آزادی کے ستر سال….ہم نے کیا کھویا کیا پایا : جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

نظریہ پاکستان کے تحت ہم نے 1947ء میں پاکستان بنایا یعنی مسجد بنا لی لیکن اس کی حفاظت نہ کر سکے اور یہ مسجد 1971ء میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ پھر بھی ہم نمازی نہ بن سکے لیکن ایک دانشمند لیڈر نے ہمیں 1973ء کا آئین دیا اور ہمارے مقصد حیات کا تعین کیا مگر ہم اپنے مقصد حیات کے تقدس کو بھی پامال ہونے سے نہ بچا سکے اور یہی وہ کشمکش ہے جو آج ہماری قومی سلامتی کا سنگین مسئلہ ہے۔ اس عرصے میں ہم نے کن کن محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں اور کہاں کہاں ہمیں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑاہے’ اس کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے تا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی موثر طور پر کی جا سکے۔

ان ستر سالوں میں مسلح افواج نے 35 سال حکمرانی کی ہے اور وطن عزیز کی سلامتی کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس سے بچہ بچہ واقف ہے۔ پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں فوج کا کردار مثالی ہے لیکن چند اعلیٰ عسکری قائدین نے اپنی نااہلی کے سبب ان قربانیوں کو ضائع کر دیا اور ملک کو بڑا نقصان پہنچایا ۔ مثلاً قیام پاکستان کو دس سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنرل ایوب خان نے امریکہ کو اپنا آقا بنا لیا اور جلد ہی اپنے اس فیصلے پر پچھتائے، کتاب لکھ ڈالی لیکن ”اس کمبل“ نے آج تک ہماری جان نہیں چھوڑی۔ ایوب خان مایوس ہوئے تو اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جنہوں نے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ ملک دولخت ہو گیا۔ 1971ء میں جنرل نیازی نے سقوط ڈھاکہ کے معاہدے پر دستخط کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنے آقاﺅں کی خوشنودی میں منتخب وزیراعظم کو پھانسی دینے میں کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے ملکی سلامتی کو داو پر لگا دیا، اور برادر پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے سے نہ صرف پاکستان پر دہشت گردی کا عذاب نازل ہوا بلکہ افغانستان کے ساتھ ایک نیا محاذ بھی کھل گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس جرم میں ہماری عدلیہ ، انتظامیہ ، کچھ سیاسی و دینی جماعتیں اور اشرافیہ برابر کے شریک رہے ہیں۔

جنرل مشرف کی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری فوج افغانستان کی جنگ آزادی سے لاتعلق ہو چکی ہے اور ہم یہ نہیں سوچتے کہ چار کروڑ پچاس لاکھ پختون ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب رہتے ہیں۔ ان میں سے ساٹھ فیصد پاکستان میں ہیں؛ چالیس فیصد افغانستان میں اور دس فیصد پاکستان کے دل یعنی کراچی میں آباد ہیں ، جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں میں دنیا کی بڑی بڑی قوتوں کو شکست سے دوچار کیا ۔ ان کی اس جدوجہد آزادی میں پاکستانی پختونوں نے ان کی بھرپور مدد کی اور یہ مدد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ وہ غاصب قوتوں سے اپنی آزادی چھین نہیں لیتے۔ ایک عرصہ سے پختون قوم کو تقسیم اور علیحدہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن گزشتہ ایک سو پچیس سال سے ڈیورنڈ لائن اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہواہے اور اب قائد اعظم کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے، قائد اعظم نے پختون قوم کو متحد رکھنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے فوج کو ہٹا لیا تھا اور اس کی نگرانی پختونوں کو سونپی تھی۔ قائداعظم کا وژن پختون قوم کی یکجہتی اور اس کے پھیلاو سے متعلق تھا جو ڈیورنڈ لائن سے آگے کوہ ہندوکش تک اور اس سے آگے آمو دریا تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے جھٹلانے کی کوشش میں ہم نے ان سرحدوں پر دوسرا محاذ کھول لیا ہے۔

ان تمام تر غلطیوں کے باوجود ہماری فوج نے 1980ء کی دہائی میں وہ صلاحیت حاصل کر لی کہ جس کے سبب اسے دنیا کی بہترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی دور میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو ہمارے تجدیدی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔ 1980 کی دہائی میں Armed Forces War College کی بدولت ہماری عسکری قیادت اعلیٰ عسکری تعلیم سے آراستہ ہو چکی تھی اور فوجی فارمیشنوں، اداروں اور اکثر عسکری شعبوں کی سربراہی وار کالج کے فارغ التحصیل افسروں کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے بری فوج کے تمام نظام کو ترقی یافتہ بنانے کا جامع منصوبہ بنایا تا کہ مستقبل میں پیش آنے والے کثیرالجہتی خطرات سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔ دوسری بڑی تبدیلی چین کے ساتھ ہماری دفاعی شراکت مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد حیثیت حاصل کر چکی تھی۔ اسی شراکت کی بدولت ہماری فوج 1971ء کی جنگ کے بعد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ہماری عسکری قیادت اب اعلیٰ عسکری تعلیم سے مزین ہے اور ساتھ ہی ہمیں چین کی غیر مشروط مدد بھی حاصل ہے جسے ہم رحمت ایزدی سمجھتے ہیں۔ یہی دو اہم عوامل ہیں جن کی بدولت پاکستانی فوج ایک جدید ترین فوج بننے کے اہداف حاصل کر سکی ہے اور نوے فیصد تک خود انحصاری اور چالیس دنوں تک جنگ لڑنے کی صلاحیت بھی حاصل ہے۔  الحمد للہ

ہماری فوج کا ترویجی عمل ایک تذویراتی حقیقت ہے جو دشمنوں کے عزائم کے خلاف مضبوط چٹان کی مانند ہے، قومی سلامتی اور ترقی و کمال کی ضمانت بھی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اس اشتراک کی بدولت ہمارا تزویراتی محور (Strategic Pivot) قائم ہے۔ الحمدللہ ہم نے اب وہ صلاحیت حاصل کر لی ہے جس کی بدولت اپنی تزویراتی سوچ کو جنگی منصوبوں سے ہم آہنگ کیا ہے، یعنی پہلے حملہ کرنے ( Pre emption) اور جارحانہ دفاع کی صلاحیت ( Defense Offensive ) میں حقیقت کا رنگ بھرنے اور حریف قوت کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیسے اہداف حاصل کئے ہیں۔ یہ ایسی صلاحیت ہے جو بذات خود ”مزاحمت Deterrence “ بھی ہے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فتح یاب ہونے کی نوید بھی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جدوجہد کی اس گھڑی میں ہم تنہا نہیں ہیں، قوم ہمارے ساتھ ہے۔ یہ ہماری قوم ہی ہے جس نے انتہائی مشکل حالات کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا ہے بلکہ عزت و وقار سے زندگی گزارنا بھی جانتی ہے۔ دوسری اہم بات جو ہمارے لئے انتہائی حوصلہ افزا ہے وہ ہماری مغربی سرحدوں کے پار افغانستان میں حریت پسندوں کی جدوجہد آزادی کی کامیابی ہے جواب اپنے منطقی انجام کے قریب ہے۔ سپر پاورز کے توسیع پسندانہ عزائم کے دن گزر چکے ہیں اور عنقریب افغانیوں کے غلبے کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

