کراچی کو کون تنہا کر رہا ہے ؟

Advertisements

کراچی کے امن کو پائیدار کیسے بنایا جائے؟

موجودہ حکومت اور رینجرزکی مشترکہ کوششوں سے شہرکراچی میں جو امن
وامان قائم کیا گیا ہے کیا وہ آیندہ آنے والے دنوں میں بھی بہتراور مستحکم ہو پائیگا۔یہ سوال ہر محب وطن اور فکر مند پاکستانی کے ذہن میں بار بار اُٹھتا رہتا ہے۔ ہر شخص کو یہ فکر اور پریشانی لاحق ہے کہ کہیں کراچی پھر اُسی طرح کے خلفشاراورانتشار کا شکار تو نہیں ہو جائے گا جیسے وہ آج سے تین سال قبل ہواکرتا تھا۔ بڑے پیمانے پر بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ،اغوا براے تاوان اورآئے دن کی ہڑتالیں اور خونریز احتجاج ایک بارپھرکہیں اِس شہرکے باسیوں کا مقدرتونہیں بن جائیں گے۔

ایم کیوایم نے بظاہر اپنے قائد سے جوعلیحدگی اورلاتعلقی ظاہرکی ہے وہ کہیں عارضی اورجزوقتی تو نہیں ہے۔ مستقبل قریب میں وہ اپنے اُس بانی اور قائدِ محترم سے جسے وہ اپنا رہبرو رہنما مانتی رہی ہے اور جس کی ہر بات پرلبیک کہتے ہوئے مارنے اورمرنے پر تل جاتی رہی ہے کہیں پھر سے تعلق جوڑکر عہدو پیمان نبھانا تو شروع نہیں کردے گی۔ متحدہ کو اپنی اِس لاتعلقی کوکس طرح معتبر اور قابل یقین بنانا ہوگا۔ یہ اُس کی موجودہ قیادت کے لیے بہت اہم سوال ہے۔ وہ یہ تسلیم کرچکی ہے کہ متحدہ کے اندر ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اُسے ایک عسکریت پسند جماعت کی حیثیت سے بدنام کروانے میں اہم رول ادا کرتے رہے ہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ متحدہ کے سارے کے سارے لوگ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہے ہوں لیکن یہ اِس نئی قیادت کا فرض ہے کہ وہ اپنے ایسے کارکنوں کو بچانے اور چھپانے کی بجائے اُنہیں قوم کے سامنے لائے یا لاء فورس ایجنسیوں کے سپرد کرے اور ایک صاف ستھری سیاسی اور جمہوری جماعت کے طور پر اپنے نئے سفر کا آغاز کرے ، وہ اگر اپنے جرائم پیشہ کارکنوں کو تحفظ دینے کی کوششیں بدستورکرے گی تو پھر اُس کا امیج کوبہتر بنانا قطعاً ممکن نہ ہوگا، ڈاکٹر فاروق ستارکی قیادت میں اِس نئی ایم کیو ایم نے ویسے تو دہشت گرد سرگرمیوں سے اپنی جماعت کو دور رکھنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اِس جانب ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا ہے اور وہ مسلسل اپنی سابقہ پالیسیوں اورحکمتِ عملیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ مزید برآں اُنہوں نے ابھی تک اپنے کسی مطلوب ملزم کو قانون کے حوالے کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

پچھلے دنوں ایم کیوایم کے ایک مبینہ دہشتگرد اورخطرناک ملزم رئیس ماما کی گرفتاری کے لیے جب ہماری پولیس نے کارروائی کرنا چاہی توساری کی ساری قیادت قانون نافذ کرنیوالوں اداروں سے مزاحمت کرنے کھل کر سامنے آگئی۔ اِسی دوران ملیرکے ایک ایس ایس پی راؤ انور نے سندھ اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن خواجہ اظہار الحسن کوکچھ نئے اور پرانے الزامات کے تحت گرفتارکر لیا۔ یہ گرفتاری چونکہ کسی عدالتی وارنٹ اور ایف آئی آر کے بغیر ہوئی تھی لہٰذا چند گھنٹوں بعد اُنہیں مجبوراً چھوڑنا ہی پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ کی جس قیادت نے اپنے قائد اور لندن رابطہ کمیٹی سے خود کو الگ کرلیا تھا۔ آج وہی لندن والی رابطہ کمیٹی کے متعدد ارکان واسع جلیل، ندیم نصرت اورمصطفیٰ عزیزآبادی مسلسل خواجہ اظہار الحسن کی حمایت میں بیانات دیے جارہے تھے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر ایم کیو ایم کی پاکستان والی رابطہ کمیٹی نے خود کو لندن والی رابطہ کمیٹی سے مکمل طور پر علیحدہ کرلیا ہے تو پھر لندن رابطہ کمیٹی کے یہ ارکان آج بھی متحدہ کے اِن لوگوں کی حمایت میں اتنے متحرک اورسرگرم کیوں ہیں۔ اِن تمام باتوں سے تو یہی نتیجہ اُخذ کیا جاسکتا ہے کہ متحدہ کا اپنے لندن سیکریٹریٹ سے علیحدگی اور لاتعلقی کااعلان دراصل وقت اور حالات کی مجبوری کے تحت ہے۔ اندرونِ خانہ آج بھی ایم کیوایم الطاف حسین کی طلسماتی شخصیت ہی کواپنا لیڈراور رہنما مانتی ہے۔
فاروق ستارکی لیڈر شپ میں بننے والی اِس نئی ایم کیو ایم کی کوئی قانونی اور دستوری حیثیت ہے ہی نہیں۔ اُسے جب سازگار حالات میسر ہونگے وہ ایک بار پھر اپنی اصل شکل میں دوبارہ متحرک اور فعال ہوجائے گی۔ اُس کے روپوش کارکن پہلے کی طرح اپنے قائدکے ہر حکم کے تعمیل بجا لارہے ہونگے۔ جو لیڈرآج خود ساختہ جلا وطنی اختیارکیے ہوئے ہیں وہ واپس آکر الطاف حسین کو پھر اپنی محبت و یگانت اور وفاداری کا یقین دلا رہے ہونگے۔ متحدہ کا موجودہ سیٹ اپ ایک عارضی انتظام ہے جو حالات وواقعات اور جبروکراہ کے تحت بنایا گیا ہے۔
اب یہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمے داری ہے کہ کراچی شہرکے امن کے لیے جس کام کا بیڑہ اُنہوں نے اُٹھایا ہے وہ اُسے مکمل کرکے ہی دم لیں۔ اگر اِس مشن کا نامکمل اور ادھورا چھوڑ دیا گیا تو پھراِس شہرکی اِس سے بڑی بدقسمتی کوئی اور نہیں ہوگی۔ دورِ ماضی میں بھی کئی بار آپریشن کیے گئے لیکن پھر سیاسی مصلحتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے اُنہیں معطل یا منسوخ ہی کردیا گیاجس کا خمیازہ اِس شہر نے اپنے پچیس تیس سالوں کی تباہی و بربادی کی صورت میں برداشت کیا ہے۔ اب اگر خدا خدا کرکے یہاں کچھ امن وامان قائم ہوا ہے تو اِسے دوام اور استحکام بخشنے کے لیے ابھی اور بھی جتن کرنے ہوں گے۔ شہر میں جب تک دہشت پسند عناصر کا مکمل خاتمہ نہ ہوجائے یہ آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
کراچی میں امن کے قیام کی ذمے داری جتنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے اُتنی ہی یہاں کی اُن سیاسی جماعتوں کی بھی ہے جنھیں کراچی کے لوگ اپنا مینڈیٹ تفویض کرتے ہیں۔ کراچی کے لوگ امن وامان سے رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ ترقی وخوشحالی کے اُتنے ہی خواہاں ہیں جتنے اِس ملک کے دیگر علاقے کے لوگ۔ کوئی نہیں چاہے گا کہ یہاں آئے دن فساد اورہنگامے ہوتے رہیں۔ گاڑیاں اور املاک نذرِ آتش ہوتی رہے، معصوم اور بے گناہ لوگ قتل ہوتے رہیں۔ بزنس اورکاروبار تباہ ہوتا رہے۔ پیسوں کے لیے بچے اور لوگ اغواء ہوتے رہیں۔ لہذا یہ ہم سب کا قومی اور ملی فریضہ ہے کہ سب مل جل کر اِس شہر کو امن کاگہوارہ بنادیں۔ رینجرز اوردیگر فورسز اپنا کام بطریقِ احسن سرانجام دے رہے ہیں۔
اُنہیں ہماری مدد اور تعاون درکار ہے۔ اُنہیں یہ مشن پورا کرکے واپس چلے جانا ہے۔ اُن سے زیادہ ہمیں اپنے اِس شہرکی فکر کرنا ہوگی۔ ہمیں یہاں جینا اورمرنا ہے۔ ہماری روٹی روزی اِسی شہر سے وابستہ ہے۔ یہ ہمارے بچوں کی آماجگاہ ہے۔ اِس کی حفاظت ہم نہیں کریں گے توکون کرے گا۔ یہ شہر جلتا رہے اور ہم سکون سے بیٹھے رہیں یہ ممکن نہیں ہے۔ ہمیں اپنے شہر کو اُس کی شناخت واپس لوٹانا ہوگی۔ یہ شہر کبھی سارے پاکستان کی’’ ماں‘‘ کہلایاکرتا تھا۔ سب کو اپنی آ غوش میں لے کرامن وآشتی اور روزگار فراہم کرتا تھا۔ یہاں کوئی لسانی وعلاقائی تعصب اور منافرت نہ تھی ۔ پنجابی، پٹھان، بلوچی اورسندھی سب مل جل کررہا کرتے تھے۔ ہمیں اِسے اِس کا ماضی لوٹانا ہوگا۔ اِسے پھر سے محبت وامن کا شہر بنانا ہوگا۔
جس دن ہم نے یہ تہیہ کرلیا یہ شہر جنت بن جائے گا۔ پھر ہمیں کسی آپریشن کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ ہمارا ازلی دشمن ہمیں گروہوں اور ٹکڑیوں میں تقسیم کردینا چاہتا ہے۔ وہ ایک سازش کے تحت ہمیں تباہ وبرباد کردینا چاہتا ہے۔ ہمیں اپنے اندر سے دشمن کے اُن ایجنٹوں کو باہر نکالنا ہوگاجو دوست بن کر ہم سے دشمنی کررہے ہیں۔ جو پاکستان کے وجود کو مٹانے کے ہی درپے ہیں۔ ہمیں ایسے دوست نما دشمنوں کو پہچاننا ہوگا۔ یہ متحدہ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی صفوں سے ایسے لوگوں کو نکال کر قانون کے حوالے کریں اور خلوصِ نیت سے ایک صاف ستھری سیاست کاآغازکریں۔
ڈاکٹر منصور نورانی

MQM headquarters, offices sealed in Karachi after Altaf speech

Sindh Rangers on Monday night initiated action against Muttahida Qaumi Movement (MQM), for allegedly inciting violence in the metropolis. The paramilitary forces raided party headquarters Nine Zero, took senior party leaders into custody and sealed MQM offices there. Rangers’ Brigadier Khurram, while briefing media about the operation in the wee hours of Tuesday, confirmed that MQM’s office, Khursheed Memorial Hall and party’s media department has been sealed. He said the paramilitary force also recovered weapons from Nine Zero, which will be sent for forensic tests. The Rangers officer further said that the operation on MQM headquarters was carried out in accordance with law.

کراچی میں ایم کیو ایم کارکنان کی ہنگامہ آرائی

 متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد کارکنان مشتعل ہوئے اور اپنی  پارٹی کے سربراہ کے اکسانے پر ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کیا۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں پاکستان کو پوری دنیا کے لیے ناسور اور سر درد قرار دیا جبکہ اس کو دہشت گردی کا اڈہ بھی کہا، انہوں نے پاکستان مردہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔ 
تقریر کے بعد مشتعل افراد کی بڑی تعداد زینب مارکیٹ کے اطراف جمع ہوئی انہوں نے مقامی ٹی وی چینل کے دفتر پر بھی حملہ کیا اور چینل کے دفتر میں داخل ہو کر تھوڑ پھور کی، ایم کیو ایم کے کارکنوں کو گورنر ہاؤس کی جانب جانے سے روکنے کیلئے پولیس نے شیلنگ بھی کی۔ ہنگامہ آرائی میں ایک شخص ہلاک جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ گورنر ہاؤس اور اس کی اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک بری طرح جام رہا جبکہ کراچی کے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی کی لیڈر شپ

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر تاج حیدر نے مجھے
کراچی کے امن کے حوالے سے کہا کہ کراچی ایک سونے کی چڑیا ہے، اور کراچی سے ہر ایک کو اپنا حصہ چاہیے۔ جب تک کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھا جاتا رہے گا کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کی بات سولہ آنے درست ہے کیونکہ کراچی سے سب نے کچھ کچھ لیا، لیکن کراچی کو کسی نے کچھ دیا نہیں۔ پی پی پی کے ایک اور رہنما نے کہا کہ کراچی کی لیڈر شپ اسی کو ملے گی جس سے عوام پیار کرتے ہیں۔
کراچی ہمیشہ سیاسی حوالے سے گیم چینجر رہا ہے، پاکستان میں  اقتدار کی تبدیلی کے کھیل میں کراچی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماضی میں اٹھنے والی تحریکوں کی وجہ سے سے مرگلہ کی پہاڑیوں میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والے یہی سمجھتے ہی کہ خطرہ ابھی بہت دور ہے اس کو ہینڈل کر لیں گے لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ایسا بہت کم ہوا ہے اور ایک تیز اندھی نے سب کچھ آناًفاناً اڑا کر رکھ دیا تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے منحرف رہنماؤں کی الگ جماعت بنانے کے سلسلے نے کراچی کی سیاست کا مکمل رخ تبدیل کر دیا ہے۔
مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی و دیگر کے الزامات پر ہم بات نہیں کریں گے کیونکہ گزشتہ 20 سالوں سے ہم یہی تو سب کچھ سنتے آ رہے ہیں، لیکن اس پر بات ضرور کریں گے کہ مصطفیٰ کمال نے اپنی سابقہ جماعت پر جو الزامات لگائے اس پر حکومت کیا کر رہی ہے؟ غداری کے تمغے دینا تو خیر ہماری روایت بن چکی ہے، پاکستان کا کون سا ایسا سیاسی لیڈر ہے جیسے غدار نہیں کہا گیا۔ اہمیت اس بات کی بھی نہیں ہے کراچی کے عوام سے کتنا پیسہ وصول کیا گیا۔ کراچی کے عوام سے ٹیکس کی صورت میں 70 فیصد تو ویسے ہی وفاق لے رہا ہے لیکن کراچی کو حصہ کتنا دیا جاتا  ہے یہ سوچنے کی بات ہے۔
تاج حیدر بتاتے ہیں کہ جب وفاق نے ایک بریفنگ ہمیں دی جس کے مطابق  وفاق کی جانب سے جی ایس ٹی  کلیکشن کے اعداد و شمار دیے گئے۔ جس میں 183 ارب روپوں میں سے 133 ارب روپے سندھ نے دیے۔ گیس لائن ڈالنے کے لیے،71% سندھ سے جا رہا ہے جس کی سندھ کو ضرورت نہیں ہے۔ سندھ اپنی ضرورت سے زیادہ گیس پیدا کر رہا ہے اس سے زیادہ بھی پیدا کر سکتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ ہم ملکی و غیر ملکی فرق برابر کرنے کے لیے آپ کو گیس کم پیسوں میں دے رہے ہیں جب کہ  ہم کہتے ہیں کہ 133 ارب روپوں سے 25/30  ارب روپے ہی یہاں لگا دیں ساری گیس ہم دے سکتے ہیں۔
جب کراچی کو کوئی اون نہیں کرے گا تو صورتحال تو یہی ہو گی۔ آج مصطفیٰ کمال اور ان  کے ہمنوا، متحدہ قومی موومنٹ پر جتنے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بہت پرانے ہو چکے ہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان باتوں و الزامات کا حکومت کو شروع سے علم تھا۔ میرے سامنے پاکستان کے ایک موقر اخبار کا 16 مارچ 1996ء کی خبر کا تراشا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’الطاف حسین کے خلاف دستاویزی ثبوت لے کر پاکستانی ٹیم لندن پہنچ گئی: نصیر اللہ بابر۔ رحمان ملک کاروائی مکمل ہونے تک لندن میں قیام کریں گے اور دستاویزات کی رسید لیں  گے۔ 
ایف آئی اے کے ڈائریکڑ جنرل رحمان ملک پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ماہرین  قانون کی ٹیم دستاویزی ثبوت لے کر لندن گئی تھی تا کہ ایم کیو ایم کے قائد کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے رحمان ملک کو خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ وہ کارروائی مکمل ہونے تک لندن میں رکے رہیں۔ کیونکہ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان نہیں تھا۔
اس کے باوجود  برطانیہ کے ہوم سیکریٹری مائیکل ہاروڈ نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہونے کے باوجود ایسا طریق کار موجود ہے جس میں الطاف حسین کو پاکستان حوالے کیا جا سکتا ہے، وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سینیٹر اقبال حیدر نے کافی مواد الطاف حسین کے خلاف دیا ہے۔ آج 2016ء میں بھی الطاف حسین ہر طرح کے الزامات کے باوجود لندن میں مقیم ہیں، عمران خان، جارج گیلوے، حبیب جان بلوچ، بریف کیس بھر کر برطانیہ جانے والے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا  سب اس دعوے کے ساتھ گئے کہ الطاف حسین کو گرفتار کر کے پاکستان لائیں گے لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
عوام کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ رحمان ملک صاحب آپ ناکام کیوں لوٹے، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تو بریف کیس لے کر گئے تھے وہ بھی عوام کو نہیں بتا سکے کہ ان بریف کیسوں کو کس سمندر میں پھینک آئے۔ متحدہ تین حصوں میں تقسیم ہوئی، بعد میں عامر خان نے معافی مانگ لی اور دوبارہ متحدہ کا حصہ بن گئے۔
متحدہ میں دھڑے بازیوں اور اختلافات کی خبریں میڈیا میں آتی رہیں، لیکن بحث اس پر بھی نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں اتنے افراد دشمنوں نے خود کش دہماکوں میں شہید نہیں کیے جتنے کراچی میں لسانی فسادات میں بے گناہ انسانوں کو مارا گیا۔ چاہے ان کا نظریہ کچھ بھی ہو، لیکن بلوچ، پختون تو ان ٹارگٹ کلرز کی وجہ سے  ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ مارے گئے۔ مصطفیٰ کمال کی تمام باتوں سے اتفاق کر بھی لیا جائے تو حماد صدیقی کو معصوم کارکن کیسے کہہ سکتے ہیں۔
اجمل پہاڑی، صولت مرزا کے وکیل صفائی کیونکر بن سکتے ہیں، نہیں یہ سب درست نہیں ہے، مصطفی کمال کی تمام تر باتوں کا حکومت اور عوام کو بخوبی علم تھا، یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن مصطفیٰ کمال ان سفاک قاتلوں کو معصوم کہہ کر ان کے لیے عام معافی کا اعلان کرنے کا وکیل صفائی کا کردار ادا نہیں کر سکتے، اس طرح تو خودکش دہماکے کرنے والے بھی یہی جواز دیتے ہیں کہ امریکا کے ڈرون حملے اور ان کی سر زمین پر قابض ملک کی حمایت اور تمام سپورٹ دینے والوں نے ہمارے ساتھ ظلم کیا،  اس لیے تو پھر سب کو عام معافی دینے کا حق بنتا ہے۔
مصطفیٰ کمال صاحب آپ نے متحدہ کی اندرونی کہانی بہت اچھے لفظوں میں بیان  کی لیکن جب ہر کوئی ماں کے پیٹ سے مجرم پیدا نہیں ہوتا، حالات و واقعات اور لالچ ہی ان کو مجرم بننے پر مجبور کرتے ہیں، آپ کو ان کے معاملات عدالتوں پر  چھوڑ دینے چاہیئں، ان کے خلاف تیز تر عدالتوں میں جلد مقدمات چلانے کی سفارش کرنی چاہیے، ہر گواہ کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ آپ اور آپ کی ٹیم کو کھڑا ہونا چاہیے تا کہ جب وہ گواہی دینے آئے تو اسے کوئی واپسی میں قتل نہ کر دے، آپ کو چاہیے کہ ایسے لوگوں سے ہاتھ اٹھا لیں اور نئے نوجوانوں کو اجمل پہاڑی بننے سے روکیں۔ بھارتی را کے ایجنٹ یا بلیک واٹر کے ایجنٹ بننے سے روکیں، تمام قومیتوں کی بات کریں۔ مظلوم اردو بولنے والا نہیں بلکہ کراچی میں بسنے والی دیگر قومتیں بھی ہیں۔
وہ اقلیت میں ہیں ان کی حفاظت کے لیے انھیں اپنے پاس بلائیں۔ ان کو احساس تحفظ دیں۔ لیکن مجرموں  کو معصوم قرار دیں گے تو کراچی کی عوام آپ کو کراچی کی لیڈر شپ دینے کے لیے بالکل تیار نہیں ہونگے۔ کراچی کی لیڈر شپ حاصل کرنی ہے تو لسانیت کے خول سے جتنی جلدی باہر نکل سکتے ہیں باہر نکل آئیں ورنہ جتنے بھی لوگ آپ کے پاس آ رہے ہیں آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے جائیں گے۔ آپ ہر سال تجدید عہد وفا کرتے رہے ہیں اس بار عوام سے عہد کریں کہ اپنے خاندان اپنے بچوں کو واپس پاکستان لائیں گے۔ یہاں عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا ہو گا، لیاری بھی جانا ہو گا۔
کٹی پہاڑی بھی جانا ہو گا۔ ان سے معافی بھی مانگنی ہو گی کہ  یہ پر امن ثقافتی علاقے پوری دنیا میں بد نام ہوئے۔ کراچی سونے کی چڑیا ہے، اس سے حق لینا ہے تو حق دینا بھی ہو گا۔ متحدہ کے منحرف اراکین با الفاظ دیگر باغیوں کو اکٹھے کرنا اہم نہیں ہے۔ بلکہ اہم یہ ہے کہ کراچی میں امن کے لیے آپ کو ٹارگٹ کلرز سے ہاتھ اٹھانا ہو گا،  کراچی کے عوام تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں الطاف حسین کی جگہ مصطفی کمال آ گئے اور اسٹرکچر وہی رہا تو کوئی بھی موومنٹ بنا لیں، اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور اور اغوا برائے تاوان والوں کو بلوچستان کے عوام سے ملا کر این آر او لینے کے لیے کراچی کی مکمل حمایت آپ کے ساتھ نہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ برین واش سب کے ہوئے ہیں۔
ان کو سزا ہو یا رہائی یہ اگر آپ کے ساتھ ہونگے تو کراچی کی باشعور عوام آپ کے ساتھ نہیں ہوگی۔ فیصلہ کر لیں کراچی کی لیڈر شپ چاہیے یا ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور مجرموں کی لیڈرشپ۔
قادر خان