کراچی غیر ملکیوں کی آماجگاہ

Advertisements

گرین لائن منصوبہ : کراچی میں ناظم آباد فلائی اوور گرانے کا کام شروع

گرین لائن منصوبے کے لئے ناظم آباد پل کو گرانے کا کام شروع کردیا گیا ہے اور ہیوی مشینری کو بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈی سی سینٹرل فرید الدین کا کہنا ہے کہ پل کو ڈائنا مائٹ کے ذریعے گرایا جائے گا جب کہ پل گرانے کا کام تقریباً  دو سے تین ہفتے میں مکمل ہو گا۔ ڈی سی سینٹرل کا کہنا ہے کہ پل کا ملبہ ہٹانے کے بعد تقریباً 2 سے ڈھائی مہینے میں گرین لائن بس کے لئے ٹریک کی تعمیر کا کام مکمل ہو گا۔
ناظم آباد پل کو گرانے کے لئے بورڈ آفس کی طرف جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے جب کہ نارتھ کراچی اور حیدری کی طرف سے آنے والا ٹریفک پل کے ساتھ  سڑک سے ناظم آباد کی طرف نکالا جائے گا۔ 

کراچی کے بچوں نے ساحل سمندر کی صفائی کی

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں اسکول کے بچوں نے ساحل کی صفائی کی۔ ساحل کنارے موجود کچرہ جو سمندر کیلئے آلودگی کا باعث بنتا ہے اسے ایک شاپنگ بیگ میں ڈال کر ساحل کو اس کچرے سے پاک کیا۔ صفائی مہم کا مقصد نوجوان طلبہ و طالبات میں ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی فراہم کرنا تھی.

Karachi : The Amazing City of Pakistan

Karachi  is the largest and most populous city in Pakistan and 7th largest urban city in the world. Karachi is the capital of Sindh province. Ranked as a beta world city, the city is Pakistan’s premier industrial and financial centre. Karachi is also Pakistan’s most cosmopolitan city. Situated on the Arabian Sea, Karachi serves as a transport hub, and is home to two of Pakistan’s two largest seaports, the Port of Karachi and Port Bin Qasim, as well as the busiest airport in Pakistan. Karachi collects over a third of Pakistan’s tax revenue, and has a formal economy estimated to be worth $78 billion as of 2008, although the city’s large informal economy is not reflected in GDP estimates, and employs up to 70% of the city’s workforce.

جاوید نہاری : ایک نہاری سب پر بھاری

آگ کی تپش مصالحوں کی آمیزش اور بیف۔ ایک عام سا فارمولا لیکن نتیجہ ایک

مشہور ڈش۔ لیس دار شوربہ اور ساتھ میں ایک بڑی سے بوٹی یہ ہے نہاری کا پکوان جو کراچی کے ہر علاقے میں دستیاب ہے۔ نہاری کی ابتدا دہلی کے مغلوں سے ہوئی یا لکھنؤ کے نوابوں سے۔ فوجیوں کے لیے پہلے بنائی گئی یا سخت جان کام لینے کے لیے مزدوروں کے لیے تیار ہوئی اس پر مختلف آرا اور حوالے موجود ہیں، لیکن کراچی میں یہ قیام پاکستان کے بعد پھلی پھولی اور پھیلی ہے۔

کراچی میں نہاری کا شوق اور کاروبار کس تیزی کے ساتھ بڑھا ہے اس کی مثال فیڈرل بی ایریا میں واقع جاوید نہاری ریسٹورنٹ سے مل سکتی ہے۔ محمد جاوید میاں نے 40 سال قبل فٹ پاتھ سے نہاری اور روٹی کا کاروبار شروع کیا اور آج ایک بارونق ہوٹل کے مالک ہیں۔
ان کے مطابق وہ ساڑھے چار فٹ کا ہوٹل تھا جس میں وہ آٹے کی خالی بوریاں بچھاتے اور ٹین کی آٹھ کرسیاں رکھ کر گاہکوں کا انتظار کرتے تھے۔ نہاری اور روٹی دونوں ہی وہ خود بناتے تھے۔ انھوں نے محنت کی اور کام اچھا چل پڑا اس کے بعد 120 گز جگہ لی جہاں دس سال کام کیا اور اب اس مقام پر پندرہ سال ہوچکے ہیں۔ ویسے مصالحہ جات اور بیف کے استعمال کی وجہ سے نہاری ایک گرم پکوان ہے، لیکن سردی ہو یا گرمی نہاری کی فروخت بارہ مہینے جاری رہتی ہے۔ بقول محمد جاوید ‘یہ غریب آئٹم ہے، شوربے والی چیز ہے اور اس میں ذائقہ بھی ہے اگر کوئی ایک پلیٹ لیتا ہے تو میاں بیوی اور چار بچے باآسانی پیٹ بھر کھا لیتے ہیں اگر کسی کباب تکے کی دکان پر بیٹھ جائیں تو اچھا خاصا بل بن جاتا ہے۔’ جاوید میاں نے جب یہ کاروبار شروع کیا تو اس وقت نہاری کی پلیٹ ڈھائی روپے اور روٹی 50 پیسے کی ہوتی تھی اور آج فی پلیٹ قیمت 140 رپے اور روٹی دس روپے تک پہنچ چکی ہے۔

نہاری میں بونگ اور ران کا گوشت استعماال ہوتا ہے۔ تیاری کے بعد اس کے شوربے میں گوشت کے علاوہ میں مغز اور نلی کا گودہ ڈال کر اسے ‘سپیشل’ بنا دیا جاتا ہے جس سے اس کا ذائقہ اور قیمت دونوں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ نہاری صبح کا ناشتہ ہے تو دوپہر اور رات کا کھانا بھی۔ ان ہوٹلوں میں صبح کو طالب علم ، دوپہر کو مزدور تو رات کو لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ نہاری کھانے پہنچتے ہیں۔

محمد طلحہ اپنی ہم جماعت دوستوں کے ہمراہ نہاری کھانے آئے تھے۔ ‘نہاری اچھی بھی لگتی ہے اور سستی بھی پڑتی ہے اس وجہ سے ہم ‘گیٹ ٹوگیدر’ کے لیے نہاری کھانے آجاتے ہیں۔ آج دوست کی برتھ ڈے ہے سوچا اس دن کو بھی منا لیں گے اور نہاری بھی کھا لیں گے۔ کراچی کے حالات نہاری کے کاروبار پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں، اگر شہر میں ڈبل سوار پر پابندی ہے تو نہاری کم بنتی ہے کیونکہ یہاں آنے والے لوگ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار ہوتے ہیں۔ اگر اچانک حالات خراب ہوجائیں تو تیار نہاری کو ڈیپ فریزر میں رکھ دیا جاتا ہے کیونکہ صبح دیگ چڑھ چکی ہوتی ہے اس کو درمیان میں روکا نہیں جاسکتا۔
جاوید نہاری ریسٹورنٹ میں دو دو من کی دو دیگیں لگی ہوئی ہیں جو 24 گھنٹوں میں دو بار پکتی ہیں یعنی جو نہاری صبح تیار ہوتی ہے وہ شام تک پک کر قابل استعمال ہوتی ہے اور جو شام کو بنتی ہے وہ صبح کے لیے ہوتی، ایک دیگ کو تیار ہونے میں کم از کم چھ گھنٹے لگتے ہیں۔ نہاری کی تیاری کے لیے سب سے پہلے گھی ڈال کی کٹی ہوئی پیاز ڈالی جاتی ہے، اس پر لہسن کا پانی شامل کیا جاتا ہے اس کے بعد گوشت ڈلتا ہے جس کو آدھا گھنٹے تک بھونا جاتا ہے۔ اس کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے وقفے کے ساتھ نمک، مرچ، زیرہ، سونف، گرم مصالحہ اور پانی ڈال کر دیگ کو بند کر دیا جاتا ہے۔
حیدرآباد کے رہائشی محمد شریف کراچی کی نہاری کو پسند کرتے ہیں۔ بقول ان کے حیدرآباد سے صبح سات بجے نکلتے ہیں اور خواہش ہوتی ہے کہ یہاں کی نہاری کھائیں اس کے بعد وسطی شہر میں واقع جوڑیا بازار جاتے ہیں اور واپسی پر گھر والوں کے لیے لے کر جاتے ہیں۔ نہاری ایک اچھا کاروبار ہے، محمد جاوید میاں کا آدھا خاندان اس سے منسلک ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بدتمیز کام بھی ہے۔’کوئی آتا ہے یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے والد کے عمر کا شخص ہے۔ آواز لگاتا ہے اے روٹی لا یہ فیشن ہے یہاں کا’ اور یہ انھیں برا لگتا ہے۔ کراچی میں نہاری کے تمام ہی ریستورانوں پر غریبوں کو وہی کوالٹی کی نہاری اور نان مفت بھی ملتے ہیں۔ صاحب حیثیت لوگ ہوٹل کے مالک کو ادائیگی کر کے ٹارگٹ دے دیتے ہیں کہ اتنے لوگوں کو آج روٹی کھلانی ہے اور انھیں ہوٹل کے باہر ہی یہ سروس فراہم کی جاتی ہے جبکہ جاوید نہاری کی انتظامیہ انھیں پارسل کر کے دیتی ہے۔
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی : جوڑیا بازار کی کہانی

جوڑیا بازار پرانی کراچی کا تجارتی علاقہ ہے اور آج بھی قائم و دائم اور عروج پر
ہے۔ تنگ گلیوں میں واقع گنجان مارکیٹوں میں دوڑتی پھرتی، چھوٹی چھوٹی ہتھ گاڑیاں جوڑیا بازار کی قدیم روایت ہیں جو آج بھی قائم ہے۔ دو پہیوں والے تختے اور لوہے ہینڈل پر مشتمل ہتھ گاڑی چلانے والے محنت کش مجموعی طور پر یومیہ ٹنوں وزنی سامان کی نقل و حمل انتہائی خوش اسلوبی اور پھرتی سے انجام دیتے ہیں۔ جوڑیا بازار سے کم از کم چار ہزار سے زائد مزدوروں کا روزگار وابستہ ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بنوں اور باجوڑ سے ہے۔ اس کے بعد پنجاب اور کراچی کے قدیمی علاقہ لیاری کے محنت کشوں کا نمبر آتا ہے۔

جوڑیا بازار کے محنت کشوں کی حالت قابل رحم ہے، صبح نو بجے سے رات نو بجے تک سخت دھوپ اور ٹھٹھرتی سردی میں مزدوری کرنے کے باوجود فی محنت کش روزانہ چار سو سے پانچ سو روپے کی دیہاڑی لگا لیتے ہیں۔ ان میں سے مکان کا کرایہ، گیس، بجلی، پانی کے بلوں، اپنے کھانے پینے اور دیگر ذاتی اخراجات پر خرچ ہوجاتے ہیں اور بمشکل انھیں ماہانہ چار سے پانچ ہزار روپے کی بچت ہو پاتی ہے جو وہ اپنے گھر گاؤں بھیج دیتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ اپنے گھرانے کو کراچی میں نہیں رکھ سکتے اور خود سال بھر میں ایک مرتبہ اپنے گاؤں جاتے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو کسی اسکول میں تعلیم دینے کے بجائے کسی مدرسے میں داخل کرا دیتے ہیں، بیماری کی صورت میں نجی کلینک کے بجائے سرکاری اسپتال و ڈسپنسری سے رجوع کرتے ہیں، جہاں ناقص صورت حال ہوتی ہے، علاج ٹھیک سے نہیں کیا جاتا، ان کے مریض سسک سسک کر مرجاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ناومل ہوت چند اپنی کتاب Memoirs of Naomal Hatchan میں لکھتے ہیں کہ جوڑیا بازار تالپور دور میں کراچی کا مین بازار تھا۔

تالپور دور میں اس علاقے کو بہت اہمیت حاصل تھی مگر انگریزوں نے اس علاقے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے صدر بازار کو عروج دیا۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ 1843 میں تاج برطانیہ نے کراچی پر قبضہ کیا، چارلس نپیئر سندھ کے گورنر بنے، اس کے دور میں شہر میں چند دکانوں پر مشتمل مارکیٹ قائم تھی، جو بعد میں بڑھتی چلی گئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بن گیا، جو (جوڑیا بازار) کے نام سے مشہور ہوا۔ تقریباً 173 برس قدیم اس تجارتی مرکز کا نام جوڑیا بازار پڑگیا، کیوں؟

مقبول روایت یہ ہے کہ ابتدا میں کراچی کا واحد بازار ہونے کے سبب یہاں خریداروں کا رش رہتا تھا اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر چلتے تھے۔
اسی مناسبت سے اس کا نام جوڑیا بازار مشہور ہوگیا۔ واضح رہے کہ برطانوی دور میں کراچی شہر بندرگاہ سے شروع ہوکر کینٹ اسٹیشن اور سولجر بازار تک جا کر ختم ہوجاتا تھا۔ بیشتر آبادی لیاری اولڈ ایریا، کھارادر، میٹھادر، رنچھوڑ لائن اور اردگرد کے اطراف میں تھی۔ جوڑیا بازار کی ابتدا میں دریا لال اسٹریٹ پر چند دکانیں تھیں، آبادی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ضروریات زندگی کی اشیا کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا گیا تو اس بازار میں دکانوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ یہاں سے رہائشی افراد دوسرے علاقوں میں منتقل ہوتے گئے اور ان گلیوں میں آہستہ آہستہ مختلف اشیائے ضروریہ کی مارکیٹیں قائم ہوتی گئیں۔ آج جوڑیا بازار میں درجنوں ہول سیل کی مارکیٹیں قائم ہیں جہاں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ یہاں سے سامان نہ صرف اندرون شہر بلکہ سندھ، بلوچستان اور دنیا بھر کے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔
قیام پاکستان سے قبل اس بازار میں ہندو اور پارسی تاجر دکانداروں کی اکثریت تھی اور اس دور میں رکھے گئے ہندوانہ نام جنھیں بعد میں تبدیل کردیا گیا آج بھی زبان زد عام ہیں۔ جوڑیا بازار مجموعی طور پر 54 گلیوں پر مشتمل ہے۔ یہ بازار ضلع جنوبی کی حدود میں واقع ہے۔ سٹی کورٹ کے مغرب کی جانب سے شروع ہونے والی جوڑیا بازار کی مرکزی گلی دریا لال اسٹریٹ پر ایم اے جناح روڈ، لیمارکیٹ، جونا مارکیٹ، کجھور بازار، برتن بازار اور کھوڑی گارڈن سمیت مختلف گلیاں جن میں مختلف اجناس اور اشیا کی مارکیٹیں قائم ہیں۔ جوڑیا بازار میں واقع مختلف بینکوں کی 103 شاخیں قائم ہیں جو یومیہ کروڑوں روپے کا مالیاتی لین دین کرتی ہیں، جو پاکستان کے کسی بھی ایک مخصوص علاقے میں موجود بینکوں کی شاخوں کے لین دین کے حوالے سے ایک ریکارڈ ہے۔ چونکہ یہاں سے شہر کی دیگر مارکیٹوں کو سامان کی سپلائی کی جاتی ہے اس لیے یہاں اشیا کی قیمتوں میں شہر کی دیگر مارکیٹوں کی نسبت واضح کمی نظر آتی ہے۔
سابقہ دریا لال اسٹریٹ اور موجودہ نام حضرت ابوبکر صدیق اسٹریٹ اور سٹی کورٹ کی مرکزی سڑک طاہر سیف الدین روڈ پر چاول، گندم، دالوں، چینی سمیت دیگر اجناس کا ہول سیل کاروبار ہوتا ہے۔ طاہر سیف الدین روڈ، چیمسٹرس روڈ، ہری جیٹھانی اسٹریٹ اور گنگا بائی کمپاؤنڈ کے علاقوں میں پان منڈی قائم ہے، جسے ملک کی سب سے بڑی پان منڈی کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں سری لنکا، بنکاک، سیلون اور سانچی سے درآمد کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ کراچی کے علاوہ اندرون سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر سمیت ملک کے دیگر حصوں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ نجم الدین اسٹریٹ پر صندوق کی بڑی مارکیٹ کے علاوہ اسٹیل کی شیٹس کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔
گودھرا گلی (ہری اودھانی اسٹریٹ) پر بھارت میں تیار ہونے والی مختلف ہربل پروڈکٹس اور ادویہ کے علاوہ شیمپو، کریموں اور دیگر کاسمیٹکس کے سامان کی ہول سیل کی دکانیں قائم ہیں۔ چھبہ گلی میں سبزی، مختلف مصالحہ جات اور دیگر ضروریات زندگی کی دکانیں ہیں۔ گل محمد اسٹریٹ پر اچار، چھالیہ، تمباکو اور پتنگ کی ہول سیل دکانیں قائم ہیں۔ محمد شاہ اسٹریٹ پر مختلف اقسام کے ترازو کی مارکیٹ ہے۔ نارتھ نیپیئر روڈ پر پرانے کپڑوں کاروبار ہے۔ حضرت امام حسین اسٹریٹ (پرانا نام، سنگھ اسٹریٹ) پر مرچو ں اور مونگ پھلی کا کاروبار ہوتا ہے۔ اللہ وسایا اسٹریٹ (کھیلن اسٹریٹ) پر مونگ پھلی کی ہول سیل دکانیں قائم ہیں۔ وریانہ اسٹریٹ حلیم والی گلی میں عام استعمال کی اشیا کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ حضرت زید بن حارث روڈ (مون جی کھیت) پر ماچس کا کاروبار ہے۔ مراد خان روڈ پر خشک میوہ جات، ترپال والے اور ستلی کی دکانیں ہیں۔ کنڈا اسٹریٹ پر گڑ کی ہول سیل کی دکانیں ہیں اور خشک میوہ جات کی بھی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ حضرت عثمان غنی اسٹریٹ (رام بھارتی اسٹریٹ) پر خشک دودھ کی بڑی مارکیٹ ہے۔ محمد فیروز روڈ پر ردی کاغذ کا کاروبار ہوتا ہے۔ ویرجی اسٹریٹ اور اخوند عبدالرحمان اسٹریٹ پر کیمیکل کی ہول سیل کی دکا نیں ہیں۔ امام بخش روڈ پر برتن کی دکانیں ہیں، اسے برتن بازار کہا جاتا ہے۔
امیر شاہ روڈ پر صرافہ بازار ہے۔ یہ ملک کا سب سے بڑا صرافہ بازار ہے، جہاں سونے کے یومیہ بھاؤ کھلتے ہیں۔ علی اکبر روڈ اور حضرت امام ابوحنیفہ روڈ (خوشحال لین) میں خشک میوہ جات کا کاروبار ہوتا ہے۔ رام پات ڈائیز کیمیکل اسٹریٹ جس کا پرانا نام زکریا لین تھا اور اخوند عبدالرحمان روڈ پر ہوزری یعنی گارمنٹس، تولیہ، احرام، حج و عمرہ کا سامان ملتا ہے۔ سلمان اسٹریٹ اور کھتری کچھی مسلم روڈ (دیور لین) پر لوڈنگ ٹرانسپورٹ یعنی سامان لانے اور لے جانے کے لیے گاڑیاں ہر وقت موجود رہتی ہیں۔
شبیر احمد ارمان