسپاں کرنے کی مہم مسلسل ہے۔ یہی کام اس سال کے شروع میں بلدیہ تہران نے کیا اور شہر کے ڈیڑھ ہزار کمرشل بل بورڈز کو ڈھانپ کر ان پر ایرانی مصوری کے نادر نمونے آویزاں کر دیے۔ شہریوں نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا لہذا بلدیہ نے اگلے برس بل بورڈز پر ایرانی ثقافت اجاگر کرنے کے دورانئیے میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں برطانوی شہر برسٹل کے شہریوں نے آؤٹ ڈور اشتہارات کی بھرمار کے خلاف عدالت سے رجوع کیا مگر ہار گئے۔ اب شہری تنظیمیں دوبارہ مقدمہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ دو ہزار گیارہ میں برلن کی لوکل گورنمنٹ نے بل بورڈز کی تعداد ایک تہائی تک لانے کا فیصلہ کیا۔
البتہ فرانسیسی قصبہ گرینڈول گذشتہ برس پہلا یورپی قصبہ بن گیا جس نے آؤٹ ڈور کمرشل اشتہارات سے مکمل نجات پا لی۔ تین سو چھبیس بل بورڈز کی جگہ درخت اور کمیونٹی نوٹس بورڈ لگا دیے گئے۔ اس اقدام سے قصباتی بلدیہ کی آمدنی چار لاکھ ستر ہزار یورو سے گھٹ کے ایک لاکھ پانچ ہزار یورو سالانہ پر آ گئی۔ مگر بلدیہ پرعزم ہے کہ یہ مالی خسارہ کونسلروں کی تنخواہ میں رضاکارانہ کٹوتی اور تفریحی اخراجات میں بچت کے ذریعے پورا کر لیا جائے گا۔ جنوبی ایشیا میں بھوٹان واحد ملک ہے جہاں آؤٹ ڈور اشتہار بازی کی اجازت خاصی محدود ہے اور اس بابت ضابطہِ اخلاق و انتظام بھی کڑا ہے۔
بھارت میں مرکزی سطح پر تو بے مہار اشتہاری رجحان کو لگام دینے سے متعلق کوئی موثر قانون سازی نہیں ہو سکی البتہ ریاستی و شہری حکومتوں نے اپنے طور پر اقدامات کیے ہیں۔ مثلاً ریاست مہاراشٹر میں تاریخی نشانیوں ، آثارِ قدیمہ و قدیم ستونوں ، عبادت گاہوں کی دیواروں اور احاطوں ، مجسموں اور میناروں پر اشتہار نہیں لگایا جا سکتا۔ رات گیارہ بجے کے بعد تمام بڑی شاہراہوں پر نصب نیون سائنز کو سوئچ آف کرنا پڑتا ہے۔ ممبئی کی ساڑھے چار کلو میٹر طویل میرین ڈرائیو پر نصب پچاس چھوٹے بڑے بل بورڈز ہٹا دیے گئے ہیں۔ پونا شہر میں بل بورڈز گذشتہ ماہ صاف کر دیے گئے۔
ریاست کرناٹک کا شہر بنگلورو بھارت کا سائبر کیپٹل ہے۔ وہاں شہری حکومت کی جانب سے ’’ اشتہار سے پاک بنگلورو‘‘ مہم کے نتیجے میں سن دو ہزار آٹھ سے نئے بل بورڈز کے لیے لائسنس کا اجرا بند ہے۔ تاہم غیر قانونی بل بورڈز کے خلاف کاروائی اتنی موثر ثابت نہیں ہو سکی۔ جب کہ تامل ناڈو کے دارلحکومت چنئی میں دو ہزار نو کے بعد سے بل بورڈز کے لائسنسوں کا اجرا بند ہے۔ اور رہا ہمارا پیارا پاکستان تو آج کے پاکستان میں بل بورڈز اتارنے کے بابت سپریم کورٹ کے احکامات کوئی نہیں سنتا تو کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام کس کھیت کی مولی ہیں جو بارہا بل بورڈ مافیا کو الٹی میٹم دیتے رہتے ہیں۔
آج میر صاحب زندہ ہوتے تو علاوہ اس کے اور کیا کہتے ،
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو بل بورڈ لے گئے
وسعت اللہ خان 

