شہر قائد ۔ قیادت سے محروم کیوں؟

کبھی لالو کھیت مرکز کی حکومت بدل دیا کرتا تھا۔ اب یہ کروٹ بھی نہیں بدل سکتا۔
کیسی بلندی کیسی پستی۔ ہر حکمران کی کوشش ہوتی تھی کہ لالو کھیت تسخیر کرے۔ گوہر ایوب اپنے والد کی فتح کا جلوس یہیں سے لے کر گزرے۔ دلوں میں گلیوں میں آگ لگا دی۔ بھٹو صاحب نے سپر مارکیٹ اور زمیں دوز راستہ بنا کر لالو کھیت فتح کرنے کی کوشش کی۔ اور جب افتتاحی تقریب میں بعض لوگوں نے جوتے دکھائے تو کمال حاضر دماغی سے انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے جوتے مہنگے ہوگئے ہیں۔ جنرل ضیا کے خلاف تحریک کا آغاز بھی لالو کھیت سے ہی ہوا تھا۔ کسی کی ریلی تین ہٹی اور ڈاکخانے سے گزرنے میں کامیاب ہو جاتی تو اسے فاتح عالم سمجھا جاتا تھا۔

لالو کھیت کا تھانیدار ہونا بھی کالے پانی کی سزا ہوتا تھا۔ یہاں کے نوجوان بزرگوں کو قائل کرنا کسی بھی ایس ڈی ایم کے لیے اپنی عملداری کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب لالو کھیت کے لیڈر لالو کھیت میں ہی رہتے تھے۔ ڈیفنس کلفٹن میں نہیں ۔ وہ یہاں کے دُکھ درد میں غمی شادی میں شریک ہوتے تھے۔ جنازے کو کندھا دینے میں پیش پیش۔ کراچی کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ طاقت گھٹ گئی ہے۔ شہر پھیل گیا ہے۔ زور سمٹ گیا ہے۔ تجارت زوروں پر ہے۔ متانت منہ چھپائے پھرتی ہے۔ دُنیا میں ساحلی شہر راج کرتے ہیں۔ نیو یارک
امریکا کی سیاست اور معیشت کنٹرول کرتا ہے۔ اگر چہ دارُالحکومت واشنگٹن ہے۔ بھارت میں صدر مقام دہلی ہے۔ لیکن بات بمبئی کی چلتی ہے۔

شہر قائد کو آخر کیا ہوا ہے۔ جسے پورے پاکستان کی قیادت کرنی چاہئے تھے اب وہ خود قیادت سے محروم ہے۔ اس شہر کا تو چھوڑیے اس کے تو گلی محلّے قیادت کو ترس رہے ہیں۔ تقسیم اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ایک ضلع سے پانچ اضلاع، پھر 18 ٹائون، پھر کچھ اضلاع، پاکستان بننے کے فوراً بعد جن سیاسی جماعتوں کا یہاں غلغلہ تھا۔ اب ان میں سے کوئی بھی پیش منظر میں نہیں ہے۔ کہاں ہے اس وقت کی مسلم لیگ، کیا کیا ہستیاں تھیں، لیاقت علی خان، چوہدری خلیق الزماں پھر جماعت اسلامی نے غلبہ حاصل کیا۔ پروفیسر غفور احمد، پروفیسر محمود اعظم فاروقی، منور حسن، جمعیت علمائے پاکستان، مولانا شاہ احمد نورانی، شاہ فرید الحق، یہ شخصیتیں نکلتی تھیں تو دائیں بائیں نوجوان مقرر ہوا کے تازہ جھونکوں کی طرح، ظہور الحسن بھوپالی یاد آتے ہیں، دوست محمد فیضی، حافظ تقی۔

بائیں بازو کے کراچی بدر طلبہ، فتحیاب علی خان، معراج محمد خان، علامہ علی مختار رضوی، نفیس صدیقی، جوہر حسین، ایشیا سرخ ہے، ایشیا سبز ہے۔ اب تو ایشیا صرف زرد ہے، کراچی سے دارُالحکومت چھین لیا گیا ہے۔ لیکن کراچی سے اس کی مرکزیت، اہمیت اور اقتصادی وقعت نہیں چھینی جا سکی۔ کراچی میں روزانہ اربوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ روزانہ کروڑوں کا ٹیکس وفاق اور صوبے کو ملتا ہے۔ کراچی کو سندھ کا صدر مقام ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں پشاور سے زیادہ پشتون، کوئٹہ سے زیادہ بلوچ، لاہور سے زیادہ پنجابی، ملتان سے زیادہ سرائیکی، مظفر آباد سے زیادہ کشمیری، گلگت سے زیادہ بلتی، فاٹا سے زیادہ قبائلی بستے ہیں۔ سندھیوں کا تو یہ اپنا شہر ہے۔ نئے پرانے سندھی نہیں اب سب صوبائی حیثیت میں سندھی، اور قومی حوالے سے پاکستانی ہیں۔

آج یہ شہر قیادت کو ترس رہا ہے۔ سب کی نظریں اس پر ہیں۔ کبھی اس پر لاہور سے سیاسی لشکر کشی ہوتی ہے ۔ کبھی پشاور سے، کبھی اندرون سندھ سے۔ اس کی زمینوں پر سب کی نگاہیں ہیں۔ اس کے ساحلوں کا حرص ہے لیکن اس کا درد کوئی نہیں بانٹتا۔ تین دہائیاں قبل اس کے شہریوں کو ایک شناخت دی گئی ۔ نشتر پارک میں جلسہ ہوا۔ موسلا دھار بارش میں سب جم کر بیٹھے رہے۔ پھر آسمان کی آنکھ نے دیکھا کہ کیا صوبہ کیا وفاق۔ اس کی مرضی کے بغیر نہ حکومت بنتی تھی۔ نہ حکومت برطرف ہوتی تھی۔ اس نے اپنے حقوق بھی حاصل کیے۔ اختیارات بھی۔

لیکن جب سیاست میں لسانی شدت پسندی غالب آتی گئی۔ اسلحے کا استعمال ہونے لگا۔ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک کرنے لگا۔ مہاجر مہاجر کو مارنے لگا۔ لسانی بنیادوں پر خون بہنے لگا۔ مائوں کی گود اُجڑنے لگیں۔ باپوں سے ان کے سہارے چھینے جانے لگے تو یہ طاقت کمزور ہوتی گئی۔ شناخت دھندلی ہونے لگی۔ یہ شہر ایک طویل عرصے بعد خوبصورت شاہراہیں حاصل کر رہا تھا۔ ہرے بھرے پارک، روزگار کے مواقع، سب زبانیں بولنے والے آپس میں گھل مل رہے تھے۔ اس شہر کے ہاتھوں میں طاقت کا مرکز آرہا تھا۔ یہ طاقت تکبر میں بدل گئی۔ یہ کامیابی دماغ کو مائوف کر گئی۔

اب کل کے طاقتور، سب سے کمزور ہیں۔ ملک پر راج کرنے والے اب محلّوں میں بھی قابل قبول نہیں ہیں ۔ جس طرح خراب حکمرانی نے پورے پاکستان میں بے سکونی، بے چینی اور افرا تفری پیدا کی ہے۔ کراچی میں بھی اب یہی حال ہے۔
یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ اب روزانہ لاشیں نہیں گرتیں۔ اب اس کی شاہراہیں بوری بند میتیں پیش نہیں کرتیں۔ سب سے بڑے تجارتی و صنعتی مرکز کی روشنیاں بحال ہو گئی ہیں۔ کارخانوں کی چمنیوں سے پھر دھواں نکلنے لگا ہے۔ اب اچانک شہر بند نہیں ہوتا۔ کئی کئی روز کی ہڑتالیں نہیں ہوتیں۔ دفعتاََ دکانوں کے شٹر گرنا شروع نہیں ہوتے۔ کالج اسکولوں یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت کا سلسلہ نہیں رکتا۔

لیکن ملک کی اس سب سے بڑی آبادی کا قائد کون ہے۔ شہروں میں رونقیں۔ تجارتی سرگرمیاں ۔ صنعتی گہما گہمیاں، بازاروں میں ہجوم، سب کی ضرورت ایک فعال قیادت ہوتی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اس شہر کو پورے ملک کی قیادت فراہم کرنی چاہئے۔ یہ بجا طور پر منی پاکستان ہے، پاکستان کی روح ہے، یہاں وفاق کی وحدتوں کی نمائندگی بھی ہے۔ دوسرے علاقوں کی بھی، یہاں سب سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں۔ یہاں بانیٔ پاکستان کی جائے ولادت بھی ہے، مدفن بھی، یہاں بانیان پاکستان کی اولادیں بڑی تعداد میں ہیں۔ نئے وطن کے لیے اپنے بستے گھر بار چھوڑ کر آنے والوں کی نسلیں یہاں سانس لے رہی ہیں۔

ملک میں سب سے زیادہ محنت کش، کارکن یہاں ہیں، کارپوریٹ ایگزیکٹو یہاں ہیں۔ آجر یہاں ہیں، ملک بھر کی صنعت و تجارت کے ایوانوں کا وفاق یہاں ہے۔ پھر یہاں سے ملک کو قیادت کیوں نہیں مل سکتی۔ جدید ترین ٹیکنالوجی یہاں دستیاب ہے۔ کال سینٹرز ہیں، سافٹ ویئر، یہاں تشکیل دئیے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے امراض قلب کے ادارے کو توسیع دے دی ہے۔ جگہ جگہ اس کے مراکز قائم کر رہی ہے۔ کوئی سیاسی پارٹی ہو، مذہبی تنظیم ہو، این جی او ہو، یونیورسٹیاں، ان کو جائزہ لینا چاہئے کہ دُنیا کے اکثر ملکوں میں ایسے شہروں سے وابستہ ذہین شخصیات قوموں کو آگے لے جانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ کراچی سندھ کا غرور ہے۔ پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ منفی سوچ دم توڑ رہی ہے۔ مثبت ہوائیں چل رہی ہیں۔ واٹر کمیشن اس کے پانی کو بہائو دینے کے لیے جدو جہد کررہا ہے۔ سپریم کورٹ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے فیصلے دے رہی ہے۔ شہر کی رونقیں واپس آرہی ہیں۔ اسکی قائدانہ اہلیت بھی واپس آنی چاہئے۔ دل بڑا کرنے۔ انا کے خول سے باہر نکلنے کا لمحہ آگیا ہے۔

محمود شام

Advertisements

پاکستان کا پہلا 6 اسٹار ہوٹل کراچی میں بنے گا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں جب سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، نہ صرف ثقافتی گہماگہمی لوٹ آئی ہے، بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی بحال ہوئی ہیں۔ اور یقیناً یہ خبر پورے پاکستان اور خاص طور سے کراچی والوں کے لئے خوشگوار سرپرائز ہو گی کہ ’پاکستان کا پہلا چھ ستارہ ہوٹل‘ کراچی ہی میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے روح رواں کراچی کے ایک ارب پتی تاجر حبیب اللہ خان ہیں۔

’پاکستان ٹوڈے‘ کے پبلشر بابر نظامی نے ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ خصوصی بات چیت میں بتایا کہ ’’حبیب اللہ خان میڈیا اور لائم لائٹ سے بہت دور رہنے والی شخصیت ہیں۔ انہوں نے ہمیں پاکستان کے پہلے ’سکس اسٹار ہوٹل‘ تعمیر کرنے سے متعلق تفصیلات تو ظاہر کر دی تھیں۔ لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ ’’رہنے دیں، انٹرویو شائع نہ کریں۔ لیکن، بالآخر، ہم نے عارف نظامی صاحب سے ان کے قریبی تعلقات کے سبب منا ہی لیا۔‘‘ اُنھوں نے بتایا کہ ’’ہوٹل کراچی میں اسی جگہ تعمیر ہو گا جہاں اس وقت ہوٹل میٹروپول واقع ہے، یعنی شاہراہ فیصل کے آخری کونے پر۔‘‘

بقول حبیب اللہ، ’’ہم ایک ڈسٹرکٹ بنا رہے ہیں جو چار مختلف جز پر مشتمل ہو گا اور ان میں سے ایک جز 6 اسٹار ہوٹل ہے۔ ہوٹل کی سہولت کو شیئر کرتے برانڈ اپارٹمنٹ بھی ہوں گے۔ دراصل ہم شہر کے اندر ایک اور شہر بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انتھک کام کر رہے ہیں۔‘‘ ہوٹل کی تعمیر کے لئے کراچی کے فنانشیل ڈسٹرکٹ میں واقع چار ایکٹر کے رقبے پر موجود متروکہ ’ہوٹل میڑوپول‘ حبیب اللہ خان خرید چکے ہیں۔ اس سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ’’ہوٹل میڑوپول کے سابق مالکان پارسی تھے جو ایک عشرے سے ہوٹل کو فروخت کرنے کی کوششوں میں تھے۔ ہوٹل کی خریداری میں بہت سی پارٹیوں نے دلچسپی لی۔ لیکن، گنتی کے چند کے پاس ہی جلد ادائیگی کے لئے لیکوڈیٹی اور ہوٹل خریدنے کی لگن موجود تھی۔ اللہ کے فضل سے ہم نے دو مہینوں کے اندر ڈیل مکمل کر لی۔‘‘

 وسیم صدیقی

بشکریہ وائس آف امریکہ

کراچی کے مسائل اور اُن کا حل

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن وامان کی صورتحال پہلے کینسبت اب کافی بہتر ہو چکی ہے، اس کی بڑی وجہ ’کراچی آپریشن‘ ہے اور اب دنیا اسے محفوظ شہروں میں شمار کرتی ہے۔ کراچی میں ٍتین بڑے مسائل ہیں، جرائم یا دہشتگردی، سیاسی ناانصافی اور معاشی حب ہونے کے باوجود اسے کبھی اس کا لازمی حصہ نہیں دیا گیا۔ اگر ہم کراچی میں امن وامان کی فضا کو برقراررکھنا چاہتے ہیں تو یہ بہت اہم ہے کہ امن و امان کے علاوہ شہر کے بڑے مسائل کو بھی حل کیا جائے اور ہم تاحال اس سے بہت دور ہیں، جس کی وجہ سے 2 کروڑ کا یہ شہر بے لگام ہے اور کوئی بھی ’ذمہ داری‘ لینے کیلئے تیار نہیں لیکن ہر کوئی اپنا ’حصہ‘ لینا چاہتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم کراچی کی جانب نسلی تعصب کے بغیر دیکھیں یا اسے کسی ایک پارٹی یا گروہ کے شہر کے طور پر دیکھنا بند کریں۔ سیاسی لیڈرشپ یا حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ شہر صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کراچی لاہور یا اسلام آباد جیسا کیوں نہیں بن سکتا ؟ کراچی جیسے شہر کا نظام اس طرح سے نہیں چل سکتا جس طرح سے گزشتہ 70 سال سے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ اب یہ تاریخ ہے کہ وفاقی دارالحکومت کو کراچی سے اسلام آباد شفٹ کرنا کراچی اور سندھ کے لوگوں کا سب سے بڑا نقصان تھا۔ دیگر شہروں سے لوگوں کی آمد اس بات کی علامت ہے کہ شہر مناسب منصوبہ بندی کے تحت آباد ہے۔

کراچی کی ذمہ داری لینا سب سے بڑی مشکل رہی ہے جس کی وجہ سے بعد میں آنے والی حکومتوں نے اپنے معاشی حب میں کوئی دلچسپی نہیں لی، اس شہر سے بد ترین حالات میں بھی 70 فیصد آمدنی آتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے بطور قوم اس شہر کے ساتھ اچھا نہیں کیا، یہ شہر ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے باعث سیاست اور حکومت میں منفی رجحانات پیدا ہوئے۔ آج یہ شہر بے قابو ہو چکا ہے اور اگر ہم نے مسائل حل نہ کیے توجلد ہی یہ حکومت کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ لہذا مسئلے کا حل کیا ہے اور حکومتیں کیوں ناکام ہوئیں، اس کےنتیجے میں ایم کیوایم جیسی پارٹیاں بنیں۔ چاہے پارٹی قائم رہے یا ختم ہو جائے لیکن اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو اس سے مزید افراتفری پھیلے گی جسے قابو کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ کراچی کے مسئلے کا حل تمام سیاسی اور نسلی مفادات سے بالاتر ہوکر نکالنا ہو گا۔ 2017 کی مردم شماری میں سنجیدہ نوعیت کے شکوک و شبہات پیدا کیے گئے ہیں اور حتٰی کہ آزاد مبصرین نے بھی مردم شماری کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اس کی آبادی کی درست تصویرپیش نہ کرنا بھی معاشی حب کی لیے ایک تعصبانہ سوچ ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ شہر کی آبادی 2 کر وڑ سے زائد ہے۔ لہذا، اگر ہم کراچی کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو اس سوچ کو بدلنا ہو گا۔ (1) کراچی کی صحیح آبادی کا تعین کیا جائے اور اس کے مطابق ایک ایسا ’ماسٹر پلان‘ تیار کیا جائے اس کے بغیر آپ شہر کی ترقی کیلئے اسے اس کا صحیح حصہ نہیں دے سکتے۔ (2) کراچی کو میٹرو پولیٹن شہر کا درجہ دیا جائے بالکل اسی طرح جس طرح دنیا بھر میں تمام میٹرو پولیس یا بڑے شہروں کو دیا جاتا ہے۔ (2) خواہ براہ راست انتخابات سے یا موجودہ بلدیاتی نظام کے ذریعے، منتخب میئر پورے شہر کا ’فادر‘ ہونا چاہیئے نہ کہ صرف 34 فیصد کا۔ (4) تمام سیاسی اور نسلی تعصبات سے بالاتر اور بغیر کسی سیاسی مداخلت کے کراچی کا اپنا پولیس کمشنر اور مقامی پولیس سسٹم ہونا چاہئے۔ (5) نوکریوں اور تعلیم میں میرٹ کےنظام کو فروغ دینا چاہئیے۔ (6) کراچی کو ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے اور آرٹسل کونسل آف کراچی اور نیپا جیسے اداروں کو بڑھ چڑھ کر کام کرنا چاہئیے ۔

شہر کو ایسی ’فوڈ سٹریٹ‘ کی ضرورت نہیں ہے جو بغیر منصوبہ بندی کے بنائی جائیں۔ (7) اب وقت ہے کہ کراچی میں کھیل کے میدان اور پارکس کو بحال کیا جائے۔ تقریباً 80 فیصد گرائونڈ اور پارکس کو ’فروخت‘ کر دیا گیا ہے۔ (8) گزشتہ کئی سال سے سازش کے تحت بڑھتی ہوئی کچی آبادیوں کا ایک بڑا اسکینڈل بن چکا ہے، ان کی تعداد اب تقریباً 7ہزار ہے۔ (9) دہشتگردی اور امن وامان کی صورتحال مسئلےکا صرف ایک پہلو ہے اور شہر دہائیوں تک ’رینجرز یا پیرا ملٹری‘ یا نامکمل آپریشن کےذریعے نہیں چل سکتا۔ اس کے لیے پائیدار سیاسی حل اور مسائل حل کرنے کی خواہش ہونی چاہئیے۔ لہذا، وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کا کردار اہم ہے۔ لیکن انھیں مسئلے کا حل ’نسلی تعصب‘ سے بالاتر ہو کر تلاش کرنا ہو گا۔ (10) کراچی آپریشن کے بعد کراچی کو تیز رفتار ’کراچی ایکشن پلان‘ کی ضرورت ہے۔

کیا آپ کسی ایسے میٹرو پولیٹن شہر کا تصور کر سکتےہیں جس کیلئے 40 سال تک کوئی ماسٹر پلان تیار نہ کیا گیا ہو اور جو تیار ہوا اس میں ویژن کی کمی تھی۔ جو شہر کبھی کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت چلتا تھا ، اس اب تقسیم کر دیا گیا اور کنٹونمنٹ بورڈ اور ڈیفنس ہائوسنگ اتھارتی کے اچانک سے پھیلائو کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ بہت زیادہ کرپشن کے باعث کراچی کے بڑے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو مکمل ہونے میں 10 سے 40 سال لگتے ہیں مثلاً کراچی ماس ٹرانزٹ، کراچی سرکلر ریلوے، لیاری ایکسپریس وے اور اس کے نتیجے میں حل ہی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کراچی میں بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے اور سوائے ایک یا دو کہ اس کے تمام فلائے اوورز، انڈر پاس سے ایسے انجینئرز کی نالائقی جھلکتی ہے جن میں ویژن کی کمی تھی۔

لیکن وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کروڑ پتی اور ارب پتی بنتے گئے۔ بدقسمتی سے ہر پارٹی اور گروپ حتی کہ حکومتیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی تمام نظریات اور وجود کے ساتھ ’ایم کیوایم کے خاتمے‘ کا انتظار کر رہی ہیں۔ ایم کیوایم بچ سکتی ہے یا طبعی یا غیرطبعی موت مر سکتی ہے لیکن اگر مسئلہ اربن سندھ میں برقرار رہا تو اس سے مستقبل میں ایم کیوایم کی طرح ایک اور پارٹی جنم لے سکتی ہے۔ 2013 میں ’کوٹہ سسٹم‘ ختم کرنے میں تقریباً چاردہائیاں لگیں۔ میں ہمیشہ یہ مانتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں کوٹہ سسٹم کے پیچھے بری سوچ نہیں تھی، اس سے سندھی مڈل کلاس اور معاشرے کےمحروم طبقے کی ترقی مقصود تھی، لیکن اس کا نفاذ بری طرح کیا گیا اور اس سے مہاجر سیاست کی بنیاد پڑی۔ وہ صرف 10 سال کے لیے کوٹہ سسٹم کا نفاذ چاہتے تھے لیکن بعد میں آنےوالی حکومتوں نےاسے ’سیاسی مقاصد‘ کیلئے استعمال کیا، اس سےمزید فاصلے پیدا ہوئے اور انھوں نے دیہی سندھ میں تعلیم کی ترقی کیلئے کبھی کوشش نہیں کی۔

کراچی کے مسائل مزید بڑھ گئے کیونکہ کسی حکمران نے ’دیہی اور شہری‘ تقسیم ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس حکمرانوں نے مسئلے کو سیاسی رنگ دیا اورسیاسی مقاصد کیلئےمزید تقسیم پیدا کی۔ بدقسمتی سےتاحال یہ سوچ تبدیل نہیں ہوئی اور ہم کراچی کے شہریوں اور مہاجروں میں فرق کرنے کے قابل ہی نہیں ہوئے۔ مکمل کراچی کو ایک خاص ذہنیت سے دیکھنا ہی مسائل کی اصل وجہ ہے۔ اگر جنرل ضیاءاور جنرل پرویز مشرف نے مہاجروں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں شہر میں سٹیک ہولڈرز بن سکتی تھیں، انھوں نے شہر کی ذمہ داری لینے کی بجائے اس کے ساتھ تعصبانہ سلوک کیا۔ اگر پی پی پی مذکورہ بالا تجاویز پرعمل کرے تووہ شہر کنٹرول کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

ہماری سیاسی جماعتوں کا مسئلہ مقامی حکومتوں کے نظام کو فروغ نہ دینا رہا ہے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے، انھیں معاشی اور انتظامی اختیارات دینے کے بجائے صوبائی حکومتیں نظام کو براہِ راست کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔ کراچی سندھ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ لہذا حکومت کو اس کے ساتھ دنیا کیلئے ایک ’چہرے‘ کے طورپرسلوک کرنا چاہیئے۔ سندھ خوش قسمت ہے کہ یہ شہر کمرشل ہے اور ملک کا معاشی مرکز ہے۔ لیکن کوئی بھی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ اس سے تعصب جھلکتا ہے اور اس میں کوئی حیرانی نہیں ہے کہ کیوں کراچی میں نسلی، فرقہ ورانہ اور سیاسی تشدد ہوا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے گئے۔

مظہرعباس

کراچی کا سائٹ انڈسٹریل ایریا ہے یا موہن جودڑو؟

صنعتی پیداوار میں نمبر ون رہنے والا سندھ کا سب سے بڑا سائٹ انڈسٹریل ایریا  اب موہن جو دڑو کا منظر پیش کرنے لگا، آدھی سے زیادہ صنعتوں کو تالے لگ گئے۔ علاقے میں نہ آگ بجھانے کا انتظام ہے اورنہ ہی پانی کی فراہمی کا، صنعتی زون کے داخلی اور خارجی راستے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ سائٹ لمیٹڈ کو ہر ماہ ملنے والا کروڑوں روپے ٹیکس کس کی جیب میں جاتا ہے؟ کوئی جواب دینے والا نہیں ۔ سائٹ انڈسٹریل ایریا کا سنگ بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح نے رکھا تھا۔ انفرا اسٹرکچر پر کئی برسوں سے کام نہیں ہوا۔ سائٹ کے 4 داخلی اور خارجی راستوں کا حال موہن جو ڈرو سے برا ہے۔

ایک وقت تھا جب یہاں سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی۔ لاکھوں افراد یہاں اپنا روز گار کماتے تھے ملکی صنعتی پیداوار میں یہ علاقہ نمبر ون تھا۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ آدھی صنعتیں بند ہو کر گوداموں میں منتقل ہو چکی ہیں۔ صنعتکار کہتے ہیں حکومت ہر سہولت کے پیسے لیتی ہے لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتی۔ صنعتی زون کے انتظام کے لئے سائٹ لمیٹڈ بنایا گیا، لیکن اس ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں ادا نہیں کی جا رہیں۔ علاقے کی حالت زار سے صنعتکار تو صنعتکار یہاں کے رہنے والے بھی پریشان ہیں۔ سندھ حکومت نے 70 سال پہلے بننے والے صنعتی علاقے کا وہ حال کیا ہے کہ موہن جو ڈرو بھی ماڈرن لگتا ہے۔