سرکلر ریلوے کی خوش خبری

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خوش خبری سنائی ہے کہ وزیراعظم میاں نواز
شریف نے کراچی سرکلر ریلوے کو دوبارہ فعال کرنے کے منصوبے کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کر لیا ہے۔ وفاقی حکومت نے کراچی اربن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (K.U.T.C) کا انتظام صوبائی حکومت کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق کے درمیان ایک ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک منصوبے میں یہ منصوبہ شامل کیا جائے گا مگر پہلے مرحلے میں ڈرگ روڈ سے الٰہ دین پارک تک سرکلر ریلوے چلے گی۔

یہ فاصلہ تقریباً 5 کلومیٹر کے قریب ہوگا۔ پھر دوسرے مرحلے میں یہ ریل سٹی اسٹیشن سے اسٹیل ملز تک جائے گی اور اس کا دائرہ کارسپر ہائی وے تک اور ٹاور تک بڑھایا جائے گا۔ کراچی والوں کے لیے ڈرگ روڈ سے الٰہ دین پارک تک ریل چلانے کا اعلان محض مذاق ہی سمجھا جائے گا۔ وزیراعظم کی زیرِ نگرانی سی پیک کے منصوبے کے تحت لاہور میں اورنج ٹرین کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا منصوبہ کب شروع ہوگا اربابِ اختیار اس بارے میں خاموش ہیں۔ وفاقی حکومت بورڈ آفس سے گرومندر تک گرین لائن بس منصوبے کی تعمیر کر رہی ہے۔ جب وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا تو سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے گذارش کی تھی کہ یہ منصوبہ ٹاور تک کر دیا جائے۔ حکومت سندھ نے اورنگی سے بڑابورڈ تک گرین لائن منصوبے کی توسیع کا وعدہ کیا تھا جس پر عملدرآمد اب شروع ہوگیا ہے۔ شہری ماہرین کہتے ہیں کہ اب کراچی میں ماس ٹرانزٹ اسکیم ہی کراچی کے شہریوں کو باعزت ٹرانسپورٹ فراہم کرسکتی ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے کی بھی عجیب داستان ہے۔ جب 60ء کی دہائی میں کراچی میں صنعتیں لگنے لگیں، مزدوروں کی نئی بستیاں آباد ہونے لگیں اور شہر ایک طرف سائٹ اور دوسری طرف لانڈھی تک پھیل گیا اوراطراف میں مزدور بستیاں آباد ہوگئیں تو ایوب خان کی حکومت نے ریلوے کو شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کے تحت پشاور سے آنے والی مرکزی ریلوے لائن پر قائم ہونے والی بستیوں پر ریلوے اسٹیشن قائم کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرمینشن سے سائٹ، ناظم آباد، لیاقت آباد، گلشن اقبال اور ڈرگ روڈ تک ریلوے لائن تعمیر کی گئی۔

یہ ریلوے لائن ناتھا خان گوٹھ پر مرکزی لائن سے منسلک ہوگئی۔ 60ء کی دہائی میں متوسط اورنچلے متوسط طبقے کی بیشتر بستیوں کو سرکلر ریلوے نے مرکزی ریلوے لائن سے منسلک کردیا۔ صبح کے اوقات میں پپری سے سرکلر ریلوے کے فلیٹ سٹی اسٹیشن، کیماڑی اور وزیر منشن سے آنے لگے۔ اسی طرح وزیرمینشن سے سائٹ، ناظم آباد اور گلشن اقبال جانے اور واپس آنے کے لیے ریل گاڑیاں میسر آنے لگیں۔ لانڈھی، ملیر اور ڈرگ کالونی سے صبح کے وقت ٹاور آنے کے لیے ہزاروں مسافرآدھے گھنٹے سے 45 منٹ کی مدت میں منزل تک پہنچ جاتے تھے۔
جن لوگوں کو صدر اور اطراف کے علاقوں میں جانا ہوتا وہ کینٹ اسٹیشن سے اترکر ٹرام میں سوار ہو کر چلے جاتے۔ سٹی اسٹیشن پہنچنے والے مسافر بسوں میں بیٹھ کر صدر اور ایم اے جناح روڈ چلے جاتے اور یوں شام کو پھر سرکلر ریلوے کے ذریعے واپس اپنی منزل تک پہنچ جاتے۔ یہی سہولت لانڈھی اور ملیر سے سائٹ جانے اور واپس آنے والوں کو میسر ہوتی۔ اس زمانے میں سرکلر ریلوے میں سفر کرنے والے معمر افراد بتاتے ہیں کہ ہر ماہ رعایتی پاس بنانے کی سہولت موجود ہوتی تھی اور ریلوے کا عملہ وقت کی پابندی کرتا تھا، مسافروں کے لیے ہر 15 منٹ بعد آنے والی سرکلر ریل کی سہولت موجود تھی، مسافر ریلوے پر اعتماد کرتے تھے۔ پھر کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا نے اپنے پنجے جمانے شروع کیے۔
ریلوے کے ٹائم ٹیبل میں گڑبڑ ہونا شرع ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو  کے دور میں اس مافیا نے پہلے ٹرام وے سروس کو ختم کرنے کی مہم شروع کی۔ کراچی میں ٹرام ممبئی سے پہلے چلنا شروع ہوئی تھی، یہ اندرونِ شہر سفرکی بہترسہولت تھی۔ کراچی پولیس حکام نے یہ واویلا شروع کیا کہ ٹرام کی پٹری سے سڑک پر ٹریفک میں خلل پڑتا ہے، اس بناء پر ٹرام کو ختم کیا جائے۔ حکام کے پاس ٹرام کے متبادل چھوٹی منی بسیں تھیں جس میں مسافر مرغا بن کر سفر کرتے تھے۔ دنیا بھر میں الیکٹرک ٹرام پبلک ٹرانسپورٹ کا لازمی جز ہے۔
یہ ٹرام کبھی زیر زمین اورکبھی سڑک پر چلتی ہے۔ حکام نے ٹرام سروس کو دیگر بستیوں تک پھیلانے اور الیکٹرک ٹرام چلانے کے بجائے مجموعی ٹرام وے سروس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، پھر سرکلر ریلوے کے نظام میں رخنہ اندازی شروع ہوئی۔ ٹرانسپورٹ مافیا نے ریلوے کی بدعنوانی اور بیوروکریسی سے ساز باز کر کے ریلوے کے اوقات کار میں گڑبڑ پیدا کرنا شروع کی۔ مسافروں کو وقت پر ریل گاڑی میسر ہونا مشکل ہو گئی۔ انجن کا خراب ہونا، ریل کے ڈبوں کے کھڑکی دروازوں اور روشنی پھیلانے والے بلب کا غائب ہونا معمول بن گیا۔ یوں ریل گاڑیوں کے لیٹ ہونے کا سلسلہ دراز ہوا۔ مسافروں کی تعداد کم ہونے لگی اور ریلوے کا خسارہ بڑھ گیا۔ حکام نے ریلوے کی سروس کو بہتر بنانے کے بجائے گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کی حکمت عملی استعمال کی۔
70ء کی دہائی میں لانڈھی سے اپنے بیمار والد کا علاج کرانے کے لیے جناح اسپتال جانے والے نیوی کے سابق کمانڈر ایوب ملک ذکر کرتے ہیں کہ سرکلر ریلوے جناح اسپتال آنے اور جانے کا اس وقت سستا ترین ذریعہ تھا لیکن سرکلر ریلوے بند ہوگئی۔ کراچی میں لینڈ مافیا ہمیشہ سے مضبوط ہے۔ پولیس، بیورو کریسی، سیاستدان، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے بااثر افراد اس مافیا کے ذریعے سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ لینڈ مافیا نے سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کرلیا اور پلاٹ بنا کر لوگوں کو فروخت کردیے، یوں کئی کالونیاں آباد ہوگئیں۔ ان بستیوں میں بجلی اور گیس کے میٹر لگ گئے۔ کے ڈی اے میں متحرک مافیا نے مکانوں کے مالکان اور مکانوں کو لیز کی دستاویزات تیارکردیں۔
کے ایم سی نے گلشن اقبال میں اردو یونیورسٹی کے سامنے سرکلر ریلوے کی زمین پر اوورہیڈ برج تعمیر کردیا۔ جب پرویز مشرف حکومت نے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے زور دینے پر سرکلر ریلوے کو فعال کرنے کا عزم کیا تو اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے سرکلر ریلوے کاافتتاح کیا مگر یہ ریل گاڑی چنیسر ہالٹ سے سٹی اسٹیشن تک جاتی تھی، یوں شہرکا بیشتر حصہ اس سے مستفید نہیں ہوسکا اورکچھ عرصے بعد یہ ریل گاڑی بند ہوگئی۔ یہی وہ وقت تھا جب ایم کیو ایم کے کارکنوں نے زمینوں پر قبضے اور پلاٹوں کی فروخت کے لیے چائنا کٹنگ رائج کی۔ چائنا کٹنگ والے پلاٹ سرکلر ریلوے کی زمینوں پر بنے۔
جاپان کی حکومت نے اس صدی کے آغاز سے کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کرنے کی پیشکش کی۔ برسر اقتدار حکومتوں نے جاپانی ادارہ جائیکا کی پیشکش کا خیر مقدم کیا۔ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جائیکا والے پہلے تجاوزات کا خاتمہ چاہتے تھے مگر حکومت سندھ ان تجاوزات کو ختم کرانے میں ناکام رہی۔ ایک سینئر صحافی کاکہنا ہے کہ جاپانی حکومت نے اپنی موبائل انڈسٹری کی وجہ سے کراچی کے سرکلر ریلوے کے منصوبے میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ اسی زمانے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے چینی ماہرین کو اس منصوبے کی طرف متوجہ کیا تھا مگر کراچی میں ایم کیو ایم کی نظر نہ آنے والی حکومت کی بناء پر ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔
کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے پبلک ٹرانسپورٹ براہِ راست متاثر ہوئی۔ بسوں اور منی بسوں کے مالکان نے سرمایہ لگانا چھوڑ دیا اور کئی ٹرانسپورٹر تاوان کے لیے اغواء کرلیے گئے، یوں کراچی شہر کا پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہوگیا۔ ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج صاحبان کی سرپرستی میں چین سے مال برداری کے لیے درآمد کیے جانے والے چنگ چی رکشہ ہر طرف چلنے لگے۔ یہ چنگ چی رکشہ پبلک ٹرانسپورٹ کی تعریف میں نہیں آتے۔ پھر سی این جی رکشے اس قطار میں شامل ہو گئے۔ چنگ چی رکشوں میں چوری کی موٹر سائیکلیں استعمال ہونے لگیں۔ کراچی پولیس کی ایماء پر چنگ چی رکشوں پر پابندی لگ گئی تو ایسی صورت میں عوام کے پاس ان رکشوں کا بھی کوئی متبادل نہ تھا، لہٰذا اب عام آدمی کے لیے مشکلات بڑھ گئیں۔ لوگوں نے موٹر سائیکل کو متبادل کے طور پر ذریعہ بنایا، یوں حادثات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ گزشتہ سال ایک ہزار کے قریب افراد حادثات میں ہلاک ہوئے جن میں سے بیشتر موٹر سائیکل سوار تھے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کے جدید شہروں کی طرح کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا حل ماس ٹرانزٹ اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریل گاڑی ، ٹرام اور بڑی بسیں شہر میں چلنی چاہئیں۔ ریل گاڑی اور ٹرام زیرِ زمین ، زمین پر اور اوورہیڈ برج پر چلنی چاہیے۔ سرکلر ریلوے اور گرین لائن بس سروس سے پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ جزوی طور پر حل ہوگا لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ لاہور میں میٹرو بس کو چلے کئی سال ہوگئے اور اب اورنج ٹرین تعمیر کے آخری مراحل میں ہے، جب کہ اسلام آباد میں بھی میٹرو نے شہریوں کی زندگی کو آسان کردیا ہے جب کہ کراچی کے لیے ابھی تک سفرکے لیے کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے۔ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو اس مسئلے پر بھی سوچنا چاہیے۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان

کراچی نظر انداز کیوں ؟

سندھ کا صوبائی دارالحکومت کراچی وہ واحد شہر ہے جس کی آمدنی سے پورا
ملک چل رہا ہے جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جہاں سے وفاق 62 فیصد سے زائد آمدنی حاصل کر رہا ہے اور اسی آمدنی سے اسلام آباد ترقی کر رہا ہے، جب کہ کراچی انتہائی تباہ حالی کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت نے ساڑھے تین سال میں کراچی کو صرف ایک میگا پروجیکٹ اورنج لائن بس کا دیا ہے، جو 2018 کے انتخابات سے قبل مکمل ہونے تو جا رہا ہے۔ مکمل ہوگیا تو یہ وفاقی حکومت کا کراچی کے لیے بلاشبہ تحفہ ہوگا، مگر تکمیل کی امید کم ہے۔ وزیراعظم ٹرانسپورٹ کے اس اہم منصوبے کے افتتاح کے بعد ہی کراچی کے شہریوں کے ہمدرد سمجھے جائیں گے، مگر انھوں نے اس بڑے منصوبے کے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد کراچی آکر جاری کام کا معائنہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اگر وزیراعظم اس منصوبے کی تکمیل اور معائنے کے لیے وقت نکال لیں اور ملک کے سب سے بڑے شہر کو درپیش مسائل پر بھی توجہ دے دیں تو اہل کراچی کو بھی احساس ہوگا کہ ان کا بھی کوئی ہے۔ کیونکہ اس وقت اہل کراچی سندھ حکومت سے مایوس ہیں اور وفاقی حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وفاق ان کی بھی سنے گا۔

کراچی ملکی معیشت میں نہ صرف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ وہ شہر ہے جہاں ایک روز کی ہڑتال سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا کرتا تھا اور تین عشروں میں بدامنی کی انتہا کے باعث کراچی سے لاتعداد صنعتیں اندرون ملک اور بیرون ملک منتقل ہوئیں جس کی ذمے دار متعلقہ حکومتیں اور کراچی کی نمایندگی کے دعویدار ایم کیو ایم دونوں ہیں، کیونکہ 2013 سے قبل سیاسی اور فوجی حکومتوں نے اپنے سیاسی مفاد اور مصلحت کے لیے متحدہ کو حلیف بنا کر اپنے ساتھ رکھا۔ ایک پہلو متحدہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اسے جب حکومتوں میں رہ کر اختیارات ملے تو اس نے کراچی کو ترقی دی اور متحدہ کے سٹی ناظم کے دور میں کراچی دنیا کا 13 واں میگا سٹی قرار پایا تھا۔ یہ بھی سو فیصد حقیقت ہے کہ کراچی کی تباہی اور بدامنی میں متحدہ بھی شریک رہی، جس کے قائد لندن میں بیٹھ کر اپنے اشاروں سے کراچی بند کراتے رہے اور کراچی میں نصیر اللہ بابر کے جانبدارانہ اور غیر منصفانہ آپریشن میں بے گناہ لوگ مرتے اور مارے جاتے رہے۔

کہنے کو تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں کہتی ہیں کہ ان کے دور میں متحدہ کے خلاف آپریشن ہوا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام آپریشن سیاسی اور متنازعہ تھے۔ (ن) لیگ کی حکومت اور جنرل راحیل کی نگرانی میں کراچی میں جو آپریشن ہوا وہ ایک حد تک کامیاب رہا اور کراچی کا امن واپس لوٹ آیا۔ اس آپریشن کا دائرہ سندھ حکومت نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے اندرون سندھ وسیع نہیں ہونے دیا اور سندھ حکومت نے وہ کمیٹی نہیں بننے دی جو آپریشن کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رکھنے کی پابند ہوتی اور وفاقی حکومت نے پی پی کی خوشنودی کے لیے اعلانات کے باوجود کمیٹی نہیں بنوائی۔
کراچی کے عوام کی اکثریت ہر الیکشن میں متحدہ کو کامیاب کیوں کراتی آئی اس کی وجوہات جاننے کی (ن) لیگ کی وفاقی حکومت کو کوشش کرنی چاہیے تھی، ان وجوہات کی اصل ذمے دار پیپلز پارٹی ہے، جس کے کوٹہ سسٹم اور کراچی سے سوتیلی ماں جیسے سلوک نے متحدہ کی سیاست کو برقرار رکھا اور متحدہ نے کراچی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور حکومتوں کی جانبدارانہ پالیسیوں پر اپنی سیاست کو برقرار رکھا اور کراچی کا ایک عام آدمی بھی محسوس کرتا رہا کہ کراچی سے ناانصافیاں ہو رہی ہیں۔ متحدہ کراچی کی بلاشبہ نمایندگی کی دعویدار بن کر چار سال قبل تک ہر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شامل رہی مگر کراچی کو اس کے حقوق دلا سکی اور نہ ناانصافیاں ختم کرا سکی کیونکہ یہ سب کچھ برقرار رہنے ہی میں متحدہ کی سیاست برقرار رہتی، اس لیے متحدہ نے بھی کراچی کی نمایندگی کا حق ادا نہیں کیا اور پی پی اور (ن) لیگ نے کراچی میں اپنی واضح نمایندگی نہ ہونے کا بدلہ ہمیشہ کراچی سے لیا اور کراچی کے دو کروڑ عوام کے مسائل کو مسلسل نظرانداز کیا۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میں ساڑھے آٹھ سال سے حکومت ہے اور پانچ سال وفاق میں بھی حکومت رہی مگر اس نے لیاری اور اپنے مخصوص دیہی علاقوں پر ہی توجہ دی اور باقی علاقوں سے دشمنوں جیسی پالیسی اختیار رکھی اور کراچی سے صرف زبانی ہمدردی کے دعوے ہوتے رہے۔ پی پی کی حکومت پورے کراچی کے بجائے صرف ان علاقوں کو اپنا سمجھتی ہے کہ جہاں پی پی کا ووٹ بینک ہے اور ان ہی علاقوں کو ترجیح دے کر وہاں رہنے والوں کو شہری آبادی کے نام پر نوکریاں دی گئیں بلکہ اندرون سندھ کے لوگوں کو دیہی کوٹے کے ساتھ شہری کوٹے میں سے بھی ملازمتیں دی گئیں۔ متحدہ نے حکومت میں رہتے ہوئے یہ ناانصافی روکنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی اور نہ حکومت میں رہ کر کوٹہ سسٹم کے خلاف آواز اٹھائی۔ متحدہ کو یہ سب کچھ حکومت سے باہر آکر یاد آتا ہے۔
بھٹو صاحب کے دور میں اردو بولنے والوں میں اہم رہنما اور مشہور نام پی پی میں شامل ہوئے تھے جو بعد میں پی پی کی پالیسی دیکھ کر علیحدہ ہوگئے، جس کی وجہ سے اردو بولنے والے اب بھی پیپلز پارٹی سے دور ہیں اور محض نظریاتی لوگ ہی پی پی میں شہری خصوصاً اردو بولنے والوں کی نمایندگی کر رہے ہیں اور پی پی نے کبھی اس دوری کی وجوہات جاننے اور شکایات دور کرنے پر توجہ نہیں دی اور نہ اردو بولنے والوں اور پی پی کے درمیان دوریاں دور کرنے کی کوشش کی، جس نے اردو بولنے والوں کو متحدہ کو ووٹ دینے پر مجبور کیا اور وہ پی پی کی منفی پالیسی کی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔ (ن) لیگی قیادت نے تو سندھ پہلے ہی پی پی کے حوالے کرکے اندرون سندھ سے اپنا صفایا کرالیا ہے اور اب بھی وقت ہے کہ اسلام آباد کے حکمران کراچی پر توجہ دے کر کراچی میں رہنے والوں کو اس کا حق دیں اور سندھ حکومت کی ناانصافیاں ختم کرائیں جہاں ملک بھر کے لوگ رہتے ہیں مگر ان کی سندھ میں شنوائی نہیں ہو رہی اور وہ بھی میئر کی طرح وفاق کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
محمد سعید آرائیں 

گورنر سندھ، وزیراعلیٰ اور جامعہ کراچی

یہ آنکھیں منظر دیکھ رہی تھیں کہ لوگوں کا ایک ہجوم ہے، ایک صاحب اپنے ہاتھ
میں میگا فون لیے کھڑے ہیں اور ہجوم سے مخاطب ہیں، ہجوم سے نعروں کی آواز آتی ہے ’’جینا ہوگا مرنا ہوگا… دھرنا ہوگا، دھرنا ہوگا‘‘۔ جو صاحب خطاب کررہے تھے ان کے مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ ان کی ماہانہ تنخواہیں اور پنشن فوری ادا کی جائیں۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ تھی کہ نہ تو ہجوم اور نہ ہی ان سے مخاطب صاحب معمولی پڑھے لکھے، کسی بھٹہ یا ملز کے ملازم تھے، نہ ہی ان کا حلیہ اس کی عکاسی کرتا تھا، بلکہ یہ تمام لوگ نہایت پڑھے لکھے اور ان سے مخاطب شخص بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھا۔ یہ ملک کی سب سے بڑی جامعہ، جامعہ کراچی کے اساتذہ تھے، جن میں ڈاکٹرز اور پروفیسر شامل تھے۔

ان سب کا وقت انتہائی قیمتی تھا، انھیں اس وقت ریسرچ لیب یا پھر کلاسوں میں تدریس کرکے اس ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، مگر مسائل کے بھنور میں پھنس کر یہ اپنا قیمتی وقت کسی ملز کے مزدوروں کی طرح گزارنے پر مجبور تھے، نعرے لگانے پر مجبور تھے، کیونکہ ان سب کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہیں اور پنشن نہیں ملی تھیں۔ ان کے احتجاج کی محنت رنگ لے آئی اور گورنر سندھ کی جانب سے نوٹس لیا گیا، ہائر ایجوکیشن کے سربراہ سے بات کی گئی اور یوں تنخواہ کا مسئلہ تو حل ہوا، جب کہ دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی امید کی کرن پیدا ہوئی۔

یہاں ایک سوال بڑا اہم ہے اور وہ یہ کہ کیا ہم لوگ اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ ہمارے ہاں اب اساتذہ، جن کا کبھی احترام ماں باپ سے کم نہ ہوتا تھا، ان کی عزت اور اہمیت اس قدر کم ہوگئی ہے کہ ان کو ان کی خدمات کے بدلے وقت پر تنخواہ اور پنشن بھی نہ دی جائے؟ اور یہ معزز سفید پوش کسی مزدور یونین کی طرح سڑکوں پر آکر احتجاج کریں تو پھر تنخواہ کی ادائیگی کی جائے اور اس پر بھی یہ ظلم کہ جو اساتذہ زندگی بھر اس ملک و قوم کی خدمت کرتے ریٹائر ہوگئے انھیں اب بھی پنشن نہ دی جائے۔ ذرا غور کیجیے کہ وہ ملک اور قوم کیسے ترقی کرسکتی ہے کہ جہاں ان لوگوں کو جو ترقی کے راستے پر قوم کو ڈالتے ہیں، وقت پر تنخواہ ہی نہ ملے، انصاف ہی نہ ملے۔

یہ تو اب کوئی راز کی بات نہیں رہی ہے کہ کوئی قوم حقیقی معنوں میں اس وقت ہی ترقی کرتی ہے کہ جب وہ نہ صرف علم سے آراستہ ہو بلکہ زمانے کے اعتبار سے رائج علوم میں بھی مہارت رکھتی ہو۔ آج ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک کا مقام بھی اسی سبب ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ ہمارے حکمران جو اپنے ملک کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے نکال کر ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں، وہ تعلیم کے شعبے کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔ اسکولوں کی سطح پر تو تعلیم کا معیار تباہ و برباد ہوا ہی تھا جامعات کی سطح پر بھی حالت خراب تر ہوتی نظر آرہی ہے۔
تعلیمی بجٹ انتہائی کم ہے، اس پر اس کی غلط تقسیم سے بھی مسائل بڑھے ہیں۔ جامعہ کراچی کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی جامعہ ہے، یہاں منسلک طلبا کی تعداد بھی لگ بھگ پچاس ہزار ہے اور گرانٹ تقسیم کرنے والوں کا الٹا انصاف یہ ہے کہ سندھ کی تمام جامعات کو برابر رقم تقسیم کر رہے ہیں۔ جس جامعہ میں محض چند ہزار طلبا ہیں اسے بھی سو ملین اور جامعہ کراچی جہاں پچاس ہزار کے قریب طلبا ہیں اسے بھی سو ملین کی گرانٹ دی جارہی ہے۔ گویا تعلیمی بجٹ تو پہلے ہی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے، مگر گرانٹ کی غلط تقسیم بھی جامعہ کراچی جیسے تعلیمی ادارے کے لیے مسائل کا باعث بن رہی ہے۔
جامعہ کراچی میں احتجاج سے خطاب کرتے ہیں انجمن اساتذہ کے نمایندوں ڈاکٹر شکیل فاروقی اور معیزخان کا کہنا تھا کہ جامعہ میں تنخواہوں کی دیر سے ادائیگی کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کی طرح یہاں بھی بغیر تنخواہوں کے کام کرنے کا کلچر متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جامعات کو کسی مل یا فیکٹری کی طرح چلایا نہیں جاسکتا، جامعہ کراچی کی گرانٹ میں کم از کم تین سو فیصد اضافہ کیا جائے، اسی طرح مالی بحران سے نکلنے کے لیے پانچ ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکیج دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر جامعات میں ملازمین کو صرف لیو انکیشمنٹ ہی نہیں پلاٹ تک دیے جاتے ہیں، یہاں تنخواہ اور پنشن تک روکی جارہی ہے۔
راقم کے خیال میں ہمارے معزز اساتذہ کا شکوہ بجا ہے۔ یہ اس ملک اور معاشرے کا المیہ ہے کہ ایک استاد کو جو مقام و رتبہ ملنا چاہیے تھا وہ اسے نہیں مل رہا، بلکہ اب الٹا ان کی عزت کو مجروح کیا جارہا ہے۔ ایک سرکاری ادارے کے سترہ، اٹھارہ گریڈ کے افسر کو تو سفر کے لیے گاڑی، ڈرائیور اور پٹرول بھی فراہم کیا جاتا ہے، مگر جامعہ میں بیس گریڈ کے فیکلٹی کے ڈین کو بھی گاڑی نہیں دی جاتی۔ (جامعہ کراچی کے ایک استاد کا کہنا تھا کہ وہ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مالک مکان کرایہ لینے دروازے پر آیا تو انھوں نے نہایت شرمندگی کے ساتھ کہا کہ آپ دو ایک روز بعد آکر کرایہ لے جائیے گا، ابھی تنخواہ نہیں ملی۔ ملک کی سب سے بڑی جامعہ کے پروفیسر کی عزت کا اس طرح رسوا ہونا کسی قوم اور معاشرے کے لیے سوالیہ نشان تو ہے ہی مگر حکمرانوں کے لیے بھی ڈوب جانے کا مقام ہے)۔
جامعہ کراچی میں مالی مسائل کی وجہ سے ہر قسم کے مسائل کا انبار لگا ہوا ہے، یقیناً اس میں گڈ گورننس کی بھی کمی ہے، لیکن ایک اہم اور بڑی وجہ اس کو فراہم کی جانے والی گرانٹ کی معمولی رقم ہے کہ جس سے تنخواہوں اور انتظامی اخراجات ہی پورے ہونا مشکل ہے، بھلا علمی اور تحقیقی سرگرمیاں کیسے ممکن ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہی کوئی ملک و قوم ترقی کرتی ہے۔ آج جامعات کے اساتذہ کی مالی حالت ایسی نہیں کہ وہ ریٹائر ہونے پر کوئی پلاٹ ہی خرید سکیں، یا اپنے بچوں کی شادی بے فکر ہوکر کرسکیں۔ یہ ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ کسی ادارے میں تو ملازمین کو ایک نہیں کئی کئی پلاٹ دیے جاتے ہوں، گاڑیاں، ڈرائیور اور خادم تک دیے جاتے ہوں مگر اسی درجے اور گریڈ کے اساتذہ کو ان سب سے محروم رکھا جائے۔ اگر عید کے موقع پر انھیں ان کی اپنی چھٹیوں کے بدلے تنخواہ دی جائے کہ وہ بھی اپنے خاندان کے عید کے اخراجات پورے کرلیں تو ان کا یہ قانونی حق بھی ان سے چھین لیا جائے۔
یہ ہمارے حکمران اس قدر غفلت میں کیوں؟ کیا یہ ان اساتذہ کی عزت و توقیر کرنا بھی بھول گئے کہ جن سے تعلیم حاصل کرکے آج یہ مسند اقتدار تک پہنچے ہیں؟ کیا یہ وزیراعظم، صدر، گورنر، وزیراعلیٰ اور ایوانوں میں براجمان دیگر ارکان نے ان ہی جامعات اور ان کے اساتذہ سے علم کی روشنی حاصل کرکے وہ مقام حاصل نہیں کیا جس کے سبب آج یہ ایوانوں میں پہنچے ہیں؟ راقم نے نیٹ پر سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر عطاالرحمن، ابن انشاء، ڈاکٹر جمیل جالبی، جمیل الدین عالی، ڈاکٹر معین الدین عقیل، حسینہ معین، انصار برنی، ڈاکٹر اسرار احمد، محمد تقی عثمانی، سابق چیف جسٹس آف پاکستان اجمل میاں، معروف سیاستدان و قانون داں اور سابق وزیر قانون فاروق نائیک، سابق وفاق وزیر اطلاعات و نشریات نثار میمن، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما (مرحومہ) فوزیہ وہاب، سینیٹ چیئرمین رضا ربانی، سابق وزیر داخلہ رحمن ملک، سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن، سابق سفیر و صحافی حسین حقانی، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین ہارون اور منیر اکرام، اور ماضی کے معروف اداکار وحید مراد وغیرہ سب کی اسناد پر اس جامعہ کراچی کا نام و نشان موجود ہے۔ لیکن راقم کے نزدیک ان تمام ناموں سے بڑے وہ اساتذہ ہیں جن کی بدولت ان سب کو یہ مقام حاصل ہوا۔ راقم کی گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سے اپیل ہے کہ وہ تھوڑا سا وقت جامعہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے بھی نکالیں کہ اس جامعہ کا بھی ان پر کچھ قرض ہے۔
ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  

کراچی میں بارش رحمت یا زحمت ؟ دو دن کی بارش نےنظام زندگی درہم برہم کر دیا

 بالآخر کراچی میں بارش ہو ہی گئی، وہ بارش جس کے برسنے کے کراچی والے کئی ہفتوں سے منتظر تھے، لیکن یہ باران رحمت شہر قائد کے باسیوں کے لیے کچھ زیادہ خوشگوار ثابت نہیں ہوتی اور ایک لمحے کو خوشی منانے والے اگلے ہی لمحے ٹریفک جام، لوڈ شیڈنگ اور تالاب و دریا کا منظر پیش کرنے والی سڑکوں کی دہائیاں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تصاویر کے ساتھ اپنے دل کا حال بتایا جاتا ہے جو شہری انتظامیہ کی ناکامی کے باعث جل رہا ہوتا ہے۔ ذیل میں گذشتہ روز سے ہونے والی بارش کے بعد کراچی والوں کی شیئر کی گئی کچھ تصاویر دی جارہی ہیں، جہاں کہیں تو بارش کے بعد کا سہانا منظر پیش کیا گیا اور کہیں تالاب بنی سڑکوں کا رونا رویا گیا۔
آپ بھی دیکھئے:

Storm, Rain lash Karachi

Different areas of Karachi  received rain coupled with strong winds, bringing relief for citizens following a brief hot spell, Samaa reported. The first monsoon rain turned the weather pleasant as many areas including Nazimabad, Liaqatabad, North Nazimabad, Baldia, SITE Area, Maripur, Gulshan-e-Iqbal and Gulistan-e-Jauhar received showers. According to Karachi Water & Sewerage Board (KWSB), K-Electric’s transmission line of 132 KV has tripped as a result of strong winds and heavy rainfall. KE has issued an advisory, urging citizens to stay from electric poles and not to use wet hands for door bells.

کراچی شہر کی کچھ اور باتیں

گزشتہ کالم میں کراچی کے مسائل کے حوالے سے کچھ حقائق کو بیان کیا گیا تھا۔
اس کالم کے ردعمل میں قارئین کی ایک بڑی تعداد نے کراچی شہر کے دیگر بہت سے مسائل کی جانب توجہ دلائی اور کالم کو اس حوالے سے پسند بھی کیا کہ آج کل میڈیا میں سیاست پر تو بہت بات کی جاتی ہے لیکن شہریوں کے اس ایشوز پر بات نہیں کی جاتی جس کے باعث مسائل میں اور بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ عرض ہے کہ ایک کالم بمشکل بارہ، تیرہ سو الفاظ کا ہوتا ہے، جس میں ظاہر ہے کہ اتنے بڑے شہر کے مسائل کو بیان نہیں کیا جاسکتا، اس لیے آج کے کالم میں کچھ اور باتیں بھی شامل کی گئیں ہیں۔ ایک اہم سوال ہے کہ کراچی شہر کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس شہر کو بیک وقت کئی قوتوں سے اپنے حقوق درکار ہیں اور یہ قوتیں حقوق دینے میں اپنا کردار درست طور پر ادا نہیں کر رہی ہیں، جس کی جو بھی وجوہات ہوں بہرحال نقصان شہریوں کا ہی ہے۔

ان قوتوں میں پہلی اور بڑی قوت وفاق کی ہے۔ چونکہ وفاق اور سندھ کی سیاسی قوتیں مختلف ہیں لہٰذا ان میں سیاسی کھچاؤ یا کشیدگی کا نقصان بھی کراچی کو پہنچتا ہے، مثلاً پاکستان اسٹیل ملز کا مسئلہ حل ہوکر نہیں دے رہا ہے، نہ تو اس کی نجکاری کی جارہی ہے نہ ہی اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے ملازمین کو چار چار ماہ بعد تنخواہ ملتی ہے۔ کوئی نہیں سوچتا کہ اس ادارے میں کام کرنے والے کراچی کے شہریوں کے گھر میں چولہا کیسے جلتا ہوگا؟ یہ ایک بہت بڑا ادارہ ہے جہاں کراچی کے ہزاروں شہری ملازمت کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک طویل عرصے بعد اس شہر کے لیے صرف ایک ’گرین بس منصوبہ‘ سامنے آیا ہے۔

جامعات کی گرانٹ کے سلسلے میں ملک کی سب سے بڑی جامعہ کراچی کی حالت قابل رحم تھی، اٹھارویں ترمیم کی رو سے اختیارات سندھ حکومت کے حصے میں آنے سے اس جامعہ کی حالت اور بھی بری ہوگئی ہے اور جامعہ کراچی اپنے مالی وسائل کے لیے کبھی وفاق تو کبھی سندھ حکومت کی طرف دیکھتی ہے۔ سندھ حکومت کا یہ حال ہے کہ وہ ان جامعات کو زیادہ گرانٹ فراہم کرتی ہے جن میں زیرتعلیم طلبا کی تعداد جامعہ کراچی کے طلبا کی تعداد سے کہیں کم ہے، نیز اختیارات کے معاملے میں سندھ حکومت جامعات کے اختیارات کو مزید کم کرنا چاہتی ہے، جب کہ وہ خود وفاق سے اپنے اختیارات میں اضافہ کا مطالبہ کرتی ہے۔
اس وقت ملک کی سب سے بڑی جامعہ کراچی کا یہ حال ہے کہ طلبا کے لیے بسیں (پوائنٹس) ضرورت کے مقابلے میں آدھی بھی نہیں، واش روم اور عمارتیں مینٹیننس نہ ہونے کے سبب انتہائی گندی اور خستہ حال، جب کہ اساتذہ اور اسٹاف کی تنخواہوں کے لیے طلبا کی فیسوں کے جمع ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ سندھ کی جامعات کے اساتذہ سندھ حکومت سے اپنے اختیارت کی بحالی اور حصول کے لیے تحریکیں چلا رہے ہیں۔ یوں تعلیمی سطح پر کراچی شہر کے ہی نہیں سندھ کے تمام اساتذہ اسکول سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک آئے دن احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔
غور کیا جائے تو تعلیمی میدان میں بھی اس شہر کے رہائشی سندھ حکومت سے لے کر وفاق تک اپنے مسائل کے حل کے لیے شکوہ بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ مسائل حل ہوکر نہیں دیتے کیونکہ وفاق میں کسی اور کی، سندھ میں کسی اور کی، اور کراچی میں کسی اور کی سیاسی قوت ہے۔ ان تینوں کی سیاسی کشمکش میں نقصان اس شہر کا ہورہا ہے اور حال اس قدر بدتر ہے کہ اب کچرا تک اٹھایا نہیں جاتا، ہر گلی محلے میں ہی نہیں، شہر کی عام شاہراہوں پر صبح شام اس جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کو آگ لگادی جاتی ہے، جس سے پورے شہر میں جگہ جگہ دھویں کے بادل دکھائی دیتے ہیں۔
کسی کو یہ خیال نہیں کہ اس سے کس قدر آلودگی اور بیماریاں پھیلیں گی۔ ایک اور قوت اس شہر کے بلدیاتی ادارے ہیں۔ چونکہ دیگر اداروں کی طرح ان کی کارکردگی بھی صفر ہوگئی ہے لہٰذا کم وسائل میں شہر کی جو صفائی ستھرائی ہوسکتی تھی وہ بھی نہیں ہو رہی۔ یہ ادارے کوڑا کرکٹ اٹھانے تو نہیں آتے، البتہ اس میں آگ لگانے کا فریضہ ضرور ادا کرتے ہیں تاکہ کوڑا کرکٹ جل کر ختم ہوتا رہے اور انھیں شہر سے باہر پھینکنے کی زحمت اٹھانا نہ پڑے۔ ایک اور چھپی ہوئی قوت سرمایہ داروں کے ادارے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں چونکہ جمہوری ادارے اور ریاست مضبوط پہلے ہوئی اور بعد میں ان اداروں نے قوت پکڑی لہٰذا ان ممالک میں اس قسم کے ادارے جب اپنی حدود پار کرکے عوام کو نقصان پہنچانے کو کوشش کرتے ہیں تو ریاست انھیں کنٹرول کر لیتی ہے جب کہ ہمارے ہاں چونکہ ریاست کمزور ہے لہٰذا یہ ادارے عوام کو نقصان پہنچائیں تو کوئی قوت انھیں روکنے والی نہیں ہوتی۔
یہی وجہ ہے کہ پراپرٹی کی قیمیتں ہوں یا عام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ یا پھر دھوکا دہی یا کسی اور شکل میں عوام کا استحصال کرنا، انھیں نقصان پہنچانا، عوام کو کبھی بھی انصاف ملتا نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر یہ کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور بھی باقاعدہ کار پارکنگ کا اہتمام کم ہی کرتے ہیں، نتیجے میں شہر کا ٹریفک تک جام ہوجاتا ہے مگر ان کے خلاف نہ تو ٹریفک پولیس کا کوئی اقدام نظر آتا ہے، نہ ہی کسی شہری یا قانونی ادارے کی جانب سے کوئی ایکشن ہوتا نظر آتا ہے۔ اسی طرح بجلی کے محکمے سے متعلق عوام کی شکایات بھی اس کی واضح مثال ہے۔
سب سے چھوٹی اور اہم قوت خود عوام کی ہوتی ہے مگر اس شہر میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے جس قدر آبادی کو بے ہنگم انداز میں بڑھا دیا گیا ہے، اس کے نتیجے میں عوام اب خود اپنے مسائل کو بڑھانے لگے ہیں۔ افراتفری کے باعث عوام میں شعور کم ہوگیا ہے، دین سے دوری کے باعث صبروتحمل اور برداشت کی بھی کمی ہوگئی ہے، چنانچہ روز ہی یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چند لوگوں کی بے صبری سے ٹریفک سگنل، بازار اور گلیوں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ ایک شخص دکان سے کئی فٹ آگے اپنی دکان کا سامان سجا دیتا ہے، اس کے بعد کوئی شخص اپنا تخت یا ٹھیلہ وغیرہ لگا دیتا ہے جس سے راستہ مزید تنگ ہوجاتا ہے۔
نیز یہ راستہ اس وقت مزید تنگ ہوجاتا ہے کہ جب کسی موٹر سائیکل یا کار والے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گاڑی سے اترے بغیر ہی سامان خرید لے یا بہت ذمے داری کا مظاہرہ کرے تو وہیں گاڑی کھڑی کرکے دکان پر سامان خریدنے چلا جائے۔ اس قسم کے عمل سے اس شہر کی بہت چوڑی اور کشادہ سڑکوں پر بھی ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کوئی قومی تہوار آئے مثلاً رمضان یا عید وغیرہ تو پھر کیا کہنے۔ ہم سب مل کر گلی کوچوں میں بھی ٹریفک جام کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں اور ساتھ ہی گندگی کا بھی بھرپور بندوبست کرتے ہیں۔ آئیں کچھ دیر سوچیں کہ اس قسم کی گندگی اور ٹریفک جام کی وجہ حکومت، یا حکومتی ادارے ہیں یا ہم خود؟
وفاق چاہے تو کراچی آپریشن کی طرح دیگر معاملات میں بھی بہتری کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتی ہے، سندھ حکومت چاہے تو کم از کم جس طرح وہ وفاق سے اختیارات مانگتی ہے، ویسے ہی کراچی شہر اور جامعات کو بھی صرف اختیارات دے کر بہت کچھ کرسکتی ہے، اسی طرح عوام بھی شعور کا مظاہرہ کرکے غلط کام کرنے والے شہری خود کو سدھار کر بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔یہاں راقم نے مختصر صورتحال کا جائزہ لیا ورنہ تو ہم سب اچھی طرح واقف ہیں کہ کراچی شہر کے مسائل بڑھانے میں وفاقی وصوبائی حکومتوں، کاروباری اداروں سے لے کر ہمارے شہری ادارے اور منتخب نمائندوں سمیت یہاں کے رہنے والوں کا بھی قصور شامل ہے۔ اب اگر اس شہر کو درست کرنا ہے تو پھر ان تمام قوتوں کو اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ کردار تو ادا کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

کراچی میں پانی کا بحران..آخری حدوں تک

آصف شاہ کا تعلق دادو کے ایک سید خاندان سے ہے۔ انھوں نے کراچی اور یورپ
سے تعلیم حاصل کی اور سول سروسز آف پاکستان میں ملازمت کی۔ پیپلز پارٹی کے دور میں ایماندار افسر کی حیثیت سے جانے گئے۔ اس سال کے شروع میں ان کا حیدرآباد سے تبادلہ کر کے کراچی کا کمشنر مقرر کیا گیا۔ اردو بولنے والوں کی نمایندہ تنظیم ایم کیو ایم کو آصف شاہ کی کراچی کے کمشنر کی حیثیت سے تقرری پر اعتراض تھا۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو اندیشہ تھا کہ آصف شاہ کا تعلق اندرونِ سندھ سے ہے، اس بناء پر وہ اپنے پیش رو کمشنر کی طرح کراچی شہر کے مسائل پر توجہ نہیں دیں گے مگر آصف شاہ کے تبادلے پر ایم کیو ایم بھی احتجاج کرنے والوں میں شامل ہے۔ سید ممتاز شاہ کا شمار بھی ایماندار افسروں میں ہوتا ہے۔

وہ سندھ کے انٹی کرپشن ڈائریکٹریٹ کے نگراں تھے۔ انھوں نے اپنے محکمے کو میرٹ کے مطابق چلانے کی کوشش کی اور ان کا بھی تبادلہ ہوا۔ جب 2008ء میں قائم علی شاہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کی صاحبزادی ناہید شاہ کو سیکریٹری تعلیم مقرر کیا گیا۔ پیر مظہر الحق نے وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا۔ ناہید شاہ نے قواعد و ضوابط کے تحت وزارت تعلیم کو چلانے کی کوشش کی۔ ہمیشہ احتجاج کرنے والی اساتذہ کی تنظیمیں ان کی حمایت کرنے لگیں۔ ناہید شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے ایم کیو ایم کے کراچی میں پانی کی قلت کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنے پر سخت بیان دیا۔ کہنے لگے کہ اگر میرے گھر کے سامنے دھرنا دیا جا سکتا ہے تو کل کراچی کے میئر کے گھر پر بھی دھرنا  ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ نئے صوبے کی باتیں کرنے والے ملک دشمن ہیں۔ سندھ کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا اپنا آزادانہ تشخص ہے، یہ ناقابلِ تقسیم وحدت ہے، اس کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی میں پانی کا بحران آخری حدوں تک پہنچ گیا ہے۔ کراچی کی بعض بستیوں میں گزشتہ 3 ماہ سے پانی نہیں ہے۔ سمندر سے متصل قدیم بستی کیماڑی کے ایک مکین کا کہنا ہے کہ 15 دن بعد نلکوں سے پانی ملا۔ پانی کا بحران خاصا قدیم ہے۔

واٹر بورڈ کے حکام کہتے ہیں کہ بلوچستان کے ضلع حب میں تعمیر ہونے والا حب ڈیم خشک ہو چکا ہے، کراچی ویسٹ اور ساؤتھ کے بعض علاقوں جن میں اورنگی جیسا چھوٹا سا شہر شامل ہے کو حب ڈیم سے پانی کی فراہمی بند ہے۔ ملیر کے قریب ڈملوٹی کے کنویں خشک ہو چکے ہیں۔ دریائے سندھ سے نکلنے والی نہر سے کم پانی ملتا ہے۔ کراچی میں پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے K4 منصوبہ شروع ہونا تھا۔ پہلے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت اس منصوبے کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم نہیں کر سکی،  2013ء میں برسرِ اقتدار آنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس منصوبے میں دلچسپی نہیں دکھائی، یوں یہ منصوبہ وقت پر شروع نہیں ہو سکا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت پانی کی قلت کی ایک وجہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ قرار دیتی ہے۔

وزیر بلدیات کا کہنا ہے کہ دھابے جی سے پانی کھینچنے والے پمپ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی بناء پر خاموش ہو جاتے ہیں،  تو کراچی کو پانی کی فراہمی میں خلل پڑتا ہے۔ واٹربورڈ نے شہر بھر میں پمپنگ اسٹیشن قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ پمپنگ اسٹیشن شہر میں بڑی پائپ لائنوں سے آنے والے پانی کو کھینچ کر گھروں تک پہنچاتے ہیں مگر یہ پمپ بھی لوڈ شیڈنگ سے متاثر ہوتے ہیں۔ جو پانی بڑی پائپ لائنوں کے ذریعے شہر بھر میں پہنچتا ہے وہ ان پمپنگ اسٹیشنوں میں بجلی کی بندش سے گھروں کو   فراہمی نہیں کر پاتا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کا معاملہ گزشتہ صدی کی آخری دہائیوں سے شروع ہوا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لیے ہیوی جنریٹر خریدے اور ان جنریٹروں کو توانائی دینے کے لیے پیٹرول، ڈیزل اور گیس کے لیے ہر سال بجٹ میں فنڈز مختص کر دیے گئے، اگر لوڈ شیڈنگ کے اوقات میں گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس سیکریٹریٹ، کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سمیت کسی سرکاری دفتر جایا جائے تو وہاں جنریٹروں سے پیدا ہونے والی بجلی سے ایئر کنڈیشن تک چلائے جاتے ہیں مگر کراچی شہر کو پانی فراہم کرنے والے پمپوں کو متحرک رکھنے کے لیے کبھی جنریٹروں کی خریداری کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔

بدقسمتی سے جب ایم کیو ایم سندھ حکومت میں راج کر رہی تھی اور اب 8 برسوں سے غریبوں کی زندگی تبدیل کرنے کا نعرہ لگانے والی پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار ہے تو شہری بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ پانی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں پانی کی قلت کی اور بھی وجوہات ہیں۔ پانی فراہم کرنے والے ٹینکروں کی بڑی مافیاز موجود ہیں۔ یہ مافیاز شہر کے مختلف علاقوں میں ہائیڈرنٹ چلاتی ہیں۔ ان ہائیڈرنٹ سے ٹینکروں کے ذریعے پانی شہر میں مہنگا فروخت ہوتا ہے۔ یہ ہائیڈرنٹ بااثر سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور بلڈر مافیاز حتیٰ کہ شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے والی  ایجنسیوں کے بھی ہیں۔ واٹر بورڈ حکام ان ہائیڈرنٹ کو بند کرنے یا ریگلولیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو شہر میں پانی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔
شہری امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ کراچی میں پوش آبادیاں بڑھ رہی ہیں‘ یہ آبادیاں نہیں بلکہ نئے شہر کہے جا سکتے ہیں۔ ان آبادیوں کے لیے پانی کے نئے ذخائر کو تلاش کرنے کے بجائے کراچی کی غریب بستیوں کو دیا جانے والا پانی لیا جا رہا ہے۔  واٹر بورڈ بھی انتظامی بحران کا شکار ہے۔ واٹر بورڈ میں غیر حاضر ملازمین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ’’والو مین‘‘ ایک ایسی مافیا ہے جو پانی کی تقسیم میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ کنڈی مین مافیا سیوریج نظام پر قابض ہے، کراچی واٹر بورڈ میں ریسرچ کا کوئی یونٹ موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے بارے میں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اب بھی فلش کی صفائی، گاڑیوں کو دھونے اور پودوں کے لیے پینے کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر واٹر بورڈ میں کرپشن کی بناء پر لائنوں کی مرمت اور خراب لائنوں کی تبدیلی پر خود کار طریقہ سے عمل نہیں ہوتا۔ لائنوں سے پانی رسنے سے خاصا پانی ضایع ہو جاتا ہے اور ہر مہینے دو مہینے بڑی پائپ لائنوں میں شگاف پڑنے سے پانی کی سپلائی معطل ہو جاتی ہے۔
بعض ماہرین اس بات پر اتفاق نہیں کرتے کہ پانی کے بحران کی وجہ پانی کی قلت ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ پانی کے نظام میں غیر منصفانہ تقسیم کا ہے۔
اگر شفافیت کے اصول پر سختی سے عمل کیا جائے تو ہر گھر میں پانی مناسب مقدار میں فراہم ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ اچھی طرزِ حکومت سے منسلک ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں میں منتخب بلدیاتی ادارے پانی کی تقسیم کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے پیپلزپارٹی کی حکومت منتخب بلدیاتی نظام پر یقین نہیں رکھتی۔ شہر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے 6 ماہ ہو گئے مگر منتخب نمایندوں کو اقتدار نہیں مل سکا۔ قائم علی شاہ اگر منتخب نمایندوں کو اقتدار دے دیتے تو پھر یقیناً دھرنا میئر کے دفتر کے سامنے ہوتا۔ قائم علی شاہ کی اس بات میں وزن ہے کہ سندھ ایک وحدت ہے۔
اس کو توڑنے یا نیا صوبہ بنانے سے ایسا بحران پیدا ہو گا جس کے اثرات اگلی صدی تک محسوس ہونگے، مگر ایماندار افسروں کو ہٹانے، بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ دینے، کراچی کی ترقی کے لیے بجٹ میں فنڈ مختص نہ کرنے اور کراچی کو کوڑے دان میں تبدیل کرنے سے منفی قوتوں کو تقویت ملے گی، اگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے اب بھی اس حقیقت کو محسوس نہیں کیا تو پھر پانی پر خوفناک فسادات ہونگے اور طالع آزما قوتوں کو بالادستی حاصل ہو گی۔
ڈاکٹر توصیف احمد خان