میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے

ماضی میں کھو جانے یا پرانی یادوں کو تازہ کرنے سے متعلق انگریزی میں ’’ Nostalgia ‘ ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ گزرے ہوئے اچھے وقت کے ساتھ جذباتی یا نفسیاتی رشتہ ہوتا ہے ۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب بھی ماضی کو شاندار اور مثالی وقت ثابت کرنے کے لئے بات کی جاتی تو کہا جاتا ہے کہ یہ ’’ ناسٹلجیا ‘‘ ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ ماضی کی ہر بات کا تذکرہ ’’ ناسٹلجیا‘‘ کا نتیجہ ہو ۔ ماضی سے متعلق کچھ باتیں مستقبل کی نسلیں بھی درست تسلیم کرتی ہیں ۔

آج میں ماضی کے کراچی کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اپنے بچپن میں ، اپنی جوانی میں ، اپنی سیاسی جدوجہد کے دور میں اور اپنی سوچ کی پختگی میں وہ کراچی دیکھا ہے ۔ یہ ناسٹلجیا نہیں ہے ۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ کراچی کا مستقبل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے کراچی کے ماضی میں جانا پڑے گا۔ ہم نے کراچی کا اصل جوہر دیکھا ہے۔ کراچی کی شان (GLORY) کا مشاہدہ کیا ہے۔ کراچی اپنے اصلی جوہر کی طرف واپس جا سکتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی کراچی کا شمار دنیا کے جدید اور خوبصورت شہروں میں  ہوتا تھا۔ کراچی اس وقت سے ہی کاسموپولیٹن شہر تھا جہاں مختلف مذاہب ، قوموں، علاقوں، نسلی اور لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ تنوع اور روا دوری کراچی کی بنیادی خصوصیات تھیں۔

قیامِ پاکستان کے چند سالوں بعد یہ شہر اس خطے کا تجارتی مرکز بن گیا اور اس کا شمار جنوبی ایشیا کے امیر ترین شہروں میں ہونے لگا۔ اس شہر نے سب کو اپنے دامن میں سمویا۔ اس شہر نے کسی سے اس کی شناخت نہیں پوچھی کہ اس کا تعلق کس مذہب، ملک، قوم، قومیت، علاقے یا زبان سے ہے۔ کراچی نے سب کی شناخت کو اپنی رنگا رنگ اور متنوع شناخت کا حصہ بنایا اور ہر نئے رنگ کے ساتھ اپنے آپ کو نکھارا۔ ہم نے وہ کراچی دیکھا جس کی سڑکوں کو روزانہ دھویا جاتا تھا۔ جہاں کی شاہراہوں، مارکیٹوں اور تفریح گاہوں میں غیر ملکی سیاحوں کا رش ہوتا تھا۔ کراچی ایک ایسا شہر تھا جہاں روزانہ سفر کے دوران پاکستان کے ہر علاقے کے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی بلکہ دنیا کے تقریبا ہر ملک کے لوگوں سے ٹاکرا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کراچی کے باسی وسعت قلبی کو اپنی شخصیت کا بنیادی جزو تصور کرتے تھے۔ یہ شہر نہ صرف پاکستان کی رنگا رنگ ثقافتوں کا امتزاج تھا بلکہ گلوبل کلچر کا بھی نمائندہ تھا۔

برداشت اور روا داری کے علاوہ کراچی کی ایک اور امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ یہ شہر اپنے مزاج میں ترقی پسند اور جمہوریت نواز تھا۔ یہ تمام بڑی جمہوری ، ترقی پسند، مظلوم اقوام اور طبقات اور محنت کشوں کی تحریکوں کا مرکز تھا۔ یہاں سب سے زیادہ نظریاتی اور تربیت یافتہ سیاسی کیڈر موجود تھا۔ یہاں سیاست اور ادب کے حوالے سے مباحثے جاری رہتے تھے۔ کراچی کے کافی اور ٹی ہاوسز میں اپنے عہد کے فلسفیانہ مسائل زیر ِبحث رہتے تھے۔ صدر اور ریگل کے کافی ہاوسز میں ان لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی جنہیں آج بڑے لوگوں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سیاسی کارکنوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں، گلو کاروں اور فن کاروں کے پنپنے کے لئےاس شہر کی فضا بہت ساز گار تھی۔

یہ شہر سید سبطِ حسن، شوکت صدیقی، انتظار حسین، ابنِ صفی، جوش ملیح آبادی، مصطفی زیدی ، زیڈ اے بخاری، رئیس امروہی، جون ایلیا، اسلم فرخی، دلاور نگار، مولوی عبد الحق، ابنِ انشا اور بیشمار لوگوں کا مسکن ہے۔ یہاں سب سے زیادہ لٹریچر شائع ہوتا تھا۔ یہاں ہم نے گھروں میں محافل ، مشاعرہ اور موسیقی کی روایات دیکھیں ۔ سڑکوں اور پارکوں میں مشاعرے ہوتے دیکھے۔ سب سے زیادہ سنیما ہال کراچی میں تھے۔ تھیٹرز کے حوالے سے بھی یہ شہر اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ ایک اور امتیازی وصف کراچی کا یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ فلاحی اور خیراتی ادارے اور مخیر حضرات ہیں۔ چیریٹی (charity) کے کاموں میں کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں فوقیت رکھتا ہے۔

کراچی میں عظیم عبد الستار ایدھی پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ ایدھی فاونڈیشن قائم کیا۔ اس شہر میں روتھ لیوئس Ruth Lewis، فاطمہ لودھی، حکیم سعید، نفیس صادق جیسے لوگوں نے جنم لیا۔ کراچی کو اس بات پر فخر ہے کہ یہاں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسا فرشتہ انسان رہتا ہے۔ آج بھی سب سے زیادہ چیریٹی اس شہر میں ہوتی ہے۔ اسی شہر میں قائد اعظم محمد علی جناح جیسے سیاستدانوں نے جنم لیا جنہوں نے اس خطے کی تاریخ بدل دی۔ جمشید نسروانجی، ہر چنداری وشن داس، عبدالستار افغانی، بے نظیر بھٹو، سید منور حسن اور کئی بڑے سیاستدانوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ آغا خان سوئم، مولانا تقی عثمانی، علامہ رشید ترابی اور کئی مذہبی رہنما اور اسکالرز کا مسکن کراچی ہے۔ ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی، ڈاکٹرعبد القدیر خان، ڈاکٹر عطا الرحمن، پرویز ہود بھائی اور دیگر سائنسدان اور ماہر ینِ تعلیم کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

فن، ادب، ثقافت، کھیل اور دیگر شعبوں کی کئی اہم شخصیات نے یہاں جنم لیا اور یہیں مدفن ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پورے ملک کو 60 فیصد سے زائد اور سندھ کو 80 فیصد سے زائد ریونیو کراچی دیتا ہے۔ کراچی میں تمام بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ہیڈ آفس ہیں، یہاں کثیر القومی کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔ ملک کی زیادہ تر صنعتیں کراچی میں ہیں۔ بندر گاہ کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے سب سے بڑے ادارے یہاں کام کرتے ہیں۔ نجی شعبے میں سب سے زیادہ روزگار کراچی فراہم کرتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج یہاں ہے۔ کراچی پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے۔

پاکستان کے لئے کراچی رول ماڈل تھا۔ جمہوری اور بنیادی حقوق کی تحریکوں میں کراچی ہراول دستے کا کردار ادا کرتا تھا۔ میں اس شہر سے نکالا بھی گیا اور شہر کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ایک متنوع، ترقی پسند ، خوشحال، پر امن اور روادار معاشرہ کراچی میں تشکیل پذیر ہو چکا تھا اور اس بات کو آگے بڑھاتا تھا لیکن اس عظمت اور شاندار روایت کے حامل کراچی کے خلاف بڑی سازشیں ہوئیں۔ یہ سازش صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے خلاف ہے۔ میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے۔ میرے اندر برنس روڈ کی ثقافت، کھارادر کی روایات، ناظم آباد کی رونقیں نمایاں ہیں۔ تمام تر سازشوں کے باوجود کراچی کا اصل جوہر ختم نہیں کیا جا سکا ۔ کراچی کو اپنے اصل جوہر کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام دیگر شعبوں کے لوگ بھی کر سکتے ہیں لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی۔ کراچی کو اس کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے اور کراچی کے ذریعے پاکستان کا مستقبل تابناک بنایا جا سکتا ہے۔

نفیس صدیقی

رینجرز اختیارات : صدر پاکستان کی توجہ کیلئے

پاکستانی قوم اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی البتہ ہمارے سیاستدان
اور خودغرض اشرافیہ، بیوروکریٹس اس میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ مثلاً پرویزمشرف نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر پوری دنیا کو حیران کردیا ۔ تو امریکہ کے کہنے پر ان کو نظر بند ہی نہیں کیا اُن پر مقدمہ چلانے کی دھمکی دے کر ان سے اپنے مطلب کا بیا ن دلوایا ۔اگر چوہدری شجاعت اس معاملے میں مداخلت نہ کرتے تو وہ حد سے گزر سکتے تھے۔ قوم کا دُکھ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا کہ جب وہ سنتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نظر بند ہیں ۔ اس کے برعکس بھارت نے ایک مسلمان سائنسدان عبدالکلام جنہوں نے بھارت کو ایٹمی طاقت بنایا، کو صدر بنا کر احسان اتار دیا اور دنیا کو باور کرایا کہ بھارت اپنے محسنوں کو نہیں بھولتا ۔

اسی طرح جنرل راحیل شریف سابق چیف آف آرمی اسٹاف نے وہ کارنامے انجام دیئے جس سے پوری دنیا عش عش کر اٹھی۔ امریکہ سمیت روس، خلیجی ممالک بشمول برطانیہ کی حکومتوں نے اُن کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اور انعام میں 39 مسلمان ملکوں کا فوجی سربراہ بنا کر قومی ہیرو کا درجہ دیا ۔ دہشت گردوں کو پاکستان سے نکال باہر کرنے پر پوری قوم اُن کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کراچی میں بھارتی ایجنٹوں، دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز کا صفایا کیا اس لئے کراچی کے عوام اُن کا یہ احسان نہیں بھلا سکے۔ جو 2 دہائی سے اس صنعتی  تجارتی شہر کو یرغمال بنائے ہوئے تھے اور ایک گھنٹے کے نوٹس پر پورے شہر کو مفلوج کر کے بڑے فخر سے دعویدار بنتے تھے ۔

شہر کے سب سے بڑے منشیات اور اسلحہ فروشوں کی جنت لیاری جو رینجرز اور پولیس کے لئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا ایک ایک کرکے تمام مجرموں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا بھی انہی کو جاتا ہے۔ کراچی کے سب سے بڑے اسلحے کے ڈپو لانڈھی، سہراب گوٹھ جہاں افغانیوں نے من مانی کررکھی تھی۔ کراچی کے باشندوں کو اُن سے بھی رینجر ز نے نجات دلوائی۔ اُن کے دور میں سب سے زیادہ کرپٹ سیاستدانوں، بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈالا گیا، کھربوں روپے کے کرپشن کا سراغ لگایا گیا اور سب کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا۔ اُن کے ڈر سے بہت سے بیرون ممالک فرار ہو گئے۔ مگر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اب پھر شہر کراچی میں دھیرے دھیرے اسلحہ دکھا کر موبائل، گاڑیاں اور موڑسائیکلیں چھننا شروع ہو گئی ہیں ۔ بھتے کی پرچیاں دوبارہ ملنے لگی ہیں ۔

