مکا چوک کا نام شہید لیاقت علی خان چوک رکھ دیا گیا

Advertisements

MQM headquarters, offices sealed in Karachi after Altaf speech

Sindh Rangers on Monday night initiated action against Muttahida Qaumi Movement (MQM), for allegedly inciting violence in the metropolis. The paramilitary forces raided party headquarters Nine Zero, took senior party leaders into custody and sealed MQM offices there. Rangers’ Brigadier Khurram, while briefing media about the operation in the wee hours of Tuesday, confirmed that MQM’s office, Khursheed Memorial Hall and party’s media department has been sealed. He said the paramilitary force also recovered weapons from Nine Zero, which will be sent for forensic tests. The Rangers officer further said that the operation on MQM headquarters was carried out in accordance with law.

کراچی میں ایم کیو ایم کارکنان کی ہنگامہ آرائی

 متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد کارکنان مشتعل ہوئے اور اپنی  پارٹی کے سربراہ کے اکسانے پر ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کیا۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں پاکستان کو پوری دنیا کے لیے ناسور اور سر درد قرار دیا جبکہ اس کو دہشت گردی کا اڈہ بھی کہا، انہوں نے پاکستان مردہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔ 
تقریر کے بعد مشتعل افراد کی بڑی تعداد زینب مارکیٹ کے اطراف جمع ہوئی انہوں نے مقامی ٹی وی چینل کے دفتر پر بھی حملہ کیا اور چینل کے دفتر میں داخل ہو کر تھوڑ پھور کی، ایم کیو ایم کے کارکنوں کو گورنر ہاؤس کی جانب جانے سے روکنے کیلئے پولیس نے شیلنگ بھی کی۔ ہنگامہ آرائی میں ایک شخص ہلاک جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ گورنر ہاؤس اور اس کی اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک بری طرح جام رہا جبکہ کراچی کے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

خالق دینا ہال : شہر قائد کی یادگار عمارتیں

خالق دینا ہال برصغیر کی وہ واحد عمارت ہے، جسے خلافت تحریک کے حوالے
سے نمایاں تاریخی اہمیت حاصل ہے ،جس جگہ آج خالق دینا ہال واقع ہے، وہاں 1906ء سے قبل نیٹو جنرل لائبریری کی چھوٹی سی عمارت واقع تھی۔ یہ کراچی کی پہلی عوامی لائبریری تھی ،جسے کمشنر سندھ سر بارٹلے فرئیر نے قائم کیا تھا اس وقت جب یہ چھوٹی سی لائبریری اپنی زندگی کے پچاس سال مکمل کرچکی تھی۔ کراچی کی ایک ممتاز اور مخیر شخصیت سیٹھ غلام حسین خالق دینا نے اس کے لیے اپنے انتقال سے قبل اپنے وصیت نامے میں 18 ہزار روپے کی رقم اس شرط پر مختص کی تھی کہ اس رقم سے لائبریری کی پرانی عمارت کی جگہ ایک نئی وسیع اور شاندار عمارت تعمیر کی جائے لائبریری سے ملحق ایک پبلک ہال بھی تعمیر کرایا جائے، جو لائبریری کی ملکیت ہو، اس ہال کو کرائے پر چلا کر اس کی آمدنی سے لائبریری کا انتظام موثر طریقے سے چلایا جائے نیز نئے تعمیر شدہ ہال کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔

غلام حسین دینا کی وصیت کے مطابق نئی عمارات کو تعمیر کرانے کے لیے مزید قطعہ اراضی کی ضرورت تھی چنانچہ نگران کمیٹی نے حکومت بمبئی سے مزید زمین مہیا کرنے کے لیے درخواست کی، جسے 11 فروری 1902ء کو منظور کر لیاگیا۔ اس کے تحت پہلے سے موجود اراضی 2289 مربع گز میں مزید 2522 مربع گز کا ملحقہ قطعہ بھی شامل کرنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا گیا۔ وصیت کے مطابق عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں ایک یہ بھی مشکل تھی کہ غلام حسین خالق دینا کی عطیہ کی ہوئی اٹھارہ ہزار روپے کی رقم قطعی ناکافی تھی چنانچہ نگران کمیٹی نے کراچی میونسپلٹی سے مالی امداد کی درخواست کی۔ کراچی میونسپلٹی نے کچھ پس وپیش کے بعد اس درخواست کو منظور کرکے سولہ ہزار روپے کی رقم فراہم کر دی۔ 1905ء میں خالق دینا ہال کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا اور 1906ء میں یہ عمارت تیار ہوچکی تھی اس نئی عمارت کی تعمیر پر 38 ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔

اس خوبصورت عمارت میں ایک 70 فٹ لمبے اور 40فٹ چوڑے ہال کے علاوہ لائبریری کے لیے د و کمرے بھی تعمیر کیے گئے تھے۔ 16جولائی 1906ء کو اس وقت کے کمشنر سندھ مسٹر ہینگ ہسبینڈ نے اس عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ تعمیر کے بعد اس کا ہال کراچی کی مختلف سماجی اور سیاسی تقریبات کے لیے استعمال ہوتا رہا، مگر ستمبر 1921ء میں اس ہال میں مولانا محمد علی جوہر اور ان کے رفقاء پر بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا تو اس عمارت کو لازوال تاریخی اہمیت حاصل ہوگئی اور برصغیر کا بچہ بچہ اس سے واقف ہوگیا۔ خلافت تحریک کے مناسبت سے اس عمارت کے ہال کے باہر ایک کتبہ آویزاں ہے جس پر مندرجہ ذیل تاریخی عبارت کندہ ہے۔ 09 جولائی 1921ء کو تحریک خلافت کے جلسے میں مولانا محمد جوہر نے ایک قرار داد منظور کرائی کہ افواج برطانیہ میں مسلمانوں کی بھرتی خلاف شرع ہے اس جرم میں مولانا اور ان کے رفقاء پر حکومت برطانیہ نے بغاوت کا مقدمہ اسی عمارت میں چلایا تھا.
مگر مقدمے کی پوری کارروائی کے دوران مولانا کا موقف یہ رہا: ہم کو خود شوق شہادت ہے گواہی کیسی فیصلہ کر بھی چکو مجرم اقراری کا اس مقدمے کے فوراً بعد ایک جعلی تنازعے کے ذریعے انگریز حکومت نے اس ہال اور لائبریری کی زمین کو کراچی میونسپلٹی سے منسلک کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ہال کی آمدنی کراچی میونسپلٹی کو جانے لگی، تاہم میونسپلٹی کو پابند کر دیا گیا کہ وہ ہال اور لائبریری کے لیے باقاعدگی سے سالانہ امداد فراہم کرکے اورعمارت کی دیکھ بھال اور ٹوٹ پھوٹ کا خیال رکھے چنانچہ کراچی میونسپل کارپوریشن اس ہال اور لائبریری سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نہایت احسن طریقے سے انجام دیتی رہی۔تحریک پاکستان کے دنوں میں اس عمارت میں کئی اہم سیاسی اجلاس منعقد ہوتے رہے دراصل یہ عمارات خلافت تحریک کے بعد تحریک پاکستان کا مرکز بن گئی اور اس طرح مسلمانان کراچی پراس عمارت کا قرض پہلے سے سوا گنا ہو گیا مگر افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد اس قرض چکانے کی بجائے اس کی وہ بے قدر ی ہو رہی ہے کہ اس تاریخی عمارت کا وجود ہی خطرے میں پڑتا نظر آرہا ہے۔
شیخ نوید اسلم
 (پاکستان کی سیر گاہیں)

کراچی آپریشن، جرائم میں اضافہ

کراچی میں تین سال سے آپریشن جاری ہے۔ بڑے جرائم میں کمی ہوئی، مگر
اسٹریٹ کرائم کی شرح بڑھی۔ سی پی ایل سی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے تعاون سے جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ سی پی ایل سی کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 17 ہزار سے زیادہ موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں یا چوری ہوگئیں۔ اس طرح 21 ہزار سے زیادہ موبائل چھین لیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق موبائل سے محروم ہونے والے افراد میں سے صرف 30 فیصد نے تھانوں میں جاکر ایف آئی آر درج کرائی، جب کہ 70 فیصد اپنے موبائل چھیننے کو قسمت کا حال سمجھ کر خاموش ہوگئے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال 21 ہزار 1 سو 95 موبائل چھینے گئے تھے، جب کہ گزشتہ سے پیوستہ سال 18 ہزار 756 موبائل چھیننے کی رپورٹیں درج کرائی گئیں تھیں۔

اس طرح مختلف نوعیت کی چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں، بینک لوٹنے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔ جب کہ اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں کمی ہوئی۔ اس کے ساتھ ہجوم کا ملزموں کو سزا دینے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ مہینے اورنگی ٹاؤن اور نیو کراچی میں دو ملزموں کو موقع واردات پر پکڑ کر بری طرح تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ ملزمان ہلاک ہوگئے۔ بعض واقعات میں ہجوم نے مجرموں کو پٹرول چھڑک کر زندہ جلادیا۔ ایک شہری نے اپنے لائسنس والی پستول سے فائرنگ کرکے دو ملزمان کو ہلاک کیا، جو شہریوں کو لوٹنے کی کوشش کررہے تھے۔ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ نے ایک تقریب میں اس شہری کی بہادری کو سراہا اور اسے نقد انعام اور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آئی جی نے اس تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام اسی جذبے کے تحت ملزموں کے خلاف مدافعت کریں گے تو جرائم کی شرح کم ہوجائے گی۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس کی آبادی دو کروڑ کے ہندسے کے قریب ہے یا اس سے تجاوز کرچکی ہے۔

اس سوال کا جواب ممکنہ طور پر ہونے والی مردم شماری سے ہی ملے گا۔ مگر آرگنائزیشن اور شماریات کے ماہر اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے۔ مگر شہر کے انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے اور پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا معاملہ ریاست کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ کراچی اس صدی کے آغاز سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مبتلا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں ایک زمانے میں طالبان کا قبضہ تھا، ٹھٹھہ ضلع کی حدود ختم ہو کر گھکھر پھاٹک سے بلوچستان کے علاقے حب تک کی پٹی پر طالبان قابض ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب افغانستان میں اتحادی فوجوں نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی کی تو یہ لوگ پہلے وزیرستان، بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہوئے، پھر ان علاقوں میں فوجی آپریشن تیز ہونے کے بعد ان انتہاپسندوں کو کراچی کے مضافاتی علاقوں میں آباد کیا گیا۔

