Sunset in the Arabian Sea off the Coast of Karachi, Pakistan

Pakistani fisherman sort out their nets at sunset on the coast of the Arabian Sea, in Karachi.

Advertisements

شہری جعلی عاملوں کے نرغے میں

ہر مسئلے کا حل ، محبوب آپ کے قدموں میں ، من پسند شادی ،کالے عمل کا توڑ ۔ اس طرح کے دیگر جملے کراچی سمیت ملک کے تمام شہروں کی ہر سڑک ، دیواروں، پلوں اور فلائی اورز پر لکھے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ پیشہ ور جعلی عاملوں کے یہ اشتہارات دیواروں اورکمبوں پر بھی چسپاں ہوتے ہیں، عاملوں کے ایجنٹ اور بچے ٹریفک ، سگنلز پر کھڑی گاڑیوں میں عاملوں کے تشہیری کارڈ ، پمفلٹ اوراسٹیکر تقسیم کررہے ہوتے ہیں ، علاوہ ازیں عامل تشہیر کے لیے محلے کی سطح پر خواتین کو آلہ کار بنا لیتے ہیں جو پریشان حال گھریلوخواتین کو پیشہ ور عامل کے پاس جانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ایک عرصے سے کراچی میں 4 ہزار سے زائد پیشہ ورعامل سادہ لوح عوام کی نفسیات سے کھیل رہے ہیں،خواتین جعلی عاملوں کا زیادہ شکارہیں، معاشرے میں غیر عقلی چیزوں اور توہم پرستی نے پیر جمالیے ہیں اس جدید دور میں بھی شہری جادو ٹونے کے سحر میں مبتلا ہیں، لوگ جہالت ، بے توکلی اور لالچ کی وجہ سے ان جعلی پیروں اورعاملوں کے پاس جاتے ہیں اور اپنے کام کروانے کے لیے بھاری نذرانہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا یہ مکروہ کام دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا ہے ۔ شہری اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈیں ، تعویزگنڈوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے مزید خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور ایمان کا ضیاع بھی ہوتا ہے ۔
اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے آج کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سوچ میں بھی توہم پرستی اور خاندانی اثرات نمایاں ہورہے ہیں ۔ معاشرے کا یہ ناسور دھندہ عروج پر ہے ، اب تو یہ دھندہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ یہ لوگ ٹی وی اوراخبارات پر بھی اپنے اشتہارات چلاتے اور چھپواتے ہیں جن کا سالانہ بجٹ لاکھوں اورکروڑوں تک ہوتا ہے ۔ ان جعلی عاملوں کو ماننے والوں میں نہ صرف عوام ہیں بلکہ سیاست دان ، بیوروکریٹ ،کھلاڑی اور دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں جوکہ ان عاملوں پر بے پناہ خرچ بھی کرتے ہیں اور ان کی جائز و ناجائز خواہشات بھی پوری کرتے ہیں ۔ کراچی میں جعلی عاملوں کا مافیائی گروہ سرگرم ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لیاقت آباد، کورنگی ٹاون ، اورنگی ٹاون، صدر، لسبیلہ، لیاری، موسیٰ لین ، لی مارکیٹ ، بنارس، چنیسرگوٹھ ، کالا پل ، مچھرکالونی ، پاک کالونی، بڑا بورڈ ، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد ، سرجانی ٹاون، نارتھ کراچی، نیو کراچی، گودھرا کیمپ ، اور منظورکالونی میںجعلی عاملوں کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔ جہاں جعلی عامل بلاخوف انسانیت کا استحصال کرنے میں مصروف ہیں ۔ یہ جعلی عامل کمزور اعتقاد کے عامل سادہ لوح شہریوں کو بیوقوف بناکر رقوم بٹورتے ہیں عامل اولاد کا نہ ہونا ، بے روزگاری ، مہلک بیماری کا علاج ، گھریلو ناچاقی ، کاروبارکی بندش ، رشتوں کی بندش ،کالے علم کی کاٹ اور انعامی بانڈز کے نمبر لگوانے کے دعوے کرتے ہیں ۔
بعض عامل پرکشش منافع کے لیے ڈرامائی اور پر اسرار بہروپ اپناتے ہیں ، عاملوں کی پسندیدہ ادا پریشانیوں اور جادو ٹونا ختم کرنے کے لیے کالا بکرا مانگنا ہے ، جادو جلانے کے لیے ہانڈی کا سامان اور کالا مرغ مانگ لیا جاتا ہے، عامل پریشان حال سائلین سے مردوں کے بال ، مردوں کی ہڈیاں منگواتے ہیں جن کا ملنا نا ممکن ہوتا ہے اس کے عوض بھاری رقم وصول کر لیتے ہیں عامل بکرے کی سری ، مرغی کے پنجے دشمن پرکالا جادو کرنے کے لیے بال اور پہنے ہوئے کپڑے منگواتے ہیں ۔ گورکنوں کے مطابق بیشتر عامل سادہ لوح پریشان حال شادی شدہ خواتین سے زیور اور بھاری رقوم اینٹھ لیتے ہیں بعض اوقات وہ اپنی عزت بھی گنوا لیتی ہیں، بچے کی گمشدگی کا حل بتانے پر لاکھوں روپے مانگے جاتے ہیں ، سادہ لوح شہری گھریلو مسائل حل کرانے کے دوران گھروں کے راز عاملوں کو بتا دیتے ہیں عامل مخبری کرا کر امیر سائلین کے گھروں میں ڈکیتیاں کراتے ہیں ،گھریلو ملازمائیں عاملوں کی آلہ کار ہوتی ہیں جو ان عاملوں کے لیے پبلسٹی اور مخبری کرتی ہیں ، آستانوں پر منشیات فروشی بھی ہوتی ہے ۔
نوجوانوں کو مسائل کے حل کے لیے سفوف میں نشہ آور اشیا ملا کر دی جاتی ہیں عامل جائیداد اور مکان کو منحوس قرار دے کر اسٹیٹ ایجنٹوں کے ہاتھوں فروخت کرواتے ہیں ، اسٹیٹ ایجنٹ سستی جائیداد، مکان اوردکان خرید کر مہنگے داموں بیچ کر عامل کو کمیشن دیتے ہیں ۔ آستانے پر سائلین کا ہجوم بہترین کارکردگی کی ضمانت ہے، جعلی عامل موبائل فون کی سمیں تبدیل کرتے رہتے ہیں ۔عاملوں کے حوالے سے وال چاکنگ میں طنزومزاح کا عنصر نمایاں ہوتا ہے جس میں عوامی مسائل کے حل کے لیے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ عامل شعبدے بازی سے شہریوں کو بے وقوف بنا کر اپنی جانب راغب کرتے ہیں بعض شعبدہ باز عیار عامل لیموں سے خون نکال کر دکھاتے ہیں، انڈے سے سوئیاں ، بال اور خون نکالتے ہیں ، پھولوں کے رنگ بدل دیتے ہیں ، بارش میں پتنگ اڑا کر دکھاتے ہیں  برف سے سگریٹ جلاتے ہیں ، پھونک سے کاغذ یا کپڑا جلا کر دکھاتے ہیں ، آگ سے کپڑا نہ جلنے کا کرتب دکھاتے ہیں ، بارش میں دیا جلا کر دکھاتے ہیں ، مٹکے سے بچھو نکال کر دکھاتے ہیں ، مٹی کو مصری بنا کر کھلاتے ہیں ، گرم حلوہ پیش کرتے ہیں۔
جن کو بوتل میں بند کرکے دکھاتے ہیں ، الو کی ڈیمانڈ کرتے ہیں، جن سے تعویز منگواتے ہیں ، کیلے کو اندر سے کاٹ سکتے ہیں ۔ ان سب شعبدے بازیوں کے پیچھے کوئی روحانی نہیں طاقت نہیں صرف تکنیک اور چالاکی Tricks کار فرما ہوتی ہیں ۔ جعلی عاملوں اور پیروں کی چالوں کا نشانہ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ بنتی ہیں . خواتین اپنے والدین اور شوہرکی اجازت کے بغیر عاملوں کے پاس اپنے مسائل حل کروانے کے لیے جاتی ہیں ۔ جعلی عامل خواتین سے گھر کی جمع پونجی خرچ کرادیتے ہیں بعض خواتین تو اپنا سونا تک فروخت کردیتی ہیں، خواتین گھر کے نجی مسائل پر عاملوں اور پیروں سے مشاورت کرتی ہیں ، ساس بہو کو قابوکرنے کی کوشش کرتی ہیں اور بہو اپنی ساس اور نند کو راہ راست پر لانے کے لیے جادو ٹونے اور تعویزگنڈوں کا سہارا لیتی ہے ، بعض خواتین من پسند گھر میں شادی کرنے کی خواہش کرتی ہیں ۔
پریشان حال خواتین کی نجی زندگی سے متعلق داستانوں سے جعلی عامل لطف اندوز ہوتے ہیں ، جعلی عامل بیوقوف اورکمزور عقیدہ خواتین کی سوچ میں مزید منفی تاثر پروان چڑھاتے ہیں ۔ عامل ساس کو بہو کے خلاف اور بہو کو ساس کے خلاف اکساتے رہتے ہیں جس سے گھریلو ناچاقی بڑھ جاتی ہے اور خاندان ٹوٹ جاتا ہے ، عامل بہو سے کہتے ہیں کہ بہوکا گھر برباد کرنے کے لیے ساس نے جادوکرایا ہے ۔ دوسری جانب ساس سے کہتے ہیں کہ بہو اپنے شوہر کو اپنا غلام بناکر ماں سے دورکرنا چاہتی ہے اس طرح دونوں جانب نفرت پروان چڑھتی ہے اور گھر تباہ ہوجاتے ہیں ۔ عوام کے ذہن کو کھولنے کے لیے نصابی کتب کا مطالعہ ناکافی ہے، اسلامی تعلیمات پر مبنی کتب کا مطالعہ کرنا ہوگا حکومت کو جعلی عاملوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، انتظامیہ جعلی عاملوں اور پیروں کی بڑھتی سرگرمیوں اور شعبدہ بازیوں پر نظر رکھے، حکومت جعلی عاملوں اور پیروں کی منفی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے قانون سازی کرے ۔
شبیر احمد ارمان

کراچی کے امن کو پائیدار کیسے بنایا جائے؟

موجودہ حکومت اور رینجرزکی مشترکہ کوششوں سے شہرکراچی میں جو امن
وامان قائم کیا گیا ہے کیا وہ آیندہ آنے والے دنوں میں بھی بہتراور مستحکم ہو پائیگا۔یہ سوال ہر محب وطن اور فکر مند پاکستانی کے ذہن میں بار بار اُٹھتا رہتا ہے۔ ہر شخص کو یہ فکر اور پریشانی لاحق ہے کہ کہیں کراچی پھر اُسی طرح کے خلفشاراورانتشار کا شکار تو نہیں ہو جائے گا جیسے وہ آج سے تین سال قبل ہواکرتا تھا۔ بڑے پیمانے پر بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ،اغوا براے تاوان اورآئے دن کی ہڑتالیں اور خونریز احتجاج ایک بارپھرکہیں اِس شہرکے باسیوں کا مقدرتونہیں بن جائیں گے۔

ایم کیوایم نے بظاہر اپنے قائد سے جوعلیحدگی اورلاتعلقی ظاہرکی ہے وہ کہیں عارضی اورجزوقتی تو نہیں ہے۔ مستقبل قریب میں وہ اپنے اُس بانی اور قائدِ محترم سے جسے وہ اپنا رہبرو رہنما مانتی رہی ہے اور جس کی ہر بات پرلبیک کہتے ہوئے مارنے اورمرنے پر تل جاتی رہی ہے کہیں پھر سے تعلق جوڑکر عہدو پیمان نبھانا تو شروع نہیں کردے گی۔ متحدہ کو اپنی اِس لاتعلقی کوکس طرح معتبر اور قابل یقین بنانا ہوگا۔ یہ اُس کی موجودہ قیادت کے لیے بہت اہم سوال ہے۔ وہ یہ تسلیم کرچکی ہے کہ متحدہ کے اندر ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اُسے ایک عسکریت پسند جماعت کی حیثیت سے بدنام کروانے میں اہم رول ادا کرتے رہے ہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ متحدہ کے سارے کے سارے لوگ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہے ہوں لیکن یہ اِس نئی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اپنے ایسے کارکنوں کو بچانے اور چھپانے کی بجائے اُنہیں قوم کے سامنے لائے یا لاء فورس ایجنسیوں کے سپرد کرے اور ایک صاف ستھری سیاسی اور جمہوری جماعت کے طور پر اپنے نئے سفر کا آغاز کرے ، وہ اگر اپنے جرائم پیشہ کارکنوں کو تحفظ دینے کی کوششیں بدستورکرے گی تو پھر اُس کا امیج کوبہتر بنانا قطعاً ممکن نہ ہوگا، ڈاکٹر فاروق ستارکی قیادت میں اِس نئی ایم کیو ایم نے ویسے تو دہشت گرد سرگرمیوں سے اپنی جماعت کو دور رکھنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اِس جانب ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا ہے اور وہ مسلسل اپنی سابقہ پالیسیوں اورحکمتِ عملیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ مزید برآں اُنہوں نے ابھی تک اپنے کسی مطلوب ملزم کو قانون کے حوالے کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

پچھلے دنوں ایم کیوایم کے ایک مبینہ دہشتگرد اورخطرناک ملزم رئیس ماما کی گرفتاری کے لیے جب ہماری پولیس نے کارروائی کرنا چاہی توساری کی ساری قیادت قانون نافذ کرنیوالوں اداروں سے مزاحمت کرنے کھل کر سامنے آگئی۔ اِسی دوران ملیرکے ایک ایس ایس پی راؤ انور نے سندھ اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن خواجہ اظہار الحسن کوکچھ نئے اور پرانے الزامات کے تحت گرفتارکر لیا۔ یہ گرفتاری چونکہ کسی عدالتی وارنٹ اور ایف آئی آر کے بغیر ہوئی تھی لہٰذا چند گھنٹوں بعد اُنہیں مجبوراً چھوڑنا ہی پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ کی جس قیادت نے اپنے قائد اور لندن رابطہ کمیٹی سے خود کو الگ کرلیا تھا۔ آج وہی لندن والی رابطہ کمیٹی کے متعدد ارکان واسع جلیل، ندیم نصرت اورمصطفیٰ عزیزآبادی مسلسل خواجہ اظہار الحسن کی حمایت میں بیانات دیے جارہے تھے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر ایم کیو ایم کی پاکستان والی رابطہ کمیٹی نے خود کو لندن والی رابطہ کمیٹی سے مکمل طور پر علیحدہ کرلیا ہے تو پھر لندن رابطہ کمیٹی کے یہ ارکان آج بھی متحدہ کے اِن لوگوں کی حمایت میں اتنے متحرک اورسرگرم کیوں ہیں۔ اِن تمام باتوں سے تو یہی نتیجہ اُخذ کیا جاسکتا ہے کہ متحدہ کا اپنے لندن سیکریٹریٹ سے علیحدگی اور لاتعلقی کااعلان دراصل وقت اور حالات کی مجبوری کے تحت ہے۔ اندرونِ خانہ آج بھی ایم کیوایم الطاف حسین کی طلسماتی شخصیت ہی کواپنا لیڈراور رہنما مانتی ہے۔
