ایم کیو ایم، نامعلوم افراد

کراچی کی سیاست پھر ایک نئے بحران کا شکار ہو گئی۔ گورنر سندھ محمد زبیر عمر کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، پاک سرزمین پارٹی سے اتحاد کے لیے دباؤ کا شکار تھے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ فاروق ستار کو ایم کیو ایم کا سربراہ کور ہیڈ کوارٹر میں بنایا گیا تھا ۔ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے ملاپ کا تجربہ فی الحال ناکام ہو گیا۔ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے خلاف سندھ کی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کارروائی کا فیصلہ کر لیا ۔ سندھ کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ڈائریکٹر نے اپنے ادارے کے سربراہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ کراچی کے سابق میئر ڈاکٹر فاروق ستار، سابق ناظم مصطفیٰ کمال اور نائب ناظمہ نسرین جلیل اپنے ادوار میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان دونوں سربراہوں نے اپنے ادوار میں کراچی کی پہلی سرکاری سٹی پورٹ اینڈ ٹیلیگراف (P&T) کالونی کی زمین اپنے کارکنو ں کو دیدی۔ ڈائریکٹر نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں ان رہنماؤں کے قبضے سے فائدہ اٹھانے والے کارکنوں کے علاوہ دیگر اعلیٰ افسران عبدالعزیز اشرفی، لالہ فضل الرحمن اور ایم کیو ایم کے لاپتہ رہنما متین یوسف کو بھی اس اسکینڈل کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

ایم کیو ایم یوں تو اپنے قیام کے بعد سے ہی کسی نہ کسی بحران کا شکار رہی، الطاف حسین کی 22 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب کے سامنے تقریر اور فاروق ستار، وسیم اختر، عامر خان، نسرین جلیل اور کشور زہرہ وغیرہ کے اپنے قائد سے لاتعلقی کے فیصلے کے بعد سے یہ بحران شدید ہو گیا۔ گزشتہ سال سے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے بعد کئی رہنما اور کارکن اس جماعت میں شامل ہوئے۔ شامل ہونے والوں میں کئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین بھی شامل تھے۔ مصطفیٰ کمال اپنی تقاریر میں بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اردو بولنے والے عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے۔

انھوں نے شاہراہِ فیصل پر ملین مارچ کے لیے ہفتوں پبلسٹی کی تھی مگر یہ ملین مارچ تعداد کے لحاظ سے تین سے چار ہندسوں کے درمیان محدود رہا، مگر پی ایس پی میں شامل ہونے والے کسی منتخب رکن نے اپنی مستعفی ہونے والی نشست پر دوبارہ انتخاب نہیں لڑا۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر الیکشن کمیشن نے کراچی کی کئی خالی نشستوں پر ابھی تک انتخابی شیڈول کا اعلان نہیں کیا ۔
ایم کیو ایم پاکستان نے محمود آباد اور ملیر کے علاقوں سے خالی ہونے والی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا مگر ایم کیو ایم کوئی بھی نشست حاصل نہ کر سکی۔ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم کی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے کسی رکن اسمبلی کو پی ایس پی میں شامل کرایا گیا تو ایم کیو ایم کے منتخب اراکین اپنی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں گے مگر ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ کی پی ایس پی میں شمولیت کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے اپنے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ ایم کیو ایم کی پالیسیوں میں گزشتہ سال سے کئی اہم تبدیلیاں آئیں۔

ایم کیو ایم کے اراکین نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اعتماد کا ووٹ دیا اور ان کے سینیٹ کے رکن نے نا اہل فرد کو پارٹی کا سربراہ بنانے کے حوالے سے سینیٹ میں پیش کیے جانے والے قانون کی حمایت کی، یوں ایم کیو ایم کے روایتی مخالف تحریک انصاف سے خوشگوار تعلقات کی ابتداء ہوئی۔ تحریک انصاف کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ایم کیو ایم کی قیادت کو تیار کیا تاکہ احتساب بیورو کے سربراہ، چیف الیکشن کمشنر اور وفاق میں قائم ہونے والی عبوری حکومت کے قیام میں پیپلزپارٹی کا کردار ختم کیا جائے مگر حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے اس تجویز کی پذیرائی نہیں کی۔ ایم کیو ایم نے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر نئے احتساب کے قانون میں ججوں اور جنرلوں کو احتساب کے دائرے میں لانے کی شق کی مخالفت کی، مگر ایم کیو ایم کی بنیادی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے کے باوجود ان کے اراکین کے ٹوٹنے اور پی ایس پی میں شامل ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔
گزشتہ دنوں ایف آئی اے نے ایم کیو ایم کے ایک مفرور رہنما حماد صدیقی کو دبئی میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی سمیت دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ ایف آئی اے کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافیوں نے یہ لکھنا شروع کیا کہ حماد صدیقی بہت سے سنگین جرائم میں ملوث ہے، ان کے بیان کے بعد ایم کیو ایم کے کئی رہنما مشکلات کا شکار ہوں گے۔

اس پس منظر میں ڈاکٹر فاروق ستار اور پی ایس پی کے رہنماؤں کے درمیان خفیہ طور پر مذاکرات ہوئے اور پھرکراچی پریس کلب میں دونوں جماعتوں نے اتحاد کر کے ایک جماعت بنانے پر اتفاق کیا۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی جمہوری حکومت بھی نامعلوم افراد کی مداخلت سے خوش نہیں تھی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں میں شناخت کھونے کا خوف بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے فوری طور پر اس معاہدے کو مسترد کر دیا۔ ایم کیو ایم اپنے قیام کے بعد سے ایک بند جماعت کے طور پر ابھری۔ ایم کیو ایم جلد ہی کراچی اور حیدرآباد کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔

اگرچہ ایم کیو ایم میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی مگر اس کی قیادت نے تشدد کو اپنی مقبولیت کے لیے استعمال کیا جس کے نتیجے میں 1986 سے 2010 تک کراچی خاص طور پر امن و امان کے حوالے سے پوری دنیا میں بدنام ہوا ۔ اس پالیسی کے نتیجے میں سندھ میں آباد پختونوں، پنجابیوں اور سندھیوں سے خون ریز فسادات کی تاریخ رقم ہوئی۔ فسادات کا سلسلہ ختم ہوا تو ایم کیو ایم کے جنگجوؤں پر فرقہ وارانہ، سیاسی، لسانی اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات لگے۔ اس ٹارگٹ کلنگ کا شکار ایم کیو ایم کے بانی عظیم طارق اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق سمیت ایم کیو ایم کے کئی رہنما بنے۔ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ اساتذہ، ڈاکٹروں، طلبہ، صحافیوں اور مذہبی رہنماؤں سمیت دیگر افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے الزامات بھی ایم کیو ایم پر لگے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور صدارت میں ایم کیو ایم کو سندھ کی گورنری ملی اور انھیں سندھ حکومت کے فیصلوں میں نمایاں مقام ملا۔ اس کے علاوہ وفاق میں بھی اہم وزارتیں دی گئیں مگر ایم کیو ایم نے اپنے عسکری ونگ کو ختم نہیں کیا۔ جب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری ملک کے صدر بنے تو وہ خود نائن زیرو گئے اور پیپلز پارٹی کی چیرہ دستی پر معذرت کی اور ایم کیو ایم کی قیادت نے بھی جواب میں اپنے سیاہ کارناموں پر معذرت کی اور مستقبل میں ساتھ چلنے کا عہد کیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے اچھی طرز حکومت کو نظر انداز کیا اورکرپشن کو اپنی پالیسی کی بنیاد بنایا یوں کراچی اور دیگر شہر کوڑے دان میں تبدیل ہو گئے۔ ایم کیو ایم کے عسکری ونگ نے کراچی میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں ۔

یہی وجہ تھی کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کی کارروائی کے بعد فوج اور میاں نواز شریف کی حکومت نے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا، پورے ملک میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن شروع ہوا مگر کراچی سینٹرل اور ایسٹ کے اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ خفیہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پریس بریفنگ میں یہ سوال اٹھانا شروع ہو گئے کہ ایم کیو ایم ڈسٹرکٹ سینٹرل کی نمایندہ تنظیم ہے اور اس کے کارکن ہرگلی میں موجود ہیں پھر نامعلوم افراد کس طرح ٹارگٹ کلنگ کر کے اپنے خفیہ ٹھکانوں پر پہنچ جاتے ہیں؟ اس دوران ایم کیو ایم کی قیادت نے اپنے کارکنوں کے لاپتہ ہونے پر شہر میں ہڑتالیں کرائیں، رینجرز نے نائن زیرو پر چھاپہ مارا۔ اس کے بعد ڈسٹرکٹ سینٹرل میں امن ہو گیا۔ اب بھی ایم کیو ایم کے بہت سے کارکن حراست میں ہیں اورکئی سو جیلوں میں بند ہیں۔ ایم کیو ایم کا بحران اس کی عسکری سرگرمیوں کی بناء پر ہے۔ ایم کیو ایم پہلے ملکی ایجنسیوں کے تابع تھی پھر اس کے معاملات بین الاقوامی ایجنسیوں سے منسلک ہو گئے جس بناء پر نامعلوم قوتوں کا کردار بڑھ گیا۔ اب ایم کیو ایم کے تمام گروپوں کو قانونی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ ایک سیکیولر تنظیم ہے جس کی صوبہ سندھ اور ملک کو ضرورت ہے، اگر ایم کیو ایم کی قیادت علیحدہ صوبے کے نعرے کے بجائے سندھ میں مظلوم عوام کے لیے جدوجہد کرے گی تو یہ نہ صرف صوبے اور ملک کے لیے بہتر ہو گا بلکہ جمہوری نظام بھی مکمل ہو گا اور نامعلوم قوتوں کا کردار کم ہو جائے گا۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

Advertisements

کراچی کا اصل ماسٹر پلان کیا ہے ؟

دنیا کی تمام ہی ریاستیں اپنے معاشی حب کی بہترین دیکھ بھال کرتی ہیں اور اپنے ملک کو استحکام بخشنے والے شہر کے لیے خصوصی ماسٹر پلان تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ اس کی شناخت دیگر علاقوں سے ممیز ہو سکے۔ لیکن پاکستان میں ویژن کے فقدان اور دور اندیشانہ سوچ سے بے بہرہ کرتا دھرتاؤں کی بے عملی کا شاخسانہ کراچی کے شہری بدترین گورننس کی صورت بھگت رہے ہیں۔ ایک وقت میں پاکستان کے دارالحکومت کا درجہ رکھنے والا شہر آج صوبہ کا دارالخلافہ ہونے کے باوجود دنیا کے بدترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، عروس البلاد کا لقب پانے والا شہر قائد جسے 60ء کی دہائی میں ایشیا کا خوبصورت ترین شہر ہونے کا درجہ حاصل تھا، جہاں کی سڑکیں روز پانی سے دھوئی جاتی تھیں، آج بدحالی کا منظرنامہ پیش کر رہا ہے، آخر شہر کو چلانے والے اداروں کا اصل ماسٹر پلان کیا ہے؟ کیونکہ شہر میں شروع کیے جانے والے تعمیراتی منصوبے بھی تخریب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

گزشتہ روز کراچی میں نالے پر مارکیٹیں قائم کرنے سے متعلق نالے کی صفائی اور حدود کے تعین سے متعلق بلدیہ عظمیٰ کی درخواست سماعت میں سپریم کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کراچی کا اصل ماسٹر پلان طلب کیا ہے۔ معزز عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ شہریوں کے سانس لینے کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی گئی، کراچی کو کیا اب شہر کہلانے کے لائق چھوڑا ہے؟ اور دیکھا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ شہری سہولیات اب کراچی میں عنقا ہیں۔ کراچی کو صرف صفائی ستھرائی کے معاملات میں ہی بدنظمی کا سامنا نہیں بلکہ تجاوزات، انفرااسٹرکچر کی خستہ حالی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سمیت کئی گنجلک مسائل بھی درپیش ہیں جن سے پیچھا چھڑانا بلدیاتی و صوبائی اداروں کے بس سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

عدالت نے بالکل صحیح ریمارکس دیے کہ شہر کو تباہ کر دیا گیا، نالے بند پڑے ہیں، اب نالوں پر تجاوزات قائم کر کے شہر کو مکمل ڈبونے کا پلان کر رہے ہیں، ذرا سی بارش سے شہر کو ڈبو دیا مگر سیکھا نہیں، سرکاری اداروں کا کام نالوں پر دکانیں بناؤ مال کماؤ رہ گیا ہے، شہر کو اب اداروں کے حوالے نہیں کر سکتے، شارع فیصل سمیت کوئی سڑک سفر کرنے کے قابل نہیں، شہر کے گٹر اب بھی بھرے ہوئے ہیں، ہر روڈ پر مٹی، گندگی اور گرد ہے۔ کراچی کا نوحہ شہر کی ہر شاہراہ ہر گلی پیش کر رہی ہے، بڑی شاہراہوں کا یہ حال ہے کہ تعمیراتی کام شروع کر دیے جاتے ہیں لیکن اختتام ہوتا نظر نہیں آتا۔ شہر میں پانی کی فراہمی کا معاملہ بھی چیستان بنا ہوا ہے، وہ شہر جہاں انگریزوں کے دور کے ڈملوٹی کنوؤں سے پانی فراہم کیا جاتا تھا، وہ عظیم منصوبہ تو کب کا غائب ہو چکا، پانی کے کئی بڑے منصوبے بنانے کے باوجود بھی شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور دوسری جانب ان ہی علاقوں میں موجود ہائیڈرنٹس پر نہ صرف پانی دستیاب ہے بلکہ ٹینکروں کے ذریعے شہریوں کو قیمتاً فروخت کیا جا رہا ہے۔

شہری متعلقہ اداروں سے اس پہیلی کا جواب طلب کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ پانی جو رہائشیوں کو دستیاب نہیں وہ ٹینکر مافیا کو کیسے اور کہاں سے مل جاتا ہے؟ کیا متعلقہ اداروں نے اپنی آنکھوں پر مفادات کی پٹی باندھ رکھی ہے جو ٹینکر مافیا کا سدباب نہیں کیا جا رہا۔ یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ کراچی کی تباہی کے ذمے دار آمرانہ دور سے زیادہ جمہوری ادارے ہی رہے ہیں، مفادات اور خودغرضانہ سیاست نے اس شہر کو تباہی کے دہانے لاکھڑا کیا ہے۔ شہر کو بنانے کی ذمے داری صرف صوبائی و شہری حکومت کی ہی نہیں بلکہ شہر کی اسٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا جس میں ہر کوئی ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے شہر میں جہاں آمدورفت کے لیے شاہراہوں اور ٹرانسپورٹیشن کا بہترین ہونا لازم ہے وہاں ٹرانسپورٹ کا شعبہ سب سے زیادہ بدحال دکھائی دیتا ہے۔

شہریوں کو ضرورت کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں، شہر کی سڑکوں پر ان فٹ گاڑیاں رواں دواں ہیں، اور متعلقہ ادارے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ رہائشی علاقوں میں 120، 200 گز کے مکانات کو توڑ کر کئی کئی منزلہ کمرشل عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ادارہ خاموش ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ علاقہ جس کی پلاننگ چند سو نفوس کی رہائش کے لحاظ سے کی گئی ہو، جب وہاں ایک ہی پلاٹ پر سیکڑوں افراد رہائش پذیر ہوں گے تو مکمل علاقے میں بلدیاتی سہولیات کی کیا صورتحال ہو گی؟ یہ کوئی ایسا لاینحل مسئلہ نہیں جس پر ارباب اقتدار نہ سوچ سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے باقاعدہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے، شہریوں کے دیرینہ مسائل کے ساتھ ٹرانسپورٹ، انفرا اسٹرکچر کی بحالی کا کام فول پروف مکمل کیا جائے۔ کراچی کی تعمیر نو میں صرف بلدیاتی و صوبائی حکومتیں ہی نہیں تمام متعلقہ ادارے اور سیاسی جماعتیں ایک ہو کر کام کریں، تب ہی اس شہر کو اس کی حقیقی پہچان واپس دلائی جا سکتی ہے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

مجرم کو باجماعت نماز ادا کرنے کی انوکھی سزا

کراچی کی مقامی عدالت نے غیر قانونی اسلحے رکھنے کا الزام ثابت ہونے پر شہری کو انوکھی سزا دیتے ہوئے 3 سال تک باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ کراچی کی مقامی عدالت میں غیر قانونی اسلحے رکھنے کے کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر پولیس نے ملزم یوسف خان کو جج کے روبرو پیش کیا جہاں مجرم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ ایڈیشنل اور سیشن جج حلیم احمد نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 3 سال تک علاقے میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر ایک نماز میں تاخیر کی گئی تو ملزم کو 7 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی جائے گی۔

قبل ازیں عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے پر بہادر آباد سے تعلق رکھنے والے ملزم کو 2 سال تک مسجد کی صفائی ستھرائی اور نماز ادا کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عدالت کی جانب سے قاسم نامی نوجوان کو انوکھی سزا سناتے ہوئے اُسے ایک سال تک پلے کارڈ اٹھا کر سڑک پر کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ نوجوان نے سن 2015 میں پروٹوکول پر تعینات پولیس افسر کو ٹکر مار دی تھی جس کے بعد اُسے مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا، دو سال تک مقامی عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری رہی جس کے بعد نوجوان کو انوکھی سزا سنائی گئی۔

کراچی کا سائٹ انڈسٹریل ایریا ہے یا موہن جودڑو؟

صنعتی پیداوار میں نمبر ون رہنے والا سندھ کا سب سے بڑا سائٹ انڈسٹریل ایریا  اب موہن جو دڑو کا منظر پیش کرنے لگا، آدھی سے زیادہ صنعتوں کو تالے لگ گئے۔ علاقے میں نہ آگ بجھانے کا انتظام ہے اورنہ ہی پانی کی فراہمی کا، صنعتی زون کے داخلی اور خارجی راستے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ سائٹ لمیٹڈ کو ہر ماہ ملنے والا کروڑوں روپے ٹیکس کس کی جیب میں جاتا ہے؟ کوئی جواب دینے والا نہیں ۔ سائٹ انڈسٹریل ایریا کا سنگ بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح نے رکھا تھا۔ انفرا اسٹرکچر پر کئی برسوں سے کام نہیں ہوا۔ سائٹ کے 4 داخلی اور خارجی راستوں کا حال موہن جو ڈرو سے برا ہے۔

ایک وقت تھا جب یہاں سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی۔ لاکھوں افراد یہاں اپنا روز گار کماتے تھے ملکی صنعتی پیداوار میں یہ علاقہ نمبر ون تھا۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ آدھی صنعتیں بند ہو کر گوداموں میں منتقل ہو چکی ہیں۔ صنعتکار کہتے ہیں حکومت ہر سہولت کے پیسے لیتی ہے لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتی۔ صنعتی زون کے انتظام کے لئے سائٹ لمیٹڈ بنایا گیا، لیکن اس ادارے کے ملازمین کی تنخواہوں ادا نہیں کی جا رہیں۔ علاقے کی حالت زار سے صنعتکار تو صنعتکار یہاں کے رہنے والے بھی پریشان ہیں۔ سندھ حکومت نے 70 سال پہلے بننے والے صنعتی علاقے کا وہ حال کیا ہے کہ موہن جو ڈرو بھی ماڈرن لگتا ہے۔

تباہی کے دہانے پر کھڑا شہر

آج اس نشست میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیر اطلاعات سندھ حکومت ناصر حسین شاہ اور مئیر کراچی وسیم اخترکے علاوہ شہر کی اہم کاروباری شخصیات اور ممتاز صحافیوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان مسائل پر گفتگو کرنے کی جسارت کروں گا، جو یہ شہر نا پرساں گزشتہ ایک دہائی سے بھگت رہا ہے۔ دراصل صوبے کی حکمران جماعت میں حکمرانی کی اہلیت کا فقدان ہو یا شہروں کی ترقی سے بے اعتناعی یا سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی کشمکش، اس کا خمیازہ پورے سندھ کے عوام بالعموم اور کراچی کے شہری بالخصوص بھگت رہے ہیں۔ اس لیے اپنی گفتگو کو کراچی تک محدود رکھنے کی کوشش کروں گا۔
کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر، صنعتی مرکز اور مالیاتی سرگرمیوں کا محور ہے، آج بدترین بد انتظامی کا شکار ہے۔ ہر فرد اور ہر ریاستی ادارہ اس کے جسم سے بوٹیاں نوچ کر تو کھا چکا،اب ہڈیاں بھنبھوڑی جا رہی ہیں۔ شہر کا عالم یہ ہے کہ اسے شہر کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ انسانوں کا ایک جنگل ہے، جس میں قرون وسطیٰ کے قبیلوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ جہاں ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہر عقیدے کا ماننے والا دوسرے عقیدے کے ماننے والے سے خوفزدہ ہے۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ چہار سو کچرے کے لگے ڈھیر، ہر سمت ابلتے گٹر، ٹوٹی پھوٹی شاہراہیں اور سڑکیں حکمرانوں کا منہ چڑاتی اور شہریوں کا دل جلاتی نظر آتی ہیں۔ کبھی شہر میں سویڈن سے درآمد کردہ بسیں اور سرکلر ریلوے چلتی تھی، جو مدت ہوئی مرحوم ہوئیں۔ اب تو یہ عالم ہے کہ لوگ خستہ حال بسوں اور ویگنوں کی چھتوں یا پھر عجیب الخلقت سواری چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہی نہیں عادی بھی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر ہر قسم کے سنگین جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ طاقتور مافیائیں سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر تقرر کی گئی نااہل اور ناکارہ پولیس پورے شہر میں دندنداتی پھرتی ہیں۔ پولیس کا صرف ایک کام رہ گیا ہے کہ وہ روزانہ کروڑوں روپے کی رشوت اکٹھی کر کے حکام بالا تک پہنچاتی ر ہے، جب کہ اکثر و بیشتر پولیس اہلکار بھی مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

شہر میں فراہمی و نکاسی آب کا کوئی نظام ہے اور نہ مناسب تعداد میں صحت مراکز ہیں۔ دو کروڑ کی آبادی کے شہر میں گنتی کے چار یا پانچ سرکاری اسپتال ہیں۔ انگریزوں نے سول اسپتال اس وقت تعمیر کیا تھا، جب شہر کی آبادی دو لاکھ تھی۔ اس لحاظ سے اس وقت شہر میں کم ازکم 20 سول اسپتال ہونا چاہئیں۔ سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی تو ناقابل بیان ہے۔ وہ تعلیمی ادارے ، جہاں سے بیشتر نامور مشاہیر تعلیم حاصل کر کے نکلے، آج حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔عمارتیں آثار قدیمہ کا نقشہ پیش کر رہی ہیں، جہاں نہ کوئی سہولت میسر ہے اور نہ ہی اساتذہ حاضر ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی اکثریت بھی سفارشی ہے۔
اس صورتحال کا سبب یہ ہے کہ دنیا بھر میں اقتدار و اختیار کی زیادہ سے زیادہ عدم مرکزیت کے ذریعے شراکتی جمہوریت کو فروغ دیا جا رہا ہے، مگر پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں اپنے فیوڈل مائنڈ سیٹ کے باعث اقتدار و اختیار کی مرکزیت قائم کرنے پر مصر ہیں۔

فیوڈل ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے 2001 میں متعارف کرائے گئے مقامی حکومتی نظام کو بیک جنبش قلم منسوخ کر دیا۔ حالانکہ یہ نظام اب تک متعارف کرائے گئے مقامی حکومتی نظاموں میں سب سے زیادہ شراکتی نوعیت کا تھا۔ اسی طرح پولیس آرڈر 2002 میں بہتری لانے کے بجائے اپنی فیوڈل بالادستی قائم رکھنے کی خاطر نو آبادیاتی دور کے پولیس ایکٹ 1861 کو بحال کیا ہے۔ صوبوں میں مقتدر سیاسی جماعتوں بالخصوص سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر ایک ایسا بلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے، جو برطانوی دور کے بلدیاتی نظام سے بھی کم تر اختیارات کا حامل ہے۔ جس سے صوبائی حکومت کی اقتدار و اختیار پر مرکزیت قائم کرنے کی شدید خواہش کا اظہار ہوتا ہے، تاکہ بلدیاتی کونسلوں کو مفلوج رکھ کر نچلی سطح کے انتظامی یونٹوں کے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی امور پر بھی ان کا مکمل کنٹرول قائم رہ سکے۔

یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ برصغیر میں انگریز حکمرانوں نے1870 کے قوانین کے تحت 1883 میں ایک بلدیاتی نظام رائج کیا تھا ۔ ایوب خان اور جنرل ضیاالحق کے متعارف کردہ بلدیاتی نظام اسی نوآبادیاتی بلدیاتی نظام کا چربہ تھے، جب کہ چاروں صوبوں میں 2013 میں متعارف کرائے جانے والے لوکل گورنمنٹ Acts ایوب خان اور ضیاالحق کے بلدیاتی نظاموں کا چربہ ہیں۔ اس لیے سندھ حکومت کا یہ دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ اس نے ایک آمر (پرویز مشرف) کے مقامی حکومتی نظام کو رد کیا ہے۔ حالانکہ PILDAT سمیت مختلف سماجی تنظیموں کی رائے میں پرویز مشرف کے دور میں متعارف کردہ نظام اقتدار و اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی کی جانب مثبت پیش رفت تھا۔ اس نظام پر مختلف سیاسی جماعتوں کا صرف ایک ہی اعتراض رہا ہے کہ اس میں صوبوں کی حیثیت ثانوی کر دی گئی تھی، اب جب کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خاصی حد تک خود مختاری حاصل ہو گئی ہے، مقامی حکومتی نظام میں صوبوں کو Bye Pass کرنے کا تاثر ختم ہو جاتا ہے، دیگر کمزوریوں کو مناسب آئینی ترامیم کے ذریعے با آسانی دور کیا جا سکتا ہے، مگر ایسا کرنے سے دانستہ گریز کا راستہ اختیار کیا گیا۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ دنیا بھر میں وقت گزرنے کے ساتھ مقامی حکومتوں کے اختیارات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ لندن کے مئیر کے اختیارات تو بہت زیادہ ہیں، اس سے متصل چھوٹے سے شہر چیلسی جہاں کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی نژاد برطانوی مشتاق لاشاری مئیر رہ چکے ہیں، کراچی اور لاہور سے زیادہ بااختیار مقامی حکومت ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے ایک ملین(دس لاکھ) آبادی والے شہر کو میٹروپولیٹن جب کہ 10 ملین (ایک کروڑ) آبادی والے شہر کو میگا سٹی قرار دیا ہے۔ ان شہروں کے لیے مختلف ممالک نے مکمل طور پر ایک علیحدہ انتظامی ڈھانچہ ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا، برطانیہ، جرمنی اور بھارت میں مروج مقامی حکومتی نظاموں کا مطالعہ کر کے ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت ہمارے سامنے دو اہم ایشوز ہیں: اول، جو لولا لنگڑا بلدیاتی نظام صوبائی اسمبلیوں نے منظور کیا ہے، کم از کم اس پر دیانتداری کے ساتھ ہی عمل کر لیا جائے، تاکہ عوام کو کسی حد تک ریلیف مل سکے۔ دوئم، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں شہری سطح پر پیدا ہونے والے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ ملک میں دو درجاتی (Two tier) انتظامی ڈھانچے کی جگہ تین درجاتی (Three tier) نظام رائج کیا جائے۔ جس میں وفاق، صوبہ اور ضلع بااختیار انتظامی یونٹ ہوں۔ پھر ضلع کو مزید چار درجات (Tier) میں تقسیم کر دیا جائے، یعنی ضلع، تعلقہ (تحصیل)، یونین کونسل اور وارڈ۔ اس طرح شہری مسائل کے حل اور عوام کو فوری ریلیف ملنے کے یقینی امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ طے ہے کہ شہر چھوٹے ہوں یا بڑے، ان کی حالت زار میں بہتری اسی وقت ممکن ہے، جب اقتدار و اختیار حقیقی معنی میں نچلی سطح پر منتقل ہو۔ یعنی مقامی حکومتوں کو ان کے دائرہ کار کے اندر مکمل سیاسی، انتظامی اور مالیاتی بااختیاریت حاصل ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں، جو عوام کے وسیع تر احساسات کی ترجمان ہوتی ہیں، ان سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اقتدار و اختیار پر کنڈلی مار کر بیٹھنے کے بجائے ریاستی انتظامی ڈھانچے میں مناسب تبدیلیوں کر کے اسے حقیقی معنی میں نچلے ترین انتظامی یونٹ تک منتقل کر کے عوام کے لیے فوری ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گی۔

مقتدا منصور

چینی کمپنی کی کراچی کے لیے بجلی سے چلنے والی دو ہزار بسوں کی پیشکش

چینی کمپنی نے 60 کروڑ ڈالر کے ٹرانسپوٹ منصوبے کے تحت صوبے سندھ کے دارالحکومت کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل حل کرنے کے لیے بجلی سے چلنے والی 2 ہزار بسیں فراہم کرنے کی پیشکش کر دی۔ یہ پیشکش انھوں نے میئر کراچی وسیم اختر سے ان کے دفتر میں ہونے والی ملاقات میں کی، جس میں چینی کمپنی کے نمائندے تھامس وانگ نے 6 رکنی چینی وفد کی سربراہی کر رہے تھے۔
چینی کمپنی ‘ایکو بس’ کے نمائندے تھامس وانگ کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی شہر قائد کو 2 بسوں کا تحفہ بھی دے گی جو آئندہ 2 ماہ میں کراچی پہنچ جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بسیں اس لیے بھیجی جائیں گی تاکہ ان کو شہر کی سڑکوں کے مطابق آزمایا جا سکے اور ڈرائیورز، میکینک اور دیگر اسٹاف کو ٹریننگ دی جا سکے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی کا کہنا تھا کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور اگر ان بسوں کو آزمانے کے بعد اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا تو کراچی میں ٹرانسپورٹ کا بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ چینی کمپنی کی جانب سے دی جانے والی بسیں اگلے چند ہفتوں میں کراچی پہنچ جائیں گی جس کے بعد ان کی شہر کی سڑکوں کے مطابق جانچ  کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ بسیں نہ ہی کراچی میں ہوائی آلودگی پیدا کریں گی نہ ہی ان کا کوئی شور ہو گا جبکہ ان میں درآمد کیا جانے والا تیل بھی استعمال نہیں ہو گا، جس سے ہم اپنا قیمتی زر مبادلہ بچا سکیں گے’۔

منصوبے کے بارے میں میئر کراچی نے بتایا کہ ان میں ایک دفعہ پوری طرح چارج ہونے پر 280 کلومیٹر تک چلنے کی صلاحیت ہو گی جبکہ ان بسوں کے لیے شہر میں تقریبا 500 اسٹیشنز بھی بنائے جائیں گے جہاں ان بسوں کو چارج کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ چینی کمپنی نے منصوبے کے حوالے سے مختلف پیشکش کی ہے جن میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود سرمایہ لا کر ان بسوں کو چلائیں گے یا حکومت اور مقامی ٹرانسپورٹ کے ساتھ مل کر بھی ان بسوں کو چلا سکتے ہیں یا پھر صرف ان بسوں کو فروخت کیا جائے گا۔

انھوں نے مزید بتایا ان کی جانب سے کی جانے والی پیشکش پر غور کیا جائے گا کہ عام عوام کے حق میں کیا بہتر رہے گا۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں اربن ماس ٹرانزٹ کا نظام موجود ہے جبکہ کراچی میں پوری طرح سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی موجود نہیں جس کی وجہ سے عوام پرائیوٹ منی بسوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں جن کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ شہری حکومت اس ماحول دوست منصوبے کے لیے پر امید ہے جس کی وجہ سے کراچی کے ٹراسپورٹ مسائل کے ساتھ ساتھ عوام کی مشکلات بھی حل ہو جائیں گی۔

کراچی کی ’’گریبی‘‘

شہر ِقائد کے ہوٹلوں کی ایک خاص بات یہاں کی ’’گریبی‘‘ ہے۔ یہ مزید اضافی سالن کی اس مقدار کو کہتے ہیں جو روٹی ختم کرنے کے لیے مفت میں عندالطلب ملتی ہے۔ رش والے ہوٹلوں میں بار بار لی جا سکتی ہے۔ بس ہر بار نئے بیرے سے التماس کرنا پڑتا ہے۔ لہذا اگر تین چار دوست ایک ساتھ ایسے مصروف ہوٹل میں جائیں تو ایک پلیٹ سالن منگوانا ہی کافی رہتا ہے، باقی بھوجن تو نصف درجن گریبیاں ہی سہار لیتی ہیں۔

کراچی کے سلسلے میں یہ امر بھی جان رکھیے کہ اس نگر میں گھومنے پھرنے کے آداب اور قرینے کُل عالم سے مختلف ہیں اور انہیں سمجھنا بےحد ضروری ہے۔ مثلا یہ کہ دیگر مہذب شہروں کی طرح یہاں فٹ پاتھ پہ چلنے پہ اصرار مت کیجیے گا۔ اول تو فٹ پاتھ نظر ہی نہیں آئے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ محض آپ کو فٹ پاتھ دکھانے کے لیے دکاندار کئی گھنٹے لگا کر اپنی دکان کا زیادہ تر سامان وہاں سے اٹھا لے۔

کہیں کچھ فٹ پاتھ مل بھی گیا تو وہاں اتنے فقیر پڑے ملیں گے کہ اگر آپ سب کو پیسے دینے لگے تو آخر میں خود بھی وہیں بیٹھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ گویا اول تو چلنے کی جگہ ہی نہیں ملے گی لیکن مل بھی گئی تو کئی پتھاروں کو پامال کر جائیں گے۔ نتیجتاً کسی پتھاریدار کے ہاتھوں خود بھی روندے جا سکتے ہیں۔ دوسرے یہ بات بھی پلے باندھ لیجیے کہ چلتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بجائے نگاہ نیچی رکھ کر چلیے، یوں کسی کھلے گٹر میں غرقابی سے بھی بچ سکیں گے اور اہل تقوی میں الگ گنے جائیں گے۔

سوم اگر کسی سے کوئی پتا پوچھنا ہو تو امکان ہے کہ اپنا پتا بھی کھو بیٹھیں ۔ ویسے یہاں کے زیادہ تر باسیوں سے پتا پوچھنے میں کامیابی پانا بھی معمولی بات نہیں۔ اگر عین شان پلازہ کے نیچے کسی بندے سے پلازے کی بابت پوچھیں تو امکان یہ ہے کہ وہ پورے اعتماد سے آپ کو گلی کے آخری سرے پہ دور کھڑے کسی باخبر آدمی کی طرف بھیج دے گا کہ اس سے پوچھ لیں۔ خاصا امکان ہے کہ وہ باخبر بھی شان پلازہ کا نام سنتے ہی بہت حیران سا دکھائی دے گا کہ آخر یہ بلڈنگ کب بنی؟

بشکریہ ایکسپریس اردو