کراچی میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی برقرار

سپریم کورٹ نے شہر قائد میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے کثیر المنزلہ عمارتوں پر پابندی کیخلاف حکم امتناع کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے معاملے پر حکومتِ سندھ، کنٹونمنٹ بورڈ، کے پی ٹی، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت دیگر سے جواب طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک کے لئے ملتوی کر دی۔ کراچی میں عدالتی واٹر کمیشن کے حکم پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ پابندی کیخلاف سپریم کورٹ میں تعمیراتی کمپنیوں کی تنظیم آباد اور دیگر کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے ملک کے نامور وکلاء منیر اے ملک، عابد زبیری، فروغ نسیم اور دیگر پیش ہوئے جنہوں نے موقف اختیار کیا کہ کثیر المنزلہ عمارات پر پابندی کے باعث کراچی میں تعمیراتی کام رک گئے ہیں اور تیار عمارتوں کی حوالگی کا کام بھی رکا ہوا ہے، لہذا پابندی ختم کی جائے۔ وکلاء نے پانی کے مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلند عمارتوں میں زیر زمین پانی کو آر او پلانٹ کے ذریعے قابلِ استعمال بنا کر رہائشیوں کو فراہم کریں گے، پانی سمیت تمام سہولیات فراہم کیے بغیر عمارتوں کی حوالگی کا سرٹیفیکٹ جاری نہیں کیا جانا چاہئیے، ایسے منصوبوں کی اجازت دی جائے جہاں زیر زمین پانی موجود ہے ۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ اب تک کتنی بلند عمارتوں میں سمندر کا پانی میٹھا کر کے فراہم کیا جا رہا ہے، آپ تو بلڈنگ بنا کر چلے جائیں گے پھر ٹی وی پر گالیاں دیتے رہیں گے کہ ججز کچھ نہیں کرتے اور نالائق ہیں۔

Advertisements

مردم شماری کے بعد کراچی کی کم آبادی پر تنازع کیوں ؟

پاکستان کی حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد ہے، ان اعداد و شمار کو ماہرین تو درست قرار دیتے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حکومت سندھ نے تو مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو ہی مسترد کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم ظاہر کرنا وفاق کی سازش ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا الزام ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی ایوارڈ میں حصہ نہ بڑھانے کے لیے سندھ کی آبادی کو کم ظاہر کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے بھی نتائج کو مسترد کر دیا ہے، پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا دعویٰ ہے کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے زیادہ ہے، انھوں نے واضح کیا کہ یہ صرف مہاجروں کا نہیں سندھ میں رہنے والی تمام قومیتوں کا مسئلہ ہے، جب انھیں کم گنا جائے گا تو اسمبلی کی نشستیں بھی جوں کی توں رہیں گی۔ ‘جس شہر میں آبادی کا دباؤ رہا ہے ، پورے ملک سے آبادی منتقل ہو رہی ہے اس کی آبادی میں گذشتہ 17 برس میں صرف 60 فیصد اضافہ دکھایا جا رہا ہے جو منطقی اور علمی طور پرممکن نہیں ہے۔’

معاشی تجزیہ نگار قیصر بنگالی مردم شماری کے نتائج سے مطمئن ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو بھی نتائج پر اعتراض ہے تو وہ ایک سینس بلاک کو لے اور اپنا سینس کرے اور اس کا موازانہ حکومت کے اعداد و شمار سے کرے اگر وہ ثابت کر لیں کہ اتنے گھروں کو شمار ہی نہیں کیا گیا تو پھر وہ ایک موثر اعتراض کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ’مردم شماری بڑی چیز ہوتی ہے اس کو چیلنج نہیں کر سکتے کیونکہ اندازے اندازے ہی ہوتے ہیں۔’ معاشی تجزیہ نگار اسد سعید کا کہنا ہے کہ کراچی میں ان کے اندازہ سے تھوڑی کم آبادی ظاہر ہوئی ہے، دو سال قبل ایک اسٹڈی ہوئی تھی اس وقت آْبادی کا اندازہ ایک کروڑ 60 لاکھ لگایا گیا تھا اسی طرح اقوام متحدہ کی ایک اسٹڈی ہے اس میں بھی یہ ہی اعداد و شمار سامنے آئے تھے۔ اسد سعید نے کہا کہ ‘آبادی میں اضافے کے تین عنصر ہیں شرح پیدائش، شرح اموات یا طویل عمری اور اندرونی نقل مکانی، اس مردم شماری سے قبل آبادی کا جو اندازہ یا تخمینے لگایا جاتا تھا وہ گذشتہ مردم شماری کے حساب سے لگایا جاتا تھا۔’

مردم شماری کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی آبادی بھی کراچی کے قریب پہنچ چکی ہے، کراچی کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد ہے جبکہ لاہور کی آبادی ایک کروڑ 11 لاکھ ہے۔ اگر 1998 کی آبادی سے موازانہ کیا جائے تو کراچی کی آبادی میں تقریبا 60 فیصد جبکہ لاہور کی آبادی میں 116 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تنظیم کے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس بونیری کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی جتنی دکھائی گئی ہے اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ لاہور کی آبادی حقیقی طور پر اتنا اضافہ ہوا ہے۔

‘کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں کثیرمنزلہ عمارتیں موجود ہیں جبکہ لاہور میں عام طور پر چار منزلہ عمارتیں ہیں، اس کے علاوہ پورے ایشیا میں سب سے زیادہ کچی آبادیاں کراچی میں ہیں اور رقبے کے لحاظ سے بھی کراچی اور لاہور میں بہت بڑا فرق ہے اس لیے آبادی میں فرق قریب کا نہیں بلکہ آدھے آدھے کا ہونا چاہیے۔’ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری سعید غنی کا کہنا ہے کہ مردم شماری سے قبل ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاقی وزیر خزانہ کو خط لکھا تھا اور وزیر اعظم سے بھی بات کی تھی اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی کہ جو ڈیٹا جمع ہوتا ہے کہ اس کی تفصیلات صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کریں انھوں نے ایسا نہیں کیا اور کراچی اور لاہور کی آبادی لگ بھگ ایک دوسرے کے قریب پہنچا دی ہیں۔ حالانکہ دونوں کی آبادی میں بڑا فرق ہے ۔

پاکستان کے ادارے برائے شماریات کے مطابق خیبر پختونخواہ کے کے لیے کل 20 خواتین شمار کنندگان کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ فاٹا میں کسی خاتون کو عملے کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور دونوں شہروں کی طرف نقل مکانی ہوئی ہے، تجزیہ نگار قیصر بنگالی کے مطابق لاہور میں جس قسم کی ترقی ہوئی ہے وہاں نقل مکانی کی وجہ سمجھ آتی ہے اور یہ نقل مکانی پنجاب کے باقی علاقوں سے ہوئی ہے۔ ‘کراچی میں جو نقل مکانی ہوتی رہی ہے وہ آبادی خیبر پختونخوا، باجوڑ، سوات اور دیگر علاقوں سے آئی ہے جہاں روزگار کے مواقع نہیں ہیں یا گذشتہ کچھ برسوں سے وہاں جنگ کی صورتحال رہی ہے ۔ ایک دلیل یہ بھی ہے کہ کراچی میں لسانی فسادات اور ہنگاموں کی وجہ سے لوگ نہیں آ رہے۔

معاشی ماہر اسد سعید کا کہنا ہے کہ مردم شماری کی جب لسانی تفصیلات آئیں گی تو اس میں بھی تبدیلی کا امکانات موجود ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس میں اردو اسپیکنگ کا شیئر کم ہوا ہو گا جبکہ سندھی اور پشتون بولنے والوں کا شیئر بڑہے گا۔ سرائیکیوں کو پنجابی شمار کیا جاتا ہے یا وہ خود پنجابی بتاتے ہیں گزشتہ مردم شماری میں تو ایسا ہوا تھا لیکن اس رجحان میں بھی تبدیلی کا امکان ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مردم شماری پر کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

رہائش کیلئے ’کراچی‘ دنیا کے بدترین شہروں میں شامل

دی اکنامسٹ گروپ کے ریسرچ اینڈ انالائسز ڈویژن ’اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو)‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کراچی کو ’رہائش‘ کے حوالے سے دنیا کے بدترین شہروں میں شامل کر دیا۔ سکونت اختیار کرنے سے متعلق دنیا کے 140 بدترین شہروں کی فہرست میں ’کراچی‘ کا نمبر 134 ہے، یعنی پورٹ موریسبی، ڈھاکہ، تریپولی، لاؤس اور دمشق کے مقابلے میں کراچی کو بہتر بتایا گیا ہے۔ شہروں کی درجہ بندی استحکام، صحت کی سہولیات، ثقافت و ماحول، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نوعیتی اور کمیتی عوامل کی بنیادوں پر کی گئی۔

درجہ بندی کے لیے کیے جانے والے سروے میں صرف ان شہروں اور بزنس سینٹرز کو شامل کیا گیا تھا جہاں لوگ سکونت اختیار کرنا یا دورہ کرنا چاہیں، لہٰذا اس میں کابل اور بغداد کو شامل نہیں کیا گیا تھا جہاں جنگ جاری ہے۔ تاہم ماضی قریب میں نسبتاً غیر مستحکم رہنے والے شہروں جیسا کہ ’دمشق‘ کو سروے میں شامل کیا گیا۔ آسٹریلیا کا شہر میلبورن ’قابل سکونت‘ شہروں میں مسلسل ساتویں بار پہلے نمبر پر رہا، جبکہ آسٹریلیا کے دیگر دو اور کینیڈا کے تین شہر اس فہرست کے پہلے 10 شہروں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ دوسری جانب کراچی مسلسل تیسری بار رہائش کے لیے دنیا کے بدترین شہروں میں شامل رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حیران کن طور پر کراچی میں ان پانچ شعبوں میں سے کسی میں 2015 سے کوئی بہتری نہ بدتری آئی۔

غریب عوام کی اُمید ’سول اسپتال‘ کراچی

ماضی میں اگر شہر کراچی کی آب و ہوا انتہائی معتدل تھی تو سمندر کی ہواؤں میں نمی کی زیادتی اور صفائی ستھرائی کا موثر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں بھی عام تھیں۔ شہر وبائی امراض کا مرکز تھا جہاں چیچک، ملیریا، ٹی بی، دمہ، آشوب چشم اور جلدی امراض کی وبائیں اکثر و بیشتر پھیل جاتی تھیں۔ علاج معالجے کا کوئی بندوبست نہیں تھا، چھوٹے سے شہر کا علاج وید یا پھر نیم حکیم کیا کرتے تھے جس سے لوگوں کے مرض میں تو افاقہ نہ ہوتا تھا بلکہ اِن نیم حکیموں کا علاج انہیں قبرستان تک پہنچا دیا کرتا تھا۔

انگریزوں نے جب 1839ء میں سندھ پر قبضہ کیا تو شہر کی حالتِ زار دیکھ کر انہوں نے سب سے پہلے یہاں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے میونسپل کمیشن قائم کیا۔ جب صفائی کی حالت قدرے بہتر ہو گئی تو انہوں نے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے غور و خوض کیا اور پھر مخیر حضرات کی مدد سے شہر میں لوگوں کو علاج کی سہولت مہیا کرنے کیلئے چھوٹی چھوٹی ڈسپنسریاں بنائیں۔ ابتداء میں یہ ڈسپنسریاں صدر، بندر روڈ، لیاری اور منوڑہ میں قائم کی گئیں، جہاں سالانہ 4 سے 5 ہزار لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ گو کہ اب وہ ڈسپنسریاں بیشتر علاقوں میں موجود نہیں مگر صدر اور لیاری کے علاقے میں ایڈل جی ڈنشا کے تعاون سے قائم ہونے والی یہ ڈسپنسریاں اب بھی کام کر رہی ہیں۔

اب جہاں تک شہرِ کراچی میں باقاعدہ اسپتالوں کے قیام کا تعلق ہے تو اسپتالوں کا قیام بھی انگریزوں کے زمانے میں عمل میں آیا، سب سے پہلے انگریزوں نے فوجیوں کے علاج کیلئے سول اسپتال کی بنیاد رکھی جہاں ابتداء میں عام افراد کا علاج نہیں کیا جاتا تھا۔ لہذا ماضی میں فوجیوں کو معالجے کی سہولت فراہم کرنے والے اسپتال کو اگر کراچی کا پہلا باقاعدہ اسپتال کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اِس کے بعد انگریزوں نے منوڑہ کا اسپتال، گزری سینیٹوریم، اسٹیشن اسپتال، کیماڑی اسپتال، لیڈی ڈیفرن اسپتال، سوبھراج چیتو مل ڈسپنسری، ڈسپنسر آئی اسپتال بھی قائم کیے۔ جہاں نہ صرف وبائی امراض کی صورت میں لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا بلکہ اُس زمانے میں چونکہ مہلک امراض کی ویکسینیشن کو باقاعدہ ایکٹ میں شامل کیا گیا تھا لہذا یہ اسپتال عوام کو مہلک امراض سے بچانے کیلئے ٹیکے لگانے کا کام بھی کیا کرتے تھے۔

سول اسپتال کی تاریخ انتہائی دلچسپ ہے، مورخین کے مطابق جب انگریزوں نے 1839ء میں سندھ پر قبضہ کیا تو انگریز فوجیوں نے سول اسپتال کے نزدیک عیدگاہ میدان کے ایک وسیع رقبے پر خیمے لگا کر پوری فوجی کالونی آباد کر دی اور یہاں مقیم ہو گئے۔ اِسی دوران ہیضے کی وباء پھیل گئی، اکثر و بیشتر فوجی اِس بیماری کا شکار ہو گئے کیونکہ اِس وقت تک علاج معالجے کے لئے کوئی اسپتال قائم نہیں تھا، لہذا فوری طور پر سول اسپتال کی موجودہ جگہ پر انگریز فوجیوں نے خیموں کے اندر ہی ایک ڈسپنسری قائم کی جہاں وبائی امراض کے شکار فوجیوں کا علاج معالجہ ہونے لگا اور بالآخر علاج معالجے کی بہتر سہولت فراہم کرنے پر یہ وبائی مرض ختم ہو گیا جس پر برطانوی فوج کے اعلیٰ افسران نے ایک اسپتال فوجی کیمپوں کے نزدیک قائم کرنے کی ضروت محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر پتھروں کے ذریعے ایک عمارت تعمیر کی جسے ملٹری اسپتال کا نام دیا گیا۔

اِس اسپتال میں ماسوائے برطانوی افواج سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے، کسی کا علاج نہیں کیا جاتا تھا پھر جب اِن فوجیوں کیلئے صدر لکی اسٹار کے علاقے میں باقاعدہ طور پر بیرکس قائم ہو گئے تو کیمپوں میں مقیم تمام فوجیوں کو وہاں منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد یہ اسپتال کچھ عرصے کیلئے بند ہو گیا۔ شہر میں فوجیوں کے لئے اسپتال قائم ہونے کے بعد اُن کا مسئلہ تو حل ہو گیا مگر عام شہریوں کے لئے اسپتال کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی رہی۔ جس کے پیشِ نظر فوجی حکام نے مشاورت کے بعد 1854ء میں عوام کی ضرورت کے تحت اُسی جگہ ایک کشادہ اسپتال قائم کیا اور اُسے شہر کی عوام کے لئے وقف کر دیا اور ملٹری اسپتال کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے اِس کا نام سول اسپتال رکھ دیا گیا۔

اسپتال کی تعمیر پر کُل 6 ہزار 8 سو 78 روپے خرچ ہوئے اور کیونکہ یہاں علاج معالجے کیلئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آیا کرتی تھی، لہذا اِسے مزید کشادہ کرنے کیلئے 1858ء میں سندھ ریلوے کمپنی نے اپنی تحویل میں لے کر نئے سرے سے اُس کی تعمیر کرائی اور یہاں جنرل وارڈ، اسپیشل وارڈ، متعدی بیماریوں کے وارڈ کے ساتھ نرسوں کے لئے کوارٹر تعمیر کر کے اُسے کراچی میونسپلٹی کے حوالے کر دیا اور اِس کا پہلا انچارج مسٹر آرامسے کو بنایا گیا اور مسٹر رستم جی اُن کے اسسٹنٹ مقرر ہوئے جنہوں نے اِس اسپتال کے انتظامات کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ چلایا۔ کہا جاتا ہے کہ 1857ء تا 1856ء میں یہاں ایک سال کے دوران 1896 لوگ جبکہ 1859ء تا 1858ء میں 2104 لوگوں کا علاج کیا گیا۔

اِس کے بعد سے یہ اسپتال ترقی کرتا ہوا شہر کراچی کا ایک بڑا اسپتال بن گیا، جہاں آج ٹراما سینٹر سمیت لیبارٹری، جنرل وارڈ، اسپیشل وارڈ قائم ہیں جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ سول اسپتال جوکہ غیر فوجیوں کے اسپتال کے نام پر شہرت اختیار کر گیا اور اپنے قیام سے لے کر 19 اگست تک اِسی نام سے موسوم رہا مگر جرمن مسیحا ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ جنہوں نے اپنی تمام تر زندگی پاکستان میں جذام کے اُن مریضوں کا علاج کیا جن کے قریب جانا بھی کوئی پسند نہیں کرتا تھا، صرف علاج ہی نہیں کیا بلکہ پورے ملک کے اندر جذام کے 156 مراکز قائم کر کے پاکستان کو جذام کنٹرولڈ ملک بنایا۔ 10 اگست 2017ء کو وہ مقامی اسپتال میں انتقال کر گئیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کو جب 19 اگست میں گورا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تو وزیراعلیٰ سندھ نے اُن کی خدمات کے اعتراف میں سول اسپتال کا نام تبدیل کر کے اُس کا نام ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ اسپتال رکھ دیا۔ اِس طرح اُن کے پاکستان سے احسانوں کا بدلہ تو نہیں چکایا جا سکتا لیکن اسپتال کے نام کی تبدیلی سے اُن کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گیں۔

مختار احمد

Paying respects to Dr Ruth Pfau

Mourners attended a state funeral for Ruth Pfau, a German physician and nun who earned international acclaim as “Pakistan’s Mother Theresa” by devoting her life to the eradication of leprosy in the country. Pfau died on August 10 at age 87 in Karachi. State-run and private television broadcast live footage of her casket being carried by a military guard at the city’s St. Patrick’s Cathedral. Hundreds of people attended the service at the cathedral, including members of civil society and diplomats. She was later buried in a nearby cemetery, in a funeral attended by President Mamnoon Hussain, senior government and military officials and Muslim clerics.

 

 

 

 

 

آزادی کے ستر سال….ہم نے کیا کھویا کیا پایا : جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

نظریہ پاکستان کے تحت ہم نے 1947ء میں پاکستان بنایا یعنی مسجد بنا لی لیکن اس کی حفاظت نہ کر سکے اور یہ مسجد 1971ء میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ پھر بھی ہم نمازی نہ بن سکے لیکن ایک دانشمند لیڈر نے ہمیں 1973ء کا آئین دیا اور ہمارے مقصد حیات کا تعین کیا مگر ہم اپنے مقصد حیات کے تقدس کو بھی پامال ہونے سے نہ بچا سکے اور یہی وہ کشمکش ہے جو آج ہماری قومی سلامتی کا سنگین مسئلہ ہے۔ اس عرصے میں ہم نے کن کن محاذوں پر کامیابیاں حاصل کیں اور کہاں کہاں ہمیں ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑاہے’ اس کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے تا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی موثر طور پر کی جا سکے۔