فاروق ستارکی لیڈر شپ میں بننے والی اِس نئی ایم کیو ایم کی کوئی قانونی اور دستوری حیثیت ہے ہی نہیں۔ اُسے جب سازگار حالات میسر ہونگے وہ ایک بار پھر اپنی اصل شکل میں دوبارہ متحرک اور فعال ہوجائے گی۔ اُس کے روپوش کارکن پہلے کی طرح اپنے قائدکے ہر حکم کے تعمیل بجا لارہے ہونگے۔ جو لیڈرآج خود ساختہ جلا وطنی اختیارکیے ہوئے ہیں وہ واپس آکر الطاف حسین کو پھر اپنی محبت و یگانت اور وفاداری کا یقین دلا رہے ہونگے۔ متحدہ کا موجودہ سیٹ اپ ایک عارضی انتظام ہے جو حالات وواقعات اور جبروکراہ کے تحت بنایا گیا ہے۔
اب یہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمے داری ہے کہ کراچی شہرکے امن کے لیے جس کام کا بیڑہ اُنہوں نے اُٹھایا ہے وہ اُسے مکمل کرکے ہی دم لیں۔ اگر اِس مشن کا نامکمل اور ادھورا چھوڑ دیا گیا تو پھراِس شہرکی اِس سے بڑی بدقسمتی کوئی اور نہیں ہوگی۔ دورِ ماضی میں بھی کئی بار آپریشن کیے گئے لیکن پھر سیاسی مصلحتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے اُنہیں معطل یا منسوخ ہی کردیا گیاجس کا خمیازہ اِس شہر نے اپنے پچیس تیس سالوں کی تباہی و بربادی کی صورت میں برداشت کیا ہے۔ اب اگر خدا خدا کرکے یہاں کچھ امن وامان قائم ہوا ہے تو اِسے دوام اور استحکام بخشنے کے لیے ابھی اور بھی جتن کرنے ہوں گے۔ شہر میں جب تک دہشت پسند عناصر کا مکمل خاتمہ نہ ہوجائے یہ آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
کراچی میں امن کے قیام کی ذمے داری جتنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے اُتنی ہی یہاں کی اُن سیاسی جماعتوں کی بھی ہے جنھیں کراچی کے لوگ اپنا مینڈیٹ تفویض کرتے ہیں۔ کراچی کے لوگ امن وامان سے رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ ترقی وخوشحالی کے اُتنے ہی خواہاں ہیں جتنے اِس ملک کے دیگر علاقے کے لوگ۔ کوئی نہیں چاہے گا کہ یہاں آئے دن فساد اورہنگامے ہوتے رہیں۔ گاڑیاں اور املاک نذرِ آتش ہوتی رہے، معصوم اور بے گناہ لوگ قتل ہوتے رہیں۔ بزنس اورکاروبار تباہ ہوتا رہے۔ پیسوں کے لیے بچے اور لوگ اغواء ہوتے رہیں۔ لہذا یہ ہم سب کا قومی اور ملی فریضہ ہے کہ سب مل جل کر اِس شہر کو امن کاگہوارہ بنادیں۔ رینجرز اوردیگر فورسز اپنا کام بطریقِ احسن سرانجام دے رہے ہیں۔
اُنہیں ہماری مدد اور تعاون درکار ہے۔ اُنہیں یہ مشن پورا کرکے واپس چلے جانا ہے۔ اُن سے زیادہ ہمیں اپنے اِس شہرکی فکر کرنا ہوگی۔ ہمیں یہاں جینا اورمرنا ہے۔ ہماری روٹی روزی اِسی شہر سے وابستہ ہے۔ یہ ہمارے بچوں کی آماجگاہ ہے۔ اِس کی حفاظت ہم نہیں کریں گے توکون کرے گا۔ یہ شہر جلتا رہے اور ہم سکون سے بیٹھے رہیں یہ ممکن نہیں ہے۔ ہمیں اپنے شہر کو اُس کی شناخت واپس لوٹانا ہوگی۔ یہ شہر کبھی سارے پاکستان کی’’ ماں‘‘ کہلایاکرتا تھا۔ سب کو اپنی آ غوش میں لے کرامن وآشتی اور روزگار فراہم کرتا تھا۔ یہاں کوئی لسانی وعلاقائی تعصب اور منافرت نہ تھی ۔ پنجابی، پٹھان، بلوچی اورسندھی سب مل جل کررہا کرتے تھے۔ ہمیں اِسے اِس کا ماضی لوٹانا ہوگا۔ اِسے پھر سے محبت وامن کا شہر بنانا ہوگا۔
جس دن ہم نے یہ تہیہ کرلیا یہ شہر جنت بن جائے گا۔ پھر ہمیں کسی آپریشن کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ ہمارا ازلی دشمن ہمیں گروہوں اور ٹکڑیوں میں تقسیم کردینا چاہتا ہے۔ وہ ایک سازش کے تحت ہمیں تباہ وبرباد کردینا چاہتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر سے دشمن کے اُن ایجنٹوں کو باہر نکالنا ہوگاجو دوست بن کر ہم سے دشمنی کررہے ہیں۔ جو پاکستان کے وجود کو مٹانے کے ہی درپے ہیں۔ ہمیں ایسے دوست نما دشمنوں کو پہچاننا ہوگا۔ یہ متحدہ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی صفوں سے ایسے لوگوں کو نکال کر قانون کے حوالے کریں اور خلوصِ نیت سے ایک صاف ستھری سیاست کاآغازکریں۔
ڈاکٹر منصور نورانی

کراچی کی کچی آبادیاں

برسوں سے کراچی کے گوٹھوں اورکچی آبادیوں کے مکین اپنی بستیوں کی
ریگولرائزیشن کے منتظر ہیں۔ کچھوے کی چال چلنے والی بیوروکریسی کو اس طبقے کے مسائل سے ویسے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے حالانکہ کراچی کی 40فیصد سے زیادہ آبادی ان ہی گوٹھوں یا آبادیوں میں رہتی ہے۔ ایک عشرہ قبل یہ مسئلہ اس وقت زیادہ ابھر کر سامنے آیا جب اس وقت کے ناظم نے 1985ء سے پہلے بننے والی کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کا اعلان کیا اور 1985ء کے بعد بننے والی آبادیوں کو غیرقانونی یا تجاوزات قرار دیا گیا۔ان کچی آبادیوں کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود پاکستان۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے آنیوالے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کراچی میں کیمپوں یا جھگیوں میں آباد ہوئی۔ اس کے بعد والے عشروں میں دوسرے صوبوں سے روزگارکی تلاش میں کراچی آنیوالوں اور دیہاتوں سے کراچی کی طرف نقل مکانی کرنیوالوں کی بدولت بھی کچی آبادیوں میں اضافہ ہوا۔ قدرتی آفات اور انسانوں کی پیدا کردہ آفات کے نتیجے میں بھی لوگ اپنے علاقے چھوڑ کر یہاں آئے اور یوں کراچی کی آبادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

حکومتی ذرایع کے مطابق 23 مارچ 1985ء کے بعد کراچی میں 1293 کچی آبادیاں نمودار ہوئیں۔ سندھ کراچی آبادی ایکٹ 1987ء کے مطابق ان میں سے 1157 ریگولرائزیشن کے قابل تھیں۔ جنوری 2007ء تک ان میں سے 932 آبادیوں کے مکینوں کو مطلع کیا جاچکا تھا جب کہ 750 کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق مل گئے تھے۔ بہرحال گورنمنٹ کا ریکارڈ جو ظاہرکرتا ہے، کچی آبادیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ گوٹھوں اور کچی آبادیوں کی صحیح تعداد کا علم اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی پروین رحمن کو تھا۔ گوٹھوں اور کچی آبادیوں پر ان کے کام کی وجہ سے انھیں مار دیا گیا۔ قبضہ مافیا اور انتہا پسندوں کو یہ بات کون سمجھائے کہ کچی آبادیوں کا مسئلہ حل کیے بغیر کراچی کی ترقی ممکن نہیں۔ شہر کے دیگر حصوں کی طرح ان آبادیوں کو شہری سہولتیں فراہم کرنا اور انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنا بیحد ضروری ہے۔ ہماری بدقسمتی کہ ترقیاتی منصوبے سیاسی چپقلش یا مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ کچی آبادیوں کے مسائل سیاسی نہیں بلکہ انسانی مسائل ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنیوالوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ریاست کی ذمے داری ہے۔

کراچی کی بہت سی کچی آبادیوں اور گوٹھوں کو ناجائز تجاوزات قرار دے کر جب 2006ء میں کارروائی کی گئی تو سکندرگوٹھ کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق گوٹھ کے مکینوں نے ان پر حملہ کیا اور پولیس نے ان کو منتشرکرنے کے لیے آنسوگیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین میں سے ایک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جب کہ 20 پولیس والے زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ نے ایک گوٹھ ریگولرائزیشن کمیٹی بنائی۔ اس کے سربراہ وزیر معدنی وسائل تھے اور ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 808 گوٹھ ہیں، جن میں سے 458 گوٹھوں کو ریگولرائز کیا جاچکا ہے اور 51421 مکینوں کو مالکانہ حقوق دیے جاچکے ہیں۔ 1998ء کی خانہ شماری کے مطابق ہمیں چار اعشاریہ تیس لاکھ مکانات کی کمی کا سامنا تھا۔
2005ء، 2006ء کے اکنامک سروے کے مطابق ہمیں چھ اعشاریہ انیس ملین مکانات کی مزید ضرورت تھی اور تب ماہرین نے کہا تھا کہ اگلے بیس برسوں میں ہمیں سالانہ پانچ لاکھ مکانات بنانے ہوں گے۔ آبادی میں اضافے اور شہروں کی طرف ہجرت نے ہر خاندان کے لیے ایک مکان کے حصول کو سب سے اہم مسئلہ بنادیا ہے۔ اس لیے جب تک گوٹھوں اورکچی آبادیوں کو ریگولرائز نہیں کیا جائے گا اور غریبوں کے لیے کم قیمت والے مکانات تعمیر نہیں کیے جائیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کچی آبادیوں اور جھگیوں کو مسمار کردینا ایک عارضی حل تو ہوسکتا ہے مگر غریبوں کے پاس اس کے سوائے اور کوئی چوائس بھی تو نہیں کہ انھیں جہاں جگہ نظرآئے وہاں جھگی ڈال لیں۔ کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنا بہت ضروری ہے، یوں نہ صرف ایک انسانی مسئلہ حل ہوگا بلکہ شہر کی خوب صورتی اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مکینوں کو مالکانہ حقوق اورشہری سہولتیں بھی مل جائیں گی۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق نومبر 2011ء تک کراچی کے 2173 گوٹھوں میں سے 653 گوٹھ شہری آبادی کی حیثیت اختیارکرچکے تھے۔ ان میں سے 60 گوٹھ شہری علاقوں کے اندر تھے، جب کہ 593 گوٹھ گڈاپ، کیماڑی اور بن قاسم میں تھے۔ بہرحال اس مسئلے کا ایک اور پہلو چند روز قبل اس وقت سامنے آیا جب ہماری ملاقات اﷲ رکھا برفت گوٹھ سے بے دخل ہونے والی چند خواتین سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا: ’’11 مئی 2016ء کو گڈاپ کے اﷲ رکھا برفت گوٹھ میں پولیس نے چھاپہ مارا اور گھروں میں گھس کر کوئی سو لوگوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے مویشی بھی ساتھ لے گئے۔ عورتیں قرآن لے کرکھڑی ہوگئیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہاں دہشت گرد اور لینڈ مافیا کے لوگ چھپے ہوئے ہیں۔ پولیس کی فائرنگ سے فضا میں بارود کی بو اور دھواں پھیل گیا تھا۔
بارہ پندرہ سال کی عمر کے لڑکے اور بڑی عمر کے کئی مرد بھی زخمی ہوئے۔‘‘ ان خواتین کا کہنا تھا کہ ان کا گو ٹھ ریگولرائز ہوچکا تھا اور ان کے پاس دستاویزات بھی موجود ہیں۔ باوثوق ذرایع کے مطابق گوٹھ کا کچھ حصہ ساتھ واقع ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کے اندر پھیل گیا تھا اور پلاٹوں کی قسطیں بھرنے والے شہری اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ ان کی زمین خالی کرانے کے لیے پولیس نے سارے گوٹھ پر ہلہ بول دیا اور ایک ہی رات میں برسوں سے وہاں رہنے والے لوگوں کو بے دخل کردیا۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ پولیس نے انھیں کوئی پیشگی نوٹس نہیں دیا تھا۔ ہم اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹوں کی قسطیں بھرنے والوں کے لیے انصاف چاہتے ہیں، لیکن اﷲ رکھا برفت گوٹھ کے مکینوں کے لیے رہائش کا متبادل انتظام کرنا بھی ضروری ہے۔ سماجی تحفظ اور رہائشی سہولت ہر شہری کا حق اور ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے دخلی کے خلاف لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری حکومتوں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیہ، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے، بچوں کے حقوق کے کنونشن، عورتوں کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن اور ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے کے کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔
مہ ناز رحمن

کراچی کا کالا پانی

اب جبکہ کراچی کے تمام مشتبہ غدارانِ وطن زندہ باد کے نعرے لگا چکے، کچھ
دل سے، کچھ گن پوائنٹ پر، کچھ بدلتا موسم دیکھ کر، کچھ قید کے ڈر سے، کچھ کیمرے کے خوف سے۔ اب کہ پہلے سے جِلا وطنوں کو دیس سے نکال دیا جا چکا، کراچی والے اہل وطن سے شکوہ کر چکے کہ ہمارا درد کوئی نہیں سمجھتا اور اہل وطن ایک بار پھر طعنہ دے چکے کہ تمہیں اپنے قاتلوں اور بھتہ خوروں سے پیار ہے۔ اب کہ قربانی کے اِس موسم میں ایم کیو ایم سب سے بڑی قربانی دے چکی یعنی کھالوں کے اپنے حق سے دست بردار ہو چکی تو کیا اجازت ہے کہ شہر کراچی کے بارے میں چند ایسی باتوں کا ذکر کیا جائے جن کا ذکر نہ جوائنٹ انوسٹی گیشن کی رپورٹوں میں ملتا ہے نہ کراچی کے موسمی مرثیہ خوانوں کے مرثیوں میں۔

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب نہ رینجرز کا کوئی بہادر افسر دے سکتا ہے نہ اُس افسر سے سہما ہوا کوئی کائیاں پولیس افسر لیکن آئندہ آپ کراچی کے حالات کے بارے میں متفکر ہوں تو مندرجہ بالا حقائق، واقعات اور حادثاتی شواہد کو ذہن میں رکھیے گا۔

1: کراچی دنیا میں پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اِتنے پشتون پشاور یا کابل میں نہیں رہتے جتنے کراچی میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں جہاں جہاں جنگ چھڑی یا اُس پر مسلط کی گئی ، جہاں لوگ بےگھر ہوئے اُن کی اب شہری نسل کراچی میں جوان ہو رہی ہے اور شمال سے ایک نئی نسل کی آمد کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ یقیناً اِن میں سے بہت سی آبادی پاکستان کے دوسرے حصوں کی طرف بھی ہجرت کر گئی ہو گی لیکن زیادہ تر کی منزل کراچی ہی رہی ہے۔

ایک بزرگ پشتون سیاستدان کہا کرتے تھے کہ پاکستان کی یکجہتی کا مطلب یہ ہے کہ پٹھان کا ٹرک پشاور سے چلے اور کراچی تک پہنچے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹرک راستے میں کیوں نہیں رُکتا؟ پنجاب میں فیصل آباد ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ جیسے شہر ہیں جہاں روزگار کے مواقع موجود ہیں فاصلہ بھی کم ہے۔ کراچی والے کہیں گے کہ کراچی کا دِل بڑا ہے لیکن کسی سائنسی ریسرچ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ کراچی اور گوجرانوالہ کے رہنے والوں کے دل کے سائز میں کوئی خاص فرق ہے۔ بات صرف اِتنی ہے کہ کراچی کی معیشت بہت زیادہ بڑی ہے، پوٹینشل اُس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔
ایک خاندان آتا ہے تو اُس کے پیچھے دس خاندان اور آتے ہیں۔ بعض دفعہ اپنا بچا کھچا قبائلی نظام بھی ساتھ لاتے ہیں لیکن کراچی پہنچ کر اگر ہمت کریں اور قسمت ساتھ دے تو قبیلہ چھوڑ کر اپنا قبیلہ بھی بنا لیتے ہیں۔  ٹرک چلانے والا بھی بیٹی کو ڈاکٹر بنا سکتا ہے۔ اپنے آبائی گھر میں سرداری سے محروم ہونے والا بھی رکشہ چلا کر گزارا کر سکتا ہے۔ کراچی اُن اُجڑے ہوئے لوگوں کے لیے ایک نئی زندگی کی اُمید ہے جِن کے گھر تو ہماری ریاست نے تباہ کر دیے لیکن اُن کے لیے کوئی ریفیوجی کیمپ بنانا بھول گئی اور ویسے بھی اگر کراچی موجود ہے تو کِسی کا دماغ خراب ہے کہ حکومت کی خیرات پر کِسی خیمے میں رہے۔
2: کراچی کا دِل بڑا ہونے کی افواہ سرائیکی علاقوں تک بھی پہنچی اور اب محتاط اور غیرمحتاط اندازوں کے مطابق کراچی سرائیکیوں کا بھی سب سے بڑا شہر ہے۔
وہاں اگرچہ بظاہر کوئی جنگ نہیں ہوئی لیکن زراعت کے شعبے میں ایسا زوال آیا ہے کہ ہاری ، دہاڑی دار بلکہ بعض چھوٹے رقبے کے مالک زمیندار بھی اپنے گھروں کو چھوڑ کر کراچی آنے پر مجبور ہوئے۔ چونکہ آبادی کی گِنتی ایک حساس مسئلہ ہے (یعنی ہمیں اِس بابت بھی ڈر لگتا ہے کہ ہماری تعداد کِتنی ہے اور ہم میں سے کون کہاں سے آیا ہے) اِس لیے کوئی وثوق سے نہیں بتا سکتا کہ کراچی میں کتنے پرانے مہاجر ہیں اور کتنے نئے لیکن یہ بات طے ہے کہ اہل لاہور کی میزبانی کے چرچے یا تو پاکستان کے جنگ زدہ علاقوں تک پہنچے نہیں یا مجبور لوگوں کو اُن پر یقین نہیں آیا۔ 
3: باقی ملک کی طرح کراچی میں بھی کئی لوگ ایم کیو ایم کو تمام مسائل کی جڑ اور رینجرز ہر مرض کی دوا لگتے ہیں لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ کراچی میں رینجرز ایم کیو ایم کے قیام کے چار پانچ سال بعد ہی آ گئی تھی۔ چور سپاہی کا یہ کھیل اِتنا پرانا ہو چکا ہے کہ اکثر لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں کہ چور کون ہے اور سپاہی کون۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کراچی شہر کہ اندر اِتنے شہر ہیں کہ اب لوگوں نے اُن کے نئے نام بھی رکھنے چھوڑ دیے ہیں۔
4: میں نے کراچی پریس کلب کے باہر ایک خاندان کو احتجاجی مظاہرہ کرتے دیکھا۔ لڑکی اغوا ہو گئی ہے ، تھانیدار لڑکے سے مِلا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا کہاں سے آئے ہوئے جواب مِلا میانوالی سے۔ میں نے پوچھا اغوا میانوالی میں مظاہرہ کراچی میں۔ آگے سے ڈانٹ پڑی وہ والا میانوالی نہیں کراچی والا میانوالی جِس کا نام ہے نیو میانوالی۔ نیا پاکستان تو جب بنے گا تو بنے گا، کراچی میں بہرحال ایک نیو میانوالی وجود میں آ چکا ہے اور روزگار کی تلاش لوگوں کو پرانے میانوالی سے نئے میانوالی تک لاتی رہے گی۔ 
5: روزگار کی تلاش کراچی کے پرانے باسیوں کو بھی کراچی کے ایسے حصوں میں لے جاتی ہے جو ابھی کراچی بن رہے ہیں جن کے نام ابھی رکھے جا رہے ہیں۔ ایک انجینیئر دوست کو نئی نوکری مِلی۔ شکایت کر رہے تھے کہ سفر بہت کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا کہاں نوکری ملی، بولے کالا پانی۔ میں نے کہا کیا واقعی یہ کِسی جگہ کا نام ہے۔ بولے جی ہاں روز بس پر بیٹھ کر جاتا ہوں کالا پانی بس سٹاپ پر اُترتا ہوں۔ اور اِس جگہ کا نام کالا پانی کیوں ہے؟ اِس لیے کہ یہاں سے بہت دور ہے۔ یوں لگتا ہے کہ باقی پاکستان کی تخیل میں کراچی وہ کالا پانی ہے جہاں سے کوئی اچھی خبر نہیں آتی لیکن جب روٹی روزی کا مسئلہ ہو تو ہم سب اِسی سٹاپ پر آ کر اُترتے ہیں۔
محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ نگار

سانحہ بلدیہ : متاثرین کو 51 لاکھ ڈالر زرتلافی دینے کا سمجھوتہ

پاکستان کے شہر کراچی کی بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں چار سال قبل پیش آنے والے حادثے کے زخمیوں اور ہلاک ہونے والے 250 مزدروں کے لواحقین کو 51 لاکھ ڈالر سے زائد زرتلافی دینے کے لیے سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔ خیال رہے کہ رواں برس فروری میں بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیکٹری میں لگائی جانے والی آگ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت شر انگیزی اور دہشت گرد کارروائی تھی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن رحمان بھولا اور حماد صدیقی کی طرف سے فیکٹری مکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری کی آمدن میں حصے دینے سے انکار پر آگ لگائی گئی تھی۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کلین کلاتھ کیمپین نامی ادارے کی جانب سے موصول ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق یہ معاہدہ سنیچر کو طے پایا۔ جس کےتحت متاثرین اور ان کے لواحقین کے لیے یہ معاوضہ کک نامی جرمن ریٹلر کی جانب سے ادا کیا جارہا ہے جو کراچی کے بلدیہ ٹاؤن علاقے میں واقع کارخانے علی انٹرپرائزز کے مال کے بڑے خریدار تھے۔
 کک رعایتی نرخوں پر کپڑے فروخت کرتی ہے اور اس کی ایک جینز کی قیمت 16 یورو کے قریب ہوتی ہے۔ یہ رقم حادثے میں زخمی ہونے والے مزدوروں کے علاج معالجےان کی بحالی اور ہلاک ہوجانے والوں کے لواحقین کی آمدنی کا نقصان پورا کرنے کی مد میں ادا کی جارہی ہے۔ سنہ 2012 میں حادثے کے فوراً بعد کک کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کی امدای رقم جاری کی گئی تھی۔ جسے پاکستان میں مزدور یونینوں نے انتہائی قلیل قرار دیا تھا۔ یہ رقم اس کے علاوہ ہے۔
معاوضے کی ادائیگی کے لیے مذاکرات میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اور مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں نے حصہ لیا۔

کراچی کی محرومیوں کا اب کچھ ازالہ بھی

1986ء میں ناظم آباد کراچی میں منی بس سے گر کرہلاک ہونے والی طالبہ بشریٰ
زیدی کے واقعے سے جنم لینے والے فسادات نے شہرکراچی کے کتنے سنہری سال برباد کر دیے۔ اُس واقعے کو لے کر ایک مخصوص قومیت سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلائی گئی اور 14 دسمبر 1986ء کو اورنگی ٹاؤن کی ایک بستی علیگڑھ کالونی میں کئی گھر اور دکانیں جلا دی گئیں اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب قائدِ ایم کیو ایم نے اپنے لوگوں کو وی سی آر بیچنے اور کلاشنکوف خریدنے کا ناقابلِ فہم مشورہ دیا۔ اشتعال انگیزی اور منافرت کا یہ سلسلہ بعد ازاں دیگر قومیتوں کے خلاف بھی آزمایا گیا اور یوں اردو بولنے والوں کو تمام قومیتوں سے لڑا کر اکیلا کر دیا گیا۔

سارے پاکستان کے لوگ یہ سمجھنے پر مجبورہو گئے کہ اردو بولنے والے یہ مہاجر غیر ذمے دار، بد مزاج اور جھگڑالو لوگ ہیں۔ حالانکہ ایم کیو ایم بننے سے پہلے یہی لوگ مکمل امن و آشتی کے ساتھ اِسی شہرکراچی میں مل جل کر رہا کرتے تھے۔ سب باہم مل جل کر بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ پھر یہ کیا ہوا کہ وہی لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو گئے۔ ایم کیو ایم کیوں بنائی گئی۔ اِس کے بنائے جانے کے پسِ پردہ محرکات کیا تھے۔ ویسے تو ہمارے یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم جنرل ضیاء الحق نے کراچی میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کم کرنے کی خاطر بنوائی مگر یہ صرف ایک مفروضہ ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم سے پہلے یہاں مذہبی جماعتوں کو عوام کی پذیرائی حاصل تھی۔ پیپلزپارٹی جن علاقوں میں مقبول اور مضبوط تھی وہاں اُس مقبولیت ایم کیوایم کے بعد بھی جوں کی توں قائم رہی۔ کسی کے ووٹ بینک پر اگر ضرب لگائی گئی تو وہ صرف مذہبی جماعتوں کے بینک پر لگائی گئی۔ خاص کر جماعتِ اسلامی، جمعیتِ علماء ِاسلام اور جمعیتِ علماء پاکستان کو ایم کیو ایم کی وجہ سے بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ جب کہ یہی جماعتیں جنرل ضیاء الحق کی زبردست حامی اور مددگار بھی رہی تھیں۔ جنرل ضیاء اُنہیں پھر بھلا کیونکر نقصان پہنچا سکتے تھے۔ ہاں البتہ اُنہوں نے اپنے دور میں ایک کام ضرور کیا کہ الطاف حسین جو بھٹو دور سے جیل میں قید و بند کی زندگی گزار رہے تھے اُنہیں باعزت طور پر رہاکر دیا۔
دیکھا جائے تو ایم کیو ایم کی داغ بیل 1972ء ہی میں پڑ چکی تھی۔ جب بھٹو صاحب نے سندھی زبان کو سندھ کی قومی زبان کا درجہ دیکر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا تھا۔ اور جس کے نتیجے میں سندھ کے اربن علاقوں میں لسانی فسادات بھڑک اُٹھے تھے۔ پھر 1973ء میں اربن اور رورل کی تفریق ڈال کر کوٹہ سسٹم رائج کر کے اِس نفرت کی خلیج کو اور بھی وسیع کر دیا گیا۔ اردو بولنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اِس کوٹا سسٹم سے حق تلفی ہونے لگی اور اُنہیں اپنے ہی صوبے میں سرکاری نوکریوں سے محروم رکھا جانے لگا۔

یہ کوٹہ سسٹم ویسے تو صرف دس سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا لیکن بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اِس میں مزید توسیع کرنا شروع کر دی جو ابھی تک قائم و دائم ہے۔ کہنے کو یہ کوٹہ سسٹم رورل علاقوں کے پسماندہ لوگوں کی بہتری کے لیے بنایا گیا تھا مگر اِس کوٹہ سسٹم سے فائدہ اُن لوگوں نے اُٹھایا جو رہتے تو کراچی اور حیدرآباد کے پوش علاقوں میں لیکن اُن کا ڈومیسائل اندرونِ سندھ کا تھا۔ پسماندہ علاقے کے نوجوان تو پھر بھی نوکریوں سے محروم ہی رہے۔ آج اِس کوٹہ سسٹم کو رائج ہوئے تقریباً 43 برس ہو چکے ہیں لیکن اب تک کسی نے یہ غیر منصفانہ تقسیم ختم کرنے کی نہ سنجیدہ کوشش کی ہے اور نہ اندرونِ سندھ ترقی و خوشحالی لانے کی تگ و دوکی ہے۔ اِس صوبے کے پسماندہ علاقوں میں آج بھی حالات ویسے ہی ابتر ہیں جیسے 1973ء میں تھے۔

اِن43 سالوں میں زیادہ تر یہاں پر حقِ حکمرانی پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی تفویض کیا جاتا رہا ہے، مگر یہاں کے حالات جوں کے توں ہی رہے۔ نہ سڑکوں کی شکل بدلی اور نہ صحت و تعلیم میں کوئی قابلِ قدر قدم اُٹھایا گیا۔ اندرونِ سندھ کے حالات انتہائی ابتر اور ناگفتہ بہ ہیں۔ بنیادی سہولتوں سے محروم یہ علاقے آج ہمارے سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں میں شمارکیے جاتے ہیں۔ سندھ کے بجٹ میں مختص کیے جانے والے اربوں روپے کے تمام ترقیاتی فنڈز نجانے کہاں خرچ ہوتے ہیں کسی کو نہیں معلوم۔ دوسری جانب رورل علاقوں کے لوگوں کے اِس پسماندگی اور احساسِ محرومی کے خاتمے کا علاج کوٹہ سسٹم کے تسلسل میں تلاش کیا جاتا رہا اور یوں یہ دیہی اور شہری علاقوں کی تفریق دائمی شکل اختیار کرتی گئی۔ جس نے کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے نوجوانوں کو ایم کیو ایم کے جانب ڈھکیلنے میں اہم رول ادا کیا۔
اپنے حقوق کے حصول کی خاطر وہ تشدد اور دہشتگردی کا راستہ اختیار کرنے لگے۔ ہزاروں نوجوان باعزت روزگار نہ ملنے کی وجہ سے چوری اور ڈکیتی کی طرف مائل ہو گئے اور یہاں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں یوں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کسی نے اِس مسئلے کی اصل وجہ کی جانب دیکھا ہی نہیں۔ اور سب نے اِسے طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ کراچی شہر مسائل میں گھرتا چلا گیااور آئے دن کی ہڑتالوں اور احتجاجوں کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہوتا چلا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری نے بھی ایک منظم کاروبار کی شکل اخیتار کر لی۔ سندھ کی حکومت نے اِس بھتہ خوری کا سدِباب اور علاج ’’لیاری گینگ‘‘ کی شکل میں تجویز کیا اور اندرونِ خانہ اُس گینگ کی سرپرستی شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے صورتحال اور بھی سنگین ہو گئی اور شہر خانہ جنگی کی طرف بڑھنے لگا۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو لسانی اورعلاقائی بنیاد پر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا جانے لگا اور حکومت تماشہ دیکھتی رہی۔ اِس خوفناک صورتحال نے محب وطن پاکستانیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
2013ء کے انتخابات کے بعد موجودہ نواز شریف حکومت نے کراچی شہر کو ایک بار پھر سے پر امن شہر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں اور رینجرز اور آرمی چیف کی مدد سے ایک ایسا آپریشن شروع کر دیا جس کے نتائج ماضی کی نسبت انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں۔ آج کراچی میں بڑی حد تک امن قائم ہو چکا ہے۔ آئے دن کی ہڑتالوں سے شہرکی جان چھوٹ چکی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور ایم کیو ایم اب اپنے قائد سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے۔ لہذا اب اِس شہر کے لوگوں کے مسائل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہاں سڑکوں اور شاہراہوں کا حال بہت بگڑ چکا ہے۔ ہر طرف غلاظت اور کچرے کے ڈھیر لگے ہیں۔ پانی، سیوریج، نکاسی آب اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی ابتر ہو چکا ہے۔ پانچ چھ سالوں سے کسی نے اِس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ اِسے فوری درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سندھ کے اربن علاقوں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا بھی انتظام کرنا ہو گا۔ اُن کے اندر پیدا ہونے والے احساسِ محرومی کو دورکرنا ہو گا۔ حال ہی میں سند ھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کی تجویز بھی پیش کی جسے لگتا ہے وزیرِ اعلیٰ نے لائقِ اعتناء بھی نہ جانا اور سنی ان سنی کر دی۔ آج اگر کراچی میں رینجرز کی مدد سے امن قائم ہوا ہے تو یہ سندھ حکومت کے لیے بھی راحت کا باعث ہونا چاہیے۔
لہذا اگر ہمارے کسی ادارے کے ذمے دار شخص کی جانب سے کوئی صائب اور اچھی تجویز پیش کی جاتی ہے تو اُسے درخورِ اعتناء گردانتے ہوئے مثبت ردِ عمل کا اظہارکرنا چاہیے۔ کراچی میں دائمی امن کی گارنٹی اُسی وقت دی جا سکتی ہے جب یہاں کے مسائل کے حل کے لیے خلوصِ نیت سے ٹھوس کوششیں کی جائیں۔ آج اگر رینجرز کی مدد سے کچھ دنوں کے لیے امن قائم ہوا ہے تو اِسے مستقل اور دائمی بنانے کے لیے سول حکومت کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔ کراچی شہر کے لوگوں کے احساسِ محرومی کو دور کرنا ہو گا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اِس احساسِ محرومی کو اگر دور نہیں کیا گیا تو پھر یہاں کوئی ایک نئی لسانی و سیاسی جماعت عسکریت پسندی کی جانب مائل ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر منصور نورانی