یہ لیاری ہے یا وہ لیاری

سنا ہے یہاں گینگ وار ہوتی ہے، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور، قبضہ مافیا کے Don
یہیں رہائش پذیر ہیں، گلی گلی میں عقوبت خانے، شراب، جوئے کے اڈے، افیم کے کاروبار۔ کوئی کہتا ہے لوگ یہاں جیتے نہیں، مرتے ہیں۔ جینے نہیں دیتے، مار دیتے ہیں۔ لیکن ہم تو سنتے تھے وہ ایک بستی ہے۔ غریب لوگوں کی۔ جہاں تمام دن کے تھکے ہارے مزدور سر شام گھر لوٹتے ہیں تو ریڑھی سے ایک کیلا، دو امرود، 3 ٹماٹر، ½ کلو آٹا، چھوٹی سی تھیلی میں گھی لیے خوشی خوشی لوٹتے ہیں اور اگر مالک نے ڈیلی ویجز بونس دیا تو کبھی کبھار ایک انڈا بھی خرید لاتے ہیں۔ یہ ان کا Dinner ہے۔ رات بھر فٹ پاتھ پر سو کر بہت محدود سے خواب دیکھنا، اور صبح ہو جاتی ہے۔ جلدی جلدی اپنی رلی سمیٹ کر چٹنی سے رات کی بچی ہوئی روٹی کھا کر اور اسی مزدوری پر یہ جا وہ جا۔ کسی تہوار پر زندگی یہاں بھی کچھ گھنٹے قیام فرماتی ہے۔ تب یہ سارے مزدور یک روزہ چھٹی پر ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ کہیں کہیں چنے اور چاول کی دیگ پکتی ہے، ساتھ میں سوجی کا حلوہ۔ کمر کے گرد رنگ دار رومال باندھ کر یہ رقص کرتے ہیں۔ دھرتی کا سب سے خوبصورت رقص، اس دن تمام عورتیں مل کر گیت گاتی ہیں۔

اپنے مردوں، بیٹوں، بیٹیوں کی ترقی کے گیت، محبت کے گیت، سپیدہ صبح سے لے کر رات ڈھلنے تک۔ اگلے دن سے وہی ڈگر، وہی راستہ۔ یہ لیاری ہے؟ یا وہ لیاری۔ سمجھ میں نہیں آ رہا  لیاری کسے قرار دیا جائے۔ عزیر بلوچ، بابا لاڈلہ گروپ، گینگ وار، منشیات، آپریشن، چھاپے، گرفتاریاں، بڑے بڑے انکشافات۔ میں سن سن کر تنگ آ گیا، پڑھ پڑھ کر حیران ہوتا رہا۔ آخر ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ میں کسی بلوچ دوست کے ہمراہ خاموشی سے لیاری Visit کروں گا۔ وہاں لوگوں سے مل کر ان کے حالاتِ زندگی، روزگار اور معمولات کے بارے میں چھان پھٹک کروں کہ آخر سچ کیا ہے۔ لہٰذا ایک دن میں نے اپنے اس ارادے سے اپنے یارِ غار ولی مکرانی کو آگاہ کیا۔ جو وہاں کا مستقل رہائشی تو نہیں لیکن اس نے ایک دور میں کئی برس وہاں قیام کیا۔

اس نے مجھے کچھ خطرات سے یہ کہہ کر آگاہ کیا کہ وہاں کچھ مخصوص علاقوں پر دادا ٹائپ لوگوں کا قبضہ ہے، جو عام آدمی کو بڑی مشکل میں ڈالے ہوئے ہیں۔ وہ انھیں چین سے جینے نہیں دیتے۔ لیکن لیاری کا ایک وسیع علاقہ غربا کی بستی پر ہی مشتمل ہے، جسے جرم و جرائم تو دور کی بات عام طور پر سوچنا بھی میسر نہیں۔ وہ سر جھکا کر کولہو کے بیل کی طرح محنت کیے جاتے ہیں۔ بہرحال ہم طے شدہ دن لیاری پہنچ گئے۔ جب ہم ’’چیل چوک‘‘ پر تھے تو ولی نے اپنے کچھ احباب کو میری موجودگی سے آگاہ کرتے ہوئے اور مہمان قرار دیتے ہوئے ملاقات کی خواہش کی، جسے انھوں نے بصد خلوص قبول کیا۔ میں نے ایک جگہ اپنی گاڑی پارک کی اور پیدل ولی کے ہمراہ ادھر ادھر جھانکتا اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگا۔ وہاں کچھ گھریلو عورتیں بلوچوں کے مقامی لباس میں چلتی پھرتی دکھائی دیں، ان کے چہروں سے سادگی مترشح تھی۔ صاف لگتا تھا کہ دنیا ان کے لیے یہی چند گلیاں ہیں۔  البتہ فکر معاش کا سایہ ضرور آتا جاتا دکھائی دیا۔ کچھ کم سن بچے کھیل کود میں مصروف تھے۔ پیر چپل سے بے نیاز، بال گھنگھریالے، جو قومی خصوصیت ہے۔

کپڑے پھٹے، سلے، اور کچھ اسی عمر کے بچے وہاں مختلف دکانوں پر سخت محنت میں مصروف دکھائی دیے۔ وہ اس کام سے اتنے واقف نہیں لگتے تھے جتنی تندہی سے اسے انجام دے رہے تھے۔ کئی جگہ ایسے عمر رسیدہ بڑے بوڑھے تاش کھیلتے ملے جن کی کام کرنے کی عمر شاید نہیں رہی تھی۔ بیڑی منہ میں دبائے وہ انہماک سے مصروف تھے۔ ولی مجھے لیے چلا جا رہا تھا۔ میں بھی اپنے کھوج میں ایک ایک چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن مجھے 20 منٹ کی مسافت میں وہاں کچھ دکھائی نہ دیا۔ کسی نے مشورہ دیا تھا کہ سوچ سمجھ کر جانا۔ وہاں حالات اچانک کشیدہ ہو جاتے ہیں، لیکن میں تو وہاں محنت ہی محنت دیکھ رہا تھا۔
حالات کی کڑی دھوپ میں جھلسے ہوئے چہرے، غربت سے شکن آلود پیشانیاں۔ کچھ مزید آگے بڑھنے پر ہماری پہلی منزل آ گئی، جہاں ولی کے دوست چارو اور دل بخش ہمارا انتظار ایک چھوٹی سی آئل شاپ پر کر رہے تھے، جہاں وہ دونوں کام کرتے تھے۔ وہ دونوں بڑے تپاک سے مجھ سے ملے اور ہمیں چائے کے ہوٹل پر لے گئے۔ چائے آرڈر کی اور ولی سے بلوچی میں بات کرنے لگے۔ غالباً میرے متعلق پوچھ رہے تھے۔ ولی نے انھیں مدعا سمجھایا۔ جس پر وہ خوف زدہ دکھائی دینے لگے۔ میں نے ولی کو مخاطب کیا اور کہا کہ انھیں بتائے میں کوئی اخباری رپورٹر نہیں بلکہ صرف ان سے ملنے آیا ہوں۔ ولی نے دوبارہ وضاحت کی تب وہ کہیں مطمئن ہوئے۔ چائے پینے کے بعد میں نے ان سے علاقے کے بارے میں پوچھنا شروع کیا جو کچھ مجھے ان کی زبانی معلوم ہوا وہ درج ذیل ہے۔ انھی کی زبانی سنیے۔آپ کے علاقے کے حالات اب کیسے ہیں چارو؟
علاقہ…!! گزارا ہے، باقی اِدر ابی بھوت ایجنسی کا لوگ، رینجر والا آتا ہے۔ صبح شام اس کو اُٹا اُس کو اُٹا،۔ نی، کیا کون، بھرے کون۔ ام تو مزدور آدمی اے، آپ کسی پڑا لکھا آدمی سے ملو۔ نہیں چارو مجھے آپ ہی سے ملنا تھا۔ اچھا یہ بتاؤ کیا یہ سارا علاقہ عزیر بلوچ کو اپنا رہنما مانتا ہے؟ اڑے نئی بابا، سارا اخباری لوگ جوٹ بولتا ہے۔ ام لوگوں کو پھراگت ہی نئی۔ اپنا بچوں کا پیٹ پالے یا سیاست میں پڑے۔ یہ سارا لیاری کو استعمال کرتے گریب لوگوں کا کھون چوستے، کوئی بولتا میرا لیاری، کوئی بولتا میرا، ابی ادر کا حال دیکھو نی اور اندر گلی میں جائے گا تو سب بتائے گا۔ علاقہ اس کا ہوئے گا جو ادر کام کرائے گا۔ عزیر، گینگ وار ، موالی لوگ، امارا کیا کام اس سے۔ دل وشک ۔ یہ بابا لاڈلہ کون ہے؟ بائی ام بتاتا اے۔ یہ حکومت لوگ ان کو پالتا  اے، انوں سے کام لیتا ہے۔ قبضہ کرانا، چوری، اگوا، مخالف کو اٹوانا، پر انوں کو پولیس کا حوالے کرنا۔ ام بھوت دنوں سے دیکتا اے۔ اور کا عام لوگ کو کیا پتہ۔ عزیر کون، بابا لاڈلہ کون۔ امارے بچے کا پاس نہ تعلیم، نہ ادر کوئی اچا اسپتال، ام سارا دن مزدوری کرے تو یہ دادا لوگ کا معلومات کیسے کرے۔
اچھا آپ دونوں کے کتنے بچے ہیں؟ اور ان میں سے کتنے پڑھتے ہیں؟
چارو۔ امارا 3 بچہ ہے، دو لڑکا ایک بیٹی۔ دل وشک۔ امارا تینوں لڑکی ہے باقی پڑتا کوئی بھی نئی۔ آں آپ کو بتاؤں ادر روز کوئی نا کوئی پارٹی کا لیڈر آتا ہے۔ بولتا ام تمارے کو روڈ دیںگا، اسپتال کھولے گا، نوکری دے گا، بائی سب جوٹ مارا (دھوکہ) دوکا۔ امارا ماں باپ ادری کام کرتا کرتا مر گیا، ام بھی مر جاؤںگا، سارا لیڈر جوٹ بولتا ہے۔ میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے لیاری میں رہا، بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ساری تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی لیکن مختصراً لب لباب یہ کہ یہ ایسے شرفا کی بستی ہے جہاں مالدار نہ سہی لیکن بہت شرافت سے جیتے ہیں، نامور فنکار ، فٹبالر ، باکسر ہیں، ملک سے محبت کرتے ہیں اور بہت سیدھے سادھے ہیں۔
راؤ سیف الزماں

Unseen Beauty of Pakistan : Pakistan Heaven on Earth

The geography and climate of Pakistan are extremely diverse, and the country is home to a wide variety of wildlife. Pakistan covers an area of 796,095 km2 (307,374 sq mi), approximately equal to the combined land areas of France and the United Kingdom. It is the 36th largest nation by total area, although this ranking varies depending on how the disputed territory of Kashmir is counted. Pakistan has a 1,046 km (650 mi) coastline along the Arabian Sea and the Gulf of Oman in the south and land borders of 6,774 km (4,209 mi) in total: 2,430 km (1,510 mi) with Afghanistan, 523 km (325 mi) with China, 2,912 km (1,809 mi) with India and 909 km (565 mi) with Iran. It shares a marine border with Oman, and is separated from Tajikistan by the cold, narrow Wakhan Corridor. Pakistan occupies a geopolitically important location at the crossroads of South Asia, the Middle East and Central Asia. 
Geologically, Pakistan is located in the Indus-Tsangpo Suture Zone and overlaps the Indian tectonic plate in its Sindh and Punjab provinces; Balochistan and most of Khyber Pakhtunkhwa are within the Eurasian plate, mainly on the Iranian plateau. Gilgit–Baltistan and Azad Kashmir lie along the edge of the Indian plate and hence are prone to violent earthquakes. This region has the highest rates of seismicity and largest earthquakes in the Himalaya region. Ranging from the coastal areas of the south to the glaciated mountains of the north, Pakistan’s landscapes vary from plains to deserts, forests, hills and plateaus .
Pakistan is divided into three major geographic areas: the northern highlands, the Indus River plain and the Balochistan Plateau. The northern highlands contain the Karakoram, Hindu Kush and Pamir mountain ranges (see mountains of Pakistan), which contain some of the world’s highest peaks, including five of the fourteen eight-thousanders (mountain peaks over 8,000 metres or 26,250 feet), which attract adventurers and mountaineers from all over the world, notably K2 (8,611 m or 28,251 ft) and Nanga Parbat (8,126 m or 26,660 ft). The Balochistan Plateau lies in the west and the Thar Desert in the east. The 1,609 km (1,000 mi) Indus River and its tributaries flow through the country from the Kashmir region to the Arabian Sea. There is an expanse of alluvial plains along it in Punjab and Sindh.

فوج کے آنے پرعوام مٹھائی بانٹیں گے یا نہیں – ٹوئٹر پر نئی بحث چڑھ گئی

ٹوئٹر پر صارفین نے عمران خان کے بیان پر نئی بحث چھیڑ دی اور “عوام مٹھائی بانٹے گی” کے نام سے ہیش ٹیگ کئی گھنٹے تک ٹاپ ٹرینڈ کرتا رہا جس میں لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے بیان  ملک میں فوج آئی تو عوام خوشیاں منائیں گے اور مٹھائیاں بانٹے گے کو لے کر نئی بحث چڑھ چکی ہے اور کئی ٹوئٹر صارفین عمران خان کے بیان کی تائید کر رہے ہیں تو کئی ان کے اس بیان پر شدید نالاں ہیں جب کہ  ٹوئٹر پر کئی گھنٹے تک “عوام مٹھائی بانٹے گی” ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ کرتا رہا۔ شان نیازی لکھتے ہیں کہ فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے سے عوام خوش ہوں گے کیوں کہ حکومت عوام کو، پاکستان کو اور اس کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لیتے، لوگ آپریشن چاہتے ہیں لیکن میں محفوظ راستے کا طلب گار ہوں۔
شاہ زیب نواز لکھتے ہیں کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں وزیراعظم نواز شریف کی جماعت کامیاب ہوجاتی ہے اور وزیراعظم اعلان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان سے کوئی شخص وزیراعظم نہیں بنے گا تو اس اعلان پر عوام مٹھائی بانٹے گے۔   اویس جمالی لکھتے ہیں کہ جب تمام کرپٹ سیاستدان جیل میں ڈال دیئے جائیں گے اور لوگوں کو ان کا بنیادی حق ملنے لگے گا اس وقت عوام مٹھائی بانٹے گے۔
 عمر شیخ نے دو تصاویر پوسٹ کی ہیں جس میں ایک طرف ترکی میں فوجی 
بغاوت کی ناکامی اور دوسری طرف پاکستان میں لوگوں کو مٹھائی کھاتے دیکھا جاسکتا ہے جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر حکمران عوام کی خوشحالی کے لئے اقدامات کریں گے تو لوگ بھی ان کے لئے قربانیاں دیں گے۔
 پلواشہ عباس لکھتی ہیں کہ مارشل لا کو دعوت دے کر عمران خان نے پارلیمنٹ اوران لوگوں کی توہین کی جنہوں نے انہیں منتخب کرایا اور عمران خان کا مارشل لا کو دعوت دینے کا بیان باعث شرم  ہے۔
 

