شہر کراچی

لگ بھگ بیس سال ہونے کو آئے مجھے کراچی میں، اس سے پہلے دس سال کے قریب اسلام آباد میں گزارے۔ شاہراہوں پر میری گاڑی اڑتی تھی۔ ترتیب تھی، سمت تھی، خواہ کتنا ہی اسلام آباد ہموار نہیں تھا۔ پہاڑ و میدان کا سنگم ہے یہ شہر۔ یوں تو اسلام آباد بھی وہ نہیں رہا جو کہ تھا، اب تو وہاں پر بھی راستوں پر لمبی لمبی قطاریں، ٹریفک جام کے مسائل رہتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی تاریخ کا جتنا بدنصیب شہر کراچی ہے، شاید ہی کوئی ہو۔ سمندروں کے عیال تھامے، مختلف زباں و نسل، فرقے و مذاہب، زباں و رنگ کے لوگ اس کے باسی ہیں۔ جتنا وشال یہ شہر ہے جو آئے وہ پائے، یہاں روزگار، نہ کوئی اجنبیت کا احساس، نہ کبھی یہ شہر چھوڑنے کا گماں۔ شاید ہی کوئی ایسا شہر ہو اِس مملکت خداداد کا۔ وفاق کی تجوری میں سب سے زیادہ سکے بھی یہ ڈالے، سب سے زیادہ ہنرمند یہاں کے شہری ہیں، مگر پاکستان کی دو بڑی طاقتیں اسٹیبلشمنٹ اور جمہوریت کے نام پر بنی حکومتوں کو اس شہر کی پرواہ ہی نہیں۔ اسے کہتے ہیں Locus of power وہ بھی ایک ایسا ملک جہاں انصاف و عدل صرف کتابوں میں محفوظ ہے۔
جنرل مشرف یہاں کے تھے، لیاقت علی خان کے بعد دوسری مرتبہ تھا کہ کراچی کو اقتدار حد سے زیادہ ملا۔ ہوا کیا؟ سب اڑ گیا۔ اس سے کراچی کو کچھ حاصل نہ ہوا، سوائے ایک مخصوص طبقے کے۔ جس طرح NFC  میں سندھ کو اب بھی اتنا نہیں میسر، لیکن ماضی کے مقابلے میں بہت کچھ۔ اس کے بعد بھی سندھ کے لوگوں کی تقدیر تبدیل نہ ہوئی، فقط ایک مخصوص ٹولے کی چاندی سنور گئی۔ اتنی گھمبیر ہے اس ملک کی سیاست کہ اس ملک کی شرح نمو جو کہ ہندوستان کی طرح 7  فیصد ہونی چاہیے تھی، وہ نہ ہوسکی۔ مجھے یاد ہے وہ زمانہ کہ کراچی میں، میں نے ٹرام چلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور ڈبل ڈیکر بسیں بھی، جو کہ اب تک لندن میں چلتی ہیں۔ خدا نہ کرے کہ اس شہر میں کوئی VIP آجائے گھنٹوں گھنٹوں، میلوں میلوں گاڑیوں کی طویل قطاریں، آدمی اگر پیدل چلے تو گھر پہلے پہنچ جائے، یا پھر اسکوٹر رکھے۔ جس طرح لاڑکانہ گدھا گاڑیوں کا شہر ہے، اسی طرح کراچی اب اسکوٹروں کا شہر ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی وجود ہی نہیں، اگر اکا دکا آپ کو مل ہی جائیں، اتنی بدحال وہ بسیں ہوتی ہیں کہ صرف ان میں بوریاں لاد دی جائیں تو بہتر ہیں۔ بہت ہی مفلس لوگوں کی سواری ہے یہ پبلک ٹرانسپورٹ، اور وہ بھی دن بدن سکڑتی جائے، جب کہ آبادی دن بدن بڑھتی جائے۔ اتنی بڑھتی جائے کہ شاید ہی کسی اور شہر میں ہو۔ جتنے زیادہ گھر ہوں گے اس شہر میں، اتنی ہی گاڑیاں ہوں گی اور اسکوٹروں، سائیکلوں کو بھی خاطر میں لیا جائے تو پھر یوں کہیے کہ ہر فرد کے پاس اپنی سواری ہے۔ دو کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں، ایک کروڑ مختلف سواریاں۔ تو یہ آدمیوں کا شہر ہے یا اسکوٹروں، سائیکلوں، گاڑیوں کا؟ اور اس کے اوپر پھر اس شہر کے اندر ایک ٹرانسپورٹ مافیا بھی ہے جو راہ چلتے ہوئے کسی بھی فرد کے اوپر چڑھ سکتی ہے اور بیچارہ FIR کٹوانے سے بھی گیا۔ جتنے بھی اس شہر کے تھانے ہیں، چرس و گانجا بیچنے والوں کے علاوہ مستقل مزاجی سے اگر کوئی ان کو پیسے پہنچاتا ہے تو وہ ٹرانسپورٹ مافیا ہے۔
آپ اپنے گھروں میں رہیں یا دفاتر میں بیٹھیں، کھڑکی کھولیں کہ کوئی باہر کی ہوا آپ کو میسر ہو تو اس سے پہلے شور و ہنگامہ آپ کے کانوں میں چیرتا ہوا اترتا ہے۔ یہاں نہ کوئی اورنج بس ہے، نہ ٹرام، نہ سرکلر ریل، پانی کی فراہمی اتنی بدحال، کہ یہاں پر ٹریفک مافیا کے علاوہ ایک اور مافیا ہے اور وہ ہے ٹینکر مافیا۔
اور کچھ مافیائیں مر بھی گئیں، کلاشنکوفوں، بوری میں بند لاشوں، ٹیلیفونک خطابوں سے جان تو چھوٹی، مگر اب بھی اس شہر کی سیاسی سمت پر طرح طرح کے سوالیہ نشان ہیں۔ کوئی بیچے تو کیا بیچے، مہاجروں کو فلسفہ بیچے یا مذہبوں کا کاروبار کرے۔ یہاں پر لیاری بھی ہوتا ہے جہاں آدمی سے آدمی بھرا ہوا ہے۔ یہ اس شہر کی قدیم بستی ہے۔ اس علاقے کے باشندے بھٹو کے شیدائی تھے۔ وہ بھی اس نام پر لٹ گئے۔
اگر آپ 80 کی دہائی میں جائیں تو اس شہر سے بڑا پاکستان کا کوئی شہر نہ تھا، خواہ وہ انفرااسٹرکچر کے اس علاقے کے حوالے سے ہو، صنعتی پیداوار ہو یا تعلیم و ہنر کے حوالے سے۔ اور اگر 70 کی دہائی میں جائیں تو کمال تھا یہ شہر کہ جیسے کوئی جمال ہو۔ کھلا ہوا یہ شہر، آسمانوں سے باتیں کرتا ہوا یہ شہر۔ زلفوں اور گیسوؤں، چوڑی دار پاجامے، بڑے بڑے بالوں والے نوجوان، ڈرین پائپ پتلون اوڑھے، بش شرٹ پہنے، ویسپاؤں اور ففٹی اسکوٹروں پر رواں دواں، فقط کراچی یونیورسٹی ہی تو تھی اس وقت، جب الطاف بھائی بھی ففٹی اسکوٹر پر چل کر آتے تھے اور میرے دوست حاصل بزنجو بھی اور کئی اہلِ سخن، اہلِ ادب، انقلاب کے متوالے، سبط حسن جیسے دانشور بھی۔
کتنے سارے سارے خیالات و افکار تھے، اس زمانے میں قہوہ خانے تھے، چوراہے تھے، آدمیت پرستی تھی، ادارے تھے کہ ہمارے کراچی ایئرپورٹ کی وہ حیثیت تھی جو کہ اب دبئی ایئرپورٹ کی ہے۔ دنیا کے اْس اَور سے اِس اَور جانے کے لیے کئی سرائے تھے۔ ان دنوں نہ ٹینکر مافیا تھی، نہ ٹرانسپورٹ مافیا، نہ اتنے مدارس تھے، نہ اتنی نفرتیں بیچنے والے۔ سب خوش ہیں کہ کراچی اپنے اندر، اپنے آپ سے گتھم گتھا ہو، اسے یہ خبر بھی نہ ہو اس کا کتنا کچھ کوئی اور لوٹ کر چلا جاتا ہے۔ وہ جو وفاق کی تجوری میں کروڑوں اربوں دیتا ہے، اسے اس کے عیوض ملتی کوڑیاں ہیں۔
جمہوریت آئے تو وڈیروں کی حکومت، جِن کو اس شہر سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ شہر ان کو ووٹ نہیں دیتا۔ جو انھیں ووٹ دیتے ہیں، ان کو اِن کی پرواہ نہیں۔ اور اگر آئے آمریت تو مخصوص یہ ٹولہ اپنے ووٹروں کو یہ باور کراتا ہے کہ وڈیروں کی جمہوریت سے لانگ بوٹوں کی غلامی بہتر ہے۔ حقیقت کیا ہے اس کے برعکس۔ کراچی کا بیانیہ یہ ہے کراچی کو اپنا یہ بیانیہ ڈس گیا ہے۔ میں جب کراچی شہر سے جامشورہ سے گزر کے سیہون جا رہا تھا، راستے میں موٹر وے آیا، وہ بھی کسی ستم سے کم نہیں تھا۔ ابھی بن کر مکمل ہوا نہیں ہے کہ انھوں نے 120/=  روپیہ فی گاڑی لینا شروع کر دیا ہے۔ گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک جام۔ کوئی متبادل راستہ نہیں۔ یہ کوئی لاہور اور پِنڈی کے درمیان چلتا ہوا موٹر وے نہیں جو بالکل نیا نیا بنایا گیا تھا، وفاق کی تجوریوں سے پیسے نکال کر۔ یہ تو صدر ایوب کے زمانے کا بنا ہوا اس ملک کی شاہکار ترین شاہراہ سپرہائی وے تھا، جس کو بہتر کرکے موٹر وے کا نام دیا گیا ہے۔ یوں کہیے کہ انفرااسٹرکچر ملے تو بھی مصیبت اور نہ ملے تو بھی مصیبت۔ ہماری مظلومیت اگر آپ نے دیکھنی ہے تو ذرا غالب سے رجوع کیجیے۔
ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
اک شمع تھی دلیل سحر، سو وہ بھی خموش ہے
جاوید قاضی 

لیاری میں امن کے لیے

لیاری میں ایک گینگسٹر نور محمد عرف بابا لاڈلہ کی ہلاکت کے بعد لیاری میں مستقل امن قائم ہو جائے گا ؟ مگر لیاری کے حالات سے واقفیت رکھنے والے اس بارے میں مایوسی کا شکار ہیں۔ میڈیا کے مطابق بابا لاڈلہ 2 فروری کو رینجرزکے چاق وچوبند دستے سے مقابلے میں ہلاک ہوا،ایک بڑے گینگسٹرکی ہلاکت سے لیاری کے لوگوں کوسکون میسر ہوا، بابا لاڈلہ کا تعلق عذیر بلوچ گروپ سے ہے۔
عذیر بلوچ گزشتہ سال دبئی میں گرفتار ہوئے تھے۔ عذیر بلوچ کی حراست کے دوران ویڈیوزکا ذرایع ابلاغ پر ذکر ہوتا رہا، پھر یہ معاملہ پس پشت چلا گیا۔ عذیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کے خلاف ایک اور گینگسٹر ارشد پپوکے قتل سمیت سیکڑوں مقدمات درج تھے۔ بابا لاڈلہ کالعدم پیپلزامن کمیٹی کے عسکری ونگ کا انچارج کہلایا جاتا تھا۔ عذیر بلوچ، رحمن بلوچ کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد اپنے گینگ کا سربراہ بنا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ 2003ء میں عذیر بلوچ کے والد فیض بلوچ عرف ماما فیضو کو ارشد پپو نے قتل کرایا تھا۔عذیر بلوچ انتقام کے لیے رحمن ڈکیت کے گروپ میں شامل ہوا تھا۔ جب 2007ء میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو شہید کراچی پہنچی تھیں تو رحمن بلوچ اور ان کے کمانڈوز نے انھیں سیکیورٹی فراہم کی تھی مگر پھر لیاری میں گینگ وار میں شدت کے بعد رحمن بلوچ لاپتہ ہوگیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ رحمن بلوچ کی کوئٹہ میں گرفتاری کی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں مگر وہ پھرکراچی میں منظر عام پرآ گیا تھا۔ بعد میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کی سربراہی میں پولیس دستے اور رحمن بلوچ کے درمیان مبینہ پولیس مقابلے میں رحمن اور اس کے کئی ساتھی ہلاک ہوئے تھے مگر رحمن بلوچ کی ہلاکت کے بعد لیاری میں گینگ وار جاری رہی، اور ایک ایسا وقت آیا تھا کہ لیاری پر ان عناصر کا قبضہ ہوگیا تھا۔
لیاری پاکستان کی وہ بستی ہے جہاں کے لوگوں کا سیاسی شعور سب سے زیادہ بلند ہے۔ لیاری نے ملک میں چلنے والی جمہوری تحریکوں اورخاص طور پر بلوچستان میں چلنے والی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 20 ویں صدی کی ابتدائی دھائیوں میں لیاری کانگریس کا مضبوط گڑھ تھا۔ لیاری میں قائم کھڈا مدرسہ کے اکابرین نے انگریز مخالف تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ مولانا عبیداﷲ سندھی کی ریشمی رومال تحریک میں کھڈا مدرسہ کا اہم کردار رہا۔ اسی طرح بلوچ سردار نور الدین مینگل کی انگریزوں کے خلاف  مزاحمی تحریک کی حمایت بھی کھڈا مدرسہ کے اکابرین نے کی تھی، اس کے بعد لیاری مسلم لیگ کی تحریک کا مرکز بن گیا۔ جب ایوب خان کے دور میں ریاست قلات پر فوجی آپریشن ہوا۔ سردار نوروز خان نے فوجی آپریشن کے خلاف بغاوت کی اور بعد میں فوجی حکام نے  نوروز خان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبورکیا تھا۔ نوروزخان،اس کے بیٹے اور بھتیجوں کو سزائے موت دی گئی۔ نوروزخان کی بیماری کی بناء پر اس کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی گئی اور بیٹے اوربھتیجوں کو پھانسی دی گئی۔
اس صورتحال میں لیاری غم وغصے کی لہر میں ڈوب گیا تھا۔ لیاری کے لوگوں نے سابق صدرایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کرکے  حکومت کے خلاف اپنی نفرت کا اظہارکیا تھا اور قومی اسمبلی کے انتخاب میں عبدالباقی بلوچ کی حمایت کی تھی۔ صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں لیاری والے ایوب مسلم لیگ کے امیدوار حبیب اﷲ پراچہ کے مقابلے میں میر غوث بخش بزنجو کی قیادت میں متحد ہوگئے تھے اور میر بزنجو ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے۔ لیاری کے عوام نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حمایت کی مگر جب 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو برطرف کیا اور بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا تو لیاری کی راہداریوں پر بلوچ مزاحمتی تحریک سے یکجہتی کے نعرے نظر آنے لگے۔ جب جنرل ضیاء نے پہلے منتخب وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تو لیاری کے ہرگھر میں مہینوں سوگ منایا گیا۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے لاتعداد سیاسی کارکن پابند سلاسل ہوئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔
1983ء کی ایم آر ڈی کی تحریک میں جب نیشنل پارٹی کے سربراہ میرغوث بخش بزنجو آٹھ چوک پرگرفتاری دینے کے لیے آئے تو پولیس نے ہجوم کو منتشرکرنے کے لیے آنسوگیس کے اتنے گولے پھینکے کہ اطراف کے گھروں تک میں سانس لینا مشکل ہو گیا۔ بی بی سی کے مارک ٹیلی ان دنوں لیاری میں رپورٹنگ پر  مامور تھے۔ گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں بلوچستان میں صورتحال بگڑنا شروع ہوئی۔ جسٹس مری کے قتل کے الزام میں مری قبیلہ کے سربراہ سردارخیر بخش مری گرفتار ہوئے اور بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی سیاسی کارکن بھی اس لہر میں لاپتہ ہوئے۔
سردار خیر بخش مری اورسردار اکبر بگٹی اوروفاقی حکومت کے مابین کشیدگی کا آغاز ہوا۔ یہی وہ وقت تھا کہ لیاری میں جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ لیاری میں سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے اوران کی پرامن سرگرمیوں کو روکنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سینئر کارکن گھروں میں مقید ہو گئے اور بعض لیاری چھوڑ گئے۔ جرائم پیشہ گروہوں کو اسلحے کی فراہمی شروع ہو گئی۔ ان جرائم پیشہ گینگسٹروں نے لیاری کے مختلف علاقوں میں اپنی کمین گاہیں قائم کر لیں۔
بلوچستان میں آپریشن میں شدت کے ساتھ ہی لیاری بھی گینگ وار کا شکار ہو گیا۔ پیپلز پارٹی جو لیاری کی حقیقی وارث تھی اس کے رہنماؤں نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف جدوجہد کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ پیپلزپارٹی کی چوتھی حکومت میں صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا نے ایم کیو ایم کو شکست دینے کے لیے پیپلز امن کمیٹی قائم کی۔ پیپلز امن کمیٹی نے ایم کیو ایم سے جنگ کو شہر بھر میں پھیلا دیا اورایک نیا لسانی تضاد ابھر کر سامنے آیا۔
سابق صدرآصف زرداری نے نئے لسانی تضاد کو روکنے کی کوشش کی مگر پیپلز پارٹی میں سیاسی کلچر نہ ہونے کی بناء پر اپنے شریک چیئرپرسن کی بصیرت افروز بات کو کارکن سمجھ  نہ پائے۔ اس نئے لسانی تضاد کا شکار کئی بے گناہ ہوئے۔ لیاری کی گینگ وار کا سب سے زیادہ لیاری والوں کو ہی نقصان ہوا۔ روزانہ 10 سے 12 افراد کی ہلاکت نے ترقی کے عمل کو روک دیا۔ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد آپریشن ضربِ غصب شروع ہوا۔ کراچی میں بھی اس آپریشن کا دائرہ وسیع ہوا۔ لیاری میں گینگسٹر پولیس اور رینجرز کے مقابلوں میں مارے جانے لگے۔ عذیر بلوچ گرفتار ہوا، بابا لاڈلہ کی پاک افغان سرحد پر ہلاکت کی خبریں بار بار آئیں، مجموعی طور پر لیاری میں حالات بہت بہتر ہوئے۔ لوگ اب رات گئے لیاری آنے اور جانے لگے مگر پھر بھی مختلف گینگسٹرزکے درمیان جھڑپوں اور نوجوانوں کی ہلاکتوں کی خبریں آنے لگیں۔
اس صورتحال میں یہ سوال ابھر کر سامنے آیا کہ لیاری کو فراہم کی جانے والی اسلحے کی سپلائی لائن  کیوں کٹ نہ سکی؟ جرائم پیشہ افراد کو منشیات کہاں سے ملنے کا سلسلہ برقرار رہا؟ یہ خبریں بھی آئیں کہ بااختیار اتھارٹی نے بعض گروہوں کو انھیں غیرقانونی سرگرمیوں کی اجازت دی ہے، یوں 5 میل کے دائرے میں محیط آبادی والے علاقے کے راستے بند نہ ہوئے اور اس کا فائدہ جرائم پیشہ افراد کو ہوا۔ لیاری میں جرائم میں ملوث افراد میں سے بیشتر نوجوان ہیں۔ ان میں سے اکثر کی عمریں 25 سال سے کم ہیں۔ یہ نوجوان مختلف وجوہات کی بناء پر جرائم کی دنیا میں شامل ہوئے۔ جو نوجوان پولیس مقابلوں میں بچ گئے یا پولیس کے ہاتھوں گرفتار نہیں ہوئے ان کی تعلیم وتربیت اور مہذب معاشرے میں ان کی شمولیت کا کوئی منصوبہ شروع ہونا چاہیے تا کہ مستقبل میں یہ لوگ کسی مجرم کے پیروکار نہ بنیں۔
کچھ صحافیوں کا خیال ہے کہ مقتدرہ مجرمانہ ماضی رکھنے والے بعض افراد کو 2018ء کے انتخابات میں کوئی کردار دے گی۔ بیشتر سیاسی کارکن یہ رائے ظاہرکررہے ہیں کہ لیاری میں پائیدار امن کے لیے بلوچستان میں مستقل امن ضروری ہے۔ بہرحال صرف چند گینگسٹرز کی ہلاکتوں سے لیاری میں مستقبل امن قائم نہیں ہوگا۔ لیاری اور پورے کراچی میں مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ شہر کواسلحے سے پاک کیا جائے، بیروزگاری ختم کی جائے، عدالتی نظام کو بہتر بنایا جائے، گواہوں کے تحفظ کا قانون بنایا جائے اور نوجوانوں کے ذہنوں کی تبدیلی کے لیے قانون کی حکمرانی کی اہمیت کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کے لیے لائحہ عمل تیارکیا جانا بھی اشد ضروری ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان 

شارع فیصل کو کشادہ کرنے کا کام شروع

ہوٹل میٹروپول سے اسٹارگیٹ تک شارع فیصل کو کشادہ کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے منصوبے کے تحت ساڑھے 13 کلومیٹرشارع کی توسیع، فٹ پاتھ ، برساتی نالے کی تعمیرنواوراسترکاری کا کام جون تک مکمل کرلیا جائے گا۔ منصوبے پر 900 ملین روپے لاگت آئے گی، تفصیلات کے مطابق محکمہ بلدیات نے شارع فیصل پر ٹریفک جام کا مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہوٹل میٹروپول سے اسٹارگیٹ تک شارع کوکشادہ کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے ، منصوبے کے تحت شارع کے دونوں اطراف جہاں 3 ٹریک ہیں وہاں ایک اور ٹریک کااضافہ کیا جائے گا، ایک ٹریک پر کارساز سے نرسری تک جبکہ دوسرے ٹریک پر نرسری تا کارساز تک شارع کو اکھاڑا جا رہا ہے۔
انجینئرز نے بتایا ہے کہ سڑک کی استرکاری کے لیے شارع کی بالائی سطح کومعمولی اکھاڑا جا رہا ہے، جس پرٹریفک رواں ہے اس لیے ٹریفک جام کا کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم سڑک کی استرکاری کے وقت ٹریفک جام کے مسائل سامنے آ سکتے ہیں جس کے لیے منصوبہ بندی کے تحت پہلے 2 ٹریک کی استرکاری کی جائے گی اورایک ٹریک پرٹریفک جاری رہے گا، پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو نے بتایا کہ شارع فیصل کا یہ منصوبہ سڑک کو کشادہ کرنے کا ہے جہاں 4 ٹریک موجود نہیں وہاں ایک اورٹریک کااضافہ کیا جائے گا جس کے لیے فٹ پاتھ کو چھوٹا کر دیا جائے گا، ہوٹل میٹروپول تا ریجنٹ پلازہ دونوں اطراف ایک ٹریک کااضافہ کیا جائے گا۔
کارساز تا ناتھ خان پل تک دونوں اطراف ایک ٹریک کا اضافہ کیا جائے گا، نرسری کے پاس سڑک کے ایک طرف نیا برساتی نالہ تعمیرکیا جائے گا، سڑک کے دونوں اطراف فٹ پاتھ و برساتی نالے کی تعمیر نواورپتھر لگائے جائیں گے، اسٹریٹ لائٹس کی مرمت اورنئی اسٹریٹ لائٹس بھی لگائی جائیں گی، انھوں نے مزید کہا کہ شارع فیصل شہرکی مصروف ترین سڑک ہے یہاں ٹریفک کی روانی قائم رکھنے کے لیے دیگرمنصوبوں پر بھی ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں راشد منہاس رائٹ ٹرن فلائی اوورکی چھت کی تعمیرنو اور ڈرگ روڈ انٹرسیکشن پر انڈر پاس کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔

پاکستان سٹیل مل کی نجکاری : ’دو ہی راستے ہیں، احتجاج یا پھر خودکشی‘

پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین نے ادارے کا انتظام 30 سال کے لیے کسی نجی کمپنی کے حوالے کرنے اور سات ہزار سے زیادہ ملازمین کو پیکیج دے کر فارغ کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کو بند ہوئے 20 ماہ گزر چکے ہیں۔ حکومت نے 19000 ایکڑ رقبے پر محیط اِس ادارے کی نجکاری فیصلہ کیا تھا لیکن اب اِس کا انتظام 30 سال کے لیے ایک نجی ادارے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سٹیل ملز کا انتظام نجی کمپنی کو سونپنے کے منصوبے کی منظوری نجکاری کی کابینہ کمیٹی دے چکی ہے لیکن اب حکومت کی باضابطہ منظوری اور مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کا انتظار ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ سٹیل ملز کا خسارہ 415 ارب روپے ہو چکا ہے لہٰذا وہ اِسے خود نہیں چلا سکتی تاہم حکومتِ پاکستان کے فیصلے کے مطابق پاکستان سٹیل کے اثاثے فروخت نہیں کیے جائیں گے۔ حکومت نے پاکستان سٹیل کو نئی زندگی دینے کے لیے منصوبہ تو بنا لیا ہے لیکن اب تک وہ اس معاملے پر ملازمین کو اعتماد میں نہیں لے سکی ہے۔ سٹیل مل کے ملازمین حکومت کے اِس فیصلے پر ناراض ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف سٹرک پر، عدالت میں غرض ہر جگہ احتجاج کریں گے۔ ایک ملازم نے کراچی میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ہم کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم سب ایک ساتھ ہیں، انشاءاللہ تنگ آمد تو جنگ آمد۔‘
ایک اور ملازم کا کہنا تھا ‘ہم خود سوزی کر لیں گے، ہمارے پاس کچھ نہیں۔ ہم غریب لوگ کیا کر سکتے ہیں، ہمارے پاس دو راستے ہیں، سڑکوں پر احتجاج یا پھر خودکشی۔‘ اس صورتحال میں حکومت کے لیے اِس منصوبے پر عمل درآمد آسان نہیں نظر آتا۔ نجکاری کے سابق وزیر اور موجودہ گورنر سندھ محمد زبیر کا موقف اِس کے برعکس ہے۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ملازمین کے ساتھ مذاکرات کر کے ایک ‘پرکشش پیکیج’ بنایا ہے جو کسی بھی ایسے ملازم کو زبردستی نہیں دیا جائے گا جو اُسے نہیں لینا چاہتا ہو۔
پاکستان سٹیل ملز
25 ارب
کی لاگت سے 1973 میں بنائی گئی
3500 ٹن فعال حالت میں اس کارخانے کی روزانہ ہیداوار تھی
14000 افراد اس مل میں کل وقتی یا جز وقتی ملازم ہیں
19000 ایکڑ سٹیل ملز کا ملکیتی رقبہ ہے جبکہ کارخانہ 4500 ایکٹر پر قائم ہے
110 میگا واٹ کا تھرمل بجلی گھر بھی مل میں واقع ہے جو نیشنل گرڈ کو بھی بجلی فراہم کرتا تھا
اُنھوں نے کہا ‘بہت سے ملازم ایسے ہوتے ہیں جن کی عمر 58 برس کے آس پاس ہوتی ہے اگر اُنہیں یکمشت بڑی رقم مل جائے تو اُسے زیادہ فائدہ ہو گا بجائے کہ وہ اُسے مسترد کرے۔‘ پاکستان سٹیل اور اس کے ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ کچھ بھی ہو، ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی معیشت کے اس اہم ترین ادارے کو اس حال تک پہنچانے میں بدانتظامی، سرکاری نا اہلی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ ادارے کے ملازمین کی کام میں عدم دلچسپی کا بھی اہم کردار ہے۔ اسی لیے حکومت ملازمین کی چھانٹی کو سخت مگر ناگزیر فیصلہ سمجھتی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان سٹیل مل کا بہترین پیداواری برس سنہ 1993 تھا اور ملک میں خام مال کی مدد سے سٹیل بنانے والا یہ واحد ادارہ ہے جو ٹیکس کی مد میں حکومت کو اب تک 105 ارب روپے سے زیادہ ادا کر چکا ہے۔
عبداللہ فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کراچی تا حیدرآباد موٹروے ایم نائن کا افتتاح

 وزیر اعظم نواز شریف نے 136 کلو میٹر طویل ’کراچی۔ حیدرآباد موٹر وے ایم نائن ‘ میں سے 75 کلومیٹر تک تکمیل شدہ ٹریک کا افتتاح کر دیا۔ منصوبے کی تکمیل پر 36ارب روپے خرچ کیے جائیں گے ۔ نوری آباد ، کراچی میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج لوگ اپنی آنکھوں سے ایک نیا پاکستان بنتا دیکھ رہے ہیں۔ سڑک ترقی کا پہلا زینہ ہوتا ہے، سڑک ہوگی تو اسپتال و تعلیمی ادارے بنیں گے اور لوگ قریب آئیں گے۔
انہوں نے موٹر وے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے مضبوط انفرا اسٹرکچر ضروری ہے، سکھر سے ملتان موٹر وے اور آگے لاہور پر تعمیر کا کام جاری ہے، 2019 تک یہ موٹرویز مکمل ہوجائیں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی سے پشاور تک 6 لین کی موٹروے ہو گی۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی حیدرآباد موٹر وے جلد مکمل کرلی جائے گی۔ بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں سڑکوں کا جال بچھے۔ لوگ ناشہ گوادر میں کریں اور دوپہر کا کھانا کوئٹہ میں کھائیں۔


کراچی میں استعمال شدہ موبائل فون خریدنے کیلیے سی پی ایل سی سے تصدیق لازمی قرار

پولیس نے اسٹریٹ کرائمز کو کنٹرول کرنے کے لیے سی پی ایل سی اور الیکٹرانکس ڈیلرز کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق تیار کر لیا جس میں دکاندار استعمال شدہ موبائل خریدنے سے پہلے سی پی ایل سی سے تصدیق کریں گے۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی سب سے آسان واردات موبائل فون چھیننا ہے جو باآسانی موبائل مارکیٹ میں فروخت کردیا جاتا ہے لیکن اب شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وبا کو قابو کرنے کے لیے پولیس نے سی پی ایل سی اور الیکٹرانکس ڈیلرز سے مل کر ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے جس کے تحت اب استعمال شدہ فون لینے سے پہلے ڈیلرز سی پی ایل سی سے موبائل کی تصدیق کے پابند ہوں گے۔
اس حوالے سے سی پی ایل سی نے استعمال شدہ موبائل فونز کی خریدو فروخت کے لیے فارم تیار کر لیا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی دکاندار استعمال شدہ موبائل فون خریدنے سے پہلے اسے فروخت کرنے والے شخص کا شناختی کارڈ اور فون نمبر حاصل کرے گا اور سی پی ایل سی سے تصدیق کے بعد ہی وہ موبائل فون اس سے خریدے گا جب کہ اس ضابطہ اخلاق پر عمل نہ کرنے کی صورت میں دکاندار کو گرفتار کر لیا جائے گا۔