اس پٹی میں قائم بستیوں میں عرصہ دراز تک طالبان کی غیر اعلانیہ حکومت قائم رہی، اس علاقے میں اسکولوں کو تباہ کیا گیا، مزاروں پر حملے ہوئے، سماجی اور سیاسی کارکن اور اساتذہ قتل ہوئے، ٹی وی کیبل پر پابندی لگی، جرگوں نے فیصلے دینے شروع کردیے۔ یہاں سے اسلحہ کراچی میں آنے لگا۔ کراچی میں تین سال قبل شروع ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں بہت سے انتہاپسند مارے گئے، جس کے نتیجے میں شہر میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں میں کمی آئی، خاص طور پر محرم کے مہینے سکون سے گزرے۔ اس علاقے میں آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی حکومت اب نظر نہیں آتی، مگر محسوس کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ اب بھی بہت مضبوط ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کراچی میں صرف طالبان ہی نہیں بلکہ کئی سیاسی گروہ اور بااثر مافیا اسلحہ کی فراہمی کے کاروبار میں ملوث ہے۔ اس کاروبار میں بڑے افسروں، سرداروں، وڈیروں اور بڑے سرمایہ داروں کے نام آتے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ ماہ امجد صابری کے قتل میں نائن ایم ایم کا پستول استعمال ہوا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نائن ایم ایم پستول سے کراچی میں بہت سے اہم قتل ہوئے۔ اس پستول کی قیمت پانچ ہزار سے شروع ہوکر لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ نائن ایم ایم کی پستول درہ آدم خیل میں بھی تیار ہوتی ہے اور مختلف ممالک سے اسمگل ہوکر بھی آتی ہے۔
کرمنالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں جرائم کے خاتمے میں پولیس کا ادارہ ہی بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور پولیس کی نگرانی منتخب نمایندے کرتے ہیں، مگر کراچی پولیس کا ڈھانچہ انتہائی پسماندہ ہے۔ ماہرین اس کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا محکمہ میرٹ کے تصور سے محروم ہے، اس محکمے میں تقرریاں اور تبادلے سفارش یا پیسے کی بنیاد پر ہوتی ہیں، بعض تھانوں کی نیلامی کا ذکر بار بار کیا جاتا ہے۔ کراچی پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو رائج کرنے کے لیے متعدد پروجیکٹ پر کام ہوا ہے، تھانوں میں کمپیوٹر فراہم کیے گئے ہیں، ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کا بھی ذکر ہوتا ہے، مگر پولیس کا محکمہ پنجاب کی طرح ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کی زیادہ پبلسٹی نہیں کرتا، اگر ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کا طریقہ عام ہوجائے تو اعلیٰ حکام اپنے عملے کی نگرانی زیادہ بہتر انداز سے کرسکتے ہیں۔
پھر اہم وارداتوں کے بعد علاقے کو گھیر کر جیوفینسگ ٹیکنالوجی کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ اس طریقے کے تحت جس مقام پر کوئی واردات ہوتی ہے اس کو بند کرکے وہاں کی فضا میں موجود الیکٹرانک لہروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، یوں موبائل فون کے نمبروں کا پتہ چلتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ طریقہ کار بہت زیادہ موثر ہے، مگر کراچی میں یہ طریقہ کار زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے لائنز ایریا میں پارکنگ پلازہ کے قریب ایک فوجی جیپ پر حملے اور دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد اس ٹیکنالوجی کا میڈیا پر خوب ذکر ہوا تھا، اس طرح امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس کی صاحبزادے کے اغوا کے وقت بھی یہ موضوع میڈیا کی زینت بنا تھا، مگر ان معاملات میں کراچی پولیس مکمل طور پر ناکام ہوئی۔ بعض اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئیں کہ کراچی پولیس کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی  ایجنسیوں کے پاس ہے۔ پولیس اور ان ایجنسیوں کے درمیان اعتماد کا بحران ہے، جس کا فائدہ ملزموں کو ہورہا ہے۔
پولیس افسران اور جوانوں کی تربیت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ کراچی میں سرگرم ملزموں کے گروہ اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں، ان میں سے کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں نے ان کی تربیت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں پولیس والوں کی ہلاکت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں پولیس کے جوانوں اور افسروں کی خصوصی تربیت کی ضرورت ہے۔ پولیس کے پاس ڈی این اے ٹیسٹ اور دوسرے مواد کے تجزیے کے لیے جدید لیبارٹری بھی موجود نہیں ہے۔ آئی جی نے بہادر شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملزموں کو پکڑنے میں فعال کردار ادا کریں۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ شہری پولیس سے مکمل طور پر تعاون کریں مگر اس مقصد کے لیے گواہوں کے تحفظ کا قانون جامع ہونا چاہیے۔
اس قانون میں گواہوں کو معاوضے، ان کے اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کے لیے بیمہ کرانے کی شرط شامل ہونی چاہیے۔ مگر ہجوم کا ملزموں کو سزا دینے کا طریقہ کار بہت خطرناک ہے۔ ہجوم کو سزا دینے کے عمل کی حوصلہ افزائی سے عام آدمی کا پولیس پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ ہجوم کی سزا میں سچائی کا معاملہ مشکوک ہوتا ہے۔ ہجوم کی سزا سے انصاف پامال ہوتا ہے اور قانون کی حکمرانی ختم ہوتی ہے۔ آئی جی کو اپنے اس بیان کی وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ شہریوں سے پولیس سے تعاون کی اپیل کررہے ہیں یا انھیں ملزموں کو سزا دینے کی تلقین کررہے ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پولیس کے محکمے کو زیادہ فعال کیا جائے گا۔ یہ بات بالکل درست ہے، حکومت کو پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اس کے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ آئی جی سندھ کی یہ بات بھی درست ہے کہ پولیس آرڈر 2002 سب سے بہتر قانون ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو پس پشت ڈال کر عام آدمی کا نقصان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو دوبارہ اس قانون کا جائزہ لینا چاہیے اور اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔ کراچی کو اسٹریٹ کرائم سے پاک کرنا بھی حکومت کا فرض ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان