کیا شہر کراچی واقعی پُر امن ہو چکا ہے ؟

کراچی جو تقریباً 3 کروڑ آبادی پر محیط شہر ہے اور دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ آبادی کا حامل ہے، یہ فقط پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ دنیا کے کئی گنجان آباد شہروں میں سے ایک ہے۔ صوبہ سندھ کی کم و بیش نصف آبادی کراچی میں ہی آباد ہے۔ یہ شہر کئی سو سال کی تاریخ رکھتا ہے اور اِس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک تجارتی شہر ہے۔ اِس کی یہی خاصیت اِس کو کئی دیگر شہروں سے ممتاز بنا دیتی ہے۔ کراچی امراء کے درمیان تو عروس البلاد کے نام سے جانا جاتا ہے البتہ متوسط طبقے میں یہ ایک غریب پرور شہر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ تو ہو گیا کراچی کا انتہائی مختصر سا تعارف، اب چلتے ہیں اصل موضوع یعنی امن کی جانب۔ میں جب بھی اپنے دوستوں سے ملتا ہوں تو اُن سے حال احوال ضرور پوچھتا ہوں۔ میرے اکثر دوست اپنا کاروبار چلا رہے ہیں اور اُن کی شہر کے حالات پر کافی گہری نظر ہوتی ہے۔ میرا دوسرا حلقہ احباب سماجی کارکنان پر مبنی ہے اور وہ مسائل جو ایک بزنس مین کو نظر نہیں آتے وہ انہیں نظر آ جاتے ہیں۔
ایک بات جو ہم تواتر سے سنتے ہیں کہ ’کراچی پُرامن ہو چکا ہے‘ میرے نزدیک یہ بات کچھ ناقابل قبول ہے۔ آپ چاہیں تو مجھے خیرہ چشم کہہ سکتے ہیں لیکن میں اپنے دلائل ضرور پیش کروں گا، باقی آپ کی مرضی ہے۔ مثال پیش کئے دیتا ہوں میرے ایک بہت ہی عزیز دوست جناب ناصر زیدی جو میری ہی طرح ایک سماجی کارکن ہیں اور درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں کہتے ہیں کہ،
کراچی اب بہت پُرامن اور پُرسکون ہو چکا ہے۔

میں اِس معصومانہ خیال کو قابل قبول نہیں سمجھتا، کیونکہ یہ ایک سطحی مشاہدہ ہے اور مقتدر حلقے کی منشاء کے عین مطابق ہے۔ دراصل ہمارا شہر کئی چھوٹے چھوٹے اقلیتی علاقوں میں بٹا ہوا ہے، بنیادی حقوق کو ہمارے یہاں بطور آسائش اور اسٹیٹس سمبل کے طور پر برتا جاتا ہے۔ پینے کا صاف پانی تو اب نلکوں میں آتا ہی نہیں ہے، گدلا کہیں کہیں آ جاتا ہے، سڑکیں آپ کو سب سے اچھی فقط ڈیفنس میں ہی ملیں گی، شہر کے باقی اضلاع، قصبے اور رہائشی علاقے صبر کریں اور سب سے آخر میں بجلی، جس کے چور تو پکڑے نہیں جاتے ہیں البتہ پورے پورے علاقوں کو چوری کا طوق پہنا کر وہاں گھنٹوں بجلی معطل رکھی جاتی ہے۔

یہی بنیادی ضروریات کی غیر منصفانہ تقسیم لوگوں کو بے چین اور بے سکون کیے دیتی ہے، اور پھر وہ ریاست سے کئے گئے اپنے عمرانی معاہدے سے صرف نظر کرتے ہوئے، جلاؤ گھیراؤ اور اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اب بات کرلیتے ہیں امن کی کہ یہ ہوتا کیا ہے اور یہ کن عوامل پر مشتمل ہوتا ہے؟ امن کی کچھ بین الاقوامی تشریحات و تعریفات ہیں اور یہ تشریحات و تعریفات تمام دنیا میں من و عن رائج ہیں۔ یہ تشریحات اقوام متحدہ نے ہی رائج کی ہیں اور جیسا کے نام سے ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ کا مطلب ہی یہی ہے کہ اِن تشریحات کو اقوام عالم نے مل کر رائج کیا ہے۔ جو پہلی تشریح میں یہاں پیش کرنا چاہوں گا وہ انسانی حقوق سے متعلق ہے، ایک علاقہ، معاشرہ یا خطہ اُسی وقت پُرامن کہلائے گا جب وہاں انسانی حقوق میسر ہوں اور آدھے ادھورے نہیں! مکمل! اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ، اب یہ انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں؟ سنہ 1945ء میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا عالمی مسودہ پیش کیا گیا تھا، اِس مسودے میں 30 انسانی حقوق درج تھے۔ دنیا بھر کے تمام ممالک آج اُسی مسودے کی روشنی میں اپنے ممالک کے آئین نافذ کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے عالمی مسودے میں جن حقوق کا ذکر کیا گیا وہ لازم و ملزوم اور ایک دوسرے سے جدا کر کے نافذ العمل نہیں لائے جا سکتے ہیں، ایسا کرنا انسانی حقوق اور اِس مسودے دونوں کی بے حرمتی کے زمرے میں آئے گا۔ میں اِس مسودے کی فقط پہلی اور دوسری شق یہاں درج کیے دیتا ہوں اور جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑے دیتا ہوں.

تمام انسان برابر ہیں
انسان کے درمیان رنگ، نسل، زبان، مذہب، فرقے، معاشی حالات کی بناء پر کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی۔ اب میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں، کیا واقعی ہمارے شہر بلکہ ہمارے ملک میں کہیں بھی اِن حقوق کی پاسداری ہو رہی ہے؟
اب چلتے ہیں انسان کی دوسری تعریف کی جانب۔ یہ تعریف تعلقات عامہ کے پائے کے محقق جوہان گلٹنگ Johan Gultang نے سنہ 1996ء میں پیش کی تھی۔ آپ نے امن کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا، منفی و مثبت۔ منفی امن جنگ و جدل، ظلم و جبر اور تشدد کے عنقا ہونے کا نام ہے اور مثبت امن معاشی و معاشرتی ترقی و انسانی بہبود کا نام ہے۔ ایک بات اور مثبت امن، منفی امن کے رائج ہونے کے بعد ہی نافذ ہوتا ہے۔

کیا واقعی کراچی میں امن کلی طور پر رائج ہوگیا ہے؟ دل کو بہلانے کے لئے تو ہم ایسا ضرور کہہ دیں گے۔ نیز یہ کہ ہر وہ شخص جس پر کراچی کا امن بحال کرنے کی ذمہ داری عائد ہے وہ بھی ایسا ہی کہے گا، لیکن کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا ہے۔ ہاں ہمیں عارضی طور پر اُن مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے جو ہمیں سنہ 2012ء تک درپیش تھے۔ اگر ہم Johan Gultang کی دی گئی تعریف کے بہت قریب ہیں تو ہمیں اقوام متحدہ کی جانب سے مروجہ نظام کی جانب رجوع کرنا ہو گا۔ ایسا کہنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امن و امان کو پورے ملک میں ایک حق کی نہیں بلکہ ایک آسائش کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ملک کا فقط 20 فیصد طبقہ محفوظ علاقوں اور ذاتی محافظوں کے سائے میں زندہ ہے تو یہ کوئی کارنامہ نہ ہوا۔ نیز یہ کہ موجودہ حالات کو ہی بہترین قرار دینا خود کشی کے مترادف ہو گا۔

کراچی کا امن آبادی کے شدید دباؤ، اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم، انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور شہر میں جدید اسلحے کی وافر موجودگی سے برباد ہوا تھا اور ہو رہا ہے۔ کیا واقعی اِن مسائل کا حل کراچی میں نافذ العمل ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔ یہاں بس گزارہ ہی ہو رہا ہے اور گزارہ تو جیل میں بند قیدی اور سڑک پر بیٹھے بھکاری کا بھی ہو ہی جاتا ہے۔ ہمیں اپنے اصل مسائل کو سمجھنا ہو گا، صرف یہی نہیں بلکہ اِن کا حل دریافت اور اِن پر باقاعدہ عمل درآمد بھی کرنا ہو گا۔ بلی دیکھ کر اگر کبوتر آنکھیں بند کر لے تو ایسا کرنے سے بلی غائب نہیں ہو جاتی ہے، بلکہ وہ قریب آکر کبوتر کو کھا جاتی ہے۔ ہمیں بھی مسائل کو دیکھ کر آنکھیں بند نہیں کرنا ہوں گی بلکہ ان کا تدارک کرنا ہو گا۔

بلال منصور

 

لیاقت آباد، تباہی کے دھانے پر

کراچی میں ابھی معمول سے کم بارش ہوئی اور لیاقت آباد میں تین منزلہ عمارت گر گئی۔ رات گئے گرنے والی عمارت کے ملبے میں دب کر 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ امدادی کارروائیاں دیر سے شروع ہوئیں کیونکہ لیاقت آباد کی تنگ سڑکوں میں بڑی گاڑیاں اور ایمبولینس و غیرہ آسانی سے نہیں جا سکتیں۔ بے ہنگم ہجوم کی بناء پر بھی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ کراچی کے ضلع وسطی کی انتظامیہ نے مساجد سے اعلانات کرائے کہ غیر متعلقہ افراد حادثے کی جگہ سے ہٹ جائیں مگر بہت کم لوگوں نے ان اعلانات پر توجہ دی۔ لیاقت آباد میں ہر سال دو سال بعد کوئی کمزور عمارت گر جاتی ہے اور کئی افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔

حکومت تحقیقات کا اعلان تو کرتی ہے مگر سب کچھ فائلوں میں گم ہو جاتا ہے۔
پاکستان بننے سے پہلے یہ علاقہ’ لالوکھیت‘ کہلاتا تھا جہاں دور دور تک کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ ٹھٹھہ ملیر سے لی مارکیٹ جانے والی سڑک نیٹی جیٹی سے گزرتی تھی جہاں بلوچوں کا گوٹھ تھا۔ گرومندر سے لیاقت آباد 10 نمبر تک سڑک تعمیر ہوئی۔ لیاقت آباد کی آبادی 1998ء میں ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق 649,091 تھی جو اب بڑھ کر 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہو گی۔ لیاقت آباد 11 یونین کونسلوں پرمشتمل ہے۔ پاکستان بننے کے بعد لالو کھیت کو لیاقت آباد کا نام دیا گیا اور جدید شہری منصوبہ بندی کے مطابق یہ علاقہ آباد ہوا۔

لیاقت آباد میں 90 گزکے پلاٹ تیار کیے گئے۔ کہیں کہیں زمین کی صورتحال کی بناء پر یہ پلاٹ 100 گز پر مشتمل ہوئے۔ لیاقت آباد میں جدید سڑکیں تعمیر ہوئیں، بڑی سڑک تو ایس ایم توفیق روڈ ہے مگر لیاقت آباد میں گھروں کو ملانے والی سڑکیں بھی 30 فٹ چوڑی تھیں۔ لیاقت آباد جب آباد ہوا تو ہر 20 مکانات کوچھوڑ کر زنانہ اور مردانہ بیت الخلاء بنائے گئے اور ہر گلی میں پانی کا نلکا نصب کیا گیا۔ اس نلکے میں دن میں پہلے ایک پھر دو دفعہ پانی فراہم کیا جاتا تھا ۔ جب ایوب خان کے دور میں بی ڈی نظام نافذ ہوئے اور ہر حلقے سے کونسلر منتخب ہوئے تو پھر گھروں میں بیت الخلاء بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ پہلے بیت الخلاء پرانی نوعیت کے تھے، سیوریج کی لائنیں ڈال دی گئیں۔ پیپلزپارٹی کے پہلے دور میں گھروں میں پانی کے کنکشن دیے گئے، پھر ہر محلے میں قائم بیت الخلاء کی عمارتوں کا سلسلہ ختم ہوا تو بااثر افراد اور پولیس کی سرپرستی میں غنڈہ گردی کرنے والے افراد نے بیت الخلاء کی عمارتوں پر قبضے کر لیے۔ ان عمارتوں کو رہائشی مکانات وغیرہ میں تبدیل کر دیا گیا۔

جان عالم بتاتے ہیں کہ لیاقت آباد ایک منظم علاقہ تھا اور یہاں مکان کی تعمیرکے لیے کے ڈی اے سے نقشے کی منظوری لینا ضروری تھا۔ نقشے سے ہٹ کر مکان تعمیرکرنے کا تصور نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرکوئی شخص اپنے مکان کی گیلری میں بغیر اجازت توسیع کرتا تھا تو متعلقہ انسپکٹر نوٹس بھجوا دیا کرتا تھا، بیشتر گھر ایک منزلہ تھے۔ کچھ صاحب ثروت افراد نے کے ڈی اے کی اجازت سے دو منزلہ گھر تعمیر کیے۔ لیاقت آباد میں سرکاری اسکول وسیع وعریض رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔ ان اسکولوں سے کھیل کے میدان منسلک تھے۔ ان میدانوں میں کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال کے مقابلے ہوتے تھے۔ ہاکی کے کئی نامور کھلاڑی ان میدانوں میں کھیل کر اولمپک مقابلوں تک پہنچے۔

90ء کی دہائی شروع ہوئی۔ ایم کیو ایم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ بنی۔ لیاقت آباد میں بلڈر مافیا متحرک ہو گئی۔ 90 گز کے پلاٹوں پر چار چار منزلہ عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ بعض افراد نے اپنے پلاٹ کے دو حصے کر دیے۔ اسی طرح 45 گز کے پلاٹوں پر کئی کئی منزلہ عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ لوگوں نے اپنے مکانوں کی بالکونیوں میں اتنی توسیع کر دی کہ سڑک چھوٹی ہو گئی۔ بلڈنگ کنٹرول کا عملہ اس صورتحال پر نامعلوم وجوہات کی بناء پر خاموش رہا۔ بیشتر افراد نے نقشہ منظور کرائے بغیر عمارتیں تعمیر کر لیں۔ اب جس پلاٹ میں ایک میاں بیوی اور 6 بچے رہتے تھے وہاں اس پلاٹ پر تعمیر ہونے والے ہر پورشن میں اتنے ہی لوگ آباد ہو گئے، پانی کا استعمال کئی گنا بڑھ گیا۔ اس کے علاوہ سیوریج کی لائنوں پر اتنا دباؤ بڑھا کہ وہ چوک ہو گئیں۔ بجلی کی مانگ کنڈے ڈال کر پوری کی گئی۔ اسکولوں سے ملحقہ میدانوں میں پارٹی آفس بن گئے۔

یونین کونسل کے دفاتر قائم کر دیے گئے۔ رینجرز نے جب لیاقت آباد میں آپریشن کیا تو یہ الزام لگایا گیا کہ بعض سرکاری عمارتوں میں ٹارچر سیل قائم تھے جہاں مخالفین پر تشدد ہوتا تھا۔ سیوریج لائن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی۔ لیاقت آباد کے مختلف علاقوں میں سیوریج کا پانی ، سڑکوں کا گندے پانی کے تالاب میں تبدیل ہونا معمول بن گیا۔ لوگوں نے پانی کی تلاش میں اپنے گھروں کے سامنے بورنگ کرائی۔ اس طرح پانی تو حاصل ہوا مگر پانی کھینچنے سے مکانات کی بنیادیں کمزور پڑنے لگیں۔ بورنگ کا پانی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اس بناء پر جگر، گردے، دل اورکینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اب حالات اتنے خراب ہو گئے کہ میت گاڑی اور ایمبولینس والوں نے اپنی گاڑیوں کو سڑکوں پر بھیجنے سے انکار کیا کیونکہ بڑی گاڑیوں کا موڑنا اور ریورس کرنا ناممکن ہو گیا۔ اب لیاقت آباد ایسے بند علاقے میں تبدیل ہو گیا جہاں آنے جانے کے راستے نہیں ہیں۔ ہر گلی اور سڑک گندے پانی کے جوہڑ میں تبدیل ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں عمارتوں کے مخدوش ہونے کی شرح بڑھ گئی۔

2008ء سے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ شدید انتظامی اور مالیاتی بحران کا شکار ہے۔ بلدیاتی عملہ فنڈ کی کمی کی بناء پر سیوریج لائنوں کی تبدیلی اور پانی کی لائنوں کے نظام کو ٹھیک کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ دو سال قبل بلدیاتی انتخابات میں لیاقت آباد سے ایم کیو ایم کے نمایندے کامیاب ہوئے۔ یہ بلدیاتی عملہ اختیارات اور فنڈز کے استعمال سے محروم ہے، یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی نظام کے قیام کے باوجود بلدیاتی عملہ لیاقت آباد سمیت شہر کے حالات میں بہتری لانے میں ناکام رہا ہے۔ اب کراچی کے میئر اور سندھ حکومت کے مابین ٹکراؤکی صورتحال ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد گلیوں میں ان کے لیے کوئی آپریشن کرنا ممکن نہیں۔ لیاقت آباد کے عوام نے جمہوریت کی بحالی، طلبہ اور مزدوروں کے حقوق کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ایوب خان کی آمرانہ حکومت نے لیاقت آباد کے عوام کی جمہوریت پسندی کو کچلنے کے لیے طاقت کا بیہمانہ استعمال کیا۔

اسی طرح بھٹو حکومت نے بھی پولیس کی مدد سے لیاقت آباد کے عوام کی جرات پسندی کے جذبے کو کچلنے کی کوشش کی مگر لیاقت آباد کے عوام آمریت کے خلاف سینہ سپر رہے۔ اب لیاقت آباد پھر تباہی کا شکار ہے۔ لیاقت آباد کی سیاسی قیادت ایم کیو ایم کے پاس ہے۔ اس علاقے کے نوجوانوں نے ایم کیو ایم کے لیے جانیں قربان کی ہیں، لہٰذا ایم کیو ایم کی قیادت کا فرض ہے کہ لیاقت آباد سے تجاوزات ختم کرے، غیر قانونی عمارتوں کو مسمارکرنے، سیورج اور صاف پانی کی نئی لائنوں کی تنصیب کے لیے جدوجہد کرے تا کہ لیاقت آباد کی اصول شکل بحال ہو سکے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

جامعہ کراچی شدید مالی بحران کا شکار، ملازمین کو تنخواہیں نہ مل سکیں

ملک کی سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی مالی بحران کا شکار ہوگئی ہے اور جامعہ کراچی کے وائس چانسلر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تعاون کی اپیل کر دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی یونیورسٹی کا مالی بحران سنگین ہوگیا ہے اور ملک کی اہم ترین مادر علمی 70 کروڑ روپے خسارے کا شکار ہے، صورت حال یہ ہے کہ جامعہ کے ملازمین کو گزشتہ ماہ کی تنخواہیں نہیں مل سکیں جب کہ یونیورسٹی کے ایڈمن بلاک کی لفٹ ٹھیک کرانے کے لیے 700 روپے بھی نہیں۔

جامعہ کراچی کے وی سی ڈاکٹر محمد اجمل نے مالی بحران پر کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جامعہ کے پاس فنڈز نہیں، مختلف شعبہ جات کی عمارتوں کی چھتیں خستہ ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے کبھی بھی کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آ سکتا ہے لیکن ہمارے پاس چھتوں کی مرمت کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں ، ملازمین کو تنخواہوں کے چیک جاری کیے گئے ہیں لیکن ان کے چیک باؤنس ہو گئے، جامعہ میں تحقیق کا کام رک گیا ہے، لیبس میں آلات تک خراب ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر اجمل نے جامعہ کراچی کے مالی بحران کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کے کئی اسباب ہیں جن میں غیرقانونی بھرتیاں، بجلی کا بے جا استعمال اور فضول خرچیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور سندھ حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ میں روزانہ تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کو تعلیم کی بنیادی اور بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہماری مالی معاونت کی جائے اور جامعہ کے مسائل کو حل کیا جائے۔

کراچی کا ’قیمتی‘ کچرا

چاروں طرف کچرے کے پہاڑ سلگ رہے ہیں، ایک کونے میں ہیما کچھی اپنی بیٹی کے ساتھ موجود ہے۔ جس کی نظریں کچرے کو سکین کرتی ہیں اور ساتھ ہی وہ ایک چھڑی پھیرتی ہیں۔ یہ مقناطیسی راڈ ہے، جس کے ذریعے وہ کچرے میں موجود دھات کھینچ نکالتی ہیں۔ گذشتہ 20 سالوں سے یہ کچرا ہی ہیما کا روزگار ہے وہ اور ان کے دو بیٹے یہی کام کرتے ہیں۔ ہیما کے مطابق وہ کچرے میں سے سلور، تانبہ، پیتل، شیشہ اور ہڈیاں نکالتی ہیں، دو دن جمع کر کے اسے فروخت کرتی ہیں، اس سے ان کے دو روز کے راشن کا خرچہ نکل آتا ہے۔ جو تقریباً پانچ سے چھ سو روپے بنتا ہے۔

کراچی سے حب بلوچستان جانے والی سڑک پر واقع نور محمد گاؤں کے قریب کچرے کا میدان واقع ہے، یہاں روزانہ 200 ٹرک چار ہزار ٹن کے قریب کچرا لاتے ہیں، جس سے ڈھائی سو کے قریب لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 12 ہزار لوگ کچرے سے روزی کماتے ہیں۔ کراچی میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں شہری ادارے کچرا پھینکتے ہیں۔ کچرے کو پہلے آگ لگائی جاتی ہے، جس کے بعد اس سے کام کی اشیا حاصل کی جاتی ہیں۔ صبح سورج نکلتے ہی یہ مزدور یہاں آجاتے ہیں اور تپش بڑھنے سے قبل واپس روانہ ہو جاتے ہیں۔

زرعی زمین کی طرح یہاں کچرے کے ڈھیر لوگوں میں تقسیم ہیں جہاں سے وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جو بغیر دستانوں اور ماسک کے ایسے آلودہ ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں سانس لینا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔ نور محمد گاؤں کی چالیس فیصد آبادی اس کچرے پر پل رہی ہے۔ اس گاؤں میں کچرے سے حاصل ہونے والی اشیا کی خریداری کے پانچ مراکز موجود ہیں۔ جہاں دھات، ہڈیوں اور شیشے کی خریداری کی جاتی ہے جو بعد میں کراچی اور پنجاب کے مختلف کارخانوں کی طرف روانہ کر دیے جاتے ہیں، جہاں یہ خام مال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

دکاندار محمد عیدن نے بتایا کہ ’لوہا 20 روپے، ڈبے دس روپے، سلور 80 رپے، تانبہ 70 روپے فی کلو لیتے ہیں، جبکہ روزانہ سو کلو لوہا، پچاس کلو ڈبے، تین چار کلو تانبہ پیتل اور دس بارہ کلو سلور آجاتا ہے۔‘ دو کروڑ نفوس کی آبادی کے شہر کراچی میں 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے، اس کچرے کو اٹھانے اور اسے ’ری سائیکل‘ کرنے کا کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔ شہر میں کچرا دانوں سے پلاسٹک، کاغذ اور گتا پہلے ہی چن لیا جاتا ہے، شہر میں درجنوں ایسی دکانیں اور گودام موجود ہیں جو یہ کاروبار کرتے ہیں۔ شہر سے کچرے کو اٹھانے کی ذمہ داری اب ایک چینی کمپنی کے حوالے کی گئی ہے، جس نے ابتدائی طور پر ضلع جنوبی اور شرقی سے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچرا اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کی ری سائیکلنگ کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی کا کہنا ہے کہ فیلڈ پر کنویئر بیلٹ لگائے جائیں گے جس کے ذریعے کاغذ، گتا، پلاسٹک اور دھات حاصل کی جائے گی، اس کے علاوہ ویسٹ سے انرجی پیدا کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے پیشکش طلب کی ہیں۔ ’چینی کمپنیاں گھروں اور علاقوں سے کچرا اکھٹا کر کے گاربیج سٹیشن تک لانے کی ذمہ دار ہوں گی یہ کچرا سالڈ ویسٹ بورڈ کی ملکیت ہو گا، کیونکہ انرجی پلانٹ لگانے والا یہ ضرور معلوم کرے گا کہ کچرا کس کی ملکیت ہے۔

کراچی کے میئر وسیم اختر کچرا اٹھانے کا کام چینی کمپنی کو دینے سے ناخوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ کچرا اٹھانا میونسپل سروسز میں شامل ہے اور ان کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت نے بورڈ بنا کر یہ ذمہ اس کے حوالے کر دیا ہے۔
’کچرے میں مافیا ملوث ہے جو اس کو ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچنے نہیں دیتی، مختلف جگہوں پر کچرا پھینک دیا جاتا ہے، جہاں سے افغانی اور دیگر بچے کام کی اشیا حاصل کرتے ہیں، جو فیکٹریوں کو بھیجی جاتی ہیں، افسوس ہے کہ حکومت اس کو خود کیوں ہینڈل نہیں کرتی اس سے پاور جنریشن کیوں نہیں کی جاتی بجائے فائدہ لینے کے ہم اس پر خرچہ کر رہے ہیں۔‘

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر اے ڈی سجنانی کا کہنا ہے کہ بورڈ کے قیام سے قبل صرف 40 فیصد کچرا اٹھایا جاتا تھا، باقی کچرا زمین کے حصول کے لیے ندی، نالوں اور ساحل کے کنارے پھینک دیا جاتا تھا۔ اس وقت بھی پانچ کینٹونمنٹ، پورٹ، سول ایوی ایشن سمیت دیگر شہری علاقوں کا کچرا ڈمپنگ سٹیشن نہیں آرہا وہ کہیں اور جا رہا ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی