شہر قائد ۔ قیادت سے محروم کیوں؟

کبھی لالو کھیت مرکز کی حکومت بدل دیا کرتا تھا۔ اب یہ کروٹ بھی نہیں بدل سکتا۔
کیسی بلندی کیسی پستی۔ ہر حکمران کی کوشش ہوتی تھی کہ لالو کھیت تسخیر کرے۔ گوہر ایوب اپنے والد کی فتح کا جلوس یہیں سے لے کر گزرے۔ دلوں میں گلیوں میں آگ لگا دی۔ بھٹو صاحب نے سپر مارکیٹ اور زمیں دوز راستہ بنا کر لالو کھیت فتح کرنے کی کوشش کی۔ اور جب افتتاحی تقریب میں بعض لوگوں نے جوتے دکھائے تو کمال حاضر دماغی سے انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے جوتے مہنگے ہوگئے ہیں۔ جنرل ضیا کے خلاف تحریک کا آغاز بھی لالو کھیت سے ہی ہوا تھا۔ کسی کی ریلی تین ہٹی اور ڈاکخانے سے گزرنے میں کامیاب ہو جاتی تو اسے فاتح عالم سمجھا جاتا تھا۔

لالو کھیت کا تھانیدار ہونا بھی کالے پانی کی سزا ہوتا تھا۔ یہاں کے نوجوان بزرگوں کو قائل کرنا کسی بھی ایس ڈی ایم کے لیے اپنی عملداری کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب لالو کھیت کے لیڈر لالو کھیت میں ہی رہتے تھے۔ ڈیفنس کلفٹن میں نہیں ۔ وہ یہاں کے دُکھ درد میں غمی شادی میں شریک ہوتے تھے۔ جنازے کو کندھا دینے میں پیش پیش۔ کراچی کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ طاقت گھٹ گئی ہے۔ شہر پھیل گیا ہے۔ زور سمٹ گیا ہے۔ تجارت زوروں پر ہے۔ متانت منہ چھپائے پھرتی ہے۔ دُنیا میں ساحلی شہر راج کرتے ہیں۔ نیو یارک
امریکا کی سیاست اور معیشت کنٹرول کرتا ہے۔ اگر چہ دارُالحکومت واشنگٹن ہے۔ بھارت میں صدر مقام دہلی ہے۔ لیکن بات بمبئی کی چلتی ہے۔

شہر قائد کو آخر کیا ہوا ہے۔ جسے پورے پاکستان کی قیادت کرنی چاہئے تھے اب وہ خود قیادت سے محروم ہے۔ اس شہر کا تو چھوڑیے اس کے تو گلی محلّے قیادت کو ترس رہے ہیں۔ تقسیم اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ایک ضلع سے پانچ اضلاع، پھر 18 ٹائون، پھر کچھ اضلاع، پاکستان بننے کے فوراً بعد جن سیاسی جماعتوں کا یہاں غلغلہ تھا۔ اب ان میں سے کوئی بھی پیش منظر میں نہیں ہے۔ کہاں ہے اس وقت کی مسلم لیگ، کیا کیا ہستیاں تھیں، لیاقت علی خان، چوہدری خلیق الزماں پھر جماعت اسلامی نے غلبہ حاصل کیا۔ پروفیسر غفور احمد، پروفیسر محمود اعظم فاروقی، منور حسن، جمعیت علمائے پاکستان، مولانا شاہ احمد نورانی، شاہ فرید الحق، یہ شخصیتیں نکلتی تھیں تو دائیں بائیں نوجوان مقرر ہوا کے تازہ جھونکوں کی طرح، ظہور الحسن بھوپالی یاد آتے ہیں، دوست محمد فیضی، حافظ تقی۔

بائیں بازو کے کراچی بدر طلبہ، فتحیاب علی خان، معراج محمد خان، علامہ علی مختار رضوی، نفیس صدیقی، جوہر حسین، ایشیا سرخ ہے، ایشیا سبز ہے۔ اب تو ایشیا صرف زرد ہے، کراچی سے دارُالحکومت چھین لیا گیا ہے۔ لیکن کراچی سے اس کی مرکزیت، اہمیت اور اقتصادی وقعت نہیں چھینی جا سکی۔ کراچی میں روزانہ اربوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ روزانہ کروڑوں کا ٹیکس وفاق اور صوبے کو ملتا ہے۔ کراچی کو سندھ کا صدر مقام ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں پشاور سے زیادہ پشتون، کوئٹہ سے زیادہ بلوچ، لاہور سے زیادہ پنجابی، ملتان سے زیادہ سرائیکی، مظفر آباد سے زیادہ کشمیری، گلگت سے زیادہ بلتی، فاٹا سے زیادہ قبائلی بستے ہیں۔ سندھیوں کا تو یہ اپنا شہر ہے۔ نئے پرانے سندھی نہیں اب سب صوبائی حیثیت میں سندھی، اور قومی حوالے سے پاکستانی ہیں۔

آج یہ شہر قیادت کو ترس رہا ہے۔ سب کی نظریں اس پر ہیں۔ کبھی اس پر لاہور سے سیاسی لشکر کشی ہوتی ہے ۔ کبھی پشاور سے، کبھی اندرون سندھ سے۔ اس کی زمینوں پر سب کی نگاہیں ہیں۔ اس کے ساحلوں کا حرص ہے لیکن اس کا درد کوئی نہیں بانٹتا۔ تین دہائیاں قبل اس کے شہریوں کو ایک شناخت دی گئی ۔ نشتر پارک میں جلسہ ہوا۔ موسلا دھار بارش میں سب جم کر بیٹھے رہے۔ پھر آسمان کی آنکھ نے دیکھا کہ کیا صوبہ کیا وفاق۔ اس کی مرضی کے بغیر نہ حکومت بنتی تھی۔ نہ حکومت برطرف ہوتی تھی۔ اس نے اپنے حقوق بھی حاصل کیے۔ اختیارات بھی۔

لیکن جب سیاست میں لسانی شدت پسندی غالب آتی گئی۔ اسلحے کا استعمال ہونے لگا۔ پاکستانی پاکستانی کو ہلاک کرنے لگا۔ مہاجر مہاجر کو مارنے لگا۔ لسانی بنیادوں پر خون بہنے لگا۔ مائوں کی گود اُجڑنے لگیں۔ باپوں سے ان کے سہارے چھینے جانے لگے تو یہ طاقت کمزور ہوتی گئی۔ شناخت دھندلی ہونے لگی۔ یہ شہر ایک طویل عرصے بعد خوبصورت شاہراہیں حاصل کر رہا تھا۔ ہرے بھرے پارک، روزگار کے مواقع، سب زبانیں بولنے والے آپس میں گھل مل رہے تھے۔ اس شہر کے ہاتھوں میں طاقت کا مرکز آرہا تھا۔ یہ طاقت تکبر میں بدل گئی۔ یہ کامیابی دماغ کو مائوف کر گئی۔

اب کل کے طاقتور، سب سے کمزور ہیں۔ ملک پر راج کرنے والے اب محلّوں میں بھی قابل قبول نہیں ہیں ۔ جس طرح خراب حکمرانی نے پورے پاکستان میں بے سکونی، بے چینی اور افرا تفری پیدا کی ہے۔ کراچی میں بھی اب یہی حال ہے۔
یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ اب روزانہ لاشیں نہیں گرتیں۔ اب اس کی شاہراہیں بوری بند میتیں پیش نہیں کرتیں۔ سب سے بڑے تجارتی و صنعتی مرکز کی روشنیاں بحال ہو گئی ہیں۔ کارخانوں کی چمنیوں سے پھر دھواں نکلنے لگا ہے۔ اب اچانک شہر بند نہیں ہوتا۔ کئی کئی روز کی ہڑتالیں نہیں ہوتیں۔ دفعتاََ دکانوں کے شٹر گرنا شروع نہیں ہوتے۔ کالج اسکولوں یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت کا سلسلہ نہیں رکتا۔

لیکن ملک کی اس سب سے بڑی آبادی کا قائد کون ہے۔ شہروں میں رونقیں۔ تجارتی سرگرمیاں ۔ صنعتی گہما گہمیاں، بازاروں میں ہجوم، سب کی ضرورت ایک فعال قیادت ہوتی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اس شہر کو پورے ملک کی قیادت فراہم کرنی چاہئے۔ یہ بجا طور پر منی پاکستان ہے، پاکستان کی روح ہے، یہاں وفاق کی وحدتوں کی نمائندگی بھی ہے۔ دوسرے علاقوں کی بھی، یہاں سب سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں۔ یہاں بانیٔ پاکستان کی جائے ولادت بھی ہے، مدفن بھی، یہاں بانیان پاکستان کی اولادیں بڑی تعداد میں ہیں۔ نئے وطن کے لیے اپنے بستے گھر بار چھوڑ کر آنے والوں کی نسلیں یہاں سانس لے رہی ہیں۔

ملک میں سب سے زیادہ محنت کش، کارکن یہاں ہیں، کارپوریٹ ایگزیکٹو یہاں ہیں۔ آجر یہاں ہیں، ملک بھر کی صنعت و تجارت کے ایوانوں کا وفاق یہاں ہے۔ پھر یہاں سے ملک کو قیادت کیوں نہیں مل سکتی۔ جدید ترین ٹیکنالوجی یہاں دستیاب ہے۔ کال سینٹرز ہیں، سافٹ ویئر، یہاں تشکیل دئیے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے امراض قلب کے ادارے کو توسیع دے دی ہے۔ جگہ جگہ اس کے مراکز قائم کر رہی ہے۔ کوئی سیاسی پارٹی ہو، مذہبی تنظیم ہو، این جی او ہو، یونیورسٹیاں، ان کو جائزہ لینا چاہئے کہ دُنیا کے اکثر ملکوں میں ایسے شہروں سے وابستہ ذہین شخصیات قوموں کو آگے لے جانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ کراچی سندھ کا غرور ہے۔ پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ منفی سوچ دم توڑ رہی ہے۔ مثبت ہوائیں چل رہی ہیں۔ واٹر کمیشن اس کے پانی کو بہائو دینے کے لیے جدو جہد کررہا ہے۔ سپریم کورٹ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے فیصلے دے رہی ہے۔ شہر کی رونقیں واپس آرہی ہیں۔ اسکی قائدانہ اہلیت بھی واپس آنی چاہئے۔ دل بڑا کرنے۔ انا کے خول سے باہر نکلنے کا لمحہ آگیا ہے۔

محمود شام

Advertisements

کراچی میں ائرکنڈینشنڈ بس سروس کا آغاز

کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے ائرکنڈینشنڈ پیپلز بس سروس کا آغاز ہو گیا۔ پیپلز بس سروس کی بسیں داؤد چورنگی لانڈھی سے ٹاور کے روٹ پر چلیں گی، ابتدائی طور پر 10 بسیں چلائی گئی ہیں۔ پیپلز بس سروس صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک چلے گی۔ بسوں کا کرایہ 20، 30 اور 40 روپے ہے،جن میں 30 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

بس کے افتتاح کے بعد اس میں ملیر سے آئی آئی چندریگر روڈ تک سفر کرنے والے ایک مسافر عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ کراچی میں بسیں تھیں ہی نہیں ایسے میں ایئرکنڈیشنڈ بس کا چلنا شہریوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ۔  انہوں نے مزید کہا کہ بس نہ صرف آرام دہ ہے بلکہ یہ مستقل چلتی رہتی ہے جس کی وجہ سے سفر بھی بہت جلدی اور سکون سے کٹ جاتا ہے۔ عمران اسماعیل نے حکومت سے اپیل کی کہ ناصرف ان بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے بلکہ ماضی کی طرح ٹرانسپورٹ پراجیکٹ کو بند کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر پر نظر رکھی جائے اور اس منصوبے کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے۔

’کراچی میں بجلی کے بحران کا ذمہ دار کے-الیکٹرک‘

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں جاری بجلی کے بحران کا ذمہ دار شہر میں بجلی کی تقسم کار کمپنی کے-الیکٹرک کو قرار دے دیا جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے گیس کا کوٹہ بڑھایا جائے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیپرا کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے تین روزہ دورے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی گئی جس کا جائزہ لینے کے بعد ریگولیٹر نے فیصلہ کیا کہ بجلی کی مکمل صلاحیت کے بغیر اس کی پیداوار سمیت تقسیم کار کمپنی کے خلاف بجلی کی افادیت میں متعدد ذمہ داریوں کی خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ شہر میں لوڈ منیجمنٹ کے حوالے سے کے-الیکٹرک کے دعوے حقائق کے برعکس ہیں، جبکہ ادارے کی جانب سے شہر میں اضافی لوڈشیڈنگ کو گیس کی فراہمی میں کمی سے جوڑنا بھی غلط ہے۔ نیپرا رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک کے تقسیم کار نظام میں خرابی کی وجہ سے بھی شہر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ دوسری جانب نیپرا رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ کے-الیکٹرک کو سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے موصول ہونے والی گیس سپلائی بہت کم ہے، لہٰذا کے-الیکٹرک کے شیئرز کے 24 فیصد مالک ہونے کے ناطے حکومت گیس کی سپلائی کو بڑھاتے ہوئے 190 کیوبک فیٹ پر ڈے (ایم ایم سی ایف ڈی) تک پہنچائے کیونکہ کراچی میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسے 50 سے 60 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سپلائی کی جا رہی ہے۔

نیپرا کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ’ادارے نے مندرجہ بالا تمام خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ کے-الیکٹرک کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ نیپرا کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایت کے جواب میں کے-الیکٹرک کی ترجمان سعدیہ ڈاڈا کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ نیپرا کی مکمل رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے جبکہ 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سپلائی کے احکامات ایک مثبت اقدام ہے جس کے بعد کے-الیکٹرک شہر میں بجلی کی سپلائی کو معمول پر لانے کی اہل ہو جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک کی رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر بجلی کے نرخ متعین نہیں کیے گئے ہیں جبکہ گیس سے چلنے والے پلانٹس کے لیے متبادل ایندھن کا بھی اختیار نہیں دیا گیا، لہٰذا موجودہ صورتحال میں کے-الیکٹرک کے پاس متبادل ایندھن استعمال کرنے کا آپشن موجود نہیں۔ ادھر نیپرا کا کہنا تھا کہ اس کی 5 رکنی کمیٹی نے 11 اپریل سے 13 اپریل تک کے-الیکٹرک کا دورہ کیا اور گیس کی کمی کی وجہ سے شہر میں ہونے والی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تحقیقات کیں۔

 کمیٹی نے کے-الیکٹرک حکام سے تفصیلی بات چیت کی اور ادارے کے اہم بجلی پیداوری پلانٹس کی جانچ پڑتال کی، علاوہ ازیں ایسے علاقوں کا دورہ بھی کیا جہاں اضافی لوڈ شیڈنگ جاری ہے اور وہاں سے عام لوگوں کا ردِ عمل بھی سنا جس کے بعد انہوں نے حکومت کو ایک ایڈوائزری بھی ارسال کی۔ نیپرا نے اپنی رپورٹ کے بعد کے-الیکٹرک کو ایس ایس جی سی کی جانب سے دی جانے والی گیس میں کمی کی وجہ سے ہدایت جاری کی تھی کہ وہ کورنگی کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹ (کے سی سی پی پی) اور بن قاسم پاور اسٹیشن (بی کیو پی ایس) ٹو کو فعال کرے۔

بشکریہ روزنامہ ڈان اردو

کےالیکٹرک، سوئی سدرن معاملات طے نہ ہو سکے، عوام پریشان

کراچی الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کے درمیان معاملات تاحال طے نہیں پا سکے، دونوں اداروں کی جنگ میں عوام کو لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑ رہا ہے۔ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 3 سے 9 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ، جس کے باعث شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں، لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق اضافی گیس ملتے ہی جنریشن میں مزید 500 میگاواٹ شامل ہو گی اور شہر میں بجلی کی فراہمی معمول پر آجائے گی۔ دوسری جانب سوئی سدرن حکام کی جانب سے دوسرا مؤقف سامنے آیا ہے کہ کے الیکٹرک نے گیس بل تنازع کے حل کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا۔ سوئی سدرن حکام کا مزید کہنا ہے کہ کے الیکٹرک اربوں روپے گیس بل کے لیے غیر جانبدار اکاونٹنٹ کا انتخاب کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

نیپرا کا کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی تحقیقات کا اعلان

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کراچی میں بجلی فراہم کرنے کے ذمہ دار ادارے کے-الیکٹرک کی جانب سے شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا۔ نیپرا نے شدید گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی کے ستائے شہریوں کی سُن لی اور گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تحقیقات کا اعلان کر دیا۔ نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نیپرا نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کےالیکٹرک کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی 11 سے 13 اپریل تک کراچی کا دورہ کرے گی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی عوامی شکایات کا جائزہ لے گی۔ واضح رہے کہ شہر میں درجہ حرارت بڑھتے ہی مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے، دن اور رات کے اوقات میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بجلی کی بندش نے شہریوں کو دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔

کراچی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ

لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے تمام وعدوں اور دعوؤں کے باوجود موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں ایک بار پھر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران صرف کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ملکی اقتصادیات کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ میٹرک کے بیشترامتحانی مراکز بھی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ نہیں۔ بجلی کے اس سنگین بحران پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک سے وضاحت طلب کرنے کے علاوہ تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

جبکہ سندھ اسمبلی میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کے خلاف قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود بحران میں ہنوز کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ شہر قائد ملکی اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ یہاں صنعتی پہیے کی روانی میں آنے والی رکاوٹ کے اثرات پوری قومی معیشت پر پڑتے ہیں۔ تیرہ سے چودہ گھنٹے کی غیر اعلانیہ بجلی کی بندش سے معاشی و تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں ۔ شہر کی تاجر تنظیموں کی جانب سے جاری بحران کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ سے 72 گھنٹے میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بصورت دیگر بلوں کی ادائیگی بند اور علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی۔

دوسری طرف کے الیکٹرک نے بجلی کی بندش کے دورانیے میں اچانک اضافے کا اہم سبب سوئی سدرن کی جانب سے گیس کی کم فراہمی کو قرار دیا ہے جو نہایت حیرت انگیز ہے ۔ ایسی صورت میں جب صارفین سے مختلف سرچارج کی مد میں مہنگے بل وصول کئے جا رہے ہوں ، کے ای کی طرف سے فرنس آئل کا استعمال نہ کرتے ہوئے صرف گیس پر انحصار کرنا نا قابل فہم ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ نیپرا کی جانب سے بجلی بحران کا نوٹس لینے اور اس ضمن میں صورتحال کے بغور جائزے کیلئے کمیٹی قائم کر نے سے کراچی کے شہریوں کو طویل لوڈشیڈنگ کی اذیت سے نجات ملنے کی کوئی راہ ہموار ہو سکے گی جو صنعت کاپہیہ رواں رکھنے کیلئے بھی ضروری ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

پاکستان کا پہلا 6 اسٹار ہوٹل کراچی میں بنے گا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کراچی میں جب سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، نہ صرف ثقافتی گہماگہمی لوٹ آئی ہے، بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی بحال ہوئی ہیں۔ اور یقیناً یہ خبر پورے پاکستان اور خاص طور سے کراچی والوں کے لئے خوشگوار سرپرائز ہو گی کہ ’پاکستان کا پہلا چھ ستارہ ہوٹل‘ کراچی ہی میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے روح رواں کراچی کے ایک ارب پتی تاجر حبیب اللہ خان ہیں۔

’پاکستان ٹوڈے‘ کے پبلشر بابر نظامی نے ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ خصوصی بات چیت میں بتایا کہ ’’حبیب اللہ خان میڈیا اور لائم لائٹ سے بہت دور رہنے والی شخصیت ہیں۔ انہوں نے ہمیں پاکستان کے پہلے ’سکس اسٹار ہوٹل‘ تعمیر کرنے سے متعلق تفصیلات تو ظاہر کر دی تھیں۔ لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ ’’رہنے دیں، انٹرویو شائع نہ کریں۔ لیکن، بالآخر، ہم نے عارف نظامی صاحب سے ان کے قریبی تعلقات کے سبب منا ہی لیا۔‘‘ اُنھوں نے بتایا کہ ’’ہوٹل کراچی میں اسی جگہ تعمیر ہو گا جہاں اس وقت ہوٹل میٹروپول واقع ہے، یعنی شاہراہ فیصل کے آخری کونے پر۔‘‘

بقول حبیب اللہ، ’’ہم ایک ڈسٹرکٹ بنا رہے ہیں جو چار مختلف جز پر مشتمل ہو گا اور ان میں سے ایک جز 6 اسٹار ہوٹل ہے۔ ہوٹل کی سہولت کو شیئر کرتے برانڈ اپارٹمنٹ بھی ہوں گے۔ دراصل ہم شہر کے اندر ایک اور شہر بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انتھک کام کر رہے ہیں۔‘‘ ہوٹل کی تعمیر کے لئے کراچی کے فنانشیل ڈسٹرکٹ میں واقع چار ایکٹر کے رقبے پر موجود متروکہ ’ہوٹل میڑوپول‘ حبیب اللہ خان خرید چکے ہیں۔ اس سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ’’ہوٹل میڑوپول کے سابق مالکان پارسی تھے جو ایک عشرے سے ہوٹل کو فروخت کرنے کی کوششوں میں تھے۔ ہوٹل کی خریداری میں بہت سی پارٹیوں نے دلچسپی لی۔ لیکن، گنتی کے چند کے پاس ہی جلد ادائیگی کے لئے لیکوڈیٹی اور ہوٹل خریدنے کی لگن موجود تھی۔ اللہ کے فضل سے ہم نے دو مہینوں کے اندر ڈیل مکمل کر لی۔‘‘

 وسیم صدیقی

بشکریہ وائس آف امریکہ