کراچی چڑیا گھر، تاریخ کے آئینہ میں

شہرقائد کی مشہور تفریح گاہ چڑیا گھر کے اطراف شام کے وقت ٹریفک جام رہنا روز کا معمول بن گیا ہے، جس کی ایک بنیادی وجہ یہاں تفریح کی غرض سے آنے والوں کی واپسی پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ کرنا بھی ہے۔ جس سے شام کو گھر واپس جانے والوں کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مغرب کی اذان کے ساتھ ہی چڑیا گھرکے مغربی گیٹ یعنی رنچھوڑ لائن کی سمت اور مغربی گارڈن پولیس ہیڈکواٹرز کی جانب گیٹ داخلے اور واپس جانے کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے بند کر دیے جاتے ہیں، جب کہ مشرقی جانب آغاخان جیم خانہ کی جانب اور فن سینٹر (جھولوں کی سائیڈ) جانے والے گیٹ واپسی کے لیے کھلے رہتے ہیں۔
گارڈن ایسٹ کی جانب سے ون وے روڈ پر شام کے وقت جانے والے گھرانے اوران کی گاڑیاں غلط اطراف سے مزار جمن شاہ بخاری کی طرف آتی ہیں جس کی وجہ سے خاص طور پر بدھ (خواتین کے لیے مخصوص دن) اور اتوارکو شدید ٹریفک جام رہتا ہے جب کہ بڑی گاڑیوں کی ممنوعہ اوقات میں خلاف ورزی سے مسئلہ مزید گھمبیر ہوجاتا ہے۔ کراچی چڑیا گھر ایک تاریخی ورثہ ہے، ایک صدی سے زائد عرصے سے یہ قائم ہے، جوکہ 33 ایکڑ رقبے پر محیط ہے، سالانہ 40 لاکھ شہری کراچی چڑیا گھر میں آتے ہیں جن کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہوتا ہے جب کہ اسکولوں کے طلبا و طالبات مطالعاتی دورے بھی کرتے ہیں جنھیں ماہرین چرند پرند جانوروں اور پرندوں سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں بچوں کی جانوروں میں دلچپسی کے پیش نظروالدین کی ایک بڑی تعداد بھی کراچی چڑیا گھر کا رخ کرتی ہے، بدھ کا دن صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے، و قتا فوقتا اس کی تزئین وآرائش کی جاتی رہی ہے لیکن ایک مدت سے یہ اپنی اصل حالت میں موجود نہیں ہے۔ تزین وآرائش کے نام پراس کا جوحلیہ بگاڑا گیا ہے وہ الگ بات ہے۔
گارڈن سے تاریخی دو کانسی کے مجسمے غائب ہیں، ان میں سے ایک ببرشیر اور دوسرا زیبرا کا مجسمہ تھا، جن پر بچے بیٹھا کرتے تھے اور شوق سے تصویریں بنوایا کرتے تھے ۔ چڑیا گھر کے بہت سے پنجرے خالی اور ویران ہیں جن میں کبھی ببر شیر، ریچھ ، بندر، چیتا، گینڈے، زرافہ ،پانی کی بلی سمیت دیگر جانور ہوا کرتے تھے۔ ہمارے بچپن میں لکڑیوں کے جھولے ہوا کرتے تھے جنھیں ہاتھوں سے حرکت دیا جاتا تھا۔ اب ترقی یافتہ دور ہے تمام جھولے الیکٹرونک ہیں۔
تالاب میں ایک کشتی ہوا کرتی تھی، جسے چپو سے چلایا جاتا تھا جس کی سواری کے لیے فی کس ایک روپیہ ٹکٹ تھا، اس تالاب میں بطخ بھی ہوا کرتے تھے ، پھر نہ جانے ایسا کیا ہوگیا کہ کشتی تالاب سے غائب ہو گئی ، تالاب کا پانی زہرآلود ہوگیا پھر تالاب خشک ہو گیا۔
طویل عرصے بعدگزشتہ سال اس تالاب کی تزئین وآرائش کی گئی، تالاب میں پانی بھر دیا گیا، تالاب کی کشتی بحال کر دی گئی جواب موٹر کشتی ہے، مدھوبالا اوراس کا ساتھی ( ہاتھیوں ) کی جوڑی چڑیا گھرکی رونق ہوا کرتے تھے اس کی سواری سے نہ صرف چھوٹے بچے لطف اندوز ہوا کرتے تھے بلکہ بڑے بوڑھے اور جوان بھی اس شاہی سواری کی مزے لوٹتے تھے، کافی عمر پانے کے بعد پہلے مدھو بالا کا ساتھی ہاتھی مر گیا تھا اس کے کچھ عرصے کے بعد تنہائی کی شکار مدھو بالا بھی ہم سے بچھڑ گئی تھیں۔ اس کے بعد چڑیا گھر سچ مچ ویران ہوگیا تھا، کافی عرصے بعد دو چھوٹے ننھے منے ہاتھیوں کی جوڑی کو سفاری پارک میں لایا گیا جہاں ان کی پرورش کی گئی جب یہ انسانوں کی بھیڑ سے آشنا ہوئے تو انھیں چڑیا گھر لایا گیا اور یہ آج تک اس قابل نہیں ہیں کہ وہ سواری اٹھا سکیں لیکن انھیں دیکھنے کے لیے شائقین کا مجمع لگا رہتا ہے۔
مفت میں نہیں ٹکٹ لے کر، اس طرح ان کی پرورش کا خرچہ نکل آتا ہے، مجھے یاد پڑتا ہے کہ بچپن میں ہم چڑیا گھر میں واقع مغل گارڈن میں بھی جایا کرتے تھے اور وہاں کی خوبصورت سبزہ زار اور بارہ دری کے ساتھ ون ٹین کیمرہ سے فوٹو لیتے تھے اس دور میں سیلفی کا تصور نہیں تھا اور اپنے آپ کی تصویر اتارنا معیوب تھا جب گروپ فوٹو بنوانا ہوتا تو وہاں موجود کسی اور شخص کی مدد لیتے تھے پھر وقت کی رفتا ر بڑی تو آٹو میٹک کیمرے ایجاد ہوئے جس نے یہ مشکل آسان کردی تھی، لیکن آٹومیٹک کیمرے صاحب استحقاق لوگوں کے پاس ہواکرتے تھے یا پھر ان کے پاس جن کا کوئی عزیز رشتے دار یا دوست بیرون ممالک سے انھیں بھیجتے تھے۔
بات ہورہی ہے چڑیا گھرکی ،تین نسلیں گزر چکی ہیں چڑیا گھر کی اس مغل گارڈن کو بند کرنے کی وجہ آج تک معلوم نہ چل سکا ہے۔ اسے آخر کیوں کر عوام الناس کے لیے اسے بند کر دیا گیا ہے، عام لوگ باہر کھڑے ہوکر اس کے گرل کے پاس سے ہی اپنی تصویر لیتے ہیں اور عوام کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اس زمانے کے لوگ شاہی شہنشایت کے رعایا تھے اور آج وہ جمہوری شہنشاہیت کے عوام ہیں ، البتہ کبھی کبھی جمہوری وی آئی پیز کے لیے اس کا گیٹ کھول دیا جاتا ہے، کیا اچھا ہوتا کہ اگر کم از کم یوم آزادی والے دن اس کا دروازہ عوام الناس کے لیے کھول دیا جائے۔ تاکہ عام لوگ بھی اندر سے اس کا نظارہ کرسکیں۔ ممتاز بیگم آج بھی عوامی توجہ کا مرکز ہے اب اس کے ساتھ بھوت بنگلہ بھی ہے لیکن شہر کے خوفناک حالات سے گزرجانے کے بعد شہریوں کو اس سے کسی قسم کا خوف نہیں آتا ، واحد ریچھ ہے وہ بھی کبھی نظر آتا ہے اور کبھی نہیں ، پہلے چڑیا گھرکے بندر عاداتا ادھر سے ادھر چھلانگیں لگا دیا کرتے تھے اب کم خوراکی نے ان کی عادت بدل ڈالی ہے۔
بیچارے معصومیت سے عوام کو تکتے رہتے ہیں کہ کوئی ان پر رحم کھا کر چنا، مونگ پھلی یا پاپ کون کی بارش ان پر کر دے ، ہاں ایک مگرمچھ بھی مریل قسم کا نظر آتا ہے وہ بھی کم پانی میں ، سانپ گھر کی تزین و آرائش کی گئی ہے لیکن پھر بھی ویران سا لگتا ہے ، چیتا کہاں غائب ہے پتہ نہیں ، عجائب گھر اچھا لگا لیکن اب بھی اس میں کام کرنے کی ضرورت ہے ، بنگال ٹائیگر، بن مانس ، ببرشیر، سفید شیر ، پوما، مچھلی گھر، سفید مور، رنگین مور، کبوتر، رنگ برنگی چڑیا وجنگلی مر غیاں ، شتر مرغ ، ٹٹو، ہرن ، بارہ سنگا، چڑیا گھر کی علامات ہیں۔
چلتی پھرتی ریل گاڑی ایک اچھا اضافہ ہے، سرکاری طور پر پینے کا پانی کی سبیلیں تو ہیں لیکن پانی مفت میں نایاب ہے کیونکہ پیاس بجھانے کے لیے پانی خریدنا پڑتا ہے یا گھر سے ساتھ لانا ضروری ہے، قدیم مقامات میں سے فوارے بینچ ، چبوترہ ٹوٹ پھو ٹ اور خستہ حالی کا شکار ہیں البتہ پبلک فٹ پاتھ اچھے بنائے گئے ہیں، سبزہ زار بھی اچھا منظر پیش کرتے ہیں لیکن پنجروں میں اسپرے کی کمی محسوس کی جا سکتی ہے ۔ صفائی کا اچھا انتظام ہے لیکن لوگوں کو صفائی کا شعور نہیں ، راہ چلتے کچرا پھینک دیتے ہیں جب کہ جگہ جگہ کوڑا دان موجود ہیں۔
آج کل سننے میں آرہا ہے کہ چڑیا گھر کے ترقیاتی کاموں کے لیے پچاس کروڑ روپے کی سمری منظور ہو چکی ہے جس سے ترقیاتی کاموں کے ساتھ پانچ بڑے جانوردریائی گھوڑا اورگینڈے سمیت دیگر جانور چڑیا گھر لائے جائیں گے، تاریخی مغل گارڈن ( بارہ دری )، املی روڈ، ہاتھی گھر سمیت جانوروں کے پنجروں ،کشتی رانی کے تالاب کو بہتر کرنے کی گنجائش ہے ، نئے مچھلی گھر میں نایاب نسل کی مچھلیاں لائی جائیں گی۔ اس وقت چڑیا گھر میں عملے کی شدید کمی ہے،جانوروں کی خوراک کے انتظامات بہترکرنے کی ضرورت ہے ، جانوروں کی میڈیکل ٹیسٹ بروقت کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ بعض جانوروں کی بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے جانور ہلاک ہوچکے ہیں۔
نئی نسل کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ آج کا کراچی چڑیا گھر کی جگہ پر 1799 میں ایسٹ کمپنی کی فیکٹری قائم تھی، 1840ء میں اسی مقام پر سب سے پہلا وسیع وعریض باغ بنایا گیا تھا ۔ 1886ء تک یہ خوبصورت باغ بن چکا تھا، اس وقت یہ باغ شہر سے باہر تھا، پہلے یہ باغ انگریزحکام کی تفریح کے لیے مختص تھا۔ 1890ء تک اس باغ میں 293 مختلف جنگلی جانوراور 465 پرندے لائے جاچکے تھے، بعد میں ان کو دیکھنے کے لیے عوام کو اجازت دی گئی ، 1934ء سے قبل اس باغ کا نام وکٹوریہ گارڈن تھا ، جولائی 1934ء میں اسے مہاتما گاندھی گارڈن کا نام دیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اس کا نام زولوجیکل گارڈن کراچی رکھا گیا جسے اب کراچی چڑیا گھرکہتے ہیں اسے دنیا کے بڑے چڑیا گھروں میں شمارکیا جاتا ہے۔
شبیر احمد ارمان

اسٹیل مل کی نجکاری یا بے روزگاری

عالمی سامراج نے  نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق دنیا بھر میں نجکاری شروع کی۔ امریکا کے معروف انقلابی  دانشور اور ماہر لسانیات پروفیسر نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ ’’نجکاری کا مطلب عوام کی دولت چھین کر سرمایہ داروں کے حوالے کرنا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں سب سے پہلے نجکاری جنوبی امریکا میں کی گئی، چونکہ وہاں کے عوام نجکاری کی  مصیبتوں کو بھگت چکے ہیں، اس لیے اب وہاں کی حکومتوں نے ازسر نو قومیانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ اس لیے سامراجیوں نے مشرق بعید کے بعد اب برصغیر میں نجکاری شروع کردی ہے۔ یہ کام بے نظیر بھٹو کے دور سے شروع ہوا اور اب نواز کے دور میں انتہا کو لے جایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں نجکاری کے ہدف میں ایک اسٹیل مل بھی ہے۔ سابقہ وزیراعظم شوکت عزیز نے پاکستان  جیسے نیم زرعی اور نیم صنعتی ملک کو ڈبلیو ٹی او کی طرف دھکیل دیا۔ ڈبلیو ٹی او  میں جانے سے پاکستان کی رہی سہی صنعتی ترقی کا پہیہ بھی جام ہو گیا۔ اس کے علاوہ 2008-2009 میں بڑے پیمانے پر گڈانی کراچی میں شپ بریکنگ کی گئی۔ جو شپس توڑنے کے لیے امپورٹ کی گئیں ان پر نہ امپورٹ ڈیوٹی تھی اور سیلز ٹیکس بھی 0% تھا۔ ان شپس کو توڑنے سے حاصل ہونے والی پلیٹس کو سریا بنانے کے لیے استعمال میں لایا گیا۔
یہ پلیٹ مارکیٹ میں 31000 روپے ٹن میں فروخت ہو رہی تھیں، جب کہ اسٹیل ملز کے بلٹس کی قیمت جو کہ سریا بنانے کے لیے کام آتا ہے 51000 روپے تھی۔ اسٹیل ملز کو مجبوراً اپنی بلٹس کا کارخانہ بند کرنا پڑا۔ جو آج تک بند ہے۔ 2008 میں پوری دنیا میں اسٹیل انڈسٹریز کو بحران کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ چائنا کا انٹرنیشنل مارکیٹ سے لوہے اور خام مال کی خریداری کا عمل بند کرنا تھا۔
دنیا کے اکثر ممالک میں اپنی اسٹیل انڈسٹریز کو بچانے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی سمیت کئی اقدامات کیے مگر پاکستان میں ایسا کوئی عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے پاکستان اسٹیل مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ ہاٹ رول کوائلز جن کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے، اسٹیل ڈیلرز یہ کوائل چین، یوکرین، روس، جاپان، امریکا وغیرہ سے سستے داموں پر برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل نے اس حوالے سے نیشنل ٹیرف کمیشن میں مقدمہ بھی قائم کیا کہ ان کوائل کی امپورٹ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی جائے تا کہ اسٹیل مل مارکیٹ کا مقابلہ کرسکے۔ باوجود اس کے این ٹی سی نے پاکستان اسٹیل کا موقف تسلیم کر لیا، لیکن کئی سال سے یہ مقدمہ زیر التوا رکھنے کے بعد WTO کے معاہدے کا سہارا لے کر خارج کردیا۔ موجود حکمراں جو اسٹیل انڈسٹری کو چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں مگر وہ پاکستان اسٹیل کی سب سے بڑی انڈسٹری کو بیچ دینا چاہتے ہیں۔
پاکستان اسٹیل جس نے دوبارہ اپنی مقررہ پیدواری صلاحیت کی طرف بڑھنا شروع کر دیا تھا اور 60% پیداوار دینا شروع کر دی تھی، لیکن حکومت کی طرف سے سیلز پالیسی مقرر نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مصنوعات مارکیٹ کا مقابلہ نہ کرسکی، اور مال اسٹاک ہونا شروع ہو گیا۔ جس میں سے اسٹیل مل اپنی Liability دینے سے قاصر ہو گئی۔ نیچرل گیس کمپنی جو کہ حکومتی ادارہ ہے اس کی 16 ارب روپے کی Liability ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مل کو دی جانے والی گیس کا پریشر کم کر دیا گیا۔ اب یہ 16 ارب روپے سود کی وجہ سے 52 ارب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ گیس پریشر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان اسٹیل کے تمام پیدواری یونٹس بند کر دیے گئے۔ گیس پریشر کو کم ہوئے آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حکومت کی خاموشی اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل انڈسٹری کو بند کر کے اس کی نجکاری کرنا چاہتی ہے۔ اس ساری صورت حال کا خمیازہ پاکستان اسٹیل کے 18 ہزار ملازمین بھگت رہے ہیں۔ حکومت نجکاری کمیشن کے توسط سے چار ماہ گزرنے کے بعد ایک یا دو ماہ کی تنخواہ ملازمین کو ادا کر رہی ہے۔ وہ بھی ملازمین کے بار بار احتجاج کے بعد یہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔
موجودہ اسٹیل مل انتظامیہ کی کارکردگی اور بے حسی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 9  ارب کے اسٹاک شدہ مال کو فروخت کیا گیا اور فروخت شدہ مال میں بھاری کمیشن کھایا گیا۔ اس کے علاوہ 26 ارب روپے کی کرپشن کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے ہوئے بھی کئی سال گزر گئے ہیں۔ اب اس کیس کی فائل سردخانے میں پڑی ہوئی ہے۔ ابھی تک اسٹیل ملز کی لوٹی ہوئی رقم   ریکور نہیں کی گئی جس کی ذمے دار بھی گورنمنٹ ہے۔ پاکستان اسٹیل کی (By Product) جس میں بیٹری کے چلنے سے حاصل ہونے والی امونیا گیس کھاد کے کارخانے میں استعمال ہوتا ہے۔ Pitch جو تارکول کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کے علاوہ آکسیجن پلانٹ کو اگر تجارتی بنیادوں پر چلایا جائے تو صرف آکسیجن پلانٹ ہی ملازمین کی تنخواہیں نکال سکتا ہے۔ ٹربو تھرمل پاور پلانٹ جس کی دو ٹربائن بیک وقت چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جن سے 110 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، ایک ٹربائن اسٹینڈ بائی رہتی ہے۔ پاکستان اسٹیل اگر فل Capacity میں اپنی پروڈکشن دے رہی ہو تو 40 سے 50 میگا واٹ بجلی خرچ ہوتی ہے، بقایا بجلی کے الیکٹرک کو فروخت کی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان اسٹیل کے الیکٹرک کو بجلی فروخت کرتا رہا ہے۔
پاکستان اسٹیل کے پاس اپنے اسکول کیڈٹ کالج، گیسٹ ہاؤسز، فروٹ فارمز ہیں۔ ان کو صحیح معنوں میں پروفیشنل میمجمنٹ دی جائے تو یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں، لیکن موجودہ گورنمنٹ کی نظریں اسٹیل مل کے ایسڈ پر ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کئی سیاسی جماعتیں جو پی ٹی سی ایل اور کے ای کی نجکاری کے حق میں تھیں، وہ آج مخالفت کررہی ہیں۔ جیسا کہ جب ذالفقار علی بھٹو اسٹیل مل قائم کرنے جا رہے تھے تو  ایک مذہبی سیاسی جماعت قومی ملکیت میں اسٹیل مل کے قیام کی بھرپور مخالفت کر رہی تھی اور آج نجکاری کی مخالفت کررہی ہے۔
پاکستان اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اربوں روپے کما کر دے رہی ہے، صرف اس کے فلڈ ورکرز سوا لاکھ سے زیادہ ہیں، اس کے اربوں روپے کے اثاثے ہیں، اب حکومت اس کی نجکاری کرکے ہزاروں فلڈ ورکرز کو بے روزگار کرے گی اور لاکھوں صارفین کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سینیٹ اور صدر پاکستان ذاتی مداخلت کرکے اسٹیٹ لائف کی  نجکاری روکیں۔
یہی حشر وہ پی آئی اے کے ساتھ  بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ان سرمایہ داروں کی نظریں صرف اور صرف پی آئی اے کے اثاثوں پر ہیں، جن کی مالیت کھربوں روپے بنتی ہے۔ یہ ان کو کوڑیوں کے بھاؤ میں خریدنا چاہتے ہیں۔ ان کی نظر میں Employee کی اہمیت نہیں۔
آئی ایم ایف نے جب ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کے لیے سابقہ گورنمنٹ پر زور دیا تو حفیظ شیخ نے جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا تمام پارٹیوں کے سرمایہ دار، جاگیردار طبقے ایک پیج پر آگئے۔ کیونکہ یہ ٹیکس ان کی جائیدادوں پر لگنا تھا۔ آج تک یہ ٹیکس زیر التوا ہے۔ عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ آج گورنمنٹ آئی ایم ایف کے دباؤ پر اسٹیل مل، پی آئی اے سمیت 68 اداروں کو نجکاری کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہے اور لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگار کر دینا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں مختلف اداروں کی آئی ایم ایف کے دباؤ پر نجکاری کی گئی، ان میں سے بیشتر ادارے جن کی نجکاری کی گئی اور ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا وہ ادارے آج تک بند ہیں، ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں نہیں چلایا جاسکا۔ آج پھر ایک بار پاکستان اسٹیل مل کے مزدور سراپا احتجاج  ہیں، انھوں نے نیشنل ہائی وے کو بند کر دیا، پولیس نے تشدد کے ذریعے انھیں منتشر کیا، مگر کب تک؟ مزدور اپنے مطالبات آج نہیں تو کل منوا کر چھوڑیں گے۔  ہر چند کہ مسائل کا واحد حل ایک غیر طبقاتی نظام میں ہی مضمر ہے۔ وہ دن جلد آنے والا ہے، جب جائیداد، ملکیت، سرحدیں، ریاست کا خاتمہ ہوجائے گا، پھر لوگ جینے لگیں گے۔
زبیر رحمٰن

سرکلر ریلوے کی خوش خبری

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خوش خبری سنائی ہے کہ وزیراعظم میاں نواز
شریف نے کراچی سرکلر ریلوے کو دوبارہ فعال کرنے کے منصوبے کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کر لیا ہے۔ وفاقی حکومت نے کراچی اربن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (K.U.T.C) کا انتظام صوبائی حکومت کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق کے درمیان ایک ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک منصوبے میں یہ منصوبہ شامل کیا جائے گا مگر پہلے مرحلے میں ڈرگ روڈ سے الٰہ دین پارک تک سرکلر ریلوے چلے گی۔

یہ فاصلہ تقریباً 5 کلومیٹر کے قریب ہوگا۔ پھر دوسرے مرحلے میں یہ ریل سٹی اسٹیشن سے اسٹیل ملز تک جائے گی اور اس کا دائرہ کارسپر ہائی وے تک اور ٹاور تک بڑھایا جائے گا۔ کراچی والوں کے لیے ڈرگ روڈ سے الٰہ دین پارک تک ریل چلانے کا اعلان محض مذاق ہی سمجھا جائے گا۔ وزیراعظم کی زیرِ نگرانی سی پیک کے منصوبے کے تحت لاہور میں اورنج ٹرین کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا منصوبہ کب شروع ہوگا اربابِ اختیار اس بارے میں خاموش ہیں۔ وفاقی حکومت بورڈ آفس سے گرومندر تک گرین لائن بس منصوبے کی تعمیر کر رہی ہے۔ جب وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا تو سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے گذارش کی تھی کہ یہ منصوبہ ٹاور تک کر دیا جائے۔ حکومت سندھ نے اورنگی سے بڑابورڈ تک گرین لائن منصوبے کی توسیع کا وعدہ کیا تھا جس پر عملدرآمد اب شروع ہوگیا ہے۔ شہری ماہرین کہتے ہیں کہ اب کراچی میں ماس ٹرانزٹ اسکیم ہی کراچی کے شہریوں کو باعزت ٹرانسپورٹ فراہم کرسکتی ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے کی بھی عجیب داستان ہے۔ جب 60ء کی دہائی میں کراچی میں صنعتیں لگنے لگیں، مزدوروں کی نئی بستیاں آباد ہونے لگیں اور شہر ایک طرف سائٹ اور دوسری طرف لانڈھی تک پھیل گیا اوراطراف میں مزدور بستیاں آباد ہوگئیں تو ایوب خان کی حکومت نے ریلوے کو شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کے تحت پشاور سے آنے والی مرکزی ریلوے لائن پر قائم ہونے والی بستیوں پر ریلوے اسٹیشن قائم کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرمینشن سے سائٹ، ناظم آباد، لیاقت آباد، گلشن اقبال اور ڈرگ روڈ تک ریلوے لائن تعمیر کی گئی۔

یہ ریلوے لائن ناتھا خان گوٹھ پر مرکزی لائن سے منسلک ہوگئی۔ 60ء کی دہائی میں متوسط اورنچلے متوسط طبقے کی بیشتر بستیوں کو سرکلر ریلوے نے مرکزی ریلوے لائن سے منسلک کردیا۔ صبح کے اوقات میں پپری سے سرکلر ریلوے کے فلیٹ سٹی اسٹیشن، کیماڑی اور وزیر منشن سے آنے لگے۔ اسی طرح وزیرمینشن سے سائٹ، ناظم آباد اور گلشن اقبال جانے اور واپس آنے کے لیے ریل گاڑیاں میسر آنے لگیں۔ لانڈھی، ملیر اور ڈرگ کالونی سے صبح کے وقت ٹاور آنے کے لیے ہزاروں مسافرآدھے گھنٹے سے 45 منٹ کی مدت میں منزل تک پہنچ جاتے تھے۔
جن لوگوں کو صدر اور اطراف کے علاقوں میں جانا ہوتا وہ کینٹ اسٹیشن سے اترکر ٹرام میں سوار ہو کر چلے جاتے۔ سٹی اسٹیشن پہنچنے والے مسافر بسوں میں بیٹھ کر صدر اور ایم اے جناح روڈ چلے جاتے اور یوں شام کو پھر سرکلر ریلوے کے ذریعے واپس اپنی منزل تک پہنچ جاتے۔ یہی سہولت لانڈھی اور ملیر سے سائٹ جانے اور واپس آنے والوں کو میسر ہوتی۔ اس زمانے میں سرکلر ریلوے میں سفر کرنے والے معمر افراد بتاتے ہیں کہ ہر ماہ رعایتی پاس بنانے کی سہولت موجود ہوتی تھی اور ریلوے کا عملہ وقت کی پابندی کرتا تھا، مسافروں کے لیے ہر 15 منٹ بعد آنے والی سرکلر ریل کی سہولت موجود تھی، مسافر ریلوے پر اعتماد کرتے تھے۔ پھر کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا نے اپنے پنجے جمانے شروع کیے۔
ریلوے کے ٹائم ٹیبل میں گڑبڑ ہونا شرع ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو  کے دور میں اس مافیا نے پہلے ٹرام وے سروس کو ختم کرنے کی مہم شروع کی۔ کراچی میں ٹرام ممبئی سے پہلے چلنا شروع ہوئی تھی، یہ اندرونِ شہر سفرکی بہترسہولت تھی۔ کراچی پولیس حکام نے یہ واویلا شروع کیا کہ ٹرام کی پٹری سے سڑک پر ٹریفک میں خلل پڑتا ہے، اس بناء پر ٹرام کو ختم کیا جائے۔ حکام کے پاس ٹرام کے متبادل چھوٹی منی بسیں تھیں جس میں مسافر مرغا بن کر سفر کرتے تھے۔ دنیا بھر میں الیکٹرک ٹرام پبلک ٹرانسپورٹ کا لازمی جز ہے۔
یہ ٹرام کبھی زیر زمین اورکبھی سڑک پر چلتی ہے۔ حکام نے ٹرام سروس کو دیگر بستیوں تک پھیلانے اور الیکٹرک ٹرام چلانے کے بجائے مجموعی ٹرام وے سروس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، پھر سرکلر ریلوے کے نظام میں رخنہ اندازی شروع ہوئی۔ ٹرانسپورٹ مافیا نے ریلوے کی بدعنوانی اور بیوروکریسی سے ساز باز کر کے ریلوے کے اوقات کار میں گڑبڑ پیدا کرنا شروع کی۔ مسافروں کو وقت پر ریل گاڑی میسر ہونا مشکل ہو گئی۔ انجن کا خراب ہونا، ریل کے ڈبوں کے کھڑکی دروازوں اور روشنی پھیلانے والے بلب کا غائب ہونا معمول بن گیا۔ یوں ریل گاڑیوں کے لیٹ ہونے کا سلسلہ دراز ہوا۔ مسافروں کی تعداد کم ہونے لگی اور ریلوے کا خسارہ بڑھ گیا۔ حکام نے ریلوے کی سروس کو بہتر بنانے کے بجائے گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کی حکمت عملی استعمال کی۔
70ء کی دہائی میں لانڈھی سے اپنے بیمار والد کا علاج کرانے کے لیے جناح اسپتال جانے والے نیوی کے سابق کمانڈر ایوب ملک ذکر کرتے ہیں کہ سرکلر ریلوے جناح اسپتال آنے اور جانے کا اس وقت سستا ترین ذریعہ تھا لیکن سرکلر ریلوے بند ہوگئی۔ کراچی میں لینڈ مافیا ہمیشہ سے مضبوط ہے۔ پولیس، بیورو کریسی، سیاستدان، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے بااثر افراد اس مافیا کے ذریعے سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ لینڈ مافیا نے سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کرلیا اور پلاٹ بنا کر لوگوں کو فروخت کردیے، یوں کئی کالونیاں آباد ہوگئیں۔ ان بستیوں میں بجلی اور گیس کے میٹر لگ گئے۔ کے ڈی اے میں متحرک مافیا نے مکانوں کے مالکان اور مکانوں کو لیز کی دستاویزات تیارکردیں۔
کے ایم سی نے گلشن اقبال میں اردو یونیورسٹی کے سامنے سرکلر ریلوے کی زمین پر اوورہیڈ برج تعمیر کردیا۔ جب پرویز مشرف حکومت نے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے زور دینے پر سرکلر ریلوے کو فعال کرنے کا عزم کیا تو اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے سرکلر ریلوے کاافتتاح کیا مگر یہ ریل گاڑی چنیسر ہالٹ سے سٹی اسٹیشن تک جاتی تھی، یوں شہرکا بیشتر حصہ اس سے مستفید نہیں ہوسکا اورکچھ عرصے بعد یہ ریل گاڑی بند ہوگئی۔ یہی وہ وقت تھا جب ایم کیو ایم کے کارکنوں نے زمینوں پر قبضے اور پلاٹوں کی فروخت کے لیے چائنا کٹنگ رائج کی۔ چائنا کٹنگ والے پلاٹ سرکلر ریلوے کی زمینوں پر بنے۔
جاپان کی حکومت نے اس صدی کے آغاز سے کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کرنے کی پیشکش کی۔ برسر اقتدار حکومتوں نے جاپانی ادارہ جائیکا کی پیشکش کا خیر مقدم کیا۔ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جائیکا والے پہلے تجاوزات کا خاتمہ چاہتے تھے مگر حکومت سندھ ان تجاوزات کو ختم کرانے میں ناکام رہی۔ ایک سینئر صحافی کاکہنا ہے کہ جاپانی حکومت نے اپنی موبائل انڈسٹری کی وجہ سے کراچی کے سرکلر ریلوے کے منصوبے میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ اسی زمانے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے چینی ماہرین کو اس منصوبے کی طرف متوجہ کیا تھا مگر کراچی میں ایم کیو ایم کی نظر نہ آنے والی حکومت کی بناء پر ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔
کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے پبلک ٹرانسپورٹ براہِ راست متاثر ہوئی۔ بسوں اور منی بسوں کے مالکان نے سرمایہ لگانا چھوڑ دیا اور کئی ٹرانسپورٹر تاوان کے لیے اغواء کرلیے گئے، یوں کراچی شہر کا پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہوگیا۔ ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج صاحبان کی سرپرستی میں چین سے مال برداری کے لیے درآمد کیے جانے والے چنگ چی رکشہ ہر طرف چلنے لگے۔ یہ چنگ چی رکشہ پبلک ٹرانسپورٹ کی تعریف میں نہیں آتے۔ پھر سی این جی رکشے اس قطار میں شامل ہو گئے۔ چنگ چی رکشوں میں چوری کی موٹر سائیکلیں استعمال ہونے لگیں۔ کراچی پولیس کی ایماء پر چنگ چی رکشوں پر پابندی لگ گئی تو ایسی صورت میں عوام کے پاس ان رکشوں کا بھی کوئی متبادل نہ تھا، لہٰذا اب عام آدمی کے لیے مشکلات بڑھ گئیں۔ لوگوں نے موٹر سائیکل کو متبادل کے طور پر ذریعہ بنایا، یوں حادثات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ گزشتہ سال ایک ہزار کے قریب افراد حادثات میں ہلاک ہوئے جن میں سے بیشتر موٹر سائیکل سوار تھے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کے جدید شہروں کی طرح کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا حل ماس ٹرانزٹ اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریل گاڑی ، ٹرام اور بڑی بسیں شہر میں چلنی چاہئیں۔ ریل گاڑی اور ٹرام زیرِ زمین ، زمین پر اور اوورہیڈ برج پر چلنی چاہیے۔ سرکلر ریلوے اور گرین لائن بس سروس سے پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ جزوی طور پر حل ہوگا لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ لاہور میں میٹرو بس کو چلے کئی سال ہوگئے اور اب اورنج ٹرین تعمیر کے آخری مراحل میں ہے، جب کہ اسلام آباد میں بھی میٹرو نے شہریوں کی زندگی کو آسان کردیا ہے جب کہ کراچی کے لیے ابھی تک سفرکے لیے کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے۔ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو اس مسئلے پر بھی سوچنا چاہیے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

کراچی نظر انداز کیوں ؟

سندھ کا صوبائی دارالحکومت کراچی وہ واحد شہر ہے جس کی آمدنی سے پورا
ملک چل رہا ہے جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جہاں سے وفاق 62 فیصد سے زائد آمدنی حاصل کر رہا ہے اور اسی آمدنی سے اسلام آباد ترقی کر رہا ہے، جب کہ کراچی انتہائی تباہ حالی کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت نے ساڑھے تین سال میں کراچی کو صرف ایک میگا پروجیکٹ اورنج لائن بس کا دیا ہے، جو 2018 کے انتخابات سے قبل مکمل ہونے تو جا رہا ہے۔ مکمل ہوگیا تو یہ وفاقی حکومت کا کراچی کے لیے بلاشبہ تحفہ ہوگا، مگر تکمیل کی امید کم ہے۔ وزیراعظم ٹرانسپورٹ کے اس اہم منصوبے کے افتتاح کے بعد ہی کراچی کے شہریوں کے ہمدرد سمجھے جائیں گے، مگر انھوں نے اس بڑے منصوبے کے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد کراچی آکر جاری کام کا معائنہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اگر وزیراعظم اس منصوبے کی تکمیل اور معائنے کے لیے وقت نکال لیں اور ملک کے سب سے بڑے شہر کو درپیش مسائل پر بھی توجہ دے دیں تو اہل کراچی کو بھی احساس ہوگا کہ ان کا بھی کوئی ہے۔ کیونکہ اس وقت اہل کراچی سندھ حکومت سے مایوس ہیں اور وفاقی حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وفاق ان کی بھی سنے گا۔

کراچی ملکی معیشت میں نہ صرف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ وہ شہر ہے جہاں ایک روز کی ہڑتال سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا کرتا تھا اور تین عشروں میں بدامنی کی انتہا کے باعث کراچی سے لاتعداد صنعتیں اندرون ملک اور بیرون ملک منتقل ہوئیں جس کی ذمے دار متعلقہ حکومتیں اور کراچی کی نمایندگی کے دعویدار ایم کیو ایم دونوں ہیں، کیونکہ 2013 سے قبل سیاسی اور فوجی حکومتوں نے اپنے سیاسی مفاد اور مصلحت کے لیے متحدہ کو حلیف بنا کر اپنے ساتھ رکھا۔ ایک پہلو متحدہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اسے جب حکومتوں میں رہ کر اختیارات ملے تو اس نے کراچی کو ترقی دی اور متحدہ کے سٹی ناظم کے دور میں کراچی دنیا کا 13 واں میگا سٹی قرار پایا تھا۔ یہ بھی سو فیصد حقیقت ہے کہ کراچی کی تباہی اور بدامنی میں متحدہ بھی شریک رہی، جس کے قائد لندن میں بیٹھ کر اپنے اشاروں سے کراچی بند کراتے رہے اور کراچی میں نصیر اللہ بابر کے جانبدارانہ اور غیر منصفانہ آپریشن میں بے گناہ لوگ مرتے اور مارے جاتے رہے۔

کہنے کو تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں کہتی ہیں کہ ان کے دور میں متحدہ کے خلاف آپریشن ہوا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام آپریشن سیاسی اور متنازعہ تھے۔ (ن) لیگ کی حکومت اور جنرل راحیل کی نگرانی میں کراچی میں جو آپریشن ہوا وہ ایک حد تک کامیاب رہا اور کراچی کا امن واپس لوٹ آیا۔ اس آپریشن کا دائرہ سندھ حکومت نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے اندرون سندھ وسیع نہیں ہونے دیا اور سندھ حکومت نے وہ کمیٹی نہیں بننے دی جو آپریشن کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رکھنے کی پابند ہوتی اور وفاقی حکومت نے پی پی کی خوشنودی کے لیے اعلانات کے باوجود کمیٹی نہیں بنوائی۔
کراچی کے عوام کی اکثریت ہر الیکشن میں متحدہ کو کامیاب کیوں کراتی آئی اس کی وجوہات جاننے کی (ن) لیگ کی وفاقی حکومت کو کوشش کرنی چاہیے تھی، ان وجوہات کی اصل ذمے دار پیپلز پارٹی ہے، جس کے کوٹہ سسٹم اور کراچی سے سوتیلی ماں جیسے سلوک نے متحدہ کی سیاست کو برقرار رکھا اور متحدہ نے کراچی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور حکومتوں کی جانبدارانہ پالیسیوں پر اپنی سیاست کو برقرار رکھا اور کراچی کا ایک عام آدمی بھی محسوس کرتا رہا کہ کراچی سے ناانصافیاں ہو رہی ہیں۔ متحدہ کراچی کی بلاشبہ نمایندگی کی دعویدار بن کر چار سال قبل تک ہر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شامل رہی مگر کراچی کو اس کے حقوق دلا سکی اور نہ ناانصافیاں ختم کرا سکی کیونکہ یہ سب کچھ برقرار رہنے ہی میں متحدہ کی سیاست برقرار رہتی، اس لیے متحدہ نے بھی کراچی کی نمایندگی کا حق ادا نہیں کیا اور پی پی اور (ن) لیگ نے کراچی میں اپنی واضح نمایندگی نہ ہونے کا بدلہ ہمیشہ کراچی سے لیا اور کراچی کے دو کروڑ عوام کے مسائل کو مسلسل نظرانداز کیا۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میں ساڑھے آٹھ سال سے حکومت ہے اور پانچ سال وفاق میں بھی حکومت رہی مگر اس نے لیاری اور اپنے مخصوص دیہی علاقوں پر ہی توجہ دی اور باقی علاقوں سے دشمنوں جیسی پالیسی اختیار رکھی اور کراچی سے صرف زبانی ہمدردی کے دعوے ہوتے رہے۔ پی پی کی حکومت پورے کراچی کے بجائے صرف ان علاقوں کو اپنا سمجھتی ہے کہ جہاں پی پی کا ووٹ بینک ہے اور ان ہی علاقوں کو ترجیح دے کر وہاں رہنے والوں کو شہری آبادی کے نام پر نوکریاں دی گئیں بلکہ اندرون سندھ کے لوگوں کو دیہی کوٹے کے ساتھ شہری کوٹے میں سے بھی ملازمتیں دی گئیں۔ متحدہ نے حکومت میں رہتے ہوئے یہ ناانصافی روکنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی اور نہ حکومت میں رہ کر کوٹہ سسٹم کے خلاف آواز اٹھائی۔ متحدہ کو یہ سب کچھ حکومت سے باہر آکر یاد آتا ہے۔
بھٹو صاحب کے دور میں اردو بولنے والوں میں اہم رہنما اور مشہور نام پی پی میں شامل ہوئے تھے جو بعد میں پی پی کی پالیسی دیکھ کر علیحدہ ہوگئے، جس کی وجہ سے اردو بولنے والے اب بھی پیپلز پارٹی سے دور ہیں اور محض نظریاتی لوگ ہی پی پی میں شہری خصوصاً اردو بولنے والوں کی نمایندگی کر رہے ہیں اور پی پی نے کبھی اس دوری کی وجوہات جاننے اور شکایات دور کرنے پر توجہ نہیں دی اور نہ اردو بولنے والوں اور پی پی کے درمیان دوریاں دور کرنے کی کوشش کی، جس نے اردو بولنے والوں کو متحدہ کو ووٹ دینے پر مجبور کیا اور وہ پی پی کی منفی پالیسی کی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔ (ن) لیگی قیادت نے تو سندھ پہلے ہی پی پی کے حوالے کرکے اندرون سندھ سے اپنا صفایا کرالیا ہے اور اب بھی وقت ہے کہ اسلام آباد کے حکمران کراچی پر توجہ دے کر کراچی میں رہنے والوں کو اس کا حق دیں اور سندھ حکومت کی ناانصافیاں ختم کرائیں جہاں ملک بھر کے لوگ رہتے ہیں مگر ان کی سندھ میں شنوائی نہیں ہو رہی اور وہ بھی میئر کی طرح وفاق کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
محمد سعید آرائیں