کراچی… شہر ناپرساں

اس بات میں قطعی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ کراچی شاید سب کا ہی سوتیلا ہے۔
محنت سب سے زیادہ کرتا ہے کما کر سب سے زیادہ دیتا ہے اس ملک نما پورے گھر (کراچی) کو چلاتا ہے مگر ہر قسم کی سہولیات، مراعات یا حقوق کا فقدان بھی صرف اسی شہر کا نصیب ہے۔ بجلی کا نظام درہم برہم، پانی نایاب، سرکاری اسپتالوں کی قلت اور موجودہ اسپتالوں میں سہولیات کا قحط ہے،کچرے کے ڈھیر، امن وامان مخدوش، لوٹ مار، چھینا جھپٹی عام، ٹرانسپورٹ ندارد، بے روزگاری۔ ملکی آمدنی کا 70 فیصد کما کردینے کے باوجود یہ شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ صحت کی بات کی جائے تو اولین بات یہ ہے کہ پورے شہر میں گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں جس کی صفائی کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے بعد سے آج تک اختیار نہیں دیا گیا صاحب اختیارکو جس نے مجموعی صورتحال کو مزید ابترکردیا ہے۔ مقامی، صوبائی اوروفاقی حکومتوں نے خودکواس شہرکا وارث کبھی نہیں کہا۔ یہ ’’شہر نامراد‘‘ اب تک اپنے مسیحا کی تلاش میں ہے۔اس شہر میں تعلیم کا ذکر ہو تو یہ شعبہ بھی زوال پذیر ہے۔ سرکاری اسکولوں سے لے کریونیورسٹیز تک میں نظام درست نہیں ہے۔ سرکاری اسکولوں کی عمارتیں توقائم ہیں لیکن نہ ہی یہاں استاد ہیں نہ فرنیچر جس کی وجہ سے غریب بچہ تعلیم حاصل کرنے سے مکمل طور پر دور ہے۔ تعلیم کے شعبے میں ہزاروں نوکریاں رشوت کے عوض فروخت کردی گئیں، صرف تعلیم ہی کیا ہرشعبے میں کرپشن، لوٹ ماراور رشوت عام ہے۔ پولیس کے محکمے تک میں رشوت اور سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئیں اور یہی وجہ ہے کہ اس شہر میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتے کی وصولی کی افسوسناک مثالیں قائم ہوئیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے بیرسٹر اویس شاہ کا اغوا اورمشہور قوال امجدصابری کا کھلے عام قتل جس سے کراچی سے لے کر اسلام آباد کی پوری مشینری ہل گئی ہے۔ لیاقت آباد جیسی پرہجوم جگہوں پر اگر قاتل فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوجائیں تو اربوں روپے کی اس رقم پر سوال اٹھتا ہے جو سیکیورٹی کے نام پر ہر برس مختص کی جاتی ہے۔ کراچی میں رمضان المبارک اور عید کے قریب آتے ہی اسٹریٹ کرائمز نے پھر سے شہر کو جکڑ لیا اور رمضان اور عید کے موقعے پر شہری مکمل طور پر غیر محفوظ رہے۔ اس دوران 3619 افراد کے لٹنے کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں ، جو وارداتیں رپورٹ نہیں ہوئیں ان کی تعداد خدشے سے کہیں زیادہ ہے۔ رمضان اور عید کے موقعے پر اس شہر میں لوگوں سے 5 کروڑ روپے سے زائد لوٹ لیے گئے اور شہریوں کا کہنا تھا کہ خود پولیس اہلکار بھی ان سے مختلف حیلوں بہانوں سے عیدی بٹورنے میں مصروف رہے۔

موبائل فون چھیننے اور اے ٹی ایم مشینوں سے پیسے نکلوانے والوں کو لوٹنے کا سلسلہ بھی امسال زوروشور سے جاری رہا۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس طرح کے واقعات دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی ہوتے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں۔ امریکا، فرانس، بیلجیم، بھارت اورسری لنکا میں اس طرح کی کارروائیاں اور دہشت گردی کی کارروائیاں زیادہ دورکی بات نہیں۔ ایک دور میں امریکا کا سب سے بڑا تجارتی مرکزنیویارک کرائم مافیا کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ رات کو شہریوں کے لیے گلیوں میں نکلنا محال تھا۔
بالاخر وہاں کے میئر نے مجرموں سے جنگ کی ٹھانی اور وہ کامیاب رہا۔ آج یہ شہر مکمل طور پر پرامن ہے۔ اسی طرح اٹلی کسی دورمیں منشیات کے کاروباراور ڈرگ پیڈلرزکا گڑھ بن گیا تھا۔ قتل و غارت روزمرہ کا معمول تھا لیکن وہاں کی انتظامیہ نے لڑائی کے ذریعے ان کا صفایا کیا۔ ہمیں بھی ان ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ کراچی بہرطور ایک انٹرنیشنل سٹی ہے۔ ان غلطیوں اورکوتاہیوں کا جائزہ لینا بھی بے حد ضروری ہے کہ جن کی وجہ سے کراچی جیسا پرامن شہر جو ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز اور معاشی حب ہے، اس حال کو پہنچا۔ پھر باقی دنیا کی طرح کرائم مافیا اور ٹارگٹ کلرز کی بیخ کنی کے لیے موثرحکمت عملی تیارکرنی چاہیے۔ معاشرے کے تمام طبقوں خصوصاً سیاسی جماعتوں کو اپنی صفوں میں شدت پسندوں کی موجودگی پرکڑی نظر رکھنے کی ضرورت بھی ناگزیر ہوچکی ہے۔
اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کا یہ انکشاف اور اعتراف بھی نہایت اہم اور لائق توجہ ہے کہ کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا اصل سبب زمینوں پر قبضے کی جنگ ہے، ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن و امان کے مسئلے کی سب سے بڑی وجہ لینڈ مافیا ہے۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ سندھ حکومت شہر کراچی کی ملکیت لینے کو تیار نہیں ہے یوں کراچی لاوارث ہوگیا ہے، حکومت سندھ کوما کی حالت میں ہے، اس کو جھنجھوڑو تو جواب تو دیتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتی اور اس کی واحد بلکہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کراچی کے تقریباً تمام شعبہ جات میں ایک طاقتور مافیا کام کر رہی ہے۔ کراچی کے لیے مشرف نے نعمت اللہ کے دور میں پیکیج دیا تھا اس کے بعد سے لے کر اب تک کوئی پیکیج نہیں دیا گیا۔ صحت کی طرف نگاہ کی جائے تو ہماری عمریں گزر گئیں مگر جناح اسپتال، سول اسپتال اور عباسی شہید اسپتال کے علاوہ کوئی نیا اسپتال قائم نہ ہوسکا۔ دو کروڑ سے زائد آبادی کا یہ شہر سپر ہائی وے تک جا پہنچا ہے۔ کوئی حکومت آج بھی ایک اسپتال قائم نہیں کرسکی جب کہ ایک بار سرکاری سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اٹھارہ ٹاؤنز ہیں لہٰذا ہر ٹاؤن میں ایک سرکاری اسپتال قائم کیا جائے گا لیکن ایسا بھی نہیں ہو سکا۔
کراچی کا ایک بہت بڑا مسئلہ پانی کا بھی ہے۔ کراچی والوں کا پانی چوری کرکے ٹینکروں کو فراہم کیا جا رہا ہے اور ٹینکروں کی قیمت دو ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار تک جا پہنچی ہے پانی تو موجود ہے مگر چوری کے ذریعے اورکراچی کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ پانی کی قلت اور چوری میں سندھ حکومت ملوث ہے۔ انھوں نے اس میں پیسے کمائے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی صورتحال بھی بدترین ہے شہری، منی بسوں اور بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں، ٹرانسپورٹر من مانے کرائے وصول کرتے ہیں، اس سلسلے میں بھی قانون کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔ کراچی جسے ایک زمانے میں ’’عروس البلاد‘‘ کہتے تھے جس کی روزانہ کی بنیاد پر سڑکیں دھوئی جاتی تھیں مدتوں سے تباہی، بربادی اور بدحالی کا شکار ہوکر رہ گئی ہیں۔ تقریباً کراچی بھر کے علاقوں اور گلیوں محلوں میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کا نظام بری طرح متاثر ہے مین سڑکوں اور پلوں پر مٹی اور کچے کے ڈھیر جمع ہیں خاص کر پلوں اور نالوں کی صفائی بلدیہ عظمیٰ نے کرنا چھوڑ دی ہے۔ ناجائز تجاوزات اور پتھاروں نے بھی اہم اور مشہور سڑکوں کوگھیر رکھا ہے کے ایم سی اور ڈی ایم سیزکی جانب سے کہیں بھی موثر کارروائیاں نظر نہیں آرہیں۔
الغرض یہ کہ پاکستان کا معاشی حب بے یارومددگار ہے،کراچی ٹریفک جام، پانی، انفرااسٹرکچر کی تباہی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ شاہراہیں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور پل بھی خستہ حال، پلوں میں پڑے شگاف متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے عکاس ہیں۔ پورے شہر میں ٹریفک جام بھی روزمرہ کا معمول اور مسئلہ بن چکا ہے، شہرکی بیشتر سڑکیں گڑھوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ پاکستان کا دل، میگا میٹرو پولیٹن سٹی، معاشی حب یہ وہ نام ہیں جو شہر قائد کراچی کو ملے ہیں۔ یوں دو کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں مسائل دیکھیں تو ایک بلند و بالا پہاڑ نظر آتا ہے لیکن ان مسائل کو حل کرنے یا اس پہاڑ کو توڑنے والا کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔
شاہد سردار

ذرا ’’کولاچی‘‘ سے کراچی تک

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کا شمار دنیا کے بیس بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ شہر پاکستان کے صوبہ سندھ کا دارالحکومت بھی ہے۔ یہاں کی سمندری بندرگاہ بہت اہمیت کی حامل ہے، جس کے ذریعے پاکستان کا رابطہ تجارت کے سلسلے میں دوسرے ملکوں سے قائم ہے۔ یہاں ماہی گیری کی صنعت کی وجہ سے ماہی گیروں کی بستیاں زمانہ ء قدیم سے آباد ہیں۔ عربوں میں یہ شہر دیبل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یونانی لوگ اس شہر کو ’’کرو کولا‘‘ کے نام سے پکارتے تھے، جبکہ قدیم زمانے میں یہ شہر ’’کولاچی‘‘ کہلاتا تھا۔ اور پھر یہی نام بگڑ کر ’’کراچی‘‘ بن گیا۔ 1840ء میں اسے سندھ کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔ قیام پاکستان سے قبل یہ بمبئی کا حصہ تھا اور اب یہ پاکستان کا سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے۔ 1960ء میں دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ سیاست میں کراچی کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے، کیونکہ ہمارے عظیم قائد محمد علی جناحؒ بھی 1876ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ اور ستمبر 1948ء سے اسی شہر میں پیوندِ خاک ہیں، جن کے مزار پر آپ کے چاہنے والوں کا ہجوم رہتا ہے۔ لوگ جوق درجوق اپنے عظیم قائد کو سلامِ عقیدت پیش کرنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔
یہ شہر ایک کثیر آبادی کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں کے بازار پُررونق ہیں۔ کراچی چونکہ ایک بڑا ثقافتی مرکز ہے، لہٰذا یہاں کے بازاروں میں آپ کو ہاتھ سے بنی رَلیاں اور اجرک، شیشے کے کام سے آراستہ خواتین کے ملبوسات، سندھی شیشوں کے کام والی ٹوپیاں جگہ جگہ نظر آتی ہیں، جو کہ بیرون ممالک میں بھی بے حد پسند کی جاتی ہیں۔ ساحلِ سمندر کی سیر پر آنے والے لوگ یہ نادر اور قیمتی اشیاء اپنے ہمراہ لے کر جاتے ہیں۔ یہاں پر جولائی اور اگست میں موسم برسات شروع ہو جاتا ہے۔ کافی عرصہ پہلے یہاں اتنی زیادہ بارشیں نہیں ہوتی تھیں، لیکن عالمی ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے کچھ برسوں سے یہاں بارشوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ بارش کے بعد یہاں کے گلی کوچوں میں، مناسب نکاسی ء آب نہ ہونے کی وجہ سے،پانی بھر جاتا ہے، جس سے کراچی کے شہریوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ یہاں بڑے بڑے شاپنگ مالز، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر اور بہت سارے میڈیا گروپ بھی سرگرم عمل ہیں۔
اس شہر میں روزانہ ایک درجن سے زائد، چھوٹے بڑے،اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ ہفت روزہ اور پندرہ روزہ رسائل اس کے علاوہ ہیں۔ اس سرزمین میں بہت سے جید علماء، مفتی، عظیم شاعر اور دانش ور بھی پیدا ہوئے۔ جن میں سیاست کے مشہور زمانہ جناب ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، محترمہ فاطمہ جناح اور دیگر سیاستدانوں کا تعلق بھی اسی شہر کراچی سے رہا۔ یہاں پر لوگوں کی رہائش کے لئے فلیٹ سسٹم کو متعارف کرایا گیا۔ جب کبھی یہاں کی آبادی کم تھی تو یہی فلیٹ کراچی کی خوبصورتی کاباعث تھے۔ جوں جوں آبادی بڑھتی گئی۔ اس آبادی کی زندگی مشکلات میں گھرتی چلی گئی۔ اور اب یہ عالم ہے کہ کراچی کے یہی فلیٹ زندگی کی تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ یہاں پر پانی کی عدم موجودگی کا ہے۔ ان فلیٹوں میں پانی اکثر اوقات ہفتہ ہفتہ بھریا دو،دو ہفتے تک غائب رہتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی صورت میں ہے۔ جہاں اکثر جگہوں پر بجلی کئی کئی گھنٹوں تک غائب رہتی ہے، جس کی وجہ سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ جو اب اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس شہر میں سڑکوں پر اکثر ٹریفک جام رہتا ہے، جس کی وجہ سے طالب علموں کو اپنی اپنی درس گاہوں میں پہنچنے میں تاخیر و پریشانی ہوتی ہے۔ تو دوسری طرف دفاتر جانے والے بھی اپنے اپنے دفاتر میں وقت پر نہیں پہنچ پاتے۔ سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔ بقول دلاورفگار (مرحوم):
یہ جو سرِ راہ گڑھوں کی فراوانی ہے
مرنے والوں کے لئے دفن کی آسانی ہے
سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ کوڑا کرکٹ اور غلاظت کے ڈھیر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سڑکوں پر اُڑتے پھرتے شاپنگ بیگ بھی طبعء نازک پر گراں گزرتے ہیں اور زبانِ حال سے حکومتِ وقت کی کارکردگی پر شکوہ کُناں نظر آتے ہیں ۔ یہ ہے پاکستان کا سب سے قدیم اور عظیم شہر!
پچھلے دنوں میں کراچی میں تھی۔ مجھے ایک ٹیلر کے پاس جانا تھا۔میں جب وہاں سے واپس آ رہی تھی تو مجھے اپنے پیچھے کسی کے چلنے کی آہٹ محسوس ہوئی۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک بچہ، جو روزانہ کوڑا اٹھانے ہمارے گھر آتا تھا، تیز دھوپ میں جلتی سڑک پر ننگے پاؤں میرے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ میں چلتے چلتے رُک گئی۔ میں نے پوچھا: ’’تم نے جوتے کیوں نہیں پہنے‘‘۔ وہ خاموش رہا۔میں نے پھر پوچھا تو وہ پھر بھی چُپ رہا۔ مَیں سمجھ گئی کہ اسے میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔ شاید وہ صرف سندھی ہی جانتا تھا۔ میں نے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے دوبارہ کہا’’جوتے پہنو گے‘‘ وہ میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا میں نے گھرپہنچ کر اپنے جوتے اتار کر اسے دے دیئے۔ میں نے اس سے کہا کہ ’’تم نے یہ جوتے صبح پہن کر آنے ہیں‘‘ وہ جوتے لے کر چلا گیا۔ میری بیٹی جو پاس ہی کھڑی ہوئی تھی کہنے لگی۔۔۔’’دیکھئے گا یہ جوتے نہیں پہنے گا‘‘۔
میں تو یہ واقعہ بھول جاتی۔ لیکن میں جب کراچی سے بذریعہ ٹرین لاہور واپس آ رہی تھی تو میرے سامنے والی سیٹ پر ایک بزرگ اور ایک تعلیم یافتہ نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ وہ بزرگوار سے سندھ کے وڈیرہ کلچر کے حوالے سے گفتگو کر رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا: ’’انکل میں نے سندھ کے کلچر کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ یہ وڈیرہ کلچر کسی کو بھی پھولنے اور پھلنے نہیں دے گا۔ یہاں کے رواج کے مطابق غریب ہاری پاؤں میں جوتا نہیں پہن سکتا‘‘۔ بزرگ نے پوچھا ’’وہ کس لئے!‘‘ وہ جوان کہنے لگا۔ ’’ یہ وڈیرے لوگ کہتے ہیں کہ ہاری لوگ جوتا پہننے سے آرام طلب ہو جاتے ہیں۔ نوجوان کی یہ بات جیسے ہی میرے کان میں پڑی۔ مجھے اپنی بیٹی کے کہے الفاظ یاد آ گئے۔’’یہ جوتا نہیں پہنے گا‘‘ اور میں سوچنے لگی کہ جو لوگ ایک غریب انسان کو جوتا پہننے جیسی ’’عیاشی‘‘ نہیں کرنے دیتے۔ وہ انہیں بجلی، پانی، گیس، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات کیونکہ فراہم کر سکتے ہیں؟
عفت امتیاز

اہل کشمیر : تیرے جذبۂ حریت کو سلام

  آزادی انسان كا پہلا اور بنیادی حق ہے جسے اقوام متحدہ كا چارٹر قبول كرتا ہے، پاكستان اقوام عالم سے یہ مطالبہ كرتا ہے كہ وہ بھارت كو اس ظلم سے روكے جو كشمیریوں  كے خلاف روا ركھا جا رہا ہے اور انسانی حقوق كی خلاف ورزیوں  كا نوٹس لے، پاكستان بھارت كی حكومت سے بھی كہتا ہے كہ وہ ظلم و بربریت كا بازار بندكرے، جنوبی ایشیا كا امن بھارت سمیت سب كی ضرورت ہے اور  یہ امن اسی وقت قائم ہو سكتا ہے جب معاملات كو طاقت كی بجائے گفت و شنید سے حل كیا جائے، بھارت پاكستان كے ساتھ كشمیر كے مسئلے پر نتیجہ خیز مذاكرات كرے جس میں  كشمیری نمائندوں  كو بھی شامل كیاجائے۔