ہماری فوج کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا احساس ہے اور اپنی قومی ذمہ داریوں کا بھی ادراک ہے لیکن ہماری سب سے بڑی کمزوری ہماری قوم کی پراگندہ سوچ ہے جو بے حد خطرناک ہے۔ اس خطرے سے ترکی کے صدر نے پاکستان کے دورے کے موقع پر قوم کو آگاہ کیا تھا کہ ”پاکستان کی سلامتی کو فتح اللہ گولن طرز کے خطرات کا سامنا ہے“ جس سے نمٹنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سیاسی و نظریاتی تفریق خطرناک ہوتی جا رہی ہے جو فوری تدارک کی متقاضی ہے۔ ہماری نظریاتی تفریق اور نظریات سے عاری موجودہ سیاسی نظام ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو ایک خطرناک صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظام حکومت منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصول ہیں۔ یہی ہمارا نظریہ حیات ہے جس کی تشریح 1973ء کے آئین میں ان الفاظ میں کی گئی ہے:

”پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہو گا جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصولوں پر قائم ہو گی۔“

لیکن بدقسمتی سے ہم نے قرآن و سنہ کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف جمہوریت کو ہی ترجیح دی ہے۔ نہ ماضی کی کسی حکومت کو’ نہ موجودہ حکومت کو اور نہ ہی متعدد مذہبی جماعتوں میں سے کسی کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ قوم کی نظریاتی شناخت کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ دیتا۔ ہم اپنے بچوں کو مسلم شناخت دینے میں ناکام ہوئے ہیں کیونکہ ہمارا نظام تعلیم قرآن و سنہ کے اصولوں سے یکسر عاری ہے۔ ہماری سیاسی و نظریاتی تفریق کاسبب ہمارا برسراقتدار طبقہ ہے’ جس نے ہمارے معاشرے کولبرل، سیکولر، روشن خیال اور قوم پرست گروپوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ مذہبی طبقات نظراندازا ہونے کے سبب نمایاں سیاسی مقام نہیں رکھتے اور نہ ہی حکمرانی سے متعلق معاملات یا پالیسی سازی کے عمل میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔ وہ تو بذات خود زیادتی کا شکار ہیں اور ہمارے عوام انہیں ووٹ نہیں دیتے۔ ہماری دینی جماعتیں اپنی ظاہری اور باطنی کاوشوں کے باوجود، جن کا پرچار میڈیا پر دن رات ہوتا ہے، پاکستانی قوم کے رخ کو درست سمت میں رکھنے میں ناکام ہیں۔

ہمارے قومی نظریہ حیات کے دونوں عناصر کے مابین توازن پیدا کرنے کا ایک ہی راستہ ہے یعنی جمہوریت ہمارا نظام حکمرانی ہو گا اور قرآن و سنہ اس نظام کو نظریاتی تحفظ فراہم کرے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار جنہوں نے”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی قسم کے مطابق آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے “وہ قومی نظریہ حیات کے تقدس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ لہٰذا موجودہ ابتر صورت حال کے تدارک کی ذمہ داری جہاں ارباب اختیار پر عائد ہوتی ہے وہاں سیاسی اور دینی جماعتوں کی بھی اولین ذمہ داری ہے کیونکہ لبرل اور سیکولر عناصر ملکی معاملات سے مذہب کو الگ کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کی دانست میں ”انسانی بقا کا محور اللہ تعالیٰ کی ذات کی بجائے ترقی پسندانہ نظام ہے جو شخصی خود مختاری کا قائل ہے۔ اولیت اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہیں بلکہ انسان کو حاصل ہے“۔ نعوذ باللہ۔ بنگلہ دیش اس امر کی واضح مثال ہے لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔ خدانخواستہ اگر ویسی صورت حال پیدا ہوئی تو پاکستان ایک طوفان میں گھر جائے گا۔ کچھ ایسے ہی حالات 1965-66 میں انڈونیشیا کو درپیش تھے جب سوشلزم اور کیمونزم کی تبلیغ کی جا رہی تھی جس کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک چلی اور خانہ جنگی ہوئی جو ڈیڑھ ملین عوام کی موت کا سبب بنی اور آخر کار صدر سہارتو نے اقتدار سنبھالا۔ خدانخواستہ اگر ہم اس گرتی ہوئی صورت حال کا تدارک کرنے میں ناکام رہے تو ہمیں تباہ کن خطرات کا سامنا ہو گا کیونکہ پاکستان انڈونیشیا کی طرح جزیرہ نہیں ہے۔ ہمارے پڑوس میں انقلابی ایران اور افغانستان جیسے جہادی ممالک ہیں جو خاموش نہیں بیٹھیں گے ایک طوفان اٹھ کھڑا ہو گا جسے سنبھالنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

آج ہم اس مقام پر ہیں جہاں ہماری افواج اپنی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ہماری سیاسی و مذہبی قیادت اپنی نظریاتی سرحدوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ ہمارا نظریہ حیات کمزور ہو چکا ہے اور جب نظریہ حیات کمزور ہو جائے تو قوم باوقار زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ آج جو سیاسی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے وہ ہم سب کیلئے اور خصوصاً ہمارے قائدین کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک جانب عدلیہ اور ملکی سلامتی کے محافظ اداروں پر تنقید کے نشتر چلائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب انسانیت و اخلاقیات کے تمام تر تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی بھونڈے طریقوں سے ایک دوسرے کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ عام آدمی سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا یہی جمہوریت ہے اور یہی اس کے ثمرات ہیں ہمارے ایک دانشور کے بقول ”ہماری قوم آج ان مسائل کی بجائے اپنے آپ سے برسرپیکار ہے جو ایک تباہ کن شغف ہے۔ اس میں جیت ہی ہماری سب سے بڑی ہار ثابت ہو گی“۔ ان الفاظ میں ایک واضح پیغام بھی ہے کہ اگر ہماری سیاسی و دینی جماعتیں اپنے فکر و عمل سے اپنی استعداد اور کارکردگی کا معیار عسکری اداروں کے برابر نہیں لا سکتے تو جمہوری قوتوں کو کبھی بھی استحکام حاصل نہیں ہو گا، ایک خوف طاری رہے گا جس کے سبب حکومتیں اعصابی دباﺅ میں رہ کر غیر اخلاقی حرکتوں کی مرتکب ہوتی رہیں گی۔ ایسی حرکتیں جو پاکستانی قوم کی پہچان ہرگز نہیں ہیں۔

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

بحریہ ٹاؤن کراچی کی پہلی مسجد کا افتتاح

بحریہ ٹاؤن کراچی کی پہلی مسجد کا افتتاح کر دیا گیا، مسجد کا افتتاح چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین نے کیا۔ انہوں نے بحریہ ٹاؤن کو اصل پاکستان قرار دیتے ہوئے یوم آزادی سے شہر میں صفائی مہم کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے رہائشیوں کے لیے پہلی مسجد کا افتتاح کر دیا گیا ہے، ڈھائی ایکڑ کے رقبے پر مشتمل مسجد عاشق کی افتتاحی تقریب میں بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مسجد عاشق میں 2500 نمازیوں کے کی گنجائش ہے ،250 خواتین کے لیے بھی الگ جگہ مختص کی گئی ہے، جبکہ معذور افراد کی ضرورت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر ملک ریاض نے پاکستان کو صاف رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا اور یوم آزادی سے شہر میں صفائی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اعلان بھی کر ڈالا۔ چیئرمین ملک ریاض حسین نے بحریہ ٹاؤن کی پہلی مسجد پر مبارک باد دی اور بحریہ ٹاؤن کو پاکستان کا اصل چہرہ قرار دیا۔

کراچی کا 99 فیصد پانی مضر صحت : کے ایم سی رپورٹ

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی فوڈ لیبارٹری کا کہنا ہے کہ شہر کو فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی مضر صحت ہے۔ میئر کراچی کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کے ایم سی فوڈ لیباٹری نے بتایا کہ انہوں نے شہر بھر سے پانی کے 204 نمونے جمع کیے جنہیں لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا گیا اور حیران کن طور پر ان نمونوں میں سے 202 نمونے پینے کے لیے مضر قرار دیے گئے۔ کے ایم سی فوڈ لیبارٹری کی رپورٹ دیکھنے کے بعد وسیم اختر نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کو پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر کرنے اور انسانی زندگی کو درپیش ممکنہ خطرے کا سدِ باب کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

کے ایم سی ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ کراچی کی 24 یونین کمیٹیوں سے پانی کے نمونے جمع کیے گئے، جنہیں فوڈ لیبارٹری میں معیاری طریقہ کار کے تحت ٹیسٹ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ میئر کراچی کی ہدایت پر پاکستان پیور فوڈز آرڈیننس 1960 کے تحت پانی کے نمونے کا ٹیسٹ کیا گیا۔ فوڈ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق 85 نمونوں کو کلورین کی موجودگی جاننے کے لیے ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے صرف 2 ہی نمونے ایسے تھے جن میں کلورین شامل تھا۔ اس کے علاوہ 119 نمونوں میں بیکٹیریا کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیا گیا اور تمام ہی نمونوں میں ’ای کولی‘ نامی بیکٹیریا کی تشخیص ہوئی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ پانی میں پائے جانے والے اس ای کولی بیکٹیریا سے مہلک بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ جن علاقوں سے پانی کے نمونے لیے گئے ان میں سخی حسن، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، فیڈرل بی ایریا، عامل کالونی، بلدیہ ٹاؤن، گلشن غازی، اختر کالونی، محمود آباد، منظور کالونی، اعظم بستی، اورنگی ٹاؤن، گلشن اقبال، میٹروویل، عثمان آباد اور کورنگی کے علاقوں کے علاوہ بہادر آباد میں عالمگیر مسجد بھی شامل ہے۔

حسن منصور

کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جائے گا

پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت پلاننگ کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر کا دس سال کے عرصہ کے بجائے اب آئندہ تین برسوں میں ستمبر 2020 تک مکمل کی جائے گی۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق یہ گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان چین اقتصادی راہداری پر چھٹی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں کراچی سرکلر ریلوے کو اقتصادی راہداری کا حصہ بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ منصوبہ چین کے تعاون سے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں اے پی پی نے وزارت پلاننگ کے ایک اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ‘اس سے قبل اس منصوبے پر جاپانی ڈویلپمنٹ ایجنسی (جائیکا) نے سرمایہ کاری کی تھی اور اس کی تکمیل دس برسوں میں مکمل ہونا تھی لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کو سی پیک میں شامل کیا جائے اور تین برسوں کے اندر مکمل کیا جائے۔’
خبررساں ادارے کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کی مدت میں کمی سے اس پر آنے والی لاگت پر بھی کمی آئے گی جبکہ اس منصوبے پر تقریبا 270 ارب روپے لاگت آئے گی۔

وزارت پلاننگ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کے لیے تقریبا 43 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پچھایا جائے گا۔ خیال رہے کہ یہ منصوبہ حکومت سندھ اور چین مکمل کریں گے جبکہ وزارت پلاننگ اس منصوبے کی نگرانی کرے گی۔ سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت اوسطا 8۔1 کلومیٹر کے فاصلے پر کل 24 سٹیشن بنائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے شہر کے اہم مقامات کو ملانے کے لیے اندرون شہر ریل سروس کا منصوبہ سب سے پہلے 1976 میں تجویز کیا گیا تھا۔

ان برسوں میں اس منصوبے کی متعدد بار فزیبیلٹی سٹڈی کی گئی اور متعدد فورمز پر اس کی منظوری بھی دی گئی لیکن اسے کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔
کینیڈا کی ایک کمپنی کے ساتھ سرکلر ریلوے کے لیے معاہدہ کیا تھا لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد جاپان کے ترقیاتی ادارے جائیکا نے دلچسپی کا اظہار کیا، دو سال سروے ہوئے لیکن ٹریک پر موجود تجاوزات راہ میں رکاٹ بنی رہیں اور بالاخر جائیکا خود ہی پیچھے ہو گئی۔ صوبائی حکومت رواں سال ستمبر سے تعمیراتی کام کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے۔