چینی بحریہ کے 3 جہاز کراچی پہنچ گئے

چینی بحریہ کا 3 بحری جہازوں چانگ چن، جنگ ژہو اور چاؤ ہو پر مشتمل ٹاسک گروپ خیرسگالی وتربیتی دورے پر ہفتے کو کراچی پہنچ گیا۔ بندر گاہ آمد پرایک  پروقاراستقبالیہ تقریب کے دوران پاک بحریہ کے سینئر حکام اور چینی سفارتخانے کے عملے نے جہازوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا بعد ازاں نیول چیف ایڈمرل محمد ذکااﷲ نے چینی جہاز کا دورہ بھی کیا اور مشن کمانڈر ریئر ایڈمرل شین ہاؤ سے ملاقات بھی کی، ریئر ایڈمرل شین ہاؤ، ڈپٹی کمانڈر ایسٹ سی فلیٹ، اس بحری بیڑے کی قیادت کر رہے ہیں۔

چینی جہاز کے آمد کے موقع پرچینی بحریہ کے ایک چاک و چوبند دستے نے انھیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا، دورے کہ دوران نیول چیف نے جہاز کے عملے کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور ان کی آپریشنل صلاحیتوں کو بھی سراہا، نیول چیف نے کہا کہ پاک چائنا دوستی بہت اہمیت کی حامل ہے دونوں ممالک کے مسلسل باہمی تعاون کی وجہ سے دونوں کو تقویت ملی ہے، انھوں نے کہا چینی بحریہ کے دورے سے دونوں ممالک کی بحریہ کے درمیان تعاون کو فروغ حاصل ہو گا اور اکٹھے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا، کراچی میں اپنے قیام کے دوران جہازوں کے افسران اور جوان اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں اور پیشہ ورانہ معاملات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

مزید برآں سینئر پاکستان نیوی اور سویلین حکام سے ملاقاتیں، آپریشنل و تربیتی سرگرمیاں اورمتعدد پیشہ ورانہ اور سماجی امور پر بات چیت بھی اس دورے کا حصہ ہیں، دورے کے اختتام پر پاکستان نیو ی اور چینی بحری جہازوں کے درمیان کھلے سمندر میں بحری مشق بھی کی جائے گی جس کا مقصد دونوں بحری افوج کے درمیان مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔

چینی سرمایہ کاروں کی کراچی میں صنعتی پلاٹ خریدنے میں عدم دلچسپی

چینی سرمایہ کاروں نے کراچی کے پرانے صنعتی علاقوں بشمول سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ) میں صنعتی زمین خریدنے میں عدم دلچسپ کا اظہار کیا ہے۔ تاہم چینی سرمایہ کار آٹو انڈسٹریز کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تاہم وہ دیگر شعبوں میں مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے کے خواہش مند نظر نہیں آتے۔ پاکستان میں مارکیٹس پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق کراچی میں صنعتی پلاٹس کی قیمت اُن عوامل میں سے ایک ہے جو چینی سرمایہ کاروں کی شہر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ چینی، آٹو انڈسٹری خصوصاَ چھوٹی کمرشل گاڑیوں اور کاروں کی تیاری کے شعبے میں کافی متحرک ہیں۔
تقریباً 5 چینی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر گرین فیلڈ سرمایہ کاری کی غرض سے پاکستان میں پلانٹ لگانے کے لیے درخواست دی ہے، جن میں سے 3 پلانٹس لاہور میں جبکہ 2 کراچی میں لگائے جائیں گے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز ایسوسی ایشن (پاپم) کے چیئرمین مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کے ارکان چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے معاہدے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں مقامی شراکت داروں کو شامل کیے بغیر موٹر سائیکل کے پارٹس تیار کرنے میں مصروف ہیں، جس پر انھیں تشویش ہے جبکہ اس پیش رفت کے حوالے سے حکومت پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’ہم خوش ہوں گے اگر چینی کمپنیاں ہمیں 10 سے 20 فیصد کا پارٹنر بنائیں جس سے ملک میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے’۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چیئرمین اسد نثار برخرداریہ نے بتایا کہ چینی سرمایہ کار سائٹ کے علاقے میں سستی زمین کا حصول چاہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں کیونکہ اس علاقے میں ایک ایکڑ پلاٹ کی قیمت 15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں کارخانے لگانے کے بجائے ٹائر، صارفین کی اشیاء اور پلاسٹک کی اشیاء کی تجارت میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریا کا رخ کر رہی ہیں جہاں کی قیمتیں سائٹ اور کورنگی انڈسٹریل ایریا کی قیمتوں سے نسبتاً کم ہیں۔

اسد نثار کا یہ بھی کہنا تھا کہ سائٹ کے علاقے میں چینی سرمایہ کار پچھلے کئی دہائیوں سے مختلف کاروبار کے ساتھ موجود ہیں جبکہ کراچی واٹر بورڈ کے ’کے ٹو‘ اور ’کے تھری‘ منصوبوں میں بھی چینی نگراں عملہ اور ٹھیکیدار نمایاں نظر آتے ہیں۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کے اے ٹی آئی) کے چیئرمین مسعود نقی نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ چینی سرمایہ کاروں نے اپنے آپ کو کورنگی انڈسٹریل ایریا سے دور رکھا ہوا ہے جہاں پر ایک ایکڑ پلاٹ کی قیمت 20 کروڑسے 30 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی پاکستان میں ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ، آر او پلانٹ، سیوریج کے نظام، پانی صاف کرنے کے نظام کے علاوہ دیگر مکینیکل اور انجینئرنگ منصوبے لگانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

اسی دوران پاکستان اپیرل فورم (پی اے ایف) کے چیئرمین جاوید بلوانی نے کہا ’کسی بھی چینی کمپنی نے تجارت اور کاروباری معاہدے کے لیے ہمارے فورم سے رابطہ نہیں کیا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی ملبوسات کے سستے ہونے کے باوجود وہ پاکستان اور چین کے درمیان ملبوسات کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کا روشن مستقبل نہیں دیکھتے۔ اس حوالے سے ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (ایف بی اے ٹی آئی) کے چیئر مین جاوید سلیمان نے کہا کہ چینی کونسل جنرل سے دو مرتبہ ملاقات کرنے کے باوجود بھی کسی چینی کمپنی نے ہمارے علاقوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جبکہ نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (این کے اے ٹی آئی) کے چیئر مین اختر اسمٰعیل نے بھی ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا۔

کراچی میں بدبو کی وجہ کیا تھی ؟

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی شہر کراچی میں دو روز قبل بدبو کیوں اور کیسے پھیلی؟ اس کا جواب حکومت کا کوئی بھی تحقیقاتی اداراہ نہیں دے سکا ہے۔ ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈ وائیڈ فنڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ بدبو سمندر میں ’نوک ٹی لوکا‘ نامی آبی حیات کی ہلاکت کی وجہ سے پھیلی تھی۔ کراچی کے ساحلی علاقوں اور وسطی شہر میں 31 مئی کی صبح فضا میں بدبو محسوس کی گئی تھی، جس کا اثر پورا دن رہا تھا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی کی پرنسپل سائینٹیفک افسر ڈاکٹر نذہت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سمندر میں تیل پھیلنے کی وجہ سے یہ بدبو پھیلی ہے تاہم اس بارے میں ان کی ٹیم تحقیق کر رہی ہے۔

حکومت سندھ کے محکمہ ماحولیات نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ کراچی کے ڈائریکٹر عاشق لانگاہ کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے کے پاس ایسے آلات ہی نہیں کہ وہ اس کی تحقیق کر سکیں۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ کے تیکنیکی مشیر محمد معظم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھلے سمندر میں نوک ٹی لوکا نامی آبی جانور پایا جاتا ہے، جو عمان سے لیکر کراچی تک بحیرہ عرب میں موجود ہے اور یہ اتنی تعداد میں ہوتے ہیں کہ سمندر کا رنگ سبز ہو جاتا ہے۔ محمد معظم خان کے مطابق نوک ٹی لوکا نامی یہ آبی جانور گزشتہ تین چار ماہ سے بحیرہ عرب میں موجود تھے اور جیسے ہی مئی کے آخری ہفتے میں مون سون کے آغاز میں جنوب مغرب سے ہوائیں چلیں اور سمندری لہروں میں تیزی آئی تو ان کی بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوئیں اور لہروں کی مدد سے یہ ساحل تک پہنچے اور نتیجے میں بدبو پھیل گئی۔

پاکستان میں ورلڈ وائیڈ فنڈ کے سینئر اہلکار محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تجربے میں اتنی تعداد میں اس جانور کی ہلاکت اور بدبو پہلے نہیں دیکھی۔ ’یہ نکتے جتنا جانور ہے جس کا جوبن کبھی کبھی زہریلا بن جاتا ہے اور آبی حیات کی اموات ہوتی ہیں، جیسے عمان کے ساحل پر سطح پر تیرنے والے جھینگے کی اموات ہوئیں، لیکن پاکستان کی سمندری حدود میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘ جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف میرین سائنس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر راشدہ قاری، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد معظم خان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتیں، ان کا کہنا ہے کہ نوک ٹی لوکا کی ہلاکت سے اس قدر بدبو پھیل نہیں سکتی ہے۔ جو علاقے ساحل کے قریب ہیں وہاں تک تو بدبو آ سکتی ہے لیکن پورے شہر میں پھیل جائے اس میں اتنی شدت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر راشدہ قاری کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی ریسرچ نہیں دیکھی کہ اس موسم میں ان کی بریڈنگ ہوتی ہو، لیکن گرمی بہت ہے اس وجہ سے ہوسکتا ہے ان کی بریڈنگ ہوئی ہو یا کہیں اور سے یہاں آئے ہوں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت کی وجہ موسمی تغیر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے علاوہ انسان کی پھیلائی ہوئی آلودگی کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے سمندر میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان اداروں کی رپورٹوں کے مطابق صنعتی فضلے کے علاوہ گھریلو فضلہ اور کچرہ بھی سمندر برد کیا جاتا ہے، جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں عوامی دسترخوانوں پر افطار کرانے کا رجحان 200 فیصد بڑھ گیا

رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا ہے، رحمتوں کے مہینے میں جہاں مسلمان روزہ رکھتے ہیں اور عبادت کر کے اللہ کے حضور گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں وہیں اس بابرکت مہینے میں مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق روزہ داروں کو افطار کرانے کی کوشش کرتے ہیں کراچی ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔
شہری طویل لوڈ شیڈنگ اور قلت آب جیسے مسائل سے پریشان ہیں تاہم شہریوں میں افطار کرانے کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے شہر میں جگہ جگہ مغرب سے قبل عوامی دستر خوانوں پر افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مخیر حضرات کی جانب سے اللہ کی راہ میں دل کھول کر روزہ داروں کے لیے افطار کا بندوبست ہوتا ہے یہاں لوگ نہ صرف افطار کرتے ہیں بلکہ اب افطار کے لوازمات کے ساتھ ساتھ کھانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے.

سروے کے دوران مقامی تنظیم کے فلاحی سروسز کے انچارج عمران الحق نے بتایا کہ ایک جانب مہنگائی نے لوگوں کی قوت خرید محدود کی ہے پہلے تو غریب طبقہ افطار کے لوازمات سے محروم رہتا تھا لیکن اب سفید پوش افراد بھی افطار کی نعمتوں سے محروم رہتے ہیں اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے سادگی سے افطار کرتے ہیں انھوں نے بتایا کہ شہر میں صاحب حیثیت مسلمانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس مہینہ دل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں عوامی افطار دسترخوانوں کا رجحان بڑھ رہا ہے اور گزشتہ برس کی نسبت اس سال اس رجحان میں مزید 200 فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور شہر میں 4500 مقامات پر عوامی افطار دستر خوان سجائے جاتے ہیں جہاں کم و بیش 40 لاکھ افراد افطار کرتے ہیں.

اور یہ دسترخوان اورنگی ٹاؤن، سائٹ، ماڑی پور، سرجانی ٹاؤن، عزیز آباد، حسین آباد، نیو کراچی، ناظم آباد، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، کریم آباد، گولیمار، پی آئی بی کالونی، مارٹن روڈ، گارڈن، لانڈھی، کورنگی، منظور کالونی، محمود آباد، نرسری، کالا پل، جیل چورنگی، بہادرآباد، طارق روڈ، ایم اے جناح روڈ، رنچھوڑ لائن، گارڈن، سولجر بازار، لائنزایریا، کھارادر، میٹھادر، کیماڑی، شیریں جناح کالونی، اختر کالونی، ڈیفنس، ٹاور، آئی آئی چندریگر روڈ، آرام باغ، ایم اے جناح روڈ، برنس روڈ، گرومندر، صدر، حیدری، شاہ فیصل کالونی، ملیر، قائدآباد، فیڈرل بی ایریا سمیت دیگر علاقوں میں لگائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ عوامی دستر خوان شاہراہوں، سڑکوں، عوامی مقامات، بس اسٹاپس پر لگائے جاتے ہیں۔ افطار دستر خوانوں کا اہتمام مخیر حضرات دینی، ملی، روحانی جذبے کے تحت کرتے ہیں۔ مخیر حضرات کے علاوہ فلاحی وسماجی تنظیمیں بھی اپنی مدد آپ کے تحت افطار کراتے ہیں۔ یہاں لوگ خاموشی سے آتے ہیں اور افطار کر کے چلے جاتے ہیں۔ ان افطار دسترخوانوں پر لوگوں کو بغیر کسی رنگ ونسل اور مذہب کے خشوع وخضوع کے ساتھ افطار کراتے ہیں اور کھانا کھلایا جاتا ہے۔

عامر خان

کراچی کے سب سے پرانے بُک اسٹور کی تزئین و آرائش

کراچی میں واقع پاینیر بک ہاؤس (Pioneer Book House) کے مالک ظفر حسین نے لوگوں کی کتنب بینی میں عدم دلچسپی کے باعث اس بک اسٹور میں مزید سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھے، تاہم بین الاقوامی سطح پر پہچانی جانے والی مصنف منیزہ نقوی کی کوششوں کے بعد ظفر نے اپنا ارادہ تبدیل کیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس مشہور کتابوں کی دکان کے مالک ظفر حسین ایک سرگرم کارکن بھی ہیں، انہوں نے اپنی اس دکان کے بارے میں بتایا کہ ’میرے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس بُک اسٹور کو برقرار رکھیں، میں نے اس دکان کی سرمایہ کاری کے لیے نئے خیالات اور بہتر مارکٹینگ کی حکمت عملی کے بارے میں سوچا ہے، میں اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے تعمیر کی گئی اس دکان کو ایسے جانے نہیں دوں گا‘۔

پاینیر بک اسٹور کا نام زیادہ تر قانون کی کتابوں کے لیے جانا جاتا ہے، ایم اے جناح روڈ پر واقع ڈاو میڈیکل کالج، ایس ایم سائنس کالج کے قریب اس کتابوں کی دکان کو کتاب پڑھنے والوں کی جنت مانا جاتا رہا ہے خاص کر قانون پڑھنے والے طلبہ یہاں ضرور آتے ہیں۔ ظفر حسین کے مطابق ’ایک وقت تھا جب اس دکان پر لوگوں کا ہجوم اس کے بند ہونے کے وقت تک فہرست بنا کر کتابوں کا مطالبہ کرتا تھا، تاہم ہر چیز آن لائن دستیاب ہونے کے بعد اب اس کا مطالبہ کافی حد تک کم ہوچکا ہے‘۔

پاینیر بُک ہاؤس کی اب ایک نئ ویب سائٹ بھی ہے، اور کتاب پڑھنے کے شوقین افراد انہیں آن لائن حاصل کر سکتے ہیں، ظفر حسین نے اپنی دکان کی تزئین و آرائش کا بھی ارادہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا جو ایک گرافک ڈیزائنر بھی ہے اب اس کاروبار میں دلچسپی لے رہا ہے، اور یقیناً نئے خیالات جلد اس بُک ہاؤس میں بہتری لائیں گے۔ تاہم ظفر حسین کا کسی دوسرے علاقے میں اس اسٹور کو منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

کراچی میں بجلی کا بحران برقرار

عدالتی اور حکومتی احکامات کے برعکس کے الیکٹرک کی جانب سے شہرمیں بجلی کی طویل اورغیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی کا بحران بھی پیدا ہو گیا ہے اور لوگ سراپا احتجاج ہیں۔
کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے کراچی میں کئی روزسے فنی خرابیوں اور ہائی ایکسٹینشن لائنیں ٹرپ کرنے کا بہانہ بنا کر طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ مزید بڑھا دیا ہے، حکومتی اعلان کے باوجود کے الیکٹرک رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے موقع پر بھی لوڈ شیڈنگ سے گریزنہیں کر رہی، شہر کے کئی علاقوں میں لاکھوں لوگوں نے آج چوتھی سحری بھی بجلی کے بغیر ہی کی۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے کئی علاقوں میں پانی کا بھی بحران پیدا کر دیا ہے، رمضان المبارک میں دوہری تکلیف پر لوگ سراپا احتجاج ہیں اور کئی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ گلبہار نمبرایک میں لوگوں نے بجلی اور پانی نہ ہونے پر لسبیلہ سے ناظم آباد جانے والی سڑک کو بلاک جبکہ شہر کی سب سے بڑی سینیٹری مارکیٹ کو بند کرا دیا ۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے ادارے کا عملہ ہم لمحہ مصروف ہے۔ شہر میں کہیں بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی، کسی بھی علاقے میں بجلی کی عدم فراہمی پر شہری 118 پر رابطہ کرکے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