ان ستر سالوں میں مسلح افواج نے 35 سال حکمرانی کی ہے اور وطن عزیز کی سلامتی کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس سے بچہ بچہ واقف ہے۔ پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں فوج کا کردار مثالی ہے لیکن چند اعلیٰ عسکری قائدین نے اپنی نااہلی کے سبب ان قربانیوں کو ضائع کر دیا اور ملک کو بڑا نقصان پہنچایا ۔ مثلاً قیام پاکستان کو دس سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنرل ایوب خان نے امریکہ کو اپنا آقا بنا لیا اور جلد ہی اپنے اس فیصلے پر پچھتائے، کتاب لکھ ڈالی لیکن ”اس کمبل“ نے آج تک ہماری جان نہیں چھوڑی۔ ایوب خان مایوس ہوئے تو اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا جنہوں نے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ ملک دولخت ہو گیا۔ 1971ء میں جنرل نیازی نے سقوط ڈھاکہ کے معاہدے پر دستخط کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنے آقاﺅں کی خوشنودی میں منتخب وزیراعظم کو پھانسی دینے میں کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے ملکی سلامتی کو داو پر لگا دیا، اور برادر پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے سے نہ صرف پاکستان پر دہشت گردی کا عذاب نازل ہوا بلکہ افغانستان کے ساتھ ایک نیا محاذ بھی کھل گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس جرم میں ہماری عدلیہ ، انتظامیہ ، کچھ سیاسی و دینی جماعتیں اور اشرافیہ برابر کے شریک رہے ہیں۔

جنرل مشرف کی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری فوج افغانستان کی جنگ آزادی سے لاتعلق ہو چکی ہے اور ہم یہ نہیں سوچتے کہ چار کروڑ پچاس لاکھ پختون ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب رہتے ہیں۔ ان میں سے ساٹھ فیصد پاکستان میں ہیں؛ چالیس فیصد افغانستان میں اور دس فیصد پاکستان کے دل یعنی کراچی میں آباد ہیں ، جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں میں دنیا کی بڑی بڑی قوتوں کو شکست سے دوچار کیا ۔ ان کی اس جدوجہد آزادی میں پاکستانی پختونوں نے ان کی بھرپور مدد کی اور یہ مدد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ وہ غاصب قوتوں سے اپنی آزادی چھین نہیں لیتے۔ ایک عرصہ سے پختون قوم کو تقسیم اور علیحدہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن گزشتہ ایک سو پچیس سال سے ڈیورنڈ لائن اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ طاقت کا استعمال ہمیشہ ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہواہے اور اب قائد اعظم کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے، قائد اعظم نے پختون قوم کو متحد رکھنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے فوج کو ہٹا لیا تھا اور اس کی نگرانی پختونوں کو سونپی تھی۔ قائداعظم کا وژن پختون قوم کی یکجہتی اور اس کے پھیلاو سے متعلق تھا جو ڈیورنڈ لائن سے آگے کوہ ہندوکش تک اور اس سے آگے آمو دریا تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے جھٹلانے کی کوشش میں ہم نے ان سرحدوں پر دوسرا محاذ کھول لیا ہے۔

ان تمام تر غلطیوں کے باوجود ہماری فوج نے 1980ء کی دہائی میں وہ صلاحیت حاصل کر لی کہ جس کے سبب اسے دنیا کی بہترین افواج میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی دور میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جو ہمارے تجدیدی عمل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔ 1980 کی دہائی میں Armed Forces War College کی بدولت ہماری عسکری قیادت اعلیٰ عسکری تعلیم سے آراستہ ہو چکی تھی اور فوجی فارمیشنوں، اداروں اور اکثر عسکری شعبوں کی سربراہی وار کالج کے فارغ التحصیل افسروں کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے بری فوج کے تمام نظام کو ترقی یافتہ بنانے کا جامع منصوبہ بنایا تا کہ مستقبل میں پیش آنے والے کثیرالجہتی خطرات سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔ دوسری بڑی تبدیلی چین کے ساتھ ہماری دفاعی شراکت مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد حیثیت حاصل کر چکی تھی۔ اسی شراکت کی بدولت ہماری فوج 1971ء کی جنگ کے بعد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ہماری عسکری قیادت اب اعلیٰ عسکری تعلیم سے مزین ہے اور ساتھ ہی ہمیں چین کی غیر مشروط مدد بھی حاصل ہے جسے ہم رحمت ایزدی سمجھتے ہیں۔ یہی دو اہم عوامل ہیں جن کی بدولت پاکستانی فوج ایک جدید ترین فوج بننے کے اہداف حاصل کر سکی ہے اور نوے فیصد تک خود انحصاری اور چالیس دنوں تک جنگ لڑنے کی صلاحیت بھی حاصل ہے۔  الحمد للہ

ہماری فوج کا ترویجی عمل ایک تذویراتی حقیقت ہے جو دشمنوں کے عزائم کے خلاف مضبوط چٹان کی مانند ہے، قومی سلامتی اور ترقی و کمال کی ضمانت بھی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اس اشتراک کی بدولت ہمارا تزویراتی محور (Strategic Pivot) قائم ہے۔ الحمدللہ ہم نے اب وہ صلاحیت حاصل کر لی ہے جس کی بدولت اپنی تزویراتی سوچ کو جنگی منصوبوں سے ہم آہنگ کیا ہے، یعنی پہلے حملہ کرنے ( Pre emption) اور جارحانہ دفاع کی صلاحیت ( Defense Offensive ) میں حقیقت کا رنگ بھرنے اور حریف قوت کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیسے اہداف حاصل کئے ہیں۔ یہ ایسی صلاحیت ہے جو بذات خود ”مزاحمت Deterrence “ بھی ہے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی فتح یاب ہونے کی نوید بھی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جدوجہد کی اس گھڑی میں ہم تنہا نہیں ہیں، قوم ہمارے ساتھ ہے۔ یہ ہماری قوم ہی ہے جس نے انتہائی مشکل حالات کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا ہے بلکہ عزت و وقار سے زندگی گزارنا بھی جانتی ہے۔ دوسری اہم بات جو ہمارے لئے انتہائی حوصلہ افزا ہے وہ ہماری مغربی سرحدوں کے پار افغانستان میں حریت پسندوں کی جدوجہد آزادی کی کامیابی ہے جواب اپنے منطقی انجام کے قریب ہے۔ سپر پاورز کے توسیع پسندانہ عزائم کے دن گزر چکے ہیں اور عنقریب افغانیوں کے غلبے کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

ہماری فوج کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا احساس ہے اور اپنی قومی ذمہ داریوں کا بھی ادراک ہے لیکن ہماری سب سے بڑی کمزوری ہماری قوم کی پراگندہ سوچ ہے جو بے حد خطرناک ہے۔ اس خطرے سے ترکی کے صدر نے پاکستان کے دورے کے موقع پر قوم کو آگاہ کیا تھا کہ ”پاکستان کی سلامتی کو فتح اللہ گولن طرز کے خطرات کا سامنا ہے“ جس سے نمٹنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سیاسی و نظریاتی تفریق خطرناک ہوتی جا رہی ہے جو فوری تدارک کی متقاضی ہے۔ ہماری نظریاتی تفریق اور نظریات سے عاری موجودہ سیاسی نظام ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو ایک خطرناک صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نظام حکومت منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصول ہیں۔ یہی ہمارا نظریہ حیات ہے جس کی تشریح 1973ء کے آئین میں ان الفاظ میں کی گئی ہے:

”پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہو گا جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصولوں پر قائم ہو گی۔“

لیکن بدقسمتی سے ہم نے قرآن و سنہ کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف جمہوریت کو ہی ترجیح دی ہے۔ نہ ماضی کی کسی حکومت کو’ نہ موجودہ حکومت کو اور نہ ہی متعدد مذہبی جماعتوں میں سے کسی کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ قوم کی نظریاتی شناخت کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ دیتا۔ ہم اپنے بچوں کو مسلم شناخت دینے میں ناکام ہوئے ہیں کیونکہ ہمارا نظام تعلیم قرآن و سنہ کے اصولوں سے یکسر عاری ہے۔ ہماری سیاسی و نظریاتی تفریق کاسبب ہمارا برسراقتدار طبقہ ہے’ جس نے ہمارے معاشرے کولبرل، سیکولر، روشن خیال اور قوم پرست گروپوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ مذہبی طبقات نظراندازا ہونے کے سبب نمایاں سیاسی مقام نہیں رکھتے اور نہ ہی حکمرانی سے متعلق معاملات یا پالیسی سازی کے عمل میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔ وہ تو بذات خود زیادتی کا شکار ہیں اور ہمارے عوام انہیں ووٹ نہیں دیتے۔ ہماری دینی جماعتیں اپنی ظاہری اور باطنی کاوشوں کے باوجود، جن کا پرچار میڈیا پر دن رات ہوتا ہے، پاکستانی قوم کے رخ کو درست سمت میں رکھنے میں ناکام ہیں۔

ہمارے قومی نظریہ حیات کے دونوں عناصر کے مابین توازن پیدا کرنے کا ایک ہی راستہ ہے یعنی جمہوریت ہمارا نظام حکمرانی ہو گا اور قرآن و سنہ اس نظام کو نظریاتی تحفظ فراہم کرے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار جنہوں نے”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی قسم کے مطابق آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے “وہ قومی نظریہ حیات کے تقدس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ لہٰذا موجودہ ابتر صورت حال کے تدارک کی ذمہ داری جہاں ارباب اختیار پر عائد ہوتی ہے وہاں سیاسی اور دینی جماعتوں کی بھی اولین ذمہ داری ہے کیونکہ لبرل اور سیکولر عناصر ملکی معاملات سے مذہب کو الگ کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کی دانست میں ”انسانی بقا کا محور اللہ تعالیٰ کی ذات کی بجائے ترقی پسندانہ نظام ہے جو شخصی خود مختاری کا قائل ہے۔ اولیت اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہیں بلکہ انسان کو حاصل ہے“۔ نعوذ باللہ۔ بنگلہ دیش اس امر کی واضح مثال ہے لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔ خدانخواستہ اگر ویسی صورت حال پیدا ہوئی تو پاکستان ایک طوفان میں گھر جائے گا۔ کچھ ایسے ہی حالات 1965-66 میں انڈونیشیا کو درپیش تھے جب سوشلزم اور کیمونزم کی تبلیغ کی جا رہی تھی جس کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک چلی اور خانہ جنگی ہوئی جو ڈیڑھ ملین عوام کی موت کا سبب بنی اور آخر کار صدر سہارتو نے اقتدار سنبھالا۔ خدانخواستہ اگر ہم اس گرتی ہوئی صورت حال کا تدارک کرنے میں ناکام رہے تو ہمیں تباہ کن خطرات کا سامنا ہو گا کیونکہ پاکستان انڈونیشیا کی طرح جزیرہ نہیں ہے۔ ہمارے پڑوس میں انقلابی ایران اور افغانستان جیسے جہادی ممالک ہیں جو خاموش نہیں بیٹھیں گے ایک طوفان اٹھ کھڑا ہو گا جسے سنبھالنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

آج ہم اس مقام پر ہیں جہاں ہماری افواج اپنی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ہماری سیاسی و مذہبی قیادت اپنی نظریاتی سرحدوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ ہمارا نظریہ حیات کمزور ہو چکا ہے اور جب نظریہ حیات کمزور ہو جائے تو قوم باوقار زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ آج جو سیاسی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے وہ ہم سب کیلئے اور خصوصاً ہمارے قائدین کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک جانب عدلیہ اور ملکی سلامتی کے محافظ اداروں پر تنقید کے نشتر چلائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب انسانیت و اخلاقیات کے تمام تر تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی بھونڈے طریقوں سے ایک دوسرے کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ عام آدمی سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا یہی جمہوریت ہے اور یہی اس کے ثمرات ہیں ہمارے ایک دانشور کے بقول ”ہماری قوم آج ان مسائل کی بجائے اپنے آپ سے برسرپیکار ہے جو ایک تباہ کن شغف ہے۔ اس میں جیت ہی ہماری سب سے بڑی ہار ثابت ہو گی“۔ ان الفاظ میں ایک واضح پیغام بھی ہے کہ اگر ہماری سیاسی و دینی جماعتیں اپنے فکر و عمل سے اپنی استعداد اور کارکردگی کا معیار عسکری اداروں کے برابر نہیں لا سکتے تو جمہوری قوتوں کو کبھی بھی استحکام حاصل نہیں ہو گا، ایک خوف طاری رہے گا جس کے سبب حکومتیں اعصابی دباﺅ میں رہ کر غیر اخلاقی حرکتوں کی مرتکب ہوتی رہیں گی۔ ایسی حرکتیں جو پاکستانی قوم کی پہچان ہرگز نہیں ہیں۔

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