شیر کا احتساب کون کرے ؟

بری فوج کے سپاہ سالار جنرل راحیل شریف نے گذشتہ روز کوہاٹ کے سگنلز رجمنٹ سنٹر کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے سگنل دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے اور مسلح افواج اس ضمن میں بلا امتیاز احتساب کی حامی ہیں ۔
حالانکہ اس بیان میں ایسا کچھ غیر معمولی نہیں جس پر تمام ٹی وی چینلز اور سیاستدانوں کے کان ریڈار کی طرح گھومنے لگیں مگر یہ پاکستان ہے۔
  
یہاں آرمی چیف کم کم بات کرتا ہے اور جب کرتا ہے تو بیسیوں تفسیریں کھل جاتی ہیں۔ ایک ایک لفظ کے معنی لغت الٹ پلٹ کے دیکھے جاتے ہیں۔ ہر اینکر ناظرین کو ڈرانا شروع کردیتا ہے اور ہر سیاستداں اپنے کردہ ناکردہ کی صفائیاں دینے لگتا ہے۔ بظاہر ایک معمول کے بیان کے پیچھے دراصل ایک غیر معمولی تاریخ ہے۔ پاکستان میں کسی بھی حکومت نے کبھی بھی کوئی ایسا خودمختار غیر جانبدار ادارہ تشکیل نہیں دیا جس کے بلا امتیاز احتسابی اختیارات و معیار کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر سراہا جا سکے۔
اس ملک میں ایوب خان سے پرویز مشرف تک جو بھی فوجی حکمران آیا اس نے بس دو کام کیے۔ احتساب کیا اور مسلم لیگ قائم کی۔ فیلڈ ماشل ایوب خان نے بد اعمال سیاستدانوں کو ایبڈو کے پتھر تلے داب دیا اور ’مثبت سوچ‘ رکھنے والے سیاستدانوں کو کنونشن مسلم لیگ کی نرسری میں داخل کر لیا۔ یحیٰی خان غریب کو احتسابی انجمن سازی کا پورا موقع ہی نہ مل پایا پھر بھی انہوں نے احتساب کے نام پر 313 افسر نکال دیے۔ (رپورٹ انھیں بھی ایجنسیوں نے یہی دی تھی کہ مغربی پاکستان میں قیوم مسلم لیگ اور جماعتِ اسلامی جیت رہی ہے)۔
ضیاالحق نے احتساب کے عمل کو اپنی حکمرانی کے اخلاقی جواز کی سیڑھی کے طور پر استعمال کیا اور جس جس نے سیڑھی کا پہلا پائیدان چوما اسے معصومیت کی سند دے کر براستہ نامزد مجلسِ شوری غیر جماعتی انتخابات کی بوگی میں بٹھا کر نئی مسلم لیگی لانڈری میں اتار دیا۔ اس لانڈری سے جو مسلم لیگی دھل دھلا کر نکلے وہ اگلے دس پندرہ سال میں پھر میلے ہوگئے چنانچہ اگلے جنرل پرویز مشرف نے نیب کے نام سے ایک اور جدید احتسابی واشنگ مشین تیار کی۔
’پلی بارگین‘ کا ڈیٹرجنٹ استعمال کیا اور مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اور قومی وطن پارٹی وغیرہ کو دھو دھلا کے ’ کرپٹ گٹھڑی‘ سے الگ کر دیا۔
مشکل یہ ہے کہ بلا امتیاز احتساب وہ مرغوب نعرہ ہے جس سے قاضی بھی متفق ہے اور چور بھی لیکن کیا ایسا احتساب ممکن بھی ہے؟
یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے کیونکہ ضیا الحق نے محتسبِ اعلیٰ کا جو ادارہ بلا امتیاز احتساب کے نام پر قائم کیا اس کے دائرہِ اختیار سے عدلیہ ، فوج اور انٹیلی جینس ایجنسیوں کے خلاف شکایات کو پہلے دن ہی نکال دیا گیا۔ محتسبِ اعلی کے پاس ایسا کوئی تادیبی اختیار بھی نہیں جو عدم تعمیل کی صورت میں استعمال ہو سکے چنانچہ محتسبِ اعلی کا ادارہ آج بھی برائے نام عملے اور چند دفاتر کی شکل میں بزرگوں کی میراث کے طور پر سانس لے رہا ہے۔ 
قومی احتساب بیورو محتسبِ اعلی کے پوپلے ادارے کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے مگر اس کا بس بھی سیاستداں اور تاجر و صنعت کار و ریٹائرڈ افسروں پر ہی چلتا ہے این ایل سی کیس میں نیب نے جن ریٹائرڈ فوجی افسروں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی انہیں گذشتہ چیف آف آرمی سٹاف کے دور میں کورٹ مارشل کے وعدے پر فوج میں دوبارہ بحال کر لیا گیا۔ کورٹ مارشل ہوا مگر سزا یہ ملی کہ یہ غلط بات ہے آئندہ ایسے مت کیجیو۔ فوج کہتی ہے کہ اسے کسی سویلین احتسابی ادارے کی حاجت نہیں اور اس کا اپنا اندرونی نظامِ احتساب آرمی ایکٹ کی شکل میں حاضر سروس جوانوں، افسروں اور غیر محبِ وطن سویلینز کی جزا و سزا کے لیے کافی ہے۔
رہی بات انٹیلی جینس ایجنسیوں کے احتساب کی تو پہلے یہ تو طے ہو کہ ان کا مینڈیٹ ، دائرہ کار اور کمان کس سے بالا اور کس کے تحت ہے ؟ ۔ ہر سال شق وار بحث کے بعد قومی بجٹ کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے مگر دفاعی بجٹ کی مد میں محض دو سطور بجٹ تقریر میں شامل ہوتی ہیں یعنی ’اس سال کا دفاعی بجٹ تخمینہ اتنے ارب روپے ہے اللہ اللہ خیر صلی۔‘ کونسی بحث ، کون سی کٹوتی ؟ آج تک کوئی دفاعی سودا پارلیمنٹ تو کجا دفاعی امور سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں بھی زیرِ بحث نہیں آیا۔ عدلیہ کہتی ہے کہ اس کا اپنا نظامِ احتساب سپریم جوڈیشل کونسل کی شکل میں موجود ہے لہذا وہ باقیوں کا احتساب تو کر سکتی ہے مگر ججوں کا احتساب جج ہی کریں گے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک آئینی ادارہ اور ہر سرکاری محکمے کے آڈٹ کا مجاز ہے۔کبھی کسی نے سنا کہ عدلیہ اور فوج کے سال فلاں فلاں کی آڈٹ رپورٹ کچھ یوں ہے۔ چنانچہ جب فوج کا کوئی سربراہ یہ کہتا ہے کہ وہ بلا امتیاز احتساب کی حمایت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ ہر سیاستداں کا بلا امتیاز احتساب۔ ورنہ تو یہ بیان بھی دیا جا سکتا تھا کہ ’دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی ختم کیے بغیر ملکی امن و استحکام ممکن نہیں لہذا مسلح افواج اپنے سمیت ہر ادارے کے بلا امتیاز احتساب کی حمایت کرتی ہیں۔‘
ہو سکتا ہے جنرل راحیل شریف کے بیان کا بین السطور مطلب یہی ہو مگر بین السطور مطلب پوچھے کون؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

Advertisements

نواز شریف کہاں کھڑے ہیں؟

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بچوں کی آف شور کمپنیوں کا سکینڈل سامنے آنے
کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج پر مشتمل ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف الزامات لگانے والے وہاں ثبوت لے کر جائیں، انہوں نے ایک ایسے باونسر کو کامیابی سے کھیلنے کی کوشش کی ہے جسے سیاست کے میدان میں موجود کھلاڑیوں کی طرف سے پھینکا ہی نہیں گیا تھا۔ ہماری سیاست پوائنٹ سکورنگ کے گرد گھومتی ہے اور مخالفو ں کے پروپیگنڈے کے جواب میں حکمران خاندان نے اپنے حامیوں کو دلیل فراہم کر دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کر رہے ہیں حالانکہ اس معاشرے میں ایک ریٹائرڈ جج سے بمشکل ہی کسی غیر جانبدارانہ منصفی کی توقع کی جا سکتی ہے جہاں ہر ریٹائرڈ شخص حکومت سے عہدے اور مراعات کے ساتھ اکاموڈیٹ ہونے کا خواہاں نظر آتا ہو۔

نواز شریف اس سے بہتر پیش کش کرسکتے تھے مگر انہوں نے بھی گونگلووں سے اسی طرح مٹی جھاڑی جس طرح اپوزیشن ہاتھ آئے اس گونگلو کوجھاڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کے ایک رہنما نے پنجاب اسمبلی میں ایک تحریک جمع کروائی ہے جس میں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں آئس لینڈ کے وزیراعظم کی مثال دی گئی ہے ۔ اپوزیشن رہنماوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا آپ چھوٹی سی ریاست آئس لینڈ کے عوام کی نصف یا چوتھائی تعداد بھی اپنے ساتھ لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس کا حقیقت پسندانہ جواب نفی میں ہے۔ حکمران ،عوامی دباو پر استعفے دیتے ہیں لیکن اگر عوامی دباو گنتی کے چند ہزار لوگوں پر مشتمل ہو جو لاہور سے اسلام آباد ایک تاریخی دھرنا دینے جا رہے ہوں تو پھر اسے مذاق ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری اپوزیشن بھی صرف اس فیصلے کو مانتی ہے جو اس کے حق میں آیا ہو۔

اگر آپ یہ تصور کرتے ہیں کہ کسی بھی کمزور یا طاقتور کمیشن کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور ان کے خاندان کو بے گناہ تصور کر لیا جائے گا تو آپ غلطی پر ہیں ،ایسا تصورکرتے ہوئے آپ ماضی قریب میں جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو بھول رہے ہیں جس نے عام انتخابات کو درست قرار دیا تھا مگر اس کے باوجود گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات دہرانے میں کسی جھجک کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ اپوزیشن کے پیش نظر بھی آف شور کمپنیوں کے سکینڈل کو صرف اور صرف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہے جسے وہ بہرصورت کرتی رہے گی۔

نواز شریف نے چالاکی کے ساتھ گیند اپوزیشن کے کورٹ میں پھینکنے کی کوشش کی جب انہوں نے یہ کہا کہ ان کے خاندان کے خلاف ثبوت الزام لگانے والے پیش کریں۔ کیا اپوزیشن اس سیدھے سادھے مقدمے کو کامیابی کے ساتھ لڑ پائے گی، مجھے تو اس کی امید نظر نہیں آتی ، ہماری اپوزیشن صرف باتیں کرتی ہے، ثبوت وغیرہ پیش کرنا اس کی ہمت اور صلاحیت سے باہر کا کام ہے۔ اپوزیشن نے بار بار الزامات عائد کئے کہ لاہور کی میٹرو پرتیس نہیں، ستر سے نوے ارب روپوں تک خرچ کئے گئے ہیں، پنجاب کی حکومت نے یہ معاملہ ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کو بھیج دیا، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے حقائق تک پہنچنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی او رعمران خان کے بیانات پر انہیں خطوط لکھے اور ثبوت مانگے، ان دونوں رہنماوں نے خطوط کا جواب دینے تک کی زحمت نہیں کی۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منی لانڈرنگ جیسے مشکل الزامات پر یہ رہنما ثبوت کہاں سے لائیں گے لہذا انہوں نے اپنے تئیں عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے اعلان کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے وہی روایتی رویہ اختیار کیا، جج کے نام کا اعلان بھی نہیں ہوا اور اس پر عدم اعتماد پہلے ہی کر دیا گیا۔ایک خیال یہ ہے کہ ایک زندہ اور فعال معاشرے میں یہ تحقیقاتی کام ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کو از خود شروع کر دینا چاہئے تھا مگر دوسری طرف یہ امر بھی حقیقت ہے کہ نیب جیسا بااختیار اور باوسائل ادارہ بیس برسوں سے جاتی امرا کو جانے والی چند کلومیٹر کی ایک سڑک بننے کی انکوائری کر رہا ہے اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ اس ادارے کی بڑی کامیابیوں میں اب تک میرے سامنے پلی بارگننگ جیسے غیر اخلاقی فیصلے ہی آتے ہیں، یہ ادارہ کسی حکمران کے خلاف کیا تحقیقات کرے گا۔
معاملہ صرف سیاست کا ہے اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، کیا یہ دلچسپ سوال نہیں کہ آف شور کمپنیوں کے سکینڈل میں صرف شریف خاندان نہیں بلکہ دو سو کے قریب کچھ اور افراد بھی ہیں۔ اگر میڈیا اور سیاستدان واقعی کرپشن کو ختم کرنا چاہتے اور کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں دیگر صنعتکاروں، ارکان اسمبلی اور عدلیہ کے سابق اور موجودہ لوگوں کے نام بھی لینے چاہئیں مگر وہ نام کوئی نہیں لے رہا کیونکہ ان سب کا ٹارگٹ کرپشن نہیں، سیاست ہے۔ یہاں نواز شریف کو ایک پلس پوائنٹ ملتا ہے کہ کرپشن کے الزامات تو تمام پارٹیوں پر لگتے تھے، پیپلزپارٹی نے تو مقدمات کا سامنا بھی کیا مگر از خود کسی نے اپنے آپ کو اس طرح کے کمزور ترین احتساب کے لئے بھی پیش نہیں کیا۔
کیا پیپلزپارٹی کی قیاد ت پر سرے محل سمیت دیگر الزامات نہیں لگے، کیا مسلم لیگ ق کے رہنماوں پربینک آف پنجاب سمیت بہت سارے اداروں میں کرپشن کرنے کے الزامات موجود نہیں ہیں، کیا تحریک انصاف کے قائدپر ان کے بنی گالہ کی عظیم الشان رہائش گاہ کی خریداری ہی نہیں بلکہ ان کی اپنی پارٹی کے بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے رہنماوں کی طرف سے پارٹی فنڈز ہڑپ کرجانے کے الزامات نہیں لگے، کیا جماعت اسلامی کی قیادت سے نہیں پوچھا جا رہا کہ برس ہا برس سے پیسے لے کر وہ جو قرطبہ سٹی بنانے جا رہے تھے وہ پیسے اور وہ قرطبہ سٹی کہاں ہے۔ میں پورا یقین رکھتا ہوں کہ ہماری پوری سیاسی قیادت کو ان تمام سوالوں کے جواب دینے چاہئیں مگر ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عوام اپنے رہنماوں سے واقعی ان سوالوں کے جواب چاہتے ہیں تو اس کا جواب نفی میں ہے۔
ہم دھڑے باز لوگ ہیں۔ نواز شریف کے حامی اسی طرح ان الزامات کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں جس طرح باقی جماعتوں کے رہنماا ور کارکن اپنی اپنی قیادت پر الزامات کونہایت آسانی سے مسترد کر دیتے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ بہت سارے دیگر الزامات کی طرح آف شور کمپنیاں قائم کرنے کا الزام بھی موجود رہے گا ۔ ابھی کچھ عرصے کے بعد یہ معاملہ اتنا گرم نہیں رہے گا اور جب انتخابی مہم شروع ہو گی تو ماڈل ٹاون میں ہونے والے قتلوں سمیت یہ الزام بھی انتخابی مہم کا حصہ بن جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت تک حکومتی جماعت دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری جیسے عوامی مسائل حل کرنے میں کس حد تک کامیابی حاصل کرتی ہے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سی پیک منصوبے ، اورنج لائن ٹرین اورموٹرویز کی تعمیر کے بڑے بڑے کریڈٹ لیتے ہوئے ان الزامات کے نقصان پر قابو پا لیا جائے گا۔ یوں بھی میاں نواز شریف کی طرف سے ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن کے قیام کی پیش کش ان کے ڈانواں ڈول ووٹر کو قائل کرنے کے لئے کافی ہو گی۔
میں سمجھتا ہوں کہ آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے الزامات نے حکمران خاندان کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اس نقصان کو اپوزیشن اپنے فائدے میں تبدیل کرلے مجھے فی الحال یہ بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ وہ گونگلو ہیں جن سے حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی طرف سے مٹی جھاڑتی رہیں گی مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا، کچھ لوگ یہ گونگلو لے کر ہائی کورٹ بھی جا پہنچے ہیں۔ کچھ عرصے بعد کچھ نئے گونگلو زمین پر گرے مل جائیں گے اور پھرسب انہیں جھاڑنا شروع کر دیں گے، یہ بالکل ویسے گونگلو ہیں جیسے اس سے پہلے اتفاق کے سریے اورقرضوں کی معافی کے گونگلو جھاڑے جاتے رہے ہیں۔ نواز شریف اس معاملے میں کمزور وکٹ پر ہونے کے باوجود اس باونسرکو کھیل گئے ہیں، اپوزیشن اس پر آوٹ آوٹ کا شور مچا رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کے کھلاڑیوں کی میدان میں اپنی کارکردگی کیا ہے؟
نجم ولی خان

سیدھی انگلیوں گھی کب نکلا؟

چار برس پہلے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ایسے 35 لاکھ دولت مند پاکستانیوں کا ڈیٹا مرتب کیا جو بڑے بڑے بنگلوں اور اپارٹمنٹوں میں رہتے ہیں، ایک سے زائد بینک اکاؤنٹ اور گاڑی کے مالک ہیں، اور سال میں ایک سے زائد بار بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں مگر ٹیکس خور ہیں۔
وفاقی ٹیکس اداروں کا اندازہ ہے کہ پاکستان کی قومی پیداوار میں تجارت کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے۔ مگر 40 لاکھ چھوٹے بڑے تاجروں میں سے لگ بھگ ایک لاکھ 40 ہزار تاجر ہی ٹیکس نیٹ میں ہیں۔ گویا قومی پیداوار میں پانچویں حصے کا مالک طبقہ محض 0.05 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔
اس ملک کی 20 کروڑ آبادی کے 1169 منتخب نمائندے ٹیکس قوانین بنانے والی وفاقی پارلیمنٹ اور چار صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ گذشتہ ٹیکس سال میں 95 ارکانِ اسمبلی اتنے غریب نکلے کہ انھوں نے ٹیکس ریٹرن میں زیرو آمدنی دکھائی، اور خطِ غربت تلے زندگی گزارنے والے 129 ارکانِ اسمبلی نے خود کو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے قابل تک نہیں سمجھا۔
سال 14-2013 کے ٹیکس ریکارڈ کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت میں بدلنے کے لیے کوشاں مولانا فضل الرحمان نے 15688 روپے، نیا پاکستان بنانے میں دن رات مصروف عمران خان نے دو لاکھ 18 ہزار، پاکستان کو اقتصادی ٹائیگر بنانے والے نواز شریف نے 26 لاکھ، عوام کے استحصال پر تڑپ اٹھنے والی فریال تالپور نے 48 لاکھ روپے اور حکومت کے عیب جو قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے ایک لاکھ 54 روپے ٹیکس دیا۔ جبکہ تمام ٹیکس پالیسیوں کے داروغہ اسحاق ڈار نے 28 لاکھ 67 ہزار روپے جمع کرایا۔
المختصر قومی خزانے کو تمام وفاقی و صوبائی پارلیمینٹیرینز کی جانب سے 55 کروڑ 32 لاکھ روپے کا ٹیکس نذرانہ ملا۔ اس میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے رکنِ پنجاب اسمبلی چوہدری ارشد جاوید کے 24 کروڑ 80 ہزار اور چوہدری اعتزاز احسن کے سوا کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
تصویر کچھ یوں ہے کہ 20 کروڑ پاکستانیوں میں سے اس وقت تقریباً دس لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں ہیں، ان میں دو تہائی تنخواہ دار ہیں جن کا ٹیکس پیشگی ہی کٹ جاتا ہے۔
 
 نواز شریف نے 26 لاکھ ٹیکس ادا کیے
مگر حکومت نے ہمت نہیں ہاری۔ اسحاق ڈار کا ہدف ہے کہ موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے پہلے پہلے ٹیکس گزاروں کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ کے کم از کم 20 لاکھ ہو جائے۔
اس مقصد کے لیے حکومت نے پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کی سب سے مہربان والنٹیری ٹیکس کمپلائنس سکیم (یو ٹی سی ایس) کے نام سے یکم فروری کو نافذ کی جس سے فائدہ اٹھانے کی حتمی تاریخ 15 مارچ ہے۔ یہ سکیم تمام سرکردہ تاجر تنظیموں سے چار ماہ کے صلاح مشورے کے بعد تیار کی گئی۔
تاجروں کو ٹیکس ریٹرن میں پانچ کروڑ تک آمدنی دکھانے پر ہر سو روپے پر صرف دو پیسہ ٹیکس اور 25 کروڑ یا اوپر آمدنی دکھانے پر سو روپے پر 15 پیسے جمع کرانے ہوں گے۔ اس کے بدلے تاجروں سے آمدنی کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا اور سنہ 2018 تک ان کی آمدنی کا کوئی آڈٹ نہیں ہو گا۔ سکیم کا مقصد تاجروں میں ٹیکس کلچر کا فروغ بتایا گیا ہے تاکہ سنہ 2018کے بعد اس کے فوائد دیکھتے ہوئے خود بخود نارمل شرح پر ٹیکس دینے کے عادی ہوتے چلے جائیں۔
لیکن ہوا کیا؟ جس سکیم کا ہدف کم ازکم دس لاکھ تاجروں کو انھی کی شرائط پر ٹیکس نیٹ میں لانا تھا۔ آج کی تاریخ تک ان میں سے تین ہزار سے بھی کم نے ٹیکس ریٹرن فائل کیے ہیں اور باقی مطالبہ کررہے ہیں کہ سکیم میں کم ازکم 30 جون تک توسیع دی جائے۔
باقاعدگی سے ٹیکس جمع کرانے والے اس رضا کارانہ ٹیکس سکیم کے امتیازی پہلوؤں سے ناخوش ہیں لیکن کالی بھیڑیں پھر بھی سفید ہونے پر آمادہ نہیں۔ اب ایک ہی راستہ ہے کہ جس طرح حکومت نے پی آئی اے کے ملازموں سے نمٹنے میں پھرتیاں دکھائی ہیں۔ ایسی ہی پھرتیاں ہر حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں ناکام بنانے والے تاجر طبقے سے ٹیکس نکلوانے میں بھی دکھائے تو مانیں۔
اچھا تو پھر ان 35 لاکھ خوشحال ٹیکس فری پاکستانیوں کا کیا کرنا ہے جن کی فہرستیں نادرا سنہ 2012 سے سنبھالے بیٹھی ہے؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی