نیپرا کا کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی تحقیقات کا اعلان

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کراچی میں بجلی فراہم کرنے کے ذمہ دار ادارے کے-الیکٹرک کی جانب سے شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا۔ نیپرا نے شدید گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی کے ستائے شہریوں کی سُن لی اور گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تحقیقات کا اعلان کر دیا۔ نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نیپرا نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کےالیکٹرک کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی 11 سے 13 اپریل تک کراچی کا دورہ کرے گی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی عوامی شکایات کا جائزہ لے گی۔ واضح رہے کہ شہر میں درجہ حرارت بڑھتے ہی مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے، دن اور رات کے اوقات میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بجلی کی بندش نے شہریوں کو دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔

Advertisements

کراچی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ

لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے تمام وعدوں اور دعوؤں کے باوجود موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں ایک بار پھر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران صرف کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ملکی اقتصادیات کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ میٹرک کے بیشترامتحانی مراکز بھی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ نہیں۔ بجلی کے اس سنگین بحران پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک سے وضاحت طلب کرنے کے علاوہ تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

جبکہ سندھ اسمبلی میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کے خلاف قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود بحران میں ہنوز کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ شہر قائد ملکی اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ یہاں صنعتی پہیے کی روانی میں آنے والی رکاوٹ کے اثرات پوری قومی معیشت پر پڑتے ہیں۔ تیرہ سے چودہ گھنٹے کی غیر اعلانیہ بجلی کی بندش سے معاشی و تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں ۔ شہر کی تاجر تنظیموں کی جانب سے جاری بحران کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ سے 72 گھنٹے میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بصورت دیگر بلوں کی ادائیگی بند اور علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی۔

دوسری طرف کے الیکٹرک نے بجلی کی بندش کے دورانیے میں اچانک اضافے کا اہم سبب سوئی سدرن کی جانب سے گیس کی کم فراہمی کو قرار دیا ہے جو نہایت حیرت انگیز ہے ۔ ایسی صورت میں جب صارفین سے مختلف سرچارج کی مد میں مہنگے بل وصول کئے جا رہے ہوں ، کے ای کی طرف سے فرنس آئل کا استعمال نہ کرتے ہوئے صرف گیس پر انحصار کرنا نا قابل فہم ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ نیپرا کی جانب سے بجلی بحران کا نوٹس لینے اور اس ضمن میں صورتحال کے بغور جائزے کیلئے کمیٹی قائم کر نے سے کراچی کے شہریوں کو طویل لوڈشیڈنگ کی اذیت سے نجات ملنے کی کوئی راہ ہموار ہو سکے گی جو صنعت کاپہیہ رواں رکھنے کیلئے بھی ضروری ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

پاکستان اسٹیل ملز زبوں حالی کا شکار، پیداوار بند

ڈھائی سال سےاسٹیل مل کی پیداوار بند، قرضوں کا میٹر پھر بھی ڈاؤن ہے، حکومت چار سال میں تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ساڑھے اٹھارہ ارب روپے قرض دے چکی ہے، ادائیگی کے لئے مل کی زمین فروخت کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، پندرہ سو ایکٹر زمین کی قیمت کا معاملہ حل ہوا نہیں اور قبضہ گروپ متحرک ہو گیا۔ پاکستان اسٹیل کو گیس سپلائی 31 مہینوں پہلے 45 ارب روپے ادا نہ کرنے پر بند کر دی گئی، اس روز سے مل کی پیداوار بند ہے لیکن مزدوروں کی تنخواہیں تو ادا کرنی ہیں جس کے لئے حکومت 47 مہینوں سے قرض دے رہی ہے جو ساڑھے اٹھارہ ارب روپے تک جا پہنچا ہے، اس ادائیگی کے باوجود ملازمین کی چار مہینوں کی تنخواہیں اب بھی باقی ہیں جو تقریباً 1 ارب 60 کروڑ روپے بنتی ہے۔

حکومت کے پاس پاکستان اسٹیل کی بحالی کا منصوبہ نہیں، مل کا نہ بورڈ مکمل ہے اور کوئی اہلیت کا حامل سربراہ، نظریں مل کی زمین پر جمی ہے ساڑھے پندرہ سو ایکڑ جس پر سی پیک کا اسپیشل اکانومک زون بننا ہے، لیکن زمین کو کس قیمت پر فروخت کرنا ہے حکومت اس کا تعین بھی نہیں کر سکی ہے، اب زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں، غیر قانونی تعمیرات شروع ہو چکی ہیں ا ور اس کے لئے سریا اور اینٹیں فروخت کرنے کا کاروبار بھی مل کی زمین سے ہی کیا جا رہا ہے۔
ایک کہنے والے کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ مل کی زمین اونے پونے بیچنے کے لئے ہو رہا ہے، ایک قبضہ گروپ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی، آٹھ ملزمان بھی نامزد ہوئے ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ سندھ حکومت مل کی قیمتی زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔

پاکستان سٹیل مل کی نجکاری : ’دو ہی راستے ہیں، احتجاج یا پھر خودکشی‘

پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین نے ادارے کا انتظام 30 سال کے لیے کسی نجی کمپنی کے حوالے کرنے اور سات ہزار سے زیادہ ملازمین کو پیکیج دے کر فارغ کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کو بند ہوئے 20 ماہ گزر چکے ہیں۔ حکومت نے 19000 ایکڑ رقبے پر محیط اِس ادارے کی نجکاری فیصلہ کیا تھا لیکن اب اِس کا انتظام 30 سال کے لیے ایک نجی ادارے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سٹیل ملز کا انتظام نجی کمپنی کو سونپنے کے منصوبے کی منظوری نجکاری کی کابینہ کمیٹی دے چکی ہے لیکن اب حکومت کی باضابطہ منظوری اور مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کا انتظار ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ سٹیل ملز کا خسارہ 415 ارب روپے ہو چکا ہے لہٰذا وہ اِسے خود نہیں چلا سکتی تاہم حکومتِ پاکستان کے فیصلے کے مطابق پاکستان سٹیل کے اثاثے فروخت نہیں کیے جائیں گے۔ حکومت نے پاکستان سٹیل کو نئی زندگی دینے کے لیے منصوبہ تو بنا لیا ہے لیکن اب تک وہ اس معاملے پر ملازمین کو اعتماد میں نہیں لے سکی ہے۔ سٹیل مل کے ملازمین حکومت کے اِس فیصلے پر ناراض ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف سٹرک پر، عدالت میں غرض ہر جگہ احتجاج کریں گے۔ ایک ملازم نے کراچی میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ہم کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم سب ایک ساتھ ہیں، انشاءاللہ تنگ آمد تو جنگ آمد۔‘
ایک اور ملازم کا کہنا تھا ‘ہم خود سوزی کر لیں گے، ہمارے پاس کچھ نہیں۔ ہم غریب لوگ کیا کر سکتے ہیں، ہمارے پاس دو راستے ہیں، سڑکوں پر احتجاج یا پھر خودکشی۔‘ اس صورتحال میں حکومت کے لیے اِس منصوبے پر عمل درآمد آسان نہیں نظر آتا۔ نجکاری کے سابق وزیر اور موجودہ گورنر سندھ محمد زبیر کا موقف اِس کے برعکس ہے۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ملازمین کے ساتھ مذاکرات کر کے ایک ‘پرکشش پیکیج’ بنایا ہے جو کسی بھی ایسے ملازم کو زبردستی نہیں دیا جائے گا جو اُسے نہیں لینا چاہتا ہو۔
پاکستان سٹیل ملز
25 ارب
کی لاگت سے 1973 میں بنائی گئی
3500 ٹن فعال حالت میں اس کارخانے کی روزانہ ہیداوار تھی
14000 افراد اس مل میں کل وقتی یا جز وقتی ملازم ہیں
19000 ایکڑ سٹیل ملز کا ملکیتی رقبہ ہے جبکہ کارخانہ 4500 ایکٹر پر قائم ہے
110 میگا واٹ کا تھرمل بجلی گھر بھی مل میں واقع ہے جو نیشنل گرڈ کو بھی بجلی فراہم کرتا تھا
اُنھوں نے کہا ‘بہت سے ملازم ایسے ہوتے ہیں جن کی عمر 58 برس کے آس پاس ہوتی ہے اگر اُنہیں یکمشت بڑی رقم مل جائے تو اُسے زیادہ فائدہ ہو گا بجائے کہ وہ اُسے مسترد کرے۔‘ پاکستان سٹیل اور اس کے ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ کچھ بھی ہو، ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی معیشت کے اس اہم ترین ادارے کو اس حال تک پہنچانے میں بدانتظامی، سرکاری نا اہلی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ ادارے کے ملازمین کی کام میں عدم دلچسپی کا بھی اہم کردار ہے۔ اسی لیے حکومت ملازمین کی چھانٹی کو سخت مگر ناگزیر فیصلہ سمجھتی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان سٹیل مل کا بہترین پیداواری برس سنہ 1993 تھا اور ملک میں خام مال کی مدد سے سٹیل بنانے والا یہ واحد ادارہ ہے جو ٹیکس کی مد میں حکومت کو اب تک 105 ارب روپے سے زیادہ ادا کر چکا ہے۔
عبداللہ فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اسٹیل مل کی نجکاری یا بے روزگاری

عالمی سامراج نے  نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق دنیا بھر میں نجکاری شروع کی۔ امریکا کے معروف انقلابی  دانشور اور ماہر لسانیات پروفیسر نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ ’’نجکاری کا مطلب عوام کی دولت چھین کر سرمایہ داروں کے حوالے کرنا ہے۔‘‘ اس سلسلے میں سب سے پہلے نجکاری جنوبی امریکا میں کی گئی، چونکہ وہاں کے عوام نجکاری کی  مصیبتوں کو بھگت چکے ہیں، اس لیے اب وہاں کی حکومتوں نے ازسر نو قومیانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ اس لیے سامراجیوں نے مشرق بعید کے بعد اب برصغیر میں نجکاری شروع کردی ہے۔ یہ کام بے نظیر بھٹو کے دور سے شروع ہوا اور اب نواز کے دور میں انتہا کو لے جایا جا رہا ہے۔
پاکستان میں نجکاری کے ہدف میں ایک اسٹیل مل بھی ہے۔ سابقہ وزیراعظم شوکت عزیز نے پاکستان  جیسے نیم زرعی اور نیم صنعتی ملک کو ڈبلیو ٹی او کی طرف دھکیل دیا۔ ڈبلیو ٹی او  میں جانے سے پاکستان کی رہی سہی صنعتی ترقی کا پہیہ بھی جام ہو گیا۔ اس کے علاوہ 2008-2009 میں بڑے پیمانے پر گڈانی کراچی میں شپ بریکنگ کی گئی۔ جو شپس توڑنے کے لیے امپورٹ کی گئیں ان پر نہ امپورٹ ڈیوٹی تھی اور سیلز ٹیکس بھی 0% تھا۔ ان شپس کو توڑنے سے حاصل ہونے والی پلیٹس کو سریا بنانے کے لیے استعمال میں لایا گیا۔
یہ پلیٹ مارکیٹ میں 31000 روپے ٹن میں فروخت ہو رہی تھیں، جب کہ اسٹیل ملز کے بلٹس کی قیمت جو کہ سریا بنانے کے لیے کام آتا ہے 51000 روپے تھی۔ اسٹیل ملز کو مجبوراً اپنی بلٹس کا کارخانہ بند کرنا پڑا۔ جو آج تک بند ہے۔ 2008 میں پوری دنیا میں اسٹیل انڈسٹریز کو بحران کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ چائنا کا انٹرنیشنل مارکیٹ سے لوہے اور خام مال کی خریداری کا عمل بند کرنا تھا۔
دنیا کے اکثر ممالک میں اپنی اسٹیل انڈسٹریز کو بچانے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی سمیت کئی اقدامات کیے مگر پاکستان میں ایسا کوئی عمل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے پاکستان اسٹیل مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ ہاٹ رول کوائلز جن کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے، اسٹیل ڈیلرز یہ کوائل چین، یوکرین، روس، جاپان، امریکا وغیرہ سے سستے داموں پر برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل نے اس حوالے سے نیشنل ٹیرف کمیشن میں مقدمہ بھی قائم کیا کہ ان کوائل کی امپورٹ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی جائے تا کہ اسٹیل مل مارکیٹ کا مقابلہ کرسکے۔ باوجود اس کے این ٹی سی نے پاکستان اسٹیل کا موقف تسلیم کر لیا، لیکن کئی سال سے یہ مقدمہ زیر التوا رکھنے کے بعد WTO کے معاہدے کا سہارا لے کر خارج کردیا۔ موجود حکمراں جو اسٹیل انڈسٹری کو چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں مگر وہ پاکستان اسٹیل کی سب سے بڑی انڈسٹری کو بیچ دینا چاہتے ہیں۔
پاکستان اسٹیل جس نے دوبارہ اپنی مقررہ پیدواری صلاحیت کی طرف بڑھنا شروع کر دیا تھا اور 60% پیداوار دینا شروع کر دی تھی، لیکن حکومت کی طرف سے سیلز پالیسی مقرر نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مصنوعات مارکیٹ کا مقابلہ نہ کرسکی، اور مال اسٹاک ہونا شروع ہو گیا۔ جس میں سے اسٹیل مل اپنی Liability دینے سے قاصر ہو گئی۔ نیچرل گیس کمپنی جو کہ حکومتی ادارہ ہے اس کی 16 ارب روپے کی Liability ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسٹیل مل کو دی جانے والی گیس کا پریشر کم کر دیا گیا۔ اب یہ 16 ارب روپے سود کی وجہ سے 52 ارب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ گیس پریشر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان اسٹیل کے تمام پیدواری یونٹس بند کر دیے گئے۔ گیس پریشر کو کم ہوئے آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حکومت کی خاموشی اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل انڈسٹری کو بند کر کے اس کی نجکاری کرنا چاہتی ہے۔ اس ساری صورت حال کا خمیازہ پاکستان اسٹیل کے 18 ہزار ملازمین بھگت رہے ہیں۔ حکومت نجکاری کمیشن کے توسط سے چار ماہ گزرنے کے بعد ایک یا دو ماہ کی تنخواہ ملازمین کو ادا کر رہی ہے۔ وہ بھی ملازمین کے بار بار احتجاج کے بعد یہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔
موجودہ اسٹیل مل انتظامیہ کی کارکردگی اور بے حسی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 9  ارب کے اسٹاک شدہ مال کو فروخت کیا گیا اور فروخت شدہ مال میں بھاری کمیشن کھایا گیا۔ اس کے علاوہ 26 ارب روپے کی کرپشن کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے ہوئے بھی کئی سال گزر گئے ہیں۔ اب اس کیس کی فائل سردخانے میں پڑی ہوئی ہے۔ ابھی تک اسٹیل ملز کی لوٹی ہوئی رقم   ریکور نہیں کی گئی جس کی ذمے دار بھی گورنمنٹ ہے۔ پاکستان اسٹیل کی (By Product) جس میں بیٹری کے چلنے سے حاصل ہونے والی امونیا گیس کھاد کے کارخانے میں استعمال ہوتا ہے۔ Pitch جو تارکول کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کے علاوہ آکسیجن پلانٹ کو اگر تجارتی بنیادوں پر چلایا جائے تو صرف آکسیجن پلانٹ ہی ملازمین کی تنخواہیں نکال سکتا ہے۔ ٹربو تھرمل پاور پلانٹ جس کی دو ٹربائن بیک وقت چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جن سے 110 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، ایک ٹربائن اسٹینڈ بائی رہتی ہے۔ پاکستان اسٹیل اگر فل Capacity میں اپنی پروڈکشن دے رہی ہو تو 40 سے 50 میگا واٹ بجلی خرچ ہوتی ہے، بقایا بجلی کے الیکٹرک کو فروخت کی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان اسٹیل کے الیکٹرک کو بجلی فروخت کرتا رہا ہے۔
پاکستان اسٹیل کے پاس اپنے اسکول کیڈٹ کالج، گیسٹ ہاؤسز، فروٹ فارمز ہیں۔ ان کو صحیح معنوں میں پروفیشنل میمجمنٹ دی جائے تو یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں، لیکن موجودہ گورنمنٹ کی نظریں اسٹیل مل کے ایسڈ پر ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کئی سیاسی جماعتیں جو پی ٹی سی ایل اور کے ای کی نجکاری کے حق میں تھیں، وہ آج مخالفت کررہی ہیں۔ جیسا کہ جب ذالفقار علی بھٹو اسٹیل مل قائم کرنے جا رہے تھے تو  ایک مذہبی سیاسی جماعت قومی ملکیت میں اسٹیل مل کے قیام کی بھرپور مخالفت کر رہی تھی اور آج نجکاری کی مخالفت کررہی ہے۔
پاکستان اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اربوں روپے کما کر دے رہی ہے، صرف اس کے فلڈ ورکرز سوا لاکھ سے زیادہ ہیں، اس کے اربوں روپے کے اثاثے ہیں، اب حکومت اس کی نجکاری کرکے ہزاروں فلڈ ورکرز کو بے روزگار کرے گی اور لاکھوں صارفین کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سینیٹ اور صدر پاکستان ذاتی مداخلت کرکے اسٹیٹ لائف کی  نجکاری روکیں۔
یہی حشر وہ پی آئی اے کے ساتھ  بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ان سرمایہ داروں کی نظریں صرف اور صرف پی آئی اے کے اثاثوں پر ہیں، جن کی مالیت کھربوں روپے بنتی ہے۔ یہ ان کو کوڑیوں کے بھاؤ میں خریدنا چاہتے ہیں۔ ان کی نظر میں Employee کی اہمیت نہیں۔
آئی ایم ایف نے جب ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کے لیے سابقہ گورنمنٹ پر زور دیا تو حفیظ شیخ نے جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا تمام پارٹیوں کے سرمایہ دار، جاگیردار طبقے ایک پیج پر آگئے۔ کیونکہ یہ ٹیکس ان کی جائیدادوں پر لگنا تھا۔ آج تک یہ ٹیکس زیر التوا ہے۔ عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ آج گورنمنٹ آئی ایم ایف کے دباؤ پر اسٹیل مل، پی آئی اے سمیت 68 اداروں کو نجکاری کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہے اور لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگار کر دینا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں مختلف اداروں کی آئی ایم ایف کے دباؤ پر نجکاری کی گئی، ان میں سے بیشتر ادارے جن کی نجکاری کی گئی اور ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا وہ ادارے آج تک بند ہیں، ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں نہیں چلایا جاسکا۔ آج پھر ایک بار پاکستان اسٹیل مل کے مزدور سراپا احتجاج  ہیں، انھوں نے نیشنل ہائی وے کو بند کر دیا، پولیس نے تشدد کے ذریعے انھیں منتشر کیا، مگر کب تک؟ مزدور اپنے مطالبات آج نہیں تو کل منوا کر چھوڑیں گے۔  ہر چند کہ مسائل کا واحد حل ایک غیر طبقاتی نظام میں ہی مضمر ہے۔ وہ دن جلد آنے والا ہے، جب جائیداد، ملکیت، سرحدیں، ریاست کا خاتمہ ہوجائے گا، پھر لوگ جینے لگیں گے۔
زبیر رحمٰن

کراچی،اسلام آباد میں جائیداد کی نئی قیمتیں مقرر

یڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی اور اسلام آباد میں رہائشی اور
کمرشل جائیداد کی قیمتوں کے تعین کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ جائیداد کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے کراچی کو 9 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایف بی آر نے رہائشی اور کمرشل پلاٹوں اور فلیٹس کی الگ الگ قیمتیں مقرر کی ہیں، جبکہ تعمیر شدہ رہائشی اور کمرشل عمارتوں اور پلاٹوں کی قیمتیں بھی مختلف ہوں گی۔

کراچی میں ’اے ون‘ کیٹیگری میں رہائشی پلاٹ کی قیمت 35 ہزار، مکان کی قیمت 40 ہزار اور کمرشل جائیداد کی قیمت ایک لاکھ روپے فی اسکوائر گز ہوگی، جبکہ فلیٹ کی قیمت 5 ہزار روپے فی اسکوائر فٹ ہوگی۔ اس کیٹیگری میں سول لائن، دھوراجی، کلفٹن، گارڈن ایسٹ اور ڈیفنس فیز ون، ٹو اور تھری کے علاقے شامل ہوں گے۔

’ون‘ کیٹیگری میں رہائشی پلاٹ کی قیمت 25 ہزار، مکان کی 32 ہزار اور کمرشل پلاٹ کی قیمت 75 ہزار روپے فی گز ہوگی، جبکہ اس کیٹیگری میں فلیٹ کی قیمت ساڑھے 4 ہزار روپے فی اسکوائر فٹ ہوگی۔ ڈیفنس فیز فور اور سکس، بمبئی بازار، برنس روڈ اور فاطمہ جناح کالونی ’ون‘ کیٹیگری میں شامل ہیں۔

کیٹیگری ’ٹو‘ میں رہائشی پلاٹ کی قیمت 12 ہزار، مکان کی قیمت 20 ہزار اور کمرشل پلاٹ کی قیمت 60 ہزار روپے فی گز جبکہ فلیٹ ڈھائی ہزار روپے فی اسکوائر فٹ ہوگا۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیم ملیر، فیڈرل بی ایریا اور فردوس کالونی کیٹیگری ’ٹو‘ میں شامل ہیں۔ 
کیٹیگری ’تھری‘ میں رہائشی پلاٹ کی قیمت 6 ہزار، مکان کی قیمت 13 ہزار اور کمرشل پلاٹ کی قیمت 25 ہزار روپے فی اسکوائر گز، جبکہ فلیٹ کی قیمت ڈیڑھ ہزار روپے فی اسکوائر فٹ ہوگی۔ بفرزون، کے ڈی اے اسکیم 7، درخشاں کوآپریٹو سوسائٹی اور دہلی کالونی کیٹیگری ’تھری‘ میں شامل ہیں۔
اسلام آباد
ایف بی آر کے نوٹی فیکشن کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں فی گز پلاٹ کی قیمت 22 ہزار روپے سے بڑھا کر 56 ہزار روپے اور سیکٹر ای الیون میں فی گز پلاٹ کی قیمت 26 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے۔ 
اسی طرح سیکٹر ایف سکس میں فی گز پلاٹ کی قیمت 18 ہزار سے بڑھا کر 48 ہزار روپے، سیکٹر ایف الیون میں قیمت 18 سے بڑھا کر 42 ہزار روپے، سیکٹر جی سیون میں قیمت 16 سے بڑھا کر41 ہزار روپے اور سیکٹر آئی ایٹ میں جائیداد کی قیمت 38 ہزار روپے فی گز مقررکی گئی ہے۔
اسلام آباد کے بلیو ایریا میں کمرشل جائیداد کی قیمت دوگنی کردی گئی ہے۔
جناح ایونیو پر جائیداد کی فی گز قیمت 75 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ 14 ہزار روپے اور سپر مارکیٹ میں گراؤنڈ فلور دکان کی قیمت ایک لاکھ 23 ہزار روپے فی گز مقرر کی گئی ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں گراؤنڈ فلور کی قیمت 58 ہزار روپے اور سیکٹر ایف ٹین میں گراؤنڈ فلور کی قیمت 70 ہزار روپے گز مقرر کردی گئی ہے۔