MQM headquarters, offices sealed in Karachi after Altaf speech

Sindh Rangers on Monday night initiated action against Muttahida Qaumi Movement (MQM), for allegedly inciting violence in the metropolis. The paramilitary forces raided party headquarters Nine Zero, took senior party leaders into custody and sealed MQM offices there. Rangers’ Brigadier Khurram, while briefing media about the operation in the wee hours of Tuesday, confirmed that MQM’s office, Khursheed Memorial Hall and party’s media department has been sealed. He said the paramilitary force also recovered weapons from Nine Zero, which will be sent for forensic tests. The Rangers officer further said that the operation on MQM headquarters was carried out in accordance with law.

کراچی میں ایم کیو ایم کارکنان کی ہنگامہ آرائی

 متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد کارکنان مشتعل ہوئے اور اپنی  پارٹی کے سربراہ کے اکسانے پر ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کیا۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں پاکستان کو پوری دنیا کے لیے ناسور اور سر درد قرار دیا جبکہ اس کو دہشت گردی کا اڈہ بھی کہا، انہوں نے پاکستان مردہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔ 
تقریر کے بعد مشتعل افراد کی بڑی تعداد زینب مارکیٹ کے اطراف جمع ہوئی انہوں نے مقامی ٹی وی چینل کے دفتر پر بھی حملہ کیا اور چینل کے دفتر میں داخل ہو کر تھوڑ پھور کی، ایم کیو ایم کے کارکنوں کو گورنر ہاؤس کی جانب جانے سے روکنے کیلئے پولیس نے شیلنگ بھی کی۔ ہنگامہ آرائی میں ایک شخص ہلاک جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ گورنر ہاؤس اور اس کی اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک بری طرح جام رہا جبکہ کراچی کے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

خالق دینا ہال : شہر قائد کی یادگار عمارتیں

خالق دینا ہال برصغیر کی وہ واحد عمارت ہے، جسے خلافت تحریک کے حوالے
سے نمایاں تاریخی اہمیت حاصل ہے ،جس جگہ آج خالق دینا ہال واقع ہے، وہاں 1906ء سے قبل نیٹو جنرل لائبریری کی چھوٹی سی عمارت واقع تھی۔ یہ کراچی کی پہلی عوامی لائبریری تھی ،جسے کمشنر سندھ سر بارٹلے فرئیر نے قائم کیا تھا اس وقت جب یہ چھوٹی سی لائبریری اپنی زندگی کے پچاس سال مکمل کرچکی تھی۔ کراچی کی ایک ممتاز اور مخیر شخصیت سیٹھ غلام حسین خالق دینا نے اس کے لیے اپنے انتقال سے قبل اپنے وصیت نامے میں 18 ہزار روپے کی رقم اس شرط پر مختص کی تھی کہ اس رقم سے لائبریری کی پرانی عمارت کی جگہ ایک نئی وسیع اور شاندار عمارت تعمیر کی جائے لائبریری سے ملحق ایک پبلک ہال بھی تعمیر کرایا جائے، جو لائبریری کی ملکیت ہو، اس ہال کو کرائے پر چلا کر اس کی آمدنی سے لائبریری کا انتظام موثر طریقے سے چلایا جائے نیز نئے تعمیر شدہ ہال کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔

غلام حسین دینا کی وصیت کے مطابق نئی عمارات کو تعمیر کرانے کے لیے مزید قطعہ اراضی کی ضرورت تھی چنانچہ نگران کمیٹی نے حکومت بمبئی سے مزید زمین مہیا کرنے کے لیے درخواست کی، جسے 11 فروری 1902ء کو منظور کر لیاگیا۔ اس کے تحت پہلے سے موجود اراضی 2289 مربع گز میں مزید 2522 مربع گز کا ملحقہ قطعہ بھی شامل کرنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا گیا۔ وصیت کے مطابق عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں ایک یہ بھی مشکل تھی کہ غلام حسین خالق دینا کی عطیہ کی ہوئی اٹھارہ ہزار روپے کی رقم قطعی ناکافی تھی چنانچہ نگران کمیٹی نے کراچی میونسپلٹی سے مالی امداد کی درخواست کی۔ کراچی میونسپلٹی نے کچھ پس وپیش کے بعد اس درخواست کو منظور کرکے سولہ ہزار روپے کی رقم فراہم کر دی۔ 1905ء میں خالق دینا ہال کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا اور 1906ء میں یہ عمارت تیار ہوچکی تھی اس نئی عمارت کی تعمیر پر 38 ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔

اس خوبصورت عمارت میں ایک 70 فٹ لمبے اور 40فٹ چوڑے ہال کے علاوہ لائبریری کے لیے د و کمرے بھی تعمیر کیے گئے تھے۔ 16جولائی 1906ء کو اس وقت کے کمشنر سندھ مسٹر ہینگ ہسبینڈ نے اس عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ تعمیر کے بعد اس کا ہال کراچی کی مختلف سماجی اور سیاسی تقریبات کے لیے استعمال ہوتا رہا، مگر ستمبر 1921ء میں اس ہال میں مولانا محمد علی جوہر اور ان کے رفقاء پر بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا تو اس عمارت کو لازوال تاریخی اہمیت حاصل ہوگئی اور برصغیر کا بچہ بچہ اس سے واقف ہوگیا۔ خلافت تحریک کے مناسبت سے اس عمارت کے ہال کے باہر ایک کتبہ آویزاں ہے جس پر مندرجہ ذیل تاریخی عبارت کندہ ہے۔ 09 جولائی 1921ء کو تحریک خلافت کے جلسے میں مولانا محمد جوہر نے ایک قرار داد منظور کرائی کہ افواج برطانیہ میں مسلمانوں کی بھرتی خلاف شرع ہے اس جرم میں مولانا اور ان کے رفقاء پر حکومت برطانیہ نے بغاوت کا مقدمہ اسی عمارت میں چلایا تھا.
مگر مقدمے کی پوری کارروائی کے دوران مولانا کا موقف یہ رہا: ہم کو خود شوق شہادت ہے گواہی کیسی فیصلہ کر بھی چکو مجرم اقراری کا اس مقدمے کے فوراً بعد ایک جعلی تنازعے کے ذریعے انگریز حکومت نے اس ہال اور لائبریری کی زمین کو کراچی میونسپلٹی سے منسلک کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں ہال کی آمدنی کراچی میونسپلٹی کو جانے لگی، تاہم میونسپلٹی کو پابند کر دیا گیا کہ وہ ہال اور لائبریری کے لیے باقاعدگی سے سالانہ امداد فراہم کرکے اورعمارت کی دیکھ بھال اور ٹوٹ پھوٹ کا خیال رکھے چنانچہ کراچی میونسپل کارپوریشن اس ہال اور لائبریری سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نہایت احسن طریقے سے انجام دیتی رہی۔تحریک پاکستان کے دنوں میں اس عمارت میں کئی اہم سیاسی اجلاس منعقد ہوتے رہے دراصل یہ عمارات خلافت تحریک کے بعد تحریک پاکستان کا مرکز بن گئی اور اس طرح مسلمانان کراچی پراس عمارت کا قرض پہلے سے سوا گنا ہو گیا مگر افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد اس قرض چکانے کی بجائے اس کی وہ بے قدر ی ہو رہی ہے کہ اس تاریخی عمارت کا وجود ہی خطرے میں پڑتا نظر آرہا ہے۔
شیخ نوید اسلم
 (پاکستان کی سیر گاہیں)

کراچی آپریشن، جرائم میں اضافہ

کراچی میں تین سال سے آپریشن جاری ہے۔ بڑے جرائم میں کمی ہوئی، مگر
اسٹریٹ کرائم کی شرح بڑھی۔ سی پی ایل سی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے تعاون سے جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ سی پی ایل سی کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 17 ہزار سے زیادہ موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں یا چوری ہوگئیں۔ اس طرح 21 ہزار سے زیادہ موبائل چھین لیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق موبائل سے محروم ہونے والے افراد میں سے صرف 30 فیصد نے تھانوں میں جاکر ایف آئی آر درج کرائی، جب کہ 70 فیصد اپنے موبائل چھیننے کو قسمت کا حال سمجھ کر خاموش ہوگئے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال 21 ہزار 1 سو 95 موبائل چھینے گئے تھے، جب کہ گزشتہ سے پیوستہ سال 18 ہزار 756 موبائل چھیننے کی رپورٹیں درج کرائی گئیں تھیں۔

اس طرح مختلف نوعیت کی چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں، بینک لوٹنے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔ جب کہ اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں کمی ہوئی۔ اس کے ساتھ ہجوم کا ملزموں کو سزا دینے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ مہینے اورنگی ٹاؤن اور نیو کراچی میں دو ملزموں کو موقع واردات پر پکڑ کر بری طرح تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ ملزمان ہلاک ہوگئے۔ بعض واقعات میں ہجوم نے مجرموں کو پٹرول چھڑک کر زندہ جلادیا۔ ایک شہری نے اپنے لائسنس والی پستول سے فائرنگ کرکے دو ملزمان کو ہلاک کیا، جو شہریوں کو لوٹنے کی کوشش کررہے تھے۔ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ نے ایک تقریب میں اس شہری کی بہادری کو سراہا اور اسے نقد انعام اور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آئی جی نے اس تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام اسی جذبے کے تحت ملزموں کے خلاف مدافعت کریں گے تو جرائم کی شرح کم ہوجائے گی۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس کی آبادی دو کروڑ کے ہندسے کے قریب ہے یا اس سے تجاوز کرچکی ہے۔

اس سوال کا جواب ممکنہ طور پر ہونے والی مردم شماری سے ہی ملے گا۔ مگر آرگنائزیشن اور شماریات کے ماہر اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے۔ مگر شہر کے انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے اور پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا معاملہ ریاست کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ کراچی اس صدی کے آغاز سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مبتلا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں ایک زمانے میں طالبان کا قبضہ تھا، ٹھٹھہ ضلع کی حدود ختم ہو کر گھکھر پھاٹک سے بلوچستان کے علاقے حب تک کی پٹی پر طالبان قابض ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب افغانستان میں اتحادی فوجوں نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی کی تو یہ لوگ پہلے وزیرستان، بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہوئے، پھر ان علاقوں میں فوجی آپریشن تیز ہونے کے بعد ان انتہاپسندوں کو کراچی کے مضافاتی علاقوں میں آباد کیا گیا۔

اس پٹی میں قائم بستیوں میں عرصہ دراز تک طالبان کی غیر اعلانیہ حکومت قائم رہی، اس علاقے میں اسکولوں کو تباہ کیا گیا، مزاروں پر حملے ہوئے، سماجی اور سیاسی کارکن اور اساتذہ قتل ہوئے، ٹی وی کیبل پر پابندی لگی، جرگوں نے فیصلے دینے شروع کردیے۔ یہاں سے اسلحہ کراچی میں آنے لگا۔ کراچی میں تین سال قبل شروع ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں بہت سے انتہاپسند مارے گئے، جس کے نتیجے میں شہر میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں میں کمی آئی، خاص طور پر محرم کے مہینے سکون سے گزرے۔ اس علاقے میں آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی حکومت اب نظر نہیں آتی، مگر محسوس کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ اب بھی بہت مضبوط ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کراچی میں صرف طالبان ہی نہیں بلکہ کئی سیاسی گروہ اور بااثر مافیا اسلحہ کی فراہمی کے کاروبار میں ملوث ہے۔ اس کاروبار میں بڑے افسروں، سرداروں، وڈیروں اور بڑے سرمایہ داروں کے نام آتے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ ماہ امجد صابری کے قتل میں نائن ایم ایم کا پستول استعمال ہوا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نائن ایم ایم پستول سے کراچی میں بہت سے اہم قتل ہوئے۔ اس پستول کی قیمت پانچ ہزار سے شروع ہوکر لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ نائن ایم ایم کی پستول درہ آدم خیل میں بھی تیار ہوتی ہے اور مختلف ممالک سے اسمگل ہوکر بھی آتی ہے۔
کرمنالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں جرائم کے خاتمے میں پولیس کا ادارہ ہی بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور پولیس کی نگرانی منتخب نمایندے کرتے ہیں، مگر کراچی پولیس کا ڈھانچہ انتہائی پسماندہ ہے۔ ماہرین اس کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا محکمہ میرٹ کے تصور سے محروم ہے، اس محکمے میں تقرریاں اور تبادلے سفارش یا پیسے کی بنیاد پر ہوتی ہیں، بعض تھانوں کی نیلامی کا ذکر بار بار کیا جاتا ہے۔ کراچی پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو رائج کرنے کے لیے متعدد پروجیکٹ پر کام ہوا ہے، تھانوں میں کمپیوٹر فراہم کیے گئے ہیں، ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کا بھی ذکر ہوتا ہے، مگر پولیس کا محکمہ پنجاب کی طرح ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کی زیادہ پبلسٹی نہیں کرتا، اگر ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کا طریقہ عام ہوجائے تو اعلیٰ حکام اپنے عملے کی نگرانی زیادہ بہتر انداز سے کرسکتے ہیں۔
پھر اہم وارداتوں کے بعد علاقے کو گھیر کر جیوفینسگ ٹیکنالوجی کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ اس طریقے کے تحت جس مقام پر کوئی واردات ہوتی ہے اس کو بند کرکے وہاں کی فضا میں موجود الیکٹرانک لہروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، یوں موبائل فون کے نمبروں کا پتہ چلتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ طریقہ کار بہت زیادہ موثر ہے، مگر کراچی میں یہ طریقہ کار زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے لائنز ایریا میں پارکنگ پلازہ کے قریب ایک فوجی جیپ پر حملے اور دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد اس ٹیکنالوجی کا میڈیا پر خوب ذکر ہوا تھا، اس طرح امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس کی صاحبزادے کے اغوا کے وقت بھی یہ موضوع میڈیا کی زینت بنا تھا، مگر ان معاملات میں کراچی پولیس مکمل طور پر ناکام ہوئی۔ بعض اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئیں کہ کراچی پولیس کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی  ایجنسیوں کے پاس ہے۔ پولیس اور ان ایجنسیوں کے درمیان اعتماد کا بحران ہے، جس کا فائدہ ملزموں کو ہورہا ہے۔
پولیس افسران اور جوانوں کی تربیت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ کراچی میں سرگرم ملزموں کے گروہ اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں، ان میں سے کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں نے ان کی تربیت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں پولیس والوں کی ہلاکت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں پولیس کے جوانوں اور افسروں کی خصوصی تربیت کی ضرورت ہے۔ پولیس کے پاس ڈی این اے ٹیسٹ اور دوسرے مواد کے تجزیے کے لیے جدید لیبارٹری بھی موجود نہیں ہے۔ آئی جی نے بہادر شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملزموں کو پکڑنے میں فعال کردار ادا کریں۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ شہری پولیس سے مکمل طور پر تعاون کریں مگر اس مقصد کے لیے گواہوں کے تحفظ کا قانون جامع ہونا چاہیے۔
اس قانون میں گواہوں کو معاوضے، ان کے اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کے لیے بیمہ کرانے کی شرط شامل ہونی چاہیے۔ مگر ہجوم کا ملزموں کو سزا دینے کا طریقہ کار بہت خطرناک ہے۔ ہجوم کو سزا دینے کے عمل کی حوصلہ افزائی سے عام آدمی کا پولیس پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ ہجوم کی سزا میں سچائی کا معاملہ مشکوک ہوتا ہے۔ ہجوم کی سزا سے انصاف پامال ہوتا ہے اور قانون کی حکمرانی ختم ہوتی ہے۔ آئی جی کو اپنے اس بیان کی وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ شہریوں سے پولیس سے تعاون کی اپیل کررہے ہیں یا انھیں ملزموں کو سزا دینے کی تلقین کررہے ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پولیس کے محکمے کو زیادہ فعال کیا جائے گا۔ یہ بات بالکل درست ہے، حکومت کو پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اس کے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ آئی جی سندھ کی یہ بات بھی درست ہے کہ پولیس آرڈر 2002 سب سے بہتر قانون ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو پس پشت ڈال کر عام آدمی کا نقصان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو دوبارہ اس قانون کا جائزہ لینا چاہیے اور اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔ کراچی کو اسٹریٹ کرائم سے پاک کرنا بھی حکومت کا فرض ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

کیا کراچی کے بلدیاتی مسائل حل ہوسکیں گے ؟

کراچی میں دو تین دنوں کی مسلسل اوروقفے وقفے سے موسلا دھار اور ہلکی
بارش سے شہرکراچی جل تھل ہوگیا ،کراچی میں بارش نے معمولات زندگی درہم برہم کردیے ، بارش کے دوران کرنٹ لگنے ، چھت گرنے،دیوار گرنے سے مرد ، خاتون اور بچوں سمیت 18افراد یہ سطور تحریر کرتے وقت تک جاں بحق ہوچکے تھے۔ بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقوں ، شاہراہوں، پلوں کے اطراف اور انڈر پاسز میں پانی جمع ہوگیا ، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتے رہے ، بجلی کی فراہمی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ، 450سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے ، شہر کا 30فیصد حصہ بجلی کی فراہمی سے محروم رہا ، شہر بھر میں 60کروڑ گیلن پانی فراہم نہیں کیا جا سکا جس وجہ سے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔

بارش کی وجہ سے نشیبی علاقوں اور کچی آبادیوں میں پانی کھڑا ہوگیا ، تباہ حال سیوریج نظام سے گندہ پانی اوور فلو ہوگیا ، ہر گلی میں گٹر ابل رہے ہیں ، برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث نشیبی علاقوں میں گندا پانی گھس گیا ہے جس سے شہریوں کی قیمتی اشیا کو شدید نقصان پہنچا ہے ، شہری اپنی مدد آپ کے تحت گٹر ملا برساتی پانی گھروں سے نکال رہے ہیں ، سڑکوں پر پڑے کچروں کے انبار سے تعفن اٹھ رہا ہے جس سے و بائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ 

مارکیٹوں کے اردگرد گٹر ابل رہے ہیں ، شہریوں کا ماکیٹوں میں داخل ہونا مشکل ہوگیا ہے ۔ سڑکوں پر کیچڑ اور پھسلن سے لوگ پریشان ہیں ۔اس طرح صرف 2 انچ بارش نے کراچی کی بلدیاتی اداروں کی قلعی کھول دی ہے ۔ کراچی ایک لاوارث شہرکی سی صورت اختیارکرتا جارہا ہے،کوئی پرسان حال نہیں ۔ نمائشی اقدامات بلدیاتی اداروں کا وطیرہ بن چکے ہیں ، ایک عرصے سے کراچی کچرا کنڈی کا نمونہ پیش کررہا ہے ، شہری چیخ چیخ کر اپنے بلدیاتی مسائل بیان کرتے رہے ہیں لیکن صرف میٹنگ اور اخباری بیانات تک معاملہ چلتا رہا ہے ، شہری سڑکوں پر پڑنے والے گڑوں سے اذیت میں مبتلا رہے اور ہیں ،کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کی خرابی اور ڈیزل فنڈز کے خورد برد کے باعث شہرکے بیشتر علاقوں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے، سیوریج لائنوں کی مرمت اورگٹروں کی صفائی نہ ہو نے سے کئی علاقوں میں گٹر ابلتے رہے ہیں، شہر میں 12ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے۔

جس میں صرف 3ہزار ٹن یومیہ اٹھایا جاتا ہے ،اٹھائے جانے والے کچرے کا بیشتر حصہ لینڈ فل سائٹ پر پھیکنے کی بجائے لیاری ندی اور ملیرندی میں پھینکا جاتا ہے ، سینٹری ورکرز کی ملی بھگت سے کچرا چننے والوں نے لیاری ندی ، ملیر ندی ، برساتی نالوں، شاہراہوں اورسڑکوں پرکچرا جلاتے ہیں، یعنی کچرا چننے والے کچرے سے کام کی اشیا چن کرکچرے کو آگ لگا دیتے ہیں ۔ کچرے کو آگ لگانے سے شہر میں فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے ، بلدیاتی اداروں میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے ، جس سے پورا بلدیاتی نظام ٹھپ ہوگیا ہے ۔کچرا اٹھانے و لگانے والی گاڑیوں کی مرمت کا بندوبست سے آنکھ چرائی جاتی رہی ہے ، با ر بارایڈ منسٹریٹرزکی تقرریوں، غیرقانونی طورپردرختوں کی کٹائی کرکے بل بورڈز ، سائن بورڈزکی سائٹس بنانے اوردیگر غیر قانونی اقدامات سے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہا ہے ۔
واٹر بورڈکی غفلت بھی شہریوں کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے، سڑکوں کی استرکاری طویل عرصے سے التواء کا شکارہے، سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں سے شہری اذیت میں مبتلا ہیں ، سیوریج لائنوں کی مرمت اورگٹروں کی صفائی نہ ہو نے سے کئی علاقوں میں گٹرابلتے رہے ہیں، شہری پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں ، اسٹریٹ لائٹس کی بندش سے حادثات اورجرائم بڑھ رہے ہیں، یہاں بھی رشوت کا بازارگرم ہے ، سیویج لا ئنیں چوک ہونے کی وجہ سے شاہراہیں اور سڑکیں بن بارش کے زیر آب آجاتی ہیں، مختلف علاقوں میں گٹروں کے ڈھکن غائب ہونے سے شہریوں خصوصا بچوں کی زندگیوں کو شدید خظرات لاحق ہوتے رہے ہیں،ان پر ڈھکن لگائے جائیں تاکہ حادثات سے محفوظ رہا جاسکے ۔
یوں تو میڈیا میں برساتی نالوں کی صفائی کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن جب بارش ہوتی ہے تو قلعی کھل جاتی ہے ،کھلے ہوئے اورکچرے سے بھرے ہوئے برساتی نالوں میں گرکر اموات ہوتی رہی ہیں، واٹر بورڈ ہمیشہ نکاسی آب کے نظام کو درست کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ مختلف علاقوں میں جمع سیوریج اوربارش کا گندا پانی مچھروں اورمکھیوں کی افزائش کے لیے نرسری کا کردار ادا کرتا ہے جس کے سبب وبائی امراض بھی پھیلتے رہے ہیں ، شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اورگندا پانی جمع ہونے کے باعث دن بھر شہریوں کو مکھیاں تنگ کرتی ہیں  مغرب کے بعد مچھروں کا راج شروع ہوجاتا ہے ۔ مچھروں کے کاٹنے سے چھوٹے بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ، جراثیم کش اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں ملیریا سمیت دیگر بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں ۔ سیوریج ملا برساتی گندا پانی اورگندگی سے تنگ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے ۔
شہرکراچی کے شہریوں نے5 دسمبر 2015ء کو اپنے بلدیاتی نمایندے اپنا قیمتی ووٹ دیکر کامیاب کیے تھے ، دو سیاسی جماعتوں کے درمیان عدالتی لڑائی اور قانونی معاملات کے باعث منتخب نمایندے عوامی خدمات انجام دینے سے قاصر رہے ہیں ۔ ایک مرتبہ پھر بلدیاتی انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلے کا شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت مئیرکراچی، ڈپٹی مئیر ، ڈی ایم سیزکے چئیر مین اوروائس چئیر مین کے انتخابات 24 اگست کو ہونگے اور 30اگست کو حلف برداری ہوگی اگر خدانخواستہ درمیان میں پھر کوئی قانونی معاملہ درپیش نہ ہوا تو معاملہ پھر لٹک جائے گا۔ واضح رہے کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے تحت یونین کمیٹی ویونین کونسل کی سطح پر 247 چئیر مین ، 247 وائس چئیر مین ، 988کونسلرزاور 38 ممبرز ڈسٹرکٹ کونسل منتخب ہوئے تھے ،الیکشن کمیشن کی جانب سے منتخب نمایندوں کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاچکا ہے ۔ نئے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی کی شہری حدود میں 209 یونین کمیٹیز اور دیہی حدود میں 38یونین کونسلیں بن گئی ہیں ۔
ادھر بلدیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ منتخب بلدیاتی نظام نافذ ہو بھی گیا تو شہری مسائل حل نہیں ہوسکیں گے ۔ میئرکراچی کے تمام بلدیاتی اختیارات سلب کرلیے گئے ہیں، ضلع ویونین کمیٹی کے چئیر مین بھی بے بس ولاچار ثابت ہونگے ، سندھ حکومت کی جانب سے ادارہ ترقیات کراچی بحال کرکے سڑکوں ، فلائی اوورزکی تعمیر اور دیگر اہم منصوبے بلدیہ عظمیٰ سے چھین لیے گئے ہیں ، سندھ حکومت نے تقریبا تمام بلدیاتی اختیارات آنے والے میئرکراچی اور منتخب بلدیاتی نمایندوں سے چھین لیے ہیں ، صفائی ستھرائی کا نظام ،کراچی ماس ٹرانزٹ سیل ، واٹر بورڈ ، ادارہ ترقیات کراچی ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر اہم شعبے سندھ حکومت کے کنٹرول میں جاچکے ہیں ۔ ماہرین نے کہا ہے کہ آئین آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانا چاہیے تاہم کراچی سمیت پورے سندھ میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ، صوبائی حکومت نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں ، بلدیاتی منتخب نمایندوں کو اپنے اختیارات کی بحالی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا ۔
فی الحال بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگربلدیاتی اداروں کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے ، ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں ،شہر میں صفائی ستھرائی اورکچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کام شدید متاثر ہے ، برساتی نالے کچرا کنڈیاں بن چکے ہیں، اہم شاہرائیں اورگلی محلوں میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر قائم ہیں  سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں،افسران اپنے حساب سے دفاتر پہنچتے ہیں ،گپ شپ ہوتی ہے،ایک آدھ میٹنگ ہوتی ہے ، شام کو اخبارات کے لیے پریس ریلیز جاری کردی جاتی ہے ، یہ کیا جائے گا وہ کیا جائے اور ٹائیں ٹائیں فش۔ اس طرح چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونے کے باعث تمام بلدیاتی امور درہم برہم ہیں ۔ منتخب نمایندوں کے آنے اور مزید متوقع عدالتی معاملات تک کراچی کے شہری اپنے بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے سندھ حکومت کی طرف آس لگائیں ۔
شبیر احمد ارمان

شہر قائد میں قیام امن کا خواب

کتنی قیامتیں ہم پرٹوٹ چکیں، ساٹھ ہزار جنازے ہم اٹھاچکے، اتنے سانحے ہمارے
ساتھ ہوئے کہ لفظ سانحہ کی تعریف ہی بدل چکی، اب ہر سانحہ ہمارے لیے محض ایک واقعہ ہے، وہ واقعہ جو دوچار گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ دوچار روز ہماری یادداشت کا حصہ رہتا ہے، پھر لاشعوری طور پر ہم نئے سانحے کا انتظارکرنے لگتے ہیں۔ کبھی کوئی سبق سیکھا ہم نے؟ کہا یہ جارہا تھا کہ عید کے بعد روشنیوں کے شہرکراچی میں آپریشن کی رفتار تیز ہو جائے گی، دہشت گردوں کا گھر تک پیچھا کر کے انھیں نیست ونابود کردیا جائے گا، دہشتگردوں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی، آپریشن کی شدت اتنی تیز ہوگی کہ لوگ لیاری گینگ وار کے خلاف آن دی اسپاٹ آپریشن کو بھول جائیں  گے۔ گوکہ آپریشن کے مقاصد مثبت اورکراچی کے مفاد میں ہے لیکن آپریشن تیز ہونے سے قبل ہی اختیارات کی جنگ شروع ہوگئی۔

یہی وہ موقع تھا جب کراچی کے امن کو تباہ کرنیوالے ہاتھ ایک بار پھر ظاہر ہوئے اور نتیجہ،کراچی کے مصروف ترین علاقے صدر میں پارکنگ پلازہ کے قریب سیکیورٹی ادارے کی گاڑی پر فائرنگ کرکے لانس نائیک عبدالرزاق اور حوالدار خادم حسین کو شہید کردیا گیا۔ واقعے کے چند روز بعد اندرون سندھ لاڑکانہ میں ہیڈ کوارٹر سے معمول کے گشت پر نکلنے والی رینجرزکی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک اہلکار شاہد سیال شہید جب کہ 3 اہلکار زخمی ہوئے۔ ویسے تو پاک فوج نے دہشتگردی پر کاری ضرب لگاکر دہشتگردوں کو پچھلے قدموں پر جانے پر مجبورکردیا ہے لیکن ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ یہ جنگ ختم ہوچکی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہونا ابھی باقی ہے اور یہ کام راتوں رات نہیں ہوسکتا۔ کراچی ولاڑکانہ میں ہونیوالے واقعات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جرائم پیشہ ودہشتگرد عناصرکراچی سمیت اندرون سندھ کے امن کوایک بار پھر تباہ کرنے کی سازش کررہے ہیں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم موجود ہیں اور جب چاہیں، جہاں چاہیں اپنی مذموم کارروائیاں کرسکتے ہیں۔ کراچی میں رینجرز کی کارکردگی کی وجہ سے گزشتہ تین برس میں امن کے حوالے سے نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

کراچی گزشتہ کئی عشروں سے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں کی لعنت کا شکار ہے،اسے ایک دن یا کسی ایک مرحلے میں مکمل طور پر درست کردینا ممکن نہیں۔ کراچی میں امن کے قیام اور سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے میں رینجرز اور پولیس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ کراچی اور پورے ملک کے حالات تین سال پہلے کے مقابلے میں آج بہت بہتر ہیں اور دہشتگردی سمیت سنگین جرائم کی وارداتوں پربڑی حدتک قابو پالیا گیا ہے، مگر اب تک کی اس ساری کامیابی کی فی الحقیقت کوئی مضبوط بنیاد نہیں، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاریوں اور دہشتگردوں کا صفایا کرنیکی مہم کے نتیجے میں امن و امان یقینا بہتر ہوا ہے لیکن اسے پائیدار اصلاح نہیں کہا جاسکتا کیونکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مہم ذرا بھی ہلکی پڑتی ہے تو جرائم پیشہ عناصر نئے سرے سے سر اٹھانے لگتے ہیں، جس کا واضح مشاہدہ آج ہم کراچی میں کررہے ہیں۔

روشنیوں کے شہر کراچی میں قیام امن کی بات ہوگی تو وہاں رینجرز کے اختیارات بھی زیر بحث آنا لازمی ہے۔ سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کا مسئلہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے پیدا ہوتا رہتا ہے۔ خصوصی اختیارات میں توسیع سندھ حکومت کرتی ہے لیکن سندھ حکومت کو رینجرزکی بعض کارروائیوں پر اعتراض ہوتا ہے تو وہ اگلی مدت کے لیے توسیع دینے سے انکارکردیتی ہے۔ اس پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں، سندھ حکومت پرکچھ طاقتور حلقوں کا دباؤبھی ہوتا ہے، جس کے بعد اختیارات میں توسیع کردی جاتی ہے۔
گزشتہ ایک سال سے تقریباً یہی ہورہا ہے، اس سے نہ صرف حکومتی اداروں کے درمیان اختلافات کا تاثر پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ دہشتگرد اور شرپسند عناصر بھی اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے خلاف آپریشن ہورہا ہے۔ اصل میں سندھ میں رینجرزکو قانونی پاور دلواکر کراچی میں دہشتگردوں کا خاتمہ شروع کیا گیا تو حکومت سندھ بالخصوص وزیر اعلیٰ ان کی امن کوششوں سے خوش نہیں تھے مگر جب بھتہ خوری، موبائل وغیرہ چھیننے کی وارداتیں اور دہشتگردی کم ہوئی تو اس کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنے لگے مگر جیسے ہی رینجرز نے حکومت میں شامل کالی بھیڑوں پر ہاتھ ڈالا تو سندھ حکومت بلبلا اٹھی اور رینجرز کی پاور پر قدغن لگانی شروع کردی مگر رینجرز نے اپنا کام جاری رکھا اور بڑے بڑے ملوث افراد کو گرفتار کرکے کارروائیاں کیں تو پھرکراچی جو امن و امان کی طرف لوٹ چکا تھا اچانک اس کا امن خراب کرنے کے لیے چھپے ہوئے ہاتھ دوبارہ حرکت میں آگئے ہیں۔
ادھر رینجرز کی گرفت بھی قانونی مجبوریوں کی نذر ہوتی جارہی ہے، جس سے سندھ کے عوام اور کراچی کے شہری پریشان ہیں۔ رینجرز اختیارات میں توسیع پر اختلاف اس وقت جنم لیتا ہے جب رینجرز کی جانب سے حکومت سندھ کے دفاتر پرچھاپے مارے جاتے ہیں، ایسی شخصیات کوگرفتارکیا جاتا ہے جنھیں پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریب تصور کیا جاتا ہے اور کراچی سے باہرکارروائیاں کی جاتی ہیں، جیسے کہ پچھلے دنوں لاڑکانہ میں اہم شخصیات کے فرنٹ مین اسد کھرل کی گرفتاری عمل میں آئی۔ رینجرز کا موقف ہے کہ دہشتگردوں کے ڈانڈے بہت دور تک جاکر ملتے ہیں اور انھیں دہشتگردوں کے معاونین، سہولت کاروں اور مالی امداد فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرنا پڑتی ہیں، جن کا انھیں مینڈیٹ حاصل ہے۔ حکومت سندھ کہتی ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں دوسرے صوبوں میں نہیں ہوتی ہیں۔
ارباب اختیار اور فیصلہ سازوں کو رینجرز اور سندھ حکومت کے موقف کو سنجیدگی سے سن کر مسئلے کا مستقل حل نکالنا چاہیے کیونکہ کراچی کی مجموعی ترقی،امن وخوشحالی سے آیندہ نسلوں کی تقدیر وابستہ ہے کیا اس خوبصورت تقدیرکو تخلیق کرنا ہم سب کی ذمے داری نہیں ہے؟ لہذا ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک بار پھر مل بیٹھ کرکراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس شہر میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران بے گناہ اور معصوم لوگوں کا جو خون بہا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم سب ملکر ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ مثبت انداز فکرکو اپناتے ہوئے کراچی کے لوگوں کے مسائل حل کرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھیں تاکہ عوام کی پریشانیاں اور مصائب کم سے کم ہوسکیں۔
شہر قائد میں پائیدار قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ سماجی ومعاشی حالات بہتر بنائے جائیں، عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں، نوجوانوں کے لیے روزگارکے پرکشش مواقعے بڑی تعداد میں پیدا کیے جائیں اور معاشرے میں تیزی سے ختم ہوتی ہوئی اخلاقی اقدارکی بحالی کے لیے نتیجہ خیز تدابیرکی جائیں۔
ارباب اختیارکو بلدیاتی نظام کو بھی فعال بنانے پر غورکرنا چاہیے اگر بلدیاتی نظام فعال ہوجاتا ہے تو اس سے شہر کی سیاسی، معاشی و معاشرتی صورتحال کسی حد تک تبدیل ہوسکتی ہے، ویسے بھی موجودہ بلدیاتی نظام کو سندھ کی حکومت اپنی سوچ و سمجھ کے مطابق ایسی ہیئت میں تبدیل کردیا ہے کہ یہ حقیقی معنوں میں بلدیاتی نظام نہیں لیکن اس کے باوجود اسے فوراً بحال کرنا چاہیے۔ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کراچی امن مشن کو ہر حال میں مکمل کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں جب کہ دہشتگردی کے ناسور سے نجات حاصل کرنے کے لیے کراچی آپریشن کا دائرہ کار پورے سندھ تک پھیلانے کی اشد ضرورت ہے، اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا بھرپور اور مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
محمد عارف شاہ