کراچی، خواتین پر چاقو سے حملے، ’بلیو وہیل‘ گیم کا نتیجہ ہیں؟

کراچی کے گنجان آباد علاقے گلستان جوہر کی خواتین پچھلے 6 دنوں سے ایک نئے خوف میں مبتلا ہیں۔ ایک نامعلوم شخص جس کی عمر 25 سے 30 سال ہو گی اور جو کالی جینز، شرٹ میں ملبوس، ہیلمٹ پہنے سرراہ آتی جاتی خواتین پر تیز دھار آلے سے حملہ کر کے انہیں زخمی کرتا اور فرار ہو جاتا ہے۔ واقعے پر رد عمل کے اظہار میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے ملزم کو ’نفسیاتی مریض‘ قرار دیا تو علاقے میں ان خبروں اور افواہوں کو تقویت مل گئی کہ حملہ آور ویڈیو گیم ’بلیو وہیل‘ کا مثاترہ اور نفسیاتی کھلاڑی ہے۔ گیم کے دوران ملنے والے چیلنج کو پورا کرنے کے لئے ایک کے بعد ایک لڑکی یا خاتون کو تیز دھار آلے سے زخمی کر دیتا ہے۔

ان خیالی باتوں کے سبب خواتین نے گھروں سے تنہا نکلنا انتہائی کم کر دیا ہے۔ ایک نوعمر لڑکی سیدہ کومل زیدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جب سے یہ خبریں آئی ہیں وہ بھی بہت ڈری ہوئی ہیں اور گھر والے انہیں اکیلے باہر نہیں نکلنے دیتے۔ کہیں جائیں تو رات ہونے سے پہلے ہی گھر واپس آجاتی ہیں۔ اندھیرے میں یا دیر رات گھر سے نکلنے کا تو فی الحال وہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔
ہفتے کو بھی ایسا ہی ایک اور واقعہ پیش آیا۔ نامعلوم حملہ آور اس بار دن دھاڑے گلستان جوہر میں واقع محکمہ موسمیات کے دفتر کے قریب رکشا سے اترنے والی ایک اور خاتون کو چاقو سے زخمی کر کے آناً فاناً غائب ہو گیا۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔

پچھلے 6 دنوں کے دوران اس طرح کے حملوں میں 9 خواتین زخمی ہو چکی ہیں۔ حملوں کے سبب علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے، جبکہ متاثرہ خواتین کے اہل خانہ کا احتجاج بڑھتا جا رہا ہے اور پولیس کی مبینہ ناکامی پر عوامی تنقید بڑھنے لگی ہے۔ متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دیئے گئے بیانات کے مطابق نامعلوم ملزم اندھیرے میں نمودار ہوتا اور کسی بھی عورت کو تیز دھار آلے، چاقو یا بلیڈ سے زخمی کر کے رفو چکر ہو جاتا ہے۔ پولیس کوششوں کے باوجود اب تک اسے پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ علاقہ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک جتنی بھی خواتین پر حملے ہوئے ہیں ان میں سے کسی نے بھی ملزم کا چہرہ نہیں دیکھا کیوں کہ وہ بہت تیزی سے اپنا وار کرتا فرار ہو جاتا ہے۔
ان حملوں کا آغاز 25 ستمبر کو ہوا تھا۔ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کا چہرہ اس لئے نہیں دیکھ پائیں کیوں کہ وہ ہیلمٹ پہنے ہوئے تھا۔ سندھ کے وزیر داخلہ انور سیال نے شک ظاہر کیا ہے کہ ملزم نفسیاتی مریض لگتا ہے، اسے جلد قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔ پولیس نے متاثرہ خواتین کے بیانات قلم بند کر کے نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایک زخمی خاتون ہاجرہ نے پولیس کو بیان میں کہا ہے کہ اسے 26 ستمبر کو عقب سے آنے والے نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزم نے چاقو مار کر زخمی کردیا اور فرار ہو گیا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گلشن اقبال اور ایس ایس پی ایسٹ غلام مرتضیٰ بھٹو نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں مخبروں کا جال بچھا دیا گیا ہے، جبکہ سادہ لباس پولیس اہلکار بھی جگہ جگہ تعینات کردیئے گئے ہیں۔
علاقے میں واقعے ایک بڑے نجی اسپتال ’دارالصحت‘ کے ڈاکٹر زعیم کا کہنا ہے کہ زخمی خواتین کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں، یہ زخم کسی تیز دھار آلے یا چاقو کے ہو سکتے ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون ہاجرہ کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 479/17 زیر دفعات 34 درج کر لیا ہے۔ ہاجرہ کے علاوہ کچھ دیگر خواتین جن میں سے تین کے نام عروسہ، شاہین اور شاہدہ بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھی مختلف تھانوں میں مقدمات درج کرائے ہیں۔ جن علاقوں میں یہ واقعات پیش آئے ان میں گلشن اقبال، گلستان جوہر، جوہر چورنگی اور پہلوان گوٹھ شامل ہیں۔

حملے ۔۔’بلیو وہیل ‘ چیلنج کا نتیجہ؟
حملوں کے واقعات سے کم عمر لڑکیاں خاص کر مختلف تعلیمی اداروں کی طالبات ذہنی طور پر پریشانی میں مبتلا ہیں۔ جیسے واقعات بڑھ رہے ہیں ان میں تشویش کے ساتھ ایسے خیالات گھر کرتے جا رہے ہیں کہ کہیں واقعی کوئی نفسیاتی ملزم اور ’بلیووہیل‘ نامی خطرناک ویڈیو گیم کا کھلاڑی نا ہو۔ کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی میں زیر تعلیم متعدد لڑکیوں نے اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر ان خیالات کا اظہار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہر بار ملزم کوئی دوسرا ہو، کہیں یہ کسی گینگ یا گروپ کی کارروائی نہ ہو؟

کچھ خواتین نے ایک کے بجائے دو ملزمان کو اپنے اوپر حملے کا قصور وار ٹھہرایا ہے۔ تاہم، پولیس اس سلسلے میں کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہے اور اس کی جانب سے یہی کہا جا رہا ہے کہ ’’تفتیش جاری ہے‘‘، ’’تحقیقات کر رہے ہیں‘‘،’’جلد ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔‘‘ تاہم، والدین یا علاقہ مکین ان جوابات سے مطمئن نہیں۔ وقت اور واقعات گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خدشات، تشویش اور فکروں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

وسیم صدیقی

Advertisements

کراچی میں رواں سال 13 ہزار شہری موبائل فون سے محروم

کراچی میں رواں سال کے 9 ماہ میں اب تک 13 ہزار سے زائد شہری موبائل فونز سے محروم ہو گئے ۔ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لئے موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے کرمنلز ساڑھے 9 کروڑ روپے کے سیل فونز باآسانی لے اڑتے ہیں۔
شہرمیں اسٹریٹ کرائم کی بدولت ہزاروں شہری اپنے موبائل فونز اورقیمتی اشیا سے محروم ہو رہے ہیں۔ رواں ماہ 1750 شہریوں سے موبائل فونز چھینے یا چوری کئے گئے۔ سی پی ایل سی کے مطابق جنوری سے اب تک 13 ہزار 472 افراد کو موبائل فونز سے محروم کر دیا گیا۔

جولائی 2017 سے اب تک 7 ہزار 544 افراد قیمتی موبائل فونز اور نقدی سے محروم کر دیئے گئے۔ گزشتہ سال کہ اسی عرصے میں 8 ہزار 731 افراد کی جانب سے موبائل چھینے یا چوری ہونے کی شکایات درج کرائی گئی۔ ایک موبائل فون کی اوسط قیمت 7 ہزار روپے مقرر کی جائے تو رواں سال چھینے گئے موبائل کی مالیت ساڑھے 9 کروڑ روپے بنتی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال لٹیرے کروڑوں روپے مالیت کے موبائل فونز باآسانی لے اڑتے ہیں۔

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس بھی ’’اینڈروئیڈ اسمارٹ فونز‘‘ استمال کرتے ہیں

دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ’’ونڈوز‘‘ کو تخلیق کرنے والی کمپنی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ وہ ونڈوز نہیں بلکہ اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم کا حامل اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ بل گیٹس اور اسٹیو جابز بلاشبہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے یہ بڑے نام خود کون سی ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے انکشاف کیا کہ وہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم والے کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں تاہم جب بات موبائل فون کی ہو تو اب انہیں اینڈروئیڈ اسمارٹ فونز پسند ہیں جن میں متعدد مائیکرو سافٹ سافٹ ویئرز بھی موجود ہیں۔

جب بل گیٹس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی اپنے ساتھ ایک سے زائد فون رکھتے ہیں اور کیا ان کے پاس ایپل کا آئی فون موجود ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ آئی فون استعمال نہیں کرتے۔ رپورٹس کے مطابق عین ممکن ہے کہ بل گیٹس اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم کا حامل جنوبی کورین کمپنی سام سنگ کا اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوں کیوں کہ ایپل کے بعد سام سنگ لوگوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ اس وقت اسمارٹ فونز میں دو طرح کے آپریٹنگ سسٹمز کام کر رہے ہیں، پہلا اینڈروئیڈ سسٹم جسے گوگل نے تیار کیا ہے اور وہ سام سنگ سمیت متعدد کمپنیوں کے اسمارٹ فونز میں دستیاب ہے جب کہ دوسرا آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس ہے جو خاص طور پر ایپل اپنے اسمارٹ آئی فونز کے لیے تیار کرتا ہے، اس کے علاوہ مائیکروسافٹ کی جانب سے تیار کردہ موبائل آپریٹنگ سسٹم ’ونڈوز‘ کو ایک عرصے تک نوکیا نے اپنے اسمارٹ فونز میں استعمال کیا تاہم مقبول نہ ہونے کی وجہ سے اب نوکیا نے بھی اینڈروئیڈ اسمارٹ فونز لانچ کر دیے ہیں۔

کبھی پرویز مشرف پر بھی مقدمہ چلے گا ؟

نااہل قرار دیئے جانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے خلاف نیب عدالتوں میں سنگین مقدمات کا سامنا کرنے وطن واپس آگئے ہیں۔ اب سابق صدر جنرل ( ر) پرویز مشرف پر مقدمات چلانے کیلئے دبائو بڑھتا جا رہا ہے جس میں قتل کے علاوہ آئین کے آرٹیکل ۔ 6 کے تحت انتہائی غداری کا مقدمہ بھی شامل ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ نواز شر یف کی وطن واپسی خاندان کے برخلاف قانونی ٹیم اور قریبی کور کمیٹی کے مشورے پر ہوئی ہے ۔ جن کا موقف تھا کہ عدم پیشی کے انہیں اور ان کے بچوں کو تباہ کن نتائج بھگتنے پڑتے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آج نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہو گئے۔ اس طرح اب عدالت اور حکومت دونوں پر پرویز مشرف کے خلاف مقدمات کھولنے کیلئے دبائو بڑھ گیا ہے ۔

پیپلز پارٹی نے بھی سابق آمر کے ریڈ وارنٹ کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سزائے موت کے مطالبے پر جنرل ( ر) پرویز مشرف کے حالیہ ردعمل نے مزید تنازعے کو جنم دیا جس میں انہوں نے بے نظیر اور مرتضیٰ بھٹو کے قتل پر آصف علی زرداری کو مورد الزام ٹھہرایا۔ پرویز مشرف جو اپنی ساختہ آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ہیں انہیں اپنے منہ پھٹ انداز پر میڈیا میں بڑی تشہیر ملتی ہے ، وہ سیاست چھوڑ کر خاموشی سے جلا وطنی میں دن گزار سکتے ہیں، لوگ عام طور پر اس بات کو ناانصافی سمجھتے ہیں کہ سابق سیاسی حکمرانوں پر تو فوری مقدمات چلا دیئے جائیں اور سابق آمر کے معاملے میں اگر مگر سے کام لیا جائے۔

پرویز مشرف کی الجھن خود ان کا اپنا رویہ ہے ۔ انہوں نے پاک فوج کے دو اور آئی ایس آئی کے بھی دو سابق سربراہوں کے مشوروں کو نظر انداز کیا۔ 2013 میں سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ( ر) اشفاق پرویز کیانی نے جنرل ( ر) پرویز مشرف کو دو وجوہ کے باعث وطن واپسی سے روکا۔ اوّل ان کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں سیکورٹی فراہم کرنا مشکل ہو گا ۔ دوسرے مسلم لیگ (ن) کے انتخابات جیت لینے کے تمام تر امکانات موجود ہیں اور نواز شریف کی حکومت ان پر مقدمہ بنا دے گی۔ حتیٰ کہ اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ نے دبئی میں پرویز مشرف سے مل کر انہیں پاکستان واپس جانے سے روکا تھا ۔

انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں اپنی قسمت آزمانے کا سوچا لیکن نہ صرف ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے بلکہ انہیں تاحیات نااہل قرار دیدیا گیا۔ اکثر کی رائے میں پرویز مشرف کے ساتھ انصاف نہیں ہوا، کیونکہ انہیں تو کسی بھی مقدمے میں کوئی سزا ہی نہیں ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر ان کی پارٹی کے نامزد دو امیدوار جیت گئے۔ نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد پرویز مشرف پر انتہائی غداری کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی۔ آئین کا آرٹیکل۔ 6 پہلی بار لاگو کیا گیا ۔ نواز شریف نے یہ کام سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے مشورے کے برخلاف کیا۔ اس اقدام نے اس وقت کے نئےآرمی چیف جنرل راحیل شریف کو مشکل میں ڈال دیا۔ دو پیشیوں کے بعد ہی سیاسی اور عسکری قیادت میں کشیدگی نمایاں ہو گئی۔ آخر کار انہیں ’’ طبی وجوہ‘‘ کی بناء پر پاکستان چھوڑ کر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ذرائع کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کو ملک سے باہر بیٹھ کر غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کا مشورہ دیا گیا۔ سابق آمر نہ صرف آرٹیکل۔ 6 کے تحت ملزم بلکہ نواب اکبر بگٹی کے قتل کیس میں بھی ماخوذ تھے ۔ اس کے علاوہ بے نظیر قتل کیس اور لال مسجد کیس میں بھی وہ نامزد تھے۔ نواز شریف نے نامساعد حالات کے باوجود وطن واپسی کو ترجیح دی۔ البتہ ان کی واپسی 2007ء سے مختلف رہی، وہ مشرف دور میں اتنے دبائو میں نہ تھے جتنا اپنی ہی پارٹی حکومت کے دور میں ہیں۔ پاکستان واپسی زیادہ مشکل حالات میں ہوئی ہے ۔

تجزیہ / مظہر عباس

ارب پتی افراد یونیورسٹی میں کون سے مضامین پڑھتے ہیں ؟

اچھی نوکری کا حصول ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے، خاص کر ایسی نوکری جوآمدن کے لحاظ سے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ ویسے تو انسان کے امیر ہونے کے پیچھے اس کی قسمت کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اچھی حکمت عملی سے آپ اپنی قسمت بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
تو، اپنی نوکری سے ارب پتی بننے کا طریقہ کیا ہے؟

محققین کے مطابق اگر آپ سیدھے راستے سے بہت سارا پیسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو اپنے پیشے اور تعلیم کا درست انتخاب کرنا ہو گا۔ نئے ملازمین بھرتی کرنے والے ایک برطانوی ادارے نے اپنی ایک تحقیق میں عوام کو بتا دیا ہے کہ اگر وہ ارب پتی بننا چاہتے ہیں تو یونیورسٹی میں کس مضمون کا انتخاب کریں۔ برطانوی ایجنسی نے اپنی تحقیق میں دنیا کے 100 امیر ترین افراد کی تعلیم، ان کی پہلی نوکری اور ان افراد کے ارب پتی بننے کے سفر کا مطالعہ کیا۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا کے امیر ترین 100 افراد میں سے 75 ڈگری یافتہ تھے اور ان 75 میں سے بھی 22 افراد نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔

ان 100 افراد میں سے 53 افراد نے اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہونے کے بجائے اپنے بل بوتے پر کام کرنے کا انتخاب کیا۔ دنیا کے 100 امیر ترین افراد میں سے 19 افراد نے پہلی نوکری ’سیلز پرسن‘ کی حیثیت میں کی جبکہ 17 افراد نے کمانے کے لیے اسٹاک مارکیت کا تاجر بننے کی ٹھانی۔ 100 میں سے 17 فیصد افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ذاتی کاروبار سے کیا۔ اگر آپ ان افراد کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو جان لیں کہ دنیا کے ارب پتی افراد نے یونیورسٹی میں کس مضمون کی تعلیم حاصل کی۔

انجینئرنگ: 22.1 فیصد
کاروبار: 16.2 فیصد
فنانس اور اکنامکس: 11.3 فیصد
قانون: 6.4 فیصد
کمپیوٹر سائنس: 4.5 فیصد

ساتھ ہی یہ بھی جان لیں کہ یہ افراد سیدھا ارب پتی نہیں بن گئے بلکہ ان کی پہلی نوکری کچھ اور تھی۔
سیلز پرسن: 10.1 فیصد
اسٹاک ٹریڈر: 9.2 فیصد
سافٹ ویئر ڈویلپر: 5.3 فیصد
انجینئر: 5.4 فیصد
تجزیہ کار: 4.5 فیصد

اس حوالے سے برطانوی کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر راب اسکاٹ نوجوانوں کو ایک بہت اہم تجویز دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والے افراد ڈگری یافتہ ہیں، یعنی ڈگری کا حصول آپ کے کریئر کے تعین کا پہلا قدم ہے‘۔

لوگ آپ کو فوراً پسند کرنے لگیں گے : ڈیل کارنیگی

میں نیویارک ایک پوسٹ آفس میں ایک خط رجسٹرڈ کرانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ رجسٹری کلرک اپنی ملازمت سے خوش نہیں ہے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا میں اس کلرک کو اپنی طرح بنانے کی کوشش کروں گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بہت اچھا ہوں بلکہ یہ کہ وہ بہت اچھا بن جائے اور اپنے کام میں دلچسپی لے۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا اس کلرک میں کون سی خوبی ہے جس کی میں تعریف کروں؟ یہ ایک مشکل سوال تھا، خاص طور پر اجنبیوں کے معاملے میں۔ یہاں معاملہ ذرا مختلف تھا۔ میں نے کوئی چیز دیکھی اور فوراً ہی اس کی تعریف کر دی۔

جب رجسٹری کلرک میرے خط کا وزن کر رہا تھا۔ میں نے بڑے جوش سے ریمارکس دیا، ’’میری یقینا یہ خواہش ہے کہ میں آپ کی جگہ ہوتا۔‘‘ اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ اس نے مجھے کہا یہ اتنا آسانی نہیں جتنا دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے اسے کہا کہ اگرچہ یہ اپنی اصلی شکل کھو بیٹھا ہے مگر اب بھی یہ کام بہت شاندار ہے وہ بہت خوش ہوا اور پھر میں نے اسے بتایا کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو اس کام کو کس طریقے سے کرتا ، میں اس کام میں دلچسپی لیتا اور پھر یہ کام مجھے نہ تو بور معلوم ہوتا اور نہ ہی مشکل لگتا۔ میں نے یہ واقعہ اپنے طلبہ کو بتایا اور ان سے پوچھا کہ اگر آپ میری جگہ ہوتے اور آپ یہی کچھ کرتے تو آپ کا مقصد کیا ہوتا؟

میں اس کلرک سے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا؟ اگر ہم اس قدر ذلیل اور خود غرض ہیں کہ بڑی ایمانداری کے ساتھ کوشش کیے بغیر کسی کو تھوڑی سی خوشی نہیں دے سکتے تو ناکامی اور صرف ناکامی ہمارا مقدر ہے اور ہم خود بھی خوش نہیں رہ سکتے۔ ہاں میں اس رجسٹری کلرک سے کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا اور وہ بھی بغیر قیمت کے اور میں نے یہ حاصل کر لیا۔ میں نے یہ جذبات اور احساسات حاصل کئے کہ میں نے بغیر کسی غرض اور لالچ کے کسی کو خوشی دی ہے۔ یہ وہ جذبات اور احساسات ہوتے ہیں جو واقعہ بیت جانے کے بعد ایک عرصے تک آپ کی یادداشت میں گنگناتے رہتے ہیں۔

انسان کے ساتھ ملنساری کا ایک اصول ہے اگر ہم اس اصول کی پاسداری کریں ہم کبھی بھی مشکل میں نہیں ہونگے۔ در حقیقت اگر اس اصول کی پاسداری کی جائے تو یہ ہمارے لیے مسلسل خوشیاں لائے گا مگر جونہی ہم اصول کو توڑتے ہیں ہم لاتعداد مشکلات میں پھنس جاتے ہیں اور وہ اصول یہ ہے ’’ہمیشہ دوسرے شخص کو ایمانداری کے ساتھ یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے بہت اہم شخص ہے۔‘‘ جان ڈیوی کا کہنا ہے کہ ’’ اہم ہونے کی خواہش انسانی فطرت کی گہری ترین خواہش ہے۔‘‘ ولیم جیمز کا کہنا ہے کہ ’’ انسانی فطرت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔‘‘ جیسے کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہی وہ تقاضا ہے جو ہمیں جانوروں سے مختلف کرتا ہے اور یہی وہ طلب ہے جو تہذیب و تمدن کے ارتقاء کا باعث بنی۔

آپ جن لوگوں سے ملتے ہیں ان سے اپنی شخصیت کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں، آپ یہ احساس چاہتے ہیں کہ آپ اپنی چھوٹی سی دنیا میں ایک اہم شخص ہیں۔ آپ بے فضول اور سستی قسم کی چاپلوسی پسند نہیں کرتے۔ لیکن آپ پر خلوص تعریف کو پسند کرتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دوست و احباب چارلس شواب کے الفاظ کی طرح ہوں۔ کسی کی تعریف پورے خلوص اور ایمانداری کے ساتھ وسیع القلبی کے ساتھ کریں۔ اس لیے ہمیں یہ سنہرا اصول اپنانا چاہیے کیسے؟ کہاں؟ کب؟ اس کا جواب ہے ہر وقت ،ہر جگہ۔

ڈیل کارنیگی

ارب پتی افراد یونیورسٹی میں کون سے مضامین پڑھتے ہیں ؟

اچھی نوکری کا حصول ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے، خاص کر ایسی نوکری جوآمدن کے لحاظ سے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ ویسے تو انسان کے امیر ہونے کے پیچھے اس کی قسمت کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اچھی حکمت عملی سے آپ اپنی قسمت بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
تو، اپنی نوکری سے ارب پتی بننے کا طریقہ کیا ہے؟

محققین کے مطابق اگر آپ سیدھے راستے سے بہت سارا پیسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو اپنے پیشے اور تعلیم کا درست انتخاب کرنا ہو گا۔ نئے ملازمین بھرتی کرنے والے ایک برطانوی ادارے نے اپنی ایک تحقیق میں عوام کو بتا دیا ہے کہ اگر وہ ارب پتی بننا چاہتے ہیں تو یونیورسٹی میں کس مضمون کا انتخاب کریں۔ برطانوی ایجنسی نے اپنی تحقیق میں دنیا کے 100 امیر ترین افراد کی تعلیم، ان کی پہلی نوکری اور ان افراد کے ارب پتی بننے کے سفر کا مطالعہ کیا۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا کے امیر ترین 100 افراد میں سے 75 ڈگری یافتہ تھے اور ان 75 میں سے بھی 22 افراد نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔

ان 100 افراد میں سے 53 افراد نے اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہونے کے بجائے اپنے بل بوتے پر کام کرنے کا انتخاب کیا۔ دنیا کے 100 امیر ترین افراد میں سے 19 افراد نے پہلی نوکری ’سیلز پرسن‘ کی حیثیت میں کی جبکہ 17 افراد نے کمانے کے لیے اسٹاک مارکیت کا تاجر بننے کی ٹھانی۔ 100 میں سے 17 فیصد افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ذاتی کاروبار سے کیا۔ اگر آپ ان افراد کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو جان لیں کہ دنیا کے ارب پتی افراد نے یونیورسٹی میں کس مضمون کی تعلیم حاصل کی۔

انجینئرنگ: 22.1 فیصد
کاروبار: 16.2 فیصد
فنانس اور اکنامکس: 11.3 فیصد
قانون: 6.4 فیصد
کمپیوٹر سائنس: 4.5 فیصد

ساتھ ہی یہ بھی جان لیں کہ یہ افراد سیدھا ارب پتی نہیں بن گئے بلکہ ان کی پہلی نوکری کچھ اور تھی۔
سیلز پرسن: 10.1 فیصد
اسٹاک ٹریڈر: 9.2 فیصد
سافٹ ویئر ڈویلپر: 5.3 فیصد
انجینئر: 5.4 فیصد
تجزیہ کار: 4.5 فیصد

اس حوالے سے برطانوی کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر راب اسکاٹ نوجوانوں کو ایک بہت اہم تجویز دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والے افراد ڈگری یافتہ ہیں، یعنی ڈگری کا حصول آپ کے کریئر کے تعین کا پہلا قدم ہے‘۔