کراچی میں پانی کا بحران، وجہ طلب اور رسد میں عدم توازن

کراچی میں پانی کے بحران کی وجہ طلب اور رسد میں عدم توازن ہے، یومیہ طلب 1200 ملین گیلن ہے جبکہ شہریوں کو بمشکل 600 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں پچاس فیصد شہریوں کا انحصار بورنگ یا پھر ٹینکرز پر ہے جو لوگ بورنگ اور ٹینکر کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ کراچی میں پانی کی فراہمی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ذمے داری ہے مگر وہ اپنی نصف ذمے داری ہی پوری کر پا رہا ہے اور ایسا مربوط نظام نہ ہونے کے سبب ہو رہا ہے۔

پانی کینجھر جھیل سے کراچی دھابیجی اور پھر وہاں سے پمپنگ اسٹیشن پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں سے اسے علاقوں کو مہیا کیا جاتا ہے۔ باقی رہ جانے والے علاقوں میں بڑی تعداد میں ٹینکرز ذریعہ تھا جن سے کم و بیش پندرہ ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا تھا، کراچی واٹر بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہائیڈرنٹس کیخلاف کریک ڈاؤن کے بعد ٹینکرز سے پانی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے واٹر بورڈ کے ہائیڈرنٹس پر چھاپے کے بعد سے چھ ہائیڈرنٹس اب آٹھ گھنٹے قانون کے مطابق چلتے ہیں۔

Advertisements

کراچی میں دو دریا مسمار کر کے یہاں کیا بنایا جائے گا ؟

کراچی کا ساحلی علاقہ دو دریا دس سال قبل تک ایک ویران علاقہ تھا جہاں لوگ جانے سے گھبراتے تھے لیکن کچھ لوگوں نے رسک لیا اور یہاں ریسٹورانٹ قائم کیے جو چند سالوں میں کامیابی کے ساتھ چلنے لگے۔ یہ وہ دن تھے جب کراچی میں بدامنی عروج پر تھی اور شہری آبادیوں میں واقع فوڈ سٹریٹ ویران ہو چکی تھیں۔ یہ فوڈ سٹریٹ پاکستان کے اندر اور بیرون ملک کراچی کی ایک نئی پہچان بن گی اور یہاں مہمانوں کو لانا ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن اب ڈیفیس ہاؤسنگ اتھارٹی ان ریسٹورانٹس کو بند کرنا چاہتی ہے، جس پر شہری ناخوش ہیں جس کا اظہار وہ سماجی ویب سائٹس پر بھی کر رہے ہیں۔

سمندر کے ساتھ قائم سترہ کے قریب ریسٹورانٹس کے ڈھانچے لکڑی سے بنائے گئے ہیں، شام کو سورج جیسے ہی نارنجی رنگ بکھرتا ہوا غروب ہوتا ہے یہاں اسی روشنی کے رنگ کی لائٹس مدھم روشنی کے ساتھ جل اٹھتی ہیں جس سے ایک رومانوی ماحول نظر آنے لگتا ہے۔ یہاں ایک نوبہاتا جوڑے سے ملاقات ہوئی جن کی حال ہی میں راولپنڈی میں شادی ہوئی تھی۔ نوجوان کراچی میں ایک فرٹیلائزر کمپنی میں کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا پہلا ڈنر ہے یہاں کی لوکیشن اور ماحول انہیں یہاں لے آیا، وہ سمجھتے ہیں کہ ان ریسٹورانٹس کو مسمار کرنا ایک غلط اقدام ہو گا۔

شاری کا تعلق چین سے ہے وہ کراچی میں ایک کنسٹریکشن کمپنی میں کام کرتی ہیں انہیں پاکستانی کھانے پسند ہیں اس لیے وہ دو دریا پر آتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ جگہ بہت پسند ہے یہاں کی لائٹس، کچن، مچھلیاں، یہ خوبصورت ڈھانچہ اور کھانا۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ سب کچھ بند کیا جارہا ہے اور امید ظاہر کی کہ کوئی متبادل فراہم کیا جائیگا۔ سمندر کی لہریں جب ریسٹورانٹس کی بنیادوں سے ٹکراتی ہیں تو ساتھ میں آبی پرندے بھی آکر بیٹھ جاتے ہیں لوگ انہیں روٹی کے ٹکڑے پھینک دیتے ہیں جبکہ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی برآمد ہو جاتی ہیں، شفاف پانی اور آلودگی سے صاف ہوا میں یہ منظر شہریوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔

کراچی کے ایک شہری جو امریکہ میں رہتے ہیں جب بھی یہاں آتے ہیں تو دو دریا ضرور آتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی اچھی جگہ ہے جہاں پر فیملیز آکر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور لطف اندوز ہوتی ہیں لیکن اب یہ جگہ نہیں رہیگی۔
’لوگوں کو پھر دوسری جگہ ڈھونڈنی پڑیگی کہ وہ کہاں جا سکتے ہیں، لیکن ایسا متبادل نہیں مل سکتا جہاں پر فطرت دستیاب ہے اور فیملی کا میل جول بھی ہوسکتا ہے۔‘ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی نے یہ پلاٹس لیز پر فراہم کیے تھے جبکہ یہاں پر پانی، گیس اور بجلی کا انتظام ہوٹل مالکان نے اپنے طور پر کیا ہے، یعنی بجلی جنریٹر، گیس سلینڈر اور پانی ٹینکر سے حاصل کیا جاتا ہے۔

احسن ناظم آباد میں رہتے ہیں اور دو دریا فوڈ اسٹریٹ بند ہونے کا سن کر انہیں مایوسی ہوئی بقول ان کے یہ بہت اچھی جگہ تھی جہاں شہر کی دھول مٹی، شور اور غل سے دور فیملی کے ساتھ ڈنر سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ’اب جب کراچی میں ترقی ہو رہی ہے تو ہم کراچی والوں کو جو چھوٹی چھوٹی خوشیاں ملی ہیں ان کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔‘ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی یعنی ڈی ایچ اے نے 2013 میں ان ریسٹورانٹس کو نوٹس جاری کیے جس میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ ان کی لیز کی مدت پوری ہو چکی ہے لہٰذا وہ اپنا کاروبار بند کر کے جگہ خالی کر دیں، اگر اس جگہ کو دوبارہ دینے کی نیلامی ہوئی تو وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔

ڈی ایچ اے کے اس فیصلے کے خلاف بعض ریسٹورانٹ مالکان نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور حکم امتناعی حاصل کر لیا، جس کے بعد دو دریا آنے والی سڑک کو ڈی ایچ اے سرویلنس حکام نے رکاوٹیں کھڑی کر کے بلاک کر دیا۔ اس سے یہاں آنے والے شہریوں کو مشکلات اور سوالات کا سامنا کرنا پڑا، مالکان نے جب توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی دھمکی دی تو یہ رکاوٹیں ہٹا دیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں ابھی مالکان کی درخواست زیر سماعت ہے تاہم تین ریسٹورانٹس بند ہو چکے ہیں جبکہ ڈی ایچ اے سرویلنس کے اہلکار تعینات ہیں، جو پولیس کا کام کرتے ہیں۔

یہ ریسٹورانٹس مسمار کر کے یہاں کیا بنایا جائے گا ؟ کئی بار رابطے کے باوجود ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آسکا ہے، بعض غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق یہاں بلند عمارتیں بنائی جائیں گی جبکہ بعض کا خیال ہے کہ سپورٹس کامپلیکس بنایا جائے گا تاہم ایک ہوٹل کے مالک نے مجھے موبائل پر علاقے کا نقشہ دکھا کر بتایا کہ یہاں کمرشل پلاٹنگ کی جا رہی ہے جو پلاٹ پہلے 9 لاکھ مالیت کا تھا وہ اب 9 کروڑ کا ہو چکا ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو، کراچی

کراچی میں بے گھر افراد کی تعداد میں تشویش ناک اضافہ

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، صوبائی دارالحکومت اور معاشی مرکز ہے کیوں کہ یہاں باقی شہروں کے مقابلے میں کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع سب سے زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور علاقوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ سارے سال جاری رہتا ہے۔ مہاجرت کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے جس کے باعث اب صورتِ حال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ دوسرے علاقوں سے آنے والوں کی یہ ’عارضی جنت‘ شہر کے لیے ’سزا‘ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کے مسائل تو دن رات بڑھ ہی رہے ہیں، شہر کو مسلسل آبادی کے دباؤ کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے کچی بستیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور بے گھر افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

شانیل خواجہ حبیب یونیورسٹی سے وابستہ محقق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمتوں کے مواقع اور ہنرمند افراد کے درمیان فرق بے گھر افراد کی تعداد میں اضافے کی اصل وجہ ہے۔ وی او اے کے نمائندے نے رپورٹ کی تیاری کی غرض سے شہر کے مختلف علاقوں کا متعدد بار دورہ کیا تو بہت سے نئے مشاہدات سامنے آئے۔ جیسے شہر میں بے گھر افراد کی تعداد میں پچھلے 25 سے 30 برسوں کے درمیان سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ نئی نئی بستیاں اور گوٹھ آباد در آباد ہونے کے بعد ان میں بھی جگہ ختم ہو گئی ہے اور لوگ سڑکوں کے کنارے، پلوں کے نیچے، ریلوے اسٹیشنز، اسپتالوں کے باہر اور جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں۔

مسلسل نقل مکانی کے باعث شہر میں بے روزگاروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔
سرجانی ٹاؤن، گلستان جوہر، نارتھ کراچی، نیو کراچی، گلشن اقبال، لیاقت آباد، گلبرگ، ڈیفنس، صفورا گوٹھ، سہراب گوٹھ، سپرہائی وے، لانڈھی، ملیر، اولڈ سٹی ایریا، ایم اے جناح روڈ، طارق روڈ، سوسائٹی، شاہراہ فیصل، محمود آباد، چنیسر گوٹھ، سائٹ ایریا، اورنگی ٹاؤن، کورنگی، ڈیفنس، کلفٹن کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں آبادی کا دباؤ محسوس نہ ہوتا ہو یا جہاں لوگ سڑکوں کے کنارے، کھلے آسمان تلے یا کچی آبادیوں میں نہ رہتے ہوں۔

وی او اے کے نمائندے نے درجنوں بے گھر افراد سے ان کے کراچی آنے کا سبب پوچھا تو سب کا تقریباً ایک ہی جواب تھا : معاشی حالات میں بہتری اور اچھے مستقبل کے خواب اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ کراچی میں آبسنے والے ان افراد کا تعلق ملک کے چاروں صوبوں سے ہے۔ تاہم سب سے زیادہ پنجاب سے لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے بعد اندرون سندھ، پھر خیبر پختونخوا اور آخر میں بلوچستان کا نمبر آتا ہے۔ چار بچوں کی والدہ اور عمر کے اعتبار سے قریب 40 سالہ ایک خاتون نے وی او اے کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پنجاب سے آمدنی میں اضافے کی خواہش لیے برسوں پہلے اپنے شوہر، دیور اور بھائی کے ساتھ شہر آئی تھیں لیکن یہاں آکر بھی ان کے شوہر کو کوئی بہتر روزگار نہیں ملا۔ کئی سال کی محنت کے بعد آج وہ ٹھیکے پر بڑھئی کا کام کرتے ہیں جبکہ وہ خود مختلف گھروں میں جھاڑو پوچھا کرتی ہیں لیکن میاں بیوی، دونوں کے کمانے کے باوجود وہ کوئی رقم پس انداز نہیں کر پاتے اور مہینے کے آخری دن تو ادھار لے کر گزارنے پڑتے ہیں۔

خاتون اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ نیو کراچی میں صبا سنیما کے پاس سڑک کنارے بنی جھونپڑیوں میں رہتی ہیں جبکہ شروع کے کئی سال وہ ناگن چورنگی کے پل کے نیچے رہا کرتی تھیں۔ کراچی کے ‘انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن’ میں گزشتہ دنوں ہونے والی سالانہ ’سوشل سائنسز اور ہیومینیٹیرینز کانفرنس’ میں بھی ان مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔ کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بے روزگاری میں اضافے اور چھوٹے علاقوں سے ہجرت کے باعث شہر کا موجودہ انفراسٹرکچر اور وسائل دباؤ کا شکار ہیں۔ کانفرنس میں آئی بی اے کے ‘سوشل سائنس اور ہیومینیٹیرین ڈپارٹمنٹ’ کی چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ مشتاق نے بتایا کہ کراچی کے مسائل سے متعلق مزید تحقیق اور اس تحقیق کی روشنی میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صورتِ حال کو بہتر بنایا جا سکے۔

کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بے گھر افراد کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے حکومتی پالیسیوں میں نئی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق بے گھر افراد کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہ باعثِ تشویش ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے سے وسائل کم سے کم ہوتے جارہے ہیں حتیٰ کہ کرائے کے مکانات میں بھی کمی کا سامنا ہے۔ پانی کا بحران بے قابو ہو رہا ہے، بجلی کی رسد اور کھپت میں فرق بڑھتا جارہا ہے، اسپتالوں میں جگہ نہیں، اسکولوں میں داخلہ نہیں، سڑکوں پر ٹریفک بے ہنگم ہے، گندگی کے ڈھیر بڑھ رہے ہیں اور لوگ قطار در قطار ملازمتوں کے انتظار میں بوڑھے ہو رہے ہیں۔

وسیم صدیقی

بشکریہ وائس آف امریکہ

اب کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کیوں ؟

کراچی کے عوام عرصہ دراز سے بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں اور پریشان کن پہلو یہ ہے کہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ بجلی کے بحران پر قابو پانے کی حکمت عملی اگر پہلے ہی وضع کر لی جاتی تو صورتحال اتنی تشویشناک شکل نہ اختیار کرتی بہرحال یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں گورنر ہائوس کراچی میں منعقد ہوا۔ جس میں سوئی گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کے حکام نے اپنا موقف پیش کیا۔ وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے الیکٹرک کو اسکی مطلوبہ مقدار کے مطابق گیس فراہم کریگی، اب کراچی میں سب کو بجلی ملے گی۔

اجلاس میں کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے درمیان گیس کی فراہمی اور واجبات کے معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مشاورت کے بعد دونوں اداروں کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کیلئے حکمت عملی بھی وضع کی گئی۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ وزیراعظم نے اس اہم مسئلے کو حل کرنے پر توجہ دی، کیونکہ اس تنازع کے نتیجے میں عوام کو شدید مشکلات درپیش تھیں ۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گیس کی سپلائی میں اضافے کے بعد لوڈشیڈنگ میں کمی آئی ہے تاہم صورتحال اسکے برعکس ہے اب بھی شہر کے بیشتر علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب چوری کی نشاندہی کی جارہی ہے تو جو لوگ بجلی چوری کر رہے ہیں ان کو سزا کیوں نہیں دی جاتی۔ جبکہ بجلی کی چوری محکمے کے اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسلئے حکومت اور کے الیکٹرک کو بجلی کی چوری اور لائن لاسز پر قابو پانے کیلئے موثر اقدامات کرنے چاہئیں ۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ سوئی گیس کی فراہمی کے بعد کے الیکٹرک غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرے۔ حکومت اور کے الیکٹرک کو چاہئے کہ اجلاس میں تجویز کئے گئے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائے اگر وزیراعظم کے اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں ہوتا تو عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔

اداریہ روزنامہ جنگ

دنیاکے سب سے بڑے اور وزنی جہاز کی کراچی میں لینڈنگ

روسی ساختہ دنیا کے سب سے بڑے کارگو جہاز آنتونوف اے این 225 میریا نے پہلی پاکستان میں لینڈ نگ کی ۔ جیو ٹی وی کے ذرائع کے مطابق اس جہاز نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی اور جہاز میں ری فیولنگ کی۔ روس میں بنایا اورڈیزائن کیا گیا بہت بڑے سائز کا یہ جہاز چھ ٹربو فین انجن کے ذریعے پرواز کرتا ہے۔ ائیرکرافٹ ماہرین کے مطابق یہ جہاز اب تک بنائے گئے جہازوں میں سب سے طویل اور وزن کے لحاظ سے سب سے بھاری ہے ۔  اس کی زیادہ سے زیادہ وزن اٹھا کر پرواز کرنے کی صلاحیت 640 ٹن تک ہے ۔ اس کے علاوہ اس وقت جتنے بھی ماڈل کے ہوائی جہاز دنیا بھر میں آپریشنل ہیں ان میں اس کے پروں کی وسعت سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کی نااہلی کے نئے ریکارڈ، 15 ،15 گھنٹے کی بدترین لوڈشیڈنگ

کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کے تنازع میں کراچی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں 12 سے 15 گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن گئی۔ بجلی بندش سے مستثنیٰ علاقے بھی محفوظ نہ رہے، شدید گرمی میں پانی کی بندش نے زندگی مزید مشکل بنا دی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ملیر، اورنگی ٹاون، سعودآباد، کورنگی، لانڈھی، لیاقت آباد، اورنگی ٹاون ، لائینزایریا، ملیر سٹی، رفیع گارڈن، ناظم آباد، پاپوش نگر اور فیڈرل بی ایریا کے علاقے متاثر ہیں۔ شہریوں کی جانب سے فالٹس کے نام پر 14 سے 15 گھنٹے بجلی کی بندش کی شکایات کی جا رہی ہیں۔

شہر میں طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کیساتھ ساتھ مریضوں کو بھی پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔ سندھ گورنمنٹ ہسپتال سعودآباد ملیر میں 9 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے ڈاکٹرز کو روز درجنوں سرجری ملتوی کرنا پڑ رہی ہیں۔ دوسری جانب کے الیکٹرک کے خلاف آج دو سیاسی جماعتیں احتجاجی مظاہرہ کرینگی، جماعت اسلامی کے الیکٹرک کیخلاف پریس کلب جبکہ پی ایس پی کی جانب سے کے الیکٹرک ہیڈ آفس کا گھیراو کیا جائے گا۔

کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار کون ہے ؟

Load Shedding in Karachi6

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بجلی کے بحران نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے اور اسمبلی کے فلور سے لے کر سڑکوں پر اس کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کراچی کی سڑکیں شہر کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے خلاف بینروں سے سجی ہوئی نظر آتی ہیں۔ جماعت اسلامی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا لیکن سید مراد علی شاہ نے گذشتہ روز جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی اور لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیا۔

اس کے بعد جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں پریس کلب کے باہر احتجاج میں مطالبہ کیا گیا کہ کے الیکٹرک اپنے تمام پاور پلانٹس کو چلائے۔ دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے بھی کے الیکٹرک کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں شہر بھر سے قافلے شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کے درمیان تکرار کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’وفاقی حکومت سوئی سدرن گیس کمپنی کی 73 فیصد مالک ہے جبکہ کے الیکٹرک میں اس کے 24 فیصد شیئرز ہیں لیکن وفاقی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں۔‘

کے الیکٹرک کے ترجمان علی ہاشمی کا کہنا ہے کہ انھیں 100 ملین کیوبک فٹ گیس کی کمی کا سامنا ہے اس کی وجہ سے 500 میگاواٹ کی قلت ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا ’کراچی میں بجلی کی موجودہ طلب 2600 سے 2700 میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار 2100 سے 2200 میگاواٹ ہو رہی ہے۔‘ کے الیکٹرک کو سوئی سدرن گیس کمپنی 19 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کرتی ہے جبکہ موجودہ وقت تقریباً 100 کیوبک فٹ گیس فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ سوئی سدرن گئس کمپنی کے ترجمان شہباز اسلام کا کہنا ہے کہ وہ ٹرانسمیشن کمپنی ہیں اور گیس کمپنی سے خرید کر کے صارفین کو فروخت کرتے ہیں۔ موجودہ وقت گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، گیس کی طلب زیادہ اور رسد کم ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کے الیکٹرک کو گذشتہ سال کے مقابلے میں 100 ملین کیوبک فٹ فراہمی کم ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا ’کے الیکٹرک ہم سے جو گیس طلب کرتی ہے اس کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہے، سنہ 1970 میں جو معاہدے ہوا وہ صرف 10 ملین کیوبک فٹ کا تھا۔ اس کے باوجود بھی ہم انھیں 80 ملین کیوبک فٹ اضافی دے رہے ہیں اگر کے الیکٹرک ہم سے معاہدہ کر لیتی ہے تو ہم اسے مزید گیس فراہم کر سکتے ہیں۔ ‘
کے الیکٹرک کی سنہ 2005 میں نجکاری کی گئی تھی۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی سالوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ کے الیکٹرک سے معاہدہ ہو جائے لیکن یہ کیوں نہیں ہو سکا یہ سوئی سدرن گیس کمپنی بتا سکتی ہے۔

بقایاجات کا تنازع

کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس میں ایک دیرینہ تنازع بقایاجات کا بھی ہے۔ گیس کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے حساب سے 80 ارب روپے بقایاجات بنتے ہیں جبکہ کے الیکٹرک کہتی ہے کہ 13.5 ارب روپے ہیں اور یہ کوئی چھوٹا فرق تو نہیں۔ انھوں نے کہا ’کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے درمیان وزیر اعلیٰ ہاؤس میں یہ طے ہوا تھا کہ کسی تیسرے فریق سے آڈٹ کروایا جائے گا جو 21 روز میں طے کر کے بتائے گا کہ کتنے پیسے بنتے ہیں؟ اس حوالے سے ہم نے ٹرم آف ریفرنس بنا کر دے دیے لیکن کے الیکٹرک کی طرف سے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں آیا ہے۔‘

کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بقایاجات کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے جس کی وجہ سے اس پر کوئی بات نہیں ہو سکتی ہے۔ نینشل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی نیپرا کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک 2200 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہی ہے جس میں 1100 میگاواٹ اس کی اپنی پیداوار ہے، 650 میگاواٹ قومی گرڈ سے لی جاتی ہے جبکہ باقی نجی پاور پروڈیوسرز سے حاصل کی جاتی ہے ۔  کے الیکٹرک کے پاس موجودہ پلانٹ قدرتی گیس کے علاوہ ایل این جی، فرنس آئل اور ہائی سپیڈ ڈیزل سے بھی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ کے الیکٹراک نے ان ذرائع کو استعمال کر کے بجلی پیدا نہیں کی۔

نیپرا کے سابق رکن فضل اللہ قریشی کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے پاس اس بنیاد پر لوڈشیڈنگ کا کوئی جواز نہیں ہے کہ اس کو گیس نہیں مل رہی، کیونکہ گیس کمپنی کی اپنی ترجیحات ہیں۔ سوئی سدرن گیس انھیں اس وجہ سے گیس فراہمی نہیں کر رہی ہے کیونکہ وہ اچھے صارف نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا ’کے الیکٹرک بجلی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع سے اس کمی کو پوری کرنے کی اہلیت رکھتی ہے یعنی وہ ہائی سپیڈ ڈیزل یا فرنس آئل سے بجلی پیدا کر سکتی ہے، اگر اس کی لاگت زیادہ آتی ہے تو نیپرا ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں اس کو دے دیتا ہے کیونکہ ہر مہینے فیول ایڈجسمنٹ ہوتی ہے اگر آپ مہنگا ایندھن استعمال کریں گے تو وہ ٹیرف میں مل جائے گا۔‘ کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ڈیزل کا ٹیرف ابھی تک متعین نہیں ہوا ہے، نرخ طے ہونے کے بعد پلانٹ کو کمیشن کیا جاتا ہے جس میں پانچ سے چھ ماہ لگتے ہیں جبکہ جو حالیہ ٹیرف ہے اس پر بھی عدالت میں معاملہ زیر سماعت ہے۔ اگر حکومت ٹیرف متعین کر دے تو انھیں کام کرنے میں آسانی ہو گی۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی