چینی سرمایہ کاروں کی کراچی میں صنعتی پلاٹ خریدنے میں عدم دلچسپی

چینی سرمایہ کاروں نے کراچی کے پرانے صنعتی علاقوں بشمول سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ) میں صنعتی زمین خریدنے میں عدم دلچسپ کا اظہار کیا ہے۔ تاہم چینی سرمایہ کار آٹو انڈسٹریز کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تاہم وہ دیگر شعبوں میں مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے کے خواہش مند نظر نہیں آتے۔ پاکستان میں مارکیٹس پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق کراچی میں صنعتی پلاٹس کی قیمت اُن عوامل میں سے ایک ہے جو چینی سرمایہ کاروں کی شہر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ چینی، آٹو انڈسٹری خصوصاَ چھوٹی کمرشل گاڑیوں اور کاروں کی تیاری کے شعبے میں کافی متحرک ہیں۔
تقریباً 5 چینی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر گرین فیلڈ سرمایہ کاری کی غرض سے پاکستان میں پلانٹ لگانے کے لیے درخواست دی ہے، جن میں سے 3 پلانٹس لاہور میں جبکہ 2 کراچی میں لگائے جائیں گے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز ایسوسی ایشن (پاپم) کے چیئرمین مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کے ارکان چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے معاہدے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں مقامی شراکت داروں کو شامل کیے بغیر موٹر سائیکل کے پارٹس تیار کرنے میں مصروف ہیں، جس پر انھیں تشویش ہے جبکہ اس پیش رفت کے حوالے سے حکومت پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’ہم خوش ہوں گے اگر چینی کمپنیاں ہمیں 10 سے 20 فیصد کا پارٹنر بنائیں جس سے ملک میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے’۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چیئرمین اسد نثار برخرداریہ نے بتایا کہ چینی سرمایہ کار سائٹ کے علاقے میں سستی زمین کا حصول چاہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں کیونکہ اس علاقے میں ایک ایکڑ پلاٹ کی قیمت 15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں کارخانے لگانے کے بجائے ٹائر، صارفین کی اشیاء اور پلاسٹک کی اشیاء کی تجارت میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں پورٹ قاسم انڈسٹریل ایریا کا رخ کر رہی ہیں جہاں کی قیمتیں سائٹ اور کورنگی انڈسٹریل ایریا کی قیمتوں سے نسبتاً کم ہیں۔

اسد نثار کا یہ بھی کہنا تھا کہ سائٹ کے علاقے میں چینی سرمایہ کار پچھلے کئی دہائیوں سے مختلف کاروبار کے ساتھ موجود ہیں جبکہ کراچی واٹر بورڈ کے ’کے ٹو‘ اور ’کے تھری‘ منصوبوں میں بھی چینی نگراں عملہ اور ٹھیکیدار نمایاں نظر آتے ہیں۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کے اے ٹی آئی) کے چیئرمین مسعود نقی نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ چینی سرمایہ کاروں نے اپنے آپ کو کورنگی انڈسٹریل ایریا سے دور رکھا ہوا ہے جہاں پر ایک ایکڑ پلاٹ کی قیمت 20 کروڑسے 30 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی پاکستان میں ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ، آر او پلانٹ، سیوریج کے نظام، پانی صاف کرنے کے نظام کے علاوہ دیگر مکینیکل اور انجینئرنگ منصوبے لگانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

اسی دوران پاکستان اپیرل فورم (پی اے ایف) کے چیئرمین جاوید بلوانی نے کہا ’کسی بھی چینی کمپنی نے تجارت اور کاروباری معاہدے کے لیے ہمارے فورم سے رابطہ نہیں کیا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی ملبوسات کے سستے ہونے کے باوجود وہ پاکستان اور چین کے درمیان ملبوسات کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کا روشن مستقبل نہیں دیکھتے۔ اس حوالے سے ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (ایف بی اے ٹی آئی) کے چیئر مین جاوید سلیمان نے کہا کہ چینی کونسل جنرل سے دو مرتبہ ملاقات کرنے کے باوجود بھی کسی چینی کمپنی نے ہمارے علاقوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جبکہ نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (این کے اے ٹی آئی) کے چیئر مین اختر اسمٰعیل نے بھی ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا۔

کراچی میں بدبو کی وجہ کیا تھی ؟

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی شہر کراچی میں دو روز قبل بدبو کیوں اور کیسے پھیلی؟ اس کا جواب حکومت کا کوئی بھی تحقیقاتی اداراہ نہیں دے سکا ہے۔ ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ورلڈ وائیڈ فنڈ کا دعویٰ ہے کہ یہ بدبو سمندر میں ’نوک ٹی لوکا‘ نامی آبی حیات کی ہلاکت کی وجہ سے پھیلی تھی۔ کراچی کے ساحلی علاقوں اور وسطی شہر میں 31 مئی کی صبح فضا میں بدبو محسوس کی گئی تھی، جس کا اثر پورا دن رہا تھا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی کی پرنسپل سائینٹیفک افسر ڈاکٹر نذہت خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سمندر میں تیل پھیلنے کی وجہ سے یہ بدبو پھیلی ہے تاہم اس بارے میں ان کی ٹیم تحقیق کر رہی ہے۔

حکومت سندھ کے محکمہ ماحولیات نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ کراچی کے ڈائریکٹر عاشق لانگاہ کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے کے پاس ایسے آلات ہی نہیں کہ وہ اس کی تحقیق کر سکیں۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ کے تیکنیکی مشیر محمد معظم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھلے سمندر میں نوک ٹی لوکا نامی آبی جانور پایا جاتا ہے، جو عمان سے لیکر کراچی تک بحیرہ عرب میں موجود ہے اور یہ اتنی تعداد میں ہوتے ہیں کہ سمندر کا رنگ سبز ہو جاتا ہے۔ محمد معظم خان کے مطابق نوک ٹی لوکا نامی یہ آبی جانور گزشتہ تین چار ماہ سے بحیرہ عرب میں موجود تھے اور جیسے ہی مئی کے آخری ہفتے میں مون سون کے آغاز میں جنوب مغرب سے ہوائیں چلیں اور سمندری لہروں میں تیزی آئی تو ان کی بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوئیں اور لہروں کی مدد سے یہ ساحل تک پہنچے اور نتیجے میں بدبو پھیل گئی۔

پاکستان میں ورلڈ وائیڈ فنڈ کے سینئر اہلکار محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تجربے میں اتنی تعداد میں اس جانور کی ہلاکت اور بدبو پہلے نہیں دیکھی۔ ’یہ نکتے جتنا جانور ہے جس کا جوبن کبھی کبھی زہریلا بن جاتا ہے اور آبی حیات کی اموات ہوتی ہیں، جیسے عمان کے ساحل پر سطح پر تیرنے والے جھینگے کی اموات ہوئیں، لیکن پاکستان کی سمندری حدود میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘ جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف میرین سائنس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر راشدہ قاری، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد معظم خان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتیں، ان کا کہنا ہے کہ نوک ٹی لوکا کی ہلاکت سے اس قدر بدبو پھیل نہیں سکتی ہے۔ جو علاقے ساحل کے قریب ہیں وہاں تک تو بدبو آ سکتی ہے لیکن پورے شہر میں پھیل جائے اس میں اتنی شدت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر راشدہ قاری کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی ریسرچ نہیں دیکھی کہ اس موسم میں ان کی بریڈنگ ہوتی ہو، لیکن گرمی بہت ہے اس وجہ سے ہوسکتا ہے ان کی بریڈنگ ہوئی ہو یا کہیں اور سے یہاں آئے ہوں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت کی وجہ موسمی تغیر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے علاوہ انسان کی پھیلائی ہوئی آلودگی کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے سمندر میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان اداروں کی رپورٹوں کے مطابق صنعتی فضلے کے علاوہ گھریلو فضلہ اور کچرہ بھی سمندر برد کیا جاتا ہے، جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں عوامی دسترخوانوں پر افطار کرانے کا رجحان 200 فیصد بڑھ گیا

رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا ہے، رحمتوں کے مہینے میں جہاں مسلمان روزہ رکھتے ہیں اور عبادت کر کے اللہ کے حضور گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں وہیں اس بابرکت مہینے میں مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق روزہ داروں کو افطار کرانے کی کوشش کرتے ہیں کراچی ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔
شہری طویل لوڈ شیڈنگ اور قلت آب جیسے مسائل سے پریشان ہیں تاہم شہریوں میں افطار کرانے کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے شہر میں جگہ جگہ مغرب سے قبل عوامی دستر خوانوں پر افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مخیر حضرات کی جانب سے اللہ کی راہ میں دل کھول کر روزہ داروں کے لیے افطار کا بندوبست ہوتا ہے یہاں لوگ نہ صرف افطار کرتے ہیں بلکہ اب افطار کے لوازمات کے ساتھ ساتھ کھانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے.

سروے کے دوران مقامی تنظیم کے فلاحی سروسز کے انچارج عمران الحق نے بتایا کہ ایک جانب مہنگائی نے لوگوں کی قوت خرید محدود کی ہے پہلے تو غریب طبقہ افطار کے لوازمات سے محروم رہتا تھا لیکن اب سفید پوش افراد بھی افطار کی نعمتوں سے محروم رہتے ہیں اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے سادگی سے افطار کرتے ہیں انھوں نے بتایا کہ شہر میں صاحب حیثیت مسلمانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس مہینہ دل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں عوامی افطار دسترخوانوں کا رجحان بڑھ رہا ہے اور گزشتہ برس کی نسبت اس سال اس رجحان میں مزید 200 فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور شہر میں 4500 مقامات پر عوامی افطار دستر خوان سجائے جاتے ہیں جہاں کم و بیش 40 لاکھ افراد افطار کرتے ہیں.

اور یہ دسترخوان اورنگی ٹاؤن، سائٹ، ماڑی پور، سرجانی ٹاؤن، عزیز آباد، حسین آباد، نیو کراچی، ناظم آباد، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، کریم آباد، گولیمار، پی آئی بی کالونی، مارٹن روڈ، گارڈن، لانڈھی، کورنگی، منظور کالونی، محمود آباد، نرسری، کالا پل، جیل چورنگی، بہادرآباد، طارق روڈ، ایم اے جناح روڈ، رنچھوڑ لائن، گارڈن، سولجر بازار، لائنزایریا، کھارادر، میٹھادر، کیماڑی، شیریں جناح کالونی، اختر کالونی، ڈیفنس، ٹاور، آئی آئی چندریگر روڈ، آرام باغ، ایم اے جناح روڈ، برنس روڈ، گرومندر، صدر، حیدری، شاہ فیصل کالونی، ملیر، قائدآباد، فیڈرل بی ایریا سمیت دیگر علاقوں میں لگائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ عوامی دستر خوان شاہراہوں، سڑکوں، عوامی مقامات، بس اسٹاپس پر لگائے جاتے ہیں۔ افطار دستر خوانوں کا اہتمام مخیر حضرات دینی، ملی، روحانی جذبے کے تحت کرتے ہیں۔ مخیر حضرات کے علاوہ فلاحی وسماجی تنظیمیں بھی اپنی مدد آپ کے تحت افطار کراتے ہیں۔ یہاں لوگ خاموشی سے آتے ہیں اور افطار کر کے چلے جاتے ہیں۔ ان افطار دسترخوانوں پر لوگوں کو بغیر کسی رنگ ونسل اور مذہب کے خشوع وخضوع کے ساتھ افطار کراتے ہیں اور کھانا کھلایا جاتا ہے۔

عامر خان

کراچی کے سب سے پرانے بُک اسٹور کی تزئین و آرائش

کراچی میں واقع پاینیر بک ہاؤس (Pioneer Book House) کے مالک ظفر حسین نے لوگوں کی کتنب بینی میں عدم دلچسپی کے باعث اس بک اسٹور میں مزید سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھے، تاہم بین الاقوامی سطح پر پہچانی جانے والی مصنف منیزہ نقوی کی کوششوں کے بعد ظفر نے اپنا ارادہ تبدیل کیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس مشہور کتابوں کی دکان کے مالک ظفر حسین ایک سرگرم کارکن بھی ہیں، انہوں نے اپنی اس دکان کے بارے میں بتایا کہ ’میرے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس بُک اسٹور کو برقرار رکھیں، میں نے اس دکان کی سرمایہ کاری کے لیے نئے خیالات اور بہتر مارکٹینگ کی حکمت عملی کے بارے میں سوچا ہے، میں اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے تعمیر کی گئی اس دکان کو ایسے جانے نہیں دوں گا‘۔

پاینیر بک اسٹور کا نام زیادہ تر قانون کی کتابوں کے لیے جانا جاتا ہے، ایم اے جناح روڈ پر واقع ڈاو میڈیکل کالج، ایس ایم سائنس کالج کے قریب اس کتابوں کی دکان کو کتاب پڑھنے والوں کی جنت مانا جاتا رہا ہے خاص کر قانون پڑھنے والے طلبہ یہاں ضرور آتے ہیں۔ ظفر حسین کے مطابق ’ایک وقت تھا جب اس دکان پر لوگوں کا ہجوم اس کے بند ہونے کے وقت تک فہرست بنا کر کتابوں کا مطالبہ کرتا تھا، تاہم ہر چیز آن لائن دستیاب ہونے کے بعد اب اس کا مطالبہ کافی حد تک کم ہوچکا ہے‘۔

پاینیر بُک ہاؤس کی اب ایک نئ ویب سائٹ بھی ہے، اور کتاب پڑھنے کے شوقین افراد انہیں آن لائن حاصل کر سکتے ہیں، ظفر حسین نے اپنی دکان کی تزئین و آرائش کا بھی ارادہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا جو ایک گرافک ڈیزائنر بھی ہے اب اس کاروبار میں دلچسپی لے رہا ہے، اور یقیناً نئے خیالات جلد اس بُک ہاؤس میں بہتری لائیں گے۔ تاہم ظفر حسین کا کسی دوسرے علاقے میں اس اسٹور کو منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

کراچی میں بجلی کا بحران برقرار

عدالتی اور حکومتی احکامات کے برعکس کے الیکٹرک کی جانب سے شہرمیں بجلی کی طویل اورغیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی کا بحران بھی پیدا ہو گیا ہے اور لوگ سراپا احتجاج ہیں۔
کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے کراچی میں کئی روزسے فنی خرابیوں اور ہائی ایکسٹینشن لائنیں ٹرپ کرنے کا بہانہ بنا کر طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ مزید بڑھا دیا ہے، حکومتی اعلان کے باوجود کے الیکٹرک رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے موقع پر بھی لوڈ شیڈنگ سے گریزنہیں کر رہی، شہر کے کئی علاقوں میں لاکھوں لوگوں نے آج چوتھی سحری بھی بجلی کے بغیر ہی کی۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے کئی علاقوں میں پانی کا بھی بحران پیدا کر دیا ہے، رمضان المبارک میں دوہری تکلیف پر لوگ سراپا احتجاج ہیں اور کئی علاقوں میں لوگ سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ گلبہار نمبرایک میں لوگوں نے بجلی اور پانی نہ ہونے پر لسبیلہ سے ناظم آباد جانے والی سڑک کو بلاک جبکہ شہر کی سب سے بڑی سینیٹری مارکیٹ کو بند کرا دیا ۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے ادارے کا عملہ ہم لمحہ مصروف ہے۔ شہر میں کہیں بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی، کسی بھی علاقے میں بجلی کی عدم فراہمی پر شہری 118 پر رابطہ کرکے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے

ماضی میں کھو جانے یا پرانی یادوں کو تازہ کرنے سے متعلق انگریزی میں ’’ Nostalgia ‘ ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ گزرے ہوئے اچھے وقت کے ساتھ جذباتی یا نفسیاتی رشتہ ہوتا ہے ۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب بھی ماضی کو شاندار اور مثالی وقت ثابت کرنے کے لئے بات کی جاتی تو کہا جاتا ہے کہ یہ ’’ ناسٹلجیا ‘‘ ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ ماضی کی ہر بات کا تذکرہ ’’ ناسٹلجیا‘‘ کا نتیجہ ہو ۔ ماضی سے متعلق کچھ باتیں مستقبل کی نسلیں بھی درست تسلیم کرتی ہیں ۔

آج میں ماضی کے کراچی کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اپنے بچپن میں ، اپنی جوانی میں ، اپنی سیاسی جدوجہد کے دور میں اور اپنی سوچ کی پختگی میں وہ کراچی دیکھا ہے ۔ یہ ناسٹلجیا نہیں ہے ۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ کراچی کا مستقبل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے کراچی کے ماضی میں جانا پڑے گا۔ ہم نے کراچی کا اصل جوہر دیکھا ہے۔ کراچی کی شان (GLORY) کا مشاہدہ کیا ہے۔ کراچی اپنے اصلی جوہر کی طرف واپس جا سکتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی کراچی کا شمار دنیا کے جدید اور خوبصورت شہروں میں  ہوتا تھا۔ کراچی اس وقت سے ہی کاسموپولیٹن شہر تھا جہاں مختلف مذاہب ، قوموں، علاقوں، نسلی اور لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ تنوع اور روا دوری کراچی کی بنیادی خصوصیات تھیں۔

قیامِ پاکستان کے چند سالوں بعد یہ شہر اس خطے کا تجارتی مرکز بن گیا اور اس کا شمار جنوبی ایشیا کے امیر ترین شہروں میں ہونے لگا۔ اس شہر نے سب کو اپنے دامن میں سمویا۔ اس شہر نے کسی سے اس کی شناخت نہیں پوچھی کہ اس کا تعلق کس مذہب، ملک، قوم، قومیت، علاقے یا زبان سے ہے۔ کراچی نے سب کی شناخت کو اپنی رنگا رنگ اور متنوع شناخت کا حصہ بنایا اور ہر نئے رنگ کے ساتھ اپنے آپ کو نکھارا۔ ہم نے وہ کراچی دیکھا جس کی سڑکوں کو روزانہ دھویا جاتا تھا۔ جہاں کی شاہراہوں، مارکیٹوں اور تفریح گاہوں میں غیر ملکی سیاحوں کا رش ہوتا تھا۔ کراچی ایک ایسا شہر تھا جہاں روزانہ سفر کے دوران پاکستان کے ہر علاقے کے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی بلکہ دنیا کے تقریبا ہر ملک کے لوگوں سے ٹاکرا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کراچی کے باسی وسعت قلبی کو اپنی شخصیت کا بنیادی جزو تصور کرتے تھے۔ یہ شہر نہ صرف پاکستان کی رنگا رنگ ثقافتوں کا امتزاج تھا بلکہ گلوبل کلچر کا بھی نمائندہ تھا۔

برداشت اور روا داری کے علاوہ کراچی کی ایک اور امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ یہ شہر اپنے مزاج میں ترقی پسند اور جمہوریت نواز تھا۔ یہ تمام بڑی جمہوری ، ترقی پسند، مظلوم اقوام اور طبقات اور محنت کشوں کی تحریکوں کا مرکز تھا۔ یہاں سب سے زیادہ نظریاتی اور تربیت یافتہ سیاسی کیڈر موجود تھا۔ یہاں سیاست اور ادب کے حوالے سے مباحثے جاری رہتے تھے۔ کراچی کے کافی اور ٹی ہاوسز میں اپنے عہد کے فلسفیانہ مسائل زیر ِبحث رہتے تھے۔ صدر اور ریگل کے کافی ہاوسز میں ان لوگوں سے ملاقات ہو جاتی تھی جنہیں آج بڑے لوگوں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سیاسی کارکنوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں، گلو کاروں اور فن کاروں کے پنپنے کے لئےاس شہر کی فضا بہت ساز گار تھی۔

یہ شہر سید سبطِ حسن، شوکت صدیقی، انتظار حسین، ابنِ صفی، جوش ملیح آبادی، مصطفی زیدی ، زیڈ اے بخاری، رئیس امروہی، جون ایلیا، اسلم فرخی، دلاور نگار، مولوی عبد الحق، ابنِ انشا اور بیشمار لوگوں کا مسکن ہے۔ یہاں سب سے زیادہ لٹریچر شائع ہوتا تھا۔ یہاں ہم نے گھروں میں محافل ، مشاعرہ اور موسیقی کی روایات دیکھیں ۔ سڑکوں اور پارکوں میں مشاعرے ہوتے دیکھے۔ سب سے زیادہ سنیما ہال کراچی میں تھے۔ تھیٹرز کے حوالے سے بھی یہ شہر اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ ایک اور امتیازی وصف کراچی کا یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ فلاحی اور خیراتی ادارے اور مخیر حضرات ہیں۔ چیریٹی (charity) کے کاموں میں کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں فوقیت رکھتا ہے۔

کراچی میں عظیم عبد الستار ایدھی پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ ایدھی فاونڈیشن قائم کیا۔ اس شہر میں روتھ لیوئس Ruth Lewis، فاطمہ لودھی، حکیم سعید، نفیس صادق جیسے لوگوں نے جنم لیا۔ کراچی کو اس بات پر فخر ہے کہ یہاں ڈاکٹر ادیب رضوی جیسا فرشتہ انسان رہتا ہے۔ آج بھی سب سے زیادہ چیریٹی اس شہر میں ہوتی ہے۔ اسی شہر میں قائد اعظم محمد علی جناح جیسے سیاستدانوں نے جنم لیا جنہوں نے اس خطے کی تاریخ بدل دی۔ جمشید نسروانجی، ہر چنداری وشن داس، عبدالستار افغانی، بے نظیر بھٹو، سید منور حسن اور کئی بڑے سیاستدانوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ آغا خان سوئم، مولانا تقی عثمانی، علامہ رشید ترابی اور کئی مذہبی رہنما اور اسکالرز کا مسکن کراچی ہے۔ ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی، ڈاکٹرعبد القدیر خان، ڈاکٹر عطا الرحمن، پرویز ہود بھائی اور دیگر سائنسدان اور ماہر ینِ تعلیم کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

فن، ادب، ثقافت، کھیل اور دیگر شعبوں کی کئی اہم شخصیات نے یہاں جنم لیا اور یہیں مدفن ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پورے ملک کو 60 فیصد سے زائد اور سندھ کو 80 فیصد سے زائد ریونیو کراچی دیتا ہے۔ کراچی میں تمام بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ہیڈ آفس ہیں، یہاں کثیر القومی کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔ ملک کی زیادہ تر صنعتیں کراچی میں ہیں۔ بندر گاہ کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے سب سے بڑے ادارے یہاں کام کرتے ہیں۔ نجی شعبے میں سب سے زیادہ روزگار کراچی فراہم کرتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج یہاں ہے۔ کراچی پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے۔

پاکستان کے لئے کراچی رول ماڈل تھا۔ جمہوری اور بنیادی حقوق کی تحریکوں میں کراچی ہراول دستے کا کردار ادا کرتا تھا۔ میں اس شہر سے نکالا بھی گیا اور شہر کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ایک متنوع، ترقی پسند ، خوشحال، پر امن اور روادار معاشرہ کراچی میں تشکیل پذیر ہو چکا تھا اور اس بات کو آگے بڑھاتا تھا لیکن اس عظمت اور شاندار روایت کے حامل کراچی کے خلاف بڑی سازشیں ہوئیں۔ یہ سازش صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے خلاف ہے۔ میں کراچی میں نہیں، کراچی مجھ میں رہتا ہے۔ میرے اندر برنس روڈ کی ثقافت، کھارادر کی روایات، ناظم آباد کی رونقیں نمایاں ہیں۔ تمام تر سازشوں کے باوجود کراچی کا اصل جوہر ختم نہیں کیا جا سکا ۔ کراچی کو اپنے اصل جوہر کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام دیگر شعبوں کے لوگ بھی کر سکتے ہیں لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی۔ کراچی کو اس کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے اور کراچی کے ذریعے پاکستان کا مستقبل تابناک بنایا جا سکتا ہے۔

نفیس صدیقی

شاباش جامعہ کراچی

یوں تو ہماری جامعات تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے آئے دن خبروں میں رہتی ہیں اور طلبہ کی بہتری کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن بہت دیر بعد سہی، جامعہ کراچی سے ایک اچھی خبر سننے کو ملی جب حال ہی میں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی سطح پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا اور انہیں تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون کے ذریعے کروائے گئے ایک پروگرام پر پہلی پوزیشن سے نوازا گیا۔ اگر بات کی جائے پاکستان کے تعلیمی نظام کی تو اِس میں ہمیں صرف خامیاں اور کوتاہیاں ہی نظر آتی ہیں لیکن اِس کے باوجود بھی ملکی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست پائی جاتی ہے، جنہوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا مگر یہ سب ماضی کا قصہ بن چکے، اب تو شازو نادر ہی کوئی اچھی خبر سننے کو ملتی ہے۔

یہاں میں جامعہ کراچی کا ذکر کرنا نہیں بھولوں گا جو نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا بھر میں صف اول کی جامعات میں شمار ہوتی تھی اور اِس جامعہ نے ڈاکٹر عشرت حسین، شفی نقی جامعی، ثانیہ سعید، وحید مراد، حسینہ معین، پروفیسر پیرزادہ قاسم اور عطاءالرحمان سمیت کئی نامور شخصیات کو اونچا مقام دیا، جنہوں نے آگے چل کر ملک کا نام روشن کیا تاہم کچھ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملکی بدنامی کا باعث بھی بنے۔ لیکن آج کل ہمیں جامعہ کراچی سے متعلق صرف رشوت خوری، نا انصانی، سرقہ بازی سمیت بری خبریں ہی سننے کو ملتی ہیں، ایسے میں جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کرنا قابلِ ستائش ہے۔ ویسے تو ریٹنگ کے چکر میں اپنی جامعات کی برائیاں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ہمارے میڈیا کا کوئی ثانی نہیں البتہ جہاں جب کوئی اچھائی کی طرف پیش رفت ہو تو میڈیا اِس سے لاتعلقی کا اظہار کردیتا ہے، تاہم میں تو ایکسپریس کے پلیٹ فارم سے اِس قابل تعریف اقدام کو لوگوں تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں تاکہ وہ لوگ جو ہمارے تعلیمی نظام سے مایوس ہوکر اپنے بچوں کو جامعات میں نہیں بھیجتے اور بہت سے مخالفین اِس بات کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ملک کی تمام جامعات کو تالے لگ جائیں اور جہالت کا بازار مزید گرم ہو، مگر میں انہیں کہنا چاہوں گا۔

’’ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز سے ساقی‘‘

او آئی سی نے تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون کے ذریعے رکن مسلم ممالک کی بڑی جامعات میں نوجوانوں کے لئے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے، جسے ’ماڈل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اِس پروگرام کا اصل مقصد ان مسلم ممالک میں سفارت کاری کی جانب رجحان رکھنے والے نوجوان طلبہ کی مہارتوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے نہ صرف ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے وطن عزیز کا نام روشن کریں بلکہ اِس کے ذریعے مسلم اُمہ کے مسائل بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے حل کر سکیں۔ او آئی سی سے الحاق شدہ اِس پرگروام میں ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، فلسطین، سعودی عرب، اردن، آزربائیجان، بنگلادیش، لبنان سمیت مختلف اسلامی ممالک کی جامعات میں ’ماڈل آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کے نام سے 20 سے زائد کلبز بنائے گئے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت 3 جامعات کو نمائندگی کا موقع دیا گیا جن میں ایک نام جامعہ کراچی کا بھی تھا اور اِس پروگرام کے تحت جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی اور شعبہ کے چیئر پرسن کی زیرنگرانی یہ پرگروام منعقد کرائے گئے۔

ان پروگرامز میں چیئر پرسن سمیت دیگر پروفیسرز نے بھی طلبہ کی رہنمائی کی بلکہ او آئی سی کے ممبران نے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سینئر طالبات کو موقع فراہم کرتے ہوئے رطابہ طارق کو ملکی کوآرڈینٹر اور حاجرہ محمود کو کلب کا صدر منتخب کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے شعبے کے پروفیسرز کے ساتھ مل کر سینئز اور جونیئرز طلبہ کے انٹریوز لیے اور ایک ایسی ٹیم منتخب کی جو نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ پاکستان کے لیے بھی فخر کا باعث بنی۔ اِس پروگرام کے تحت 10 تعلیمی سیشن کروائے گئے، جس میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے نامور پروفیسرز نے مختلف موضوعات پر لیکچرز دیئے اور پھر اِن میں سے ہی طلبہ نے سیشن کے موضوع منتخب کئے، بعد میں جس پر تمام طلبہ کو ہر ملک کی نمائندگی دی جاتی اور پھر وہ اپنے ملک کا نقطہِ نظر پیش کرتے، آخر میں ایک قرارداد پیش کی جاتی جس کی روشنی میں تمام مسائل کے حل پیش کیے جاتے۔

سیشن میں طلبہ نے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے چیدہ چیدہ نکات پیش کیے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مسلم اُمہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ تمام ممالک کے کلبز میں او آئی سی یوتھ کے ڈائریکٹر جنرل اور ملکی کوآرڈینٹر، تنظیم اسلامک کانفرنس یوتھ فورم برائے مکالمہ و تعاون کے پروجیکٹ اسسٹنٹ سمیت دیگر اہم افراد نے اِن سیشنز کی نگرانی کی اور ملکی کوآرڈینٹرز نے اِن کلب کی ایک حتمی رپورٹ بنا کر پیش کی۔

اِس پروگرام کے اختتام پر آذربائیجان میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اِن سیشن کی نگرانی کرنے والے ممبران کی رپورٹس کی بنیاد پر جامعہ کراچی کے طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پہلی پوزیشن سے نوازا گیا، جب کہ جامعہ کراچی کی جانب سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے رطابہ طارق نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔ اِس پرگروام میں شریک تمام کلبوں کی ایک ملکی کانفرنس بھی ستمبر میں پاکستان میں منعقد کی جائے گی، جس میں یہ تمام طلبہ شریک ہوکر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو دنیا بھر میں اجاگر کریں گے اور یوں انہیں ایک پلیٹ فارم میسر ہو گا جس کے ذریعے وہ آگے چل کر آو آئی سی میں اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں گے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا گو کہ ہماری منزل ابھی بہت دور ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ جہالت کا یہ اندھیرا ایک دن ضرور ختم ہو گا اور یہی نوجوان تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے ملک وقوم کا نام روشن کریں گے کیوں کہ تعلیم ہی واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک قوم بنا سکتی ہے۔

’’ دل بدل جائیں گے، تعلیم بدل جانے سے‘‘

کامران سرور

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مسائل

پاکستان کا پہلا دارالحکومت اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی قائد اعظم محمد علی جناح کا مولد و مسکن، رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ بندرگاہ اور ملک کا صنعتی و تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں روزگار کے مواقع بھی بہت زیادہ ہیں۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا میڈیا سینٹر، سب سے بڑا تعلیمی مرکز اور سب سے زیادہ شرح خواندگی رکھنے والا شہر ہے۔شہر کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زائد ہے۔ مختلف وفاقی، صوبائی اور ضلعی ٹیکسز کی صورت میں کراچی ملک اور صوبے کو سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرتا ہے۔ انتہائی دکھ اور تشویش کی بات یہ ہے کہ کراچی کے لیے وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کی طرف سے منظم اور سنجیدہ کوششوں اور مالیاتی وسائل کی بوجوہ بہت کمی رہی ہے۔

کراچی کے بڑے بڑے مسائل میں پانی کی فراہمی، سیوریج نظام، پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور پلوں کی ابتر صورت، برساتی پانی کی بروقت نکاسی نہ ہونا، ٹریفک مینجمنٹ، پبلک ہیلتھ کا ناقص نظام، پرائمری اور سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری تعلیم کی سرکاری سطح پر فراہمی میں حکومتوں کی عدم دلچسپی، کچی آبادیوں کا پھیلاؤ، جرائم میں روز بہ روز اضافہ، اسپورٹس اور تفریحی سہولیات کی عدم فراہمی، سرکاری زمینوں اور نجی املاک پر قبضے حتیٰ کہ ندی نالوں اور دیگر آبی گزر گاہوں میں مکانات کی تعمیر، کھیل کے میدانوں، پبلک پارکس اور دیگر ایمینیٹی پلاٹس پر قبضہ مافیا کا راج اور دیگر کئی مسائل شامل ہیں۔ ان میں سے کئی مسائل کے حل کے لیے لمبی چوڑی منصوبہ بندی یا بھاری فنڈز کی بھی ضرورت نہیں بلکہ یہ مسائل محض چند انتظامی اقدامات سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔

کراچی کو آج کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ رینجرز کی جدوجہد کے بعد کراچی میں امن و امان کی صورتحال خاصی بہتر ہے تاہم اسٹریٹ کرائمز کی وجہ سے شہری اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ خصوصاً ماس ٹرانزسٹ منصوبے التوا میں پڑے ہیں۔ ماڑی پور تا سہراب گوٹھ، لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کا افتتاح محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ہوا تھا لیکن یہ تاحال تعمیر کا منتظر ہے۔ متروکہ سرکلر ریلوے کو اب دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے شہری اللہ سے دعا کر رہے ہیں۔ سرجانی ٹاؤن تا ٹاور کراچی گرین لائن بس پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر ہوتی جا رہی ہے۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے K-4 منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایک کے بعد دوسری تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ سیوریج کا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔ کراچی کا ایک مسئلہ رہائشی مکانات کی فلیٹس یا اپارٹمنٹس میں تبدیلی بھی ہے۔

120،200 یا 400 گز کے جس ایک یا دومنزلہ مکان میں دو خاندان رہائش پذیر تھے، شہری ادارے ان پلاٹس پر کئی منزلہ فلیٹس یا اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کے اجازت نامے جاری کر رہے ہیں۔ یوں آٹھ دس افراد کی رہائش والی جگہ پر اب پچاس ساٹھ یا اس سے بھی زیادہ افراد رہائش اختیار کر رہے ہیں۔ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں میں بھرپور سیاسی عزم اور اسٹیبلشمنٹ میں پروفیشنل اہلیت کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور کراچی کی نمایندگی رکھنے والی یا نمایندگی کی منتظر جماعتوں کو مل کر کراچی کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار مخلصانہ طور پر ادا کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور میئر کراچی وسیم اختر کو کراچی کی بھلائی کے لیے باہمی تعاون کے جذبے سے مل کر کام کرنا چاہیے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز