کراچی تباہی کی طرف کیوں جا رہا ہے

Read nafees-siddiqui Column karachi-tabahi-ki-taraf-kion-ja-raha-hay published on 2016-07-04 in Daily JangAkhbar

Advertisements

کراچی اب بے خوف ہے

کتابوں میں پڑھا ہے اور فلموں میں اس وقت کو دیکھا ہے جب انسان اپنی طاقت کی ’طاقت‘ سے زندہ رہتے تھے اور کمزور ان طاقت وروں کی نوکری بلکہ غلامی کیا کرتے تھے۔ کوئی قانون قاعدہ نہیں تھا ‘کوئی عدالت نہیں تھی اور مجرم کو پکڑنے والی پولیس نہیں تھی اور انسان صرف اپنی طاقت کی طاقت سے ہی زندہ اور باقی رہتا تھا ورنہ وہ مرتا رہتا تھا یعنی مر مر کے جیا کرتا تھا۔

یہ ایک طویل داستان ہے کہ حالات کے مارے ہوئے انسان کی قسمت بھی جاگ اٹھی اور کچھ انسان ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنی جنس کی یہ حالت دیکھ کر اسے بدلنے کی کوشش کی اور پھر رفتہ رفتہ انسانی زندگی نے یہ چلن اختیار کیا جو اب ہے یعنی پولیس سے لے کر عدالتوں تک اور زندگی کے ایک قانون تک جس کے مطابق انسانوں نے زندہ رہنا سیکھا۔ خود بھی زندہ رہنا اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کا موقع دینا۔
انسان نے بے شمار دکھ سہنے کے بعد یہ منظم زندگی اختیار کی لیکن تعجب ہے کہ انسان کبھی کبھار کسی معاشرتی ضرورت یا اندر کی وحشت سے مغلوب ہو کر کسی حد تک اسی پرانی زندگی کی عادات کی طرف لوٹ جاتا ہے جن سے نجات پانے کی اس نے شعوری کوشش کی تھی اور کامیاب بھی رہا تھا آج ہم یہی پرامن اور ایک باقاعدہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم معاشرتی نظم و ضبط کے لیے کوئی مشکل کھڑی کر دیتے ہیں۔
یہ باتیں مجھے کراچی کے بارے میں ہمارے سب سے طاقت ور شخص جنرل راحیل شریف کے ایک بیان سے یاد آئی ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور کراچی کے شہریوں کو بے خوف کر دیں گے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ ایک چھوٹا پاکستان ہے جس میں ملک کے ہر حصے کے شہری آباد ہیں‘ ہر برادری اور ہر شعبے کے پاکستانی یہاں زندگی کر رہے ہیں۔ کوئی ملازمت کرتا ہے تو کوئی کسی کاروبار میں مصروف ہے۔ اسلام آباد بن جانے کے بعد اس شہر کے کچھ امتیازی ادارے یہاں سے اسلام آباد منتقل ہو گئے ہیں مثلاً سفارت خانے اور سفارتی دفاتر جو کراچی میں تھے اسلام آباد چلے گئے کہ ملک کا مرکزی شہر اور دارالحکومت اسلام آباد بنا دیا گیا‘ اس طرح کراچی کی سیاسی حیثیت میں کمی آ گئی مگر اس کی دوسری کئی حیثیتیں برقرار رہیں۔

ملک کی بندرگاہ اسی شہر میں ہے اور کاروباری مرکز ہے۔ صنعتیں بھی زیادہ تر یہیں ہیں غرض ملک کے باقی حصوں میں کراچی سے مانگے تانگے کے کچھ ادارے اور مراکز موجود ہیں مثلاً فیصل آباد میں کپڑے کا کام سب سے زیادہ ہوتا ہے اسی طرح کسی دوسرے شہر میں زندگی کے کسی شعبے کی مرکزیت زیادہ ہو گی لیکن کچھ بھی ہو کراچی ہی سب سے اہم شہر ہے اور پورے ملک کا کاروبار کراچی کے راستے سے چلتا ہے۔

آزادی کے بعد جب آبادی کی نقل و حرکت شروع ہوئی تو بھارت سے ایک بڑی تعداد کراچی منتقل ہو گئی خصوصاً یوپی وغیرہ جن کی زبان بولنے والے کراچی میں بہت تھے یا ان کی مسلسل آمد کی وجہ سے بہت ہو گئے تھے۔ کراچی صوبہ سندھ کا شہر اور صوبائی مرکز تھا لیکن اس نقل مکانی کی وجہ سے اس کی زبان بھی اردو ہی ہو گئی اور ظاہر ہے کہ اردو بولنے والے بھی زیادہ ہو گئے۔ کراچی سندھ کا بڑا شہر بن گیا لیکن بدامنی کراچی میں بہت کم رہی۔ کاروبار کی وجہ سے یہاں جب سرمایہ بڑھ گیا تو اس کی وجہ سے تاجروں اور کاروباری لوگوں کو لوٹنے والے بھی پیدا ہو گئے پھر بات بڑھتی گئی اور اتنی زیادہ کہ قتل و خونریزی میں بھی یہ شہر بڑھتا گیا اور بوری بند لاشیں ملنی شروع ہو گئیں۔
کراچی کی بدامنی اتنی بڑھ گئی کہ فوج کو اپنے امن کے دستوں کی مدد سے کام لینا پڑا اور اس شہر میں امن قائم کرنے کے لیے رینجرز کو اپنے معمول سے ہٹ کر کام کرنا پڑا۔ اس کے اندازے کے لیے کراچی کے مسائل پر ایک اجلاس کے بارے میں جنرل راحیل کا بیان کافی ہے وہ بتاتے ہیں کہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے اور ان کا انفراسٹرکچر ختم کر دیا ہے۔ کراچی سے باہر بھی ان کے ٹھکانوں اور رابطوں کو توڑا گیا ہے۔ خفیہ آپریشن کے دوران بڑی بڑی کامیابیاں ہوئیں۔ جنرل نے اعلان کیا کہ وہ کراچی والوں کو بے خوف بنائیں گے اور اس ضمن میں امن و امان قائم کرنے والے تمام اداروں سے کام لیں گے۔
کراچی سے جو غیر سرکاری اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شہر پھر سے انسانوں کی رہائش کے قابل ہو گیا ہے اور بدامنی کی زبردست لہر اب ٹوٹ چکی ہے اور دہشت گردی اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ کراچی کے شہری اپنی روز مرہ کی مصروفیات میں لگے ہوتے ہیں اور شہریوں کے دلوں سے خوف ختم ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے۔ یہی وہ خوف و ہراس تھا جس نے اس شہر کی روایتی زندگی اس سے چھین لی تھی اور فوج کا یہی ایک بڑا کارنامہ ہے کہ خوف کی فضا ختم کی گئی ہے۔ اب کراچی بدل چکا ہے اور بے خوف ہے۔
عبدالقادر حسن

کراچی کا امن : تعبیر کا منتظر خواب….

کراچی کے بارے میں حکومتی سطح پر جب بھی کوئی سنجیدہ غوروفکر ہوتا ہے، ہر پاکستانی کو خوشی ہوتی ہے۔ کراچی کا دکھ اب اس قدر پراناہے کہ اس کے حوالے سے اچھی خبر مشکل ہی سے آتی ہے، تاہم ہر شخص یہ خواہش ضرور رکھتا ہے کہ کراچی میں امن قائم ہو اور یہ شہر پہلے کی طرح عروس البلاد بن جائے۔ مَیں اکثر ایسے لوگوں سے ملتا رہتا ہوں جو کراچی دیکھنے یا اپنے عزیز و اقارب سے ملنے جانا چاہتے ہیں، مگر ایک انجانے خوف کی وجہ سے وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کراچی چھوڑ کر ملک کے کسی دوسرے حصے میں آباد ہونا چاہتے ہیں، لیکن کراچی کے جن علاقوں میں وہ رہتے ہیں، وہاں یورش کی وجہ سے ان کی جائیداد نہیں بکتی یا پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہیں بیچنے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔ 
کچھ لوگ تو اب بھی یہی کہتے ہیں کہ کراچی میں سب اچھا ہے، حالانکہ وہاں شہر کئی حصوں میں بٹ چکا ہے، ایک علاقے کے رہنے والے دوسرے میں نہیں جا سکتے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ کراچی میں مختلف سیاسی طاقتوں نے اپنے اپنے نوگو ایریاز بنا لئے ہیں، جہاں ان کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں ما رسکتی۔ ایسے میں جب ملک کے دو بڑے وہاں جا کر حالات سدھارنے کی بات کرتے ہیں تو ایک امید ضرور پیدا ہوتی ہے، مگر یقین نہیں آتا کہ کراچی کو امن و سلامتی کا گہوارہ بھی بنایا جا سکے گا۔
میرے نزدیک سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ ہم کراچی کی اس ا پیکس کمیٹی سے بہتری کی اُمید باندھے بیٹھے ہیں، جس کے سربراہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ہیں۔ عزم و حوصلے سے محروم شخص اتنے بڑے ٹاسک پر کیسے پورا اتر سکتا ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کو کراچی کے حالیہ اجلاس کے دوران کئی بار شاہ جی کو جھنجھوڑ کر جگانا پڑا۔وزیراعظم نوازشریف کے بائیں طرف آصف علی زرداری بیٹھے تھے، جن سے پہلا سوال تو یہی بنتا ہے کہ انہوں نے ایک پیرانہ سالی کے شکار شخص کو پچھلے سات برسوں سے سندھ کا وزیراعلیٰ کیوں بنا رکھا ہے۔ 
کراچی جیسے شہر کے لئے بہت بڑے اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا سید قائم علی شاہ کے اعصاب اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ویسے بھی اتنے بزرگ سیاستدان کے لئے یہ کہاں ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمام رابطے ختم کر دے، وضع داری کو پس پشت ڈالے، غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے اور سخت فیصلے کرے۔ سو مجھے تو بہت کم امید نظر آتی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں جو ایک اہم اجلاس ہوا، وہ نتائج دے سکے۔بات اسی حالت میں چلتی رہے گی، تاوقتیکہ کسی دوسرے اجلاس کی ضرورت پیش نہ آ جائے۔
کراچی کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم محمد نوازشریف نے عمومی باتیں کیں، لیکن جنرل راحیل شریف نے حقیقی اقدامات کی نشاندہی کر دی۔ یہ بات تو آصف علی زرداری بھی کہتے ہیں کہ کراچی میں امن قائم ہونا چاہیے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ موجودہ اندازِ حکومت کے ہوتے ہوئے امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ 
وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھی یہی کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیرہے، ہمارے پاس دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اس کے لئے جو کڑے اقدامات اٹھائے جانے ضروری ہیں، وہ کون اور کب اٹھائے گا؟ راوی بتاتے ہیں کہ اجلاس میں جب سندھ پولیس کا ذکر آیا تو اس میں سیاسی مداخلت اور میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کرنے کی بات بھی ہوئی۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے یہ کہہ کر معاملہ ہی ختم کر دیا کہ سندھ پولیس میں بھرتیاں میرٹ پر ہو رہی ہیں۔ جب سید قائم علی شاہ کے مرشداعلیٰ یہ بیان جاری کردیں تو پھر شاہ جی سے یہ توقع کیونکر رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے مطابق میرٹ پر تقرریوں اور بھرتیوں کو یقینی بنائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اپنے اختیار کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔
 مفادات کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ہے،جس نے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اگر قیادت فیصلہ کرلے کہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کراچی میں امن قائم نہ ہو سکے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی میں تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ایسا امن چاہتے ہیں، جو صرف ان کے مفاد میں ہو، جبکہ اس سے انتشار تو پیدا ہوسکتا ہے، امن قائم نہیں ہو سکتا۔
اصل نکتہ وہ ہے، جسے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے کراچی میں امن کے لئے ایک شفاف آپریشن کو ناگزیر قرار دیا ہے، جو فرقے، نسل، زبان، سیاسی وابستگی اور علاقائی تعصب سے بالاتر ہو کر کیا جائے، سیاسی مصلحتوں نے ہی ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔ کراچی میں بدامنی کا باعث بننے والے آسمانی فرشتے نہیں، زمینی دہشت گرد ہیں، جن کا کسی نہ کسی جماعت، گروہ یا مسلک سے تعلق ہے۔
 ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے جس مجرم کو پکڑتے ہیں، اسے کوئی نہ کوئی گروہ یا سیاسی جماعت اپنا کارندہ قرار دے کر معصوم ثابت کرنے پر تُل جاتی ہے۔ سیدھے ہاتھوں گھی نہ نکلے تو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، سیاسی کمزوریوں کا شکار حکومت گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور دہشت گرد و ٹارگٹ کلرز دندناتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال سے کراچی کو مزید تباہ تو کیا جا سکتا ہے، اس کا کھویا ہوا امن واپس نہیں لایا جا سکتا۔ ایسے میں جنرل راحیل شریف نے بڑی جرات مندی اور وضاحت سے کراچی کا حل بتا دیا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے ایک ہی صفحہ پر ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ سیاسی قیادت عزم کا اظہار کرتی ہے تو عسکری قیادت اس کے عمل کی راہ دکھاتی ہے۔
کراچی میں ایک شفاف اور غیر جانبدار آپریشن کی اشد ضرورت ہے۔ ہر سیاسی جماعت کو اس کی حمایت کرنی چاہیے،اب وہ لیت و لعل نہیں چلے گی، جسے معاملات کو جوں کا توں رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ہم شمالی و جنوبی وزیرستان میں جتنے چاہیں آپریشن کرلیں، جب تک کراچی کو امن کا گہوارہ نہیں بناتے، قومی سلامتی کومستحکم نہیں کر سکتے۔ دنیا میں یہ کہاں ہوتا ہے کہ کسی ملک کا سب سے بڑا شہر عملاً حکومت کے کنٹرول سے نکل چکا ہو اور طاقتور گروہ اسے چلا رہے ہوں۔ 
سندھ حکومت کی اس حوالے سے ناکامی ایک مسلمہ امر ہے۔ اس سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا۔ شہر میں نظم و ضبط کا قیام پولیس کا کام ہے، لیکن حالت یہ ہے کہ اگر آج رینجرز کو کراچی سے نکال لیا جائے تو کراچی میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگے۔ حیرت ہوتی ہے کہ کراچی کے چند بااثر طبقے رینجرز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ آرمی کے نظم و ضبط میں بندھی رینجرز سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر امن و امان کے لئے کام کررہی ہے۔
 آرمی چیف نے بجا طور پر کراچی میں رینجرز کی کارکردگی کو سراہا ہے اور اسے مزید شدت کے ساتھ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرنے کی تلقین کی ہے۔
جب سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی ہے اور فیکٹری میں 260کے قریب مزدوروں کو زندہ جلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پورے ملک کی نظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں کہ حکومت مظلوموں کو کیسے انصاف فراہم کرتی ہے؟ وزیراعظم محمد نوازشریف نے بجا طور پر اسے سب سے سنگین معاملہ قرار دیا ہے اور ہر قیمت پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کی باتوں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ شاید اس کیس کو ملٹری کورٹ میں بھیج دیا جائے۔ ایسا ہونا اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ اس سے بڑی دہشت گردی اور کوئی ہو نہیں سکتی۔
 اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے یہ اہم اعلان بھی کیا کہ دہشت گردی کے دیگر مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں گے۔ اس سے ان لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، جو یہ کہتے تھے کہ صرف مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لا کر امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ خصوصاً کراچی میں دہشت گردی کے مقدمات اگر فوجی عدالتوں میں بھیجے جانے لگے اور سرعت کے ساتھ سزائیں دی گئیں تو یقیناًاس کے شہر کے امن پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جیسا کہ مَیں نے آغاز میں کہا ہے، کراچی کے حوالے سے اٹھائے گئے ہر حکومتی اقدام کی قوم حمایت کرتی ہے، اس لئے حکومت کو اب کراچی کا امن واپس لانے کے لئے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دینا چاہیے
نسیم شاہد