کراچی جو پوری ملک کی معیشت کا بوجھ اُٹھائے ہوئے تھا اب دوبارہ تباہی کے راستے پر جا رہا ہے۔ پولیس تو پہلے ہی ناکام تھی ۔ اب ایک نیا مسئلہ سندھ حکومت نے کھڑا کر دیا ہے۔ رینجرز جس نے امن قائم کیا تھا پہلے اُس کے اختیارات محدود کر رکھے تھے۔ اب سرے سے انکار کر دیا اور سرکاری عمارتوں عدلیہ کی عمارتوں، گورنر سندھ، چیف منسٹر سندھ کی رہائش گاہوں کی حفاظت تک محدود کر دیا ہے۔ جس پر رینجرز نے انکار کر کے اپنے آپ کو بیرکس تک محدود رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔عوام اب مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ایک ہفتے قبل گورنر سندھ جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ۔ انہوں نے بلا ضرورت جنرل راحیل شریف صاحب کو نشانہ ہدف بنا کر ایک معمولی جنرل کہا پھر کراچی کے امن کا کریڈٹ سول حکومت کو دینے کی کوشش کی اُس پر ہی بس نہیں کیا یہ کہہ دیا کہ کراچی میں اب امن قائم ہو چکا ہے ۔ لہذا رینجرزکی اب ضرورت باقی نہیں رہی، رینجرز کو واپس بھیج دیا جائے ۔
رینجرزکی کارروائیوں سے پہلے سندھ حکومت کے بعض وزرا ان بھتہ خوروں اغوا کرنے والوں کے سہولت کار تھے ۔ جس سے اُن کا حصہ بند ہو چکا ہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ سندھ میں خصوصاً کراچی میں امن قائم ہو ۔ اور عوام ڈر کر دوبارہ اُن کے اس گھنائونے کاموں میں رکاوٹ نہ بنیں ۔ اور وہ دوبارہ بھتوں ،اغوا کی وارداتیں کر کے عوام کو لوٹیں ۔ پولیس بھی اُن کو کرپٹ چاہئے ۔ اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسران کے خلاف پہلے ہی محاذ بنا چکے ہیں۔ اگر عدلیہ ساتھ نہ دیتی تو وہ بھی فارغ ہو چکے ہوتے ۔ سندھ کابینہ میں ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو کراچی کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکے ۔
جبکہ پورا ملک اس کی اقتصادی ترقی کا محتاج ہے ۔ اگر کراچی کو دوبارہ دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا تو پھر ہمارے صنعتکار ، تاجر برادری ، بڑے بڑے ڈاکٹرز، انجینئرز اور اُن کے خاندان دوبارہ اغواء برائے تاوان کے ڈر سے بیرون ملک جانے پر مجبور ہونگے ۔ کراچی کے عوام یہ جاننا چاہتے ہے کہ جب سندھ انتظامیہ امن وامان قائم کرنے میں 20 سال سے ناکام رہی تو دوبارہ اس شہر کو کیوں رینجرز سے واپس لیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ وزیرداخلہ کیوں امن پسند شہریوں کو جانتے بوجھتے دہشت گردوں کے دوبارہ حوالے کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ عوام سڑکوں پر آ کر رینجرز کے حق میں نعرے لگائیں۔ جو حکومت شہر کی ٹوٹی سڑکیں ، گٹر کے ڈھکن ٹھیک نہیں کر سکتی ۔
پورا شہر کچرا کنڈی بنا ہوا ہے۔ گرمی شروع ہوتے ہی بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ سندھ حکومت الگ ٹیکس وصول کرتی ہے۔ مرکزی حکومت ایک درجن سے زائد ٹیکس اس سے وصول کرتی ہے ۔ اگر وہ عوام کی حفاظت نہیں کر سکتی ۔ صرف رینجرز اور فوج سے دہشت گرد ، ڈاکو، چور اچکے ڈرتے ہیں وہ پولیس سے نہیں ڈرتے، کیونکہ پولیس مک مکا کر کے ان کے حوصلے بڑھا دیتی ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے اسکولوں میں گرنیڈز دوبارہ پھٹیں ؟ مائیں بچوں کو اسکول بھیجنے سے ڈریں۔ میری صدر صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملےمیں مداخلت کر کے رینجرز کو غیر معینہ مدت کے لئے اختیارات دلوائیں اور کراچی شہر کے عوام کی بے چینی ختم کرائیں ۔
خلیل احمد نینی تا ل والا  

کراچی کا کالا پانی

اب جبکہ کراچی کے تمام مشتبہ غدارانِ وطن زندہ باد کے نعرے لگا چکے، کچھ
دل سے، کچھ گن پوائنٹ پر، کچھ بدلتا موسم دیکھ کر، کچھ قید کے ڈر سے، کچھ کیمرے کے خوف سے۔ اب کہ پہلے سے جِلا وطنوں کو دیس سے نکال دیا جا چکا، کراچی والے اہل وطن سے شکوہ کر چکے کہ ہمارا درد کوئی نہیں سمجھتا اور اہل وطن ایک بار پھر طعنہ دے چکے کہ تمہیں اپنے قاتلوں اور بھتہ خوروں سے پیار ہے۔ اب کہ قربانی کے اِس موسم میں ایم کیو ایم سب سے بڑی قربانی دے چکی یعنی کھالوں کے اپنے حق سے دست بردار ہو چکی تو کیا اجازت ہے کہ شہر کراچی کے بارے میں چند ایسی باتوں کا ذکر کیا جائے جن کا ذکر نہ جوائنٹ انوسٹی گیشن کی رپورٹوں میں ملتا ہے نہ کراچی کے موسمی مرثیہ خوانوں کے مرثیوں میں۔

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب نہ رینجرز کا کوئی بہادر افسر دے سکتا ہے نہ اُس افسر سے سہما ہوا کوئی کائیاں پولیس افسر لیکن آئندہ آپ کراچی کے حالات کے بارے میں متفکر ہوں تو مندرجہ بالا حقائق، واقعات اور حادثاتی شواہد کو ذہن میں رکھیے گا۔

1: کراچی دنیا میں پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اِتنے پشتون پشاور یا کابل میں نہیں رہتے جتنے کراچی میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں جہاں جہاں جنگ چھڑی یا اُس پر مسلط کی گئی ، جہاں لوگ بےگھر ہوئے اُن کی اب شہری نسل کراچی میں جوان ہو رہی ہے اور شمال سے ایک نئی نسل کی آمد کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ یقیناً اِن میں سے بہت سی آبادی پاکستان کے دوسرے حصوں کی طرف بھی ہجرت کر گئی ہو گی لیکن زیادہ تر کی منزل کراچی ہی رہی ہے۔

ایک بزرگ پشتون سیاستدان کہا کرتے تھے کہ پاکستان کی یکجہتی کا مطلب یہ ہے کہ پٹھان کا ٹرک پشاور سے چلے اور کراچی تک پہنچے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹرک راستے میں کیوں نہیں رُکتا؟ پنجاب میں فیصل آباد ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ جیسے شہر ہیں جہاں روزگار کے مواقع موجود ہیں فاصلہ بھی کم ہے۔ کراچی والے کہیں گے کہ کراچی کا دِل بڑا ہے لیکن کسی سائنسی ریسرچ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ کراچی اور گوجرانوالہ کے رہنے والوں کے دل کے سائز میں کوئی خاص فرق ہے۔ بات صرف اِتنی ہے کہ کراچی کی معیشت بہت زیادہ بڑی ہے، پوٹینشل اُس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔
ایک خاندان آتا ہے تو اُس کے پیچھے دس خاندان اور آتے ہیں۔ بعض دفعہ اپنا بچا کھچا قبائلی نظام بھی ساتھ لاتے ہیں لیکن کراچی پہنچ کر اگر ہمت کریں اور قسمت ساتھ دے تو قبیلہ چھوڑ کر اپنا قبیلہ بھی بنا لیتے ہیں۔  ٹرک چلانے والا بھی بیٹی کو ڈاکٹر بنا سکتا ہے۔ اپنے آبائی گھر میں سرداری سے محروم ہونے والا بھی رکشہ چلا کر گزارا کر سکتا ہے۔ کراچی اُن اُجڑے ہوئے لوگوں کے لیے ایک نئی زندگی کی اُمید ہے جِن کے گھر تو ہماری ریاست نے تباہ کر دیے لیکن اُن کے لیے کوئی ریفیوجی کیمپ بنانا بھول گئی اور ویسے بھی اگر کراچی موجود ہے تو کِسی کا دماغ خراب ہے کہ حکومت کی خیرات پر کِسی خیمے میں رہے۔
2: کراچی کا دِل بڑا ہونے کی افواہ سرائیکی علاقوں تک بھی پہنچی اور اب محتاط اور غیرمحتاط اندازوں کے مطابق کراچی سرائیکیوں کا بھی سب سے بڑا شہر ہے۔
وہاں اگرچہ بظاہر کوئی جنگ نہیں ہوئی لیکن زراعت کے شعبے میں ایسا زوال آیا ہے کہ ہاری ، دہاڑی دار بلکہ بعض چھوٹے رقبے کے مالک زمیندار بھی اپنے گھروں کو چھوڑ کر کراچی آنے پر مجبور ہوئے۔ چونکہ آبادی کی گِنتی ایک حساس مسئلہ ہے (یعنی ہمیں اِس بابت بھی ڈر لگتا ہے کہ ہماری تعداد کِتنی ہے اور ہم میں سے کون کہاں سے آیا ہے) اِس لیے کوئی وثوق سے نہیں بتا سکتا کہ کراچی میں کتنے پرانے مہاجر ہیں اور کتنے نئے لیکن یہ بات طے ہے کہ اہل لاہور کی میزبانی کے چرچے یا تو پاکستان کے جنگ زدہ علاقوں تک پہنچے نہیں یا مجبور لوگوں کو اُن پر یقین نہیں آیا۔ 
3: باقی ملک کی طرح کراچی میں بھی کئی لوگ ایم کیو ایم کو تمام مسائل کی جڑ اور رینجرز ہر مرض کی دوا لگتے ہیں لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ کراچی میں رینجرز ایم کیو ایم کے قیام کے چار پانچ سال بعد ہی آ گئی تھی۔ چور سپاہی کا یہ کھیل اِتنا پرانا ہو چکا ہے کہ اکثر لوگ کنفیوز ہو جاتے ہیں کہ چور کون ہے اور سپاہی کون۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کراچی شہر کہ اندر اِتنے شہر ہیں کہ اب لوگوں نے اُن کے نئے نام بھی رکھنے چھوڑ دیے ہیں۔
4: میں نے کراچی پریس کلب کے باہر ایک خاندان کو احتجاجی مظاہرہ کرتے دیکھا۔ لڑکی اغوا ہو گئی ہے ، تھانیدار لڑکے سے مِلا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا کہاں سے آئے ہوئے جواب مِلا میانوالی سے۔ میں نے پوچھا اغوا میانوالی میں مظاہرہ کراچی میں۔ آگے سے ڈانٹ پڑی وہ والا میانوالی نہیں کراچی والا میانوالی جِس کا نام ہے نیو میانوالی۔ نیا پاکستان تو جب بنے گا تو بنے گا، کراچی میں بہرحال ایک نیو میانوالی وجود میں آ چکا ہے اور روزگار کی تلاش لوگوں کو پرانے میانوالی سے نئے میانوالی تک لاتی رہے گی۔ 
5: روزگار کی تلاش کراچی کے پرانے باسیوں کو بھی کراچی کے ایسے حصوں میں لے جاتی ہے جو ابھی کراچی بن رہے ہیں جن کے نام ابھی رکھے جا رہے ہیں۔ ایک انجینیئر دوست کو نئی نوکری مِلی۔ شکایت کر رہے تھے کہ سفر بہت کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا کہاں نوکری ملی، بولے کالا پانی۔ میں نے کہا کیا واقعی یہ کِسی جگہ کا نام ہے۔ بولے جی ہاں روز بس پر بیٹھ کر جاتا ہوں کالا پانی بس سٹاپ پر اُترتا ہوں۔ اور اِس جگہ کا نام کالا پانی کیوں ہے؟ اِس لیے کہ یہاں سے بہت دور ہے۔ یوں لگتا ہے کہ باقی پاکستان کی تخیل میں کراچی وہ کالا پانی ہے جہاں سے کوئی اچھی خبر نہیں آتی لیکن جب روٹی روزی کا مسئلہ ہو تو ہم سب اِسی سٹاپ پر آ کر اُترتے ہیں۔
محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ نگار

کراچی کی محرومیوں کا اب کچھ ازالہ بھی

1986ء میں ناظم آباد کراچی میں منی بس سے گر کرہلاک ہونے والی طالبہ بشریٰ
زیدی کے واقعے سے جنم لینے والے فسادات نے شہرکراچی کے کتنے سنہری سال برباد کر دیے۔ اُس واقعے کو لے کر ایک مخصوص قومیت سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلائی گئی اور 14 دسمبر 1986ء کو اورنگی ٹاؤن کی ایک بستی علیگڑھ کالونی میں کئی گھر اور دکانیں جلا دی گئیں اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب قائدِ ایم کیو ایم نے اپنے لوگوں کو وی سی آر بیچنے اور کلاشنکوف خریدنے کا ناقابلِ فہم مشورہ دیا۔ اشتعال انگیزی اور منافرت کا یہ سلسلہ بعد ازاں دیگر قومیتوں کے خلاف بھی آزمایا گیا اور یوں اردو بولنے والوں کو تمام قومیتوں سے لڑا کر اکیلا کر دیا گیا۔

سارے پاکستان کے لوگ یہ سمجھنے پر مجبورہو گئے کہ اردو بولنے والے یہ مہاجر غیر ذمے دار، بد مزاج اور جھگڑالو لوگ ہیں۔ حالانکہ ایم کیو ایم بننے سے پہلے یہی لوگ مکمل امن و آشتی کے ساتھ اِسی شہرکراچی میں مل جل کر رہا کرتے تھے۔ سب باہم مل جل کر بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ پھر یہ کیا ہوا کہ وہی لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو گئے۔ ایم کیو ایم کیوں بنائی گئی۔ اِس کے بنائے جانے کے پسِ پردہ محرکات کیا تھے۔ ویسے تو ہمارے یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم جنرل ضیاء الحق نے کراچی میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کم کرنے کی خاطر بنوائی مگر یہ صرف ایک مفروضہ ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم سے پہلے یہاں مذہبی جماعتوں کو عوام کی پذیرائی حاصل تھی۔ پیپلزپارٹی جن علاقوں میں مقبول اور مضبوط تھی وہاں اُس مقبولیت ایم کیوایم کے بعد بھی جوں کی توں قائم رہی۔ کسی کے ووٹ بینک پر اگر ضرب لگائی گئی تو وہ صرف مذہبی جماعتوں کے بینک پر لگائی گئی۔ خاص کر جماعتِ اسلامی، جمعیتِ علماء ِاسلام اور جمعیتِ علماء پاکستان کو ایم کیو ایم کی وجہ سے بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ جب کہ یہی جماعتیں جنرل ضیاء الحق کی زبردست حامی اور مددگار بھی رہی تھیں۔ جنرل ضیاء اُنہیں پھر بھلا کیونکر نقصان پہنچا سکتے تھے۔ ہاں البتہ اُنہوں نے اپنے دور میں ایک کام ضرور کیا کہ الطاف حسین جو بھٹو دور سے جیل میں قید و بند کی زندگی گزار رہے تھے اُنہیں باعزت طور پر رہاکر دیا۔
دیکھا جائے تو ایم کیو ایم کی داغ بیل 1972ء ہی میں پڑ چکی تھی۔ جب بھٹو صاحب نے سندھی زبان کو سندھ کی قومی زبان کا درجہ دیکر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا تھا۔ اور جس کے نتیجے میں سندھ کے اربن علاقوں میں لسانی فسادات بھڑک اُٹھے تھے۔ پھر 1973ء میں اربن اور رورل کی تفریق ڈال کر کوٹہ سسٹم رائج کر کے اِس نفرت کی خلیج کو اور بھی وسیع کر دیا گیا۔ اردو بولنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اِس کوٹا سسٹم سے حق تلفی ہونے لگی اور اُنہیں اپنے ہی صوبے میں سرکاری نوکریوں سے محروم رکھا جانے لگا۔

یہ کوٹہ سسٹم ویسے تو صرف دس سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا لیکن بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اِس میں مزید توسیع کرنا شروع کر دی جو ابھی تک قائم و دائم ہے۔ کہنے کو یہ کوٹہ سسٹم رورل علاقوں کے پسماندہ لوگوں کی بہتری کے لیے بنایا گیا تھا مگر اِس کوٹہ سسٹم سے فائدہ اُن لوگوں نے اُٹھایا جو رہتے تو کراچی اور حیدرآباد کے پوش علاقوں میں لیکن اُن کا ڈومیسائل اندرونِ سندھ کا تھا۔ پسماندہ علاقے کے نوجوان تو پھر بھی نوکریوں سے محروم ہی رہے۔ آج اِس کوٹہ سسٹم کو رائج ہوئے تقریباً 43 برس ہو چکے ہیں لیکن اب تک کسی نے یہ غیر منصفانہ تقسیم ختم کرنے کی نہ سنجیدہ کوشش کی ہے اور نہ اندرونِ سندھ ترقی و خوشحالی لانے کی تگ و دوکی ہے۔ اِس صوبے کے پسماندہ علاقوں میں آج بھی حالات ویسے ہی ابتر ہیں جیسے 1973ء میں تھے۔

اِن43 سالوں میں زیادہ تر یہاں پر حقِ حکمرانی پاکستان پیپلزپارٹی کو ہی تفویض کیا جاتا رہا ہے، مگر یہاں کے حالات جوں کے توں ہی رہے۔ نہ سڑکوں کی شکل بدلی اور نہ صحت و تعلیم میں کوئی قابلِ قدر قدم اُٹھایا گیا۔ اندرونِ سندھ کے حالات انتہائی ابتر اور ناگفتہ بہ ہیں۔ بنیادی سہولتوں سے محروم یہ علاقے آج ہمارے سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں میں شمارکیے جاتے ہیں۔ سندھ کے بجٹ میں مختص کیے جانے والے اربوں روپے کے تمام ترقیاتی فنڈز نجانے کہاں خرچ ہوتے ہیں کسی کو نہیں معلوم۔ دوسری جانب رورل علاقوں کے لوگوں کے اِس پسماندگی اور احساسِ محرومی کے خاتمے کا علاج کوٹہ سسٹم کے تسلسل میں تلاش کیا جاتا رہا اور یوں یہ دیہی اور شہری علاقوں کی تفریق دائمی شکل اختیار کرتی گئی۔ جس نے کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے نوجوانوں کو ایم کیو ایم کے جانب ڈھکیلنے میں اہم رول ادا کیا۔
اپنے حقوق کے حصول کی خاطر وہ تشدد اور دہشتگردی کا راستہ اختیار کرنے لگے۔ ہزاروں نوجوان باعزت روزگار نہ ملنے کی وجہ سے چوری اور ڈکیتی کی طرف مائل ہو گئے اور یہاں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں یوں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کسی نے اِس مسئلے کی اصل وجہ کی جانب دیکھا ہی نہیں۔ اور سب نے اِسے طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ کراچی شہر مسائل میں گھرتا چلا گیااور آئے دن کی ہڑتالوں اور احتجاجوں کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہوتا چلا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری نے بھی ایک منظم کاروبار کی شکل اخیتار کر لی۔ سندھ کی حکومت نے اِس بھتہ خوری کا سدِباب اور علاج ’’لیاری گینگ‘‘ کی شکل میں تجویز کیا اور اندرونِ خانہ اُس گینگ کی سرپرستی شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے صورتحال اور بھی سنگین ہو گئی اور شہر خانہ جنگی کی طرف بڑھنے لگا۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو لسانی اورعلاقائی بنیاد پر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا جانے لگا اور حکومت تماشہ دیکھتی رہی۔ اِس خوفناک صورتحال نے محب وطن پاکستانیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
2013ء کے انتخابات کے بعد موجودہ نواز شریف حکومت نے کراچی شہر کو ایک بار پھر سے پر امن شہر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں اور رینجرز اور آرمی چیف کی مدد سے ایک ایسا آپریشن شروع کر دیا جس کے نتائج ماضی کی نسبت انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں۔ آج کراچی میں بڑی حد تک امن قائم ہو چکا ہے۔ آئے دن کی ہڑتالوں سے شہرکی جان چھوٹ چکی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور ایم کیو ایم اب اپنے قائد سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے۔ لہذا اب اِس شہر کے لوگوں کے مسائل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہاں سڑکوں اور شاہراہوں کا حال بہت بگڑ چکا ہے۔ ہر طرف غلاظت اور کچرے کے ڈھیر لگے ہیں۔ پانی، سیوریج، نکاسی آب اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی ابتر ہو چکا ہے۔ پانچ چھ سالوں سے کسی نے اِس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ اِسے فوری درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سندھ کے اربن علاقوں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا بھی انتظام کرنا ہو گا۔ اُن کے اندر پیدا ہونے والے احساسِ محرومی کو دورکرنا ہو گا۔ حال ہی میں سند ھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کوٹہ سسٹم کے خاتمے کی تجویز بھی پیش کی جسے لگتا ہے وزیرِ اعلیٰ نے لائقِ اعتناء بھی نہ جانا اور سنی ان سنی کر دی۔ آج اگر کراچی میں رینجرز کی مدد سے امن قائم ہوا ہے تو یہ سندھ حکومت کے لیے بھی راحت کا باعث ہونا چاہیے۔
لہذا اگر ہمارے کسی ادارے کے ذمے دار شخص کی جانب سے کوئی صائب اور اچھی تجویز پیش کی جاتی ہے تو اُسے درخورِ اعتناء گردانتے ہوئے مثبت ردِ عمل کا اظہارکرنا چاہیے۔ کراچی میں دائمی امن کی گارنٹی اُسی وقت دی جا سکتی ہے جب یہاں کے مسائل کے حل کے لیے خلوصِ نیت سے ٹھوس کوششیں کی جائیں۔ آج اگر رینجرز کی مدد سے کچھ دنوں کے لیے امن قائم ہوا ہے تو اِسے مستقل اور دائمی بنانے کے لیے سول حکومت کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔ کراچی شہر کے لوگوں کے احساسِ محرومی کو دور کرنا ہو گا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اِس احساسِ محرومی کو اگر دور نہیں کیا گیا تو پھر یہاں کوئی ایک نئی لسانی و سیاسی جماعت عسکریت پسندی کی جانب مائل ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر منصور نورانی

کراچی : کرنے کے کام

لوگ کہتے ہیں کہ اگست کے مہینے میں کراچی یا سندھ کی صورتحال یکسر تبدیل
ہوگئی ہے لیکن راقم کا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس روز وہ بنیاد رکھ دی گئی ہے کہ جو خدانخواستہ مستقبل میں صرف کراچی یا سندھ کا ہی نہیں بلکہ اس ملک کا نقشہ بھی بدل سکتی ہے اور اگر خدا نہ کرے کبھی کوئی ایسا وقت آتا ہے تو اس کے قصوروار وہ قوتیں اور لوگ بھی ہوں گے جو اس وقت سو فیصد محب وطن کا کردار ادا کر رہے ہیں، چنانچہ میں بحثیت ایک کالم نگار اور شہری اس طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ اب اس شہر کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے ورنہ خدشہ موجود ہے کہ یہی مسائل کسی نئی سیاست کا پیش خیمہ نہ بن جائیں۔

کراچی شہر میں تفریح گاہوں اور پارکس و کھلے میدانوں کی شدید کمی ہے جس کی وجہ ان پر ناجائز تجاوزات اور پلاٹوں کی بندربانٹ ہے۔ حال ہی میں ایک تنظیم کے دفاتر بڑی تعداد میں گرائے جا رہے ہیں، اگر یہ جگہیں پارکس یا میدانوں کے لیے مختص تھیں تو ان پر فوراً پارکس کی سہولیات فراہم کرنی چاہیے، اور اگر کسی دفتر کی قانونی حیثیت تھی تو اس پر معذرت بھی کھلے دل سے کرلینا چاہیے، کیونکہ یہ ایک بڑا حساس مسئلہ ہے۔ واضح رہے کہ کثیر آبادی والے اس شہر میں اب کھلے میدان اور پارکس تقریباً ختم ہی ہوچکے ہیں، جو چند ہیں تو ان میں جھولے وغیرہ لگا کر کمرشل بنادیا گیا ہے۔

جس سے عوام کے تفریح کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ اسکولز اور کالجز میں بھی میدان دستیاب نہیں ہوتے لہٰذا بچوں اور نوجوانوں کی صحت مندانہ سرگرمیاں ختم ہوگئی ہیں اور عموماً یہ نسل کسی ڈبو (کیرم بورڈ) یا اسنوکر اور چائے کے ہوٹلوں پر وقت گزارتی نظر آتی ہے کہ جہاں غلط صحبت اور جرائم کے پنپنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ لائبریریاں تو شہر میں ہے ہی نہیں۔ تعلیمی اداروں اور گھروں میں صاف ستھری فضا میسر نہیں ہوتی، عوام کی اکثریت گرمی اور لوڈشیڈنگ میں گھر کے قریب کسی ایسے پارک کی سہولت بھی نہیں رکھتی جہاں وہ کچھ دیر سکون کا سانس لے سکے۔

دوسرا ایک اہم ترین مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے۔ ٹرانسپورٹ مافیا کے آگے ہمارے حکمران اور ادارے دونوں بے بس ہوجاتے ہیں۔ سرکلر ریلوے منصوبہ بار بار اعلان کے باوجود سرد خانے کی نذر ہے۔ ہم یہ بھول رہے ہیں کہ شہریوں کا یہ اہم ترین مسئلہ ہے اور اس کی وجہ سے شہر میں لسانی فسادات بھی ہوتے رہے ہیں، کیونکہ ایک خاص زبان کے بولنے والے یہ کاروبار کرتے نظر آتے ہیں، دوسری طرف مسافروں کی اکثریت کسی اور زبان سے تعلق رکھتی ہے، چنانچہ مسافروں کی شکایتیں اکثر لسانی فساد کا باعث بنی ہیں۔ ماضی میں مہاجر، پختون فسادات کا آغاز بھی ایک ٹریفک حادثے سے شروع ہوا تھا، جس میں بشریٰ زیدی نامی لڑکی ہلاک ہوئی تھی۔ آج بھی کسی منی بس میں سفر کرکے دیکھ لیں، مسافر اور کنڈیکٹر میں کہیں نہ کہیں تلخ کلامی ہوتی ضرور نظر آئے گی، کیونکہ مسافروں کو ٹرانسپورٹ میں کوئی سہولت میسر نہیں ہے اور وہ صبح و شام جانوروں کی طرح سفر کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مافیا کے جن کو قابو کرنا ایک اہم مسئلہ ہے۔
 جب تک شہریوں کو اس ضمن میں مستقل بنیادوں پر سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، یہ مسئلہ شہر میں لسانی فسادات میں یا نفرتوں میں اضافے کا باعث ہی رہے گا۔
آج کل گجر نالے کے کنارے پر قائم گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، ان میں بھی کچھ شکایات شہریوں کی بجا ہیں لیکن اس سب کا فائدہ اس وقت ہی ہوسکتا ہے کہ جب اعلان کے مطابق یہاں دونوں کناروں پر سڑکیں بنا دی جائیں تاکہ دوبارہ تجاوزات نظر نہ آئیں۔ راقم کی تجویز ہے کہ ان کناروں پر صرف موٹر سائیکلوں کے گزرنے کے لیے سڑکیں بنائی جائیں، ورنہ بڑی گاڑیوں سے یہاں کے رہنے والے شور اور ٹریفک کی آلودگی سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ (اگر صرف سائیکلوں کے لیے ٹریک بنادیا جائے تو بھی بہت اچھا منصوبہ ہوسکتا ہے)۔
پانی اور بجلی کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل ہونے چاہئیں، خاص کر ٹینکر مافیا کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ یہ عجیب شہر ہے کہ یہاں کے باسی صبح فجر سے ہی ٹینکر کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں، یعنی اپنا ہی پانی بجائے گھر کی لائن سے موصول کرنے کے الگ سے پیسہ دے کر گھنٹوں قطار میں لگنے کے بعد پانی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ہم لوگ؟ اسی طرح منتخب بلدیاتی نمایندوں کو کھل کر کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے کیونکہ شہر گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے اور عوام میں یہ تاثر ہے کہ عوامی نمایندوں کو کھل کر کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے۔ یہ تاثر ختم کرنا چاہیے۔
ایک اور اہم مسئلہ سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والوں کا وقت پر
تنخواہیں نہ ملنا ہے، بعض ادارے نصف ماہ گزرنے کے بعد اور بعض تو کئی کئی ماہ بعد تنخواہ دیتے ہیں، جس میں صرف پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین ہی نہیں، تعلیمی اداروں کے اساتذہ بھی شامل ہیں۔ یہ بھی تاثر ہے کہ ایک تنظیم کے دور میں تعلیمی اداروں اور بلدیاتی اداروں میں بھرتی کیے گئے ملازمین کو خاص طور پر نشانہ بنایہ جارہا ہے اور یا تو ان کی ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں یا تنخواہیں وقت پر نہیں دی جارہی ہیں۔ گھوسٹ یا ڈبل ملازمت کرنے والوں کے خلاف تو ضرور کارروائی ہونی چاہیے لیکن باقی عام لوگوں کے ساتھ یہ رویہ نہ صرف غلط ہے بلکہ اس کے بہت برے نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔
اس پر خاص نظرثانی کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف جامعہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے کے پروفیسروں اور ڈاکٹروں کو بھی اپنی تنخواہوں اور جائز مراعات کے لیے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا پڑرہا ہے۔ حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ وہ سندھ کی تمام جامعات کو ایک ہی جیسی گرانٹ دے رہے ہیں جب کہ ان کی ضروریات مختلف ہیں، مثلاً جامعہ سندھ مدرسۃ الاسلام کو جتنی گرانٹ دی جاتی ہے اتنی ہی ملک کی سب سے بڑی جامعہ، جامعہ کراچی کو بھی دی جاتی ہے، باوجود اس حقیقت کے کہ جامعہ سندھ مدرسہ میں چند ایک ہزار طلبا ہیں اور جامعہ کراچی سے منسلک ریگولر اور پرائیوٹ طلبا کی تعداد لگ بھگ پچاس ہزار پہنچ گئی ہے۔ وفاقی اور خاص کر سندھ حکومت کا جامعہ کراچی سے یہ ناروا سلوک بھی سندھ میں لسانی سیاست کرنے والوں کو ایک اچھی فضا فراہم کرتا ہے۔
حال ہی میں ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری اجلاس میں رینجرز کی جانب سے سندھ میں کوٹہ سسٹم ختم کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ سندھ میں لسانی سطح پر سیاست کے مواقعوں کو کم سے کم کیا جائے۔ کوٹہ سسٹم کی طرح حیدرآباد سندھ میں ایک عدد جامعہ کا قیام بھی حیدرآباد کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ ایم کیو ایم کوٹہ سسٹم کی طرح یہ مسئلہ بھی حل کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اگر رینجرز کوٹہ سسٹم پر بات کرکے سندھ کے شہری علاقوں میں یہ تاثر دینا چاہ رہی ہے کہ وہ سب کو ایک نظر سے دیکھتی ہے یا وہ لسانی سیاست کے مواقعے کم کرنا چاہتی ہے تو ان کے اس تاثر کو یہ مسئلہ بھی بہتر کرسکتا ہے۔ ایک سیاست دان کا بیان ہے کہ اب اردو بولنے والوں کو قومی سطح کی جماعتوں میں بھی شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔ یہ ایک اچھا مشورہ ہے لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہے کہ جب وہ باآواز بلند یہ کہیں کہ ہم مہاجروں کے مسائل حل کروائیں گے۔
تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قومی جماعتیں لفظ اردو بولنے والے تو استعمال کرتی ہیں مگر لفظ مہاجر زبان سے ادا کرنے کو تیار نہیں، جب کہ اردو بولنے والوں کی اکثریت اپنے لیے لفظ مہاجر کو مقدس اور صحیح شناخت تصور کرتی ہے۔ ضمنی انتخابات میں بھی جو رہنما مہاجروں سے ووٹ مانگنے آئے انھوں نے ایک سانس میں حدیث سنائی کہ مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں سے توبہ کرکے ہجرت کرلے، اور دوسری سانس میں کہا اردو بولنے والے ہمیں ووٹ دیں۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے کہ جس کے وجود سے ہی آپ انکار کردیں، وہ بھلا آپ کو اپنا ہمدرد کیوں جانے گا؟ آئیے ٹھنڈے دل سے غور کریں۔
ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

کراچی آپریشن، جرائم میں اضافہ

کراچی میں تین سال سے آپریشن جاری ہے۔ بڑے جرائم میں کمی ہوئی، مگر
اسٹریٹ کرائم کی شرح بڑھی۔ سی پی ایل سی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے تعاون سے جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ سی پی ایل سی کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 17 ہزار سے زیادہ موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں یا چوری ہوگئیں۔ اس طرح 21 ہزار سے زیادہ موبائل چھین لیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق موبائل سے محروم ہونے والے افراد میں سے صرف 30 فیصد نے تھانوں میں جاکر ایف آئی آر درج کرائی، جب کہ 70 فیصد اپنے موبائل چھیننے کو قسمت کا حال سمجھ کر خاموش ہوگئے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال 21 ہزار 1 سو 95 موبائل چھینے گئے تھے، جب کہ گزشتہ سے پیوستہ سال 18 ہزار 756 موبائل چھیننے کی رپورٹیں درج کرائی گئیں تھیں۔

اس طرح مختلف نوعیت کی چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں، بینک لوٹنے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔ جب کہ اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں کمی ہوئی۔ اس کے ساتھ ہجوم کا ملزموں کو سزا دینے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ مہینے اورنگی ٹاؤن اور نیو کراچی میں دو ملزموں کو موقع واردات پر پکڑ کر بری طرح تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ ملزمان ہلاک ہوگئے۔ بعض واقعات میں ہجوم نے مجرموں کو پٹرول چھڑک کر زندہ جلادیا۔ ایک شہری نے اپنے لائسنس والی پستول سے فائرنگ کرکے دو ملزمان کو ہلاک کیا، جو شہریوں کو لوٹنے کی کوشش کررہے تھے۔ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ نے ایک تقریب میں اس شہری کی بہادری کو سراہا اور اسے نقد انعام اور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آئی جی نے اس تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام اسی جذبے کے تحت ملزموں کے خلاف مدافعت کریں گے تو جرائم کی شرح کم ہوجائے گی۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس کی آبادی دو کروڑ کے ہندسے کے قریب ہے یا اس سے تجاوز کرچکی ہے۔

اس سوال کا جواب ممکنہ طور پر ہونے والی مردم شماری سے ہی ملے گا۔ مگر آرگنائزیشن اور شماریات کے ماہر اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی کی آبادی دو کروڑ کے قریب ہے۔ مگر شہر کے انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے اور پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا معاملہ ریاست کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ کراچی اس صدی کے آغاز سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مبتلا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں ایک زمانے میں طالبان کا قبضہ تھا، ٹھٹھہ ضلع کی حدود ختم ہو کر گھکھر پھاٹک سے بلوچستان کے علاقے حب تک کی پٹی پر طالبان قابض ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب افغانستان میں اتحادی فوجوں نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی کی تو یہ لوگ پہلے وزیرستان، بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہوئے، پھر ان علاقوں میں فوجی آپریشن تیز ہونے کے بعد ان انتہاپسندوں کو کراچی کے مضافاتی علاقوں میں آباد کیا گیا۔

اس پٹی میں قائم بستیوں میں عرصہ دراز تک طالبان کی غیر اعلانیہ حکومت قائم رہی، اس علاقے میں اسکولوں کو تباہ کیا گیا، مزاروں پر حملے ہوئے، سماجی اور سیاسی کارکن اور اساتذہ قتل ہوئے، ٹی وی کیبل پر پابندی لگی، جرگوں نے فیصلے دینے شروع کردیے۔ یہاں سے اسلحہ کراچی میں آنے لگا۔ کراچی میں تین سال قبل شروع ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں بہت سے انتہاپسند مارے گئے، جس کے نتیجے میں شہر میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں میں کمی آئی، خاص طور پر محرم کے مہینے سکون سے گزرے۔ اس علاقے میں آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی حکومت اب نظر نہیں آتی، مگر محسوس کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ اب بھی بہت مضبوط ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کراچی میں صرف طالبان ہی نہیں بلکہ کئی سیاسی گروہ اور بااثر مافیا اسلحہ کی فراہمی کے کاروبار میں ملوث ہے۔ اس کاروبار میں بڑے افسروں، سرداروں، وڈیروں اور بڑے سرمایہ داروں کے نام آتے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ ماہ امجد صابری کے قتل میں نائن ایم ایم کا پستول استعمال ہوا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نائن ایم ایم پستول سے کراچی میں بہت سے اہم قتل ہوئے۔ اس پستول کی قیمت پانچ ہزار سے شروع ہوکر لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ نائن ایم ایم کی پستول درہ آدم خیل میں بھی تیار ہوتی ہے اور مختلف ممالک سے اسمگل ہوکر بھی آتی ہے۔
کرمنالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں جرائم کے خاتمے میں پولیس کا ادارہ ہی بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور پولیس کی نگرانی منتخب نمایندے کرتے ہیں، مگر کراچی پولیس کا ڈھانچہ انتہائی پسماندہ ہے۔ ماہرین اس کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا محکمہ میرٹ کے تصور سے محروم ہے، اس محکمے میں تقرریاں اور تبادلے سفارش یا پیسے کی بنیاد پر ہوتی ہیں، بعض تھانوں کی نیلامی کا ذکر بار بار کیا جاتا ہے۔ کراچی پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو رائج کرنے کے لیے متعدد پروجیکٹ پر کام ہوا ہے، تھانوں میں کمپیوٹر فراہم کیے گئے ہیں، ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کا بھی ذکر ہوتا ہے، مگر پولیس کا محکمہ پنجاب کی طرح ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کی زیادہ پبلسٹی نہیں کرتا، اگر ای میل پر ایف آئی آر درج کرانے کا طریقہ عام ہوجائے تو اعلیٰ حکام اپنے عملے کی نگرانی زیادہ بہتر انداز سے کرسکتے ہیں۔
پھر اہم وارداتوں کے بعد علاقے کو گھیر کر جیوفینسگ ٹیکنالوجی کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ اس طریقے کے تحت جس مقام پر کوئی واردات ہوتی ہے اس کو بند کرکے وہاں کی فضا میں موجود الیکٹرانک لہروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، یوں موبائل فون کے نمبروں کا پتہ چلتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ طریقہ کار بہت زیادہ موثر ہے، مگر کراچی میں یہ طریقہ کار زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے لائنز ایریا میں پارکنگ پلازہ کے قریب ایک فوجی جیپ پر حملے اور دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد اس ٹیکنالوجی کا میڈیا پر خوب ذکر ہوا تھا، اس طرح امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس کی صاحبزادے کے اغوا کے وقت بھی یہ موضوع میڈیا کی زینت بنا تھا، مگر ان معاملات میں کراچی پولیس مکمل طور پر ناکام ہوئی۔ بعض اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئیں کہ کراچی پولیس کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی  ایجنسیوں کے پاس ہے۔ پولیس اور ان ایجنسیوں کے درمیان اعتماد کا بحران ہے، جس کا فائدہ ملزموں کو ہورہا ہے۔
پولیس افسران اور جوانوں کی تربیت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ کراچی میں سرگرم ملزموں کے گروہ اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں، ان میں سے کچھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں نے ان کی تربیت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں پولیس والوں کی ہلاکت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں پولیس کے جوانوں اور افسروں کی خصوصی تربیت کی ضرورت ہے۔ پولیس کے پاس ڈی این اے ٹیسٹ اور دوسرے مواد کے تجزیے کے لیے جدید لیبارٹری بھی موجود نہیں ہے۔ آئی جی نے بہادر شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملزموں کو پکڑنے میں فعال کردار ادا کریں۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ شہری پولیس سے مکمل طور پر تعاون کریں مگر اس مقصد کے لیے گواہوں کے تحفظ کا قانون جامع ہونا چاہیے۔
اس قانون میں گواہوں کو معاوضے، ان کے اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کے لیے بیمہ کرانے کی شرط شامل ہونی چاہیے۔ مگر ہجوم کا ملزموں کو سزا دینے کا طریقہ کار بہت خطرناک ہے۔ ہجوم کو سزا دینے کے عمل کی حوصلہ افزائی سے عام آدمی کا پولیس پر سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ ہجوم کی سزا میں سچائی کا معاملہ مشکوک ہوتا ہے۔ ہجوم کی سزا سے انصاف پامال ہوتا ہے اور قانون کی حکمرانی ختم ہوتی ہے۔ آئی جی کو اپنے اس بیان کی وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ شہریوں سے پولیس سے تعاون کی اپیل کررہے ہیں یا انھیں ملزموں کو سزا دینے کی تلقین کررہے ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ پولیس کے محکمے کو زیادہ فعال کیا جائے گا۔ یہ بات بالکل درست ہے، حکومت کو پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اس کے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ آئی جی سندھ کی یہ بات بھی درست ہے کہ پولیس آرڈر 2002 سب سے بہتر قانون ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو پس پشت ڈال کر عام آدمی کا نقصان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو دوبارہ اس قانون کا جائزہ لینا چاہیے اور اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔ کراچی کو اسٹریٹ کرائم سے پاک کرنا بھی حکومت کا فرض ہے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان