کراچی میں سٹریٹ کرائم آج بھی بڑا چیلنج

کراچی کی مرکزی سڑک شاہراہ فیصل پر سورج غروب ہونے کے بعد ایک کار پمپ کے قریب آ کر رکتی ہے، جس میں میاں بیوی اور دو بچے سوار ہیں۔ اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد یہاں پہنچ جاتے ہیں جن میں سے شخص بچوں پر پستول تان لیتا ہے۔ خاتون بغیر کسی مزاحمت کے اپنا پرس اور موبائل فون ان کے حوالے کر دیتی ہیں اور دونوں روانہ ہوجاتے ہیں۔ اسی علاقے میں پولیس موبائل دیکھ کر متاثرین انھیں واقعے سے آگاہ کرتے ہیں، پولیس پیچھا کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیتی ہے اور بعد میں اس کی نشاندہی پر دوسرا بھی گرفتار ہو جاتا ہے۔ ان نوجوانوں کی عمر 20 سے 22 سال کے درمیان ہے اور وہ گذشتہ چند سالوں سے سڑکوں پر لوگوں کو لوٹتے رہے ہیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ چھینے گئے موبائل بیچنے گئے تھے واپسی پر انھیں خیال آیا کہ ’کچھ کرتے چلتے ہیں‘ اور اسی دوران گرفتار ہو گئے۔ کراچی کی سڑکوں سے گذشتہ سال کم از کم 34 ہزار افراد سے موبائل چھینے گئے یا چوری ہوئے۔ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو ان واقعات کی رپورٹ درج نہیں کراتے جس کی بنیاد پر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ان وارداتوں کا شکار ہونے والوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔
جیو ٹی وی سے وابستہ صحافی عظمیٰ الکریم پانچ مرتبہ سٹریٹ کرائم کا شکار ہوچکی ہیں، جن میں سے دو وارداتیں بلوچ کالونی کے پل پر ہوئیں۔ عظمیٰ الکریم نے اسی پل پر وہ مناظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس روز بھی پل پر معمول کے مطابق ٹریفک تھی، ان کی گاڑی کے آگے اور پیچھے گاڑیوں کی قطاریں تھیں اچانک موٹر سائیکل سوار آ کر رکا، شیشہ بجایا اور تھوڑا پیچھے ہو کر گن دکھائی۔ ’میرے شوہر نے اے ٹی ایم سے دس ہزار روپے نکالے تھے، انھوں نے والٹ کھولا اور وہ پیسے نکال کر ان کے حوالے کردیے۔ نوجوان نے کہا کہ شکریہ بھائی جان، اس کے علاوہ انھوں نے کوئی اور چیز نہیں مانگی ہمیں لگا کہ ہمارے علاوہ وہاں موجود دوسرے لوگوں سے بھی یہ واردات ہوچکی ہے۔‘
اسی سڑک پر عظمیٰ الکریم دوسری بار بھی سٹریٹ کرائم کا شکار ہوئیں، اس وقت وہ اکیلی تھیں۔
میں نے عظمیٰ سے پوچھا کہ کیا پولیس کو شکایت کی تو ان انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’موبائل کی ریکوری آج تک کس کی ہوئی ہے کیا؟‘ گورنر ہاؤس میں سٹیزن پولیس لیاژان کمیٹی کے شکایتی سیل میں روزانہ موبائل اور گاڑیوں کے چھیننے اور چوری ہونے کی کئی درجن شکایت موصول ہوتی ہیں۔ سی پی ایل سی کے سربراہ زبیر حبیب کہتے ہیں کہ دن میں ایسی ڈیڑھ سو کے قریب شکایتیں آتی ہیں اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ موبائل فون کی شکایت لے کر تھانے پر جانا نہیں چاہتے۔
سی پی ایل سی نے شہر میں گلشن اقبال، شاہراہ فیصل ، بہادر آباد، شہید ملت روڈ اور ٹیپو سلطان روڈ سمیت ایسے 60 کے قریب ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی ہے جہاں یہ وارادتیں زیادہ ہوتی ہیں، اور بقول زبیر حبیب کے وقت کے ساتھ ساتھ یہ علاقے تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ٹریفک جام ہونا اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں بھی لوگوں کے چھننے یا لٹنے میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ موجودہ وقت ماس ٹرانزٹ کی تعمیر کی وجہ سے کئی سڑکوں پر تعمیرات جاری ہیں جبکہ ٹریفک کا رخ تبدیل ہونے کے باعث ٹریفک کا جام ہونا بھی معمول کی بات ہے۔ کراچی آپریشن کے بعد شہر میں سنگین نوعیت کے جرائم میں واضح کمی ہوئی ہے، لیکن سٹریٹ کرائم آج بھی پولیس کے لیے ایک بڑے چیلینج کے طور پر موجود ہے۔
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ٹیلی کام کمپنیز، پی ٹی اے اور پولیس محکمے کی معاونت سے ایک سافٹ ویئر بنانے کی ہدایت کی ہے جو سم کے ساتھ موجود ہو اور موبائل چھننے کے بعد خودکار نظام کے تحت موبائل فون بلاک ہو جائے۔ ایس ایس پی جنوب ثاقب اسماعیل میمن کا کہنا ہے کہ جب تک ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کریں گے اور چھینے گئے موبائل فون کا دوبارہ استعمال بند نہیں ہوگا یہ وارداتیں روکنا ممکن نہیں۔ ’فون جیسے ہی چھن جاتا ہے اس کی مارکیٹ موجود ہیں جہاں یہ فروخت ہو جاتا ہے اور جو فون بلاک ہو جاتے ہیں تو انھیں سپیئر پارٹس کی صورت میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔‘
سی پی ایل سی اور پولیس کے مطابق موجودہ وقت چوری یا چھینے گئے موبائل کا علاج صرف اس کو بلاک کرنا ہی ہے لیکن اس کا توڑ مارکیٹ میں ہی دستیاب ہے۔ سی پی ایل سی اور پولیس کی ہدایت کے مطابق استعمال شدہ موبائل کی خرید فروخت کے لیے شناختی کارڈ لینا اور رسید بنانا ضروری ہے لیکن اس پر عملدرآمد کم ہی ہوتا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے حکم جاری کیا ہے کہ ان دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس پر عمل درآمد نہیں کرتے۔
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی بمقابلہ لاہور، ایک جائزہ

اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ ملک بھر میں باران رحمت برسی  ہے۔ ورنہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے پورا ملک پریشان تھا۔ صدر مملکت نے تو نماز استسقاء پڑھنے کی اجازت دے دی تھی ۔ حالانکہ یہ کہا جا تا ہے کہ یہ نماز حکمرانوں پر بھاری ہوتی ہے۔ خیر اللہ کا شکر ہے کہ پورے ملک میں بارشیں ہو رہی ہیں۔ پہاڑوں پر برف پڑ رہی ہے۔  حالیہ بارشوں نے پاکستان کے دو بڑوں شہروں کراچی و لاہور میں دلچسپ صورتحال پیدا کی ہے۔ دونوں شہروں میں پیدا ہونے والی صورتحال نے مجھے دونوں شہروں میں موازنہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب لاہور کراچی کا موازنہ کیا جائے گا تو سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کا موازنہ بھی ہو گا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے سندھ اور پنجاب میں حکومتوں کا دورانیہ ایک جیسا ہے۔
سندھ میں پیپلزپارٹی 2008 سے جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ 2008 سے برسر اقتدار ہے۔ اس طرح دونوں کا کم از کم سندھ اور پنجاب کے بڑے شہروں کی حد تک موازنہ تو جائز ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے برا شہر ہے۔ کراچی پاکستان کا معاشی دارلخلافہ ہے۔ اس کی ترقی سے ہی پاکستان کی ترقی ہے۔ لیکن پھر بھی نہ جانے کراچی لاہور سے کیوں پیچھے رہ گیا ہے۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی نہ تو وسائل کی کمی کا بہانہ کر سکتی ہے اور نہ ہی اس ضمن میں پنجاب کو کسی بھی طرح مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے ۔ لیکن شہری سہولتوں اور شہری ترقی میں یہ شاید پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ کراچی میں بارش کے بعد پورے شہر میں پانی کھڑا ہو گیا ہے۔ سڑکوں پر کھڑے پانی نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان  لگا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بارش کا مزہ لینے اور سڑکوں پر کھڑے پانی کا جائزہ لینے کے لیے شہر کے دورہ پر نکلے۔ ان کے شہر کے دورہ پر نکلنے پر مجھے وزیر اعلیٰ پنجاب کی کا فی سال پہلے کی ایک تصویر یاد آ گئی جسے میڈیا میں بہت شہرت ملی تھی۔ لاہور کے مشہور لکشمی چوک جہاں کئی دہائیوں سے بارش کے بعد کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہو جاتا تھا میں وہ بارش کے بعد کھڑے پانی میں اپنے لانگ شوز پہن کر چلے گئے۔ شہباز شریف کا لانگ شوز پہن کر بارش کے کھڑے پانی میں گھس جانے کو ان کے مخالفین نے شعبدہ بازی قرار دیا۔ اور ان پر بہت تنقید کی ۔ لیکن آج لکشمی چوک میں پانی کھڑا ہونے کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
وہاں جمع ہونے والا پانی اب آدھے گھنٹے میں ہی نکل جاتا ہے۔ یقینا لاہور میں نکاسی آب پر شہباز شریف حکومت کی جانب سے گزشتہ سالوں میں بہت توجہ دی گئی ہے۔ جن کے ثمر ات آج نظر بھی آرہے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف کراچی میں نکاسی آب پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ جس کا نتیجہ حالیہ بارشوں کے بعد نظر بھی آ رہا ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر کراچی کی اس ابتر صورتحال کا ذمے دار پیپلزپارٹی کے آٹھ سالہ دور حکومت کو قرار دے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان آٹھ سالوں میں وسیم اختر کی جماعت کتنے سال پیپلزپارٹی کے ساتھ شریک اقتدار رہی ہے۔ لیکن چلیں یہ مسئلہ اس طرح حل ہو گیا ہے کہ محکمہ موسمیات نے کراچی میں بارشیں نہ ہونے کی پیشنگوئی کر دی ہے۔ 
آپ صفائی کو ہی لے لیں۔ لاہور میں صفائی کی صورتحال کو دیکھیں اور کراچی میں صفائی کی صورتحال کو دیکھیں۔ ویسے تو مئیر کراچی وسیم اختر نے شہر کی صفائی کے سو دن کا پروگرام شروع کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شہر کی صفائی کے لیے انھیں اختیارات درکار ہیں۔ یعنی نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ جب کہ کراچی ہی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ شہر کی صفائی کے لیے کسی اختیارکی کوئی ضرورت نہیں۔ لاہور میں صفائی کے لیے پانچ سال قبل ایک ترک کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا۔ جب یہ ٹھیکہ دیا گیا تو پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کا بہت مذاق اڑایا تھا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ شہر کی صفائی ایک جدید کام ہے۔ آپ دیکھیں کہ شہباز شریف کے فیصلہ کے پانچ سال بعد پیپلزپارٹی بھی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کراچی کی صفائی کے لیے انھیں بھی ایک ماہر کمپنی کی ضرورت ہے۔ لیکن پانچ سال ضایع کرنے کے بعد یہ بات  پیپلزپارٹی کی سمجھ میں آئی ہے۔ اس طرح بلا شبہ صفائی میں بھی کراچی لاہور سے پانچ سال پیچھے رہ گیا ہے۔ میٹرو بھی اسی طرح کی ایک مثال ہے۔
اسی پیپلزپارٹی نے جب لاہور میں پہلی میٹرو بنائی گئی تو تنقید کی انتہا کر دی۔ اور اس کو ایک فرسودہ اور نا کام منصوبہ قرار دیا۔ لیکن آج وہی پیپلزپارٹی خود کراچی کے لیے سرکلر ریلوے سمیت میٹرو طرز کے منصوبوں کی قائل ہو چکی ہے۔ لیکن شاید  یہ بات سمجھنے میں بھی پیپلزپارٹی کو پانچ سال لگ گئے۔ ان پانچ سالوں میں لاہور اورنج لائن کے قریب پہنچ گیا ہے۔ راولپنڈی ملتان اور فیصل آباد میں بھی میٹرو بن گئی ہیں۔ جب کہ پیپلزپارٹی ابھی کراچی کا ہی کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔ سندھ کے باقی شہروں کے بارے میں سوچنا تو دور کی بات ہے۔
اسی طرح لاہور میں بننے والے پل سڑکیں انڈر پاس یقینا کراچی سے ترقی میں جیت کا اعلان کر رہے ہیں۔ کراچی سے سوشل میڈیا activist  ریحان اللہ والا لاہور آئے اور ان سے ملاقات ہوئی۔ ان سے کراچی اور لاہور کے موازنہ پر بھی بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ ایک وقت تھا کہ اہل لاہور جب کراچی آتے تھے تو کراچی پرر شک کرتے تھے اور کراچی کو روشنیوں کا شہر کہتے تھے لیکن کراچی کا شہری ہونے کے ناطے میں یہ کہتا ہوں کہ اب صورتحال بدل گئی ہے اب اہل کراچی لاہور پہنچ کر رشک کرتے ہیں اور لاہور کو روشنیوں کا شہر کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ کراچی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ہر رنگ نسل کو بلا امتیاز روزگار دیتا ہے لیکن اب یہ امتیاز بھی لاہور کو حاصل ہوتا جا رہا حتیٰ کہ  یہاں ہر رنگ نسل کو بلا امتیاز روزگار مل رہا ہے۔ پہلے لوگ لاہور سے کراچی ہجرت کرتے تھے اور اب کراچی سے لاہور ہجرت کرتے ہیں۔
جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو ان کی جانب سے نئی تشہیری مہم بدل گیا ہے خیبر پختونخواہ میں سڑکوں اور پلوں کو دکھانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تحریک انصاف بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتی کہ کسی بھی شہر کی ترقی میں انفرااسٹرکچر بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تحریک انصاف کی کے پی کے حکومت نے بھی پہلے شہباز شریف کے ان اقدامات کی بہت مخالفت کی لیکن اب شاید آہستہ آہستہ انھیں بھی ان اقدامات کی اہمیت کا انداذہ ہو گیا ہے۔ لیکن شاید تحریک انصاف سے بھی بہت دیر ہو گئی ہے۔
مزمل سہروردی

کراچی : یومیہ 20 کروڑ گیلن غیر معیاری پانی کی سپلائی

کراچی میں یومیہ 20 کروڑ گیلن بغیر فلٹر اور بغیر کلورینیشن پانی کی فراہمی کی
جارہی ہے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کے پاس پینے کے پانی کو مناسب انداز میں کلورینشن کرنے اور مضر صحت اجزاء کی موجودگی کی جانچ کا نظام بھی موجود نہیں۔ پورٹ قاسم اتھارٹی کے حدود میں قائم صرف 180 صنعتی یونٹس کے پاس اپنے فضلے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹس موجود ہے اور بیشتر فضلہ بغیر مناسب انتظام کے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی مختلف اہم تنصیبات اور پورٹ قاسم کے علاقے میں موجود فضلے کے ٹریٹمنٹ پلانٹ کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ کے ڈبلیو ایس بی اور سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کے حکام، سول سوسائٹی آرگنائزیشن کے اراکین، پٹیشنر اور متعدد صحافی بھی موجود تھے۔ کراچی واٹر اینڈ سیورج بورڈ کے سابق میجنگ ڈائریکٹر محمد سلمان چانڈیو اور پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کمشین کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مذکورہ کمیشن سپریم کورٹ کی جانب سے سندھ کے عوام کیلئے صاف ماحول، پینے کے صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی فراہمی میں ریاستی ناکامی کی تحقیقات کیلئے بنایا گیا، جس کی رپورٹ 6 ہفتے میں تیار کرکے پیش کی جائے گی۔ کمیشن کو سندھ ماحول تحفظ ایکٹ 2014 کے حوالے سے سیپا کے کردار کی جانچ کا کام بھی سونپا گیا ہے۔ بغیر فلٹر پانی کی فراہمی کے حوالے سے اہم اور خوفناک انکشافات پپری پمپنگ فلٹر پلانٹ پر موجود کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے حکام نے کیے، ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پلانٹ میں صرف 60 فیصد پانی کو فلٹر کرنے کی سہولت موجود ہے جبکہ شہر کو فراہم کیے جانے والے پانی کی دیگر مقدار بغیر فلٹر کے سپلائی کی جاتی ہے۔

کے ڈبلیو ایس بی کے ڈپٹی میجنگ ڈائریکٹر فار ٹیکنیکل سروسز اسد اللہ خان کا کہنا تھا کہ ‘سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دریائے سندھ سے شہر کو فراہم کیے جانے والے 55 کروڑ گیلن پانی میں سے 20 کروڑ گیلن پانی بغیر فلٹر کے فراہم کیا جاتا ہے’۔ کمیشن کے سربراہ کو بریفنگ دیتے ہوئے افسر کا مزید کہنا تھا کہ نظام کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے تا کہ فلٹر کرنے کی سہولت میں اضافہ کیا جا سکے۔ کے ڈبلیو ایس بی کے افسر کے مطابق مالی مشکلات کی وجہ سے بورڈ کی توجہ نظام میں بہتری کے بجائے پانی کی سپلائی کرنے پر مرکوز ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ پلانٹ میں کلورین کے استعمال سے جراثیم مر جاتے ہیں جو فلٹر کیے ہوئے پانی میں باقی رہ سکتے ہیں۔ کے ڈبلیو ایس بی کے افسر کا کہنا تھا کہ ‘فلٹریشن کی سہولت میں کمی کی وجہ سے ہم سارے پانی کو کلورین کے ذریعے صاف کرتے ہیں جس سے پانی کا معیار بہتر ہو جاتا ہے جبکہ فلٹریشن سے صرف پانی میں موجود ذرات علیحدہ کیے جاتے ہیں’۔ کمشین کے ہمراہ پانی فراہم کرنے کی سہولیات کا دورہ کرنے والے بیشتر افراد پپری فلٹر پلانٹ کی لیبارٹری میں پانی کی معیار کی یومیہ جانچ کا ریکارڈ دیکھ کر حیران رہ گئے جب انھیں بتایا گیا کہ پانی کے معیار کو روزانہ کی بنیاد پر جانچ پڑتال نہیں کیا جاتا۔
اس کے علاوہ لیبارٹری کے پاس پانی میں موجود بھاری دھاتوں کی جانچ کی سہولت بھی موجود نہیں ہے، یہ پانی کینجھر جھیل سے لیا جاتا ہے جس میں قریبی علاقے میں قائم صنعتوں کا پروسس کے بغیر فضلہ بھی شامل ہوتا ہے۔
پپری فلٹر پلانٹ کے ذریعے لانڈھی، ملیر، کورنگی، اختر کالونی، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور شاہ فیصل کے علاقوں میں پانی کی سپلائی کیا جاتی ہے، اس ذخیرے کی حالت انتہائی خراب تھی۔ دھابے جی پمپنگ اسٹیشن کے دورے کے موقع پر کے ڈبلیو ایس بی کے عہدیدار نے بتایا تھا کہ شہر کو 50 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
کے ڈبیلو ایس بی کے حکام نے کمیشن کو بتایا کہ ‘یہ سب فنڈز کی کمی کی وجہ سے ہے، جبکہ ذخیرہ گاہ کی صفائی کیلئے 3 سے 4 ماہ کا عرصہ درکار ہے جسکے ہم متحمل نہیں ہوسکتے’۔ اس موقع پر پی سی آر ڈبلیو آر کے ماہرین نے پانی کے نمونے بھی حاصل کیے۔ پی سی آر ڈبلیو آر کے ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کراچی، حیدرآباد، بدین، سکھر، ڈنڈو محمد خان اور شکارپور سے 200 سے زائد نمونے حاصل کیلئے ہیں اور ان کے جانچ کی رپورٹ آئندہ 15 روز میں کمیشن کو بھیج دی جائے گی۔ مذکورہ معلومات کو کمیشن اپنی رپورٹ میں شامل کرکے آنے والے ہفتوں میں سپریم کورٹ کو پیش کردے گا۔ بعد ازاں کمیشن نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے چھوٹے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا دورہ بھی کیا جو مخصوص عرصے میں ہی کام کرتا ہے۔ اس موقع پر کمیشن نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ کچھ صنعتی یونٹس فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کام انجام نہیں دے رہے ہیں۔