کراچی میں مضر صحت دودھ کی فراہمی پر سپریم کورٹ کی برہمی

سپریم کورٹ نے کراچی بھر میں بھینسوں کے دودھ کی فراہمی بڑھانے کے لئے لگنے والے استعمال کیے جانے والے انجکشن ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس نے ناظر ہائیکورٹ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ 5 دن میں ایک بھی کمپنی کیوں سیل نہیں کر سکے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آج کارروائی کریں اور رات تک رپورٹ پیش کی جائے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پیکٹ والے دودھ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے اپنے ریماکس میں کہا کہ پنجاب میں کروڑوں روپے لگا کر لیبارٹریز ٹھیک کرائی گئی ہیں۔ سندھ حکومت کو یہ خیال تک نہیں آیا کہ لوگوں کو معیاری دودھ پلائیں۔

چیف جسٹس نے حکم دیا آج ہی کراچی کی مارکیٹوں سے پیکٹ والے دودھ کے تمام برانڈ پاکستان کونسل آف سائنٹفک ریسرچ سے ٹیسٹ کے لئے بھیجے جائیں۔
چیف جسٹس نے ریماکس دیئے پنجاب میں پیکٹ کے دودھ سے اب یوریا، بال صفا پاوڈر اور غیر معیاری اشیا کا کافی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دودھ کا معیار جانچنے کیلئے کمیشن قائم کریں گے۔ مارکیٹ میں موجود ڈبے کا دودھ، دودھ نہیں ہے یہ فراڈ ہے جبکہ یہ دودھ کا متبادل بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کمپنیوں کو ہدایت کی جائے کہ ڈبے پر لکھیں یہ دودھ نہیں ہے۔ عوام کے ساتھ فراڈ نہیں ہونے دیں گے۔ پنجاب میں بھی بھینسوں کو دودھ بڑھانے کے لیے ٹیکے لگانے پر پابندی ہے لیکن وہاں بھی تو گزرا ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملاوٹ شدہ دودھ سے بریسٹ کینسر جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کسی کو بچیوں کا کوئی خیال نہیں۔ عدالت نے کراچی بھر میں بھینسوں کے دودھ بڑھانے والے انجکشن ضبط کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کی بھی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ 5 دن میں ایک کمپنی بھی سیِل نہیں کی جا سکی۔ چیف جسٹس نے کراچی بھر میں کارروائی کر کے آج ہی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ لوگ بھینسوں کو دودھ بڑھانے والے ٹیکے لگا لگا کر بچوں کو بیمار کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں ذرا بھی خیال نہیں کہ وہ ہمارے بچوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔

محمد ثاقب

Advertisements

چائنا کٹنگ میں سرکاری افسر ملوث ہیں، کے ڈی اے حکام

کراچی میں اربوں روپے کی زمینوں پرچائنا کٹنگ میں سرکاری افسرملوث ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے کے ڈی اے کے لیٹر میں انکشاف کیا گیا ہے۔
کے ڈی اے حکام کے مطابق کے ڈی اے کی اربوں روپے کی زمین پر افسروں نے قبضہ کیا اورچائنا کٹنگ کرائی، کے ڈی اے میں 2003 سے 2015 تک تعینات افسر چائنا کٹنگ میں ملوث ہیں۔ کے ڈی اے حکام نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، سابق ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ سیل نے قبضہ مافیا کو تحفظ فراہم کیا۔ سابق ڈائریکٹر انجینئرنگ اورسابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ آفیسر لینڈ ایکوزیشن کے ڈی اے بھی زمینوں پر قبضہ کے ذمے دار ہیں، سابق ڈسٹرکٹ آفیسر لینڈ مینجمنٹ سے زمینوں پر قبضے کی تحقیقات کی جائیں۔

رینجرز اہلکاروں کو معافی دینے کی خبر غلط ہے، ایوان صدر

ایوان صدر نے صدر ممنون حسین کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کو معافی دینے کی خبر کو غلط قرار دیدیا ہے۔ حکام ایوان صدر نے کہا کہ صدر ممنون حسین کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کی سزا معاف کرنے کی خبر غلط ہے۔ حکام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایوان صدر کو کوئی ایسی سمری موصول ہی نہیں ہوئی جس میں رینجرز اہلکاروں کی معافی کی درخواست کی گئی ہو۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز مختلف میڈیا چینلز پر اس قسم کی خبریں زیر گردش رہیں کہ صدر ممنون حسین نے کراچی میں شہید بینظیر بھٹو پارک میں سرفراز نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے قتل کرنے میں ملوث رینجرز اہلکاروں کی عمر قید کی سزا ختم کر دی ہے۔

مقامی میڈیا پر محکمہ داخلہ سندھ کے ذرائع کے حوالے سے خبریں چلتی رہیں کہ صدر ممنون حسین نے آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے رینجرز اہلکاروں کی سزا ختم کر دی ہے۔ حکام ایوان صدر نے کہا کہ صدر ممنون حسین کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کی سزا معاف کرنے کی خبر غلط ہے۔ حکام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایوان صدر کو کوئی ایسی سمری موصول ہی نہیں ہوئی جس میں رینجرز اہلکاروں کی معافی کی درخواست کی گئی ہو۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز مختلف میڈیا چینلز پر اس قسم کی خبریں زیر گردش رہیں کہ صدر ممنون حسین نے کراچی میں شہید بینظیر بھٹو پارک میں سرفراز نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے قتل کرنے میں ملوث رینجرز اہلکاروں کی عمر قید کی سزا ختم کر دی ہے۔ مقامی میڈیا پر محکمہ داخلہ سندھ کے ذرائع کے حوالے سے خبریں چلتی رہیں کہ صدر ممنون حسین نے آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے رینجرز اہلکاروں کی سزا ختم کر دی ہے۔

کراچی : شور مچاتی گاڑیاں، شہری ذہنی اذیت میں مبتلا

کراچی کی سڑکوں پر روزانہ لاکھوں گاڑیاں دوڑتی ہیں، ان گاڑیوں میں لگے ہارن اور چنگھاڑتے سائلینسرز شہریوں کو نا صرف ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اعصاب پر بھی خطرناک اثر ڈالتے ہیں۔ دنیا بھرمیں جدید سسٹم کے تحت صوتی آلودگی پر قابو پایا جا رہا ہے لیکن پاکستان میں اس پر قابو پانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ کراچی میں گاڑیوں کا سیلاب اور شور مچاتے ہارن اور سائلینسرز شہریوں کو اعصابی بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں.

ٹریفک کا شور گھر سے نکل کر اسکول اور دفاتر جانے والوں کیلئے تو عذاب بنا ہی ہوا ہے، گھر پہنچنے کے لیے سڑکوں پر کئی گھنٹے نا چاہتے ہوئے بھی اس شور کو برداشت کرنا شہریوں کا معمول بن چکا ہے ۔ عام انسان کے لیے 80 ڈیسی بل سے زائد کی آواز نقصان دہ ہے لیکن یہاں تو ہر وقت شور ایسا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، شہری قوت سماعت میں کمی، ہائپرٹینشن، بے خوابی، بے چینی، امراض قلب اور بلڈپریشر جیسے خطرناک امراض کا شکار ہو رہے ہیں ۔  ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کہ صوتی آلودگی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کے دماغ پر ناپسندیدہ آوازوں کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔

کراچی : کینٹ اسٹیشن سے تجاوزات ہٹانے کی تیاریاں مکمل

کراچی کے کینٹ اسٹیشن سے لے کر لانڈھی تک تجاوزات کے خاتمے کے لئے کے ایم سی کی جانب سے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ سیل کے حکام کا کہنا ہے کہ چار مرحلوں میں کراچی کینٹ اسٹیشن سے لیکر لانڈھی تک آپریشن کیا جائے گا۔ تجاوزات میں ہزاروں کی تعداد میں مکانات اور دیگر تعمیرات شامل ہیں جنہیں ہیوی مشینری، پولیس اور رینجرز کی سیکورٹی کے بغیر گرانا ناممکن ہے۔

حکام کے مطابق چند روز قبل میئر کراچی سے پاکستان ریلوے کے ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ اعجاز احمد برڑوکی ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات میں اعجاز احمد کی جانب سے پاکستان ریلوے کی زمینوں پر تجاوزات کے خاتمے اور ریلوے لائن کے اطراف صفائی ستھرائی اور گرین بیلٹ بنانے کے لئے اقدامات کی درخواست کی گئی تھی۔ میئر کراچی نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ریلوے کی اراضی پر قبضے اورغیرقانونی تجاوزات کے خاتمے میں ہرممکن تعاون کریں گے۔

کراچی میں واقع وزیر مینشن خود ایک تاریخ

بانی پاکستان کی جائے پیدائش وزیر مینشن کراچی کے قدیم علاقے کھارادر میں واقع ہے، عظیم رہنما کے یوم پیدائش کے موقع پر وزیر مینشن کو برقی قمقموں سے سجا دیا جاتا ہے۔ پیلے پتھروں اور لال جالیوں والی سادہ، پر وقار وزیر مینشن وہ تاریخی عمارت ہے, جہاں پر برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے والے عظیم رہنما بابائے قوم محمد علی جناح نے 25 دسمبر 1876 کو آنکھ کھولی اور زندگی کے ابتدائی ایام یہاں گزارے۔

تقریباً ڈیڑھ صدی پرانی تاریخ کی حامل اس عمارت کو مزید دلکش اس میں رکھی بابائے قوم کی استعمال شدہ اشیاء بنا دیتی ہیں۔ پورے پاکستان میں قائد کے زیر مطالعہ رہنے والی قانون کی کتابیں صرف وزیر مینشن میں ہی موجود ہیں۔ بابائے قوم کا بستر، کچھوے کی ہڈی سے بنا چشمہ، قیمتی کپڑے، جوتے، قلم اور دیگر اشیاء کے ساتھ قائد اعظم کی زوجہ رتی جناح کا فرنیچر بھی یہاں نفاست اور احتیاط سے رکھا گیا ہے۔