میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے

ماضی میں کھو جانے یا پرانی یادوں کو تازہ کرنے سے متعلق انگریزی میں ’’ Nostalgia ‘ ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ گزرے ہوئے اچھے وقت کے ساتھ جذباتی یا نفسیاتی رشتہ ہوتا ہے ۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب بھی ماضی کو شاندار اور مثالی وقت ثابت کرنے کے لئے بات کی جاتی تو کہا جاتا ہے کہ یہ ’’ ناسٹلجیا ‘‘ ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ ماضی کی ہر بات کا تذکرہ ’’ ناسٹلجیا‘‘ کا نتیجہ ہو ۔ ماضی سے متعلق کچھ باتیں مستقبل کی نسلیں بھی درست تسلیم کرتی ہیں ۔

آج میں ماضی کے کراچی کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اپنے بچپن میں ، اپنی جوانی میں ، اپنی سیاسی جدوجہد کے دور میں اور اپنی سوچ کی پختگی میں وہ کراچی دیکھا ہے ۔ یہ ناسٹلجیا نہیں ہے ۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ کراچی کا مستقبل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے کراچی کے ماضی میں جانا پڑے گا۔ ہم نے کراچی کا اصل جوہر دیکھا ہے۔ کراچی کی شان (GLORY) کا مشاہدہ کیا ہے۔ کراچی اپنے اصلی جوہر کی طرف واپس جا سکتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی کراچی کا شمار دنیا کے جدید اور خوبصورت شہروں میں  ہوتا تھا۔ کراچی اس وقت سے ہی کاسموپولیٹن شہر تھا جہاں مختلف مذاہب ، قوموں، علاقوں، نسلی اور لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ تنوع اور روا دوری کراچی کی بنیادی خصوصیات تھیں۔

قیامِ پاکستان کے چند سالوں بعد یہ شہر اس خطے کا تجارتی مرکز بن گیا اور اس کا شمار جنوبی ایشیا کے امیر ترین شہروں میں ہونے لگا۔ اس شہر نے سب کو اپنے دامن میں سمویا۔ اس شہر نے کسی سے اس کی شناخت نہیں پوچھی کہ اس کا تعلق کس مذہب، ملک، قوم، قومیت، علاقے یا زبان سے ہے۔ کراچی نے سب کی شناخت کو اپنی رنگا رنگ اور متنوع شناخت کا حصہ بنایا اور ہر نئے رنگ کے ساتھ اپنے آپ کو نکھارا۔ ہم نے وہ کراچی دیکھا جس کی سڑکوں کو روزانہ دھویا جاتا تھا۔ جہاں کی شاہراہوں، مارکیٹوں اور تفریح گاہوں میں غیر ملکی سیاحوں کا رش ہوتا تھا۔ کراچی ایک ایسا شہر تھا جہاں روزانہ سفر کے دوران پاکستان کے ہر علاقے کے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی بلکہ دنیا کے تقریبا ہر ملک کے لوگوں سے ٹاکرا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کراچی کے باسی وسعت قلبی کو اپنی شخصیت کا بنیادی جزو تصور کرتے تھے۔ یہ شہر نہ صرف پاکستان کی رنگا رنگ ثقافتوں کا امتزاج تھا بلکہ گلوبل کلچر کا بھی نمائندہ تھا۔

برداشت اور روا داری کے علاوہ کراچی کی ایک اور امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ یہ شہر اپنے مزاج میں ترقی پسند اور جمہوریت نواز تھا۔ یہ تمام بڑی جمہوری ، ترقی پسند، مظلوم اقوام اور طبقات اور محنت کشوں کی تحریکوں کا مرکز تھا۔ یہاں سب سے زیادہ نظریاتی اور تربیت یافتہ سیاسی کیڈر موجود تھا۔ یہاں سیاست اور ادب کے حوالے سے مباحثے جاری رہتے تھے۔ کراچی کے کافی اور ٹی ہاوسز میں اپنے عہد کے فلسفیانہ مسائل زیر ِبحث رہتے تھے۔ صدر اور ریگل کے کافی ہاوسز میں ان لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی جنہیں آج بڑے لوگوں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سیاسی کارکنوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں، گلو کاروں اور فن کاروں کے پنپنے کے لئےاس شہر کی فضا بہت ساز گار تھی۔

یہ شہر سید سبطِ حسن، شوکت صدیقی، انتظار حسین، ابنِ صفی، جوش ملیح آبادی، مصطفی زیدی ، زیڈ اے بخاری، رئیس امروہی، جون ایلیا، اسلم فرخی، دلاور نگار، مولوی عبد الحق، ابنِ انشا اور بیشمار لوگوں کا مسکن ہے۔ یہاں سب سے زیادہ لٹریچر شائع ہوتا تھا۔ یہاں ہم نے گھروں میں محافل ، مشاعرہ اور موسیقی کی روایات دیکھیں ۔ سڑکوں اور پارکوں میں مشاعرے ہوتے دیکھے۔ سب سے زیادہ سنیما ہال کراچی میں تھے۔ تھیٹرز کے حوالے سے بھی یہ شہر اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ ایک اور امتیازی وصف کراچی کا یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ فلاحی اور خیراتی ادارے اور مخیر حضرات ہیں۔ چیریٹی (charity) کے کاموں میں کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں فوقیت رکھتا ہے۔

کراچی میں عظیم عبد الستار ایدھی پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ ایدھی فاونڈیشن قائم کیا۔ اس شہر میں روتھ لیوئس Ruth Lewis، فاطمہ لودھی، حکیم سعید، نفیس صادق جیسے لوگوں نے جنم لیا۔ کراچی کو اس بات پر فخر ہے کہ یہاں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسا فرشتہ انسان رہتا ہے۔ آج بھی سب سے زیادہ چیریٹی اس شہر میں ہوتی ہے۔ اسی شہر میں قائد اعظم محمد علی جناح جیسے سیاستدانوں نے جنم لیا جنہوں نے اس خطے کی تاریخ بدل دی۔ جمشید نسروانجی، ہر چنداری وشن داس، عبدالستار افغانی، بے نظیر بھٹو، سید منور حسن اور کئی بڑے سیاستدانوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ آغا خان سوئم، مولانا تقی عثمانی، علامہ رشید ترابی اور کئی مذہبی رہنما اور اسکالرز کا مسکن کراچی ہے۔ ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی، ڈاکٹرعبد القدیر خان، ڈاکٹر عطا الرحمن، پرویز ہود بھائی اور دیگر سائنسدان اور ماہر ینِ تعلیم کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

فن، ادب، ثقافت، کھیل اور دیگر شعبوں کی کئی اہم شخصیات نے یہاں جنم لیا اور یہیں مدفن ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پورے ملک کو 60 فیصد سے زائد اور سندھ کو 80 فیصد سے زائد ریونیو کراچی دیتا ہے۔ کراچی میں تمام بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ہیڈ آفس ہیں، یہاں کثیر القومی کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔ ملک کی زیادہ تر صنعتیں کراچی میں ہیں۔ بندر گاہ کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے سب سے بڑے ادارے یہاں کام کرتے ہیں۔ نجی شعبے میں سب سے زیادہ روزگار کراچی فراہم کرتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج یہاں ہے۔ کراچی پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے۔

پاکستان کے لئے کراچی رول ماڈل تھا۔ جمہوری اور بنیادی حقوق کی تحریکوں میں کراچی ہراول دستے کا کردار ادا کرتا تھا۔ میں اس شہر سے نکالا بھی گیا اور شہر کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ایک متنوع، ترقی پسند ، خوشحال، پر امن اور روادار معاشرہ کراچی میں تشکیل پذیر ہو چکا تھا اور اس بات کو آگے بڑھاتا تھا لیکن اس عظمت اور شاندار روایت کے حامل کراچی کے خلاف بڑی سازشیں ہوئیں۔ یہ سازش صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے خلاف ہے۔ میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے۔ میرے اندر برنس روڈ کی ثقافت، کھارادر کی روایات، ناظم آباد کی رونقیں نمایاں ہیں۔ تمام تر سازشوں کے باوجود کراچی کا اصل جوہر ختم نہیں کیا جا سکا ۔ کراچی کو اپنے اصل جوہر کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام دیگر شعبوں کے لوگ بھی کر سکتے ہیں لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی۔ کراچی کو اس کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے اور کراچی کے ذریعے پاکستان کا مستقبل تابناک بنایا جا سکتا ہے۔

نفیس صدیقی

شاباش جامعہ کراچی

یوں تو ہماری جامعات تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے آئے دن خبروں میں رہتی ہیں اور طلبہ کی بہتری کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن بہت دیر بعد سہی، جامعہ کراچی سے ایک اچھی خبر سننے کو ملی جب حال ہی میں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی سطح پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا اور انہیں تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون کے ذریعے کروائے گئے ایک پروگرام پر پہلی پوزیشن سے نوازا گیا۔ اگر بات کی جائے پاکستان کے تعلیمی نظام کی تو اِس میں ہمیں صرف خامیاں اور کوتاہیاں ہی نظر آتی ہیں لیکن اِس کے باوجود بھی ملکی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست پائی جاتی ہے، جنہوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا مگر یہ سب ماضی کا قصہ بن چکے، اب تو شازو نادر ہی کوئی اچھی خبر سننے کو ملتی ہے۔

یہاں میں جامعہ کراچی کا ذکر کرنا نہیں بھولوں گا جو نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا بھر میں صف اول کی جامعات میں شمار ہوتی تھی اور اِس جامعہ نے ڈاکٹر عشرت حسین، شفی نقی جامعی، ثانیہ سعید، وحید مراد، حسینہ معین، پروفیسر پیرزادہ قاسم اور عطاءالرحمان سمیت کئی نامور شخصیات کو اونچا مقام دیا، جنہوں نے آگے چل کر ملک کا نام روشن کیا تاہم کچھ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملکی بدنامی کا باعث بھی بنے۔ لیکن آج کل ہمیں جامعہ کراچی سے متعلق صرف رشوت خوری، نا انصانی، سرقہ بازی سمیت بری خبریں ہی سننے کو ملتی ہیں، ایسے میں جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کرنا قابلِ ستائش ہے۔ ویسے تو ریٹنگ کے چکر میں اپنی جامعات کی برائیاں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ہمارے میڈیا کا کوئی ثانی نہیں البتہ جہاں جب کوئی اچھائی کی طرف پیش رفت ہو تو میڈیا اِس سے لاتعلقی کا اظہار کردیتا ہے، تاہم میں تو ایکسپریس کے پلیٹ فارم سے اِس قابل تعریف اقدام کو لوگوں تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں تاکہ وہ لوگ جو ہمارے تعلیمی نظام سے مایوس ہوکر اپنے بچوں کو جامعات میں نہیں بھیجتے اور بہت سے مخالفین اِس بات کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ملک کی تمام جامعات کو تالے لگ جائیں اور جہالت کا بازار مزید گرم ہو، مگر میں انہیں کہنا چاہوں گا۔

’’ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز سے ساقی‘‘

او آئی سی نے تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون کے ذریعے رکن مسلم ممالک کی بڑی جامعات میں نوجوانوں کے لئے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے، جسے ’ماڈل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اِس پروگرام کا اصل مقصد ان مسلم ممالک میں سفارت کاری کی جانب رجحان رکھنے والے نوجوان طلبہ کی مہارتوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے نہ صرف ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے وطن عزیز کا نام روشن کریں بلکہ اِس کے ذریعے مسلم اُمہ کے مسائل بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے حل کر سکیں۔ او آئی سی سے الحاق شدہ اِس پرگروام میں ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، فلسطین، سعودی عرب، اردن، آزربائیجان، بنگلادیش، لبنان سمیت مختلف اسلامی ممالک کی جامعات میں ’ماڈل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کے نام سے 20 سے زائد کلبز بنائے گئے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت 3 جامعات کو نمائندگی کا موقع دیا گیا جن میں ایک نام جامعہ کراچی کا بھی تھا اور اِس پروگرام کے تحت جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی اور شعبہ کے چیئر پرسن کی زیرنگرانی یہ پرگروام منعقد کرائے گئے۔

ان پروگرامز میں چیئر پرسن سمیت دیگر پروفیسرز نے بھی طلبہ کی رہنمائی کی بلکہ او آئی سی کے ممبران نے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سینئر طالبات کو موقع فراہم کرتے ہوئے رطابہ طارق کو ملکی کوآرڈینٹر اور حاجرہ محمود کو کلب کا صدر منتخب کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے شعبے کے پروفیسرز کے ساتھ مل کر سینئز اور جونیئرز طلبہ کے انٹریوز لیے اور ایک ایسی ٹیم منتخب کی جو نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ پاکستان کے لیے بھی فخر کا باعث بنی۔ اِس پروگرام کے تحت 10 تعلیمی سیشن کروائے گئے، جس میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے نامور پروفیسرز نے مختلف موضوعات پر لیکچرز دیئے اور پھر اِن میں سے ہی طلبہ نے سیشن کے موضوع منتخب کئے، بعد میں جس پر تمام طلبہ کو ہر ملک کی نمائندگی دی جاتی اور پھر وہ اپنے ملک کا نقطہِ نظر پیش کرتے، آخر میں ایک قرارداد پیش کی جاتی جس کی روشنی میں تمام مسائل کے حل پیش کیے جاتے۔

سیشن میں طلبہ نے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے چیدہ چیدہ نکات پیش کیے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مسلم اُمہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ تمام ممالک کے کلبز میں او آئی سی یوتھ کے ڈائریکٹر جنرل اور ملکی کوآرڈینٹر، تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون کے پروجیکٹ اسسٹنٹ سمیت دیگر اہم افراد نے اِن سیشنز کی نگرانی کی اور ملکی کوآرڈینٹرز نے اِن کلب کی ایک حتمی رپورٹ بنا کر پیش کی۔

اِس پروگرام کے اختتام پر آذربائیجان میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اِن سیشن کی نگرانی کرنے والے ممبران کی رپورٹس کی بنیاد پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پہلی پوزیشن سے نوازا گیا، جب کہ جامعہ کراچی کی جانب سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے رطابہ طارق نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔ اِس پرگروام میں شریک تمام کلبوں کی ایک ملکی کانفرنس بھی ستمبر میں پاکستان میں منعقد کی جائے گی، جس میں یہ تمام طلبہ شریک ہوکر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو دنیا بھر میں اجاگر کریں گے اور یوں انہیں ایک پلیٹ فارم میسر ہو گا جس کے ذریعے وہ آگے چل کر آو آئی سی میں اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں گے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا گو کہ ہماری منزل ابھی بہت دور ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ جہالت کا یہ اندھیرا ایک دن ضرور ختم ہو گا اور یہی نوجوان تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے ملک وقوم کا نام روشن کریں گے کیوں کہ تعلیم ہی واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک قوم بنا سکتی ہے۔

’’ دل بدل جائیں گے، تعلیم بدل جانے سے‘‘

کامران سرور

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مسائل

پاکستان کا پہلا دارالحکومت اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی قائد اعظم محمد علی جناح کا مولد و مسکن، رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ بندرگاہ اور ملک کا صنعتی و تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں روزگار کے مواقع بھی بہت زیادہ ہیں۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا میڈیا سینٹر، سب سے بڑا تعلیمی مرکز اور سب سے زیادہ شرح خواندگی رکھنے والا شہر ہے۔شہر کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زائد ہے۔ مختلف وفاقی، صوبائی اور ضلعی ٹیکسز کی صورت میں کراچی ملک اور صوبے کو سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرتا ہے۔ انتہائی دکھ اور تشویش کی بات یہ ہے کہ کراچی کے لیے وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کی طرف سے منظم اور سنجیدہ کوششوں اور مالیاتی وسائل کی بوجوہ بہت کمی رہی ہے۔

کراچی کے بڑے بڑے مسائل میں پانی کی فراہمی، سیوریج نظام، پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور پلوں کی ابتر صورت، برساتی پانی کی بروقت نکاسی نہ ہونا، ٹریفک مینجمنٹ، پبلک ہیلتھ کا ناقص نظام، پرائمری اور سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری تعلیم کی سرکاری سطح پر فراہمی میں حکومتوں کی عدم دلچسپی، کچی آبادیوں کا پھیلاؤ، جرائم میں روز بہ روز اضافہ، اسپورٹس اور تفریحی سہولیات کی عدم فراہمی، سرکاری زمینوں اور نجی املاک پر قبضے حتیٰ کہ ندی نالوں اور دیگر آبی گزر گاہوں میں مکانات کی تعمیر، کھیل کے میدانوں، پبلک پارکس اور دیگر ایمینیٹی پلاٹس پر قبضہ مافیا کا راج اور دیگر کئی مسائل شامل ہیں۔ ان میں سے کئی مسائل کے حل کے لیے لمبی چوڑی منصوبہ بندی یا بھاری فنڈز کی بھی ضرورت نہیں بلکہ یہ مسائل محض چند انتظامی اقدامات سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔

کراچی کو آج کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ رینجرز کی جدوجہد کے بعد کراچی میں امن و امان کی صورتحال خاصی بہتر ہے تاہم اسٹریٹ کرائمز کی وجہ سے شہری اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ خصوصاً ماس ٹرانزسٹ منصوبے التوا میں پڑے ہیں۔ ماڑی پور تا سہراب گوٹھ، لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کا افتتاح محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ہوا تھا لیکن یہ تاحال تعمیر کا منتظر ہے۔ متروکہ سرکلر ریلوے کو اب دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے شہری اللہ سے دعا کر رہے ہیں۔ سرجانی ٹاؤن تا ٹاور کراچی گرین لائن بس پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر ہوتی جا رہی ہے۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے K-4 منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایک کے بعد دوسری تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ سیوریج کا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔ کراچی کا ایک مسئلہ رہائشی مکانات کی فلیٹس یا اپارٹمنٹس میں تبدیلی بھی ہے۔

120،200 یا 400 گز کے جس ایک یا دومنزلہ مکان میں دو خاندان رہائش پذیر تھے، شہری ادارے ان پلاٹس پر کئی منزلہ فلیٹس یا اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کے اجازت نامے جاری کر رہے ہیں۔ یوں آٹھ دس افراد کی رہائش والی جگہ پر اب پچاس ساٹھ یا اس سے بھی زیادہ افراد رہائش اختیار کر رہے ہیں۔ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں میں بھرپور سیاسی عزم اور اسٹیبلشمنٹ میں پروفیشنل اہلیت کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور کراچی کی نمایندگی رکھنے والی یا نمایندگی کی منتظر جماعتوں کو مل کر کراچی کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار مخلصانہ طور پر ادا کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور میئر کراچی وسیم اختر کو کراچی کی بھلائی کے لیے باہمی تعاون کے جذبے سے مل کر کام کرنا چاہیے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

رینجرز اختیارات : صدر پاکستان کی توجہ کیلئے

پاکستانی قوم اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی البتہ ہمارے سیاستدان
اور خودغرض اشرافیہ، بیوروکریٹس اس میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ مثلاً پرویزمشرف نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر پوری دنیا کو حیران کردیا ۔ تو امریکہ کے کہنے پر ان کو نظر بند ہی نہیں کیا اُن پر مقدمہ چلانے کی دھمکی دے کر ان سے اپنے مطلب کا بیا ن دلوایا ۔اگر چوہدری شجاعت اس معاملے میں مداخلت نہ کرتے تو وہ حد سے گزر سکتے تھے۔ قوم کا دُکھ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا کہ جب وہ سنتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نظر بند ہیں ۔ اس کے برعکس بھارت نے ایک مسلمان سائنسدان عبدالکلام جنہوں نے بھارت کو ایٹمی طاقت بنایا، کو صدر بنا کر احسان اتار دیا اور دنیا کو باور کرایا کہ بھارت اپنے محسنوں کو نہیں بھولتا ۔

اسی طرح جنرل راحیل شریف سابق چیف آف آرمی اسٹاف نے وہ کارنامے انجام دیئے جس سے پوری دنیا عش عش کر اٹھی۔ امریکہ سمیت روس، خلیجی ممالک بشمول برطانیہ کی حکومتوں نے اُن کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اور انعام میں 39 مسلمان ملکوں کا فوجی سربراہ بنا کر قومی ہیرو کا درجہ دیا ۔ دہشت گردوں کو پاکستان سے نکال باہر کرنے پر پوری قوم اُن کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کراچی میں بھارتی ایجنٹوں، دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز کا صفایا کیا اس لئے کراچی کے عوام اُن کا یہ احسان نہیں بھلا سکے۔ جو 2 دہائی سے اس صنعتی  تجارتی شہر کو یرغمال بنائے ہوئے تھے اور ایک گھنٹے کے نوٹس پر پورے شہر کو مفلوج کر کے بڑے فخر سے دعویدار بنتے تھے ۔

شہر کے سب سے بڑے منشیات اور اسلحہ فروشوں کی جنت لیاری جو رینجرز اور پولیس کے لئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا ایک ایک کرکے تمام مجرموں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا بھی انہی کو جاتا ہے۔ کراچی کے سب سے بڑے اسلحے کے ڈپو لانڈھی، سہراب گوٹھ جہاں افغانیوں نے من مانی کررکھی تھی۔ کراچی کے باشندوں کو اُن سے بھی رینجر ز نے نجات دلوائی۔ اُن کے دور میں سب سے زیادہ کرپٹ سیاستدانوں، بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈالا گیا، کھربوں روپے کے کرپشن کا سراغ لگایا گیا اور سب کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا۔ اُن کے ڈر سے بہت سے بیرون ممالک فرار ہو گئے۔ مگر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اب پھر شہر کراچی میں دھیرے دھیرے اسلحہ دکھا کر موبائل، گاڑیاں اور موڑسائیکلیں چھننا شروع ہو گئی ہیں ۔ بھتے کی پرچیاں دوبارہ ملنے لگی ہیں ۔

کراچی جو پوری ملک کی معیشت کا بوجھ اُٹھائے ہوئے تھا اب دوبارہ تباہی کے راستے پر جا رہا ہے۔ پولیس تو پہلے ہی ناکام تھی ۔ اب ایک نیا مسئلہ سندھ حکومت نے کھڑا کر دیا ہے۔ رینجرز جس نے امن قائم کیا تھا پہلے اُس کے اختیارات محدود کر رکھے تھے۔ اب سرے سے انکار کر دیا اور سرکاری عمارتوں عدلیہ کی عمارتوں، گورنر سندھ، چیف منسٹر سندھ کی رہائش گاہوں کی حفاظت تک محدود کر دیا ہے۔ جس پر رینجرز نے انکار کر کے اپنے آپ کو بیرکس تک محدود رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔عوام اب مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ایک ہفتے قبل گورنر سندھ جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ۔ انہوں نے بلا ضرورت جنرل راحیل شریف صاحب کو نشانہ ہدف بنا کر ایک معمولی جنرل کہا پھر کراچی کے امن کا کریڈٹ سول حکومت کو دینے کی کوشش کی اُس پر ہی بس نہیں کیا یہ کہہ دیا کہ کراچی میں اب امن قائم ہو چکا ہے ۔ لہذا رینجرزکی اب ضرورت باقی نہیں رہی، رینجرز کو واپس بھیج دیا جائے ۔
رینجرزکی کارروائیوں سے پہلے سندھ حکومت کے بعض وزرا ان بھتہ خوروں اغوا کرنے والوں کے سہولت کار تھے ۔ جس سے اُن کا حصہ بند ہو چکا ہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ سندھ میں خصوصاً کراچی میں امن قائم ہو ۔ اور عوام ڈر کر دوبارہ اُن کے اس گھنائونے کاموں میں رکاوٹ نہ بنیں ۔ اور وہ دوبارہ بھتوں ،اغوا کی وارداتیں کر کے عوام کو لوٹیں ۔ پولیس بھی اُن کو کرپٹ چاہئے ۔ اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسران کے خلاف پہلے ہی محاذ بنا چکے ہیں۔ اگر عدلیہ ساتھ نہ دیتی تو وہ بھی فارغ ہو چکے ہوتے ۔ سندھ کابینہ میں ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو کراچی کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکے ۔
جبکہ پورا ملک اس کی اقتصادی ترقی کا محتاج ہے ۔ اگر کراچی کو دوبارہ دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا تو پھر ہمارے صنعتکار ، تاجر برادری ، بڑے بڑے ڈاکٹرز، انجینئرز اور اُن کے خاندان دوبارہ اغواء برائے تاوان کے ڈر سے بیرون ملک جانے پر مجبور ہونگے ۔ کراچی کے عوام یہ جاننا چاہتے ہے کہ جب سندھ انتظامیہ امن وامان قائم کرنے میں 20 سال سے ناکام رہی تو دوبارہ اس شہر کو کیوں رینجرز سے واپس لیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ وزیرداخلہ کیوں امن پسند شہریوں کو جانتے بوجھتے دہشت گردوں کے دوبارہ حوالے کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ عوام سڑکوں پر آ کر رینجرز کے حق میں نعرے لگائیں۔ جو حکومت شہر کی ٹوٹی سڑکیں ، گٹر کے ڈھکن ٹھیک نہیں کر سکتی ۔
پورا شہر کچرا کنڈی بنا ہوا ہے۔ گرمی شروع ہوتے ہی بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ سندھ حکومت الگ ٹیکس وصول کرتی ہے۔ مرکزی حکومت ایک درجن سے زائد ٹیکس اس سے وصول کرتی ہے ۔ اگر وہ عوام کی حفاظت نہیں کر سکتی ۔ صرف رینجرز اور فوج سے دہشت گرد ، ڈاکو، چور اچکے ڈرتے ہیں وہ پولیس سے نہیں ڈرتے، کیونکہ پولیس مک مکا کر کے ان کے حوصلے بڑھا دیتی ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے اسکولوں میں گرنیڈز دوبارہ پھٹیں ؟ مائیں بچوں کو اسکول بھیجنے سے ڈریں۔ میری صدر صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملےمیں مداخلت کر کے رینجرز کو غیر معینہ مدت کے لئے اختیارات دلوائیں اور کراچی شہر کے عوام کی بے چینی ختم کرائیں ۔
خلیل احمد نینی تا ل والا  

کراچی عزیز ہے تو ان ایشوز پر بھی توجہ دیں

میں کافی عرصے سے کراچی پر ہی کالم لکھ رہا ہوں، اب تک وقفے وقفے سے

میں کراچی کے مختلف ایشوز اور ان کے مختلف پہلوئوں پر یہ کالم لکھتا رہا ہوں، اس کے کچھ اسباب ہیں‘ ایک تو کراچی نہ فقط سندھ مگر سارے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے‘ بڑے شہروں کے تو ویسے بھی کئی مسائل ہوتے ہیں جن کو حل کرنے کے لئے سیاسی قیادت کو وقت بہ وقت ضروری توجہ دینی پڑتی ہے‘ مجھے اس ایشو پر بار بار اس وجہ سے بھی لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے کچھ ’’مہربان‘‘ اس رائے کے ہیں کہ کراچی فقط ان کا ہے‘ بھائی کراچی سب کا ہے‘ کراچی تو سندھ کی جان اور جگر ہے‘ مگر اب تو یہاں فقط سندھی نہیں رہتے پنجابی اور پختون بھائی بھی رہتے ہیں‘ بلوچ تو پتہ نہیں کب سے سندھی ہیں اور سندھیوں کے دکھ سکھ کے ساتھ رہے ہیں.

میرے یہ کالم لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ کراچی میں رہنے والے مختلف حلقوں کو ایک ساتھ ملا کر بھائی بنایا جائے‘ اسی میں ان کی بھی بہتری ہے‘ کراچی کی بھی بہتری ہے تو سندھ کی بھی بہتری ہے‘ سندھ کی یک جہتی پاکستان کے لئے بھی ضروری ہے‘ خدانخواستہ اگر سندھ کو ٹکڑے کرنے کی کوشش کی گئی تو شاید پاکستان تو کیا سارا سائوتھ ایشیا Balqanise متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ بات میں نے ایک بار امریکہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اپنے ’’پیپر‘‘ میں کہی تھی‘ مجھے اس وقت بہت حیرت ہوئی جب اس کانفرنس کی صدارت کرنے والے پینل کے سربراہ جو امریکہ کے ایک بڑے دانشور ہیں‘ نے میری اس رائے سے مکمل اتفاق کیا۔ 

میں نے پچھلے کالم میں کراچی سے تعلق رکھنے والے دو نکات ادھورے چھوڑے تھے‘ ایک نکتے کا تعلق سمندر میں کراچی شہر سے داخل ہونے والا مذبحہ خانوں سے بہنے والا خون اور کارخانوں سے نکلنے والے زہریلے مادے سے تھا جبکہ دوسرے نکتے کا تعلق کراچی کی پانی کی ضروریات اور ان ضرورتوں کو پورے کرنے والے وسائل وغیرہ‘ مگر اخبارات میں سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں سندھ کے کئی مسائل مثلاً این ایف سی ایوارڈ وغیرہ اور خاص طور پر کراچی کی پانی کی ضروریات کے بارے میں کئی اہم باتوں کا ذکر ہے‘ یہ خبر پڑھنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میرا آج کا کالم اس رپورٹ پر ہونا چاہئے۔

مجھے امید ہے کہ نہ فقط کراچی کے عوام مگر خاص طور پر کراچی کی وہ قیادت جو کراچی پر اپنی ’’خاص‘‘ رائے رکھتی ہے اور اس رائے کے ساتھ کراچی اور کراچی والوں کو ساتھ لیکر ایک خاص رخ میں بڑھنا چاہتی ہے‘ وہ اس رپورٹ کو غور سے پڑھیں اور ا س کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔ بہرحال‘ حسب معمول میں ان ایشوز پر اپنی آرا انتہائی خلوص اور پیار کے جذبے کے ساتھ پیش کروں گا تا کہ خواہ مخواہ مختلف حلقوں میں خلیج پید اکرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ جہاں تک اس خبر کا تعلق ہے جس پر میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اس میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے منگل کو ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں جو نکات اٹھائے ہیں ان کا اختصار یہ ہے: سندھ حکومت نے وفاق کی پانی پالیسی پر اندیشے ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیلٹا والے علاقوں کو پانی فراہم کر کے انہیں تباہ ہونے سے بچایا جائے۔
انہوں نے سی سی آئی کے لئے تیاری کرنے کے سلسلے میں منعقد کیے جانے والے اجلاس میں کہا کہ وفاقی حکومت پانی کے بارے میں قومی پالیسی بنانا چاہتی ہے اور سندھ چاہتا ہے کہ پانی کی قومی پالیسی کے تحت کراچی کے علاقوں اور اس کی معیشت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی تجویز کی گئی پانی کی قومی پالیسی پر سندھ کو سنگین اندیشے ہیں‘ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے ایک انتہائی اہم ایشو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن صوبوں سے بھی زہریلا پانی گزر کر سندھ آتا ہے تو وہ یہ پانی صوبے خود صاف کرنے کے بعد سندھ کی طرف بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پنجاب اور بلوچستان سے زہریلا پانی آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے گھوٹکی ضلع کی زمین کو پنجاب سے آنے والے زہریلے پانی نے تباہ کر دیا ہے۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ سندھ کے شہر کراچی کو 1200 کیوسک پانی فراہم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد اور راولپنڈی کو پانی جن شرائط پر فراہم کرنے پر رضا مند ہوئے تھے تو انہی شرائط کے مطابق اس وقت کراچی کو 1200 کیوسک پانی فراہم کیا جائے اور 2020 ء میں کراچی کو 1800 کیوسک اور 2025ء میں 2400 کیوسک پانی فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر یہ بات کی کہ کراچی میں مقامی لوگوں کے مقابلے میں دوسرے صوبوں سے آنے والے لوگ آباد ہیں‘ اس وجہ سے کراچی شہر زیادہ پانی کا حقدار ہے۔ اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سی سی آئی کے اجلاس میں جانے سے پہلے انتہائی عجلت میں ہی صحیح  سندھ اسمبلی کے ممبران جن کا کراچی سے تعلق ہے ان کا اجلاس بلائیں اور انہیں ان ساری باتوں پر اعتماد میں لیں.
خاص طور پر سی سی آئی کے اجلاس سے لوٹنے کے بعد اس اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ہوں اور جو کیس سندھ کے نمائندے سی سی آئی میں رکھتے ہیں اس کے بارے میں وزیر اعلیٰ سندھ کراچی میں نہ فقط ایک تفصیلی پریس کانفرنس کریں مگر میری تجویز ہے کہ نہ فقط سندھ اسمبلی مگر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ممبران اور ایسی سیاسی جماعتیں جن کی کراچی میں کافی اہمیت ہے‘ مثال کے طور پر جماعت اسلامی اور جے یو پی کی قیادت کو مدعو کر کے کراچی میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس میں یہ ساری باتیں تفصیل سے رکھی جائیں‘ ان باتوں کے علاوہ سندھ کے ایک شہری اور ایک صحافی کی حیثیت سےاس ایشو پر میری کچھ اور بھی تجاویز ہیں جو میں چاہوں گا کہ مختصر طور پر ہی صحیح اس کالم میں پیش کروں۔
میں ایک تجویز اس سے پہلے بھی اپنے کالموں میں دے چکا ہوں اور ایک بار پھر دہرائوں گا کہ گندے پانی کو صاف کرنے کا کام کوئی صوبہ اکیلا نہیں کر سکتا‘ سی سی آئی میں یہ مسئلہ اس طرح اٹھایا جائے کہ وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کی طرف سے کچھ بین الاقوامی اداروں کی مالی اور تکنیکی مدد سے ایک ملک گیر پروجیکٹ شروع کیا جائے جس کے تحت ہر صوبے سے Effluent دریا میں نہ جائے اور نہ کارخانوں کا زہریلا مادہ دریا میں جائے۔ فقط اس طرح اصل مقصد حاصل ہوسکتا ہے‘ اس کے علاوہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ میں دیگر صوبوں کے کافی لوگ آباد ہیں‘ ان کی تعداد کے تناسب سے ہر صوبہ اضافی پانی کراچی کو فراہم کرے مگر جناب ! یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد کراچی میں آباد ہے‘ ان کی کیوں کوئی بات نہیں کرتا‘ ان کو اپنے اپنے ملک واپس بھیجا جائے یا ان کی پانی کی ضروریات مرکزی حکومت پوری کرے دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کی قیادت کرنے کا دعویٰ کرنے والے ان حساس ایشوز پر کیوں خاموش ہیں؟
جی این مغل

لیاری، تعلیم اور ایدھی

تعلیم، تعلیم، تعلیم۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے پارلیمنٹ کی تنقید کے بعد اپنی بنیادی پالیسی کی ترجیحات کو تبدیل کرتے ہوئے یہ اہم تقریر کی تھی، یوں برطانیہ میں سرکاری شعبے میں تعلیمی صورتحال بہتر ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی کے علاوہ امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، مگر یہ دونوں رہنما سندھ کی تعلیمی صورتحال کے لیے پالیسی نہیں بنا سکے۔ اس صدی کے 17 برسوں میں 8 سال سے زیادہ عرصہ پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران رہی مگر سندھ کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے حالات زبوں حالی کا شکار ہیں۔ پیپلز پارٹی کا سندھ میں سب سے مضبوط قلعہ لیاری ہے مگر لیاری کے اسکولوں میں بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں۔
لیاری میں بلدیہ کراچی نے ہمیشہ سے پرائمری اور لوئر سیکنڈری اسکولوں کے قیام پر توجہ دی۔ اس وقت کے ایم سی کے 52 اسکول قائم ہیں جن میں 14 ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، مگر بلدیہ کی عدم توجہی کی بنا پر صرف ایک اسکول میں سائنس کی لیبارٹری ہے، جو بہت زیادہ خراب حالت میں ہے، باقی 51 اسکولوں میں طلبا سائنس پڑھنے سے محروم ہیں۔ ان طلبا کا تعلق نچلے طبقے سے ہے۔ ان کے والدین مزدور ہیں، کچھ بیروزگار ہیں اور یہ والدین  اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم دلوانے کی سکت نہیں رکھتے۔ چونکہ ان میں سے بیشتر اسکول بہت قدیم ہیں اور ان اسکولوں میں طلبا کی اکثریت داخلہ لیتی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی نسلیں اسکولوں میں بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی بنا پر سائنس کی تعلیم سے محروم ہیں۔
لیاری کی رہنے والی اسما ایاز خان میرٹ کی بنیاد پر ترقی کر کے بلدیہ کے لیاری کے دفتر میں افسر تعینات ہو گئی۔ ان کے لیے طالب علموں کی علم کے لیے جستجو اور اسکولوں کی حالت تشویش کا باعث بنی۔ اسما نے پہلے تو کوشش کی کہ سٹی ڈسٹرکٹ کونسل کے بجٹ میں ان اسکولوں میں سائنس کی لیبارٹریز کے قیام کے لیے رقم مختص ہو جائے۔ ڈسٹرکٹ میونسپل ساؤتھ کے چیئرمین محمد فیاض بھی اس تجویز کے حامی تھے مگر ان کی کوشش فائلوں میں دب گئی۔ علم اور غریبوں سے محبت کرنے والے اس گروپ نے صاحب ثروت افراد کو تلاش کرنا شروع کیا۔ کراچی شہر میں فیاضی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے مگر ان صاحب ثروت افراد کی بنیادی ترجیح خیرات و صدقات کے نام پر رقمیں بانٹنا ہے۔
تعلیم اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی اہمیت کم لوگ محسوس کرتے ہیں۔ لیاری کے ان ہمدردوں کو پہلے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی مگر پھر ان صاحبان نے مولانا عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ صبا سے رابطہ کیا۔ عبدالستار ایدھی کے انتقال سے ایدھی فاؤنڈیشن کو جہاں بہت زیادہ نقصانات ہوئے ہیں وہاں ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ عطیات کے ملنے کی شرح کم ہو گئی ہے۔ فیصل اور صبا نے ایدھی صاحب کے انتقال پر یہ عہد کیا تھا کہ ایدھی صاحب نے ملک بھر میں جتنے منصوبے شروع کیے تھے وہ سب مکمل کریں گے۔ فیصل ایدھی فاؤنڈیشن کے نظام کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ انھوں نے ملک بھر میں متحرک اپنی ایمبولینسوں کی نگرانی کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک پروجیکٹ شروع کیا ہوا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ہر ایمبولینس کی لوکیشن کا ایدھی ہیڈ کوارٹر کو علم ہو گا۔ مگر فیصل تعلیم اور خاص طور پر سائنسی تعلیم کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں بلکہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سائنس کی حقیقی تعلیم سے نہ صرف نوجوانوں کا ذہن تبدیل ہو گا بلکہ ترقی کا عمل بھی بہتر ہو گا۔ یہی وجہ تھی کہ فیصل ایدھی اور ان کے معاونین نے ڈی ایم سی ساؤتھ کے افسروں اور منتخب چیئرپرسن سے مذاکرات کیے اور 15 اسکولوں کا تعین کیا، جہاں لیبارٹری فوری طور پر تعمیر ہو سکی۔
صبا نے اس پروجیکٹ کے لیے 40 لاکھ روپے مختص کیے، یوں صرف 3 مہینوں کی مدت میں ان اسکولوں میں لیبارٹریاں تعمیر ہو گئیں اور سائنسی آلات فراہم کر دیے گئے۔ ان سہولتوں کا فوری فائدہ یہ ہوا کہ 600 طلبا نے سائنس کے مضامین کی تعلیم کے لیے ان اسکولوں میں داخلہ لے لیا۔ فیصل اور صبا کا یہ عزم ہے کہ وہ تمام اسکولوں میں یہ لیبارٹریاں تعمیر کریں گے۔ دونوں میاں بیوی غور و فکر کررہے ہیں کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے فنڈ کس طرح حاصل کیے جائیں۔ سولجر بازار کی قدیم بستی میں قائم یہ اسکول ایک عیسائی خاتون نے قائم کیا تھا۔ اس اسکول کی عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ اسکول سولجر بازار اور اطراف کی بستیوں کے غریب بچوں کی تعلیم کا ذریعہ رہا ہے۔ سولجر بازار اور اطراف کے علاقوں کی زمینوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ 
اس بنا پر لینڈ مافیا کو اس اسکول کی زمین کی اہمیت کا اندازہ ہوا، یوں ایک منصوبے کے تحت اس اسکول کی عمارت کے ایک حصے کو منہدم کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس کے بعض افسران اس معاملے میں ملوث تھے مگر اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے جرأت کا مظاہرہ کیا اور آواز اٹھائی۔ الیکٹرانک میڈیا کے پاس اس دن سیاستدانوں کے جھگڑوں، مختلف علاقوں میں آپریشن اور دیگر موضوعات کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی، اس لیے اسکول کی عمارت کے منہدم ہونے کی خبریں مسلسل چلیں۔ اس طرح وزیراعلیٰ سندھ نے صورتحال کا نوٹس لیا اور ملزمان گرفتار ہوئے۔ مگر یہ سب اچانک نہیں ہوا اور یہ کراچی کا پہلا اسکول نہیں ہے، اس سے پہلے بہت سے اسکولوں کی عمارتوں پر مافیا قبضہ کر چکی ہے۔
ان اسکولوں کے کچھ ہیڈ ماسٹروں اور اساتذہ نے یہ مسائل اٹھائے تھے، مگر میڈیا پر کوریج نہ ہونے کی بنا پر لینڈ مافیا کامیاب ہو گئی۔ ان معاملات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر سرکاری عمارتوں خاص طور پر اسکولوں کی عمارتوں پر قبضے میں محکمہ تعلیم کا عملہ اور علاقے کی پولیس کے اہلکار ملوث ہوتے ہیں۔ مگر ایک بدعنوان نظام کی بنا پر یہ لوگ بچ جاتے ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے کیے جانے والے سروے میں سندھ میں تعلیمی شعبے کی پسماندگی کو واضح کیا جاتا ہے۔ اس وقت سندھ میں 50 فیصد بچے ناخواندہ ہیں۔ ناخواندہ بچوں کی تعداد کا شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق ہے۔ حکومت سندھ یہ تسلیم کرتی ہے کہ لاڑکانہ، نواب شاہ اور دیگر علاقوں میں اب بھی گھوسٹ اسکول موجود ہیں۔
ان گھوسٹ اسکولوں میں اساتذہ کا تقرر بھی ریکارڈ پر ظاہر ہوتا ہے اور یہ اساتذہ اور دیگر عملہ تنخواہیں وصول کرتا ہے مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت گھوسٹ اسکولوں کی شرح صفر تک پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ پھر ان کا جب پنجاب اور پختونخوا کے سرکاری اسکولوں سے موازنہ کیا جائے تو زیادہ مایوسی ہوتی ہے۔ پنجاب میں ہر اسکول میں سولر ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے جس سے لوڈشیڈنگ سے خاصی حد تک نجات مل گئی ہے۔ پھر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اساتذہ اور دیگر عملے کی نگرانی خاصے عرصے سے جاری ہے۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں میں لائبریری، کلاس روم میں فرنیچر اور لیبارٹریوں کے قیام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسکول میں طالب علموں کو کتابوں کے علاوہ یونیفارم بھی فراہم کیا جاتا ہے جب کہ سندھ کے اسکول لوڈشیڈنگ اور بنیادی سہولتوں، حتیٰ کہ بیت الخلا جیسی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ حکومت صرف طلبا کو کتابیں فراہم کرتی ہے۔
یونیفارم اور ناشتہ کی فراہمی کا تصور نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ کے اسکولوں میں طلبا خاص طور پر طالبات کے اسکول چھوڑنے کی شرح زیادہ ہے۔ پھر میرٹ کو پامال کر کے بھرتی ہونے والے اساتذہ کی نااہلی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ اندورن سندھ میں پہلے مدرسے نہیں تھے جب کہ اب ہر ضلع میں مدرسوں کا جال بچھ گیا ہے۔ ان مدراس میں طلبا کو رہائش، کھانا اور یونیفارم سب فراہم ہوتا ہے۔ پھر یہ لوگ انتہاپسندی کا آلہ کار بنتے ہیں۔ فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ نے دراصل حکومت کا بوجھ بانٹا مگر یہ عارضی انتظام ہے۔ اصولی طور پر ریاست پابند ہے کہ ہر شہری کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرے، یوں صد فی صد شرح تعلیم کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔ فیصل اور صبا تعریف کے مستحق ہیں مگر وزیراعلیٰ کی بنیادی ترجیح تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کب ہو گی؟
 ڈاکٹر توصیف احمد خان