کراچی لینڈ مافیا کے اثر میں ہے، بلوم برگ رپورٹ

عالمی مالیاتی ویب سائٹ بلوم برگ کا کہنا ہے کہ کراچی میں زمینوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، مگر ساتھ ہی یہ شہر لینڈ مافیا کے اثر میں بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں بہت سی زمین غیر قانونی طور پر ریگولرائز کی گئی ہے۔ زمینوں کی قیمتوں میں اضافے سے کئی ادارے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آتے ہیں جن میں سے ایک کے نتیجے میں اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کو بھی قتل کیا گیا جو غریبوں کو ان کی زمینوں کے حقوق دلانے کے لیے سرگرم تھیں۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق کراچی میں زمین کی قیمتیں سن 2016 کے بعد سے اب تک 23 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ قومی سطح پر زمین کی قیمتوں میں اضافہ 6 اعشاریہ 3 فیصد ہوا ہے۔

Advertisements

میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے

ماضی میں کھو جانے یا پرانی یادوں کو تازہ کرنے سے متعلق انگریزی میں ’’ Nostalgia ‘ ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ گزرے ہوئے اچھے وقت کے ساتھ جذباتی یا نفسیاتی رشتہ ہوتا ہے ۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب بھی ماضی کو شاندار اور مثالی وقت ثابت کرنے کے لئے بات کی جاتی تو کہا جاتا ہے کہ یہ ’’ ناسٹلجیا ‘‘ ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ ماضی کی ہر بات کا تذکرہ ’’ ناسٹلجیا‘‘ کا نتیجہ ہو ۔ ماضی سے متعلق کچھ باتیں مستقبل کی نسلیں بھی درست تسلیم کرتی ہیں ۔

آج میں ماضی کے کراچی کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اپنے بچپن میں ، اپنی جوانی میں ، اپنی سیاسی جدوجہد کے دور میں اور اپنی سوچ کی پختگی میں وہ کراچی دیکھا ہے ۔ یہ ناسٹلجیا نہیں ہے ۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ کراچی کا مستقبل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے کراچی کے ماضی میں جانا پڑے گا۔ ہم نے کراچی کا اصل جوہر دیکھا ہے۔ کراچی کی شان (GLORY) کا مشاہدہ کیا ہے۔ کراچی اپنے اصلی جوہر کی طرف واپس جا سکتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی کراچی کا شمار دنیا کے جدید اور خوبصورت شہروں میں  ہوتا تھا۔ کراچی اس وقت سے ہی کاسموپولیٹن شہر تھا جہاں مختلف مذاہب ، قوموں، علاقوں، نسلی اور لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ تنوع اور روا دوری کراچی کی بنیادی خصوصیات تھیں۔

قیامِ پاکستان کے چند سالوں بعد یہ شہر اس خطے کا تجارتی مرکز بن گیا اور اس کا شمار جنوبی ایشیا کے امیر ترین شہروں میں ہونے لگا۔ اس شہر نے سب کو اپنے دامن میں سمویا۔ اس شہر نے کسی سے اس کی شناخت نہیں پوچھی کہ اس کا تعلق کس مذہب، ملک، قوم، قومیت، علاقے یا زبان سے ہے۔ کراچی نے سب کی شناخت کو اپنی رنگا رنگ اور متنوع شناخت کا حصہ بنایا اور ہر نئے رنگ کے ساتھ اپنے آپ کو نکھارا۔ ہم نے وہ کراچی دیکھا جس کی سڑکوں کو روزانہ دھویا جاتا تھا۔ جہاں کی شاہراہوں، مارکیٹوں اور تفریح گاہوں میں غیر ملکی سیاحوں کا رش ہوتا تھا۔ کراچی ایک ایسا شہر تھا جہاں روزانہ سفر کے دوران پاکستان کے ہر علاقے کے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی بلکہ دنیا کے تقریبا ہر ملک کے لوگوں سے ٹاکرا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کراچی کے باسی وسعت قلبی کو اپنی شخصیت کا بنیادی جزو تصور کرتے تھے۔ یہ شہر نہ صرف پاکستان کی رنگا رنگ ثقافتوں کا امتزاج تھا بلکہ گلوبل کلچر کا بھی نمائندہ تھا۔

برداشت اور روا داری کے علاوہ کراچی کی ایک اور امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ یہ شہر اپنے مزاج میں ترقی پسند اور جمہوریت نواز تھا۔ یہ تمام بڑی جمہوری ، ترقی پسند، مظلوم اقوام اور طبقات اور محنت کشوں کی تحریکوں کا مرکز تھا۔ یہاں سب سے زیادہ نظریاتی اور تربیت یافتہ سیاسی کیڈر موجود تھا۔ یہاں سیاست اور ادب کے حوالے سے مباحثے جاری رہتے تھے۔ کراچی کے کافی اور ٹی ہاوسز میں اپنے عہد کے فلسفیانہ مسائل زیر ِبحث رہتے تھے۔ صدر اور ریگل کے کافی ہاوسز میں ان لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی جنہیں آج بڑے لوگوں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سیاسی کارکنوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں، گلو کاروں اور فن کاروں کے پنپنے کے لئےاس شہر کی فضا بہت ساز گار تھی۔

یہ شہر سید سبطِ حسن، شوکت صدیقی، انتظار حسین، ابنِ صفی، جوش ملیح آبادی، مصطفی زیدی ، زیڈ اے بخاری، رئیس امروہی، جون ایلیا، اسلم فرخی، دلاور نگار، مولوی عبد الحق، ابنِ انشا اور بیشمار لوگوں کا مسکن ہے۔ یہاں سب سے زیادہ لٹریچر شائع ہوتا تھا۔ یہاں ہم نے گھروں میں محافل ، مشاعرہ اور موسیقی کی روایات دیکھیں ۔ سڑکوں اور پارکوں میں مشاعرے ہوتے دیکھے۔ سب سے زیادہ سنیما ہال کراچی میں تھے۔ تھیٹرز کے حوالے سے بھی یہ شہر اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ ایک اور امتیازی وصف کراچی کا یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ فلاحی اور خیراتی ادارے اور مخیر حضرات ہیں۔ چیریٹی (charity) کے کاموں میں کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں فوقیت رکھتا ہے۔

کراچی میں عظیم عبد الستار ایدھی پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ ایدھی فاونڈیشن قائم کیا۔ اس شہر میں روتھ لیوئس Ruth Lewis، فاطمہ لودھی، حکیم سعید، نفیس صادق جیسے لوگوں نے جنم لیا۔ کراچی کو اس بات پر فخر ہے کہ یہاں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسا فرشتہ انسان رہتا ہے۔ آج بھی سب سے زیادہ چیریٹی اس شہر میں ہوتی ہے۔ اسی شہر میں قائد اعظم محمد علی جناح جیسے سیاستدانوں نے جنم لیا جنہوں نے اس خطے کی تاریخ بدل دی۔ جمشید نسروانجی، ہر چنداری وشن داس، عبدالستار افغانی، بے نظیر بھٹو، سید منور حسن اور کئی بڑے سیاستدانوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ آغا خان سوئم، مولانا تقی عثمانی، علامہ رشید ترابی اور کئی مذہبی رہنما اور اسکالرز کا مسکن کراچی ہے۔ ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی، ڈاکٹرعبد القدیر خان، ڈاکٹر عطا الرحمن، پرویز ہود بھائی اور دیگر سائنسدان اور ماہر ینِ تعلیم کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

فن، ادب، ثقافت، کھیل اور دیگر شعبوں کی کئی اہم شخصیات نے یہاں جنم لیا اور یہیں مدفن ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پورے ملک کو 60 فیصد سے زائد اور سندھ کو 80 فیصد سے زائد ریونیو کراچی دیتا ہے۔ کراچی میں تمام بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ہیڈ آفس ہیں، یہاں کثیر القومی کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔ ملک کی زیادہ تر صنعتیں کراچی میں ہیں۔ بندر گاہ کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے سب سے بڑے ادارے یہاں کام کرتے ہیں۔ نجی شعبے میں سب سے زیادہ روزگار کراچی فراہم کرتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج یہاں ہے۔ کراچی پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے۔

پاکستان کے لئے کراچی رول ماڈل تھا۔ جمہوری اور بنیادی حقوق کی تحریکوں میں کراچی ہراول دستے کا کردار ادا کرتا تھا۔ میں اس شہر سے نکالا بھی گیا اور شہر کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ایک متنوع، ترقی پسند ، خوشحال، پر امن اور روادار معاشرہ کراچی میں تشکیل پذیر ہو چکا تھا اور اس بات کو آگے بڑھاتا تھا لیکن اس عظمت اور شاندار روایت کے حامل کراچی کے خلاف بڑی سازشیں ہوئیں۔ یہ سازش صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے خلاف ہے۔ میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے۔ میرے اندر برنس روڈ کی ثقافت، کھارادر کی روایات، ناظم آباد کی رونقیں نمایاں ہیں۔ تمام تر سازشوں کے باوجود کراچی کا اصل جوہر ختم نہیں کیا جا سکا ۔ کراچی کو اپنے اصل جوہر کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام دیگر شعبوں کے لوگ بھی کر سکتے ہیں لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی۔ کراچی کو اس کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے اور کراچی کے ذریعے پاکستان کا مستقبل تابناک بنایا جا سکتا ہے۔

نفیس صدیقی

رینجرز اختیارات : صدر پاکستان کی توجہ کیلئے

پاکستانی قوم اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی البتہ ہمارے سیاستدان
اور خودغرض اشرافیہ، بیوروکریٹس اس میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ مثلاً پرویزمشرف نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر پوری دنیا کو حیران کردیا ۔ تو امریکہ کے کہنے پر ان کو نظر بند ہی نہیں کیا اُن پر مقدمہ چلانے کی دھمکی دے کر ان سے اپنے مطلب کا بیا ن دلوایا ۔اگر چوہدری شجاعت اس معاملے میں مداخلت نہ کرتے تو وہ حد سے گزر سکتے تھے۔ قوم کا دُکھ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا کہ جب وہ سنتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نظر بند ہیں ۔ اس کے برعکس بھارت نے ایک مسلمان سائنسدان عبدالکلام جنہوں نے بھارت کو ایٹمی طاقت بنایا، کو صدر بنا کر احسان اتار دیا اور دنیا کو باور کرایا کہ بھارت اپنے محسنوں کو نہیں بھولتا ۔

اسی طرح جنرل راحیل شریف سابق چیف آف آرمی اسٹاف نے وہ کارنامے انجام دیئے جس سے پوری دنیا عش عش کر اٹھی۔ امریکہ سمیت روس، خلیجی ممالک بشمول برطانیہ کی حکومتوں نے اُن کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اور انعام میں 39 مسلمان ملکوں کا فوجی سربراہ بنا کر قومی ہیرو کا درجہ دیا ۔ دہشت گردوں کو پاکستان سے نکال باہر کرنے پر پوری قوم اُن کو اپنا ہیرو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کراچی میں بھارتی ایجنٹوں، دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز کا صفایا کیا اس لئے کراچی کے عوام اُن کا یہ احسان نہیں بھلا سکے۔ جو 2 دہائی سے اس صنعتی  تجارتی شہر کو یرغمال بنائے ہوئے تھے اور ایک گھنٹے کے نوٹس پر پورے شہر کو مفلوج کر کے بڑے فخر سے دعویدار بنتے تھے ۔

شہر کے سب سے بڑے منشیات اور اسلحہ فروشوں کی جنت لیاری جو رینجرز اور پولیس کے لئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا ایک ایک کرکے تمام مجرموں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا بھی انہی کو جاتا ہے۔ کراچی کے سب سے بڑے اسلحے کے ڈپو لانڈھی، سہراب گوٹھ جہاں افغانیوں نے من مانی کررکھی تھی۔ کراچی کے باشندوں کو اُن سے بھی رینجر ز نے نجات دلوائی۔ اُن کے دور میں سب سے زیادہ کرپٹ سیاستدانوں، بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈالا گیا، کھربوں روپے کے کرپشن کا سراغ لگایا گیا اور سب کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا۔ اُن کے ڈر سے بہت سے بیرون ممالک فرار ہو گئے۔ مگر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اب پھر شہر کراچی میں دھیرے دھیرے اسلحہ دکھا کر موبائل، گاڑیاں اور موڑسائیکلیں چھننا شروع ہو گئی ہیں ۔ بھتے کی پرچیاں دوبارہ ملنے لگی ہیں ۔

کراچی جو پوری ملک کی معیشت کا بوجھ اُٹھائے ہوئے تھا اب دوبارہ تباہی کے راستے پر جا رہا ہے۔ پولیس تو پہلے ہی ناکام تھی ۔ اب ایک نیا مسئلہ سندھ حکومت نے کھڑا کر دیا ہے۔ رینجرز جس نے امن قائم کیا تھا پہلے اُس کے اختیارات محدود کر رکھے تھے۔ اب سرے سے انکار کر دیا اور سرکاری عمارتوں عدلیہ کی عمارتوں، گورنر سندھ، چیف منسٹر سندھ کی رہائش گاہوں کی حفاظت تک محدود کر دیا ہے۔ جس پر رینجرز نے انکار کر کے اپنے آپ کو بیرکس تک محدود رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔عوام اب مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ایک ہفتے قبل گورنر سندھ جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ۔ انہوں نے بلا ضرورت جنرل راحیل شریف صاحب کو نشانہ ہدف بنا کر ایک معمولی جنرل کہا پھر کراچی کے امن کا کریڈٹ سول حکومت کو دینے کی کوشش کی اُس پر ہی بس نہیں کیا یہ کہہ دیا کہ کراچی میں اب امن قائم ہو چکا ہے ۔ لہذا رینجرزکی اب ضرورت باقی نہیں رہی، رینجرز کو واپس بھیج دیا جائے ۔
رینجرزکی کارروائیوں سے پہلے سندھ حکومت کے بعض وزرا ان بھتہ خوروں اغوا کرنے والوں کے سہولت کار تھے ۔ جس سے اُن کا حصہ بند ہو چکا ہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ سندھ میں خصوصاً کراچی میں امن قائم ہو ۔ اور عوام ڈر کر دوبارہ اُن کے اس گھنائونے کاموں میں رکاوٹ نہ بنیں ۔ اور وہ دوبارہ بھتوں ،اغوا کی وارداتیں کر کے عوام کو لوٹیں ۔ پولیس بھی اُن کو کرپٹ چاہئے ۔ اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسران کے خلاف پہلے ہی محاذ بنا چکے ہیں۔ اگر عدلیہ ساتھ نہ دیتی تو وہ بھی فارغ ہو چکے ہوتے ۔ سندھ کابینہ میں ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو کراچی کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکے ۔
جبکہ پورا ملک اس کی اقتصادی ترقی کا محتاج ہے ۔ اگر کراچی کو دوبارہ دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا تو پھر ہمارے صنعتکار ، تاجر برادری ، بڑے بڑے ڈاکٹرز، انجینئرز اور اُن کے خاندان دوبارہ اغواء برائے تاوان کے ڈر سے بیرون ملک جانے پر مجبور ہونگے ۔ کراچی کے عوام یہ جاننا چاہتے ہے کہ جب سندھ انتظامیہ امن وامان قائم کرنے میں 20 سال سے ناکام رہی تو دوبارہ اس شہر کو کیوں رینجرز سے واپس لیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ وزیرداخلہ کیوں امن پسند شہریوں کو جانتے بوجھتے دہشت گردوں کے دوبارہ حوالے کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ عوام سڑکوں پر آ کر رینجرز کے حق میں نعرے لگائیں۔ جو حکومت شہر کی ٹوٹی سڑکیں ، گٹر کے ڈھکن ٹھیک نہیں کر سکتی ۔
پورا شہر کچرا کنڈی بنا ہوا ہے۔ گرمی شروع ہوتے ہی بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ سندھ حکومت الگ ٹیکس وصول کرتی ہے۔ مرکزی حکومت ایک درجن سے زائد ٹیکس اس سے وصول کرتی ہے ۔ اگر وہ عوام کی حفاظت نہیں کر سکتی ۔ صرف رینجرز اور فوج سے دہشت گرد ، ڈاکو، چور اچکے ڈرتے ہیں وہ پولیس سے نہیں ڈرتے، کیونکہ پولیس مک مکا کر کے ان کے حوصلے بڑھا دیتی ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے اسکولوں میں گرنیڈز دوبارہ پھٹیں ؟ مائیں بچوں کو اسکول بھیجنے سے ڈریں۔ میری صدر صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملےمیں مداخلت کر کے رینجرز کو غیر معینہ مدت کے لئے اختیارات دلوائیں اور کراچی شہر کے عوام کی بے چینی ختم کرائیں ۔
خلیل احمد نینی تا ل والا